114. Surah An-Naas

الناسMankind · 6 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 114:1

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ Open ayah 114:1 in the Quran reader

کہو، میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب

[قُلْ اَعُوْذُ : آپ ﷺ کہیے میں پناہ میں آتا ہوں ][ بِرَبِ النَاسِ : انسانوں کے پروردگار کی ] نوٹ 1: سورة فلق اور سورة ناس، یہ دونوں سورتیں ایک ساتھ، ایک ہی واقعہ میں نازل ہوئیں۔ ابن قمّ (رح) نے ان دونوں سورتوں کی تفسیر یکجا لکھی ہے۔ اس میں فرمایا کہ ان دونوں سورتوں کے منافع اور برکات سے سب لوگوں کی ضرورت ایسی ہے کہ کوئی انسان ان سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔ ان کو سحر، نظر بد اور تمام جسمانی اور روحانی آفات دور کرنے میں تاثیر عظیم حاصل ہے۔ اس کا واقعہ اس طرح ہے کہ نبی کریم ﷺ پر ایک یہودی نے جادو کردیا تھا جس کے اثر سے آپ ﷺ بیمار ہوگئے تھے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے آ کر آپ ﷺ کو اطلاع دی کہ آپ ﷺ پر ایک یہودی نے جادو کیا ہے اور جس چیز پر عمل کیا گیا ہے وہ فلاں کنویں میں ہے۔ آپ ﷺ نے وہاں آدمی بھیجے جو وہ چیز کنویں میں سے نکال لائے۔ اس میں گرہیں لگی ہوئی تھیں۔ آپ ﷺ نے ان گرہوں کو کھول دیا اور آپ ﷺ تندرست ہوگئے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے آپ ﷺ کو اس یہودی کا نام بتادیا تھا اور آپ ﷺ اس کا جانتے تھے، مگر اپنے نفس کے معاملہ میں کسی سے انتقام لیں آپ ﷺ کی عادت نہیں تھی، اس لیے آپ ﷺ نے اس یہودی سے عمر بھر کچھ نہ کہا۔ (معارف القرآن) ۔ نوٹ 2: جو لوگ سحر (جادو) کی حقیقت سے ناواقف ہیں ان کو تعجب ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جادو کا اثر کیسے ہوسکتا ہے۔ سحر کی حقیقت اور اس کے اقسام و احکام پوری تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی تفسیر میں جلد اول صفحہ 217 تا 223 میں بیان کیے جا چکے ہیں، وہاں دیکھ لیے جائیں۔ یہاں اس کا جو خلاصہ جاننا ضروری ہے وہ اتنا ہے کہ سحر کا اثر بھی طبعی اسباب کا اثر ہوتا ہے۔ جیسے آگ سے جلنا یا گرم ہونا، پانی سے سرد ہونا، کسی سبب سے بخار آجانا یا کسی مرض کا پیدا ہوجانا وغیرہ۔ یہ سب امر طبعی ہیں جن سے انبیاء مستثنیٰ نہیں ہوتے۔ اسی طرح جادو کا اثر بھی اسی قسم سے ہے اس لیے بعید نہیں۔ (معارف القرآن) اس جادو کے واقعہ میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو آپ ﷺ کے منصب نبوت میں قادع (عیب لگانے والی) ہو۔ ذاتی حیثیت سے اگر آپ ﷺ کو زخمی کیا جاسکتا ہے، اگر آپ ﷺ کو گھوڑے سے گر کو چوٹ لگ سکتی ہے، اگر آپ ﷺ کو بچھو کاٹ سکتا ہے، اور ان میں سے کوئی چیز بھی اس تحفظ کے منافی نہیں ہے جس کا نبی ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے وعدہ کیا تھا، تو آپ ﷺ اپنی ذاتی حیثیت میں جادو کے اثر سے بیمار بھی ہوسکتے تھے۔ نبی پر جادو کا اثر ہونا تو قرآن مجید سے بھی ثابت ہے۔ سورة طٰہٰ میں ہے کہ فرعون کے جادوگروں نے جو لاٹھیاں اور رسیاں پھینکی تھیں ان کے متعلق عام لوگوں نے ہی نہیں بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہی سمجھا کہ وہ ان کی طرف سانپوں کی طرح دوڑی چلی آرہی ہیں۔ اور اس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خوفزدہ ہوگئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل کی کہ خوف نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے۔ اب رہا یہ اعتراض کہ اس طرح تو کفار مکہ کے اس الزام کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ نبی ﷺ کو وہ سحر زدہ آدمی کہتے تھے۔ لیکن یہ اعتراض درست نہیں ہے کیونکہ کفار آپ ﷺ کو سحرزدہ آدمی اس معنی میں نہیں کہتے تھے کہ آپ ﷺ جادو کے اثر سے بیمار ہوگئے ہیں، بلکہ اس معنی میں کہتے تھے کہ کسی جادوگر نے معاذ اللہ آپ کو پاگل کردیا ہے اور اسی پاگل پن میں آپ نبوت کا دعویٰ کر بیٹھے ہیں۔ اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ کفار کا یہ الزام ایسے واقعہ پر سرے سے چسپاں ہی نہیں ہوتا جس کے متعلق تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ جادو کا اثر صرف ذات محمد ﷺ پر ہوا تھا، نبوت محمد ﷺ اس سے بالکل غیر متاثر رہی۔ (تفہیم القرآن۔ ج 6 ۔ ص 555 ۔ 556) نوٹ 3: ان سورتوں کے معاملہ میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا جھاڑ پھونک کی اسلام میں کوئی گنجائش ہے اور یہ کہ جھاڑ پھونک مؤثر بھی ہے یا نہیں ؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ بکثرت احادیث میں یہ ذکر آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر رات کو سوتے وقت معوذتین (یعنی سورة فلق اور سورة ناس) یا بعض روایات کے مطابق معوذات (یعنی سورة اخلاص اور معوذتین) تین مرتبہ پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونکتے اور پورے جسم پر ہاتھ پھیر لیتے۔ اس معاملہ میں شرعی مسئلہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے ایک طویل حدیث کے آخر میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے وہ لوگ بلاحساب جنت میں داخل ہوں گے جو نہ داغنے کا علاج کراتے ہیں نہ جھاڑ پھونک کراتے ہیں، نہ فال لیتے ہیں بلکہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے داغنے سے علاج کرایا اور جھاڑ پھونک کرائی، وہ اللہ پر توکل سے بےتعلق ہوگیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دس چیزوں کو ناپسند فرماتے تھے جن میں سے ایک جھاڑ پھونک بھی ہے سوائے معوذتین یا معوذات کے۔ بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں حضور ﷺ نے جھاڑ پھونک سے بالکل منع فرما دیا تھا پھر بعد میں اس شرط کے ساتھ اس کی اجازت دے دی کہ اس میں شرک نہ ہو، اللہ کے پاک ناموں یا اس کے کلام سے جھاڑا جائے۔ کلام ایسا ہو جو سمجھ میں آئے اور یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس میں کوئی گناہ کی چیز نہیں ہے۔ بھروسہ جھاڑ پھونک پر نہ کیا جائے کہ وہ شفا دینے والی ہے بلکہ اللہ پر بھروسہ کیا جائے کہ وہ چاہے گا تو اسے نافع بنا دے گا۔ ایک مرتبہ نبی ﷺ بیمار ہوئے تو جبرئیل (علیہ السلام) نے آ کر پوچھا کہ کیا آپ ﷺ بیمار ہوگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا : بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ یُّؤْذِیْکَ مِنْ شَرِّْکُلِّ نَفْسٍ اَوْعَیْنٍ حَاسِدٍ اَللّٰہُ یَشْفِیْکَ بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ ترجمہ۔ اللہ کے نام سے میں جھاڑتا ہوں آپ ﷺ کو تمام ایسی چیز سے جو اذیت دے آپ ﷺ کو ہر ایک نفس کے شر سے یا حسد کرنے والے کی آنکھ (کے شر) سے اللہ شفا دے آپ ﷺ کو اللہ کے نام سے میں جھاڑتا ہوں آپ ﷺ کو۔ اس کے علاوہ متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے زہریلے جانوروں کے کاٹے، ذباب کے مرض اور نظربد کے جھاڑنے کی اجازت دی۔ جبکہ دوا سے علاج کرنے کی آپ ﷺ نے تاکید کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے ہر مرض کی دوا پیدا کی ہے اور تم لوگ دوا کیا کرو۔ آپ ﷺ نے خود بھی لوگوں کو بعض امراض کے علاج بتائے جیسا کہ احادیث میں باب الطب کو دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے۔ لیکن دوا بھی اللہ ہی کے حکم اور اذن سے نافع ہوتی ہے۔ اب اگر دوا سے علاج کرنے کے ساتھ اللہ کے کلام اور اس کے اسماء حسنیٰ سے بھی استفادہ کیا جائے تو یہ بات مادہ پرستوں کے سوا کسی کی عقل کے بھی خلاف نہیں ہے۔ البتہ یہ صحیح نہیں ہے۔ کہ دوا سے علاج کو چھوڑ دیا جائے اور صرف جھاڑ پھونک سے ہی کام لینے پر اکتفا کیا جائے۔ (تفہیم القرآن۔ ج 6 ۔ ص 557 تا 560 سے ماخوذ)
Ayah 114:2

مَلِكِ النَّاسِۙ Open ayah 114:2 in the Quran reader

انسانوں کے بادشاہ

[مَلِكِ النَاسِ : انسانوں کے بادشاہ کی ]
Ayah 114:3

اِلٰهِ النَّاسِۙ Open ayah 114:3 in the Quran reader

انسانوں کے حقیقی معبود کی

[اِلٰهِ النَاسِ : انسانوں کے حاجت روا، مشکل کشا، پناہ دہندہ کی ]
Ayah 114:4

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ Open ayah 114:4 in the Quran reader

اُس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے

[مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ڏ الْخَنَاسِ : بار بار وسوسہ اندازی کرنے والے بار بار دبک جانے والے کے شر سے ] ترکیب : اَلْوَسْوَاسِ اور اَلْخَنَّاسِ دونوں اسم المبالغہ ہیں جو ایک طرح سے اسم الصّفہ ہوتے ہیں۔ (دیکھیں آسان عربی گرامر، حصہ سوم پیراگراف 1:60 ۔ اس لیے اَلْخَنَّاسِ کو مضاف الیہ اَلْوَسْوَاسِ کی صفت ماننے کی گنجائش نہیں ہے اور اَلْخَنَّاسِ کو شَرِّ کا مضاف الیہ ثانی مانا جائے گا۔ اَلْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ کا موصوف یہاں محذوف ہے۔ آگے آیات ۔ 4 ۔ 5 میں اسی محذوف موصوف کی وضاحت ہے۔
Ayah 114:5

الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ Open ayah 114:5 in the Quran reader

جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے

[الَّذِي يُوَسْوِسُ : وہ جو وسوسہ اندازی کرتا ہے ][ فِيْ صُدُوْرِ النَاسِ : انسانوں کے دلوں میں ]
Ayah 114:6

مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ Open ayah 114:6 in the Quran reader

خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے

[مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَاسِ : جو جنوں اور انسانوں میں سے ہوتا ہے ]