113. Surah Al-Falaq
الفلقThe Dawn · 5 ayahsعروۃ الوثقٰی
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader
(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ کہہ دیجئے کہ میں صبح کے رب سے پناہ طلب کرتا ہوں
اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں صبح کے رب کی پناہ طلب کرتا ہوں
1 (الفلق) اس فعل۔ تڑکا۔ اوّل صبح۔ ( صحاح ، قاموس ، زجاج ، راغب) اس کا مادہل ق ہے۔ اس مادہ کے صرف تین الفاظ قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں۔ (الفلق) اس جگہ زیر نظر آیت میں (الفلق) (26 : 63) ( فالق) (6 : 95) (6 : 96) میں۔ اس طرح الفالق اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے لیکن اس کا شمار معروف نناویں ناموں میں نہیں آیا تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو الفالق نہیں کہا جاسکتا۔ بالکل کہا جاسکتا ہے اور بلاشبہ یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے بلکہ یہ صفت کسی انسان میں پائی ہی نہیں جاتی جیسے وہ الخالق ہے اسی طرح وہ الفالق بھی ہے۔
لفظی ساخت کے اصل معنی ( الفلق) کے پھاڑنے کے ہیں۔ صبح کا نور رات کی سیاہی کے پردے کو پھاڑ کر نکلتا ہے اور ہر مخلوق عدم کے پردے کو چاک کرکے آتی ہے۔ اسی مناسبت سے اول صبح یا مخلوق مراد ہوئی اور مخلوق میں خالق کے سوا سب کچھ آگیا جس پر مخلوق کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس کا خلق کرنے والا بھی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی ہر ایک چیز کا خالق ہے اور جس طرح وہ خالق ہے اسی طرح فالق بھی ہے اور یہ فعل ہر ایک چیز پر اطلاق کرتا ہے جیسے گٹھلی اور دانے پر اسی طرح مادہ کے رحم پر بھی کرتا ہے اور زمین جب اپنی انگوری نکالتی ہے۔ اس پر بھی کہ وہ زمین کا قشر پھاڑ کر ظاہر ہوتی ہے۔ ( اعوذ) میں پناہ چاہتا ہوں عوذ سے جس کے معنی دوسرے سے التجا کرنے۔ اس سے متعلق ہونے اور پناہ مانگنے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ واحد متکلم ہے۔ مادہ اس کا ع و ذ ہے اور اس کے مادہ کے اور الفاظ بھی قرآن کریم میں آئے ہیں اور (اعوذ) کا لفظ قرآن کریم میں سات بار استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ اللہ تعالیٰ ہی سے پناہ مانگنے کے معنی ہیں خواہ وہاں ” اللہ “ کا لفظ استعمال نہ ہوا ہو کہ ضمیر شان یا کوئی دوسرا صفاتی نام آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شر کیسا بھی ہو اور وہ کہاں سے بھی آیا ہو اس سے پناہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طلب کرنا چاہئے کیونکہ وہی پناہ دینے والا ہے اور اس کی پناہ میں جاکر انسان ہر قسم کے شر سے محفوظ رہ سکتا ہے اور یہ کہ جب بندہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں چلا جائے تو پھر اس کی جو حالات بھی پیش آئیں ان کا مقابلہ اس پر لازم ہے نہ کہ حالات کے سامنے بہک جانا۔ جب وہ ایک اللہ کے سامنے جھک گیا اور اس کی پناہ میں آگیا تو اب جو حالات بھی اس کو پیش آئیں گے وہ ان کو اللہ کی طرف سے سمجھے گا نہ کہ جن ، بھوت اور پریوں کی طرف سے بلکہ وہ مخلوق میں سے کسی طرف بھی اس کی نسبت نہیں کرے گا اور اگر اس کو کوئی شر پیش آبھی گیا تو وہ اس شر سے بچنے کی اپیل کرے گا تو فقط اللہ سے کیونکہ ہر قسمے شر کا خالق بھی اللہ ہے جیسے وہ خیر کا خالق ہے بلا شبہ یہ یقین پیدا کرنا بہت مشکل ہے خصوصاً جب انسان دیکھتا ہے کہ اس کی مخالفت اور اس کو دکھ پہنچانے کی کوشش اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طرف سے کی جارہی ہے لیکن اس کے باوجود وہ اللہ ہی کی پناہ میں ہے اور اسی سے مدد طلب کرتے ہوئے اس شر کے مقابلہ کے لیے اللہ ہی کی مدد چاہے اور غیر اللہ کی طرف نہ جھکے تو کامیابی اس کے قدم چومے گی اور انجام کار وہ کامیاب قرار پائے گا۔ یہ سنت اللہ ہے جو کبھی بدلا نہیں کرتی ہاں ! اس میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اصل کامیابی وہ ہے جو آخرت کی کامیابی ہے۔ بندہ جب سمجھ لے کہ میں تو اس اللہ کی پناہ میں ہوں جو رات کے اندھیرے کو پھاڑ کر صبح اور گٹھلی اور دانے کو پھاڑ کر انگوری پیدا کرنے والا ہے تو میرے لیے ناکامی کیوں اور کیسے ؟ ہاں ! اس کے لیے ایک وقت اور حالات کی ہم آہنگی کا انتظار لازم ہے کیونکہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک قانون بنایا ہے جس میں خلاف ورزی کا کوئی امکان ہی موجود نہیں ہے مثلاً صبح کو وہ پھاڑتا ہے لیکن کیا جونہی بندہ صبح طلب کرے گا صبح ہوجائے گی ؟ بلاشبہ صبح اپنے وقت پر ہی آئے گی لیکن طلب کرنے والے کو انتظار کرنا ہوگا اور یہی بات زیر نظر آیت میں سمجھائی گئی ہے۔ یہ پہلی طرح کے شر ہیں جن کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے اور ان سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کو کہا گیا ہے۔
مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader
ہر اس شئے کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے
ہراُس شے کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے
2۔ زیر نظر آیت نے کس صفائی کے ساتھ بتا دیا کہ جو چیز مخلوق ہے اس کا اصل اور حقیقی خالق تو بہرحال اللہ ہے پھر جس اللہ نے اس مخلوق کو پیدا کیا ہے جب میں اس کی پناہ میں ہوں تو اس کی مخلوق مجھے کیسے شر پہنچادے گی۔ ہاں ! یہ بات جتنا کہنا آسان ہے اس پر عمل کرکے دکھانا اتنا ہی مشکل ہے لیکن ایمان جس چیز کا نام ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ( ماخلق) کے عموم سے یہ سمجھنے کی پوری پوری کوشش کرے کہ مخلوقات ساری کی ساری خواہ وہ کس مرتبہ اور نوعیت کی ہو محکوم اور عاجز و بےبس ہے اس لیے ہر ایک کے شر و ایذاء سے پناہ اللہ تعالیٰ ہی سے مانگی جاسکتی ہے اور پوری مخلوق میں ایک بھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ کسی کو پناہ دے۔ غور کرو کہ کیا کوئی مخلوق ایسی بھی ہے جو خالق سے زیادہ طاقتور ہو ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر کوئی مخلوق خالق کے روکنے کے باوجود خالق سے آگے بڑھ کر کسی کو شر کیسے پہنچا دے گی اور اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو کوئی شر پہنچنا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ کوئی اس شر سے ابس کو بچالے ؟ اگر کوئی شخص ایسا سمجھتا ہے تو اس کے مشرک ہونے میں کیا شک باقی رہ گیا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو ایک چیز میں مبتلا کرنا چاہتا ہو اور کوئی دوسرا آگے بڑھ کر اس میں مبتلا نہ ہونے دے۔
پھر اگر غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز پیدا کی ہے وہ لاریب خیر ہے کیونکہ انسان کے لیے اس میں کوئی نہ کوئی ضرور خیر پائی جاتی ہے۔ ہاں ! اگر اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے مطابق اس خیر کو انسان کے لیے شر بنادے تو وہ شر بن جاتی ہے۔ پانی اور غذا جس پر انسان کی زندگی کا انحصار ہے انسان کھاتا ہے تو اس کی زندگی بحال رہتی ہے اور وہ صحت مند ہوتا ہے اور بعض اوقات یہی پانی اور غذا انسان کے لیے جان لیوا ثابت ہوجاتے ہیں پھر اس سے زیادہ شر اور کیا ہوگا لیکن کیا یہ پانی اور غذا فی نفسہٖ شر ہیں ؟ نہیں وہ تو سراسر خیر ہی خیر ہیں لیکن ان کو خیر بنانے والے نے جب اپنے قانون ہی کے مطابق اس کو شر بنادیا تو کون ہے جو ان کو شر بننے سے روک سکتا ہے۔ اسی طرح آپ ایک ایک چیز کو سامنے رکھ کر غور کرتے جائیں تو ہر خیر سے شر نکلنا آپ پر واضح ہوجائے گا۔ بارش پر غور کرو ، اس آگ پر غورکر ، اس سواری پر غور کرو جس پر ضرورت کے مطابق سفر کرتے ہو ، اس مکان پر غور کرو جس میں رہ رہے ہو ، اس بجلی کی کرنٹ پر غور کرو جو تمہارے سینکڑوں کام کر رہی ہے ، ان پھلوں پر غور کرو کہ جن کو دیکھتے ہی تمہاری طبیعت للچانے لگتی ہے۔ ان درختوں پر غور کرو جو تم کو سایہ پہنچا رہے ہیں اور خود دھوپ میں جل رہے ہیں۔ اچھا جن چیزوں کو تم شر ہی شر سمجھتے ہو ان پر غور کرو کیا وہ شر سمجھی جانے والی چیزیں ہیں تمہارے لیے خیر کا باعث نہیں بن جاتیں۔ کیا ایسا نہیں ہوتا کہ ایک ہی چیز میرے لیے خیر اور آپ کے لیے شر ہو یا میرے لیے شر اور آپ کے لیے خیر ثابت ہو ؟ اگر ہے اور یقینا ہے تو پھر ان ساری باتوں کے پیش نظر کیا بہترین نسخہ تم کو بتادیا گیا کہ تم اللہ کی پناہ طلب کرو ہر اس شر سے جس کو خالق کائنات ہی نے پیدا کیا ہے کہ وہ شر تمہارے لیے خیر ہوجائے یا وہ شر تم کو شر نہ پہنچائے جب کہ تم بھی موجود ہو اور شر بھی موجود ہے کیونکہ تم بھی اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق اور وہ جس کو تم نے شر سمجھا ہے وہ بھی اسی کی مخلوق ہے اس لیے اچھی طرح سمجھ لو کہ پناہ اس سے طلب کرنا صحیح ہوگا جو تم دونوں کا خالق ہے اگر یہ صحیح ہے اور یقینا صحیح ہے تو پھر مخلوق میں سے نہ ہی کوئی اللہ کے سوا کسی کا خالق ہے اور نہ ہی اللہ کے سوا کوئی اس قابل ہے کہ اس سے پناہ مانگی جائے اور یہی بات تفہیم کرائی جارہی ہے اور یہ دوسری قسم کے شر ہیں جن سے اللہ کی پناہ میں آنے کے لیے حکم دیا گیا ہے۔
وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader
اور (خاص کر) ظلمت کے شر سے (پناہ چاہتا ہوں) جب وہ چھا جائے
اور ظلمت کے شر سے پناہ چاہتا ہوں جب وہ چھا جائے
3 (غاسق) کا مادہ غ س ق ہے۔ اس فاعل واحد مذکر ہے اس مادہ کے تین الفاظ مزید قرآن کریم میں آئے ہیں (غسق) (17 : 78) (غساق) (38 : 57) (غساقا) (78 : 25) اس جگہ اس کے معنی تاریک رات کے کیے گئے ہیں اور اس طرح گرہن کے باعث سیاہ پڑجانے والاچاند بھی بتایا گیا ہے۔ (معجم القرآن) صراح میں ہے کہ ( غاسق) تاریکی بعد دن غروب شفق یا غروب آفتاب کے بعد آنے والی تاریک رات۔ (بغوی) یا ڈوبنے والا چاند۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد آیا ہے : ( استعیذ باللہ من المقر فانہ الفاسق) (ترمذی) ” ایک حدیث میں سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر چاند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ( تعوذی باللہ من شرھذا فانہ الفاسق اذاوقب) اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد حوادث شب ہیں۔ (المفردات) رات کے وقت آنے والی چیزوں اور مصیبتوں سے بچائو دشوار ہوتا ہے۔ جیسے دشمن کا شب خون مارنا ، چوری ، ڈاکہ ، نقب زنی اور اسی طرح کے بہت سے حوادثات عموماً رات کی تاریکی میں ہوتے ہیں اس لیے عربی محاورہ ہے کہ الیل اخفی للویل رات اپنے اندر ہلاکتوں کو چھپائے رکھتی ہے۔ (معجم القرآن) ( وقب) واحد مذکر غائب ماضی معروف وقوب مصدر۔ داخل ہوجائے۔ چھاجائے۔ غائب ہوجائے۔ تحریر ہے کہ الیل اذا اظلم اولقمر اذا غاب رات جب اندھیری ہوجائے اور چاند جب وہ غائب ہوجائے اور رات کے داخل ہونے کا مطلب سورج کا ڈوب جانا ہے اور ( وقب) کا ترجمہ غاب حدیث میں آیا ہے۔ (ترمذی) رات کی تاریکی میں جو کچھ ہوسکتا ہے اور جو کچھ ہوتا رہتا ہے سب کو معلوم ہے اور یہ بات کسی سے بھی پوشیدہ نہیں اور خصوصاً اس وقت تو یہ بات کسی سے بھی پوشیدہ نہیں رہی کیونکہ اس وقت کے حالات جاہلیت کے دور سے زیادہ خطرناک ہو کر رہ گئے۔ آیت میں بھی رات کی تاریکی کی شدت ہی کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جب اس کی ظلمت کائنات کی ہرچیز کو اپنے دامن میں لپیٹ لے۔ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا پھیل جائے تو یہ منظر بذات خود بڑا دہشت ناک اور کرب انگیز ہوتا ہے۔ نیز رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھا کر چور چوری کرتے ہیں ، ڈاکو ڈاکے ڈالتے ہیں ، قاتل قتل کرتے ہیں ، آبروئیں اور عصمتیں اسی کی اوٹ میں لوٹی جاتی ہیں ، شر انگزس قوتیں ہر قسم کی مزاحمت سے بےخوف ہو کر شر انگیزی کی حد کردیتی ہے اور جس کے ساتھ حادثہ ہوتا ہے وہ خود خواب غفلت میں بےسدھ پڑا ہوتا ہے اور دشمن بیخبر ی میں اس کو اپنے نرخ میں لے لیتا ہے۔ اسے اتنی فرصت بھی نہیں ملتی کہ وہ مدد کے لیے اپنے کسی دوست کو پکار سکے اس لیے رات کی تاریکی میں جو کچھ ہوتا ہے اور جو کچھ ہوسکتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ حکومتوں کے تختے بھی زیادہ تر رات ہی کو الٹا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رات کی تاریکی کے شر سے بالخصوص پناہ مانگنے کی تلقین کی جارہی ہے یا دعا کرتے رہنے کی ترغیب دی جارہی ہے اور رب ذوالجلال والاکرام کی پناہ میں آنے کا حکم دیا جارہا ہے تاکہ رات کی ساری آفتوں سے محفوظ رہنے کے لیے انسان اس طرح توجہ کرے اور آپ ﷺ کو مخاطب کرکے آپ ﷺ کی پوری امت کو سبق سکھایاجارہا ہے بشرطیکہ کوئی سبق سیکھنے والا بھی ہو۔ اس وقت تک تین قسم کے شروں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader
اور (پناہ مانگتا ہوں) ان کے شر سے جو گرہوں میں پھونکتی ہیں
اور پناہ مانگتا ہوں ان کے شر سے جو گرہوں میں پھونک مارتی ہیں
4 (النفثت) صیغہ مبالغہ جمع جس کی واحد النفثۃ ہے نفث مصدر ہے خوب دم کرنے والیاں یا دم کرنے والے۔ اس کا صل مادہ نث ہے اور اس مادہ کا یہ ایک ہی لفظ قرآن کریم میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس مادہ کا کوئی دوسرا لفظ قرآن کریم میں نہیں آیا اور یہ ایک لفظ بھی صرف اس جگہ آیا ہے اور دوبارہ اس کا استعمال ہی نہیں ہوا۔ اور یہ پھونک مارنا ہے یا اس کے مثابہ ہے جیسے پھونک مارنا ہے۔ عقد جمع عقدۃ کی یعنی گرہ لگانا اور یہ انسانی قوت وہمہ کو متاثر کرنے کے لیے کچے دھاگے اکٹھا کرنے کے بعد اس میں گرہ لگاتے ہوئے اس کے اندر گرہ لگانا ہے اور اس کے تعلق سے گرہ کے اندر پھوک لگانا ہے اور دیکھنے والوں کو باور کرانا ہے کہ اس گرہ کے اندر جادو کرکے اس گرہ میں اس کو باندھ دیا ہے تاکہ جس کے لیے یہ کیا گیا ہے اس کو کوئی تکلیف پہنچے اور اس کو باور کرایا جائے کہ اس کے اثر سے کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا اگرچہ یہ محض ایک خیالی چیز ہے جس کی سوائے اس کے کوئی حقیقت نہیں ہے نہ اس طرح کا کوئی منتر کوئی چیز ہے اور ایسا کرنے سے اس دھاگا میں کچھ بندھ کر رہ جاتا ہے یہ اگرچہ محض ایک خیالی بحث ہے لیکن بہرحال دوسرے کی متخیلہ اثر لے لیتی ہے اور اس اثر سے کچھ نہ کچھ ہونے لگتا ہے یہ بات سراسر ایک شر کی ہے جس کا تعلق محض وساوس سے ہے اور وسوسہ کا تعلق محض دل سے ہے اگرچہ وہ فی نفسہٖ کوئی چیز نہ ہو لیکن وسوسہ اندازی سے دوسرے کی قوت و ہمہ کو متاثر کیا جاتا ہے اور کیا جاسکتا ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وساوس کا اثر نہ ہو۔ اس کی زیادہ وضاحت سورة الناس میں کی جائے گی ۔ یہ وسوسہ اندازیاں اور فتنہ انگزیاں بڑے بڑے اہم اور اعلیٰ کاموں سے انسان کو روک دیتی ہیں اور آگے بڑھنے کا حوصلہ نہیں رہتا بلکہ کمر ٹوٹ کر رہ جاتی ہے اور کام کاج سے کسل ہونے لگتا ہے اور ہوتے ہوتے آدمی ہمت ہار کر بیٹھ جاتا ہے اور اس طرح کرنے والے کا جو مطلوب ہوتا ہے وہ اس کو حاصل ہوجاتا ہے اور یہ کام مردوں کی بنسبت عورتیں زیادہ اچھے طریقہ سے سرانجام دیتی ہیں۔ اس لیے قرآن کریم نے بھی اس مقصد کے لیے مونث ہی کا صیغہ استعمال کیا ہے ، کیوں ؟ اس لیے کہ اس کام کے کرنے والے مرد ہوں تو بھی جو کام انہوں نے کیا ہے وہ فی نفسہٖ عورتوں کا سا ہے۔ اس کے سمجھنے کے لیے ذرا تفصیل کی ضرورت ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ ایک عورت جب مرد کا مقابلہ اپنی کمزوری کے باعث نہیں کرسکتی تو وہ نرمی سے وسوسہ اندازی شروع کردیتی ہے اور اس وسوسہ اندازی سے وہ اپنا کام نکال لیتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک بہت بڑا پہلوان نہایت آرام کے ساتھ چت ہوجاتا ہے اور اس کی سمجھ میں بھی نہیں آتا کہ ایک نہ ہونے والا کام میں نے کیسے کردیا ؟ اس طرح وہ لوگ جو جرأت سے کسی امر کی مخالفت نہیں کرسکتے اور وہ کمزور عورتوں کی طرح وسوسہ اندازیاں اور فتنہ انگزیوں سے کسی کی عزیت کو تورنے اور اس کے ارادوں میں روک ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں وہ درحقیقت اپنے اس فعل میں ایک کمزور عورت سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں اس لیے مجازاً مونث کے صیغہ میں بھی ان کا ذکر کیا جانا نہایت فصاحت و بلاغت اپنے اندر رکھتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسا بھی ہوا ہے کہ بعض دفعہ کسی اہم کام میں روک ڈالنے کے لیے دشمن عورتوں سے زیادہ کام لیتے ہیں۔ ذرا غور کرو کہ ترک سلطنت کو برباد کرنے اور طرابلس کی بربادی اور بلقان کی شکست میں ان یورپین عورتوں کا وہ حصہ ہے جو ترکی بادشاہوں کے حرم میں تھیں اور یورپ کی عالمگیر جنگ میں جو کام عورتوں نے دکھائے مرد ان کے مقابلہ میں کچھ بھی نہ دکھا سکے اور آج بھی یہ طلسم بدستور جاری ہے اور عزیمتوں کو توڑنے میں جو کمال عورت دکھاتی ہے وہ مرد نہیں دکھا سکتا۔ لیکن ہمارے ہاں جو اس کا مفہوم لیا گیا ہے اور مفسرین نے جو گل کھلائے شاید یہ بھی ان عورتوں ہی کی کارستانیوں کا اثر تھا کہ پورے عالم کی تاریخ کو انہوں نے مسخ کرکے رکھ دیا اور آج ان کے مسموم اثر سے بچہ بچہ کی زبان پر یہ بات جاری وساری ہے کہ جادو اتنی بڑی چیز ہے کہ اس نے اپنا اثر نبی کریم محمد رسول اللہ ﷺ پر بھی دکھا دیا اور لبید یا اس کی بہنوں کا جادو محمد رسول اللہ ﷺ پر چل گیا اور قرآن کریم نے اس کی تصدیق کردی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
نہ قرآن کریم نے اس کا کہیں ذکر کیا اور نہ اس کی قرآن کریم نے کبھی تصدیق کی کہ لیکن ہمارے مفسرین نے اس کو اتنی شہرت دی کہ آج بد قسمتی سے مسلمانوں کا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہوگا جو اس سے متاثر نہ ہو۔ کہا جاتا ہے کہ جادو کا اثر برحق ہے۔ دیکھو ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر بھی جادو اثر کر گیا تھا اور آپ ﷺ اس کے شر سے بیمار رہنے لگے تھے اور دیکھو سید مودودی (رح) نے بھی تیرش میں اس کا ذکر کیا ہے اور اس واقعہ کی تصدیق کی ہے اور پیر کرم شاہ صاحب (رح) نے بھی اس کو ثابت کیا ۔ اُدھر معارف القرآن والے مفتی صاحب بھی اس کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں۔ پھر مظہری سے شروع کرکے تفسیر عباسی تک سینکڑوں تفسیروں کے حوالے اس کے اثر کو کئی سو فصدر مزید تقویت پہنچا دیتے ہیں لیکن اگر کوئی پوچھے کہ آخر قرآن کریم کی وہ کونسی آیت ہے جس میں اس کا ذکر کیا گیا ہے ؟ تو اس ایک آیت کا ذکر کیا جاتا ہے جس کی اس وقت تفسیر کی جارہی ہے اور اس آیت میں آپ ﷺ پر جادو کیے جانے یا اس کی تصدیق ہونے کا تو اشارہ تک بھی نہیں پایاجاتا۔ اس میں تو زیادہ سے زیادہ یہی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ” اللہ کی پناہ طلب کرو اور ان کے شر سے جو گرہوں میں پھونک مارتی ہیں “ اب یہ خطاب کس کو ہے ؟ مان لیا کہ یہ پیغمبر اسلام ﷺ سے ہے کہ اے رسول ﷺ ! اے پیغمبر اسلام ! اللہ کی پناہ طلب کرو ان کے شر سے جو گرہوں میں پھونک مارتی ہیں “ یہ خطاب ہر ایک مسلمان سے ہے خواہ وہ صدر اوّل کے ہوں یا اس ہمارے دور کے مسلمان ہوں ان میں سے ایک ایک کو قرآن کریم مخاطب کرکے کہہ رہا ہے کہ ” اللہ کی پناہ طلب کرو ان کے شر سے جو گرہوں میں پھونک مارتی ہوں “ معلوم کیا ہوا ؟ یہ کو جو بھی ، جہاں بھی اور جیسے بھی کسی نے ان گرہوں میں پھونک ماری ان سے اللہ کی پناہ طلب کرو کہ اے اللہ ان کے شر سے ہم کو بچا۔ کن کے شر سے ؟ وہی جو گرہوں میں پھونک مارنے والی ہوں یا پھونک مارنے والے ہوں۔ پھر شریرکون ہوا ؟ جو گرہوں میں پھونک ماریں۔ اس وقت جب قرآن کریم نازل ہورہا تھا وہ لوگ شریک تھے۔ اس کے بعد بھی آج تک وہی لوگ شریر ہیں جو گرہوں میں پھونک مارتے ہیں اور آج بھی اور آج کے بعد بھی قیامت تک وہی لوگ شریر ہوں گے جو گرہوں میں پھونک ماریں گے۔ ہمارے لیے کیا حکم ہے یہی کہ ہم اللہ سے پناہ مانگیں کہ وہ ہم کو ان کے شر سے بچائے۔ جب ہم اس آیت کو پڑھیں اور اس سورت کو پڑھیں گے تو یہی پناہ مانگنا ہے گویا ہم کو اللہ تعالیٰ نے خود یہ طریقہ سکھایا ہے کہ اس طرح پناہ مانگو تو تم ان کے شر سے محفوظ رہو گے۔ پھر اگر ہم اس پر یقین نہ کرتے ہوئے جو طریقہ ہم کو اللہ نے بتایا ہے اس کو چھوڑ کر ان ہی لوگوں کیپ اس چلے گئے جو گرہوں میں پھونک مارتے ہیں تو ہم کون ہوئے ؟ اچھا ہم میں سے کتنے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایت سے انحراف کرکے ان ہی لوگوں کی طرف چلے جا رہے ہیں جو ایسے شریر ہیں کہ ان کے شریر ہونے میں کوئی شبہ ہی نہیں کیونکہ ہم کو ان کے شریر ہونے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود اطلاع دی ہے۔ افسوس کہ آج ہمارے ہاں شاید ہی کوئی ایسی بستی ہوگی جہاں اس طرح کے شریر موجود نہ ہوں اور ہم مسلمانوں میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو ان شریروں کے پاس نہ جاتا ہو اور اس کے جواز کے لیے اس سورت بلکہ اس آیت کو پیش نہ کرتا ہو۔ تعجب ہے ہم پر اور ہمارے مذہبی راہنمائوں پر کہ جس چیز سے منع کیا گیا تھا اس کو ہم کر رہے ہیں اور کرا رہے ہیں پھر سمجھتے ہیں کہ ہم صحیح کر رہے ہیں اور صحیح کرا رہے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرنا اور کرانا ہی ہمارے نزدیک صحیح ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مسلمانو ! خدا لگتی کہو ، حق کو حق سمجھو اور اسی کے مطابق عمل کرو اور ان سارے شریروں کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے اس سورت کو ورد زبان بنائو۔ یہ دعا ہے ، یہ استدعا ہے ، یہ التجا ہے اللہ رب کریم کے سامنے کہ وہ ہم کو ان شریروں کے شر سے جو جنوں کو ڈالتے ، جنوں کو نکالتے ، سایہ کو ڈالتے اور سایہ کو اتارتے ، کالا علم ، جادو کا اثر ڈالتے اور اس کا اثر زائل کرتے ہیں یہ سب شریر ہیں۔ وہ سید ہوں ، مولوی ہوں ، مفتی ہوں ، پیر ہوں ، قاری ہوں ، حافظ ہوں یا اسی طرح کے کسی بھی نام سے معروف ہوں رب ذوالجلال والاکرام کی کتاب قرآن کریم کی زبان کے مطابق وہ شریر ہیں اور ان کے شر سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایت کے مطابق اس سورت کو وظیفہ سمجھو اور اس وظیفہ کے پڑھ لینے کے بعد مکمل طور پر مطمئن ہوجائو کہ اس طرح کا کوئی شریر بھی تم کو اپنے شر سے متاثر نہیں کرسکے گا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہے ان سارے شریروں کے شر سے جو اس طرح کی شرارتیں کر رہے ہیں اور اچھی طرح سمجھ لو کہ جادو نام ہے دھوکہ ، فریب اور مکاری و عیاری کا اور تم کسی جادو گر کے دھوکے ، فریب اور مکاری و عیاری کی زد میں نہیں آئو گے۔ جب اس سورت کو پڑھ لو گے کیونکہ تم اللہ کی پناہ میں آگئے۔ ایسے سارے فریبیوں ، مکاروں اور عیاروں کے شر سے اللہ کی پناہ میں جانے والوں کو کوئی جادوگر ، کوئی فریبی اور دھوکا باز ، کوئی مکار و عیار اپنے کسی کام سے متاثر نہیں کرسکتا کیونکہ وہ کوئی بھی ہو اللہ سے بڑا اور اللہ سے زیادہ طاقتور اور قوت والا نہیں ہوسکتا پھر جب تم اللہ کی پناہ میں چلے گئے تو تمہارا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکے گا۔ یاد رکھو کہ اللہ حق ہے ، اللہ کا رسول حق ہے ، اللہ کا کلام قرآن کریم حق ہے اور ان کے مقابلہ میں جو بھی ہے وہ سب کا سب باطل ہے ، جھوٹ ہے اور پھر تم حق کو چھوڑ کر باطل اور جھوٹے کے پیچھے مت جائو۔
اگر مومن ہو تو اٹھو اور اعلان کرو کہ کیا ہے کوئی جادوگر ، ہے کوئی فریب کرنے والا ، ہے کوئی دھوکا دینے والا ، ہے کوئی مکار اور عیار ، جنّ ڈالنے والا ، جنّ نکالنے والا جو اپنے کلام کے ذریعہ مجھ پر وار کرے تو میں اس کے وار کو بھسم کرکے رکھ دوں۔ تم سچے دل سے اعلان کردو اور اس سورت کو اور آنے والی سورت کو ورد زبان بنائو اور یقین جانو کہ کوئی تمہارے سامنے آنے کی جرأت نہیں کرے گا اور اگر کرے گا تو وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ جائے گا۔ اپنے اپنے گھروں میں یہی وعظ کرو ، اپنی عورتوں کو ، بچوں کو ، عزیزواقارب کو یہ نسیخہ کیمیا سکھائو اور فائدہ پائو اور ان شریروں ، فریبیوں ، مکاروں ، عیاروں کے دام میں مت پھنسو ، یہ تمہارے ایمان اور تمہاری دولت دونوں چیزوں کے ڈاکو ہیں۔ ان کو ذلیل و خوار کرکے رکھ دو ۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے وہ یقینا تم کو ان شریروں کے شر سے محفوظ رکھے گا اور یہ سارے شریر مل کر بھی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ بس اپنی قوت و ہمہ کو مضبوط کرو اور اس کو طاقتور بنانے کے لیے اس سورة کی غذا اس کو بہم پہنچائو اور یاد رکھو کہ تمہارے سارے گھر ، سارے معاشرے کی روحانی بیماریوں کا یہی روحانی علاج ہے۔
وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader
اور (ہر) حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے
اور ہر حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے
5 (حسد) اس نے حسد کیا۔ حسد سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ حسد کی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ : اذا تمنی ان تتحول الیہ نعمتہ و فضیلتہ او یسلبھما ھو (لسان العرب) کسی کی خوشحالی اور عزت کو دیکھ کر جلنا اور یہ آروز کرنا کہ کاش یہ دولت اس کی بجائے مجھے ملتی۔ اس عزت و فضیلت سے اس کی بجائے میں بہرہ در ہوتا اور اگر یہ چیزیں میرے نصیب میں نہ تھیں تو کم از کم اس سے چھین لی جاتیں۔ اس کو بھی ان سے محروم کردیا جاتا… یہ جذبہ انسان کی کمینگی اور خست طبع پر دلالت کرتا ہے لیکن بات یہاں تک محدود نہیں رہتی۔ بسا اوقات یہ بڑے بڑے جورو ستم کا سبب بن جاتی ہے جو انسان حسد کی آگ میں جل رہا ہوتا ہے وہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھا نہیں رہتا بلکہ ایسی ایسی تدبیریں سوچتا ہے ، ایسی ایسی سازشیں کرتا ہے اور اس قسم کے گٹھ جوڑ کرتا ہے جس سے وہ اپنی ناپاک اور نامراد آرزو کو پورا کرسکے۔ اس سے ایسی ایسی مذموم حرکتیں سرزد ہوتی ہیں جو شرف انسانی سے کوئی مناسبت نہیں رکھتیں اور دنیا میں اکثر برائیاں اس حسد کی بنا پر ہوتی ہیں۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کے دور کے قریش کے اکثر سردار یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ ﷺ سچے نبی و رسول ہیں محض حسد کی وجہ سے دین اسلام کو قبول نہیں کرتے تھے۔ جس انسان پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کا خصوصی فضل ہوتا ہے اس کے بدخواہ اکثر پیدا ہوجاتے ہیں۔ وہ اللہ کا بندہ لوگوں کی عزت کرتا ہے ، ان کی دلجوئی کرتا ہے اور جہاں تک بن پڑے ان کی خدمت سے بھی گریز نہیں کرتا اس کے باوجود حاسدوں کے سینوں میں حسد کی آگ بھڑکتی رہتی ہے اور وہ بلاوجہ جلتے رہتے ہیں۔ انسان خود نہ تو ہر حاسد کو پہچان سکتا ہے اور نہ حاسدوں کے منصوبوں سے آگاہ ہوسکتا ہے اور اگر آگاہ ہو بھی جائے تو بسا اوقات ان کا تدارک نہیں کرسکتا اس لیے حکم دیاجارہا ہے کہ تم اپنے رب کریم کے دامن عاطفت میں پناہ لے لو اور ان حاسدوں کو کھل کر حسد کرنے دو اور ان کی شر انگیزیوں سے صاف بچے رہو کہ جس کو اللہ کی پناہ حاصل ہوجائے اس کا کوئی حاسد بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اس سورة کو ورد زبان بنائو اور اعلان کرو اگر تم مومن ہو کہ کوئی حاسد بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ، جس کا جی چاہے وہ ہم پر اپنے حسد کا وار کرکے دیکھ لے کہ وہ اپنے حسد کی آگ میں آپ ہی جل کر خاکستر ہوجائے گا۔ حسد کی وضاحت میں بھی بہت کچھ بیان کیا جاسکتا ہے لیکن ہم اس جگہ چند اشارات دیں گے ، زیادہ وضاحت اس جگہ ممکن نہیں ہے۔ حسد کی تین قسمیں ہیں :
(1) ایک شخص کی صرف یہ خواہش ہو کہ دوسرے سے ایک نعمت سلب کرلی جائے گی گو وہ اس کو نہ حاصل ہوسکے یا وہ خود اس کو حاصل نہ کرسکے یا حاصل نہ کرنا چاہے اور یہ نہایت ہی مذموم قسم ہے۔ اس کی وضاحت کے لیے عروۃ الوثقی جلد دوم سورة النساء کی آیت 89 کی تفسیر دیکھیں۔
(2) ایک شخص کی خواہش ہو کہ جو نعمت فلاں کو حاصل ہے وہ اگر مجھے مل جائے اور اس کے حاصل کرنے کی کوشش بھی نہ کرے۔
(3) ایک شخص خود اس کی قسم کی نعمت حاصل کرنا چاہے لیکن وہی نعمت جو دوسرے کو ملی ہے اور یہ سب سے کم مذموم ہے اور خیال رہے کہ حسد کے سات اسباب بیان کیے جاسکتے ہیں اور یہ سب کے سب ترتیب دار ایک دوسرے سے زیادہ برے ہیں۔
(1) بغض و عداوت۔ (2) ذاتی فخر کا غلط خیال (3) ایک شخص کا دوسرے کو اپنا مطیع و منقاد بنانے کی کوشش کرنا۔ (4) ایک معمولی آدمی کو کوئی اچھی چیز مل جانے پر افسوس کرنا۔ (5) دو شخصوں کا ایک مقصد ہو تو ایک کی کامیابی پر دوسرے کے جذبات اچھے نہ ہوں۔ (6) کسی عہدہ کی طلب پدصا ہوجانا اور اس کے لیے کوشش کرنا کہ یہ دوسروں کو نہ مل جائے۔ (7) خبث نفس کسی کو اچھا کھاتے ، پہنتے ، رہتے دیکھ کر جل جانا۔
حسد کے یہ اسباب زیادہ تر ان لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں جن پر کوئی چیز مابہ الاشتراک ہوتی ہے اس لیے بیگانوں میں یہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا بلکہ اکثر ان ہی لوگوں میں ہوتا ہے جن پر باہم بطور اشتراک ہوتا ہے جیسے ایک عالم کا دوسرے عالم پر ، ایک عابد کا دوسرے عابد پر ، ایک بھائی کا دوسرے بھائی پر ، ایک خاندان کا دوسرے خاندان پر ، ایک لیڈر کا دوسرے لیڈر پر ، ایک تاجرکا دوسرے تاجر پر ، ایک قوم کا دوسری قوم پر حالانکہ مسلمان ہونے کے بعد یہ ساری قسمیں حسد کی لازم نظر آنا ضروری ہیں اور پھر آیت کی ہدایت بھی ہے کہ : ( لا تحاسدو اولا تدابر واولا تباغضو او کونوا عباد اللہ ا خوانا) بخاری کتاب الادب) ” باہم حسد نہ کرو۔ ایک دوسرے سے بےتعلق نہ رہو۔ باہم بغض نہ کرو۔ اے اللہ کے بندو ! بھائی بھائی ہو جائو۔ “ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب مسلمانوں کو ان شروں سے اپنی پناہ میں رکھے اور انہیں الفاظ پر ہم اس سورت کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں۔ اے اللہ ! تیرا یہ کمزور و ناتواں بندہ تیرے دامن لطف و کرم میں پناہ کا طالب ہے اور تیری پناہ کے بغیر کسی کو اپنا آسرا اور سہارا نہیں سمجھتا رب اغفر لی وار حمنی واھدی وعافی وارزقنی۔ 27 جولائی 1998ء
تفسیر عروۃ الوثقی الناس 114