113. Surah Al-Falaq

الفلقThe Dawn · 5 ayahsانوار البیان

Ayah 113:1

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader

کہو کہ میں صبح کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں

(113:1) قل اعوذ برب الفلق : قل فعل امر واحد مذکر حاضر۔ قول (باب نصر) مصدر سے تو کہہ۔ (اے نبی ﷺ ۔ تو یوں دعا مانگ) ۔ چونکہ قل کا لفظ اس پیغام کا ایک حصہ ہے جو تبلیغ رسالت کے لئے نبی کریم ﷺ پر بذریعہ وحی نازل ہوا ہے۔ اس لئے اگرچہ اس ارشاد کے اولین مخاطب تو حضور ﷺ ہی ہیں مگر آپ کے بعد ہر مومن بھی اس کا مخاطب ہے۔ اعوذ : مضارع کا صیغہ واحد متکلم عوذ (باب نصر) مصدر سے جس کے معنی دوسرے سے التجاء کرنے، اس سے متعلق ہونے اور پناہ مانگنے کے ہیں۔ میں پناہ چاہتا ہوں۔ برب الفلق ب جار متعلق باعوذ ۔ رب الفلق مضاف مضاف الیہ۔ صبح کا رب۔ (پروردگار) میں پناہ چاہتا ہوں صبح کے رب کی۔ رب الفلق کی تشریح میں صاحب تفہیم القرآن رقم طراز ہیں :۔ فلق کے اصل معنی پھاڑنے کے ہیں مفسرین کی عظیم اکثریت نے اس سے مراد رات کی تاریکی کو پھاڑ کر سپیدہ صبح نکالنا لیا ہے کیونکہ عربی زبان میں فلق الصبح کا لفظ طلوع صبح کے معنی میں بکثرت استعمال ہوتا ہے اور قرآن میں اللہ تعالیٰ کے لئے فالق الاصباح کا لفظ استعمال ہوا ہے (یعنی وہ جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر صبح نکالتا ہے۔ (6:96) اور فلق کے دوسرے معنی خلق کے بھی لئے گئے ہیں کیونکہ دنیا میں جتنی چیزیں بھی پیدا ہوئی ہیں وہ بھی کسی نہ کسی چیز کو پھاڑ کر ہی نکلتی ہیں تمام نباتات بیج اور زمین کو پھاڑ کر اپنی کونپل نکالتے ہیں تمام حیوانات یا تو رحم مادر سے برآمد ہوتے ہیں یا انڈہ توڑ کر نکلتے ہیں یا کسی اور مانع ظہور چیز کو چیر کر باہر آتے ہیں۔ تمام چشمے پہاڑ یا زمین کو شق کرکے نکلتے ہیں ۔ دن رات کا پردہ چاک کرکے نمودار ہوتا ہے بارش کے قطرے بادلوں کو چیر کر زمین کا رخ کرتے ہیں۔ غرض موجودات میں سے ہر چیز کسی نہ کسی طرح کے انشقاق کے نتیجے میں عدم سے وجود میں آتی ہے۔ حتی کہ زمین اور سارے آسمان بھی پہلے ایک ڈھیر تھے جس کو پھاڑ کر ان کو جدا جدا کیا گیا۔ کانتا رتقا ففتقنھما (21:30) پس اس معنی کے لحاظ سے فلق کا لفظ تمام مخلوقات کے لئے عام ہے۔ اب اگر پہلے معنی لئے جاویں تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ :۔ میں طلوع صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں۔ اور اگر دوسرے معنی لئے جاویں تو آیت کا مطلب یہ ہوگا :۔ میں تمام مخلوق کے رب کی پناہ لیتا ہوں۔ اس جگہ اللہ تعالیٰ کا اسم ذات چھوڑ کر اس کا اسم صفت ” رب “ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ پناہ مانگنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ” رب “ یعنی مالک و پروردگار اور آقاو مربی ہونے کی صفت زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ پھر رب الفلق سے مراد اگر طلوع صبح کا رب ہو تو اس کی پناہ لینے کے معنی یہ ہوں گے کہ :۔ جو رب تاریکی کو چھانٹ کر صبح روشن نکالتا ہے میں اس کی پناہ لیتا ہوں تاکہ وہ آفات کے ہجوم کو چھانٹ کر میرے لئے عافیت پیدا کر دے۔ اور اگر اس سے مراد رب خلق ہو تو معنی یہ ہوں گے :۔ کہ میں ساری خلق کے مالک کی پناہ لیتا ہوں تاکہ وہ اپنی مخلوق کے شر سے مجھے بچالے۔
Ayah 113:2

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader

ہر چیز کی بدی سے جو اس نے بنائی

(113:2) من شر ما خلق : جملہ متعلق باعوذ ہے ما موصولہ ہے بمعنی الذی : اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ (میں پناہ چاہتا ہوں صبح کے پروردگار کی) ہر اس چیز کے شر سے جس کو اس نے پیدا کیا۔ ای من شر کل ما خلق۔ یا ما مصدریہ ہے اور ترجمہ ہوگا :۔ میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے پروردگار کی) تمام مخلوق کے شر سے۔ (یہ استعاذہ عام ہے۔ بعد کے شرور ثلاثہ تخصیص کے لئے ہیں)
Ayah 113:3

وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader

اور شب تاریک کی برائی سے جب اسکا اندھیرا چھا جائے

(113:3) ومن شر غاسق اذا وقب۔ جملہ معطوف ہے یعنی خاص کا عطف عام پر ہے۔ شر غاسق مضاف مضاف الیہ۔ تاریک رات کے شر سے۔ غاسق غسق سے (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ غسق رات کا تاریک ہونا۔ غاسق تاریک ہونے والا۔ بمعنی تاریک رات۔ اس کے اور معانی بھی ہیں :۔ (1) گرہن کے سبب سیاہ پڑجانے والا چاند۔ (2) غروب آفتاب کے بعد آنے والی تاریکی۔ (3) غروب آفتاب کے بعد آنے والی تاریک رات۔ (4) ڈوبنے والا چاند۔ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ :۔ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر چاند کی طرف ارشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ تعوذی باللّٰہ من شر ھذا فانہ الغاسق اذا وقب : اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پانہ مانگ کیونکہ جب یہ ڈوب جاتا ہے تو سخت تاریکی لاتا ہے۔ رات کو آنے والی مصیبتوں سے بچاؤ دشوار ہوتا ہے دشمن کا شب خون۔ چوری۔ نقب زنی، ڈاکہ اور طرح طرح کے حوادث عموما رات کی تاریکی میں ہوتے ہیں۔ اسی لئے عربی ضرب المثل ہے :۔ الیل اخفی للویل : رات اپنے اندر ہلاکتوں کو چھپائے رکھتی ہے۔ وقب ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ وقوب (باب ضرب) مصدر (جب) داخل ہوجائے۔ (جب) چھا جائے۔ محلی نے لکھا ہے کہ :۔ الیل اذا اظلم او القمر اذا غاب۔ یعنی اگر فاسق سے مراد رات ہو تو وقب کے معنی ہوگا تاریک ہوجانا۔ اور اگر غاسق سے مراد چاند ہو تو وقب کے معنی ہوں گے ۔ ڈوب جانا۔ غائب ہوجانا۔ رات کی نسبت سے قرآن مجید میں ارشاد ہے :۔ ادم الصلوۃ لدلوک الشمس الی غسق الیل وقران الفجر (17:78) (اے محمد ﷺ ) سورج کے ڈھلنے سے رات کی تاریکی تک نمازیں (ظہر، عصر، مغرف، عشائ) اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور (خصوصی طور پر پناہ مانگتا ہوں صبح کے پروردگار کی) رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھا جائے۔
Ayah 113:4

وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader

اور گنڈوں پر (پڑھ پڑھ کر) پھونکنے والیوں کی برائی سے

(113:4) ومن شر النفثت فی العقد (ملاحظہ ہو آیات مذکورہ بالا 2-3) ترجمہ ہوگا :۔ (اور خصوصی طور پر پناہ مانگتا ہوں صبح کے پروردگار کی) ان کے شر سے جو پھونکیں مارتی ہیں گرہوں میں۔ النفثت جمع نفاثۃ : کی۔ مبالغہ کا صیغہ ہے جمع مؤنث۔ نفث باب ضرب۔ نصر۔ مصدر سے۔ خوب دم کرنے والیاں۔ خوب پھونکیں مارنے والیاں۔ نفث کے معنی ہیں قدرے تھوک تھوکنا۔ علامہ ابن منظور کہتے ہیں :۔ تھوڑی تھوک تھوکنے کو التفل کہا جاتا ہے نفث بھی اس سے نیچے کا درجہ ہے جو پھونک مارنے کے زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔ عقد جمع ہے عقدۃ کی جس کے معنی گرہ (گانٹھ) کے ہیں۔ یہاں مراد وہ گرہیں ہیں جن کو جادوگرنیاں ڈوروں پر افسوس پڑھ کر پھونکنے کے بعد لگایا کرتی ہیں اسی لئے عربی میں ساحر کو معقد بھی کہتے ہیں۔ آیت ہذا میں النفثت فی العقد سے مراد لبید بن اعصم یہودی کی لڑکیاں ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کیا تھا
Ayah 113:5

وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader

اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب حسد کرنے لگے

(113:5) ومن شر حاسد اذا حسد : (ملاحظہ ہو آیات 2-3 متذکرہ بالا) ترجمہ :۔ (اور میں خصوصی طور پر پناہ مانگتا ہوں) حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ حاسد کے شر سے اس وقت پناہ مانگنے کو فرمایا جب وہ حسد کو عملی جامہ پہنائے کیونکہ اس سے قبل حسد کی آگ خود حاسد کے اندر ہی بھڑکتی رہتی ہے۔ اور اس کی اپنی ذات کے لئے سوہان روح بنی رہتی ہے۔