113. Surah Al-Falaq
الفلقThe Dawn · 5 ayahsتفسیرِ مظہری
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader
کہو کہ میں صبح کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں
قل اعوذ برب الفلق . الفلق تاریکی پھٹ کر صبح نکل آنا۔
جابر بن الحسن۔ سعید بن جبیر ‘ مجاہد اور قتادہ کے نزدیک یہی معنی مراد ہے جو معنی آیت : فاتق الاصباح میں مراد ہیں۔ وہی اس جگہ مراد ہیں۔ بعض نے کہا : (فلقٌ کا معنی ہے پھاڑنا) اس جگہ بھی وہی معنی مراد ہے جو فالق الحب والنوّٰی میں مراد ہے۔ اللہ اناج کا دانہ اور گٹھلی پھاڑ کر سوئی نکالنا ‘ ابر کو پھاڑ کر پانی نکالتا ‘ زمین کو پھاڑ کر چشمے برآمد کرتا اور رحم کھول کر بچہ نکالتا ہے۔ ضحاک نے کہا : کُل خلق مراد ہے۔ دالبی کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا بھی یہ قول آیا ہے کہ الفلق جہنم کے اندر ایک قید خانہ ہے۔ کلبی نے کہا : جہنم میں ایک وادی ہے۔ ابن جریر نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ الفلق جہنم کے اندر سرپوش کنواں ہے۔ ابن جریر اور بیہقی نے لکھا ہے کہ عبدالجبار خولانی نے بیان کیا کہ دمشق میں ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی ؓ تشریف لائے اور دنیا میں لوگوں کو مشغول دیکھ کر فرمایا : ان کو اس سے کچھ فائدہ نہ ہوگا کیا ان سے آگے فلق نہیں ہے۔ لوگوں نے پوچھا : فلق کیا ہے ؟ فرمایا : دوزخ میں ایک کنواں ہے ‘ جب اسکو کھولا جائے گا اور اسکے اندر سے آگ برآمد ہوگی تو اس کی تیزی سے جہنم بھی چیخے گا۔
ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے حضرت کعب کا قول نقل کیا ہے کہ الفلق جہنم کے اندر ایک گھر ہے۔ جب اس کو کھولا جائے گا تو جہنم والے بھی اس کی گرمی کی شدت سے چیخیں گے۔ ابن ابی حاتم ناقل ہیں کہ حضرت زید بن علی ؓ نے اپنے آباء کرام (حضرت امام حسین ‘ حضرت علی ؓ وغیرہم) کے حوالہ سے بیان کیا کہ الفلق جہنم کی تہہ میں ایک کنواں ہے۔
اللہ نے پناہ مانگنے کے حکم میں اس جگہ رب الفلق کا خصوصیت کے ساتھ ذکر اس لیے کیا کہ جہنم اور فلق سب سے بڑی تکلیف دہ مصیبت اور عظیم الشان ثمر ہے ‘ پس اس کا خالق اور مالک یقیناً ہر شر کو رفع کرنے پر قادر ہے ‘ لہٰذا اس وصف کے ساتھ اس کا تذکرہ کرنا تمام برائیوں کے دفعیہ کا سبب ہے۔
مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader
ہر چیز کی بدی سے جو اس نے پیدا کی
من شرما خلق . ما خلق سے مراد کل مخلوق ہے ‘ یعنی ہر مخلوق کے شر سے میں پناہ لیتا ہوں مالک فالق کی ‘ کوئی
ممکن شر سے خالی نہیں ‘ عدم ہر ممکن کی حقیقت میں داخل ہے (ممکن وہی ہوتا ہے جو وجوب وجود کا مقتضی نہیں ہوتا ‘ اس کی نسبت وجود و عدم دونوں سے برابر ہوتی ہے) ہاں ! اگر اللہ کی ذاتی اور صفاتی تجلیات سے جگمگا جائے تو ممکن کی ہر خرابی دور ہوجاتی اور شر خیر سے بدل جاتی ہے۔ اولٰئک یبدل اللہ سیئاتھم حسنٰتٍ ۔ ان کی برائیاں اللہ اچھائیوں سے بدل دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرا شیطان ہے مگر وہ مجھے خیر کے سوا مشورہ نہیں دیتا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ آیت میں صرف عالم خلق کے شر یا اختیاری اور خود آو رد ہے یا طبعی اور نیچرل اختیاری شر (کا نقصان) یا صرف اپنی ذات تک محدود رہتا ہے جیسے کفر یا دوسروں تک پہنچتا ہے جیسے ظلم ‘ طبعی شر (جس میں انسانی اختیار کو دخل نہیں۔ اشیاء کے طبعی خواص و لوازم ہیں) جیسے آگ جلاتی ہے اور زہر ہلاک کرتا ہے۔
وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader
اور شب تاریکی کی برائی سے جب اس کااندھیرا چھا جائے
ومن شر غاسق . غسق کا لغوی معنی ہے بھر جانا۔ اللہ نے فرمایا : الی غسق اللَّیل۔ یعنی رات کے بھرپور تاریک
ہونے تک۔ غسق العین : آنکھ آنسوؤں سے بھر گئی۔ غسق القمرُ : چاندنی بھرپور ہوگئی۔ قاموس میں ہے ‘ غاسق : چاند اور رات جب کہ اس کی شفق غائب ہوجائے۔ غسوقٌ اور اغساقٌ تاریک ہوجانا۔
بعض علماء نے کہا کہ غسق کا معنی ہے بہنا۔ غسق اللَّیل : کہر اور تاریکی۔ غسق العین : آنسو بہنا۔ غسق القمر : چاند کی سرعت رفتار۔ بعض علماء کا قول ہے کہ غسقٌ کا معنی ہے ٹھنڈک ‘ سردی۔ رات دن سے ٹھنڈی ہوتی ہے۔ چاند سورج سے ٹھنڈا ہوتا ہے اسی لیے رات اور چاند کو غاسق کہتے ہیں اور اسی بناء پر چاند کو زمہریر بھی کہا جاتا ہے۔
اس جگہ غاسق سے چاند مراد ہے کیونکہ حضرت عائشہ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا : عائشہ ! اللہ کی پناہ مانگ (اس) غاسق کے شر سے جب یہ ڈوبنے لگے۔ (رواہ البغوی بسندہ) اس صورت میں
اذا وقت . کا معنی ہوگا جب وہ بےنور ہونے لگے اور غائب ہونے لگے کیونکہ چاند کے نور میں کمی پورا چاند ہونے
اور بھرپور نور ہوجانے کے بعد ہی (شروع) ہوجاتی ہے۔
حضرت ابن عباس ‘ حسن بصری اور مجاہد نے فرمایا : اس سے مراد رات ہے ‘ جب وہ آرہی ہو اور اس کی تاریکی دن کی روشنی میں گھسنے لگی ہو۔ ابن زید نے کہا : اس سے مراد ہے نیچے کو گرتا ہوا ‘ ثریا ستارہ کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ ثریا کے غروب ہونے پر بیماریاں اور بلائیں زیادہ ہوتی ہیں اور ثریا کے طلوع پر جاتی رہتی ہیں۔
وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader
اور گنڈوں پر (پڑھ پڑھ کر) پھونکنے والیوں کی برائی سے
ومن شر النفثت فی العقد . اور گرہوں پر دَم کرنے والیوں کے شر سے۔
النَّفّٰثٰتِ : جمع مؤنث کا صیغہ ہے۔ اس کا موصوف محذوف ہے یعنی سحر کرنے والی شخصیتیں یا عورتیں جو افسوں پڑھنے اور رسول اللہ ﷺ پر جادو کرنے کے وقت دھاگے کی گرہوں پر دَم کرتی تھیں۔ ابوعبیدہ ؓ نے کہا : لبید کی بیٹیاں لبید کے حکم سے ایسا کرتی تھیں۔
وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader
اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب حسد کرنے لگے
ومن شر حاسد اذا حسد . اور حاسد کے اس وقت کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جبکہ وہ حسد کا مظاہرہ کر رہا
ہو اور اذیت رسانی میں مشغول ہو۔ یہ قید لگانے کی ضرورت اس وجہ سے پڑی کہ مظاہرۂ حسد اور اذیت رساں عمل میں مشغول ہونے سے پہلے حسد کا دکھ حاسد ہی کو پہنچتا ہے۔ دوسرے کی خوشی سے اسی کو رنج ہوتا ہے (لیکن وہ جل کر ضرر رساں عمل کرنے لگتا ہے تو اس شخص کو دکھ پہنچنے لگتا ہے ‘ جس سے حاسد جلتا ہے) ۔
شرما خلق : ہر شر کو شامل تھا ‘ اس کے بعد ذکر ہونے والے تینوں شر یعنی شر غاسق اور شر النفثت اور شر حاسد اس میں داخل تھے۔ اس کے باوجود خصوصیت کے ساتھ ان کو اس لیے ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو شر کیا گیا تھا ‘ اس میں ان تینوں خباثتوں کو دخل تھا : جادو بھی تھا ‘ اغواء ابلیس بھی اور حسد لبید بھی تھا۔
حاسدٍ اور غاسق کو نکرہ اور النفثت کو جمع معرف باللام ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ لبید کی بیٹیاں تو مخصوص اور معین تھیں ‘ ان کے شر سے محفوظ رہنے کی دعا کرنے کا حکم بصیغۂ خصوصیت (معرف باللام) دیدیا لیکن غاسق اور حاسد معین نہ تھا ‘ رسول اللہ ﷺ سے حسد کرنے والے بیشمار تھے اور ہمیشہ ہر وقت ہی حسد کرتے رہتے تھے ‘ اس لیے انکے شر سے محفوظ رکھنے کی دعا کرنے کا حکم بصیغۂ عموم (نکرہ) دیا۔
حضرت عقبہ بن عامر کا بیان ہے ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں سورة ہود اور سورة یوسف پڑھتا ہوں۔ فرمایا : قل اعوذ برب الفلق سے زیادہ بارگاہ خداوندی میں رسائی رکھنے والی (کوئی سورت) تم نہیں پڑھو گے۔ (رواہ احمد والدارمی والنسائی) ۔ واللہ اعلم
الحمد اللہ سورة الفلق ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ