113. Surah Al-Falaq

الفلقThe Dawn · 5 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 113:1–2

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader

کہو (1) کہ : میں صبح کے مالک کی پناہ مانگتا ہوں۔

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader

ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔

1: قرآن کریم کی یہ آخری دوسورتیں معو ّذتین کہلاتی ہیں، یہ دونوں سورتیں اس وقت نازل ہوئی تھیں جب کچھ یہودیوں نے حضور اکرم ﷺ پر جادو کرنے کی کوشش کی تھی، اور اس کے کچھ اثرات آپ پر ظاہر بھی ہوئے تھے، ان سورتوں میں آپ کو جادو ٹونے سے حفاظت کے لئے ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ ما نگنے کی تلقین فرمائی گئی ہے، اور کئی احادیث سے ثابت ہے کہ ان سورتوں کی تلاوت اور ان سے دم کرنا جادو کے اثرات دور کرنے کے لئے بہترین عمل ہے اور حضور نبی کریم ﷺ رات کو سونے سے پہلے ان سورتوں کی تلاوت کرکے اپنے مبارک ہاتھوں پر دم کرتے اور پھر ان ہاتھوں کو پورے جسم پر پھیر لیتے تھے۔
Ayah 113:3

وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader

اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ پھیل جائے۔ (2)

2: اندھیری رات کے شر سے خاص طور پر اس لئے پناہ مانگی گئی ہے کہ عام طور پر جادوگروں کی کاروائیاں رات کے اندھیروں میں ہوا کرتی ہیں۔
Ayahs 113:4–5

وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader

اور ان جانوں کے شر سے جو (گنڈے کی) گرہوں میں پھونک مارتی ہیں۔ (3)

وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader

اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔

3: جانوں کے شر سے، جانوں کے لفظ میں مرد اور عورت دونوں داخل ہیں، جادو گر مرد ہوں یا عورت، دھاگے کے گنڈے بناکر اس میں گرہیں لگاتے جاتے ہیں اور ان پر کچھ پڑھ پڑھ کر پھو نکتے رہتے ہیں۔ ان کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔