114. Surah An-Naas

الناسMankind · 6 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 114:1–2

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ Open ayah 114:1 in the Quran reader

کہو (1) کہ : میں پناہ مانگتا ہوں سب لوگوں کے پروردگار کی۔

مَلِكِ النَّاسِۙ Open ayah 114:2 in the Quran reader

سب لوگوں کے بادشاہ کی۔

1: پچھلی سورت کا حاشیہ نمبر 1 ملاحظہ فرمائیے۔
Ayah 114:3

اِلٰهِ النَّاسِۙ Open ayah 114:3 in the Quran reader

سب لوگوں کے معبود کی۔ (2)

2: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جو سب کا پروردگار بھی ہے، صحیح معنی میں سب کا بادشاہ بھی، اور سب کا معبود حقیقی بھی۔
Ayahs 114:4–5

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ Open ayah 114:4 in the Quran reader

اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو پیچھے کو چھپ جاتا ہے۔ (3)

الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ Open ayah 114:5 in the Quran reader

جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔

3: ایک مستند حدیث میں حضور نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ : ”جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے، اس کے دل پر وسوسہ ڈالنے والا (شیطان) مسلط ہوجاتا ہے۔ جب وہ ہوش میں آ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو یہ وسوسہ ڈالنے والا پیچھے کو دبک جاتا ہے، اور جب وہ غافل ہوتا ہے تو دوبارہ آ کر وسوسے ڈالتا ہے۔“ (روح المعانی بحوالہ حاکم وابن المنذر و ضیاء)
Ayah 114:6

مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ Open ayah 114:6 in the Quran reader

چاہے وہ جنات میں سے ہو، یا انسانوں میں سے۔ (4)

4: قرآن کریم نے سورة انعام (6۔ 112) میں بتایا ہے کہ شیطان جنات میں سے بھی ہوتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی ہوتے ہیں، البتہ شیطان جو جنات میں سے ہے وہ نظر نہیں آتا اور دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، لیکن انسانوں میں سے جو شیطان ہوتے ہیں وہ نظر آتے ہیں اور ان کی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں سن کر انسان کے دل میں طرح طرح کے برے خیالات اور وسوسے آجاتے ہیں، اس لئے آیت کریمہ میں دونوں قسم کے وسوسہ ڈالنے والوں سے پناہ مانگی گئی ہے، شیطان کی چالیں کمزور ہوتی ہیں اور اس میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ انسان کو گناہ پر مجبور کرسکے، یہ تو انسان کی ایک آزمائش ہے کہ وہ انسان کو بہکانے کی کوشش کرتا ہے لیکن جو بندہ اس کے بہکائے میں آنے سے انکار کرکے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ لے تو شیطان اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ قرآن کریم کا آغاز سورة فاتحہ سے ہوا تھا جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد اللہ تعالیٰ ہی سے سیدھے راستے کی ہدایت کی دعا کی گئی ہے، اور اختتام سورة ناس پر ہوا ہے جس میں شیطان کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے، کیونکہ سیدھے راستے پر چلنے میں اس کی شر سے جو رکاوٹ پید ا ہوسکتی تھی، اسے دور کرنے کا طریقہ بتادیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نفس اور شیطان دونوں کے شر سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین