113. Surah Al-Falaq

الفلقThe Dawn · 5 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 113:1–5

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader

کہو کہ میں صبح کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader

ہر چیز کی بدی سے جو اس نے بنائی

وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader

اور شب تاریک کی برائی سے جب اسکا اندھیرا چھا جائے

وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader

اور گنڈوں پر (پڑھ پڑھ کر) پھونکنے والیوں کی برائی سے

وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader

اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب حسد کرنے لگے

1۔ 5۔ عقبہ بن عامر سے صحیح 9 ؎ مسلم ترمذی نسائی وغیرہ میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آج کی رات خدا تعالیٰ نے چند آیتیں نازل فرمائی ہیں جو مجھ کو بہت ہی اچھی معلوم ہوتی ہیں پھر آپ ﷺ نے قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ان دونوں سورتوں کا نام بتایا۔ اس حدیث سے ان دونوں سورتوں کی فضیلت بھی معلوم ہوئی اور یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ قرآن کی اور آیتوں کی طرح یہ دونوں سورتیں بھی قرآن کا جز ہیں اسی واسطے اور حدیثوں سے یہ بھی معلوم 1 ؎ ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان دونوں سورتوں کو صبح کی نماز میں پڑھا ہے ان حدیثوں سے حضرت عبد اللہ بن مسعود کے اس قول کا ضعیف ہونا ثابت ہوتا ہے کہ وہ ان دونوں سورتوں کو قرآن کی سورتوں میں شمار نہیں کرتے تھے پھر جب اور صحابہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود کے اس قول کو صحیح نہیں قرار دیا تو آخر عبد اللہ بن مسعود نے بھی اپنے اس قول سے رجوع اختیار کیا۔ ترمذی 2 ؎ نسائی مستدرک حاکم میں حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نظر لگ جانے کا علاج آنحضرت ﷺ ان دونوں سورتوں کے نازل ہونے سے پہلے اور دعائوں سے کیا کرتے تھے جب یہ دونوں سورتیں اتری تو انہی کو نظر والے شخص پر پڑھ کر دم کیا کرتے تھے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے موطا وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ﷺ جب بیمار ہوتے تھے تو ان ہی دونوں سورتوں کو پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے اصل اس حدیث کی صحیحین 3 ؎ میں بھی ہے ان دونوں سورتوں کے شان نزول کی رواییں جو حضرت عائشہ ؓ سے اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور انس ؓ سے صحیحین 4 ؎ وغیرہ میں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ لبیدبن عاصم نے جب اپنی بیٹیوں سے آنحضرت ﷺ پر جادو کرایا تو آنحضرت ﷺ کو خواب میں دو فرشتوں نے اس جادو کا حال بتایا کہ آنحضرت ﷺ کے کچھ بالوں اور کچھ کنگھی کے دندانوں پر یہ جادو کیا گیا ہے اور ذروان کا کنواں جو مشہور ہے وہاں یہ جادو کی چیزیں ایک پتھر کے نیچے ہیں جب یہ چیزیں منگوائی گئیں تو معلوم ہوا کہ سر کے بالوں اور ایک تانت کے ٹکڑے میں گیارہ گرہ بھی لگائی گئی تھیں غرض اسی وقت یہ گیارہ آیتوں کی دونوں سورتیں نازل ہوئیں اور ہر ایک آیت کے پڑھنے کے ساتھ ہی جادو کی ایک ایک گرہ گھل گئی اور دونوں سورتوں کے ختم ہوتے ہی آپ ﷺ سے جادو کا اثر جاتا رہا اور آپ ﷺ تندرست ہوگئے یہ لبید بن عاصم منافق تھا یہود سے بھائی چارہ رکھتا تھا۔ ایک یہود کا لڑکا آنحضرت ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا یہود نے اس کو بلایا اور اس کی معرفت وہ آپ کے کنگھی کے دندانے اور بال منگوائے تھے جب یہ سب حال کھل گیا تو صحابہ نے چاہا کہ لبید بن عاصم وغیرہ سے اس کا بدلہ لیا جائے مگر آنحضرت ﷺ نے منع کیا اور فرمایا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی اب کسی سے بدلہ لینے کی ضرورت نہیں اہل سنت کا یہ مذہب ہے کہ جادو کا اثر حقیقی طور پر دنیا میں ہوتا ہے فرقہ معتزلہ اس کا مخالف ہے کیونکہ وہ لوگ جادو کے اثر کو خیالی بتاتے ہیں مگر اہل سنت نے اپنے مذہب کو بہت سی آیتوں اور حدیثوں سے ثابت کیا ہے کوئی آیت پڑھ کر دم کرنے کو یا منتر کے طور پر کوئی آیت یا حدیث پڑھنے کو یا ایسا کوئی منتر جس میں شرک کے لفظ نہ ہوں عمل میں لانے کو اکثر صحابہ اور تابعین نے جائز رکھا ہے صحیح حدیثوں سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے۔ چناچہ قل ھو اللہ احد۔ اعوذ برب الفلق ‘ قل اعوذ برب الناس یہ تینوں سورتیں پڑھ کر بیمار آدمی پر دم کرنے کی حضرت عائشہ کی حدیث صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم میں ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم اور ابو داؤد میں عوف بن مالک کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کو جس منتر میں شرک کا لفظ نہ ہو اس کا کچھ ڈر نہیں ہے اسی طرح مسلم 3 ؎ کی روایت میں حضرت جابر ؓ سے بچھو کے ایک منتر کے لفظ سن کر آنحضرت ﷺ نے اس کی اجازت دے دی۔ یہ بھی بعض علماء کا قول ہے کہ سوت کے گنڈے پر کوئی مباح کلام پڑھ کر یا تعویذ کے طور سے کسی کاغذ پر کوئی مباح کلام لکھ کر گلے میں ڈالا جائے یا بازو پر باندھا جائے تو کچھ حرج نہیں ہے کیونکہ جس کا پڑھ کر دم کرنا جائز ہے اس کا پاس رکھنا بھی جائز ہے آنحضرت ﷺ نے اس گنڈے اور تعویذ کو منع فرمایا ہے جس میں جاہلیت کی عادت کے موافق اللہ کے نام کے ساتھ شیاطین کے نام بھی ملائے جاتے تھے اس طرح کا منتر گنڈا تعویذ سب ناجائز ہے اور کلام مباح کا منتر جس طرح اوپر کی صحیح حدیثوں کے موافق جائز ہے اسی طرح گنڈا تعویذ بھی جائز ہونا چاہئے کیونکہ کلام مباح کے گنڈے تعویذ کی ممانعت شریعت سے پائی نہیں جاتی۔ بعضی آیتوں وغیرہ کا عدد نکال کر ہندسوں کی صورت میں جو بعض لوگ تعویذ لکھتے ہیں ان کے جائز ہونے میں تردد ہے کس لئے کہ عددوں سے اصل چیز کا حال دریافت کرنا اور پھر اس کے معنی کا سمجھنا دشوار ہے حالانکہ سلف نے یہ قید لگائی ہے کو جس کلام کے معنی کے سمجھنے میں کچھ دشواری نہ ہو اس سے منتر وغیرہ جائز ہے اور یہی مطلب عوف بن مالک اور جابر کی حدیثوں کا بھی ہے صبح کے رب سے پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح رات کے بعد صبح کے آنے سے سب لوگ نیند سے اٹھ کر چونچال ہوجاتے ہیں اسی طرح پناہ مانگنے والا شخص جادو اور ہر طرح کی بیماری کا اثر زائل ہو کر چونچال ہوجائے ہر چیز کی بدی میں شیطان کی بدی اور ہر طرح کی موذی شے کی بدی داخل ہے اندھیرے میں چاند گہن کا اندھیرا رات کا اندھیرا سب داخل ہے۔ اندھیرے میں جادو کا اثر بڑھ جاتا ہے اور طرح طرح کے موذی جانور اندھیرے میں نکلتے ہیں اس لئے اندھیرے سے پناہ مانگنے کا ذکر فرمایا۔ گرہوں میں پھونکیں مارنے والی عورتوں سے مطلب جادوگرنیاں ہیں جیسے لبید بن عاصم کی بیٹیاں یا اور جادوگر عورتیں ‘ عورتوں کا مکر اور جادو مشہور ہے اس لئے ان کے جادو سے پناہ مانگنے کا ذکر فرمایا۔ یہاں ہونسنے والوں سے خاص مراد تو یہود ہیں جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کو ہونستے تھے کہ بنی اسماعیل میں یہ نبوت کیوں آگئی لیکن عام ٹوکنے والے بھی اس میں داخل ہیں۔ (9 ؎ صحیح مسلم باب فضل قراء ۃ معوذتین ص 272 ج 1۔ ) (1 ؎ الترغیب و الزہیب الترغیب فی قراءۃ المعوذتین ص 650 ج 2۔ ) (2 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی الرقیۃ بالمعوذین ص 35 ج 2۔ ) (3 ؎ صحیح مسلم باب استحباب رقیۃ المریض ص 222 و 223 ج 2 و صحیح بخاری ص 854 ج 2۔ ) (4 ؎ صیحح مسلم باب السحر ص 221 ج 2 و صحیح بخاری باب لسحر ص 858 ج 2۔ ) (1 ؎ صحیح بخاری۔ باب النفث فی الرقیۃ 855 ج 2۔ ) 2 ؎ صحیح مسلم باب استحباب الرقیۃ من العین الخ 224 ج 2۔ ) (3 ؎ صحیح مسلم باب استحباب الرقیۃ من العین الخ 224 ج 2۔ )