113. Surah Al-Falaq
الفلقThe Dawn · 5 ayahsمعارف القرآن
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader
تو کہہ میں پناہ میں آیا صبح کے رب کی
سورة الفلق
خلاصہ تفسیر
آپ (اپنے استعازہ یعنی اللہ سے پناہ مانگنے کے لئے اور دو رسوں کو بھی یہ استعاذہ سکھلانے کے لئے جس کا حاصل اللہ پر توکل اور مکمل بھروسہ کی تعلیم ہے۔ یوں) کہئے کہ میں صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں۔ تمام مخلوقات کے شر سے اور (بالخصوص) اندھیری رات کے شر سے جب وہ رات آجاوے (رات میں شرور و آفات کا احتمال ظاہر ہے) اور (بالخصوص گنڈے کی) گروہوں پر پڑھ پڑھ کر پھنکنے والیوں کے شر سے اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے (اول تمام مخلوقات کے شر سے پناہ لینے کا ذکر کرنے کے بعد خاص خاص چیزوں کا ذکر شاید بمناسبت مقام یہ ہوا کہ اکثر سحر کی ترتیب اور ترکیب رات کو ہوتی ہے (کذا فی الخازن) تاکہ کسی کو اطلاع نہ ہو اطمینان سے اس کی تکمیل کرسکیں اور گنڈہ پر دم کرنے والی جانوں یا عورتوں کی مناسبت اس لفظ نقاثات کا موصوف نفوس بھی ہو سکتے ہیں جو مرد و عورت دونوں کو شامل ہیں اور عورتیں بھی اس کی موصوف ہو سکتی ہیں اور رسول اللہ ﷺ پر جو یہودیوں نے سحر کیا تھا اس کا اصل منشاء حسد تھا۔ اس طرح سحر کے متعلقہ جتنی چیزیں تھیں سب سے استعاذہ ہوگیا اور باقی شرور آفات کو شامل کرنے کے لئے من شرما خلق فرما دیا اور آیت میں جو اللہ کی صفت رب الفلق یعنی صبح کا مالک ذکر کی گئی حالانکہ اللہ تو صبح اور شام سبھی چیزوں کا رب اور مالک ہے۔ اس تخصیص میں شاید اشارہ اس طرف ہو کہ جیسے اللہ تعالیٰ رات کی اندھیری کا ازالہ کر کے صبح کی روشنی نکال دیتا ہے اسی طرح سحر کا بھی ازالہ کرسکتا ہے۔
معارف و مسائل
یہ سورت فلق اور اس کے بعد کی سورة ناس دونوں سورتیں ایک ساتھ ایک ہی واقعہ میں نازل ہوئی ہیں۔ حافظ ابن قیم نے ان دونوں سورتوں کی تفسیر یکجا لکھی ہے اس میں فرمایا ہے کہ ان دونوں سورتوں کے منافع اور برکات اور سب لوگوں کو ان کی حاجت و ضرورت ایسی ہے کہ کوئی انسان ان سے مستغنی نہیں ہوسکتا ان دونوں سورتوں کو سحر اور نظر بد اور تمام آفات جسمانی و روحاین کے دور کرنے میں تاثیر عظیم ہے اور حقیقت کو سمجھا جائے تو انسان کو اس کی ضرورت اپنے سانس اور کھانے پینے اور لباس سب چیزوں سے زیادہ ہے اس کا واقعہ مسند احمد میں اس طرح آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ پر ایک یہودی نے جادو کردیا تھا جس کے اثر سے آپ بیمار ہوگئے۔ جبرئیل امین نے آ کر آپ کو اطلاع کی کہ آپ پر ایک یہودی نے جادو کیا ہے اور جادو کا عمل جس چیز میں کیا گیا ہے وہ فلاں نوئیں کے اندر ہے۔ آنحضرت ﷺ نے وہاں آدمی بھیجے وہ یہ جادو کی چیز کنوئیں سے نکال لائے اس میں گر ہیں لگی ہوئی تھیں آنحضرت ﷺ نے ان گرہوں کو کھول دیا اسی وقت آپ بالکل تندرست ہو کر کھڑے ہوگئے (اور اگرچہ جبرئیل ؑ نے آپ کو اس یہودی کا نام بتلا دیا تھا اور آپ اس کو جانتے تھے مگر اپنے نفس کے عاملے میں کسی سے انتقام لینا آپ کی عادت نہ تھی اسلئے) عمر بھر اس یہودی سے کچھ نہیں کہا اور نہ کبھی اس کی وموجوگدی میں آپ کے چہرہ مبارک سے کسی شکایت کے آثار پائے گئے (وہ منافق ہونے کی وجہ سے حاضر باش تھا) اور صحیح بخاری کی روایت حضرت عائشہ سے یہ ہے کہ آپ پر ایک یہودی نے سحر کیا تو اس کا اثر آپ پر یہ تھا کہ بعض اوقات آپ محسوس کرتے تھے کہ فلاں کام کرلیا ہے مگر وہ نہیں کیا ہوتا۔ پھر ایک روز آپ نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا ہے کہ میری بیماری کیا ہے اور فرمایا کہ (خواب میں) دو شخص آئے، ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا، ایک پاؤں کی طرف، سرہانے والے نے دوسرے سے کہا کہ ان کو کیا تکلیف ہے، دوسرے نے کہا کہ یہ محسور ہیں، اس نے پوچھا کہ سحر ان پر کس نے کیا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ لبیدین اعصم نے جو یہودیوں کا حلیف منافق ہی اس نے پوچھا کہ کس چیز میں جادو کیا ہے، اس نے بتلایا کہ ایک کنگھے اور اس کے دندانوں میں، پھر اس نے پوچھا کہ وہ کہاں ہے تو اس نے بتلایا کہ کھجور کے اس غلاف میں جس میں کھجور کا پھل پیدا ہوتا ہے برذروان (ایک کنوئیں کا نام ہے) میں ایک پتھر کے نیچے مدفون ہے۔ آپ اس کنوئیں پر تشریف لے گئے اور اس کو نکال لیا، اور فرمایا کہ مجھے خواب میں یہی کنواں دکھلایا گیا تھا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ آپ نے اس کا اعلان کیوں نہ کردیا (کہ فلاں شخص نے یہ حرکت کی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے شفا دے دی اور مجھے یہ پسند نہیں کہ میں کسی شخص کے لئے کسی تکلیف کا سبب بنوں (مطلب یہ تھا کہ اس کا اعلان ہوتا تو لوگ اس کو قتل کردیتے یا تکلیف پہنچاتے) اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آپ کا یہ مرض چھ مہینے تک رہا اور بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ جن صحابہ کرام کو معلوم ہوگیا تھا کہ یہ کام لبیدین اعصمم نے کیا ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ہم اس خبیث کو کیوں قتل نہ کردیں، آپ نے وہی جواب دیا جو صدیقہ عائشہ کو دیا تھا اور امام ثعلبی کی روایت میں ہے کہا یک لڑکا آنحضرت ﷺ کی خدمت کرتا تھا، اس منافقع یہودی نے اس کو بہلا پھسلا کر رسول اللہ ﷺ کا کنگھا اور کچھ اس کے دندانے اس سے حاصل کر لئے اور ایک تانت کے تار میں گیارہ گرہیں لگائیں، ہر گرہ میں ایک سوئی لگائی، کنگھے کے ساتھ اس کو کھجور کے پھل کے غلاف میں رکھ کر ایک کنوئیں میں پتھر کے نیچے دبا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دو سورتیں نازل فرمائیں جن میں گیارہ آیتیں ہیں، آپ ہر گزہ پر ایک ایک آیت پڑھ کر ایک ایک کھولتے رہے یہاں تک کہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ سے اچانک ایک بوجھ سا اتر گیا (یہ سب روایتیں تفسیر ابن کثیر سے لی گئی ہیں۔)
سخر کے اثر سے متاثر ہوجانا نبوت و رسالت کے منافی نہیں۔ جو لوگ سحر کی حقیقت سے ناواقف ہیں ان کو تعجب وتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جادو کا اثر کیسے ہوسکتا ہے۔ سحر کی حقیقت اور اس کے اقسام و احکام پوری تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی تفسیر معارف القرآن جلد اول ص 217 تا 223 میں بیان کئے جا چکے ہیں وہاں دیکھ لئے جائیں۔ خلاصہ اس کا جس کا جاننا یہاں ضروری ہے اتنا ہے کہ سحر کا اثر بھی اسباب طبعیہ کا اثر ہوتا ہے جیسے آگ سے جلنا یا گرم ہونا، پانی سے سرد ہونا۔ بعض اسباب طبعیہ سے بخار آجانا یا مختلف قسم کے درود و امراض کا پیدا ہوجانا ایک امر طبعی ہے جس سے پیغمبر و انبیاء مستثنیٰ نہیں ہوتے اسی طرح سحر و جادو کا اثر بھی اسی قسم سے ہے اس لئے کوئی بعید نہیں۔
معوذتین ہر قسم کی دنیوی اور دینی آفات سے حفاظت کا قلعہ ہیں، ان کے فضائل۔ یہ تو ہر مومن کا عقیدہ ہے کہ دنیا و آخرت کا ہر نفع نقصان اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے بغیر اس کی مشیت کے کوئی کسی کو ایک ذرہ کا نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا تو دنیا و آخرت کی تمام آفات سے محفوظ رہنے کا اصل ذریعہ ایک ہی کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں دیدے اور اپنے عمل سے اس کی پناہ میں آنے کے قابل بننے کی کوشش کرے۔ ان دونوں سورتوں میں پہلی یعنی سورة فلق میں تو دنیاوی آفات سے اللہ کی پناہم انگنے کی تعلیم ہے اور دوسری سورت یعنی سورة ناس میں اخروی آفات سے بچنے کے لئے اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے۔ مستند احادیث میں ان دونوں سورتوں کے بڑے فضائل اور برکات منقول ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت عقبہ بن عامر کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں کچھ خبر ہے کہ آج کی رات اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایسی آیات نازل فرمائی ہیں کہ ان کی مثل نہیں دیکھی یعنی قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس اور ایک روایت میں ہے کہ تو رات۔ انجیل اور زبور اور قرآن میں بھی ان کی مثل کوئی دوسری سورت نہیں ہے۔ ایک دوسرے روایت انہی حضرت عقبہ سے ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ نے ان کو معوذتین پڑھائی اور پھر مغرب کی نماز میں انہی دونوں سورتوں کی تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا کہ ان سورتوں کو سونے کے وقت بھی پڑھا کرو اور پھر اٹھنے کے وقت بھی (رواہ النسائی) اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں سورتوں کو ہر نماز کے بعد پڑھنے کی تلقین فرمائی (رواہ ابو داؤد النسائی)
اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی بیماری پیش آتی تو یہ دونوں سورتیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر دم کر کے سارے بدن پر پھیر لیتے تھے پھر جب مرض وفات میں آپ کی تکلیف بڑھی تو میں یہ سورتیں پڑھ کر آپ کے ہاتھوں پر دم کردیتی تھی آپ اپنے تمام بدن پر پھیر لتے تھے۔ میں یہ کام اس لئے کرتی تھی کہ حضرت کے مبارک ہاتھوں کا بدل میرے ہاتھ نہ ہو سکتے تھے (رواہ الامام مالک) (یہ سب روایتیں تفسیر ابن کثیر سے نقل کی گئی ہیں) اور حضرت عبداللہ بن حبیب سے روایت ہے کہ ایک رات میں بارش اور سخت اندھیری تھی ہم رسول اللہ ﷺ کو تلاش کرنے کے لئے نکلے، جب آپ کو پا لیا تو آپ نے فرمایا کہ کہو، میں نے عرض کیا کہ کیا کہوں، آپ نے فرمایا قل ہو اللہ احد اور معوذتین پڑھو، جب صبح ہو اور جب شام ہو تین مرتبہ یہ پڑھنا تمہارے لیے ہر تکلیف سے امان ہوگا (رواہ الترمذی ابو داؤد و النسائی۔ مظہری)
خلاصہ یہ ہے کہ تمام آفات سے محفوظ رہنے کے لئے یہ دو سورتیں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کا معمول تھیں۔ آگے سورت کے الفاظ کے ساتھ تفسیر دیکھئے۔
قل اعوذ برب الفلق فلق کے لفظی معنے پھٹنے کے ہیں مراد رات کی پوپھٹنا اور صبح کا نمودار ہونا جیسا ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت فالق الاصباح آئی ہے۔ اس کلمہ میں اللہ تعالیٰ کی تمام صفات میں سے اس کو اختیار کرنے کی حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ رات کی اندھیری اکثر شرور و آفات کا سبب بنتی ہے اور صبح کی روشنی اس کو دور کردیتی ہے اللہ تعالیٰ کی اس صفت میں یہ اشارہ ہے کہ جو اس کی پناہ مانگے گا اللہ تعالیٰ اس کی تمام آفات کو دور فرما دے گا (مظہری)
لفظ شر کے معنی از علامہ ابن قیم۔ من شرما خلق، علامہ ابن قیم نے لکھا ہے کہ لفظ ظر دو چیزوں کے لئے عام اور شامل ہے۔ ایک آلام و آفات، جن سے براہ راست انسان کو رنج و تکلیف پہنچتی ہے دوسرے وہ چیزیں جو آلام و آفات کے موجباب اور اسباب ہیں۔ اس دوسری قسم میں کفر و شرک اور تمام معاصی بھی لفظ شر کے مفہوم میں داخل ہیں۔ قرآن و حدیث میں جن چیزوں سے پناہ کا ذکر آیا ہے وہ ان دونوں قسموں سے کسی ایک میں داخل ہوتی ہیں کہ یا تو وہ خود آفت یا مصیبت ہوتی ہیں یا اس کے لئے سبب موجب ہوتی ہیں۔ نماز کے آخر میں جو دعا، استعاذہ مسنون ہے اس میں چار چیزیں مذکورہ ہیں۔ عذاب قبر، عذاب نار، فتنہ المحیاو الممات ان میں پہلی دو چیزیں خو دصمیبت و عذاب ہیں اور آخری دو چیزیں مصیبت و عذاب کے اسباب ہیں۔
مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader
ہر چیز کی بدی سے جو اس نے بنائی
وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader
اور بدی سے اندھیرے کی جب سمٹ آئے
وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader
اور بدی سے عورتوں کی جو گرہوں میں پھونک ماریں
وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader
اور بدی سے برا چاہنے والے کی جب لگے ٹوک لگانے۔
من شر ما خلق کے لفظ میں ساری مخلوقات کا شرداخل ہے اس لئے یہ کلمہ تمام شرور آفتاب سے پناہ لینے کے لئے کافی تھا مگر اس جگہ تین چیزوں کو ممتاز کر کے ان کے شر سے پناہ مانگنے کا علیحدہ ذکر فرمایا جو اکثر آفات و مصائب کا سبب بنتی ہیں۔ پہلے فرمایا من شرعغاسق اذا وقب اس میں لفظ غاسق غسق سے مشتق ہے جس کے معنی اندھیری کا پھیل جانا اور چھا جانا ہے اس لئے غاسق کے معنی حضرت ابن عسا اور حسن اور مجاہد نے رات کے لئے ہی اور وقب وقوب کے مشتق ہے جس کے معنی اندھیری کے پوری طرح بڑھ جانے کے ہیں۔ معنی یہ ہیں کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں رات سے جبکہ اس کی اندھیری پوری ہوجاوے رات کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ یہی وقت جناب و شیاطین اور موذی جانوروں اور حشرات الارض اور چوروں ڈاکوؤں کے پھیلنے اور دشمنوں کے حملہ کرنے کا وقتہ وتا ہے اور جادو کی تاثیر بھی رات میں زیادہ ہوتی ہے صبح ہوتے ہی ان چیزوں کا تسلط ختم ہوجاتا ہے (ابن قیم) دوسری چیز یہ فرمائی کہ ومن شر النفثت فی العقد، نفاثات، نفث سے مشتق ہے جس کے معنی پھونک مارنے کے ہیں۔ اور عقد عقدة کی جمع ہے جس کے معنی گرہ کے ہیں جادو کرنے والے ڈورے وغیرہ میں گرہ لگا کر اس پر جادو کے کلمات پڑھ کر پھونکتے ہیں۔ نفاثات فی العقد کے معنی ہوئے گروہوں پر پھونکنے والیاں مراد جادو کرنے والیاں ہیں اور لفظ نفاثات کا موصوف نفوس بھی ہوسکتا ہے جس میں مرد عورت دونوں داخل ہیں اس صورت میں جادو کرنے والیوں سے مراد جادو کرنے والی جانیں ہوں گی اور ظاہر یہ ہے کہ اس کا موصوف عورتیں ہیں۔ عورتوں کی تخصیص شاید اس لئے کی گئی کہ جادو کا کام عموماً عورتیں کرتی ہیں اور کچھ خلقتہ عورتوں کو اس سے مناسبت بھی زیادہ ہے اور یا اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ پر جادو کرنے کا جو واقعہ ان سورتوں کا سبب نزول ہوا اس میں جادو کرنے والیاں ولید بن اعصم کی لڑکیاں تھیں جنہوں نے باپ کے کہنے سے یہ کام کیا تھا اس لئے اس جادو کی نسبت ان کی طرف کردی گئی اور جادو کرنے والو سے پناہ مانگنے کو خصوصیت کے ساتھ ذکر کرنے کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ سبب نزول یہی جادو کا واقعہ ہے اور یہ بھی کہ اس کا شر اور ضرر اس لئے زیادہ ہے کہ انسان کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی بیخبر ی کی وجہ سے اس کے ازالہ کی طرف توجہ نہیں ہوتی، وہ بیماری سمجھ کردو ادوار میں لگا رہتا ہے اور تکلیف بڑھ جاتی ہے۔
تیسری چیز جو خصوصیت کے ساتھ ذکر کی گئی وہ حاسد اور حسد ہے اس کی تخصیص کی وجہ بھی یہی دونوں ہو سکتی ہیں کیونکہ آپ پر جادو کرنے کا اقدام اسی حسد کے سبب سے ہوا۔ یہود و منافقین آپ کی اور مسلمانوں کی ترقی کو دیکھ کر جلتے تھے اور ظاہری جنگ و قتال میں آپ پر غالب نہیں آسکے تو جادو کے ذریعہ اپنی حسد کی آگ کو بجھانا چاہا اور رسول اللہ ﷺ کے حاسد دنیا میں بیشمار تھے اس لئے بھی خصوصیت سے پناہ مانگی گئی نیز حاسد کا حسد اس کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتا وہ ہر وقت اس کو نقصان پہنچانے کے در پے رہتا ہے اس لئے یہ ضرر شدید بھی ہے۔
حسد کہتے ہیں کسی کی نعمت و راحت کو دیکھ کر جلنا اور یہ چاہنا کہ اس سے یہ نعمت زائل ہوجائے چاہے اس کو بھی حاصل نہ ہو، یہ حسد حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور یہ سب سے پہلا گناہ ہے جو آسمان میں کیا گیا اور سب سے پہلا گناہ ہے جو زمین میں کیا گیا، کیونکہ آسمان میں ابلیس نے حضرت آدم ؑ سے حسد کیا اور زمین پر ان کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل سے کیا (قرطبی) حسد سے ملتا جلتا غبطہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ کسی کی نعمت کو دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ یہ نعمت مجھے بھی حاصل ہوجائے یہ جائز ہے بلکہ مستحسن ہے۔ ے
یہاں تین چیزوں سے خصوصی پناہ مانگنے کا ذکر ہے مگر پہلی اور تیسری میں تو ایک ایک قید کا ذکر کیا گیا۔ پہلی غاسق کے ساتھ اذا وقب فرمایا اور تیسری میں حاسد کے ساتھ اذا حسد فرمایا اور درمیانی چیز یعنی جادو کرنے والوں میں کوئی قید ذکر نہیں فرمائی۔ سبب یہ ہے کہ جادو کی مضرت عام ہے اور رات کی مضرت اسی وقت ہوتی ہے جب اندھیری پوری ہوجائے، اسی طرح حاسد کا حسد جب تک وہ اپنے حسد کی وجہ سے کسی ایذا پنچانے کا اقدام نہ کرے اس وقت تک تو اس کا نقصان خد اسی کی ذات کو پہنچتا ہے کہ دوسرے کی نعمت کو دیکھ کر جلتا کڑھتا ہے، البتہ محسود کو اس کا نقصان اس وقت پہنچتا ہے جبکہ وہ متقضائی حسد پر عمل کر کے ایذا رسانی کی کوشش کرے اس لئے پہلی اور دوسری چیز میں یہ قیدیں لگا دی گئیں۔