114. Surah An-Naas
الناسMankind · 6 ayahsمعارف القرآن
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ Open ayah 114:1 in the Quran reader
تو کہہ میں پناہ میں آیا لوگوں کے رب کی
خلاصہ تفسیر
آپ کہئے کہ میں آدمیوں کے مالک، آدمیوں کے بادشاہ، آدمیوں کے معبود کی پناہ لیتا ہوں وسوسوہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے (شیطان) کے شر سے (پیچھے ہٹنے کا مطلب یہ کہ حدیث میں ہے کہ اللہ کا نام لینے سے شیطان ہٹ جاتا ہے) جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ (وسوسہ ڈالنے والا) جن ہو یا آدمی (یعنی جس طرح میں شیاطین الجن سے پناہ مانگتا ہوں، اسی طرح شیاطین الانس سے بھی پناہ مانگتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں دوسری جگہ کنات اور انسان دونوں میں شیاطین ہونے کا ذکر ہے وکذلک جعلنا لکل نبی عدواً شیطین الانس والجن)
معارف و مسائل
سورة فلق میں دنیوی آفات و مصائب سے پناہ مانگنے کی تعلیم ہے اور اس صورت میں اخریو آفات سے پناہ مانگنے کی تاکید ہے اور جیسا کہ لفظ شر کا مفہوم سورة فلق میں بیان کیا گیا ہے کہ آلام اور موجبات آلام دونوں کو شامل ہے اس سورت میں اس شر سے پناہ مانگی گئی ہے جو تمام گناہوں کا سبب ہے یعنی شیطان وساوس و اثرات، چونکہ آخرت کی مضرت اشد ہے اس لئے اس کی تاکید پر قرآن ختم کیا گیا۔
قل اعوذ برب الناس رب کے معنی پالنے والے اور ہر حال کی اصلاح کرنے والے کے ہیں اس جگہ رب کی اضافت ناس کی طرف کی گئی اور پہلی سورت میں فلق کی طرف وجہ یہ ہے کہ سورة فلق میں ظاہری اور جسمانی آفات سے پناہ مانگتا مقصود ہے اور وہ انسان کے ساتھ مخصوص نہیں۔ جانوروں کو بھی بدنی آفات و مصائب پہنچتے ہیں بخلاف وسوسہ شیطانی کے کہ اس کا نقصان انسان کے ساتھ مخصوص ہے اور جنات بھی اس میں بعاً شامل ہیں۔ اس لئے یہاں رب کی اضافت ناس کی طرف کی گئی۔ (مظہری عبن البیضاوی)
مَلِكِ النَّاسِۙ Open ayah 114:2 in the Quran reader
لوگوں کے بادشاہ کی
ملک الناس یعنی لوگوں کا بادشاہ
اِلٰهِ النَّاسِۙ Open ayah 114:3 in the Quran reader
لوگوں کے معبود کی
الہ الناس لوگوں کا معبود، ان دو صفتوں کا اضافہ اس لئے کیا گیا کہ لفظ رب جب کسی خاص چیز کی طرف منسوب ہو تو اللہ تعالیٰ کے سوا بھی دوسروں کے لئے بولا جاتا ہے جیسا رب الدار گھر کے مالک کو، رب المال، مالک کے مالک کو کہا جاتا ہے اور ہر مالک بادشاہ نہیں ہوتا اس لئے ملک کا اضافہ کیا کہ وہ رب یعنی مالک بھی ہے اور ملک یعنی بادشاہ بھی، پھر ہر بادشاہ معبود نہیں ہوتا اس لئے تیسری صفت ذکر فرمائی الہ الناس، ان تینوں صفتوں کو جمع کرنے میں حکمت یہ ہے کہ ان میں سے ہر صفت حفاظت کی داعی ہے کیونکہ ہر مالک اپنے مملوک کی حفاظت کرتا ہے۔ اسی طرح ہر بادشاہ اپنی رعیت کی حفاظت کرتا ہے اور معبود کا اپنے عابد کے لئے محافظ ہونا تو سب سے اظہر ہے۔ یہ تینوں صفتیں صرف حق تعالیٰ میں جمع ہیں اس کے سوا کوئی ان صفتوں کا جامع نہیں اس لئے اس کی پناہ حاصل کرنا سب سے بڑی پناہ ہے اور اللہ تعالیٰ سے ان تین صفتوں کے ساتھ پناہ مانگنا دعا کی قبولیت کے لئے اقرب ہے کہ یا اللہ آپ ہی ان صفات کے جامع ہیں ہم صرف آپ ہی سے پنا ہمانگتے ہیں۔ یہاں جبکہ پہلے جمہ میں رب الناس آ ڈکا تو بظاہر تقاضا مقام کا یہ تھا کہ آگے اس کی طرف ضمیریں راجع کرنے سے کام لیا جاتا ملکم والھم فرمایا جاتا مگر اس لفظ کا بار بار تکرار اس لئے ہے کہ مقام دعا اور مدح وثناء کا ہے اس میں تکرار رہی بہتر ہے اور بعض حضرات نے لفظ ناس کے بار بار تکرار میں یہ لطیفہ بیان کیا ہے کہ سا سورت میں یہ لفظ پانچ مرتبہ آیا ہے۔ پہلے لفظ ناس سے مراد بچے ہیں اور لفظ رب اور بوبیت اس کا قرینہ ہے کیونکہ پرورش کی حاجت سب سے زیادہ بچوں کو ہوتی ہے اور دوسرے لفظ ناس سے جوان مراد ہیں، اور لفظ ملک اس کا قرینہ ہے جو ایک سیاست کے معنی رکھتا ہے وہ جو ان کے مناسب ہے اور تیسرے لفظ م اس سے بوڑھے مراد ہیں جو دنیا سے منقطع ہو کر عبادت میں مشغول ہوں اور لفظ الہٰ اس کا قرینہ ہے جو عبادت لہ طرف مشیر ہے اور چوتھے لفظ ناس سے مراد اللہ کے صالح بندے ہیں اور لفظ وسوسہ اس کا قرینہ ہے کیونکہ شیطان نیک بندوں کا دشمن ہے ان کے دلوں میں وسوسے ڈالنا اس کا مشغلہ ہے اور پانچویں لفظ ناس سے مراد مفسد لوگ ہیں کیونکہ ان کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔
مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ Open ayah 114:4 in the Quran reader
بدی سے اس کی جو پھسلائے اور چھپ جائے
الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ Open ayah 114:5 in the Quran reader
وہ جو خیال ڈالتا ہے لوگوں کے دل میں
من شرالوسو اس الخناس، اللہ تعالیٰ کی تین صفات ذکر کر کے اب اس کا بیان ہے جس سے پناہ مانگنا مقصود ہے وہ ہے وسو اس خناس، وسو اس مصدر دراصل بمعنی وسوسہ ہے یہاں شیطان کو وسو اس مبالغتہ فرمایا گویا کہ وہ سراپا وسوسہ ہے اور وسوسہ کے معنی شیطان کا اپنی اطاعت کی طرف ایک مخفی کلام کے ذریعہ بلانا ہے جس کا مفہوم انسان کے دل میں آجائے اور کوئی آواز سنائی نہ دے (قرطبی)
خناس، خنس کے مشتق ہے جس کے معنی پیچھے لوٹنے کے ہیں۔ شیطان کو خناس اس لئے کہا گیا کہ اس کی عادت یہ ہے کہ انسان جب اللہ کا نام لیتا ہے تو پیچھے بھاگتا ہے پھر جب ذرا غفلت ہوئی پھر آجاتا ہے پھر وہ اللہ کا نام نام لیتا ہے تو پھر پیچھے لوٹ جاتا ہے یہی عمل مسلسل جاری رکھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر انسان کے قلب میں دو گھر ہیں ایک میں فرشتہ رہتا ہے دوسرے میں شیطان (فرشتہ اس کو نیک کاموں کی رغبت دلاتا رہتا ہے اور شیطان برے کاموں کی) پھر جب انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب تک وہ ذکر اللہ میں مشغول نہی ہوتا تو اپنی چونچ انسان کے دل پر رکھ کر اس میں برائیوں کے وسوسے ڈالتا ہے (رواہ ابویعلی عن انس مرفوعاً مظہری)
مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ Open ayah 114:6 in the Quran reader
جنوں میں اور آدمیوں میں۔
من الجنتہ والناس۔ یہ بیان ہے وسو اس کا یعنی وسوسہ ڈالنے والے جنات میں سے بھی ہوتے ہیں، اور انسانوں میں سے بھی، تو حاصل اس کا یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس کی تلقین فرمائی کہ اللہ سے پناہ مانگیں جنات شیطاطین کے شر سے بھی اور انسانی شیاطین کے شر سے بھی۔ اگر یہ شبہ ہو کہ وسوسہ جناتی شیاطین کی رف سے ہونا تو ظاہر ہے کہ وہ مخفی طور پر انسان کے قلب میں کوئی مخفی کام ڈال دلیں، مگر انسانی شیاطین تو کھلم کھلا سامنے آ کر بات کرتے ہیں ان کا وسوسہ سے کیا تعلق ہے تو جواب یہ ہے کہ انسانی شیاطین بھی اکثر ایسی باتیں کسی کے سامنے کرتے ہیں جن سے اس کے دل میں کسی معاملے کے متعلق ایسے شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے ہیں جن کو وہ صراحتہ نہیں کہتے اور شیخ عزالدین بن عبدالسلام نے اپنی کتاب (الفوائد فی مشکلات القرآن) میں فرمایا کہ انسانی شیطان کے شر سے مراد خود اپنے نفس کا وسوسہ ہے کیونکہ جس طرح شیطان جن انسان کے دل میں برے کاموں کی طرف رغبت ڈالتا ہے اسی طرح خود انسان کا اپنا نفس بھی برے ہی کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے نفس کے شر سے بھی پناہ مانگنا سکھلایا ہے حدیث میں ہے اللھم اعوذ بک من شر نفسی و شرالشیطان وشرکہ، یعنی یا اللہ میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے بھی اور شیطان کے شر اور شرک سے بھی۔
شیطانی وساوس سے پناہ مانگنے کی بڑی اہمیت۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں انسان کو اس کی تلقین فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ تین صفتیں (ب، ملک، الہ ذکر کر کے اس سے شیطانی وساوس اور وسائس سے پناہ مانگنا چاہئے کیونکہ ہر انسان کے ساتھ ایک قرین (ساتھی) شیطان لگا ہوا ہے جو ہر قدم پر اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ انسان کو تباہ و برباد کر دے، اول تو اس کو گناہوں کی رغبت دیتا ہے اور طرح طرح سے اس کو بہلا کر گناہوں کی طرف لیجاتا ہے، اگر اس میں کامیاب نہ ہوا تو انسان جو طاعات و عبادت کرتا ہے اس کو خراب اور ضائع کرنے کے لئے ریاء و نمود اور غرور وتکبر کے وسوسے سے دل میں ڈالتا ہے علم والوں کے دلوں میں عقائد حقہ کے متعلق شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اس کے شر سے وہی بچ سکتا ہے جس کو اللہ ہی بچائے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں کوئی آدمی ایسا نہیں جس پر اس کا قرین (ساتھی) شیطان مسلط نہ ہو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ، کیا آپ کے ساتھ بھی یہ قرین ہے۔ فرمایا، ہاں مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری اعانت فرمائی اور اس کو ایسا کردیا کہ وہ بھی مجھے بجز خیز کے کسی بات کو نہیں کہتا۔
صحیحین میں حضرت انس کی حدیث ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں معتکف تھے ایک رات میں ام المومنین حضرت صفیہ آپ کی زیارت کے لئے مسجد میں گئیں واپسی کے وقت رسول اللہ ﷺ ان کے ساتھ ہوئے، گلی میں دو انصاری صحابی سامنے آگئے تو آپ نے آواز دے کر فرمایا، ٹھہرو میرے ساتھ صفیہ بنت حیی ہیں، ان دونوں نے بکمال ادب عرض کیا سبحان اللہ یا رسول اللہ (یعنی کیا آپ نے ہمارے بارے میں یہ خیال کیا کہ ہم کوئی بدگمانی کریں گے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک کیونکہ شیطان انسان کے خون کے ساتھ اس کی رگ و پے میں اثر انداز ہوتا ہے، مجھے یہ خطرہ ہوا کہ کہیں شیطان تمہارے دلوں میں کوئی وسوسہ بدگمانی کا پیدا کر دے (اس لئے میں نے بتلا دیا کہ کوئی غیر عورت میرے ساتھ نہیں)
فائدہ۔ جیسا کہ خود برے کاموں سے بچنا انسان کے لئے ضروری ہے اسی طرح مسلمانوں کو اپنے بارے میں بدگمانی کا موقع دینا بھی درست نہیں، ایسے مواقع سے بچنا چاہئے جس سے لوگوں کے دلوں میں بدگمانی پیدا ہوتی ہو اور کوئی ایسا موقع آجائے تو بات واضح کر کے تہمت کے مواقع کو ختم کردینا چاہئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس حدیث نے شیطانی وسوسہ کا بڑا خطرناک ہونا ثابت کیا ہے جس سے بچنا آسان نہیں۔ بجز خدا کی پناہ کے۔
تنبیہ۔ یہاں جس وسوسہ سے ڈرایا گیا ہے اس سے مراد وہ خیال ہے جس میں انسان با اختیار خود مشغول ہو اور غیر اختیاری وسوسہ و خیال جو دل میں آیا اور گزر گیا وہ کچھ مضر نہیں، نہ اس پر کوئی گناہ ہے۔
لطیفہ، سورة فلق اور ناس کے تعوذات میں ایک فرق۔ سورة فلق میں تو اللہ تعالیٰ ، جس کی پناہ مانگی گئی ہے اس کی صرف ایک صفت پر اکتفا کیا گیا یعنی رب الفلق، اور جن چیزوں سے پناہ مانگی گئی وہ بہت ہیں جن کو اولا من شرما خلق میں اجمالا ذکر کیا، پھر ان میں سے خاص تین آفات کو الگ بیان فرمایا اور سورة ناس میں جس چیز سے پناہ مانگی گئی ہے وہ تو صرف ایک ہی ہے یعنی وسواس اور جس کی پناہ مانگی ہے اس کی اس جگہ تین صفات بیان کر کے پناہ کی دعا کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کا شر سب شرور و آفات سے بڑھا ہوا ہے، اول تو اس لئے کہ اور آفات و مصائب کا اثر تو انسان کے جسم اور دنیاوی امور پر پڑتا ہے بخلاف شیطان کے کہ یہ انسان کی دنیا کی آفات کا تو کچھ نہ کچھ علاج مادی بھی انسان کے قبضہ میں ہے اور وہ کرتا رہتا ہے بخلاف شیطان کے کہ اس کے ماقبلے کی کوئی مادی تدبیر انسان کے بس کی نہیں، وہ تو انسان کو دیکھتا ہے انسان اس کو نہیں دیکھتا وہ انسان کے باطن میں غیر معلوم طریقہ پر تصرف کرنے کی قدرت رکھتا ہے اس کا علاج صرف اللہ کا ذکر اور اس کی پناہ لینا ہے۔
انسان کے دو دشمن، انسان اور شیطان اور دونوں دشمنوں کا الگ الگ علاج۔ انسان کا دشمن انسان بھی ہوتا ہے اور شیطان بھی اس کا دشمن ہی حق تعالیٰ نے انسانی دشمن کو اول تو حسن خلوق اور مدارات اور ترک انتقام و صبر کے ذریعہ رام کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور جواں تدبیروں سے باز نہ آئے اس کے ساتھ جہاد و قتال کا حکم دیا ہے۔ بخلاف دشمن شیطانی کے اس کا مقابلہ صرف استعاذہ اور اللہ کی پناہ لینے سے تلقین کیا گیا ہے۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر کے مقدمہ میں قرآن کریم کی تین آیتیں اس مضمون کی لکھی ہیں جن میں ان دونوں دشمنوں کا ذکر کر کے انسانی دشمن کا دفاع حسن خلق ترک انتقام اور اس کے ساتھ احسان کا سلوک کرنا بتلایا اور اس کے مقابلے میں شیطان کا دفاع استعاذہ تلقین فرمایا، ابن کثیر نے فرمایا کہ پورے قرآن میں یہ تین ہی آیتیں اس مضمون کی آئی ہیں۔ ایک آیت سرہ اعراب میں ہے کہ اول فرمایا، خذ العفو وا امر بالعرف و اعرض عن الجھلین یہ تو انسانی دشمن کے مقابلے کی تدبیر ارشاد فرمائی جس کا حاصل عفو و درگزر اور اس کو نیک کام کی تلقین اور اس کی برائی سے چشم پوشی بتلائی۔ اسی آیت میں آگے فرمایا واما ینزعنک من الشیطن نزع فاستعذ باللہ ان سمیع علیم یہ تلقین دشمن شیطانی کے مقابلے میں فرمائی جس کا حاصل اللہ سے پناہ مانگنا ہے۔ دوسری آیت سورة قد افلح المومنون میں اول دشمن انسانی کے مقابلے کے علاج میں فرمایا ادفع بالتھی احسن السئتہ یعنی برائی کو بھلائی کے ذریعہ دفع کرو پھر دشمن شیطانی کے مقابلے کے لئے فرمایا وقل رب اعوذ بک من ھمزت الشیطین واعوذ بک رب ان یحضرون یعنی اے میرے رب میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں شیطانوں کی چھیڑ سے اور اس سے کہ وہ میرے پاس آئیں اور تیسری آیت سورة حم سجدہ کی ہے جس میں اول دشمن انسانی کی مدافعت کے لئے ارشاد فرمایا ادفع بالتی ھی احسن فاذ الذین بینک وبینہ عداوة کانہ ولی حمیم یعنی تم برائی کو بھلائی کے ذریعہ دفع کرو اگر ایسا کرلو گے تو مشاہدہ ہوگا کہ تمہارا دشمن تمہارا مخلص دوست بن جائیگا۔ اسی آیت میں دوسرا جز دشمن شیطانی کے مقابلے میں یہ فرمایا واما ینزغنک من الشیطن نزع فاستعذ باللہ انہ ھو السمیع العلیم یہ تقریباً وہی الفاظ ہیں جو سورة اعراف میں شیطان کے مقابلے کے لئے ارشاد فرمائے ہیں اور حاصل اس کا یہ ہے کہ اس کا مقابلہ بجز استعاذہ کے کچھ نہیں (ابن کثیر)
ان تینوں آیتوں میں انسانی دشمن کا علاج عفو و درگزر اور حسن سلوک سے بتلایا گیا ہے کیونکہا نسانی فطرت یہی ہے کہ حسن خلق اور احسان سے مغلوب ہوجاتا ہے اور جو شریر النفس فطری انسانی صلاحیت کھو بیٹھے ہوں ان کا علاج دوسری آیات میں جہاد و قتال بتلایا گیا ہے کیونکہ وہ کھلے دشمن ہیں، کھلے ساز و سامان کے ساتھ سامنے آتے ہیں انکی قوت کا مقابلہ قوت سے کیا جاسکتا ہے۔ بخلاف شیطان العین کے کہ وہ اپنی فطرت میں شریر ہے احسان اور عفور و درگزر اس پر کوئی اچھا اثر نہیں ڈالتا ہے جس سے یہ اپنی شرارت سے باز آجائے اور نہ ظاہری مقابلہ اس کا جہاد و قتال سے ہوسکتا ہے یہ دونوں قسم کی نرم و گرم تدبیریں صرف انسانی دشمن کے مقابلے میں چلتی ہیں شیطان کے مقابلے میں نہیں چلتی اس لئے اس کا علاج صرف اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنا اور ذکر اللہ میں مشغول ہوجانا ہے جو پورے قرآن میں تلقین کیا گیا ہے اور اسی پر قرآن کو ختم کیا گیا ہے۔
انسانی اور شیطانی دشمن کے مقابلے میں انجام کے اعتبار سے بڑا فرق۔ اوپر قرآنی تعلیمات میں انسانی دشمن کا دفاع اول احسان اور صبر جمیل سے بتلایا گیا ہے اگر اس میں کامیابی نہ ہو تو جہاد و قتال سے اور دونوں صورتوں میں مقابلہ کرنے والا مومن کامیاب ہی کامیاب ہے بالکل ناکامی مومن کے لئے ممکن ہی نہیں کیونکہ دشمن سے مقابلہ میں یہ غالب آ گیا تب تو اس کی کامیابی کھلی ہوئی ہے اور اگر شکست کھا گیا یا مقبول بھی ہوگیا تو آخرت کا اجر وثواب اور شہادت کے فضائل اس کو اتنے بڑے ملیں گے جو دنیا کی کامیابی سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ غرض انسانی دشمن کے مقابلے میں ہار جانا بھی مومن کے لئے کوئی مضرت نہیں، بخلاف شیطان کے کہ اس کی خوشامد اور اس کو راضی کرنا بھی گناہ ہے اور اس کے مقابلے میں ہار جانا تو آخرت کو تباہ کرلینا ہے یہی وجہ ہے جس کے لئے دشمن شیطانی کی مدافعت کے واسطے حق تعالیٰ ہی کی پناہ لینا علاج ہے اس کی پناہ کے سامنے شیطان کی ہر تدبیر ضعیف و بےاثر ہے۔
کید شیطانی ضعیف ہے۔ مذکورہ وجود سے کسی کہ یہ خیال نہ ہونا چاہئے کہ شیطان کی طاقت بڑی ہے اس کا مقابلہ مشکل ہے اسی خیال کو دفع کرنے کے لئے حق تعالیٰ نے فرمایا ہے ان کید الشیطن کان ضعیفاً اور والوں اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والوں پر یعنی اللہ کی پناہ لینے والوں پر شیطان کا کوئی تسلط نہیں ہوتا ارشاد ہے فاذا قرات القران فاسعذ باللہ من الشیطن الرجیم، انہ لیس لہ سلطن علی الذین امنوا وعلی ربھم یتوکلون، انما سلطنہ علی الذین یتولونہ والذین ھم بہ مشرکون، یعنی جب تو قرآن پڑھنے لگے تو پناہ لے اللہ کی شیطان مردود سے اس کا زور نہیں چلتا ان پر جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اس کا زور تو انہی پر ہے جو اس کو رفیق سمجھتے ہیں اور جو اس کو شریک مانتے ہیں۔
سورة نحل کی تفسیر معارف القرآن جلد پنجم ص 387 میں اس آیت کی پوری تشریح اور استعاذہ کے مسائل اور شرعی احکام کی تفصیل گزر چکی ہے اس کو دیکھ لیا جاوے۔
قرآن کریم کے فاتحہ اور خاتمہ میں مناسبت۔ قرآن کریم کو حق تعالیٰ نے سورة فاتحہ سے شروع فرمایا ہے جس کا خلاصہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد اس کی مدد حاصل کرنا اور اس سے صراط مستقیم کی توفیق مانگنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور صراط مستقیم یہی دو چیزیں ہیں جن میں انسان کی دنیا و دین کے سب مقاصد کی کامیابی مضمر ہے۔ لیکن ان دونوں چیزوں کے حصول میں اور حصول کے بعد اس کے استعمال میں ہر قدم پر شیطان لعین کے مکرو فریب اور وسوسوں کا جال بچھا رہتا ہے اس لئے اس جال کو پاش پاش کرنے کی مؤ ثر تدبیر استعاذہ پر قرآن کو ختم کیا گیا۔ وباختتامہ تم بحمد اللہ وفضلہ وکرمہ وعونہ تفسیر القرآن الکریم واللہ الحمد اولہ، واخرہ وظاہر و باطنہ، فما کنا لنھتدی الیہ لولا ان ھدنا اللہ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ خیر خلقہ و صفوة رسلہ و امام انبیاء محمد خاتم النبین وسید المرسلین علیہ وعلیھم صلوات اللہ وسلامہ وعلی الہ و اصحابہ اجمعین ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم و ذلک فی الحادی والعشرین من شعبان 1392 ھ ضحوة یوم السبت و من غریب الاتفاق ان ھذا الیوم ھوالیوم الذی ولدت فیہ فی ھذا الیوم تمت من عمر ھذا العبد الضعیف الجانی علی نفسہ سبعة وسبعون سنتہ واخذت فی الثامن والسبعین واللہ سبحانہ، وتعالیٰ ادعو وارجو ان یجعل خیر عمری اخرہ وخیر عملی خواتیمہ، وخیر ایامی یوم القاہ فیہ ببرکتہ المبین ونبیہ الامین وان یتقل منی جھد المقل الذی اتعبت فیہ نفسی فی امراض و ھموم و ضعیف القوی وما ھوالا بتوفیقہ وعونہ وان یغفرلی خطیاتی وتقصیراتی فی حقوق کتابہ الکریم وان ینفع بدرالمسلمین الی امد بعید وان یجعلہ ذخراً الیوم لابیع فیہ ولا خلال ولایجدی فیہ مال ولا ال فسبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
وتم النظر الثانی علی المجلد الثامن من تفسیر معارف القران یوم الجمعتہ عاشر شوال 1392 بعد ما اخذت فیہ لثالث رمضان 1392 ھ فکان فی نحواربعین یوما واللہ الحمد