113. Surah Al-Falaq

الفلقThe Dawn · 5 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 113:1

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader

آپ کہیے کہ : میں صبح کے پروردگار سے 1 پناہ مانگتا 2 ہوں

1 فلق کا لغوی مفہوم :۔ فَلَقٌ کے معنی پھٹنا اور الگ ہونا بھی ہے۔ اور پھاڑنا بھی۔ (فَالِقُ الْاِصْبَاحِ 96؀) 6 ۔ الانعام :96) بمعنی صبح کو پھاڑنے اور ظلمت سے الگ کرنے والا۔ اور اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو رات کی تاریکی سے صبح کی روشنی کو ظاہر کرتا ہے۔ اور حقیقت میں دیکھا جائے تو جو چیز بھی ظہور میں آتی ہے۔ وہ تاریکی اور پردہ غیب سے ہی ظہور میں آتی ہے۔ جیسے اس سے پہلی آیت میں فرمایا : (فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى 95؀) 6 ۔ الانعام :95) یعنی وہ ذات جو زمین کو پھاڑ کر اس سے دانہ اور گٹھلی کی کونپل نکالنے والا۔ اسی طرح انڈے کا چھلکا توڑ کر چوزے کو باہر نکالنے والا۔ یا رحم مادر سے بچہ کو باہر لانے والا۔ زمین یا پتھر کو پھاڑ کر اس سے چشمے جاری کرنے والا۔ حتیٰ کہ اللہ نے ایک ملے جلے مادے کو ہی پھاڑ کر اس سے آسمان و زمین کو الگ الگ کیا اور انہیں وجود میں لایا تھا۔ اس لحاظ سے فالق اور خالِقٌ تقریباً ہم معنی ہیں۔ 2 اللہ کے علاوہ دوسرے سے پناہ مانگنا شرک ہے :۔ پناہ اس وقت مانگی جاتی ہے جب انسان کو کوئی ایسا خطرہ درپیش ہو جس کی مدافعت کرنے کی وہ اپنے آپ میں ہمت نہ پاتا ہو۔ اور اس ہستی سے پناہ مانگی جاتی ہے جو نہ صرف یہ کہ پناہ مانگنے والے سے زیادہ طاقتور ہو بلکہ اس چیز سے بھی طاقتور ہو جس سے حملہ یا تکلیف کا خطرہ درپیش ہے۔ اور سب سے زیادہ طاقتور اور ظاہری اسباب کے علاوہ باطنی اسباب پر حکمران اللہ کی ذات ہے۔ لہذا پناہ صرف اسی سے مانگنی چاہیے۔ بالخصوص اس صورت میں جبکہ ظاہری اسباب مفقود ہوں۔ ایسی صورت میں اللہ کے علاوہ کسی دوسرے سے پناہ مانگنا شرک ہے جیسا کہ دور جاہلیت میں لوگ جب کسی جنگل میں مقیم ہوتے تو اپنے مزعومہ عقائد کے مطابق وہاں کے جنوں کے بادشاہ سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ ہاں اگر ظاہری اسباب کی بنا پر کسی سے پناہ مانگی جائے تو یہ جائز ہے۔ تاہم بھروسہ صرف اللہ کی ذات پر ہی کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ سورة الفلق اور سورة الناس دونوں میں مختلف اشیاء سے اللہ کی پناہ مانگنے کا ذکر ہے۔ اور دونوں کا مضمون باہم ملتا جلتا ہے۔ لہذا ان دونوں سورتوں کو معوذتین کہا جاتا ہے یعنی وہ سورتیں جنہیں پڑھ کر اپنے پروردگار سے پناہ مانگی جاتی ہے اور رسول اللہ ﷺ ان دونوں سورتوں کو پڑھکر پہلے اپنے ہاتھوں پر پھونکتے پھر ہاتھوں کو جسم کے ہر اس حصے پر پھیرتے تھے جہاں تک ہاتھ پہنچ سکتے تھے۔
Ayah 113:2

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader

ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی 3 ہے

3 جو کچھ کائنات میں موجود ہے وہ سب کچھ اللہ ہی نے پیدا کیا خواہ وہ چیزیں جاندار ہوں یا بےجان۔ اور ہر چیز خواہ کتنی ہی فائدے مند ہو اس کا کچھ نہ کچھ نقصان بھی ہوتا ہے۔ اس آیت میں ہر چیز کے برے یا نقصان دہ پہلو سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے خواہ وہ شر وجود میں آچکا ہو یا اس سے کسی شر کے پیدا ہونے کا خطرہ ہو۔ اس آیت میں تو ہر چیز کے شر سے پناہ مانگنے کا عمومیت کے ساتھ ذکر ہے۔ البتہ اگلی تین آیات میں ان چند مخصوص چیزوں کا ذکر ہے جن کا شر بہت واضح ہے۔
Ayah 113:3

وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader

اور اندھیری 4 رات کے شر سے جب وہ چھا جائے

4 جرائم زیادہ تر رات کی تاریکی میں کیے جاتے ہیں :۔ غَاسِقٍ ۔ غسق بمعنی شفق غائب ہوجانے کے بعد کا اندھیرا۔ اس لحاظ سے غاسق اس ابتدائی رات کو کہتے ہیں کہ جب وہ تاریک ہونے لگتی ہے اور وقب کسی چٹان وغیرہ میں گڑھے کو کہتے ہیں اور وَقَبَ بمعنی گڑھے میں داخل ہو کر غائب ہوجانا اور وَقَبَ الظَّلاَمُ بمعنی اتنی تاریکی چھانا جس کے اندر اشیاء غائب ہوجائیں اور تاریک رات کے شر سے پناہ مانگنے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر گناہ کے کام رات کی تاریکیوں میں کیے جاتے ہیں۔ چوری، ڈاکہ، لوٹ مار، زنا وغیرہ کے مجرم عموماً رات کی تاریکیوں میں ہی ایسے کام کرتے ہیں۔ اور عرب قبائل میں تو دستور ہی یہ تھا کہ جب کسی قبیلے پر لوٹ مار کرنا ہوتی تو رات میں سارا سفر ختم کرلیتے اور صبح کی روشنی نمودار ہوتے ہی لوٹ مار کا بازار گرم کردیتے تھے۔
Ayah 113:4

وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader

اور گرہوں میں 5 پھونک مارنے والیوں کے شر سے

5 آپ پر جادو :۔ گرہ میں پھونکیں مارنے کا کام عموماً جادوگر کیا کرتے ہیں اور جو لوگ بھی موم کے پتلے بنا کر اس میں سوئیاں چبھوتے ہیں اور کسی کے بال حاصل کرکے ان میں گرہیں لگاتے اور پھونکیں مارتے جاتے ہیں سب جادوگروں کے حکم میں داخل ہیں۔ اور ہمارے ہاں ایسے لوگوں کو جادوگر نہیں عامل کہا جاتا ہے۔ اور جادو کرنا صریحاً کفر کا کام ہے۔ جیسے سورت بقرہ کی آیت نمبر 102 میں یہ صراحت موجود ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جادو چونکہ کفر کا کام ہے۔ اس لیے جادو کا اثر کسی ایماندار یا مومن پر نہیں ہوسکتا۔ اور چونکہ رسول اللہ ﷺ پر بھی جادو کیا گیا تھا اور اس جادو کا آپ ﷺ کی طبیعت پر اثر بھی ہوگیا تھا۔ اور یہ بات اتنی احادیث صحیحہ میں مذکور ہے جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں لہذا یہ حضرات اپنے اس نظریہ کے مطابق ایسی تمام احادیث کا انکار کردیتے ہیں۔ لہذا ہم پہلے یہاں بخاری سے ایک حدیث درج کرتے ہیں پھر ان کے اعتراضات کا جائزہ پیش کریں گے۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب آپ ﷺ صلح حدیبیہ سے واپس لوٹے تو آپ پر جادو کیا گیا جس کا اثر یہ ہوا کہ آپ ﷺ کو معلوم ہوتا کہ آپ ﷺ ایک کام کر رہے ہیں حالانکہ وہ کر نہیں رہے ہوتے تھے۔ آخر آپ ﷺ نے ایک روز دعا کی (کہ اللہ اس جادو کا اثر زائل کردے) پھر فرمانے لگے : عائشہ ؓ ! تجھے معلوم ہوا کہ اللہ نے مجھے وہ تدبیر بتادی جس سے مجھے اس تکلیف سے شفا ہوجائے۔ ہوا یہ کہ (خواب میں) دو آدمی میرے پاس آئے۔ ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا پائنتی کی طرف۔ ایک شخص نے دوسرے سے پوچھا : اس شخص کو کیا تکلیف ہے ؟ دوسرے نے کہا اس پر جادو کیا گیا ہے پہلے نے پوچھا : کس نے جادو کیا ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا : لبید بن اعصم (یہودی) نے پہلے نے پوچھا : کس چیز میں جادو کیا ؟ دوسرے نے جواب دیا۔ کنگھی اور آپ کے بالوں اور نر کھجور کے خوشے کے پوست میں پہلے نے پوچھا : یہ کہاں رکھا ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا : ذروان کے کنوئیں میں غرض آپ ﷺ اس کنوئیں پر تشریف لے گئے جب وہاں سے پلٹے تو سیدہ عائشہ ؓ سے فرمایا : اس کنوئیں کے درخت ایسے ڈراؤنے ہوگئے تھے جیسے ناگوں کے پھن ہوں سیدہ عائشہ ؓ نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ نے اس کو (یعنی جادو کے سامان کو) نکالا کیوں نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے اللہ نے اچھا کردیا۔ اب میں نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ لوگوں میں ایک جھگڑا کھڑا کر دوں پھر وہ کنواں مٹی ڈال کر بھر دیا گیا۔ (بخاری۔ کتاب بدء الخلق باب صفۃ ابلیس وجنودہ) اور بخاری کی دوسری روایت جو کتاب الادب میں مذکور ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اکیلے نہیں بلکہ چند صحابہ کے ساتھ اس کنوئیں پر گئے تھے اور آپ ﷺ نے وہ جادو کی اشیاء کنوئیں سے نکلوائی تھیں نیز یہ کہ اس کنوئیں کا پانی جادو کے اثر سے مہندی کے رنگ جیسا سرخ ہوگیا تھا۔ (بخاری۔ کتاب الادب، باب ان اللہ یامر بالعدل والا حسان) اور بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ (1) لبید بن اعصم ایک ماہر جادو گر تھا۔ 2۔ لبید کی دو لڑکیاں بھی جادوگری کے فن میں ماہر تھیں۔ ان لڑکیوں نے ہی کسی طریقہ سے آپ ﷺ کے سر کے بال حاصل کرکے ان میں گرہیں لگائی تھیں۔ 3۔ ذروان کنوئیں سے جو اشیاء برآمد کی گئیں۔ ان میں کنگھی اور بالوں میں ایک تانت کے اندر گیارہ گرہیں پڑی ہوئی تھیں۔ اور ایک موم کا پتلا تھا جس میں سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں۔ جبریل نے آکر بتایا کہ آپ ﷺ معوذتین پڑھیں۔ چناچہ آپ ﷺ ایک ایک آیت پڑھتے جاتے اور اس کے ساتھ ایک ایک گرہ کھولی جاتی اور پتلے میں سے ایک ایک سوئی نکالی جاتی رہی۔ خاتمہ تک پہنچتے ہی ساری گرہیں کھل گئیں کیونکہ ان دونوں سورتوں کی گیارہ ہی آیات ہیں۔ اور ساری سوئیاں نکل گئیں اور آپ جادو کے اثر سے نکل کر یوں آزاد ہوگئے جیسے کوئی بندھا ہوا شخص کھل گیا ہو۔ 4۔ لبید بن اعصم کو پوچھا گیا تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا مگر آپ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔ کیونکہ آپ ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ ان احادیث پر پہلا اعتراض یہ ہے کہ نبی پر جادو نہیں ہوسکتا یعنی اگر کوئی کرے بھی تو اس کا اثر نہیں ہوتا۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ نبی پر جادو کا اثر ہونا قرآن سے ثابت ہے۔ فرعون کے جادوگروں نے جب ہزارہا لوگوں کے مجمع میں اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں اور وہ سانپ بن کر دوڑنے لگیں تو اس دہشت کا اثر موسیٰ (علیہ السلام) کے دل پر ہوگیا تھا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ( فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيْفَةً ۭ قَالُوْا لَا تَخَـفْ ۭ وَبَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ 28؀) 51 ۔ الذاریات :28) موسیٰ (علیہ السلام) اپنے دل میں ڈر گئے تو ہم نے (بذریعہ وحی) کہا : موسیٰ ڈرو نہیں، تم ہی غالب رہو گے۔ چند اعتراضات اور ان کے جواب :۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر نبی پر جادو کا اثر تسلیم کرلیا جائے تو شریعت ساری کی ساری ناقابل اعتماد ٹھہرتی ہے۔ کیا معلوم کہ نبی کا فلاں کام وحی کے تحت ہوا تھا یا جادو کے زیر اثر ؟ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ واقعہ 7 ھ میں (جنگ خیبر اور صلح حدیبیہ کے بعد) پیش آیا۔ جبکہ یہودی ہر میدان میں پٹ چکے تھے۔ پہلے خیبر کے یہودی ایک سال جادو کرتے رہے جس کا خاک اثر نہ ہوا۔ پھر وہ مدینہ میں لبید بن اعصم کے پاس آئے جو سب سے بڑا جادوگر تھا اور اس کی بیٹیاں اس سے بھی دو ہاتھ آگے تھیں۔ انہوں نے بڑا سخت قسم کا جادو کیا۔ اس کا بھی چھ ماہ تک آپ ﷺ پر کچھ اثر نہ ہوا۔ بعد میں اس کے اثرات نمایاں ہونے شروع ہوئے۔ تاہم اس کا اثر محض آپ کے ذاتی افعال تک محدود تھا۔ یعنی آپ یہ سوچتے کہ میں فلاں کام کرچکا ہوں جبکہ کیا نہیں ہوتا تھا۔ یہ ذہنی کوفت آپ کو چالیس دن تک رہی۔ بعد میں اللہ نے آپ ﷺ کو حقیقت حال سے آگاہ کردیا اور آپ ﷺ شفایاب ہوگئے۔ اب دیکھیے یہ بات واضح ہے کہ اس وقت تک قرآن نصف سے زیادہ نازل ہوچکا تھا۔ اہل عرب اس وقت دو گروہوں میں بٹ چکے تھے۔ ایک مسلمان اور ان کے حلیف، دوسرے مسلمانوں کے مخالفین، اگر اس دوران آپ ﷺ پر جادو کا اثر شریعت میں اثر انداز ہوتا، یعنی کبھی آپ ﷺ نماز ہی نہ پڑھاتے۔ یا ایک کے بجائے دو بار پڑھا دیتے یا قرآن کی آیات خلط ملط کرکے یا غلط سلط پڑھ دیتے یا کوئی اور کام منزل من اللہ شریعت کے خلاف آپ ﷺ سے سرزد ہوجاتا تو دوست و دشمن سب میں یعنی پورے عرب میں اس کی دھوم مچ جاتی۔ جبکہ واقعہ یہ ہے کہ ہمیں ایک بھی ایسی روایت نہیں ملتی جس میں یہ اشارہ تک بھی پایا جاتا ہو کہ اس اثر سے آپ ﷺ کے شرعی اعمال و افعال میں کبھی حرج واقع ہوا ہو۔ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ کفار کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ انبیاء کو یا تو جادو گر کہتے تھے اور یا جادو زدہ (مسحور) اب اگر ہم خود ہی آپ ﷺ پر جادو اور اس کی اثر پذیری تسلیم کرلیں تو گویا ہم بھی کفار کے ہم نوا بن گئے۔ یہ اعتراض اس لیے غلط ہے کہ کفار کا الزام یہ ہوتا تھا کہ نبی نے اپنی نبوت کے دعویٰ کا آغاز ہی جادو کے اثر کے تحت کیا ہے اور جو کچھ یہ قیامت، آخرت، حشرو نشر اور جنت و دوزخ کے افسانے سناتا ہے۔ یہ سب کچھ جادو کا اثر یا پاگل پن کی باتیں ہیں۔ گویا وہ نبوت اور شریعت کی تمام تر عمارت کی بنیاد جادو قرار دیتے تھے لیکن یہاں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ واقعہ آپ ﷺ کی نبوت کے بیس سال بعد پیش آتا ہے جبکہ آدھا عرب آپ ﷺ کی نبوت اور احکام شریعت کے منزل من اللہ ہونے پر ایمان رکھتا تھا۔ پھر یہ واقعہ احکام شریعت پر چنداں اثر انداز بھی نہیں ہوا البتہ اس واقعہ سے اس کے برعکس یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے۔ کہ آپ ہرگز جادوگر نہ تھے۔ کیونکہ جادوگر پر جادو کا اثر نہیں ہوتا۔
Ayah 113:5

وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader

اور حاسد کے شر سے جب 6 وہ حسد کرے۔

6 حَسَدَ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت، فضیلت، عزوشرف عطا کیا ہو تو اس پر کوئی دوسرا شخص اس سے جلے اور یہ چاہے کہ اس سے یہ نعمت چھن کر حاسد کو مل جائے یا کم از کم اس سے ضرور چھن جائے۔ البتہ اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اس جیسی نعمت مجھے بھی اللہ عطا کردے تو یہ حسد نہیں بلکہ رشک ہے جسے عربی زبان میں (غِبطہ) کہتے ہیں اور یہ جائز ہے۔ حاسد سے پناہ اس صورت میں مانگی گئی ہے جب وہ حسد کرے اور حسد کی بنا پر کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ اس سے پہلے وہ محسود کے لیے ایسا شر نہیں بنتا کہ اس سے پناہ مانگی جائے۔ وہ اپنے طور پر اندر ہی اندر جلتا ہے تو جلتا رہے۔ اسے اپنے اس عمل کی یہی سزا کافی ہے۔