Al-Falaq 113:2

Al-Falaq · from ayah 2

113:2

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ۟ۙمِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَۙ

ہر چیز کی بدی سے جو اس نے پیدا کی

— Fateh Muhammad Jalandhari

From the evil of that which He created

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 38 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Falaq

All translations of 113:2

ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہر چیز کی بدی سے جو اس نے پیدا کی

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس کی سب مخلوق کی شر سے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہر اس چیز کے شر (اور نقصان) سے جو اس نے پیدا فرمائی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا فرمائی ہے

— مولانا اسحاق مدنی

(میں پناہ میں آتا ہوں) اس کی تمام مخلوقات کے شر سے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہر چیز کی بدی سے جو اس نے پیدا کی

— محترمہ رفعت اعجاز

from the evil of all that He created;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

from the evil of everything He has created,

— Muhammad Taqi Usmani

from the evil of everything He has created,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"From the evil of what He has created,"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

From the evil of that which He created;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

From the evil of that which He created

— Saheeh International

against the evil of whatever He has created.

— Muhammad Sarwar

From the evil of what He has created,

— Muhammad Habib Shakir

From the evil of that which He hath created,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 113:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے باؤ کی دعا٭٭ حضرت جابر وغیرہ فرماتے ہیں فلق کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں نور جگہ ہے فالق الاصباح ابن عباس سے مروی ہے فلق سے مراد مخلوق ہے، حضرت کعب احبار فرماتے ہیں فلق جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جسم میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الفلق 4 بالفاظ دیگر تمام مخلوقات کے شر سے میں اس کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس فقرے میں چند باتیں قابل غور ہیں اول یہ کہ شر کو پیدا کرنے کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی گئی، بلکہ مخلوقات کی پیدائش کی نسبت اللہ کی طرف اور شر کی نسبت مخلوقات کی طرف کی گئی ہے۔ یعنی یہ نہیں فرمایا کہ ان شرور سے پناہ مانگتا ہوں جو اللہ نے پیدا کیے ہیں، بلکہ یہ فرمایا کہ ان چیزوں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو اس نے پیدا کی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کو شر کے لیے پیدا نہیں کیا ہے۔ بلکہ اس کا ہر کام خیر اور کسی مصلت ہی کے لیے ہوتا ہے، البتہ مخلوقات کے اندر جو اوصاف اس نے اس لیے پیدا کیے ہیں کہ ان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–5

من شر ما خلق کے لفظ میں ساری مخلوقات کا شرداخل ہے اس لئے یہ کلمہ تمام شرور آفتاب سے پناہ لینے کے لئے کافی تھا مگر اس جگہ تین چیزوں کو ممتاز کر کے ان کے شر سے پناہ مانگنے کا علیحدہ ذکر فرمایا جو اکثر آفات و مصائب کا سبب بنتی ہیں۔ پہلے فرمایا من شرعغاسق اذا وقب اس میں لفظ غاسق غسق سے مشتق ہے جس کے معنی اندھیری کا پھیل جانا اور چھا جانا ہے اس لئے غاسق کے معنی حضرت ابن عسا اور حسن اور مجاہد نے رات کے لئے ہی اور وقب وقوب کے مشتق ہے جس کے معنی اندھیری کے پوری طرح بڑھ جانے کے ہیں۔ معنی یہ ہیں کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں رات سے جبکہ اس کی اندھیری پوری ہوجاوے رات کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ یہی وقت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مخلوقات کے شر سے پناہ خالق ہی دے سکتا ہے: یہ اس مقصد کا حوالہ ہے جس کے لیے تمام عالم کے نمودار کرنے والے خداوند کی دہائی کی تلقین کی گئی ہے۔ فرمایا کہ جس خداوند نے تمام عالم کو نمودار کیا ہے اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے شر سے پناہ ان کے پیدا کرنے والے ہی سے مانگو، کسی دوسرے سے نہ مانگو۔ کوئی دوسرا ان کے شر سے پناہ اسی صورت میں دے سکتا ہے کہ جب وہ ان کے پیدا کرنے والے سے زیادہ طاقت ور ہو اور یہ بات بالکل خلاف عقل ہے کہ کوئی چیز خالق کائنات سے زیادہ قدرت و اختیار والی ہو۔ اس وجہ سے خدا کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے شر سے کسی غیر خدا کی پناہ ڈھونڈنا سراسر سفاہت ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ چیزیں جتنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 یہ عام ہے اس میں شیطان اور اس کی ذریت، جہنم اور ہر اس چیز سے پناہ ہے جس سے انسان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–2

1: قرآن کریم کی یہ آخری دوسورتیں معو ّذتین کہلاتی ہیں، یہ دونوں سورتیں اس وقت نازل ہوئی تھیں جب کچھ یہودیوں نے حضور اکرم ﷺ پر جادو کرنے کی کوشش کی تھی، اور اس کے کچھ اثرات آپ پر ظاہر بھی ہوئے تھے، ان سورتوں میں آپ کو جادو ٹونے سے حفاظت کے لئے ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ ما نگنے کی تلقین فرمائی گئی ہے، اور کئی احادیث سے ثابت ہے کہ ان سورتوں کی تلاوت اور ان سے دم کرنا جادو کے اثرات دور کرنے کے لئے بہترین عمل ہے اور حضور نبی کریم ﷺ رات کو سونے سے پہلے ان سورتوں کی تلاوت کرکے اپنے مبارک ہاتھوں پر دم کرتے اور پھر ان ہاتھوں کو پورے جسم پر پھیر لیتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

اس سورت میں اللہ اپنی وہ صفات بیان فرماتا ہے ، جس کے ذریعہ اس شر سے پناہ حاصل ہوتی ہے ، جس کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے۔ قل اعوذ ................ الفلق (1:113) ” کہو ، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی “۔ فلق کے معانی میں سے ایک معنی صبح کا ہے اور ایک معنی ” مخلوق “ کا بھی ہے۔ بایں معنی کہ ہر وہ چیز جس سے وجود اور زندگی پھوٹتی ہے جس طرح سورة انعام (95) میں کہا گیا ہے۔ ان اللہ فالق ........................................ من الحی (95:6) ” اللہ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ وہ زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالنے والا ہے “۔ اور اگلی آیت (96) میں ہے۔ فالق الاصباح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی ہر ایسی مخلوق جس میں کوئی بدی ہو اس کی بدی سے پناہ مانگتا ہوں۔ آگے بمناسبت مقام چند مخصوص چیزوں کا نام لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2{ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔ } ”میں پناہ میں آتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کے شر سے۔“ یعنی ”شر“ مستقل طور پر علیحدہ وجود رکھنے والی کوئی چیز نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی مختلف مخلوقات کے اندر ہی کا ایک عنصر ہے۔ اس نکتے کو یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر قسم کے نقص یا عیب سے پاک ہے۔ لیکن اس کی مخلوق اپنے خالق کی طرح کامل نہیں ہوسکتی۔ چناچہ ہر مخلوق کے اندر کمی یا تقصیر و تنقیص کا کوئی نہ کوئی پہلو یا عنصر بالقوہ potentially موجود ہے۔ جیسے خود انسان کی متعدد کمزوریوں کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ سورة النساء میں فرمایا گیا : { وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا۔ } کہ انسان بنیادی طور پر کمزور پیدا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 جو کچھ کائنات میں موجود ہے وہ سب کچھ اللہ ہی نے پیدا کیا خواہ وہ چیزیں جاندار ہوں یا بےجان۔ اور ہر چیز خواہ کتنی ہی فائدے مند ہو اس کا کچھ نہ کچھ نقصان بھی ہوتا ہے۔ اس آیت میں ہر چیز کے برے یا نقصان دہ پہلو سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے خواہ وہ شر وجود میں آچکا ہو یا اس سے کسی شر کے پیدا ہونے کا خطرہ ہو۔ اس آیت میں تو ہر چیز کے شر سے پناہ مانگنے کا عمومیت کے ساتھ ذکر ہے۔ البتہ اگلی تین آیات میں ان چند مخصوص چیزوں کا ذکر ہے جن کا شر بہت واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ (آیت) ” ماخلق کے عموم نے ادھر توجہ دلادی کہ مخلوقات ساری کی ساری، خواہ وہ کسی مرتبہ اور نوعیت کی ہو، محکوم اور عاجز اور بےبس ہے۔ اور ہر ایک کی شروایذاء سے پناہ اللہ ہی سے مانگی جاسکتی ہے۔ سورت تمام اقسام مضرت سے، جو کسی بھی دنیوی سبب سے پیش آسکتی ہوں، پناہ جوئی و پناہ طلبی کی جامع ہے، اور ختم قرآن پر ایسی ہی جامع دعاء کی ضرورت بھی تھی، فلق سے مراد سپیدۂ فجر ہے، اور دنیا میں بعض جاہلی قوموں نے کود اس کی بھی پرستش کی ہے۔ قرآن مجید نے یہاں اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ سپیدۂ فجر بھی ہر مخلوق کی طرح مخلوق ہی ہے اور اس کا خالق ومالک بھی وہی ہے، جو سب کا ہے۔ فلق کے معنی مکان جہنم وغیرہ کے بھی سمجھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–5

ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں ال لہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، کہو کہ میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی (یعنی) حیوان مکلف اور غیر مکلف کے شر سے اور جماد کے شر سے مثلاً زہرہ وغیرہ، اور رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھا جائے، یعنی رات کے شر سے جب وہ تاریک ہوجائے، یا چاند کے شر سے جب وہ غروب ہوجائے، اور پھونکنے والی جادو گرنیوں کے شر سے جو گرہوں میں تھوک کے بغیر پھونکیں وہ گرہیں کہ جن کو وہ دھاگے میں لگاتی ہیں اور زمخرشی نے کہا ہے، تھوک کے ساتھ جیسا کہ لبید مذکور کی بیٹیاں اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے یعنی اپنے حسد کو ظاہر کرے اور اس کے مقتضی پر عمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

من شرما خلق . ما خلق سے مراد کل مخلوق ہے ‘ یعنی ہر مخلوق کے شر سے میں پناہ لیتا ہوں مالک فالق کی ‘ کوئی ممکن شر سے خالی نہیں ‘ عدم ہر ممکن کی حقیقت میں داخل ہے (ممکن وہی ہوتا ہے جو وجوب وجود کا مقتضی نہیں ہوتا ‘ اس کی نسبت وجود و عدم دونوں سے برابر ہوتی ہے) ہاں ! اگر اللہ کی ذاتی اور صفاتی تجلیات سے جگمگا جائے تو ممکن کی ہر خرابی دور ہوجاتی اور شر خیر سے بدل جاتی ہے۔ اولٰئک یبدل اللہ سیئاتھم حسنٰتٍ ۔ ان کی برائیاں اللہ اچھائیوں سے بدل دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرا شیطان ہے مگر وہ مجھے خیر کے سوا مشورہ نہیں دیتا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ آیت میں صرف عالم خلق کے شر یا اختیاری اور خود آو رد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 5)۔ محمد ﷺ آپ فرمائیے میں صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں تمام مخلوقات کے شر سے اور رات کے شر سے جب وہ آکر چھا جائے اور گرہوں پر پڑھ پڑھ پھونک مارنے والی جادو گرنیوں کے شر سے اور حاسد کے شر سے لبید بن اعصم یہودی نے حضور پر حسد میں جادو کردیا تھا اس کو رفع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سورتیں نازل کیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) من شر ما خلق :”اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی“ اس میں ہر مخلوق کے ہر شر سے پناہ مانگ لی گئی ہے۔ کوئی نقصان، تکلیف یا پریشانی باقی نہیں رہی جو اس میں نہ آگئی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ پناہ مانگنے کے لئے یہ بہت ہی جامع سورت ہے، کیونکہ جب بندہ ساری مخلوق کے ہر شر سے بچنے کے لئے اس کے رب کی پناہ میں چلا گیا تو پھر مخلوق میں سے کون ہے جو اسے نقصان پہنچا سکے اور اگر وہ مالک ہی اپنی مخلوق کو نقصان پہنچانے سے نہ روکے تو مخلوق کے شر سے کون بیچ سکتا ہے ؟ (2) اس آیت میں مخلوق کے اس شر سے بھی پناہ مانگ لی گئی جو پہنچ چکا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے اور اس سے بھی جس کا خوف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

اپنے رب کی پناہ مانگنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو ( ان سے اے پیغمبر) میں پناہ مانگتا ہوں نمودار کرنے والے رب کی کہ وحی کے اولیں مخاطب تو بہرحال آپ ہی ہیں، ﷺ ۔ اور پھر آپ کے توسط سے یہ حکم و ارشاد ہے آپ کی امت کے ہر مومن کے لیے ہے، یہ دونوں سورتیں اگرچہ الگ الگ ہیں لیکن ان کا مضمون چونکہ مشترک ہے، یعنی تعوذ (پناہ مانگنا) اس لیے ان دونوں کو ایک ہی نام یعنی معوذتین سے یاد کیا جاتا ہے، ان دونوں میں انسان کو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ پہلی سورة کریمہ میں مہالک حسیہ ظاہریہ سے یہ پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے، اور دوسری میں مہالک باطنیہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–2

1۔ احمد والبزار والطبرانی وابن مردویہ نے صحیح طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابن مسعد ؓ معوذتین کو مصحف میں سے مٹادیتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ قرآن کو خلط ملط نہ کرو اس چیز سے جو اس میں نہ ہو۔ یہ دونوں سورتیں کتاب للہ میں سے نہیں ہیں۔ بیشک نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے ذریع پناہ مانگنے کا حکم فرمایا ہے اور ابن مسعود ؓ ان دونوں کی قراءت نہی کرتے تھے بزار (رح) سے نے فرمایا : صحابہ ؓ میں سے کسی ایک نے بھی ان کی تابعداری نہیں اور نبی اکرم ﷺ سے صحیح قول یہ ہے کہ آپ نے ان دونوں کو نماز میں پڑھا اور ان دونوں کو مصحف میں ثابت رکھا گیا۔ 2۔ الطبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ سے ان دونوں سورتوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مِنْ شَرِّ مَا : اس کے شر سے جو ][ خَلَقَ : اس نے پیدا کیا ] نوٹ 4: سورة فلق کی آیت۔ 2 ۔ میں یہ بات قابل غور ہے کہ شر کو پیدا کرنے کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی گئی، بلکہ مخلوقات کی پیدائش کی نسبت اللہ کی طرف اور شر کی نسبت مخلوقات کی طرف کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کو شر کے لیے نہیں پیدا کیا ہے۔ اس کا ہر کام خیر اور کسی مصلحت ہی کے لیے ہوتا ہے۔ البتہ مخلوقات کے اندر جو اوصاف اس نے اس لیے پیدا کیے ہیں کہ ان کی تخلیق کی مصلحت پوری ہو، ان سے بعض اوقات اور بعض اقسام کی مخلوقات سے اکثر شررونما ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن) نوٹ 5: قرآن مجید کے آغاز اور اس کے اختتام میں جو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ002﴾ رب الفلق کی پناہ لیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا فرمائی اس کے عموم میں ساری مخلوق داخل ہوگئی۔ انسان، جنات، حیوانات، جمادات، پھاڑنے والے جانور، ڈسنے والے سانپ بچھو، جلانے والی آگ، ڈبونے والا پانی، اڑانے والی ہوا اور ہر وہ چیز اس کے عموم میں داخل ہے جس سے کسی کو کوئی بھی تکلیف جسمانی یا روحانی پہنچ سکتی ہے حتیٰ کہ اپنے نفس سے شر پہنچ سکتا ہو اس کو بھی شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

تعلیم تعوذ و حصول پناہ از مہالک حسیہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل اعوذبرب الفلق ..... الی ...... ومن شر حاسد اذا حسد “۔ (ربط) اس سے قبل سورة اخلاص (قل ھو اللہ احد) میں عقیدہ توحید کا بیان تھا اور یہ کہ نجات کا دارومدار اسی پر ہے کہ خداوند عالم کو اسکی ذات وصفات کے لحاظ سے یکتا ماناجائے گا اور اس طرح کہ نہ اس کا کوئی نمونہ ہے اور نہ اس کی کوئی ہمسری کرنے والا ہے تو اسی عقیدہ کا نام ایمان ہے اور اسی پر بندہ کی نجات و کامیابی موقوف ہے اب اس سورت مبارکہ میں مومن کے عقیدہ اور انسان کی سعادت میں جو چیزیں خلل انداز ہیں اور اسکو ہلاکت وتباہی میں ڈالنے والی ہیں انکو بیان کیا جارہا ہے بہت سی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” قل اعوذ “ الفلق، چیر کر اندر سے کوئی چیز نکالنا۔ رات کے اندھیرے سے صبح کا اجالا ظاہر کرنا۔ ” فالق الاصباح “ (انعام رکوع 12) ۔ یا دانے کو پھاڑ کر اس سے پودا اگانا۔ ” فالق الحب والنوی “ (ایضا) ۔ جو ذات پاک صفت فلق کی مالک ہے میں اس کی پناہ ڈھونڈتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الفلق ہے۔ یہ مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی پانچ آیات ہیں۔ یہ سورة تئیس الفاظ اور انہتر حروف پر مشتمل ہے۔ اس کی پہلی آیت میں فلق کا لفظ مذکور ہے۔ جس سے سورة کا نام لیا گیا ہے۔ فضیلت معوذتین آخری دو سورتیں یعنی سورة فلق اور سورة و الناس معوذتین کہلاتی ہیں۔ احادیث میں ان کی بہت فضیلت آئی ہے۔ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں سورتیں اکٹھی نازل ہوئیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا 1 ؎ کہ مجھ پر ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ ان کی مثل کوئی آیت نہیں ہے۔ محدثین کرام فرماتے ہیں کہ تعود کے باب میں یعنی برائیوں سے پناہ مانگنے کے سلسلے میں جتنا اثر یہ دو سورتیں رکتھی ہیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۝ 2 ۙ شر الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] ، وقد تقدّم تحقیق الشّرّ مع ذکر الخیر وذکر أنواعه ورجل شَرٌّ وشِرِّيرٌ: متعاط للشّرّ ، وقوم أَشْرَارٌ ، وقد أَشْرَرْتُهُ : نسبته إلى الشّرّ ، وقیل : أَشْرَرْتُ كذا : أظهرته واحتجّ بقول الشاعر :إذا قيل : أيّ الناس شرّ قبیلة ...…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ برب الفلق الجار متعلق باعوذ الفلق بالتحریک الصبح واصلہ الشق یقال فلقت الشیء فلقاً شفققۃ والتغلیق مثلہ یقال فلقۃ فانفلق وھو عام تینا ول فلق الصبح من ظلام الیل والحبوب والنباتات من الارض والماء من الجبال قال اللہ تعالیٰ فالق الاصباح وقال فالق الحب والنویٰ وقال فانفلق فکان کل فرق کالطودالعظیم۔ من شرما خلق متعلق باعوذ۔ ما بمعنی الذی والعائد محذوف ویجوزان تکون مصدریۃ ویکون الخلق بمعنی المخلوق و قریٔ الجمھور باضافۃ شرالی ماوقری ابوحنیفہ (رح) بتنوین شروماعلی ھذا مع الفعل بتاویل المصدر فی موضع الجربدل من شر ای شرٍ خلقہ۔ وقال بعضھم ما نافیۃ والمعنی من شرلم یخلقہ وھذافاسد لان النافیۃ لایتقدم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مِنْ شَرِّ مَاخَلَقَ ۔ (الفلق : 2) (ہر اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا۔ ) مخلوقات کے شرور کو خالق ہی جانتا ہے اور وہی پناہ دے سکتا ہے آیتِ کریمہ میں مَا عموم کے لیے ہے جو تمام مخلوقات پر چاہے وہ ذوی العقول ہوں یا غیر ذوی العقول، حاوی ہے۔ سب کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مخلوقات بیشمار قسموں پر مشتمل ہیں۔ ان میں جواہر بھی ہیں اور اعراض بھی، حیوانات بھی ہیں اور چرند وپرند بھی، نباتات بھی ہیں اور جمادات بھی۔ ان میں بعض مخلوقات میں حس پائی جاتی ہے اور بعض میں حس کا ادراک نہیں ہوتا۔ بعض میں حواس خمسہ کا سراغ ملتا ہے اور بعض اس سے تہی دامن ہیں۔ صرف انسان ہے جسے جوہرِعقل سے نوازا گیا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–4

فہم القرآن ربط سورت : الاخلاص میں یہ بتایا گیا ہے کہ ” اللہ “ وہ ہے جو ہر اعتبار سے وحدہٗ لاشریک ہے، کوئی کسی اعتبار اور کسی درجے میں اس کی برابری نہیں کرسکتا، گویا کہ وہ حاکم مطلق ہے باقی محکوم ہیں، وہ بادشاہ ہے باقی اس کے در کے فقیر ہیں، وہ طاقتور ہے ہر کوئی اس کے سامنے عاجز اور بےبس ہے کیونکہ وہ طاقتور اور بادشاہ ہے اس لیے اسی کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔ عقیدۂ توحید کے تقاضوں میں اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ صرف ایک ” اللہ “ جو پوری مخلوق کا رب ہے اسی کو نفع و نقصان کا مالک سمجھا جائے اس لیے نبی اکرم ﷺ کو حکم ہوا ہے کہ آپ ان الفاظ میں اپنے رب کی پناہ طلب کیا کریں کہ میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : مِنْ شَرِّمَا خَلَقَ (تمام مخلوقات کے شر سے) ماخلق سے آگ یا شیطان مراد ہے۔ نحو : ما موصولہ اور ضمیر عائد محذوف ہے ما مصدریہ خلق بمعنی مخلوق۔ قراءت : ابوحنیفہ (رح) نے من شرکو تنوین سے پڑھا اس صورت میں ما فعل کے ساتھ مل کر تاویل مصدر سے موضع جر میں شرؔ سے بدل بنے گا تقدیر کلام یہ ہوگی : من شرخلقہٖ ای من خلق شر بری مخلوق سے۔ یا مازائدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ عقبہ بن عامر سے صحیح 9 ؎ مسلم ترمذی نسائی وغیرہ میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آج کی رات خدا تعالیٰ نے چند آیتیں نازل فرمائی ہیں جو مجھ کو بہت ہی اچھی معلوم ہوتی ہیں پھر آپ ﷺ نے قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ان دونوں سورتوں کا نام بتایا۔ اس حدیث سے ان دونوں سورتوں کی فضیلت بھی معلوم ہوئی اور یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ قرآن کی اور آیتوں کی طرح یہ دونوں سورتیں بھی قرآن کا جز ہیں اسی واسطے اور حدیثوں سے یہ بھی معلوم 1 ؎ ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان دونوں سورتوں کو صبح کی نماز میں پڑھا ہے ان حدیثوں سے حضرت عبد اللہ بن مسعود کے اس قول کا ضعیف ہونا ثابت ہوتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ) ہر چیز کے شر سے جو اس نے بنائی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق، انسان، جنات اور حیوانات سب کو شامل ہے پس ان تمام مخلوقات کے اندر موجود شر سے ان کو پیدا کرنے والے کی پناہ مانگی جاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے عام چیزوں کا ذکر کرنے کے بعد خاص چیزوں کا ذکر کیا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–3

معوذتین کی فضیلت ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں عبداللہ بن محمد التفیلی نے، انہیں محمد بن سلمہ نے محمد بن اسحاق سے، انہوں نے سعید بن ابی سعید المقبری سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے کہ میں حضور ﷺ کے ساتھ حجفہ اور ابواء کے درمیان سفر کررہا تھا کہ اچانک تیز آندھی چلی اور اندھیرا چھا گیا۔ حضور ﷺ نے اعوذ برب الفلق اور اعوب برب الناس کی سورتیں پڑھنی شروع کردیں اور فرمایا عقبہ ! ان دونوں سورتوں کے ذریعے تعوذ کیا کرو ، کیونکہ ان دونوں سورتوں کے ذریعے پناہ مانگنے والے کی طرح کوئی پناہ مانگنے والا نہیں ہوتا۔ “ حضرت عقبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

3 ۔ مخلوق کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم و تلقین : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ کہو میں پناہ مانگتا ہوں کائنات کے رب کی ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا فرمائی، سو اس سے یہ حقیقت واضھ ہوجاتی ہے کہ اس کی تخلیق و ایجاد میں تو کوئی شر نہیں، بلکہ خیر ہی خیر ہے، مگر ہمارے لیے اس کی مخلوق میں کئی طرح سے شرکا پہلو ہوسکتا ہے جس کا علم و احاطہ اس وحدہ لاریک کے سوا کسی کو نہیں ہوسکتا، اس لیے ہم اسی کی قدرت بےنہایت اور رحمت بےغایت سے یہ عرض والتجا اور درخواست و دعا کرتے ہیں، کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اپنی مخلوق کے ہر شر سے ہمیں محفوظ رکھے خواہ وہ مخلوق ارادہ و اختیار والی ہو، جیسے انسان و حیوان سانپ بچھوں اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

ہر قسم کے خطرے سے اللہ کی پناہ تشریح :۔ یہ سورت ہر قسم کی پریشانی ' نقصان ' تکلیف ' ضرر ' کفر ' شرک ' گناہ ' نفرت ' حسد ' بغض، جادو اور گناہوں سے بچنے کے لیے اس رب العزت ' خالق ومالک الہ العٰلمین کی پناہ کی فضیلتیں بیان کرتی ہے جو انسانی زندگی میں ہر وقت آتی جاتی رہتی ہیں اور جن کا مداوا ہر صورت میں اللہ ہی کے حکم اور مدد سے ہوتا ہے۔ اس سورت میں خاص طور سے ان تین چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو انسانی تکالیف کی بنیاد ہیں۔ 1 ۔ رات کی تاریکی : یہ بھی اکثر جرائم کے لیے کافی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ '' جب سورج غروب ہوجائے تو شیاطین ہر طرف پھیل جاتے ہیں ' لہٰذا اپنے بچوں کو گھروں میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–5

سورة الفلق۔ آیات 1 تا 5۔ اسرار ومعارف۔ فرمادیجئے پناہ مانگتا ہوں اس رب کی جو تاریکی دور کرکے صبح پیدا کرتا ہے ہراس شے جو اس نے پیدا کی ہے برائی اور شر سے اور اندھیرے کے شر سے جب وہ یکجا ہونے لگے اور عورتوں کی گروہوں میں پھونک مارنے کی شر یعنی جادوٹونے کے شر سے کہ شیطانی عملیات سے کوئی نقصان نہ پہنچے اور حسد کرنے والوں کے حسد کے شر سے ۔

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–2

ف 1 بیعض روایات میں ہے کہ فلق دوزخ کے ایک کنوئیں کا نام ہے۔ (فتح القدیرض)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(113:2) من شر ما خلق : جملہ متعلق باعوذ ہے ما موصولہ ہے بمعنی الذی : اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ (میں پناہ چاہتا ہوں صبح کے پروردگار کی) ہر اس چیز کے شر سے جس کو اس نے پیدا کیا۔ ای من شر کل ما خلق۔ یا ما مصدریہ ہے اور ترجمہ ہوگا :۔ میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے پروردگار کی) تمام مخلوق کے شر سے۔ (یہ استعاذہ عام ہے۔ بعد کے شرور ثلاثہ تخصیص کے لئے ہیں)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن۔ الفلق۔ صبح۔ شر۔ برائی۔ غاسق ۔ سیاہ رات۔ وقب۔ چھا گیا۔ النفثت۔ پھونکنے والیاں۔ العقد۔ گرہیں۔ حاسد۔ حسد کرنے والا۔ جلنے والا۔ اصل میں ہمارے دین نے ہمیں جو تعلیم دی ہے اس میں اس بنیادی بات کو سکھایا گیا ہے کہ اللہ نے نفع اور نقصان کا اختیار کسی کو نہیں دیا۔ نفع اور نقصان صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا ہر آن اسی سے پناہ کی درخواست کرتے رہنا چاہیے ۔ اگر کوئی اس کی پناہ اور حفاظت میں آجائے تو وہ دنیا اور آخرت کے ہر طرح کے نقصانات سے بچ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة الفلق اور سورة الناس میں اسی بات کو ارشاد فرمایا ہے یعنی یہودیوں اور لبید ابن عصیم نے سرکار دو عالم ﷺ کو شدید نقصان پہنچانے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

(ف 1) شان نزول۔ یہ سورت اور سورت الناس جو اس کے بعد ہے ان دونوں سورتوں کی شان نزول کی روایتیں جو حضرت عائشہ سے اور حضرت عبداللہ بن عباس اور انس ؓ سے صحیحین میں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ لبید بن اعصم یہودی اور اس کی بیٹیوں نے نبی ﷺ پر جادو کیا، اور حضور کے جسم مبارک اور اعضاء ظاہرہ پر اس کا اثر ہوا، قلب وعقل و اعتقاد پر کچھ اثر نہ ہوا، چند روز کے بعد حضرت جبرائیل آئے اور انہوں نے عرض کیا ایک یہودی نے آپ پر جادو کیا ہے اور جادوکا کچھ سامان ہے وہ ذرواں کا کنواں ہے وہاں ایک پتھر کے نیچے داب دیا ہے۔ حضور نے علی مرتضی ؓ کو بھیجا، انہوں نے کنویں کا پانی نکالنے کے بعد پتھراٹھایا، اس کے نیچے سے کھجور کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

یہ سورة استعاذہ ہے ۔ اس میں مرد مسلم کو بتایا گیا ہے کہ اس کی ہر شتر اور فتنہ کی بات سے احتراز کرنا چاہیے اور اللہ سے نیک توفیق مانگنا چاہیے کہ وہ اس کو جسم اور روح کی ہر آزمائش سے بچائے اور اپنی آغوش پناہ میں لے لے ۔ الثقتت فی العقد ۔ جادوگرنیاں ۔ ابو مسلم کی رائے میں اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جو عزائم رجال میں التواء وانفساخ پیدا کردیتی ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) ہراس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا۔ یعنی اس کی تمام مخلوق کی برائی سے خواہ وہ انسان کی برائی ہو یا جن کی ہو یا کسی سوزی درندے اور وحشی جانور کا شر ہو سانپ بچھو اور دوسرے موذی جانوروں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–5

ف 6۔ شاید فلق کی تخصیص بمقابلہ رات کے ہو اور اشارہ اس طرف ہو کہ جس طرح حق تعالیٰ لیل کا ازالہ کردیتا ہے اسی طرح اثر لیل یعنی سحر کا بھی اثر زائل کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہراُس شے کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے 2۔ زیر نظر آیت نے کس صفائی کے ساتھ بتا دیا کہ جو چیز مخلوق ہے اس کا اصل اور حقیقی خالق تو بہرحال اللہ ہے پھر جس اللہ نے اس مخلوق کو پیدا کیا ہے جب میں اس کی پناہ میں ہوں تو اس کی مخلوق مجھے کیسے شر پہنچادے گی۔ ہاں ! یہ بات جتنا کہنا آسان ہے اس پر عمل کرکے دکھانا اتنا ہی مشکل ہے لیکن ایمان جس چیز کا نام ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ( ماخلق) کے عموم سے یہ سمجھنے کی پوری پوری کوشش کرے کہ مخلوقات ساری کی ساری خواہ وہ کس مرتبہ اور نوعیت کی ہو محکوم اور عاجز و بےبس ہے اس لیے ہر ایک کے شر و ایذاء سے پناہ اللہ تعالیٰ ہی سے مانگی جاسکتی ہے اور پوری مخلوق میں ایک بھی اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–5

The word Sharr: ` Allamah Ibn Qayyim's Exposition Verse [ 113:2] مِن شَرِّ‌ مَا خَلَقَ (From the evil of everything He has created.) ` Allamah Ibn Qayyim expounds that the word sharr (evil) is employed in two different senses: [ 1] pain, loss, injury, trouble, grief, distress and affliction which affect man directly, and they are by themselves troubles and afflictions; and [ 2] the factors that cause losses, injuries and afflictions. The second type covers unbelief, idolatry and all sins. The things from which the Qur'an and Sunnah require man to seek refuge in Allah are either of these two…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 In other words: "I seek His refuge from the evil of all creatures." A few things in this sentence deserve consideration; First, that the creation of evil has not been attributed to Allah, but the creation of creatures has been attributed to Allah and of evil to the creatures. That is, it has not been said: "I seek refuge from the evils that Allah has created" but that "I seek refuge from the evil of the things He has created." This shows that Allah has not created any creature for the sake of evil, but all His work is for the sake of good and a special purpose. However, from the qualities…

Read the full tafseer →