Al-Falaq 113:3

Al-Falaq · from ayah 3

113:3

وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ ۟ۙوَمِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ

اور شب تاریکی کی برائی سے جب اس کااندھیرا چھا جائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And from the evil of darkness when it settles

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 38 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Falaq

All translations of 113:3

اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور شب تاریکی کی برائی سے جب اس کااندھیرا چھا جائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ پھیل جائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اندھیری ڈالنے والے کے شر سے جب وہ ڈوبے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (بالخصوص) اندھیری رات کے شر سے جب (اس کی) ظلمت چھا جائے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اندھیرے کی آفت سے جب وہ چھا جائے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اندھیری رات کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اندھیری رات کے شر سے جب رات آجائے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (خاص طور پر) اندھیرے کے شر سے جب وہ چھا جائے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اندھیری رات کی برائی سے جب اس کا اندھیرا چھا جائے

— محترمہ رفعت اعجاز

from the evil of night's darkness when it spreads around;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and from the evil of the dark night when it penetrates,

— Muhammad Taqi Usmani

and from the evil of the dark night when it penetrates,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And from the evil of the Ghasiq when Waqab,"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

From the evil of the darkness when it is intense,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And from the evil of darkness when it settles

— Saheeh International

I seek His protection against the evil of the invading darkness,

— Muhammad Sarwar

And from the evil of the utterly dark night when it comes,

— Muhammad Habib Shakir

And from the evil of the darken when it cometh,

— Abdul Majid Daryabadi

From the mischief of Darkness as it overspreads;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 113:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے باؤ کی دعا٭٭ حضرت جابر وغیرہ فرماتے ہیں فلق کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں نور جگہ ہے فالق الاصباح ابن عباس سے مروی ہے فلق سے مراد مخلوق ہے، حضرت کعب احبار فرماتے ہیں فلق جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جسم میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الفلق 5 مخلوقات کے شر سے عموما خدا کی پناہ مانگنے کے بعد اب بعض خاص مخلوقات کے شر سے خصوصیت کے ساتھ پناہ مانگنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ آیت میں غاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ غاسق کے لغوی معنی تاریک کے ہیں۔ چناچہ قرآن میں ایک جگہ ارشاد ہوا ہے اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ " نماز قائم کرو زوال آفتاب کے وقت سے رات کے اندھیرے تک " (بنی اسرائیل 78) اور وقب کے معنی داخل ہونے یا چھا جانے کے ہیں۔ رات کی تاریکی کے شر سے خاص طور پر اس لیے پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے کہ اکثر جرائم اور مظالم رات ہی کے وقت ہوتے ہیں۔ موذی جانور بھی رات ہی کو نکلتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–5

من شر ما خلق کے لفظ میں ساری مخلوقات کا شرداخل ہے اس لئے یہ کلمہ تمام شرور آفتاب سے پناہ لینے کے لئے کافی تھا مگر اس جگہ تین چیزوں کو ممتاز کر کے ان کے شر سے پناہ مانگنے کا علیحدہ ذکر فرمایا جو اکثر آفات و مصائب کا سبب بنتی ہیں۔ پہلے فرمایا من شرعغاسق اذا وقب اس میں لفظ غاسق غسق سے مشتق ہے جس کے معنی اندھیری کا پھیل جانا اور چھا جانا ہے اس لئے غاسق کے معنی حضرت ابن عسا اور حسن اور مجاہد نے رات کے لئے ہی اور وقب وقوب کے مشتق ہے جس کے معنی اندھیری کے پوری طرح بڑھ جانے کے ہیں۔ معنی یہ ہیں کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں رات سے جبکہ اس کی اندھیری پوری ہوجاوے رات کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ یہی وقت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

شر کا وجود مستقل بالذات نہیں ہے: ’غَاسِقٌ‘ رات کو کہتے ہیں جب شفق غائب ہو جانے کے بعد اس کی تاریکی بڑھ جائے۔ ’وَقَب‘ کے معنی تاریکی چھا جانے کے ہیں۔ اہل لغت نے ’غَاسِقٌ‘ کے معنی چاند کے بھی لکھے ہیں لیکن یہاں ’اِذَا وَقَبَ‘ کا قرینہ اشارہ کر رہا ہے کہ اس سے مراد رات ہی ہے۔ اس لیے کہ اس کی تاریکی جب بڑھتی ہے تو اپنے دامن میں آفتیں لیے ہوئے بڑھتی ہے۔ یہ ٹکڑا بہترین مثال ہے اس بات کی کہ اس دنیا میں شر کا وجود مستقل بالذات نہیں ہے کہ خیر و شر کے خالق الگ الگ مانے جائیں اور دونوں کی دہائی دی جائے بلکہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ چیز اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں ہی کے متعلقات و حواشی میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 رات کے اندھیرے میں خطرناک درندے اپنی کچھاروں سے اور موذی جانور اپنے بلوں سے اور اسی طرح جرائم پیشہ افراد اپنے مذموم ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نکلتے ہیں ان الفاظ کے ذریعے سے ان تمام سے پناہ طلب کی گئی۔ غاسق، رات وقت داخل ہوجائے، چھا جائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

2: اندھیری رات کے شر سے خاص طور پر اس لئے پناہ مانگی گئی ہے کہ عام طور پر جادوگروں کی کاروائیاں رات کے اندھیروں میں ہوا کرتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

اس سورت میں اللہ اپنی وہ صفات بیان فرماتا ہے ، جس کے ذریعہ اس شر سے پناہ حاصل ہوتی ہے ، جس کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے۔ قل اعوذ ................ الفلق (1:113) ” کہو ، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی “۔ فلق کے معانی میں سے ایک معنی صبح کا ہے اور ایک معنی ” مخلوق “ کا بھی ہے۔ بایں معنی کہ ہر وہ چیز جس سے وجود اور زندگی پھوٹتی ہے جس طرح سورة انعام (95) میں کہا گیا ہے۔ ان اللہ فالق ........................................ من الحی (95:6) ” اللہ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ وہ زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالنے والا ہے “۔ اور اگلی آیت (96) میں ہے۔ فالق الاصباح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی رات کا اندھیرا کہ اس میں اکثر شرور خصوصاً سحر وغیرہ بکثرت واقع ہوتے ہیں، یا چاند کا گہن یا آفتاب کا غروب مراد ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اس میں سب تاریکیاں آگئیں ظاہر اور باطن کی اور تنگدستی اور پریشانی اور گمراہی۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3{ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ۔ } ”اور خاص طور پر اندھیرے کے شر سے جب وہ چھا جائے۔“ ظاہر ہے رات کے اندھیرے میں انسانوں ‘ جنوں اور ضرر رساں جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں کی صورت میں شر پھیلانے والے عناصر زیادہ فعال اور مستعد ہوجاتے ہیں۔ گویا رات کا اندھیرا بذات خود ایک بہت بڑا شر ہے جس سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنا ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 جرائم زیادہ تر رات کی تاریکی میں کیے جاتے ہیں :۔ غَاسِقٍ ۔ غسق بمعنی شفق غائب ہوجانے کے بعد کا اندھیرا۔ اس لحاظ سے غاسق اس ابتدائی رات کو کہتے ہیں کہ جب وہ تاریک ہونے لگتی ہے اور وقب کسی چٹان وغیرہ میں گڑھے کو کہتے ہیں اور وَقَبَ بمعنی گڑھے میں داخل ہو کر غائب ہوجانا اور وَقَبَ الظَّلاَمُ بمعنی اتنی تاریکی چھانا جس کے اندر اشیاء غائب ہوجائیں اور تاریک رات کے شر سے پناہ مانگنے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر گناہ کے کام رات کی تاریکیوں میں کیے جاتے ہیں۔ چوری، ڈاکہ، لوٹ مار، زنا وغیرہ کے مجرم عموماً رات کی تاریکیوں میں ہی ایسے کام کرتے ہیں۔ اور عرب قبائل میں تو دستور ہی یہ تھا کہ جب کسی قبیلے پر لوٹ مار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ (مع اپنے سارے خطرات اور امکانات مضرت کے) (آیت) ” غاسق “۔ یعنی شدت سے اندھیری رات۔ الغاسق الیل اعظم وغسق الیل شدۃ ظلمتہ (راغب) الغاسق ھو الیل اذا عظم ظلامہ (کبیر) شب کی اندھیریوں کے خطرے ایک (2) دو نہیں، بہت سے ہیں، چور، ڈاکو، قاتل، وغیرہ عموما رات ہی میں نکلتے ہیں، جنگلی جانوروں، شیر، چیتا، تیندوا، بھیڑیا وغیرہ، نیز حشرات الارض، سانپ، بچھو، کھوپڑ، ان سب کے خطرے رات میں بڑھ جاتے ہیں، متعدد بیماریوں کے کیڑے ڈاکٹری تحقیقات کے مطابق اندھیرے ہی میں پرورش پاتے ہیں، اور آفتاب کی روشنی میں ہلاک ہوجاتے ہیں، اور تکلیف دہ کیڑے مکوڑوں، مچھر کٹھمل، پسو وغیرہ کے رات ہی میں نکلنے کا تجربہ تو ہر ایک کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–5

ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں ال لہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، کہو کہ میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی (یعنی) حیوان مکلف اور غیر مکلف کے شر سے اور جماد کے شر سے مثلاً زہرہ وغیرہ، اور رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھا جائے، یعنی رات کے شر سے جب وہ تاریک ہوجائے، یا چاند کے شر سے جب وہ غروب ہوجائے، اور پھونکنے والی جادو گرنیوں کے شر سے جو گرہوں میں تھوک کے بغیر پھونکیں وہ گرہیں کہ جن کو وہ دھاگے میں لگاتی ہیں اور زمخرشی نے کہا ہے، تھوک کے ساتھ جیسا کہ لبید مذکور کی بیٹیاں اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے یعنی اپنے حسد کو ظاہر کرے اور اس کے مقتضی پر عمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن شر غاسق . غسق کا لغوی معنی ہے بھر جانا۔ اللہ نے فرمایا : الی غسق اللَّیل۔ یعنی رات کے بھرپور تاریک ہونے تک۔ غسق العین : آنکھ آنسوؤں سے بھر گئی۔ غسق القمرُ : چاندنی بھرپور ہوگئی۔ قاموس میں ہے ‘ غاسق : چاند اور رات جب کہ اس کی شفق غائب ہوجائے۔ غسوقٌ اور اغساقٌ تاریک ہوجانا۔ بعض علماء نے کہا کہ غسق کا معنی ہے بہنا۔ غسق اللَّیل : کہر اور تاریکی۔ غسق العین : آنسو بہنا۔ غسق القمر : چاند کی سرعت رفتار۔ بعض علماء کا قول ہے کہ غسقٌ کا معنی ہے ٹھنڈک ‘ سردی۔ رات دن سے ٹھنڈی ہوتی ہے۔ چاند سورج سے ٹھنڈا ہوتا ہے اسی لیے رات اور چاند کو غاسق کہتے ہیں اور اسی بناء پر چاند کو زمہریر بھی کہا جاتا ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 5)۔ محمد ﷺ آپ فرمائیے میں صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں تمام مخلوقات کے شر سے اور رات کے شر سے جب وہ آکر چھا جائے اور گرہوں پر پڑھ پڑھ پھونک مارنے والی جادو گرنیوں کے شر سے اور حاسد کے شر سے لبید بن اعصم یہودی نے حضور پر حسد میں جادو کردیا تھا اس کو رفع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سورتیں نازل کیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ومن شر غاسق اذا وقب : اگرچہ ساری مخلوق کے شر سے پناہ مانگنے کے بعد کوئی چیز باقی نہیں رہی جس کے شر سے پناہ مانگی جائے، مگر مخلوق میں سے چند چیزوں کے شر سے خاص طور پر پناہ مانگنے کا سبق دیا گیا، کیونکہ یہ بہت ہی خوفناک ہیں اور ان کے شر سے پناہ مانگنے کی تو بہت ہی ضرورت ہے۔ (2) ”غاشق“ کا معنی ہے تاریک، سخت اندھیرے والی۔ قاموس میں ہے :”غسق اللیل ای اشتدت ظلمتہ“ ”یعنی ”غسق اللیل“ کا معنی یہ ہے کہ رات کی تاریکی بہت سخت ہوگئی۔“ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا :(الی غسق الیل) (بنی اسرائیل : 88)”رات کے سخت تاریک ہونے تک۔“”وقب“ (ض) داخل ہونا، غائب ہونا۔ فراء نے ”غاسق اذا وقب“ کا معنی کیا ہے :”اللیل…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

اپنے رب کی پناہ مانگنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو ( ان سے اے پیغمبر) میں پناہ مانگتا ہوں نمودار کرنے والے رب کی کہ وحی کے اولیں مخاطب تو بہرحال آپ ہی ہیں، ﷺ ۔ اور پھر آپ کے توسط سے یہ حکم و ارشاد ہے آپ کی امت کے ہر مومن کے لیے ہے، یہ دونوں سورتیں اگرچہ الگ الگ ہیں لیکن ان کا مضمون چونکہ مشترک ہے، یعنی تعوذ (پناہ مانگنا) اس لیے ان دونوں کو ایک ہی نام یعنی معوذتین سے یاد کیا جاتا ہے، ان دونوں میں انسان کو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ پہلی سورة کریمہ میں مہالک حسیہ ظاہریہ سے یہ پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے، اور دوسری میں مہالک باطنیہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–4

رسول اللہ ﷺ پر جادو کا اثر۔ 31۔ ابن مردویہ نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لبید بن عاصم یہودی نے نبی ﷺ پر جادو کردیا اور اس میں ایک مجسمہ بنادیا جس میں گیارہ گرہیں تھی اس سے آپ شدید بیمار ہگئے۔ جبریل اور میکائیل (علیہا السلام) نے آپ کی عیادت کی۔ میکائیل نے کہا اے جبریل بیشک آپ کے ساتھی تو تکلیف میں ہیں جبریل ( علیہ السلام) نے کہا ہاں۔ پھر کہا کہ لبید بن الاعصم یہودی نے آپ کو تکلیف پہنچائی ہے اور میمون کنوئیں میں پانی کے پتھر کے نیچے سخت زمین میں ہے پھر پوچھا اس کا علاج کیا ہے ؟ کہا کہ کنوئیں کا پانی نکالا جائے۔ اور پتھر کو الٹ دیا جائے اور وہاں سے غلاف کو اٹھالیں اس میں ایک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ : اور اندھیرا کرنے والے (یعنی رات) کے شر سے ][ اِذَا وَقَبَ : جب وہ چھا جائے ] و ق ب [وَقْباً : (ض) آنا۔ جیسے چاند کا گہن میں آنا۔ تاریکی پھیلنا۔ آیت 113:3 ۔ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ003﴾ (اور صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں غاسق سے جب وہ داخل ہوتا ہے) ۔ لفظ ﴿غَاسِقٍ﴾ غسق سے لیا گیا ہے جو تاریکی پر دلالت کرتا ہے اور ﴿وَقَبَ﴾ ماضی کا صیغہ ہے وقوب سے، یہ لفظ داخل ہونے کے معنی پر دلالت کرتا ہے (ای اذا دخل ظلامہ فی کل شی ) ۔ مفسر ابن کثیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ غاسق سے رات مراد ہے جب وہ اندھیرے کے ساتھ آجائے اس کے علاوہ دوسرے اقوال بھی نقل کیے ہیں۔ چونکہ رات کے وقت میں جنات اور شیاطین اور حشرات الارض اور موذی جانور پھیل پڑتے ہیں اور چور و ڈاکو بھی عموماً رات کی تاریکی میں اپنا کام کرتے ہیں اور جادو کی تاثیر بھی رات میں زیادہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

تعلیم تعوذ و حصول پناہ از مہالک حسیہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل اعوذبرب الفلق ..... الی ...... ومن شر حاسد اذا حسد “۔ (ربط) اس سے قبل سورة اخلاص (قل ھو اللہ احد) میں عقیدہ توحید کا بیان تھا اور یہ کہ نجات کا دارومدار اسی پر ہے کہ خداوند عالم کو اسکی ذات وصفات کے لحاظ سے یکتا ماناجائے گا اور اس طرح کہ نہ اس کا کوئی نمونہ ہے اور نہ اس کی کوئی ہمسری کرنے والا ہے تو اسی عقیدہ کا نام ایمان ہے اور اسی پر بندہ کی نجات و کامیابی موقوف ہے اب اس سورت مبارکہ میں مومن کے عقیدہ اور انسان کی سعادت میں جو چیزیں خلل انداز ہیں اور اسکو ہلاکت وتباہی میں ڈالنے والی ہیں انکو بیان کیا جارہا ہے بہت سی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ ” ومن شر غاسق “ غاسق، اندھیری رات۔ ” اذا وقت “ ای دخل، یعنی اندھیری رات چھا جائے تو اس میں جو شر و ایذاء ہے اس سے بھی رب فلق کی پناہ ڈھونڈتا ہوں۔ وانما امر ان یتعوذ من شر اللیل لان فی اللیل تخرج السباع من آجامہا والھوام من مکانہا ویھجم السارق الخ (کبیر) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الفلق ہے۔ یہ مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی پانچ آیات ہیں۔ یہ سورة تئیس الفاظ اور انہتر حروف پر مشتمل ہے۔ اس کی پہلی آیت میں فلق کا لفظ مذکور ہے۔ جس سے سورة کا نام لیا گیا ہے۔ فضیلت معوذتین آخری دو سورتیں یعنی سورة فلق اور سورة و الناس معوذتین کہلاتی ہیں۔ احادیث میں ان کی بہت فضیلت آئی ہے۔ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں سورتیں اکٹھی نازل ہوئیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا 1 ؎ کہ مجھ پر ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ ان کی مثل کوئی آیت نہیں ہے۔ محدثین کرام فرماتے ہیں کہ تعود کے باب میں یعنی برائیوں سے پناہ مانگنے کے سلسلے میں جتنا اثر یہ دو سورتیں رکتھی ہیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ۝ 3 ۙ غسق غَسَقُ اللیل : شدّة ظلمته . قال تعالی: إِلى غَسَقِ اللَّيْلِ [ الإسراء/ 78] ، والْغَاسِقُ : اللیل المظلم . قال : وَمِنْ شَرِّ غاسِقٍ إِذا وَقَبَ [ الفلق/ 3] ، وذلک عبارة عن النائبة باللیل کالطارق، وقیل : القمر إذا کسف فاسودّ. والْغَسَّاقُ : ما يقطر من جلود أهل النار، قال :إِلَّا حَمِيماً وَغَسَّاقاً [ عمّ/ 25] ( غ س ق ) غسق اللیل کے معنی ( ابتدائے ) رات کی سخت تاریکی کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : إِلى غَسَقِ اللَّيْلِ [ الإسراء/ 78] رات کی تاریکی تک الغاسق تاریک رات قرآن میں ہے ۔: وَمِنْ شَرِّ غاسِقٍ إِذا وَقَبَ [ الفلق/ 3] اور شب تاریک کی برائی سے جب اسکی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ برب الفلق الجار متعلق باعوذ الفلق بالتحریک الصبح واصلہ الشق یقال فلقت الشیء فلقاً شفققۃ والتغلیق مثلہ یقال فلقۃ فانفلق وھو عام تینا ول فلق الصبح من ظلام الیل والحبوب والنباتات من الارض والماء من الجبال قال اللہ تعالیٰ فالق الاصباح وقال فالق الحب والنویٰ وقال فانفلق فکان کل فرق کالطودالعظیم۔ من شرما خلق متعلق باعوذ۔ ما بمعنی الذی والعائد محذوف ویجوزان تکون مصدریۃ ویکون الخلق بمعنی المخلوق و قریٔ الجمھور باضافۃ شرالی ماوقری ابوحنیفہ (رح) بتنوین شروماعلی ھذا مع الفعل بتاویل المصدر فی موضع الجربدل من شر ای شرٍ خلقہ۔ وقال بعضھم ما نافیۃ والمعنی من شرلم یخلقہ وھذافاسد لان النافیۃ لایتقدم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ ۔ (الفلق : 3) (اور رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ ) عام مخلوقات کے بعد چند خاص مخلوقات سے پناہ مانگنے کا حکم اَلْغَاسِقٍ ۔ اللیل المظلم تاریک رات کو کہتے ہیں۔ وَقَبَ کسی چیز کا کسی چیز میں داخل ہوجاتا، اس کے رگ و پے میں سما جانا، یعنی چھا جانا۔ تمام مخلوقات کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دینے کے بعد اب خاص خاص مخلوقات کے شر سے خصوصیت کے ساتھ پناہ مانگنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ ان میں سب سے پہلے رات کی تاریکی کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ اکثر جرائم پیشہ لوگ جرائم کے ارتکاب کے لیے تاریکی کا انتظار کرتے ہیں۔ اور جہاں ان کو تاریکی کی پناہ ملتی ہے اور دیکھنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–4

فہم القرآن ربط سورت : الاخلاص میں یہ بتایا گیا ہے کہ ” اللہ “ وہ ہے جو ہر اعتبار سے وحدہٗ لاشریک ہے، کوئی کسی اعتبار اور کسی درجے میں اس کی برابری نہیں کرسکتا، گویا کہ وہ حاکم مطلق ہے باقی محکوم ہیں، وہ بادشاہ ہے باقی اس کے در کے فقیر ہیں، وہ طاقتور ہے ہر کوئی اس کے سامنے عاجز اور بےبس ہے کیونکہ وہ طاقتور اور بادشاہ ہے اس لیے اسی کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔ عقیدۂ توحید کے تقاضوں میں اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ صرف ایک ” اللہ “ جو پوری مخلوق کا رب ہے اسی کو نفع و نقصان کا مالک سمجھا جائے اس لیے نبی اکرم ﷺ کو حکم ہوا ہے کہ آپ ان الفاظ میں اپنے رب کی پناہ طلب کیا کریں کہ میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

3 : وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ (اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ رات آجائے) الغاسقؔ: رات کو کہتے ہیں جبکہ اس کا اندھیرا گہرا ہوجائے۔ وقوب : اندھیرے کا ہر چیز میں داخل ہونا۔ قول عائشہ ؓ : رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑکر چاند کی طرف اشارہ فرمایا اور ارشاد فرمایا تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ اس کے شر سے فانہ الغاسق اذا وقب۔ یہی تو وہ اندھیرے والا ہے جب اندھیر ہوجائے۔ چاندؔ کا اندھیر ہونا گرہن کی وجہ سے سیاہ ہونا ہے۔ (رواہ الترمذی : 3366)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

3 ۔ ومن شر غاسق اذاوقب “ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں نبی کریم ﷺ نے میرے ہاتھوں کو پکڑا، پھر چاندنی دیکھ کر کہا اے عائشہ ! ؓ تو اللہ کی پناہ مانگ، غاسق کے شر سے جب وہ سیاہ ہوجائے ۔ اس غاسق سے مراد چاند ہے جب اس کا گرہن ہوجائے اور وہ سیاہ ہوجائے۔ وقب یعنی گرہن میں داخل ہوجائے یا غائب ہونا شروع ہوجائے اور تاریک ہوجائے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں الغاسق رات جب وہ اپنی تاریکی کے ساتھ مشرق سے آئے اور ہر چیز میں داخل ہوکر تاریک کردے اور غسق ظلمت وتاری کی۔ کہا جاتا ہے غسق اللیل واغسق جب رات تاریک ہوجائے اور یہ مجاہد اور حسن رحمہم اللہ کا قول ہے۔ یعنی رات جب آئے اور داخل ہو اور وقوب داخل ہونا اور وہ رات…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ عقبہ بن عامر سے صحیح 9 ؎ مسلم ترمذی نسائی وغیرہ میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آج کی رات خدا تعالیٰ نے چند آیتیں نازل فرمائی ہیں جو مجھ کو بہت ہی اچھی معلوم ہوتی ہیں پھر آپ ﷺ نے قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ان دونوں سورتوں کا نام بتایا۔ اس حدیث سے ان دونوں سورتوں کی فضیلت بھی معلوم ہوئی اور یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ قرآن کی اور آیتوں کی طرح یہ دونوں سورتیں بھی قرآن کا جز ہیں اسی واسطے اور حدیثوں سے یہ بھی معلوم 1 ؎ ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان دونوں سورتوں کو صبح کی نماز میں پڑھا ہے ان حدیثوں سے حضرت عبد اللہ بن مسعود کے اس قول کا ضعیف ہونا ثابت ہوتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

فرمایا (وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ ) اور شب تاریکی کی برائی سے جب اس کا اندھیرا چھا جائے یعنی میں اس شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جو رات کے اندر ہوتا ہے جب وہ لوگوں پر چھا جاتا ہے اور اس میں بہت سی شریر ارواح اور موذی حیوانات پھیل جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–3

معوذتین کی فضیلت ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں عبداللہ بن محمد التفیلی نے، انہیں محمد بن سلمہ نے محمد بن اسحاق سے، انہوں نے سعید بن ابی سعید المقبری سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے کہ میں حضور ﷺ کے ساتھ حجفہ اور ابواء کے درمیان سفر کررہا تھا کہ اچانک تیز آندھی چلی اور اندھیرا چھا گیا۔ حضور ﷺ نے اعوذ برب الفلق اور اعوب برب الناس کی سورتیں پڑھنی شروع کردیں اور فرمایا عقبہ ! ان دونوں سورتوں کے ذریعے تعوذ کیا کرو ، کیونکہ ان دونوں سورتوں کے ذریعے پناہ مانگنے والے کی طرح کوئی پناہ مانگنے والا نہیں ہوتا۔ “ حضرت عقبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

4 ۔ اندھیری رات کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم و تلقین : سو ساری کائنات اور اس کی ہر چیز کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم و تلقین کے بعد ہدایت فرمائی گئی کہ خاص کر اندھیری رات کے شر سے پناہ مانگو جبکہ وہ چھا جائے، پس یہ تعمیم کے بعد تخصیص ہے، زیادہ اہتمام کے لیے یعنی " ما خلق " کا عموم تو ان سب ہی چیزوں کو شامل ہے، مگر اس کے بعد ان چند چیزوں کو بطور خاص بیان فرمایا گیا ہے کہ ان کے شر سے بچنے کی بطور خاص فکر کرنے کی ضرورت ہے، جن میں سب سے پہلے اندھیری رات کے شر سے پناہ کا ذکر فرمایا گیا کہ اس میں دشمنوں اور موذیوں کا خطرہ زیادہ رہتا ہے، اسی لیے نبی رحمت کی رحمتوں اور شفقتوں بھری تعلیمات میں رات کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

ہر قسم کے خطرے سے اللہ کی پناہ تشریح :۔ یہ سورت ہر قسم کی پریشانی ' نقصان ' تکلیف ' ضرر ' کفر ' شرک ' گناہ ' نفرت ' حسد ' بغض، جادو اور گناہوں سے بچنے کے لیے اس رب العزت ' خالق ومالک الہ العٰلمین کی پناہ کی فضیلتیں بیان کرتی ہے جو انسانی زندگی میں ہر وقت آتی جاتی رہتی ہیں اور جن کا مداوا ہر صورت میں اللہ ہی کے حکم اور مدد سے ہوتا ہے۔ اس سورت میں خاص طور سے ان تین چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو انسانی تکالیف کی بنیاد ہیں۔ 1 ۔ رات کی تاریکی : یہ بھی اکثر جرائم کے لیے کافی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ '' جب سورج غروب ہوجائے تو شیاطین ہر طرف پھیل جاتے ہیں ' لہٰذا اپنے بچوں کو گھروں میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–5

سورة الفلق۔ آیات 1 تا 5۔ اسرار ومعارف۔ فرمادیجئے پناہ مانگتا ہوں اس رب کی جو تاریکی دور کرکے صبح پیدا کرتا ہے ہراس شے جو اس نے پیدا کی ہے برائی اور شر سے اور اندھیرے کے شر سے جب وہ یکجا ہونے لگے اور عورتوں کی گروہوں میں پھونک مارنے کی شر یعنی جادوٹونے کے شر سے کہ شیطانی عملیات سے کوئی نقصان نہ پہنچے اور حسد کرنے والوں کے حسد کے شر سے ۔

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 شاہ صاحب فرماتے ہیں :” اس میں سب تاریکیاں آگئیں، ظاہر اور باطن کی اور تنگدستی اور پریشانی اور گمراہی۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(113:3) ومن شر غاسق اذا وقب۔ جملہ معطوف ہے یعنی خاص کا عطف عام پر ہے۔ شر غاسق مضاف مضاف الیہ۔ تاریک رات کے شر سے۔ غاسق غسق سے (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ غسق رات کا تاریک ہونا۔ غاسق تاریک ہونے والا۔ بمعنی تاریک رات۔ اس کے اور معانی بھی ہیں :۔ (1) گرہن کے سبب سیاہ پڑجانے والا چاند۔ (2) غروب آفتاب کے بعد آنے والی تاریکی۔ (3) غروب آفتاب کے بعد آنے والی تاریک رات۔ (4) ڈوبنے والا چاند۔ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ :۔ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر چاند کی طرف ارشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ تعوذی باللّٰہ من شر ھذا فانہ الغاسق اذا وقب : اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن۔ الفلق۔ صبح۔ شر۔ برائی۔ غاسق ۔ سیاہ رات۔ وقب۔ چھا گیا۔ النفثت۔ پھونکنے والیاں۔ العقد۔ گرہیں۔ حاسد۔ حسد کرنے والا۔ جلنے والا۔ اصل میں ہمارے دین نے ہمیں جو تعلیم دی ہے اس میں اس بنیادی بات کو سکھایا گیا ہے کہ اللہ نے نفع اور نقصان کا اختیار کسی کو نہیں دیا۔ نفع اور نقصان صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا ہر آن اسی سے پناہ کی درخواست کرتے رہنا چاہیے ۔ اگر کوئی اس کی پناہ اور حفاظت میں آجائے تو وہ دنیا اور آخرت کے ہر طرح کے نقصانات سے بچ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة الفلق اور سورة الناس میں اسی بات کو ارشاد فرمایا ہے یعنی یہودیوں اور لبید ابن عصیم نے سرکار دو عالم ﷺ کو شدید نقصان پہنچانے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

(ف 1) شان نزول۔ یہ سورت اور سورت الناس جو اس کے بعد ہے ان دونوں سورتوں کی شان نزول کی روایتیں جو حضرت عائشہ سے اور حضرت عبداللہ بن عباس اور انس ؓ سے صحیحین میں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ لبید بن اعصم یہودی اور اس کی بیٹیوں نے نبی ﷺ پر جادو کیا، اور حضور کے جسم مبارک اور اعضاء ظاہرہ پر اس کا اثر ہوا، قلب وعقل و اعتقاد پر کچھ اثر نہ ہوا، چند روز کے بعد حضرت جبرائیل آئے اور انہوں نے عرض کیا ایک یہودی نے آپ پر جادو کیا ہے اور جادوکا کچھ سامان ہے وہ ذرواں کا کنواں ہے وہاں ایک پتھر کے نیچے داب دیا ہے۔ حضور نے علی مرتضی ؓ کو بھیجا، انہوں نے کنویں کا پانی نکالنے کے بعد پتھراٹھایا، اس کے نیچے سے کھجور کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] رات کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ یہی وقت جنات و شیاطین، موذی جانوروں اور حشرات الارض، چوروں اور ڈاکوؤں کے پھیلنے اور دشمنوں کے حملے کا وقت ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

یہ سورة استعاذہ ہے ۔ اس میں مرد مسلم کو بتایا گیا ہے کہ اس کی ہر شتر اور فتنہ کی بات سے احتراز کرنا چاہیے اور اللہ سے نیک توفیق مانگنا چاہیے کہ وہ اس کو جسم اور روح کی ہر آزمائش سے بچائے اور اپنی آغوش پناہ میں لے لے ۔ الثقتت فی العقد ۔ جادوگرنیاں ۔ ابو مسلم کی رائے میں اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جو عزائم رجال میں التواء وانفساخ پیدا کردیتی ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) اور اندھیری رات کے شر سے جب رات کا اندھیرا چھا جائے۔ تاریکی کا شر اور اندھیرے کی بدی ظاہر ہے ابن عباس ؓ نے کہا کہ غاسق رات ہے جب وہ مشرق سے اپنے اندھیرے کو بڑھاتی ہوئی آئے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے ایک دفعہ چاند کو دیکھ کر فرمایا۔ اے عائشہ ؓ اس سے پناہ مانگ اللہ تعالیٰ کی یہی وہ غاسق ہے جب گہن کی وجہ سے غائب ہوجائے یعنی پورا چاند گہن میں آجائے رات میں چونکہ آفات پھیلتی ہے اس لئے رات کے اندھیرے سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے ہوسکتا ہے کہ اس تاریکی سے ثریا کا غائب ہونا ہو کیونکہ ثریا کے غائب ہونے کے بعد بہت سے امراض پیدا ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی رات…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–5

ف 6۔ شاید فلق کی تخصیص بمقابلہ رات کے ہو اور اشارہ اس طرف ہو کہ جس طرح حق تعالیٰ لیل کا ازالہ کردیتا ہے اسی طرح اثر لیل یعنی سحر کا بھی اثر زائل کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور ظلمت کے شر سے پناہ چاہتا ہوں جب وہ چھا جائے 3 (غاسق) کا مادہ غ س ق ہے۔ اس فاعل واحد مذکر ہے اس مادہ کے تین الفاظ مزید قرآن کریم میں آئے ہیں (غسق) (17 : 78) (غساق) (38 : 57) (غساقا) (78 : 25) اس جگہ اس کے معنی تاریک رات کے کیے گئے ہیں اور اس طرح گرہن کے باعث سیاہ پڑجانے والاچاند بھی بتایا گیا ہے۔ (معجم القرآن) صراح میں ہے کہ ( غاسق) تاریکی بعد دن غروب شفق یا غروب آفتاب کے بعد آنے والی تاریک رات۔ (بغوی) یا ڈوبنے والا چاند۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد آیا ہے : ( استعیذ باللہ من المقر فانہ الفاسق) (ترمذی) ” ایک حدیث میں سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–5

The word Sharr: ` Allamah Ibn Qayyim's Exposition Verse [ 113:2] مِن شَرِّ‌ مَا خَلَقَ (From the evil of everything He has created.) ` Allamah Ibn Qayyim expounds that the word sharr (evil) is employed in two different senses: [ 1] pain, loss, injury, trouble, grief, distress and affliction which affect man directly, and they are by themselves troubles and afflictions; and [ 2] the factors that cause losses, injuries and afflictions. The second type covers unbelief, idolatry and all sins. The things from which the Qur'an and Sunnah require man to seek refuge in Allah are either of these two…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 After seeking Allah's refuge generally from the evil of the creatures, now prayer is being taught for seeking refuge from the evil of some special creatures in particular. The word ghasiq in the verse literally means dark. Thus, at another place in the Qur'an it has been said: "establish the salat from the declining of the sun to the darkness of the night (ila ghasaq-il- lain." (Bani lsra'il: 78) , and wagab means to enter or to overspread. Prayer has been taught to seek refuge in particular from the evil of the darkness of night, for most of the crimes and acts of wickedness are committed…

Read the full tafseer →