Explained with ayahs 1–5
بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے باؤ کی دعا٭٭ حضرت جابر وغیرہ فرماتے ہیں فلق کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں نور جگہ ہے فالق الاصباح ابن عباس سے مروی ہے فلق سے مراد مخلوق ہے، حضرت کعب احبار فرماتے ہیں فلق جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جسم میں…
Read the full tafseer →سورة الفلق 6
اصل الفاظ ہیں نَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِ۔ عقد جمع ہے عقدہ کی جس کے معنی گرہ کے ہیں، جیسی مثلا تاگے یا رسی میں ڈالی جاتی ہے۔ نفث کے معنی پھونکنے کے ہیں۔ نفاثات جمع ہے نفاثہ کی جس کو اگر علامہ کی طرح سمجھا جائے تو مراد بہت پھونکنے والے مرد ہوں گے، اور اگر اسے مونث کا صیغۃ سمجھا جائے تو مراد بہت پھونکنے والی عورتیں بھی ہوسکتی ہیں، اور نفوس یا جماعتیں بھی، کیونکہ عربی میں نفس اور جماعت دونوں مونث ہیں۔ گرہ میں پھونکنے کا لفظ اکثر، بلکہ تمام تر مفسرین کے نزدیک جادو کے لیے استعارہ ہے، کیونکہ جادوگر عموما کسی ڈور یا تاگے میں گرہ دیتے اور اس پر پھونکتے جاتے ہیں۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
من شر ما خلق کے لفظ میں ساری مخلوقات کا شرداخل ہے اس لئے یہ کلمہ تمام شرور آفتاب سے پناہ لینے کے لئے کافی تھا مگر اس جگہ تین چیزوں کو ممتاز کر کے ان کے شر سے پناہ مانگنے کا علیحدہ ذکر فرمایا جو اکثر آفات و مصائب کا سبب بنتی ہیں۔ پہلے فرمایا من شرعغاسق اذا وقب اس میں لفظ غاسق غسق سے مشتق ہے جس کے معنی اندھیری کا پھیل جانا اور چھا جانا ہے اس لئے غاسق کے معنی حضرت ابن عسا اور حسن اور مجاہد نے رات کے لئے ہی اور وقب وقوب کے مشتق ہے جس کے معنی اندھیری کے پوری طرح بڑھ جانے کے ہیں۔ معنی یہ ہیں کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں رات سے جبکہ اس کی اندھیری پوری ہوجاوے رات کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ یہی وقت…
Read the full tafseer →مادی اور محسوس آفات سے پناہ مانگنے کے بعد یہ روحانی و اخلاقی آفتوں سے پناہ مانگنے کی تلقین کی ہے۔
روحانی آفات سے پناہ مانگنے کا طریقہ: ’نَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ‘ کے معنی گرہوں میں پھونک مارنے والوں کے ہیں۔ اگرچہ یہ مؤنث ہے لیکن اس سے عورتوں کو مراد لینا لازم نہیں ہے۔ عربیت کے قاعدہ سے آپ اس سے ارواح خبیثہ اور نفوس خبیثہ مراد لے سکتے ہیں؛ عام اس سے کہ وہ مرد ہوں یا عورتیں اور قطع نظر اس سے کہ ان کا اشارہ یہود و مجوس کی طرف ہو یا عرب کے ساحروں اور کاہنوں کی طرف۔
گرہوں میں پھونک مارنے کا یہ طریقہ ٹونے ٹوٹکے اور گنڈے کا عمل کرنے والے اختیار کرتے ہیں۔ وہ دھاگے یا تانت پر اپنے تصور کے مطابق کچھ پڑھ…
Read the full tafseer →4۔ 1 نفاثات، مونث کا صیغہ ہے، جو النفوس (موصوف محذوف) کی صفت ہے من شر النفوس النفاثات یعنی گرہوں میں پھونکنے والے نفسوں کی برائی سے پناہ اس سے مراد جادو کا کالا عمل کرنے والے مرد اور عورت دونوں ہیں یعنی اس میں جادوگروں کی شرارت سے پناہ مانگی گئی ہے، جادوگر پڑھ پڑھ کر پھونک مارتے اور گرہ لگاتے جاتے ہیں۔ عام طور پر جس پر جادو کرنا ہوتا ہے اس کے بال یا کوئی چیز حاصل کر کے اس پر یہ عمل کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3: جانوں کے شر سے، جانوں کے لفظ میں مرد اور عورت دونوں داخل ہیں، جادو گر مرد ہوں یا عورت، دھاگے کے گنڈے بناکر اس میں گرہیں لگاتے جاتے ہیں اور ان پر کچھ پڑھ پڑھ کر پھو نکتے رہتے ہیں۔ ان کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اس سورت میں اللہ اپنی وہ صفات بیان فرماتا ہے ، جس کے ذریعہ اس شر سے پناہ حاصل ہوتی ہے ، جس کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے۔
قل اعوذ ................ الفلق (1:113) ” کہو ، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی “۔ فلق کے معانی میں سے ایک معنی صبح کا ہے اور ایک معنی ” مخلوق “ کا بھی ہے۔ بایں معنی کہ ہر وہ چیز جس سے وجود اور زندگی پھوٹتی ہے جس طرح سورة انعام (95) میں کہا گیا ہے۔
ان اللہ فالق ........................................ من الحی (95:6) ” اللہ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ وہ زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالنے والا ہے “۔ اور اگلی آیت (96) میں ہے۔
فالق الاصباح…
Read the full tafseer →4 نفاثات فی العقد سے وہ عورتیں یا وہ جماعتیں یا وہ نفس مراد ہیں جو ساحرانہ عمل کرنے کے وقت کسی تانت یا رسی یا بال وغیرہ میں کچھ پڑھ کر اور پھونک مار کر گرہ لگایا کرتے ہیں۔ حضور ﷺ پر جو سحر لبید بن اعصم نے کیا تھا، لکھا ہے کہ بعض لڑکیاں بھی اس میں شریک تھیں واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 4{ وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ۔ } ”اور ان عورتوں کے شر سے جو گرہیں باندھ کر پھونکیں مارتی ہیں۔“
یعنی وہ تمام ٹونے ٹوٹکے ‘ تعویذ گنڈے اور سفلی عملیات جن کے ذریعے سے کسی انسان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس موضوع کے حوالے سے یہاں یہ نکتہ اچھی طرح سے سمجھ لیجیے کہ کسی چیز کا بالفعل موجود ہونا اور بات ہے اور اس چیز کا حلال ‘ حرام یا جائز ‘ ناجائزہونا الگ بات ہے۔ مثلاً جادو ایک حقیقت ہے لیکن کفر ہے۔ شراب اپنی ایک مخصوص تاثیر رکھتی ہے لیکن حرام ہے۔ اسی طرح علم نجوم ‘ پامسٹری ہاتھ کی لکیروں کا علم اور سفلی عملیات کی حقیقت اور تاثیر سے انکار نہیں کیا جاسکتا ظاہر ہے جب ہم اچھے…
Read the full tafseer →5 آپ پر جادو :۔ گرہ میں پھونکیں مارنے کا کام عموماً جادوگر کیا کرتے ہیں اور جو لوگ بھی موم کے پتلے بنا کر اس میں سوئیاں چبھوتے ہیں اور کسی کے بال حاصل کرکے ان میں گرہیں لگاتے اور پھونکیں مارتے جاتے ہیں سب جادوگروں کے حکم میں داخل ہیں۔ اور ہمارے ہاں ایسے لوگوں کو جادوگر نہیں عامل کہا جاتا ہے۔ اور جادو کرنا صریحاً کفر کا کام ہے۔ جیسے سورت بقرہ کی آیت نمبر 102 میں یہ صراحت موجود ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جادو چونکہ کفر کا کام ہے۔ اس لیے جادو کا اثر کسی ایماندار یا مومن پر نہیں ہوسکتا۔ اور چونکہ رسول اللہ ﷺ پر بھی جادو کیا گیا تھا اور اس جادو کا آپ ﷺ کی طبیعت پر اثر بھی ہوگیا تھا۔ اور یہ بات…
Read the full tafseer →3۔ سحر کا رواج دنیا میں ہمیشہ بہت زائد رہا ہے، اب بھی متعدد قوموں میں ہے۔ شان نزول کی روایتوں میں ہے کہ بعض یہودی عورتوں نے رسول اللہ ﷺ پر کچھ منتر پڑھ کر سحر کردیا تھا، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، اور حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے آیتوں کو پڑھ پڑھ کر اس سحر کو باطل کردیا، رسول اللہ ﷺ کا سحر سے (جومادیات ہی کی ایک سفلی قسم ہے۔ ) متاثر ہوجانا بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے ذات الجنب سے، ملیریا سے، درد اعصاب سے متاثر ہوجانا، اور اس میں منافی نبوت ہونے کا کوئی ادنی پہلو بھی نہیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اسباب طبعی سے اہل باطل کا اثر اہل حق پر بھی پڑسکتا ہے، اور ایسی تاثیرات حق و باطل کا معیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں ال لہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، کہو کہ میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی (یعنی) حیوان مکلف اور غیر مکلف کے شر سے اور جماد کے شر سے مثلاً زہرہ وغیرہ، اور رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھا جائے، یعنی رات کے شر سے جب وہ تاریک ہوجائے، یا چاند کے شر سے جب وہ غروب ہوجائے، اور پھونکنے والی جادو گرنیوں کے شر سے جو گرہوں میں تھوک کے بغیر پھونکیں وہ گرہیں کہ جن کو وہ دھاگے میں لگاتی ہیں اور زمخرشی نے کہا ہے، تھوک کے ساتھ جیسا کہ لبید مذکور کی بیٹیاں اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے یعنی اپنے حسد کو ظاہر کرے اور اس کے مقتضی پر عمل…
Read the full tafseer →ومن شر النفثت فی العقد . اور گرہوں پر دَم کرنے والیوں کے شر سے۔
النَّفّٰثٰتِ : جمع مؤنث کا صیغہ ہے۔ اس کا موصوف محذوف ہے یعنی سحر کرنے والی شخصیتیں یا عورتیں جو افسوں پڑھنے اور رسول اللہ ﷺ پر جادو کرنے کے وقت دھاگے کی گرہوں پر دَم کرتی تھیں۔ ابوعبیدہ ؓ نے کہا : لبید کی بیٹیاں لبید کے حکم سے ایسا کرتی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(1۔ 5)۔ محمد ﷺ آپ فرمائیے میں صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں تمام مخلوقات کے شر سے اور رات کے شر سے جب وہ آکر چھا جائے اور گرہوں پر پڑھ پڑھ پھونک مارنے والی جادو گرنیوں کے شر سے اور حاسد کے شر سے لبید بن اعصم یہودی نے حضور پر حسد میں جادو کردیا تھا اس کو رفع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سورتیں نازل کیں۔
Read the full tafseer →(ومن شر النفثت فی العقد :”النفثت“ ”نفاثۃ“ کی جمع ہے جو ”نفست ینفست نفنا“ (ن، ض) (پھونک مارنا، جس کے ساتھ تھوڑی سی تھوک ہو) سے مشتق ہے، بہت پھونکیں مارنے والی عورتیں یا جماعتیں۔ اگر ”نفائۃ“ میں تاء ”علامۃ“ کی طرح مبالغے کے لئے ہو یا ”النفثت“ سے مراد نفوس ہوں تو عورتوں کے علاوہ بہت پھونکیں مارنے والے مرد بھی مراد ہوسکتے ہیں۔”العقد“ ”عقدۃ“ کی جمع ہے، گر ہیں۔ ابن جریر اور مفسرین سلف کے مطابق گرہوں میں پھونکیں مارنے والویں سے مراد جادو کرنے والی عورتیں یا لوگ ہیں، کیونکہ انہوں نے جس پر جادو کرنا ہوتا ہے اس کے بال یا کوئی چیز حاصل کر کے اس پر جادو کرتے ہوئے کسی تانت یا دھاگے میں گر ہیں ڈالتے جاتے…
Read the full tafseer →اصل الفاظ ہیں نَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِ ۔ عقد جمع ہے عقدہ کی جس کے معنی گرہ کے ہیں، جیسی مثلا تاگے یا رسی میں ڈالی جاتی ہے۔ نفث کے معنی پھونکنے کے ہیں۔ نفاثات جمع ہے نفاثہ کی جس کو اگر علامہ کی طرح سمجھا جائے تو مراد بہت پھونکنے والے مرد ہوں گے، اور اگر اسے مونث کا صیغۃ سمجھا جائے تو مراد بہت پھونکنے والی عورتیں بھی ہوسکتی ہیں، اور نفوس یا جماعتیں بھی، کیونکہ عربی میں نفس اور جماعت دونوں مونث ہیں۔ گرہ میں پھونکنے کا لفظ اکثر، بلکہ تمام تر مفسرین کے نزدیک جادو کے لیے استعارہ ہے، کیونکہ جادوگر عموما کسی ڈور یا تاگے میں گرہ دیتے اور اس پر پھونکتے جاتے ہیں۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں طلوع فجر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
رسول اللہ ﷺ پر جادو کا اثر۔
31۔ ابن مردویہ نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لبید بن عاصم یہودی نے نبی ﷺ پر جادو کردیا اور اس میں ایک مجسمہ بنادیا جس میں گیارہ گرہیں تھی اس سے آپ شدید بیمار ہگئے۔ جبریل اور میکائیل (علیہا السلام) نے آپ کی عیادت کی۔ میکائیل نے کہا اے جبریل بیشک آپ کے ساتھی تو تکلیف میں ہیں جبریل ( علیہ السلام) نے کہا ہاں۔ پھر کہا کہ لبید بن الاعصم یہودی نے آپ کو تکلیف پہنچائی ہے اور میمون کنوئیں میں پانی کے پتھر کے نیچے سخت زمین میں ہے پھر پوچھا اس کا علاج کیا ہے ؟ کہا کہ کنوئیں کا پانی نکالا جائے۔ اور پتھر کو الٹ دیا جائے اور وہاں سے غلاف کو اٹھالیں اس میں ایک…
Read the full tafseer →[وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ : اور پھونک مارنے والیوں کے شر سے ][ فِي الْعُقَدِ :ِٖگِرہوں میں ]
نث
[ نَفْثًا : (ن۔ ض) منہ سے تھوڑا سا تھوک نکالنا یا تھوتھوکرنا۔ جادو کے گنڈوں پر پھونک مارنا۔]
[ نَفَّاثٌ مؤنث نَفَّاثَۃٌ۔ فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بار بار یا کثرت سے پھونک مارنے والا۔ آیت۔ 113:4 ۔ ]
Read the full tafseer →﴿وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِۙ004﴾ (اور رب الفلق کی پناہ لیتا ہوں گرہوں پر دم کرنے والیوں کے شر سے) اس کی پوری تفصیل سبب نزول کے بیان میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
تعلیم تعوذ و حصول پناہ از مہالک حسیہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل اعوذبرب الفلق ..... الی ...... ومن شر حاسد اذا حسد “۔
(ربط) اس سے قبل سورة اخلاص (قل ھو اللہ احد) میں عقیدہ توحید کا بیان تھا اور یہ کہ نجات کا دارومدار اسی پر ہے کہ خداوند عالم کو اسکی ذات وصفات کے لحاظ سے یکتا ماناجائے گا اور اس طرح کہ نہ اس کا کوئی نمونہ ہے اور نہ اس کی کوئی ہمسری کرنے والا ہے تو اسی عقیدہ کا نام ایمان ہے اور اسی پر بندہ کی نجات و کامیابی موقوف ہے اب اس سورت مبارکہ میں مومن کے عقیدہ اور انسان کی سعادت میں جو چیزیں خلل انداز ہیں اور اسکو ہلاکت وتباہی میں ڈالنے والی ہیں انکو بیان کیا جارہا ہے بہت سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4:۔ ” ومن شر النفثت “ گرہوں میں پھونکنے والیوں سے جادو کرنے والی عورتوں مراد ہیں۔ عام طور پر عورتیں ہی جادو کا کام کرتی ہیں اس لیے ان کا ذکر فرمایا۔ یا اس سے لبید بن اعصم یہودی کی بیٹیاں مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کیا تھا۔ ” ومن شر حاسد اذا حسد “ اور ہر حاسد اور زوال نعمت کی آرزو کرنے والے کے شر سے بھی پناہ مانگو۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی صرف ایک صفت ذکر کی گئی ہے اور جن چیزوں سے استعاذہ مقصود ہے ان میں پہلی چیز عام ہے یعنی شر ما خلق، اور پھر اس کے بعد تین مخصوص چیزوں کا ذکر ہے، غاسق، نفاثات اور حاسد اور سورة الناس میں اس کا عکس ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة الفلق ہے۔ یہ مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی پانچ آیات ہیں۔ یہ سورة تئیس الفاظ اور انہتر حروف پر مشتمل ہے۔ اس کی پہلی آیت میں فلق کا لفظ مذکور ہے۔ جس سے سورة کا نام لیا گیا ہے۔
فضیلت معوذتین
آخری دو سورتیں یعنی سورة فلق اور سورة و الناس معوذتین کہلاتی ہیں۔ احادیث میں ان کی بہت فضیلت آئی ہے۔ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں سورتیں اکٹھی نازل ہوئیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا 1 ؎ کہ مجھ پر ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ ان کی مثل کوئی آیت نہیں ہے۔ محدثین کرام فرماتے ہیں کہ تعود کے باب میں یعنی برائیوں سے پناہ مانگنے کے سلسلے میں جتنا اثر یہ دو سورتیں رکتھی ہیں۔ اس…
Read the full tafseer →وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِ 4 ۙ
نفث
النَّفْثُ : قَذْفُ الرِّيقِ القلیلِ ، وهو أَقَلُّ من التَّفْلِ ، ونَفْثُ الرَّاقِي والساحرِ أن يَنْفُثَ في عُقَدِهِ ، قال تعالی: وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثاتِ فِي الْعُقَدِ [ الفلق/ 4] ومنه الحيَّةُ تَنْفُثُ السّمَّ ، وقیل : لو سَأَلْتَهُ نُفَاثَةَ سواکٍ ما أعْطَاكَ «1» . أي : ما بَقِيَ في أَسنانک فنَفَثْتَ به، ودمٌ نَفِيثٌ: نَفَثَهُ الجُرْحُ ، وفي المثل : لَا بُدَّ لِلْمَصْدُورِ أَنْ يَنْفُثَ
( نث ) النفث کے معنی تھوڑا ساتھو کنے یا تھتکار نے کے ہیں اور یہ تفعل ( تھوکنا ) سے کم درجہ ہوتا ہے اور افسوس یا جادو کرنے والے کے گنڈوں پر پڑھ پھونکنے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ برب الفلق الجار متعلق باعوذ الفلق بالتحریک الصبح واصلہ الشق یقال فلقت الشیء فلقاً شفققۃ والتغلیق مثلہ یقال فلقۃ فانفلق وھو عام تینا ول فلق الصبح من ظلام الیل والحبوب والنباتات من الارض والماء من الجبال قال اللہ تعالیٰ فالق الاصباح وقال فالق الحب والنویٰ وقال فانفلق فکان کل فرق کالطودالعظیم۔ من شرما خلق متعلق باعوذ۔ ما بمعنی الذی والعائد محذوف ویجوزان تکون مصدریۃ ویکون الخلق بمعنی المخلوق و قریٔ الجمھور باضافۃ شرالی ماوقری ابوحنیفہ (رح) بتنوین شروماعلی ھذا مع الفعل بتاویل المصدر فی موضع الجربدل من شر ای شرٍ خلقہ۔ وقال بعضھم ما نافیۃ والمعنی من شرلم یخلقہ وھذافاسد لان النافیۃ لایتقدم…
Read the full tafseer →وَمِنْ شَرِّالنَّفّٰثٰتِ فِی العُقَدِ ۔ (الفلق : 4)
(اور گروہوں میں پھونکنے والوں (یا والیوں) کے شر سے۔ )
روحانی و اخلاقی آفتوں سے پناہ مانگنے کا حکم
نَفّٰثٰتِ ، نَفَّاثَۃ کی جمع ہے۔ اس کو مبالغہ کا صیغہ بھی کہا جاسکتا ہے اور مؤنث کا صیغہ بھی۔ پہلی صورت میں اس کا معنی ہوگا، بہت پھونکنے والے مرد۔ اور دوسری صورت میں بہت پھونکنے والی عورتیں۔ اور اگر اس سے نفوس یا جماعتیں مراد لی جائیں تو وہ بھی غلط نہیں۔
العُقَدِ ، عُقْدَہ کی جمع ہے، اس کا معنی ہے گرہ۔ جیسی گرہیں دھاگے یا رسی میں ڈالی جاتی ہیں۔ جادوگر جب جادو کرتے ہیں تو وہ منتر اور طلسم پڑھ کر دھاگے میں گرہ ڈالتے ہیں اور اس پر پھونک مارتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
فہم القرآن
ربط سورت : الاخلاص میں یہ بتایا گیا ہے کہ ” اللہ “ وہ ہے جو ہر اعتبار سے وحدہٗ لاشریک ہے، کوئی کسی اعتبار اور کسی درجے میں اس کی برابری نہیں کرسکتا، گویا کہ وہ حاکم مطلق ہے باقی محکوم ہیں، وہ بادشاہ ہے باقی اس کے در کے فقیر ہیں، وہ طاقتور ہے ہر کوئی اس کے سامنے عاجز اور بےبس ہے کیونکہ وہ طاقتور اور بادشاہ ہے اس لیے اسی کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔
عقیدۂ توحید کے تقاضوں میں اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ صرف ایک ” اللہ “ جو پوری مخلوق کا رب ہے اسی کو نفع و نقصان کا مالک سمجھا جائے اس لیے نبی اکرم ﷺ کو حکم ہوا ہے کہ آپ ان الفاظ میں اپنے رب کی پناہ طلب کیا کریں کہ میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں…
Read the full tafseer →4 : وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ (اور گرہوں پر پڑھ پڑھ کر پھونکنے والیوں کے شر سے) النفاثات۔ نمبر 1۔ عورتیں، نمبر 2۔ نفوس۔ نمبر 3۔ ساحروں کی جماعتیں جو دھاگوں پر پھونک مار کر گرہ لگاتی ہیں اور اس سے تعویذگنڈا کرتی ہیں۔ النفثؔ ایسی پھونک جس میں تھوک کی ملاوٹ نہ ہو۔
ردِ معتزلہ : اس میں معتزلہ کی تردید ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ سحر کا کوئی وجود نہیں اور اس کا اثر بھی ظاہر نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →4 ۔” ومن شرالنفاثات فی العقد “ یعنی وہ جادوگرنیاں جو دھاگے کی گرہ میں پھونک مارتی تھیں۔ جب ان پر جھاڑتی تھیں۔ ابوعبیدہ (رح) فرماتے ہیں وہ لبیدبن اعظم کی بیٹیاں ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ پر جادو کیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ عقبہ بن عامر سے صحیح 9 ؎ مسلم ترمذی نسائی وغیرہ میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آج کی رات خدا تعالیٰ نے چند آیتیں نازل فرمائی ہیں جو مجھ کو بہت ہی اچھی معلوم ہوتی ہیں پھر آپ ﷺ نے قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ان دونوں سورتوں کا نام بتایا۔ اس حدیث سے ان دونوں سورتوں کی فضیلت بھی معلوم ہوئی اور یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ قرآن کی اور آیتوں کی طرح یہ دونوں سورتیں بھی قرآن کا جز ہیں اسی واسطے اور حدیثوں سے یہ بھی معلوم 1 ؎ ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان دونوں سورتوں کو صبح کی نماز میں پڑھا ہے ان حدیثوں سے حضرت عبد اللہ بن مسعود کے اس قول کا ضعیف ہونا ثابت ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →(وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِ ) یعنی جادو کرنے والی عورتوں کے شر سے جو اپنے جادو میں گرہوں میں پھونکوں سے کام لیتی ہیں جن کو وہ جادو کے لیے باندھتی ہیں۔
Read the full tafseer →جادوگروں کے کمالات سے مرعوب نہ ہوں
قول باری ہے (ومن شرالنفثت فی العقد اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے سر سے) ابو صالح کا قول ہے کہ اس سے مراد جادوگرنیاں ہیں۔ معمر نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا۔ ” تم لوگ اس جادو سے بچو جو جھاڑ پھونک کے ساتھ مل جاتا ہے۔ “
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ گرہوں میں پھونک مارنے والیاں جادوگرنیاں ہیں جو بیمار پر پھونک مارتی ہیں اور ایسے منتر پڑھتی ہیں جس میں کفر اور شرک کی آمیزش ہوتی ہے اور ستاروں کی عظمت کا بیان ہوتا ہے۔ وہ بیمار کو نقصان وہ اور جان لیوا مسموم دوائیاں کھلاتی ہیں۔ ان چیزوں کو وسیلہ بنا کر دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کے جھاڑ…
Read the full tafseer →5 ۔ گرہوں کے اندر پھونکنے والوں کے شر سے پناہ مانگنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا اور گرہوں میں پھونکیں مارنے والوں سے شر سے " نفاثات " کی جو مونث کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور مذکر کا بھی، کہ اس کی تاء تانیث کی نہو، بلکہ تاکید مبالغہ کے لیے ہو، جیسے علامہ اور فہامہ وغیرہ میں ہے۔ یعنی بہت زیادہ پھونکیں مارنے والے مرد، اور اگر یہ تاء تانیث کی مانی جائے تو اس کا موصوف نساء بھی ہوسکتا ہے، یعنی عورتیں اور جماعتیں اور نفوس بھی، ترجمہ میں ان دونوں احتمالوں کی رعایت رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، والحمدللہ۔ بہرکیف گرہوں کے اندر پھونکیں مارنا دراصل کنایہ ہے جادوگری سے کیونکہ جادوگر لوگ بالعموم ایسے ہی کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ہر قسم کے خطرے سے اللہ کی پناہ
تشریح :۔ یہ سورت ہر قسم کی پریشانی ' نقصان ' تکلیف ' ضرر ' کفر ' شرک ' گناہ ' نفرت ' حسد ' بغض، جادو اور گناہوں سے بچنے کے لیے اس رب العزت ' خالق ومالک الہ العٰلمین کی پناہ کی فضیلتیں بیان کرتی ہے جو انسانی زندگی میں ہر وقت آتی جاتی رہتی ہیں اور جن کا مداوا ہر صورت میں اللہ ہی کے حکم اور مدد سے ہوتا ہے۔
اس سورت میں خاص طور سے ان تین چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو انسانی تکالیف کی بنیاد ہیں۔
1 ۔ رات کی تاریکی : یہ بھی اکثر جرائم کے لیے کافی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ '' جب سورج غروب ہوجائے تو شیاطین ہر طرف پھیل جاتے ہیں ' لہٰذا اپنے بچوں کو گھروں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة الفلق۔
آیات 1 تا 5۔
اسرار ومعارف۔
فرمادیجئے پناہ مانگتا ہوں اس رب کی جو تاریکی دور کرکے صبح پیدا کرتا ہے ہراس شے جو اس نے پیدا کی ہے برائی اور شر سے اور اندھیرے کے شر سے جب وہ یکجا ہونے لگے اور عورتوں کی گروہوں میں پھونک مارنے کی شر یعنی جادوٹونے کے شر سے کہ شیطانی عملیات سے کوئی نقصان نہ پہنچے اور حسد کرنے والوں کے حسد کے شر سے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 3 ابو عبید کہتے ہیں کہ جادو گرنیوں سے مراد لبید بن اعصم یہودی کی بٹیاں ہیں جنہوں نے نبی ﷺ پر جادو کیا تھا۔ “ جادو کے متعلق نبی ﷺ کا ارشاد ہے۔” جو کوئی گنڈا لگائے اور پھر اس پر پھونکے اس نے جادو کیا اور جس نے جادو کیا اس نے شرک کیا اور جو کسی چیز سے چمٹا وہ اسی کی طرف چھوڑ دیا گیا۔ (فتح القدیر بحوالہ نسائی وغیرہ عن ابی ہریرہ)
Read the full tafseer →(113:4) ومن شر النفثت فی العقد (ملاحظہ ہو آیات مذکورہ بالا 2-3)
ترجمہ ہوگا :۔ (اور خصوصی طور پر پناہ مانگتا ہوں صبح کے پروردگار کی) ان کے شر سے جو پھونکیں مارتی ہیں گرہوں میں۔
النفثت جمع نفاثۃ : کی۔ مبالغہ کا صیغہ ہے جمع مؤنث۔ نفث باب ضرب۔ نصر۔ مصدر سے۔ خوب دم کرنے والیاں۔ خوب پھونکیں مارنے والیاں۔ نفث کے معنی ہیں قدرے تھوک تھوکنا۔
علامہ ابن منظور کہتے ہیں :۔ تھوڑی تھوک تھوکنے کو التفل کہا جاتا ہے نفث بھی اس سے نیچے کا درجہ ہے جو پھونک مارنے کے زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔
عقد جمع ہے عقدۃ کی جس کے معنی گرہ (گانٹھ) کے ہیں۔ یہاں مراد وہ گرہیں ہیں جن کو جادوگرنیاں ڈوروں پر افسوس پڑھ کر پھونکنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔ الفلق۔ صبح۔ شر۔ برائی۔ غاسق ۔ سیاہ رات۔ وقب۔ چھا گیا۔ النفثت۔ پھونکنے والیاں۔ العقد۔ گرہیں۔ حاسد۔ حسد کرنے والا۔ جلنے والا۔
اصل میں ہمارے دین نے ہمیں جو تعلیم دی ہے اس میں اس بنیادی بات کو سکھایا گیا ہے کہ اللہ نے نفع اور نقصان کا اختیار کسی کو نہیں دیا۔ نفع اور نقصان صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا ہر آن اسی سے پناہ کی درخواست کرتے رہنا چاہیے ۔ اگر کوئی اس کی پناہ اور حفاظت میں آجائے تو وہ دنیا اور آخرت کے ہر طرح کے نقصانات سے بچ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورة الفلق اور سورة الناس میں اسی بات کو ارشاد فرمایا ہے یعنی یہودیوں اور لبید ابن عصیم نے سرکار دو عالم ﷺ کو شدید نقصان پہنچانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(ف 1) شان نزول۔ یہ سورت اور سورت الناس جو اس کے بعد ہے ان دونوں سورتوں کی شان نزول کی روایتیں جو حضرت عائشہ سے اور حضرت عبداللہ بن عباس اور انس ؓ سے صحیحین میں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ لبید بن اعصم یہودی اور اس کی بیٹیوں نے نبی ﷺ پر جادو کیا، اور حضور کے جسم مبارک اور اعضاء ظاہرہ پر اس کا اثر ہوا، قلب وعقل و اعتقاد پر کچھ اثر نہ ہوا، چند روز کے بعد حضرت جبرائیل آئے اور انہوں نے عرض کیا ایک یہودی نے آپ پر جادو کیا ہے اور جادوکا کچھ سامان ہے وہ ذرواں کا کنواں ہے وہاں ایک پتھر کے نیچے داب دیا ہے۔ حضور نے علی مرتضی ؓ کو بھیجا، انہوں نے کنویں کا پانی نکالنے کے بعد پتھراٹھایا، اس کے نیچے سے کھجور کے…
Read the full tafseer →[4] مراد ہیں جادوگر عورتیں جو ڈورے وغیرہ میں گرہ لگا کر اس پر جادو کے کلمات پڑھ کر پھونکتی ہیں۔ عورتوں کی تخصیص شاید اس وجہ سے کی گئی کہ جادو ٹونے کا کام عموماً عورتیں کرتی ہیں اور کچھ خلقتہ عورتوں کو اس سے مناسبت بھی زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہ سورة استعاذہ ہے ۔ اس میں مرد مسلم کو بتایا گیا ہے کہ اس کی ہر شتر اور فتنہ کی بات سے احتراز کرنا چاہیے اور اللہ سے نیک توفیق مانگنا چاہیے کہ وہ اس کو جسم اور روح کی ہر آزمائش سے بچائے اور اپنی آغوش پناہ میں لے لے ۔
الثقتت فی العقد ۔ جادوگرنیاں ۔ ابو مسلم کی رائے میں اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جو عزائم رجال میں التواء وانفساخ پیدا کردیتی ہیں ۔
Read the full tafseer →(4) اور ان جادوگرنیوں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو منتر پڑھ پڑھ کر گرہوں میں پھونک مارتی ہیں۔ یعنی وہ جادوگرنیاں جو کلمات کفریہ اور منتر پڑھ کر تانت میں یا بال میں گرہیں لگاتی ہیں اور ان میں پھونکیں مارتی ہیں۔ شاید اس سے مراد لبیدبن اعظم کی لڑکیاں ہوں یا عام جادوگرنیاں مراد ہوں کہ ان کے شر سے پناہ مانگتا ہوں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
ف 6۔ شاید فلق کی تخصیص بمقابلہ رات کے ہو اور اشارہ اس طرف ہو کہ جس طرح حق تعالیٰ لیل کا ازالہ کردیتا ہے اسی طرح اثر لیل یعنی سحر کا بھی اثر زائل کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →اور پناہ مانگتا ہوں ان کے شر سے جو گرہوں میں پھونک مارتی ہیں
4 (النفثت) صیغہ مبالغہ جمع جس کی واحد النفثۃ ہے نفث مصدر ہے خوب دم کرنے والیاں یا دم کرنے والے۔ اس کا صل مادہ نث ہے اور اس مادہ کا یہ ایک ہی لفظ قرآن کریم میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس مادہ کا کوئی دوسرا لفظ قرآن کریم میں نہیں آیا اور یہ ایک لفظ بھی صرف اس جگہ آیا ہے اور دوبارہ اس کا استعمال ہی نہیں ہوا۔ اور یہ پھونک مارنا ہے یا اس کے مثابہ ہے جیسے پھونک مارنا ہے۔ عقد جمع عقدۃ کی یعنی گرہ لگانا اور یہ انسانی قوت وہمہ کو متاثر کرنے کے لیے کچے دھاگے اکٹھا کرنے کے بعد اس میں گرہ لگاتے ہوئے اس کے اندر گرہ لگانا ہے اور اس کے تعلق سے گرہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
The word Sharr: ` Allamah Ibn Qayyim's Exposition
Verse [ 113:2] مِن شَرِّ مَا خَلَقَ (From the evil of everything He has created.) ` Allamah Ibn Qayyim expounds that the word sharr (evil) is employed in two different senses: [ 1] pain, loss, injury, trouble, grief, distress and affliction which affect man directly, and they are by themselves troubles and afflictions; and [ 2] the factors that cause losses, injuries and afflictions. The second type covers unbelief, idolatry and all sins. The things from which the Qur'an and Sunnah require man to seek refuge in Allah are either of these two…
Read the full tafseer →6 The word ' uqad in naffathat frl-'eqad is plural of 'uqdah, which means a knot that is tied on a string or piece of thread. Nafath means to blow. Naftathat is plural of naffathah, which may mean the men who blow much, and if taken as a feminine gender, women who blow much; it may as well relate to nufus (human beings) or to jama ats (groups of men) , for both nafas and jama 'at are grammatically feminine. Blowing upon knots, according to most, rather all, comentators implies magic, for the magicians usually tie knots on a string or thread and blow upon them as they do so. Thus, the verse…
Read the full tafseer →