Al-Falaq 113:5

Al-Falaq · from ayah 5

113:5

وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ۟۠وَمِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ

اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب حسد کرنے لگے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And from the evil of an envier when he envies."

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 38 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Falaq

All translations of 113:5

اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب حسد کرنے لگے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہر حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور حسد کرنے والے کی آفت سے جب وہ حسد کرے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور حسد کرنے والے کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے

— مولانا اسحاق مدنی

اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور حسد کرنے والے کے شر سے بھی (میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں) جب وہ حسد کرے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب وہ حسد کرے

— محترمہ رفعت اعجاز

and from the evil of the envier when he envies.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and from the evil of an envier when he envies.

— Muhammad Taqi Usmani

and from the evil of an envier when he envies.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And from the evil of the envier when he envies."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And from the evil of the envier when he envieth.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And from the evil of an envier when he envies."

— Saheeh International

and from the evil of the envious ones.

— Muhammad Sarwar

And from the evil of the envious when he envies

— Muhammad Habib Shakir

And from the evil of the envier when he envieth.

— Abdul Majid Daryabadi

And from the mischief of the envious one as he practises envy.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 113:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے باؤ کی دعا٭٭ حضرت جابر وغیرہ فرماتے ہیں فلق کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں نور جگہ ہے فالق الاصباح ابن عباس سے مروی ہے فلق سے مراد مخلوق ہے، حضرت کعب احبار فرماتے ہیں فلق جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جسم میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الفلق 7 حسد کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو اللہ نے جو نعمت یا فضیلت یا خوبی عطا کی ہو اس پر کوئی دوسرا شخص جلے اور یہ چاہے کہ وہ اس سے سلب ہو کر حاسد کو مل جائے یا کم از کم یہ کہ اس سے ضرور چھن جائے۔ البتہ حسد کی تعریف میں یہ بات نہیں آتی کہ کوئی شخص یہ چاہے کہ جو فضل دوسرے کو ملا ہے وہ مجھے بھی مل جائے۔ یہاں حاسد کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ اس حالت میں مانگی گئی ہے جب کہ وہ حسد کرے، یعنی اپنے دل کی آگ بجھانے کے لیے قول یا عمل سے کوئی اقدام کرے۔ کیونکہ جب تک وہ کوئی اقدام نہیں کرتا اس وقت تک اس کا جلنا بجائے خود چاہے برا سہی، مگر محسود کے لیے ایسا شر نہیں بنتا کہ اس سے پناہ مانگی جائے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–5

من شر ما خلق کے لفظ میں ساری مخلوقات کا شرداخل ہے اس لئے یہ کلمہ تمام شرور آفتاب سے پناہ لینے کے لئے کافی تھا مگر اس جگہ تین چیزوں کو ممتاز کر کے ان کے شر سے پناہ مانگنے کا علیحدہ ذکر فرمایا جو اکثر آفات و مصائب کا سبب بنتی ہیں۔ پہلے فرمایا من شرعغاسق اذا وقب اس میں لفظ غاسق غسق سے مشتق ہے جس کے معنی اندھیری کا پھیل جانا اور چھا جانا ہے اس لئے غاسق کے معنی حضرت ابن عسا اور حسن اور مجاہد نے رات کے لئے ہی اور وقب وقوب کے مشتق ہے جس کے معنی اندھیری کے پوری طرح بڑھ جانے کے ہیں۔ معنی یہ ہیں کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں رات سے جبکہ اس کی اندھیری پوری ہوجاوے رات کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ یہی وقت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حاسدوں کے حسد سے بچنے کی دعا: یہ آخر میں حاسدوں کے حسد کے شر سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔ اگرچہ لفظ ’حَاسِد‘ یہاں عام ہے اور اس کو عام ہی رکھنا چاہیے بھی، اس لیے کہ جس حاسد کا حسد بھی بحرانی شکل اختیار کر لے وہ قابیل کے حسد کی طرح ہابیل کا خون بہا کر ہی اترتا ہے، اس وجہ سے اس سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ لیکن سورہ کی تمہید میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ بنی آدم کا سب سے بڑا حاسد شیطان ہے اور اس کو خاص کد عقیدۂ توحید سے ہے۔ اس عقیدہ سے برگشتہ کرنے کے لیے اس نے اپنے جس عزم بالجزم کا اظہار کیا ہے اس کے شواہد ہم اوپر نقل کر آئے ہیں۔ یہاں سورۂ بنی اسرائیل کی آیات بھی نقل کیے دیتے ہیں تاکہ ’اِذَا حَسَدَ‘…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 حسد یہ ہے کہ حاسد، محسود سے زوال کی نعمت کی آرزو کرتا ہے چناچہ اس سے بھی پناہ طلب کی گئی ہے کیونکہ حسد بھی ایک نہایت بری اخلاقی بیماری ہے جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–5

3: جانوں کے شر سے، جانوں کے لفظ میں مرد اور عورت دونوں داخل ہیں، جادو گر مرد ہوں یا عورت، دھاگے کے گنڈے بناکر اس میں گرہیں لگاتے جاتے ہیں اور ان پر کچھ پڑھ پڑھ کر پھو نکتے رہتے ہیں۔ ان کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

اس سورت میں اللہ اپنی وہ صفات بیان فرماتا ہے ، جس کے ذریعہ اس شر سے پناہ حاصل ہوتی ہے ، جس کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے۔ قل اعوذ ................ الفلق (1:113) ” کہو ، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی “۔ فلق کے معانی میں سے ایک معنی صبح کا ہے اور ایک معنی ” مخلوق “ کا بھی ہے۔ بایں معنی کہ ہر وہ چیز جس سے وجود اور زندگی پھوٹتی ہے جس طرح سورة انعام (95) میں کہا گیا ہے۔ ان اللہ فالق ........................................ من الحی (95:6) ” اللہ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ وہ زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالنے والا ہے “۔ اور اگلی آیت (96) میں ہے۔ فالق الاصباح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اس وقت اس کی ٹوک لگ جاتی ہے۔ بیشک ٹوک یا نظر لگ جانا ایک امر واقع ہے۔ " لیکن اکثر مفسرین کے نزدیک " ومن شر حاسد اذا حسد " کا مطلب یہ ہے کہ حاسد جب اپنی قلبی کیفیت کو ضبط نہ کرسکے اور عملی طور پر حسد کا اظہار کرنے لگے، اس کی بدی سے پناہ مانگنا چاہئے۔ اگر ایک شخص کے دل میں بےاختیار حسد پیدا ہو مگر وہ اپنے نفس کو قابو میں رکھ کر محسود کے ساتھ کوئی ایسا برتاؤ نہ کرے وہ اس سے خارج ہے۔ نیز یاد رکھنا چاہیے کہ حسد کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے سے اللہ کی دی ہوئی نعمت کے زوال کا متمنی ہو۔ باقی یہ آرزو کرنا کہ مجھے بھی ایسی نعمت یا اس سے زائد عطا ہو جو فلاں کو عطا ہوئی ہے۔ حسد…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5{ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۔ } ”اور حسد کرنے والے کے شر سے بھی میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جب وہ حسد کرے۔“ ظاہر ہے جب ایک انسان کسی دوسرے انسان سے حسد کرتا ہے تو عین ممکن ہے وہ اپنے حاسدانہ جذبات سے مغلوب ہو کر عملی طور پر بھی اسے نقصان پہنچانے کے درپے ہوجائے۔ حضرت ابوہریرہ رض سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اَلْعَیْنُ حَقٌّ 1 یعنی نظر لگ جانا برحق ہے۔ چناچہ حاسدانہ نگاہ بذات خود بھی منفی اثرات کی حامل ہوسکتی ہے۔ اس لیے حاسد کے شر سے بچنے کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ کی ضرورت ہے۔ بہرحال جادو ‘ ٹونے ‘ تعویذ گنڈے ‘ نظر بد وغیرہ کے اثرات اپنی جگہ مسلم ّہیں۔ سورة البقرۃ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 حَسَدَ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت، فضیلت، عزوشرف عطا کیا ہو تو اس پر کوئی دوسرا شخص اس سے جلے اور یہ چاہے کہ اس سے یہ نعمت چھن کر حاسد کو مل جائے یا کم از کم اس سے ضرور چھن جائے۔ البتہ اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اس جیسی نعمت مجھے بھی اللہ عطا کردے تو یہ حسد نہیں بلکہ رشک ہے جسے عربی زبان میں (غِبطہ) کہتے ہیں اور یہ جائز ہے۔ حاسد سے پناہ اس صورت میں مانگی گئی ہے جب وہ حسد کرے اور حسد کی بنا پر کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ اس سے پہلے وہ محسود کے لیے ایسا شر نہیں بنتا کہ اس سے پناہ مانگی جائے۔ وہ اپنے طور پر اندر ہی اندر جلتا ہے تو جلتا رہے۔ اسے اپنے اس عمل کی یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ دنیوی مخالفتوں اور عداوتوں کی تہ میں عموما اور اکثر حسد ہی کام کرتا ہے، حسد کی کارفرمائیوں سے پناہ چاہنا دنیوی تکالیف کے اسباب میں سے ایک بہت بڑے سبب سے پناہ چاہ لینے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–5

ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں ال لہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، کہو کہ میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی (یعنی) حیوان مکلف اور غیر مکلف کے شر سے اور جماد کے شر سے مثلاً زہرہ وغیرہ، اور رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھا جائے، یعنی رات کے شر سے جب وہ تاریک ہوجائے، یا چاند کے شر سے جب وہ غروب ہوجائے، اور پھونکنے والی جادو گرنیوں کے شر سے جو گرہوں میں تھوک کے بغیر پھونکیں وہ گرہیں کہ جن کو وہ دھاگے میں لگاتی ہیں اور زمخرشی نے کہا ہے، تھوک کے ساتھ جیسا کہ لبید مذکور کی بیٹیاں اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے یعنی اپنے حسد کو ظاہر کرے اور اس کے مقتضی پر عمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن شر حاسد اذا حسد . اور حاسد کے اس وقت کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جبکہ وہ حسد کا مظاہرہ کر رہا ہو اور اذیت رسانی میں مشغول ہو۔ یہ قید لگانے کی ضرورت اس وجہ سے پڑی کہ مظاہرۂ حسد اور اذیت رساں عمل میں مشغول ہونے سے پہلے حسد کا دکھ حاسد ہی کو پہنچتا ہے۔ دوسرے کی خوشی سے اسی کو رنج ہوتا ہے (لیکن وہ جل کر ضرر رساں عمل کرنے لگتا ہے تو اس شخص کو دکھ پہنچنے لگتا ہے ‘ جس سے حاسد جلتا ہے) ۔ شرما خلق : ہر شر کو شامل تھا ‘ اس کے بعد ذکر ہونے والے تینوں شر یعنی شر غاسق اور شر النفثت اور شر حاسد اس میں داخل تھے۔ اس کے باوجود خصوصیت کے ساتھ ان کو اس لیے ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو شر کیا گیا تھا ‘ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 5)۔ محمد ﷺ آپ فرمائیے میں صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں تمام مخلوقات کے شر سے اور رات کے شر سے جب وہ آکر چھا جائے اور گرہوں پر پڑھ پڑھ پھونک مارنے والی جادو گرنیوں کے شر سے اور حاسد کے شر سے لبید بن اعصم یہودی نے حضور پر حسد میں جادو کردیا تھا اس کو رفع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سورتیں نازل کیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ومن شر حاسد اذا حسد :”حسد“ کا معنی ہے کسی شخص پر اللہ کی نعمت سے جلنا کہ یہ نعمت اسے کیوں ملی اور اس کے زوال کی تمنا کرنا۔ پھر خواہ یہ خواہش یا کوشش ہو کہ وہ حسد کرنے والے کو ملے یا نہ ہو۔ قباحت کے لحاظ سے حسد کے کئی درجے ہیں، سب سے بدتر یہ ہے کہ کسی شخص کو اللہ نے جو نعمت دی ہے اس سے چھن جانے کی تمنا کے ساتھ ساتھ قول و عمل کے ذریعے سے یہ کوشش بھی کرے کہ وہ نعمت اس سے چھن جائے۔ پھر بعض کی کوشش ہوئی ہے کہ اس سے چھن کر مجھے مل جائے اور بعض کو اس سے غرض نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس پر خوش ہوتے ہیں کہ اس کے پاس یہ نعمت نہیں رہی۔ دوسرا یہ کہ عملی طور پر تو اسے نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے، لیکن دل…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

حسد کی تشریح کرتے ہوئے ابن منظور لکھتے ہیں : اذا تمنی ان تتحول الیہ نعمتہ وفضیلتہ او یسلبھما ھو۔ (لسان العرب) یعنی کسی کی خوشحالی اور عزت کو دیکھ کر جلنا اور یہ آرزو کرنا کہ کاش یہ دولت اس کے بجائے مجھے ملتی، اس عزت وفضیلت سے اس کے بجائے میں بہرہ ور ہوتا۔ اور اگر یہ چیزیں میرے نصیب میں تھیں، تو کم از کم اس سے چھین لی جاتیں، اس کو بھی ان سے محروم کردیا جاتا۔ یہ جذبہ انسان کی کمینگی اور خست طبع پر دلالت کرتا ہے، لیکن بات یہاں تک محدود نہیں رہتی۔ بسا اوقات یہ بڑے بڑے جور وستم کا سبب بن جاتی ہے۔ جو انسان حسد کی آگ میں جل رہا ہوتا ہے۔ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھا نہیں رہتا بلکہ ایسی تدبیریں سوچتا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

55۔ الحاکم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ اور فرمایا کیا میں تجھ کو وہ دم نہ کردوں جو دم مجھے جبریل (علیہ السلام) نے کیا تھا میں نے کہا کیوں نہیں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں تو آپ نے اس طرح دم فرمایا آیت بسم اللہ ارقیک واللہ یشفیک من کل داء منک اللہ کے نام کے ساتھ میں تجھ پر دم کرتا ہوں اور اللہ تجھ کو شفا دیں گے ہر اس بیماری سے جو یرے اندر ہے۔ آیت ومن شر النفثت فی العقد۔ ومن شر حاسد اذا حسد اور اس کے ساتھ آپ نے تین مرتبہ دم فرمایا۔ 56۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے سر مبارک میں درد کو پایا۔ آپ نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ : اور حسد کرنے والے کے شر سے ][ اِذَا حَسَدَ : جب وہ حسد کرے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ (رح) 005﴾ (اور صبح کے رب کی پنا لیتا ہوں حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے) حسد بری بلا ہے انسان کا ناس کھو دیتا ہے جب اللہ تعالیٰ کسی کو علوم سے اعمال سے یا جمال سے یا اموال اور کمال سے نواز دیتا ہے تو دیکھنے والے اس سے جلنے لگتے ہیں اور چاہتے کہ یہ نعمت اس کے پاس نہ رہے بعض لوگ تو صرف اتنی آرزو ہی سے اپنے نفس کی خواہش کا کام چلا لیتے ہیں اور بعض لوگ اس میں اضافہ کرلیتے ہیں اور وہ یہ کہ اس کے پاس نہ رہے بلکہ ہمیں مل جائے اور بعض لوگ صرف آرزو ہی پر بس نہیں کرتے۔ صاحب نعمت کو تکلیف پہنچانے کے درپے ہوجاتے ہیں اسے پریشانی میں مبتلا کرتے ہیں اس کے مقابل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

تعلیم تعوذ و حصول پناہ از مہالک حسیہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل اعوذبرب الفلق ..... الی ...... ومن شر حاسد اذا حسد “۔ (ربط) اس سے قبل سورة اخلاص (قل ھو اللہ احد) میں عقیدہ توحید کا بیان تھا اور یہ کہ نجات کا دارومدار اسی پر ہے کہ خداوند عالم کو اسکی ذات وصفات کے لحاظ سے یکتا ماناجائے گا اور اس طرح کہ نہ اس کا کوئی نمونہ ہے اور نہ اس کی کوئی ہمسری کرنے والا ہے تو اسی عقیدہ کا نام ایمان ہے اور اسی پر بندہ کی نجات و کامیابی موقوف ہے اب اس سورت مبارکہ میں مومن کے عقیدہ اور انسان کی سعادت میں جو چیزیں خلل انداز ہیں اور اسکو ہلاکت وتباہی میں ڈالنے والی ہیں انکو بیان کیا جارہا ہے بہت سی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

4:۔ ” ومن شر النفثت “ گرہوں میں پھونکنے والیوں سے جادو کرنے والی عورتوں مراد ہیں۔ عام طور پر عورتیں ہی جادو کا کام کرتی ہیں اس لیے ان کا ذکر فرمایا۔ یا اس سے لبید بن اعصم یہودی کی بیٹیاں مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کیا تھا۔ ” ومن شر حاسد اذا حسد “ اور ہر حاسد اور زوال نعمت کی آرزو کرنے والے کے شر سے بھی پناہ مانگو۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی صرف ایک صفت ذکر کی گئی ہے اور جن چیزوں سے استعاذہ مقصود ہے ان میں پہلی چیز عام ہے یعنی شر ما خلق، اور پھر اس کے بعد تین مخصوص چیزوں کا ذکر ہے، غاسق، نفاثات اور حاسد اور سورة الناس میں اس کا عکس ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الفلق ہے۔ یہ مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی پانچ آیات ہیں۔ یہ سورة تئیس الفاظ اور انہتر حروف پر مشتمل ہے۔ اس کی پہلی آیت میں فلق کا لفظ مذکور ہے۔ جس سے سورة کا نام لیا گیا ہے۔ فضیلت معوذتین آخری دو سورتیں یعنی سورة فلق اور سورة و الناس معوذتین کہلاتی ہیں۔ احادیث میں ان کی بہت فضیلت آئی ہے۔ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں سورتیں اکٹھی نازل ہوئیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا 1 ؎ کہ مجھ پر ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ ان کی مثل کوئی آیت نہیں ہے۔ محدثین کرام فرماتے ہیں کہ تعود کے باب میں یعنی برائیوں سے پناہ مانگنے کے سلسلے میں جتنا اثر یہ دو سورتیں رکتھی ہیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۝ 5 ۧ شر الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] ، وقد تقدّم تحقیق الشّرّ مع ذکر الخیر وذکر أنواعه ورجل شَرٌّ وشِرِّيرٌ: متعاط للشّرّ ، وقوم أَشْرَارٌ ، وقد أَشْرَرْتُهُ : نسبته إلى الشّرّ ، وقیل : أَشْرَرْتُ كذا : أظهرته واحتجّ بقول الشاعر :إذا قيل : أيّ الناس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ برب الفلق الجار متعلق باعوذ الفلق بالتحریک الصبح واصلہ الشق یقال فلقت الشیء فلقاً شفققۃ والتغلیق مثلہ یقال فلقۃ فانفلق وھو عام تینا ول فلق الصبح من ظلام الیل والحبوب والنباتات من الارض والماء من الجبال قال اللہ تعالیٰ فالق الاصباح وقال فالق الحب والنویٰ وقال فانفلق فکان کل فرق کالطودالعظیم۔ من شرما خلق متعلق باعوذ۔ ما بمعنی الذی والعائد محذوف ویجوزان تکون مصدریۃ ویکون الخلق بمعنی المخلوق و قریٔ الجمھور باضافۃ شرالی ماوقری ابوحنیفہ (رح) بتنوین شروماعلی ھذا مع الفعل بتاویل المصدر فی موضع الجربدل من شر ای شرٍ خلقہ۔ وقال بعضھم ما نافیۃ والمعنی من شرلم یخلقہ وھذافاسد لان النافیۃ لایتقدم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ۔ (الفلق : 5) (اور حاسد کے شر سے جبکہ وہ حسد کرے۔ ) حاسدوں کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم حسد کی تشریح کرتے ہوئے علامہ ابن منظور نے لسان العرب میں لکھا ہے اِذَا تَمَنّٰی اَنْ تَتَحَوَّلَ اِلَیْہِ نَعْمَتَہُ وَفَضِیْلَتَہُ اَوْیُسِلِبُہُمَا ھُوَ ” یعنی کسی کی خوشحالی اور عزت کو دیکھ کر جلنا اور یا آرزو کرنا کہ کاش یہ دولت اس کے بجائے مجھے ملتی۔ اس عزت و فضیلت سے اس کی بجائے میں بہرہ ور ہوتا اور اگر یہ چیزیں میرے نصیب میں نہ تھیں تو کم از کم اس سے چھین لی جاتیں، اس کو بھی ان سے محروم کردیا جاتا۔ “ اس کے مقابل ایک اور لفظ استعمال ہوتا ہے جسے غبطہ یا رشک کہتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

حسد : حسد ایسا مرض ہے کہ جو شخص اس میں مبتلا ہوجائے وہ حسد کی وجہ سے کسی کی عزت و تکریم کو برداشت نہیں کرتا، بسا اوقات یہ بیماری اس قدر خطرناک صورت اختیار کرجاتی ہے کہ حاسد کو اپنی عزت کا بھی خیال نہیں رہتا۔ اس لیے ایسے شخص کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ إِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ ) (رواہ ابوداؤد : کتاب الادب، باب فی الحسد) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ سوکھی لکڑیاں کھا جاتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : وَ مِنْ شَرِّحَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ (اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے) یعنی جب وہ اپنا حسد ظاہر کرے اور اس کے مقتضی کے مطابق عمل کرے کیونکہ جب وہ ظاہر نہیں ہوگا تو پھر اس کا ضرر محسود پر مرتب نہ ہوگا۔ بلکہ وہ خود اس کے اپنے نفس کیلئے نقصان اور غم کا باعث بنے گا۔ حسد دوسرے کے ہاں کسی بھلائی کو دیکھ کر اس پر افسوس اور تمنائے زوال کرنا۔ نکتہ : ماخلق کے شر سے استعاذہ کے بعد ان اشیاء سے استعاذہ اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ ان کا شر بہت شدید ہے اور سب سے آخری شر جس سے استعاذہ کیا گیا وہ حسد ہے۔ اس سے بتلایا کہ یہ شر میں ان سب سے اعظم تر ہے۔ یہ وہ پہلا گناہ ہے جس کے ذریعہ ابلیس نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ عقبہ بن عامر سے صحیح 9 ؎ مسلم ترمذی نسائی وغیرہ میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آج کی رات خدا تعالیٰ نے چند آیتیں نازل فرمائی ہیں جو مجھ کو بہت ہی اچھی معلوم ہوتی ہیں پھر آپ ﷺ نے قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ان دونوں سورتوں کا نام بتایا۔ اس حدیث سے ان دونوں سورتوں کی فضیلت بھی معلوم ہوئی اور یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ قرآن کی اور آیتوں کی طرح یہ دونوں سورتیں بھی قرآن کا جز ہیں اسی واسطے اور حدیثوں سے یہ بھی معلوم 1 ؎ ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان دونوں سورتوں کو صبح کی نماز میں پڑھا ہے ان حدیثوں سے حضرت عبد اللہ بن مسعود کے اس قول کا ضعیف ہونا ثابت ہوتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ) اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ حاسد وہ ہے جو محسود کی نعمت کا زوال چاہتا ہے اور ان تمام اسباب کے ذریعے سے جن پر وہ قادر ہے اس نعمت کے زوال کے لیے کوشاں رہتا ہے تب اس کے شر سے بچنے اور اس کے مکروفریب کے ابطال کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ کی حاجت ہوتی ہے نظر لگانے والا بھی حاسد ہی شمار ہوتا ہے کیونکہ نظر بد صرف حاسد، شریر الطبع اور خبیث النفس شخص ہی سے صادر ہوتی ہے۔ یہ سورة کریمہ عام طور پر اور خاص طور پر شر کی تمام انواع سے استعاذہ کو متضمن ہے نیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کی حقیقت ہے اس کے ضرر سے ڈرا جاتا ہے اور اس سے اللہ کی پناہ مانگی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

حاسد کی نظر بد اور شر سے خدا کی پناہ مانگنا قول باری ہے (ومن شر حاسد اذا حسد اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے ، انہوں نے قتادہ سے اس قول باری کی تفسیر میں بیان کیا کہ ” انسان کہے کہ حاسد کی نظر بد اور اس کی ذات کے شر سے۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں نظر بد سے بچنے کے لئے جھاڑ پھونک کا حکم دیا تھا ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (العین حق نظر بد برحق ہے) نظر بد کے بارے میں حضور ﷺ سے مروی روایات ایک دوسری کی تائید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

6 ۔ حاسد کے شر سے بچنے کی دعا کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا اور حاسد کے شر سے جبکہ وہ حسد کرے کہ محسوس حاسد کا ضرور و نقصان پہنچتا ہے جبکہ وہ (حاسد) حسد کرنے، اور اس کے مقتضی پر عمل کرنے پر اتر آیا ہے، ورنہ اس سے قبل حسد کا نقصان خود حاسد ہی کو پہنچتا ہے، اور وہ اس کی ٹھنڈی آگ میں خود ہی جلتا بھنتا رہتا ہے، اسی لیے حدیث شریف میں فرمایا گیا حسد کرنا منافق کا کام ہے، مومن کا نہیں، مومن غبطہ یعنی رشک کرتا ہے اور حاسد حسد، (المومن یغبط والمنافق یحسد، روح وغیرہ) اور فرمایا کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے، (الحسد یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب) نیز…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

ہر قسم کے خطرے سے اللہ کی پناہ تشریح :۔ یہ سورت ہر قسم کی پریشانی ' نقصان ' تکلیف ' ضرر ' کفر ' شرک ' گناہ ' نفرت ' حسد ' بغض، جادو اور گناہوں سے بچنے کے لیے اس رب العزت ' خالق ومالک الہ العٰلمین کی پناہ کی فضیلتیں بیان کرتی ہے جو انسانی زندگی میں ہر وقت آتی جاتی رہتی ہیں اور جن کا مداوا ہر صورت میں اللہ ہی کے حکم اور مدد سے ہوتا ہے۔ اس سورت میں خاص طور سے ان تین چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو انسانی تکالیف کی بنیاد ہیں۔ 1 ۔ رات کی تاریکی : یہ بھی اکثر جرائم کے لیے کافی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ '' جب سورج غروب ہوجائے تو شیاطین ہر طرف پھیل جاتے ہیں ' لہٰذا اپنے بچوں کو گھروں میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–5

سورة الفلق۔ آیات 1 تا 5۔ اسرار ومعارف۔ فرمادیجئے پناہ مانگتا ہوں اس رب کی جو تاریکی دور کرکے صبح پیدا کرتا ہے ہراس شے جو اس نے پیدا کی ہے برائی اور شر سے اور اندھیرے کے شر سے جب وہ یکجا ہونے لگے اور عورتوں کی گروہوں میں پھونک مارنے کی شر یعنی جادوٹونے کے شر سے کہ شیطانی عملیات سے کوئی نقصان نہ پہنچے اور حسد کرنے والوں کے حسد کے شر سے ۔

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–5

ف 3 ابو عبید کہتے ہیں کہ جادو گرنیوں سے مراد لبید بن اعصم یہودی کی بٹیاں ہیں جنہوں نے نبی ﷺ پر جادو کیا تھا۔ “ جادو کے متعلق نبی ﷺ کا ارشاد ہے۔” جو کوئی گنڈا لگائے اور پھر اس پر پھونکے اس نے جادو کیا اور جس نے جادو کیا اس نے شرک کیا اور جو کسی چیز سے چمٹا وہ اسی کی طرف چھوڑ دیا گیا۔ (فتح القدیر بحوالہ نسائی وغیرہ عن ابی ہریرہ)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(113:5) ومن شر حاسد اذا حسد : (ملاحظہ ہو آیات 2-3 متذکرہ بالا) ترجمہ :۔ (اور میں خصوصی طور پر پناہ مانگتا ہوں) حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ حاسد کے شر سے اس وقت پناہ مانگنے کو فرمایا جب وہ حسد کو عملی جامہ پہنائے کیونکہ اس سے قبل حسد کی آگ خود حاسد کے اندر ہی بھڑکتی رہتی ہے۔ اور اس کی اپنی ذات کے لئے سوہان روح بنی رہتی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن۔ الفلق۔ صبح۔ شر۔ برائی۔ غاسق ۔ سیاہ رات۔ وقب۔ چھا گیا۔ النفثت۔ پھونکنے والیاں۔ العقد۔ گرہیں۔ حاسد۔ حسد کرنے والا۔ جلنے والا۔ اصل میں ہمارے دین نے ہمیں جو تعلیم دی ہے اس میں اس بنیادی بات کو سکھایا گیا ہے کہ اللہ نے نفع اور نقصان کا اختیار کسی کو نہیں دیا۔ نفع اور نقصان صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا ہر آن اسی سے پناہ کی درخواست کرتے رہنا چاہیے ۔ اگر کوئی اس کی پناہ اور حفاظت میں آجائے تو وہ دنیا اور آخرت کے ہر طرح کے نقصانات سے بچ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة الفلق اور سورة الناس میں اسی بات کو ارشاد فرمایا ہے یعنی یہودیوں اور لبید ابن عصیم نے سرکار دو عالم ﷺ کو شدید نقصان پہنچانے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

(ف 1) شان نزول۔ یہ سورت اور سورت الناس جو اس کے بعد ہے ان دونوں سورتوں کی شان نزول کی روایتیں جو حضرت عائشہ سے اور حضرت عبداللہ بن عباس اور انس ؓ سے صحیحین میں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ لبید بن اعصم یہودی اور اس کی بیٹیوں نے نبی ﷺ پر جادو کیا، اور حضور کے جسم مبارک اور اعضاء ظاہرہ پر اس کا اثر ہوا، قلب وعقل و اعتقاد پر کچھ اثر نہ ہوا، چند روز کے بعد حضرت جبرائیل آئے اور انہوں نے عرض کیا ایک یہودی نے آپ پر جادو کیا ہے اور جادوکا کچھ سامان ہے وہ ذرواں کا کنواں ہے وہاں ایک پتھر کے نیچے داب دیا ہے۔ حضور نے علی مرتضی ؓ کو بھیجا، انہوں نے کنویں کا پانی نکالنے کے بعد پتھراٹھایا، اس کے نیچے سے کھجور کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

یہ سورة استعاذہ ہے ۔ اس میں مرد مسلم کو بتایا گیا ہے کہ اس کی ہر شتر اور فتنہ کی بات سے احتراز کرنا چاہیے اور اللہ سے نیک توفیق مانگنا چاہیے کہ وہ اس کو جسم اور روح کی ہر آزمائش سے بچائے اور اپنی آغوش پناہ میں لے لے ۔ الثقتت فی العقد ۔ جادوگرنیاں ۔ ابو مسلم کی رائے میں اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جو عزائم رجال میں التواء وانفساخ پیدا کردیتی ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) اور ہر حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے - حسد کا مطلب یہ ہے کہ حاسد زوال نعمت کا خواہشمند ہوتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ محسود کی نعمت زائل ہوجائے اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جب یہ حاسد اپنے حسد کو ضبط نہ کرسکے اور اپنے حسد کو ظاہر کردے اور ہونسنے والا ہون سے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اس وقت ہونسنے والے کی ٹوک لگ جاتی ہے۔ بہرحال حاسد کا شر بہت خطرناک ہے اس لئے اس کے شر سے بھی پناہ مانگتا ہوں اس سورت میں حق تعالیٰ کا ایک وصف۔ رب الفلق مذکور ہے اور جن سے پناہ مانگی گئی ہے وہ چار چیزیں ہیں تمام مخلوق کی برائی اور خاص طور پر رات کے اندھیرے کی برائی جادوگرنیوں کی برائی کے شر سے اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–5

ف 6۔ شاید فلق کی تخصیص بمقابلہ رات کے ہو اور اشارہ اس طرف ہو کہ جس طرح حق تعالیٰ لیل کا ازالہ کردیتا ہے اسی طرح اثر لیل یعنی سحر کا بھی اثر زائل کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور ہر حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے 5 (حسد) اس نے حسد کیا۔ حسد سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ حسد کی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ : اذا تمنی ان تتحول الیہ نعمتہ و فضیلتہ او یسلبھما ھو (لسان العرب) کسی کی خوشحالی اور عزت کو دیکھ کر جلنا اور یہ آروز کرنا کہ کاش یہ دولت اس کی بجائے مجھے ملتی۔ اس عزت و فضیلت سے اس کی بجائے میں بہرہ در ہوتا اور اگر یہ چیزیں میرے نصیب میں نہ تھیں تو کم از کم اس سے چھین لی جاتیں۔ اس کو بھی ان سے محروم کردیا جاتا… یہ جذبہ انسان کی کمینگی اور خست طبع پر دلالت کرتا ہے لیکن بات یہاں تک محدود نہیں رہتی۔ بسا اوقات یہ بڑے بڑے جورو ستم کا سبب بن جاتی ہے جو انسان حسد کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–5

The word Sharr: ` Allamah Ibn Qayyim's Exposition Verse [ 113:2] مِن شَرِّ‌ مَا خَلَقَ (From the evil of everything He has created.) ` Allamah Ibn Qayyim expounds that the word sharr (evil) is employed in two different senses: [ 1] pain, loss, injury, trouble, grief, distress and affliction which affect man directly, and they are by themselves troubles and afflictions; and [ 2] the factors that cause losses, injuries and afflictions. The second type covers unbelief, idolatry and all sins. The things from which the Qur'an and Sunnah require man to seek refuge in Allah are either of these two…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 Hasad means that a person should feel unhappy at the better fortune, superiority or good quality that Allah has granted to another, and should wish that it should be taken away from the other person and given to him, or at least the other one should be deprived of it. However, hasad does not mean that a person should wish that he too should be blessed with the bounty that the other one has been blessed with. Here, Allah's refuge has been sought from the evil of the jealous one when he feels jealous, and takes a practical step with word or deed to satisfy his heart. For until he takes a…

Read the full tafseer →