An-Naas 114:1

114. An-Naasالناس

Mankind · Meccan · 6 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

114:1

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۟ۙقُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ

کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "I seek refuge in the Lord of mankind,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 39 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naas

All translations of 114:1

کہو، میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہو کہ : میں پناہ مانگتا ہوں سب لوگوں کے پروردگار کی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم کہو میں اس کی پناہ میں آیا جو سب لوگوں کا رب

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ عرض کیجئے کہ میں (سب) انسانوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کہہ میں پناہ پکڑتا ہوں لوگوں کے رب کی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ کہیے کہ : میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ، میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو میں پناہ مانگتا ہوں سب لوگوں کے رب کی

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہیے کہ میں انسانوں کے پروردگار کی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہیے کہ میں پناہ میں آتا ہوں تمام انسانوں کے رب کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہو کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: “I seek refuge with the Lord of mankind;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :I seek refuge with the Lord of mankind,

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :I seek refuge with the Lord of mankind,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "I seek refuge with the Lord of An-Nas,"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: I seek refuge in the Lord of mankind,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "I seek refuge in the Lord of mankind,

— Saheeh International

(Muhammad), say, "I seek protection from the Cherisher of mankind,

— Muhammad Sarwar

Say: I seek refuge in the Lord of men,

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: I seek refuge with the Lord of mankind,

— Abdul Majid Daryabadi

Say: I seek refuge with the Lord and Cherisher of Mankind,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 114:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ٭٭ اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہؤی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برت رصفات والے اللہ کی پناہ میں آجائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو وب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة الناس 1 یہاں بھی سورة فلق کی طرح اعوذ باللہ کہنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کو اس کی تین صفات سے یاد کر کے اس کی پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ایک اس کا رب الناس، یعنی تمام انسانوں کا پروردگار و مربی اور مالک و آقا ہونا۔ دوسرے اس کا ملک الناس، یعنی تمام انسانوں کا بادشاہ اور حاکم و فرمانروا ہونا۔ تیسرے اس کا الہ الناس، یعنی انسانوں کا حقیقی معبود ہونا۔ (یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ الہ کا لفظ قرآن مجید میں دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک وہ شے یا شخص جس کو عبادت کا کوئی استحقاق نہ پہنچتا ہو مگر عملا اس کی عبادت کی جارہی ہو۔ دوسرا وہ جسے عبادت کا استحقاق پہنچتا ہو اور جو حقیقت میں معبود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر آپ کہئے کہ میں آدمیوں کے مالک، آدمیوں کے بادشاہ، آدمیوں کے معبود کی پناہ لیتا ہوں وسوسوہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے (شیطان) کے شر سے (پیچھے ہٹنے کا مطلب یہ کہ حدیث میں ہے کہ اللہ کا نام لینے سے شیطان ہٹ جاتا ہے) جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ (وسوسہ ڈالنے والا) جن ہو یا آدمی (یعنی جس طرح میں شیاطین الجن سے پناہ مانگتا ہوں، اسی طرح شیاطین الانس سے بھی پناہ مانگتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں دوسری جگہ کنات اور انسان دونوں میں شیاطین ہونے کا ذکر ہے وکذلک جعلنا لکل نبی عدواً شیطین الانس والجن) معارف و مسائل سورة فلق میں دنیوی آفات و مصائب سے پناہ مانگنے کی تعلیم ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–3

اللہ تعالیٰ کی تین صفتوں کے واسطہ سے تعوّذ: یہ اللہ تعالیٰ کی پناہ اس کی تین صفتوں کے واسطہ سے چاہی گئی ہے اور یہ تینوں صفتیں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے ان بنیادی حقوق کو بھی معین کرتی ہیں جو بندوں پر عائد ہوتے ہیں اور پھر یہ رہنمائی بھی دیتی ہیں کہ ان صفات سے جو ذات متصف ہے وہی اہل ہے کہ بندے مشکلات میں اس کی پناہ ڈھونڈیں اور وہی اس لائق ہے کہ وہ بڑے سے بڑے دشمن کے مقابل میں بھی ان کو پناہ دے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے حقوق: حقوق کی وضاحت یوں ہوتی ہے کہ جو لوگوں کا پروردگار ہے وہی حق دار ہے کہ لوگوں کا بادشاہ حقیقی ہو اور جو بادشاہ حقیقی ہے وہی حق دار ہے کہ لوگوں کا معبود…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

رب (پروردگار) کا مطلب ہے جو ابتدا سے ہی جب کہ انسان ابھی ماں کے پیٹ میں ہی ہوتا ہے اس کی تدبیرو اصلاح کرتا ہے، حتٰی کہ وہ بالغ عاقل ہوجاتا ہے پھر وہ یہ تدبیر چند مخصوص افراد کے لیے نہیں، بلکہ تمام انسانوں کے لیے کرتا ہے اور تمام انسانوں کے لیے ہی نہیں، بلکہ اپنی تمام مخلوقات کے لیے کرتا ہے، یہاں صرف انسانوں کا ذکر انسان کے اس شرف افضل کے اظہار کے لیے ہے جو تمام مخلوقات پر اس کو حاصل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

6 اگرچہ اللہ تعالیٰ کی شان ربوبیت اور بادشاہت وغیرہ تمام مخلوقات کو شامل ہے، لیکن ان صفات کا جیسا کامل ظہر انسانوں میں ہوا، کسی دوسری مخلوق میں نہیں ہوا۔ اس لئے " رب " اور " ملکِ " وغیرہ کی اضافت ان ہی کی طرف کی گئی۔ نیز وسو اس میں مبتلا ہونا بجز انسان کے دوسری مخلوق کی شان بھی نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1{ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ } ”کہیے کہ میں پناہ میں آتا ہوں تمام انسانوں کے رب کی۔“ یہاں سب سے پہلے ”رَبّ الناس“ لوگوں کا پروردگار کے کلمات سے اللہ تعالیٰ کا تعارف کرایا گیا ہے کہ تمہیں ایسی ذات سے پناہ مانگنے کا حکم دیا جا رہا ہے جو تمہاری جملہ ضروریات کا کفیل ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–3

1 شیطان کے شر سے پناہ دینے والے کی صفات :۔ اس سورت کی ابتدائی تین آیات میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات بیان کرکے اس سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ ایک یہ کہ وہ تمام لوگوں کا پرورش کرنے والا ہے۔ اسے یہ خوب معلوم ہے کہ فلاں شخص کے فلاں شر سے فلاں انسان کو کیا تکلیف پہنچ سکتی ہے ؟ دوسرے یہ کہ تمام انسانوں کا بادشاہ بھی ہے۔ یعنی وہ انسانوں پر پورا اقتدار اور اختیار بھی رکھتا ہے اور ظاہری اسباب پر بھی اس کا پورا کنٹرول ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ الٰہ بھی ہے۔ اور الٰہ کے مفہوم میں یہ بات از خود شامل ہے کہ وہ ہر ایک کی فریاد سنتا اور اس کی داد رسی بھی کرسکتا ہے اور تمام باطنی اسباب پر بھی اس کا کنٹرول ہے۔ اور حقیقت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ (کہ ان تینوں صفات کا مصداق وہی خدائے واحد ہے) (آیت) ” برب الناس “۔ ربوبیت مطلق صرف اسی لئے ثابت ہے۔ اس سے صفت ربوبیت میں ہر قسم کے شریک کی نفی آگئی۔ (آیت) ” ملک الناس “۔ حاکمیت ومالکیت مطلقہ بھی صرف اسی کے لئے ثابت ہے۔ اس سے صفت حاکمیت ومالکیت میں ہر قسم کے شریک کی نفی ہوگئی، (آیت) ” الہ الناس “۔ معبودیت صرف اسی کے لئے ثابت ہے۔ اس سے صفت معبودیت میں ہر قسم کے شریک کی نفی ہوگئی۔ مشرک جاہلی قوموں نے عموما حق تعالیٰ کی انہیں تین صفات، ربوبیت، مالکیت ومعبودیت میں دوسروں کو شریک ٹھہرایا ہے، قرآن مجید نے یہاں تین صفات، ربوبیت، مالکیت ومعبودیت میں دوسروں کو شریک ٹھہرایا ہے، قرآن مجید نے یہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–2

ملک الناس، جو ذات تمام انسانوں، بلکہ تمام مخلوقات کی پرورش اور نگہداشت کرنے والی ہے، وہی اس لائق ہے کہ کائنتا کی حکمرانی اور بادشاہی بھی اسی کے پاس ہو۔ الہ الناس، اور جو تمام کائنات کا پروردگار ہو، پوری کائنتا پر اسی کی بادشاہی ہو، وہی ذات اس کی مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور وہی تمام لوگوں کا معبود ہو، چناچہ میں اسی عظیم برتر ہستی کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل اعوذ برب الناس . رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے۔ رب الناس : یعنی خالق ‘ پروردگار اور تمام امور کو درست کرنے والا۔ اے محمد ﷺ کہہ دو کہ میں انسانوں کو پیدا کرنے والے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–3

(1) قل اعوذ برب الناس…: پناہ کا مطلب پچھلی سورت میں گزر چکا ہے۔ آدمی جب کسی سے خطرہ محسوس کرتا ہے تو سب سے پہلے اپنے کسی مربی (پرورش کرنے والے) ، مثلاً ماں یا باپ کی پناہ لیتا ہے، ان سے چمٹ جاتا ہے، تاکہ وہ اسے بچا لیں۔ اگر وہ کمزور ہوں اور نہ بچا سکتے ہں تو بادشاہ سے بچانے کی درخواست کرتا ہے اور اس کی پناہ لیتا ہے، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ بادشاہ اپنی قوت اور فوج کے ذریعے سے اسے بچا سکتا ہے۔ اگر نظر آرہا ہو کہ اس خطرے سے بچانا بادشاہ کے بس کی بات بھی نہیں تو پھر اس ہستی کی پناہ لیتا ہے جسے وہ غیبی قوتوں کا مالک سمجھتا اور جس کی عبادت کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دنیوی اسباب ختم ہونے کے بعد…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–2

رب الناس کی پناہ مانگنے کی تعلیم وتلقین کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو میں پناہ مانگتا ہوں اس کی جو رب ہے سب لوگوں کا جو کہ سب کا خالق ومالک بھی ہے اور قاہر و قادر بھی سبحانہ وتعالی اور وہی ہر کسی کے خیر وشر کو پوری طرح جانتا ہے اور ہر شر سے بچانے کی پوری قدرت بھی رکھتا ہے پس وہی پناہ دینے کے لائق ہے سبحانہ وتعالی اس لیے ہمیشہ اسی سے اس کی پناہ مانگنی چاہیے یہاں اللہ کی تین صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے رب الناس یعنی سب لوگوں کا رب ملک الناس یعنی سب لوگوں کا بادشاہ اور الہ الناس یعنی سب لوگوں کا معبود کیونکہ یہ تینوں صفات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ وہی ہے پناہ دینے والا اور وہی پناہ دیے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–6

1۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت قل اعوذ برب الناس مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردیہ نے حکم بن عمیر الثمالی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اے لوگو ! بچو اور بچو تم وسوسہ ڈالنے والے اور چھپ جانے والے سے۔ بیشک وہ تم کو آزماتے ہیں کون تم میں سے اچھے عمل کرتا ہے۔ 3۔ ابن ابی شیبہ نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا سب سے پہلے وضو سے وسوسہ شروع ہوا۔ 4۔ ابن بی شیبہ نے عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت کیا کہ نہانے کی جگہ پیشاب کرنا اس سے وسواس پکڑ لیتا ہے۔ (یعنی وسواس کی بیماری پید اہوتی ہے) 5۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن مرہ (رح) سے روایت کیا کہ کوئی وسوسہ نہیں ہے زیادہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قُلْ اَعُوْذُ : آپ ﷺ کہیے میں پناہ میں آتا ہوں ][ بِرَبِ النَاسِ : انسانوں کے پروردگار کی ] نوٹ 1: سورة فلق اور سورة ناس، یہ دونوں سورتیں ایک ساتھ، ایک ہی واقعہ میں نازل ہوئیں۔ ابن قمّ (رح) نے ان دونوں سورتوں کی تفسیر یکجا لکھی ہے۔ اس میں فرمایا کہ ان دونوں سورتوں کے منافع اور برکات سے سب لوگوں کی ضرورت ایسی ہے کہ کوئی انسان ان سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔ ان کو سحر، نظر بد اور تمام جسمانی اور روحانی آفات دور کرنے میں تاثیر عظیم حاصل ہے۔ اس کا واقعہ اس طرح ہے کہ نبی کریم ﷺ پر ایک یہودی نے جادو کردیا تھا جس کے اثر سے آپ ﷺ بیمار ہوگئے تھے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے آ کر آپ ﷺ کو اطلاع دی کہ آپ ﷺ پر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

﴿ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ 1ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ004﴾ میں وسوسہ ڈالنے والے شیطان کی ایک صفت الخناس بیان فرمائی کہ وہ وسوسے ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان اپنی سونڈ کو انسان کے دل پر جمائے ہوئے ہے اگر وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اگر وہ اللہ کے ذکر سے غافل ہوجاتا ہے تو اس کے دل کا لقمہ بنا لیتا ہے اس کو الوسواس الخناس بتایا ہے۔ (حصن حصین)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–6

تعلیم وتلقین از مہالک باطنیہ وآفات نفسانیہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اعوذ برب الناس ........ الی ........ من الجنۃ والناس “۔ (ربط) گذشتہ سورت یعنی الفلق میں اللہ رب العزت کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا تھا ایسے تمام مہالک اور آفات سے جو حسی اور ظاہری ہیں کہ ہر مخلوق کے شر، ہر تاریکی کے فتنہ سے ہر جادو کی مصیبت سے اور ہر حسد اور کید ومکر سے تو یہ تمام آفات ظاہری اور حسی تھیں اب اس سورة الناس میں ان آفات اور ہلاکتوں کو ذکر کیا جارہا ہے جو باطنی ہیں، اور وہ نفس سے اور نفس کے دواعی وتقاضوں سے پیدا ہوتی ہیں اور قلب پر وارد ہو کر انسان کے دین اور عقیدہ کو ہلاک وبرباد کردینے والی ہیں تو اس سورت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ ” قل اعوذ “ گذشتہ سورت میں جن چیزوں سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ان کے مقابلے میں شیطان چونکہ زیادہ ضرر رساں اور سب سے بڑا دشمن ہے اس لیے گذشتہ سورت میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ذکر کی گئی۔ ” رب الفلق “ اور اس سورت میں تین صفتیں مذکور ہیں جن میں سے ہر صفت توحید کے ایک جداگانہ مرتبہ کو ظاہر کرتی ہے۔ ” رب الناس “ سب کو پیدا کرنے کے بعد ان کی درجہ بدرجہ تربیت کر کے ان کو حد کمال تک پہنچانے والا اور ہر مرتبہ تربیت میں ان کی ضروریات بہم پہنچانے والا۔ یہ توحید کا پہلا مرتبہ ہے۔ ” ملک الناس “ توحید کا دوسرا مرتبہ سب کا مالک اور بادشاہ۔ تخت سلطنت پر خود ہی مستوی ہے کسی کوئی اختیار سونپ نہیں رکھا۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النسا ہے۔ یہ قرآن کریم کی آخری سورة ہے۔ مدنی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھ آیات ہیں اس سے پہلی سورة فلق کی پانچ آیتیں ہیں۔ گیارہ آیات کی یہ دو سورتیں ایک ہی وقت میں اکٹھی نازل ہوئیں۔ اس سورة الناس کے بیس الفاظ اور اناسی حروف ہیں۔ موضوع سورۃ فلق اور سورة الناس معوذتین کہلاتی ہیں۔ ان کے ذریعے شرور سے پناہ مانگنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بیان کر کے چار دنیوی زندگی سے متعلق چیزوں سے پناہ ماگنی ہے اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا ذکر کر کے ایک دینی زندگی سے متعلق چیز یعنی وسوسہ شیطان سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۝ 1 ۙ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ عوذ العَوْذُ : الالتجاء إلى الغیر والتّعلّق به . يقال : عَاذَ فلان بفلان، ومنه قوله تعالی: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] ( ع و ذ) العوذ ) ن ) کے معنی ہیں کسی کی پناہ لینا اور اس سے چمٹے رہنا ۔ محاورہ ہے : ۔ عاذ فلان بفلان فلاں نے اس کی پناہ لی اس سے ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب ¦ قل اعوذ قراء الجمھور بالھمزۃ قری بخدفھاد نقل حرکتھا الی اللام برب الناس متعلق باعوذ ملک الناس عطف بیان لرب الناس قرء لجمھور ملک الناس باسقاط الالف فی ملک والملک بکسر اللام السلطان القاھر۔ الہ الناس ایضاً عطف بیان من شر الواسواس متعلق باعوذو ھوالمستعاذمنہ۔ الوسواس بفتح الواؤ عندالفراء اسم بمعنی الموسوس وبکسرھامصدر ای الوسوسۃ کالزلزال بمعنی الزلزلۃ والوسوسۃ حدیث النفس یقال وسوست الیہ نفسہ و وسوسۃ ای حدثتہ حدیثا واصلھا الصوت الخفی ومنہ الوسواس للصوت الجلی۔ الخناس نعت لہ۔ مبالغۃ من الخنس وھو التاخر خنس یخنس اذاتاخرومنہ قولہ تعالیٰ فلا اقسم بالخنس۔ قال مجاھد اذاذکر اللہ خنس ای تاخر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–3

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۔ مَلِکِ النَّاسِ ۔ اِلٰـہِ النَّاسِ ۔ (الناس : 1 تا 3) (کہہ دیجیے ! میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب کی۔ انسانوں کے بادشاہ کی۔ انسانوں کے حقیقی معبود کی۔ ) اللہ تعالیٰ کی تین صفتوں کے واسطے سے پناہ تعوذ کا مفہوم ہم گزشتہ سورة کی تشریح میں عرض کرچکے ہیں اور یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اسم ذاتی لانے کی بجائے اس کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام رب الفلق کے ذکر کرنے کا سبب کیا ہے اور پیش نظر سورة میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہاں اللہ تعالیٰ کو تین صفاتی ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔ اور تین حوالوں سے اس سے پناہ مانگی گئی ہے۔ اور وہ تین صفاتی نام یہ ہیں رب الناس،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–6

فہم القرآن ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے سورت الفلق میں اپنا تعارف رب الفلق کے نام سے کروایا ہے جس کا معنٰی ہے کہ مخلوق کو پھاڑنے کے عمل سے عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ سورت النّاس میں یہ بتلایا ہے کہ وہی انسانوں کا ” رب، حقیقی بادشاہ اور معبود برحق ہے اس لیے اس کی مخلوق بالخصوص جنوں اور انسانوں کی شر سے بچنے کے لیے اس کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔ سورت النّاس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی عظیم اور بابرکت کتاب کا اختتام فرمایا ہے۔ گویا کہ یہ قرآن مجید کی آخری سورت ہے۔ سورت فاتحہ کا آغاز رب العالمین کے الفاظ سے ہوا اور قرآن مجید کا اختتام ” مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ “ پر ہوا ہے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 : قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ (آپ کہیے کہ میں آدمیوں کے مالک کی) ان کا مربی اور ان کا مصلح۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–6

1۔ 6۔ یہ تین صفتیں ربوبیت بادشاہت الہیت مل کر ایسا ایک صفتوں کا مجموعہ ہے کہ دنیا کے کسی بادشاہ میں نہیں پایا جاتا اس لئے ان تنیوں صفتوں کو ایک جا کرکے ذکر فرمایا ان صفتوں کے ترتیب وار ذکر فرمانے میں یہ بھی گویا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رب الناس ہونا ظاہر ہے کیونکہ مثلاً ایک سال اس کی پرورش نہ ہو اور مینہ نہ برسے تو قحط پڑجاتا ہے اسی طرح اس کی بادشاہت تمام دنیا میں ظاہر ہے جس بادشاہ امیر وزیر کو ایک دم میں چاہے بیمار ڈال دے مار ڈالے کوئی اس میں کچھ دخل نہیں دے سکتا اب آدمی کو یہ سوچنا چاہئے کہ جس کی یہ صفتیں ہیں لائق عبادت بھی وہی وحدہ لاشریک ہے کسی دوسرے کو اس کی عبادت میں شریک ٹھہرانے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–6

یہ سورة مبارکہ لوگوں کے رب ان کے مالک اور ان کے معبود کے پاس شیطان سے پناہ ہے جو تمام برائیوں کی جڑ اور ان کا مادہ ہے جس کا فتنہ اور شری ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے ان کے سامنے شر کی تحسین کرتا ہے۔ بڑائی کو انتہائی خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور برائی کے ارتکاب کے لیے ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے وہ انہیں بھلائی سے باز رکھتا ہے اور اس کو کسی اور ہی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہتا ہے اور وسوسہ ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے یعنی جب بندہ مومن اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کو دفع کرنے کے لیے اپنے رب کی مدد چاہتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

1 ۔ رب الناس کی پناہ مانگنے کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو میں پناہ مانگتا ہوں اس کی جو رب ہے سب لوگوں کا جو کہ سب کا خالق ومالک بھی ہے اور قاہر و قادر بھی سبحانہ وتعالی اور وہی ہر کسی کے خیر وشر کو پوری طرح جانتا ہے اور ہر شر سے بچانے کی پوری قدرت بھی رکھتا ہے پس وہی پناہ دینے کے لائق ہے سبحانہ وتعالی اس لیے ہمیشہ اسی سے اس کی پناہ مانگنی چاہیے یہاں اللہ کی تین صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے رب الناس یعنی سب لوگوں کا رب ملک الناس یعنی سب لوگوں کا بادشاہ اور الہ الناس یعنی سب لوگوں کا معبود کیونکہ یہ تینوں صفات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ وہی ہے پناہ دینے والا اور وہی پناہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

شیطان جن و انس سے اللہ کی پناہ تشریح : یہاں اس پناہ اور حفاظت کا ذکر کیا جا رہا ہے جس کی ضرورت انسان کو اس وقت محسوس ہوتی ہے جب وہ سخت مشکل یا پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ تو ایسے میں اللہ کی پناہ سے بڑھ کر کون سی پناہ گاہ ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اللہ ہی وہ عظیم الشان ' مضبوط بلندو برتر ہستی ہے کہ خلقت کا رب ہے پالنے والا ہے۔ ذرا غور کریں چرند پرند ' انسان و حیوان اپنے انتہائی ابتدائی مراحل سے کس قدرت ' مہارت اور بہترین نظام کے تحت خوراک حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً وہی پوشیدہ ہاتھ جو اپنی قدرت سے مادہ کے رحم میں بچے کی پرورش کرتے ہیں۔ اور جب دنیا میں وارد ہوتا ہے تو کس قدرت اور حکمت سے ماں کے دودھ سے اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–6

سورة الناس۔ آیات 1 تا 6 اسرار ومعارف۔ کہہ دیجئے کہ پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے پروردگار کی اور اس کی جو سب کا حقیقی بادشاہ ہے اور معبود برحق ہے سب کا اس سے جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ وسوسہ ڈالنے والاجن ہو یا انسان کہ جنات اور انسان بھی شیطان کی پیروی کرتے کرتے شیطانی صفات میں رنگ جاتے ہیں۔ لبید بن عاصم یہودی نے آپ ﷺ کے موئے مبارک چرا کر کنگھی کے دندانوں میں گرہ دے کر کسی پرانے کنوئیں میں پتھر کے نیچے دبادیے اور آپ علیل ہوگئے چناچہ آپ کو بذریعہ وحی اطلاع ہوگئی آپ ﷺ نے نکلوالیے تو یہ سورتیں نازل ہوئیں ایک ایک آیت پر ایک ایک گرہ کھلتی جاتی تھی چناچہ آپ ﷺ کو شفا ہو کر آپ کی وساطت سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 اگرچہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا بادشاہ اور مالک ہے لیکن انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت کی شان سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ اس لئے اس کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ملک تصرف دنیاوی بادشاہوں کی طرح محض غلبہ اور تسلط کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ تمام لوگوں کا معبود ہونے کی وجہ سے ہے جس کی بنیاد الوہیت پر ہے اور الوہیت ہی وہ صفت ہے جو احیاء و اہاتت ایجادو اعدام وغیرہ پر تصرف کلی کی مقتضی ہے۔ لہٰذا شیطان کے شر سے بچنے کی صرف ایک ہی صورت ہوسکتی ہے کہ اسی کو الہ مان کر اس کی پناہ حاصل کرو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(114:1) قل اعوذ برب الناس : قل فعل امر واحد مذکر حاضر قول (باب نصر) مصدر سے ۔ تو کہہ۔ تم (یہاں کہا کرو۔ تم (یوں ) دعا کیا کرو۔ خطاب گو نبی کریم صلی اللہ علیہ ولسم سے ہے مگر آپ کے بعد ہر مومن اس کا مخاطب ہے۔ اعوذ مضارع کا صیغہ واحد متکلم عوذ (باب نصر) مصدر سے ۔ جس کے معنی دوسرے سے التجا کرنے اور اس سے متعلق ہونے اور پناہ مانگنے کے ہیں۔ میں پناہ چاہتا ہوں۔ برب الناس۔ ب جار متعلق باعوذ ہے۔ رب الناس مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور (میں پناہ مانگتا ہوں) لوگوں کے رب (پروردگار) کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

ملک۔ بادشاہ ۔ الہ۔ معبود۔ الوسواس۔ وسوسے ڈالنے والا۔ الخناس۔ پیچھے ہٹ جانے والا۔ من الجنۃ والناس۔ جنات میں اسے اور انسانوں میں سے۔ ترجمہ :- قل اعوذ برب الناس :- آپ کہہ کہ میں تمام لوگوں کے رب کی پناہ چاہتا ہوں۔ ملک الناس :- جو تمام لوگوں کا حقیقی بادشاہ ہے اس کی پناہ مانگتا ہوں۔ الہ الناس : تما م لوگوں کے معبود کی پناہ مانگتا ہوں۔ ان تینوں آیتوں میں اس کی وضاحت فرما دی گئی ہے کہ اس کائنات میں درحقیقت انسانوں کا پالنے والا، لوگوں پر حکمرانی کرنے والا اور لوگوں کے لئے وہ ہستی جو قابل عبادت ہے ایک اللہ ہی کی ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اس عظیم رب کی پناہ مانگئے۔ وہیں آپ کو اور اللہ کے ماننے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–6

(ف 1) یہ تین صفتیں ربوبیت ، بادشاہت، اور الٰہیت مل کر صفتوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے کہ دنیا کے کسی بادشاہ میں نہیں پایاجاتا، اس لیے ان تنیوں صفتوں کو یکجا کرکے ذکر فرمایا، ان صفتوں کے ترتیب وارذکر کرنے میں یہ بھی ارشاد فرمایا، کہ اللہ تعالیٰ کا رب الناس ہوناظاہر ہے کیونکہ مثلا ایک سال اس کی پرورش نہ ہو اور مینہ نہ برسے توقحط پڑجائے اسی طرح اس کی بادشاہت تمام دنیا میں ظاہر ہے جس بادشاہ وزیر امیر کو ایک دم میں چاہے بیمار ڈال دے مار ڈالے کوئی اس میں کچھ دخل نہیں دے سکتا، اب آدمی کو یہ سوچنا چاہیے کہ جس کی یہ صفتیں ہیں لائق عبادت بھی وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ الوسواس اور وسوسہ کے معنی اس ہلکی اور دبی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–3

[1] یہاں اللہ تعالیٰ کی پناہ اس کی تین صفتوں کے واسطے سے چاہی گئی ہے۔ ذرا غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ یہ تینوں صفتیں اللہ تعالیٰ کے ان بنیادی حقوق کو بھی معین کرتی ہیں جو بندوں پر عائد ہوتے ہیں۔ حقوق کی وضاحت یوں ہوتی ہے کہ جو لوگوں کا پروردگار ہے وہی حق دار ہے کہ لوگوں کا بادشاہ حقیقی ہو، اور جو بادشاہ حقیقی ہے وہی حقدار ہے کہ لوگوں کا معبود ہو۔ اگر اس پروردگار کے سوا کوئی دوسرا لوگوں کا بادشاہ بن کر اپنا قانون اور حکم چلائے تو یہ چیز خلاف عقل و فطرت اور ناجائز ہے اور اس کے سوا اگر کسی اور کو لوگ اپنا معبود بنائیں تو یہ چیز بھی خلاف عقل و فطرت اور حرام ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–6

سورة الناس یہ سورة بھی سورة استعاذہ ہے ۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ سب سے بڑا فتنہ اور سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ ایک مرد مومن شیطان کے دھوکے میں نہ آجائے اور اس کے وسوسہ سے متاثر ہوکر بےدین اور ملحدنہ ہوجائے ۔ اس لئے اس سے بچنا اور احتراز کرنا ازبس ضروری اور لازم ہے ۔ مگر اس سے وہی شخص اپنے دامن کو بچا سکتا ہے جو اللہ کی ربوبیت عامہ پر ایمان رکھتا ہو ۔ صرف اسی کو مالک اور آقا قرار دیتا ہو اور اسی کو معبودومحبوب سمجھتا ہو ۔ فرمایا کہ یہ شیطان جو چھپ کردار کرتا ہے اور تقویٰ وزہد کا جامہ پہن کر گمراہ کرتا ہے ۔ کبھی انسان کی شکل میں ہوتا ہے اور کبھی جنوں کی صورت میں ، اس کا کام صرف اس قدر ہے کہ قلب…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں تمام انسانوں کے رب سے پناہ طلب کرتا ہوں 1 سارے نبیوں اور رسولوں نے باوجود اس کے کہ اپنی اپنی قوم کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ ایک اللہ کی پرستش کو چھوڑ کر مختلف معبودوں کی پرستش میں لگے ہوئے ہیں لیکن جب ان کو مخاطب کیا تو ان کو کسی دوسرے رب کی طرف نسبت دے کر مخاطب نہیں کیا یہاں تک کہ اگر کسی نے اپنی ربوبیت کا دعویٰ کیا ہے تو بھی اس کو مخاطب کرتے وقت اس کی ربوبیت سے مخاطب نہیں کیا بلکہ جو حقیقت تھی اس کو صاف صاف بیان کیا لیکن مخاطب کو چڑ چڑھانے کی کوشش نہیں کی بلکہ تفہیم کرانے کی کوشش کی ہے۔ زیر نظر آیت ہی سے اندازہ لگا لو کہ لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کا معبود الگ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Introductory Remarks This Surah, the second of the Mu'awwadhatain, constitutes an extension of its predecessor and is in a way complementary to it, in that in Surah Al-Falaq the believers were enjoined to seek refuge with Allah against the hardships and privations of life in this world, while in the current Surah protection is sought from the trials and tribulations of the Hereafter. It was explained in Surah Al-Falaq that the word sharr could stand for 'evil' or 'harm' or even 'that which causes harm, anguish or distress'. In the present Surah, we are to seek refuge from the evil that is the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1 Here also, as in Surah Al-Falaq, instead of saying A'udhu-billahi (I seek Allah's refuge) , a prayer has beat taught to seek Allah's refuge by reference to His throe attributes: first, that He is Rabb-un nas, i.e. Sustainer, Providence and Master of all mankind; third, that He is Ilah-un-nas, i.e. real Deity of all mankind, (Here, one should clearly understand that the word ilah has been used in two meanings in the Qur'an: first for the thing or person who is practically being worshipped although it or he is not entitled to worship; second, for Him Who is ' entitled to worship, Who is in…

Read the full tafseer →