114. Surah An-Naas

الناسMankind · 6 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 114:1

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ Open ayah 114:1 in the Quran reader

کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں

قل اعوذ برب الناس . رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے۔ رب الناس : یعنی خالق ‘ پروردگار اور تمام امور کو درست کرنے والا۔ اے محمد ﷺ کہہ دو کہ میں انسانوں کو پیدا کرنے والے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں۔
Ayah 114:2

مَلِكِ النَّاسِۙ Open ayah 114:2 in the Quran reader

(یعنی) لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی

ملک الناس . جو انسانوں کا مالک اور ان کے مصالح کا مدبر ہے۔
Ayah 114:3

اِلٰهِ النَّاسِۙ Open ayah 114:3 in the Quran reader

لوگوں کے معبود برحق کی

الہ الناس . انسانوں کا معبود ہے۔ ملک الناس اور الہ الناس۔ رب الناس کا بیان (توضیحی) ہے کیونکہ مربی کا اطلاق باپ پر بھی ہوتا ہے اور گھر کے سرپرست پر بھی اور مالک پر بھی اور مربی (بایں معنی) نہ ملک ہوتا ہے نہ معبود (لیکن اگر کبھی مربی ملک ہوتا بھی ہے تو) ملک کا اطلاق بادشاہ پر ہوتا ہے اور بادشاہ معبود نہیں ہوتا اس کو معبودیت کا استحقاق نہیں ہوتا (اس لیے رب الناس کے بعد ملک الناس اور الہ الناس کہنا ضروری تھا تاکہ وضاحت ہوجائے کہ وہ مربی بھی ہے اور حاکم بھی اور معبود بھی ‘ نہ تنہا مربی ہے اور نہ صرف مربی بادشاہ بلکہ معبود بھی ہے) ۔ الناس میں الف لام عہدی ہے اور اس سے مراد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے متبعین ہیں۔ اللہ کی ربوبیت ‘ ملوکیت اور الوہیت عمومی ہے لیکن رسول اللہ ﷺ اور متبعین حضور کا خصوصی ذکر اظہار شرف کے لیے کیا گیا ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان دونوں سورتوں کے نزول کی غرض یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے متبعین سے سحر کا اثر زائل کردیا جائے کیونکہ مربوب کی شر سے حفاظت رب کے ذمہ اور مملوک کی حفاظت ملک کے ذمہ اور عابد کی حفاظت معبود کے ذمہ لازم ہے (یعنی ربوبیت ‘ ملوکیت اور الوہیت کا تقاضا ہے کہ مربوب ‘ مملوک اور عابد کو ہر شے سے محفوظ رکھا جائے) غوث الثقلین نے فرمایا ہے۔ جب تو میرا پشت پناہ ہے تو کیا مجھے کوئی ذلت پہنچ سکتی ہے ‘ جب تو میرا پروردگار ہے تو کیا مجھ پر ظلم کیا جاسکتا ہے اگر چراگاہ کی حفاظت کرنے والا حفاظت کرنے پر قدرت بھی رکھتا ہو اور پھر اونٹ کے پاؤں باندھنے کی ایک رسّی بھی صحرا میں کھو جائے تو ایسے راعی کے لیے بڑی عار کی بات ہے۔ کفار بھی اگرچہ مربوب اور مملوک خدا ہی کے ہیں لیکن ان کو اس کا اعتراف نہیں ہے۔ اس لیے وہ حفاظتِ الٰہیہ کے مستحق نہیں ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے جنگ احزاب کے دن فرمایا تھا : اللہ ہمارا مولا ہے اور تمہارا کوئی مولا نہیں۔ مؤخر الذکر دونوں فقروں میں بجائے ضمیر کے الناس کا مکرر ‘ سہ کرر ذکر بیان توضیح میں زیادتی کرنے کے لیے نیز رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے متبعین کے شرف کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ سورة الفلق میں جسمانی دکھوں سے استعاذہ کا حکم تھا اور جسمانی دکھ انسان کو بھی ہوتے ہیں اور دوسرے جانوروں کو بھی اس لیے رب الفلق فرمایا اور رب کی اضافت الفلق کی طرف کی اور سورة الناس میں ان نفسانی مضرتوں سے استعاذہ کا حکم ہے جو انسان کے لیے مخصوص ہیں (یعنی وسوسہ انگیزی اور اغواء شیطانی) اسلئے یہاں رب الناس فرمایا اور رب کی اضافت خصوصیت کے ساتھ الناس کی طرف کی گویا مطلب اس طرح ہوا کہ انسان کو وسوسہ میں ڈالنے والے اور اغواء نفسانی کرنے والے کے شر سے میں اس خدا کی پناہ لیتا ہوں جو انسانوں کے امور کا مالک اور انکی عبادت کا مستحق ہے۔ بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ الناس کو صراحت کے ساتھ پانچ بار ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ (ہر جگہ الناس سے مراد جدا جدا ہے اگر ضمیر استعمال کی جاتی تو ایک ہی مفہوم مراد ہوتا وحدت مراد ہوجاتی اور کلام کا مقصد پورا نہ ہوتا) اوّل الناس سے بچے مراد ہیں جو محتاج پرورش ہیں ‘ لفظ رب اس پر دلالت کر رہا ہے ‘ دوسری جگہ الناس سے جوان مراد ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں لفظ ملک اس پر دلالت کر رہا ہے کیونکہ یہ لفظ سیاست کا مفہوم ظاہر کر رہا ہے (اور مجاہدین سیاست کے حاجت مند ہوتے ہیں) تیسری جگہ الناس سے بوڑھے لوگ مراد ہیں جو دنیوی کاروبار اور مشاغل سے الگ ہو کر اللہ ہی کی طرف جھک جاتے ہیں۔ اس پر لفظ الٰہ دلالت کر رہا ہے ‘ جس کے اندر عبادت کا مفہوم ہے (اور بوڑھے لوگوں کا شغل سوائے عبادت کے اور کچھ نہیں رہتا) چوتھی جگہ الناس سے مراد اہل صلاح وتقویٰ ہیں کیونکہ شیطان انہی کا دشمن ہوتا ہے۔ پانچویں جگہ الناس سے مراد اغواء کرنے والے مفسد ہیں کیونکہ یہ وہی خناس ہیں جن سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مؤمنوں کے بچوں ‘ بڑوں اور صلاح وتقویٰ والوں کا ذکر رحمت کی کشش اور عذاب کے دفع کا سبب ہے (اس لیے ان تینوں کا ذکر کیا) ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ اگر کمر جھکے (بوڑھے) مرد اور شیر خوار بچے اور چرنے والے چوپائے نہ ہوتے تو عذاب کی بارش تم پر ہوتی۔ (رواہ ابو یعلی والبزار والبیہقی من حدیث ابی ہریرہ ؓ اس کی تائید ایک مرسل روایت سے بھی ہوتی ہے جس کو ابو نعیم نے بروایت زہری بیان کیا ہے اور اللہ نے فرمایا ہے ‘ اگر مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم نہیں جانتے تو…………… الخ بیضاوی نے لکھا ہے کہ عبارت کلام دلالت کر رہی ہے کہ اللہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ اعادۂ تخلیق اس کے لیے ناممکن نہیں اور کلام کی ترتیب عارف کے تدریجی مراتب تفکر کو بھی بتارہی ہے۔ اللہ نے جو ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان کو دیکھ کر سب سے پہلے عارف یہ یقین کرلیتا ہے کہ اس کا ایک رب ضرور ہے ‘ پھر غور کرنے کے بعد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ رب کسی کا محتاج نہیں ‘ سب اس کے محتاج ہیں۔ تمام نظمی امور اسی کے ہاتھ میں ہیں ‘ لامحالہ حقیقی حکمران اور بادشاہ وہی ہے پھر (جب آغاز آفرنیش اور نظم حیات اسی کا ساختہ پرداختہ ہے تو) عاراس سے استدلال کرتا ہے کہ معبود برحق اور مستحق معبودیت بھی وہی ہے۔
Ayah 114:4

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ Open ayah 114:4 in the Quran reader

(شیطان) وسوسہ انداز کی برائی سے جو (خدا کا نام سن کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے

من شر الوسواس . الوسواس بروزن زلزال اسم ہے ‘ وسوسہ کا ہم معنی ہے۔ وسوسہ اس خفیف خفیہ آواز کو کہتے ہیں جس کا مفہوم تو دل تک پہنچ جائے اور تلفظ سنائی نہ دے (یعنی ذہنی آواز) یہاں وسواس سے مراد شیطان ہے یعنی وسوسہ پیدا کرنے والا یا تو اس وجہ سے کہ مبالغۃً مصدر کو بجائے اسم فاعل کے استعمال کرلیا جاتا ہے یا مضاف محذوف ہے یعنی وسوسہ ڈالنے والا۔ کذا قال الزجاج۔ الخناس . یہ الوسواس کی صفت ہے۔ (خنسٌ اور خنوسٌ کا معنی ہے چپکے سے پیچھے ہٹنا) شیطان کا طریقہ اور معمول ہے کہ اللہ کی یاد کے وقت پیچھے ہٹ جاتا ہے (اس لیے اس کو خناس فرمایا) حضرت عبداللہ بن شقیق کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر آدمی کے دل میں دو خانے ہوتے ہیں : ایک فرشتہ کا دوسرا شیطان ہے۔ جب آدمی اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان پیچھے کو ہٹ جاتا ہے اور جب اللہ کی یاد نہیں کرتا تو شیطان اپنی چونچ آدمی کے دل میں چبھو دیتا ہے اور اس کو بہکاتا ہے۔ (رواہ ابویعلی) ابویعلی نے یہ حدیث حضرت انس ؓ کی روایت سے بھی بیان کی ہے۔
Ayah 114:5

الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ Open ayah 114:5 in the Quran reader

جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے

الذی یوسوس فی صدور الناس . جن لوگوں کے سینوں کے اندر وسوسہ پیدا کرتا ہے یعنی جب وہ اللہ کی یاد نہ کریں۔ الذی سے الوسواس کی دوسری صفت بیان کی گئی ہے ‘ اس لیے (محلاً ) مجرور ہے یا (محلًا) منصوب علی الذم ہے یا محذوف مبتداء کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ کرتا ہے۔ کلبی نے کہا کہ صدور الناس میں جو الناس ہے
Ayah 114:6

مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ Open ayah 114:6 in the Quran reader

وہ جنّات میں سے (ہو) یا انسانوں میں سے

من الجنۃ والناس . یہ وسواس کا بیان ہے یا الذی کا (مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہوگا) یعنی وسوسہ پیدا کرنا ‘ جنات کا فعل بھی ہے اور انسانوں کا بھی۔ اللہ نے فرمایا ہے : و کذلک جعلنا لکل نبی عدو اشیاطین الانس والجن….. ہم نے انسانی اور جنی شیطانوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے ‘ الخ۔ خلاصہ یہ کہ اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ جن و انس کے شر سے پناہ مانگو۔ شبہ ایک انسان دوسرے انسان کے دل میں وسوسہ نہیں ڈالتا۔ یہ کام تو جن کا ہے پھر انسان کو وسوسہ انداز کیوں قرار دیا۔ ازالہ آدمی بھی وسوسہ ڈالتے ہیں لیکن ان کی وسوسہ اندازی کا طریقہ انہی کے مناسب ہے۔ آدمی ‘ آدمی سے ایسی بات کہتا ہے جو اس کے دل میں جم جاتی ہے ‘ اس سے وسوسہ پیدا ہوتا ہے یا من الجنۃ والناس کا تعلق یوسوس سے ہے یعنی لوگوں کے سینوں کے اندر جنات اور انسانوں کے معاملات کے متعلق وسوسہ پیدا من الجنۃ والناس اسی کا بیان ہے۔ گویا انسان کا لفظ دونوں کو شامل ہے ‘ جن کو بھی اور آدمی کو بھی (یعنی انسان جن بھی ہوتا ہے اور آدمی بھی) جن پر انسان کا اطلاق اس طرح کیا گیا جس طرح آیت : وانہٗ کان رجالٌ نم الانس یعوذون برجالٍ من الجنِّ میں رجال کا اطلاق جن پر کیا گیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ایک عربی شخص کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ دوران گفتگو میں اس نے کہا : جنات کی ایک جماعت آکر کھڑی ہوگئی۔ پوچھا گیا تم کون ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جنات کے آدمی۔ فراء کے قول کا بھی یہی معنی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ من الجنۃ الوسواس کا بیان ہو اور الناس کا عطف الوسواس پر ہو۔ اس صورت میں مطلب اس طرح ہوگا میں پناہ مانگتا ہوں وسوسہ ڈالنے والے جنی شیطان کے شر سے اور انسانوں کے شر سے۔ حضرت عقبہ بن عامر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تجھے نہیں معلوم کہ آج رات ایسی آیات نازل ہوئی ہیں جن کی مثل کبھی (کوئی سورت) نہیں نازل ہوئی۔ قل اعوذ برب الفلق ‘ قل اعوذ برب الناس۔ (رواہ مسلم) امام احمد کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تجھ کو ایسی سورتیں نہ سکھلا دوں جن کی مثل نہ تورات میں (کوئی سورت) نازل ہوئی ‘ نہ زبور میں ‘ نہ انجیل میں ‘ نہ قرآن میں۔ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں (ضرور سکھلا دیجئے) فرمایا : قل ھو اللہ احد اور قل اعوذ برب الفلق ‘ قل اعوذ برب الناس۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو بستر پر جاتے تو دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کر کے قل ھو اللہ احد اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ کر دونوں ہتھیلیوں پر دَم کر کے سارے بدن پر جہاں تک پھیر سکتے ‘ پھیر لیتے تھے سر اور چہرہ سے ہاتھ پھیرنا شروع کرتے اور پھر اگلے سارے بدن پر پھیرتے تھے۔ یہ سارے بدن کا مسح تین بار کرتے تھے۔ (متفق علیہ) حضرت عقبہ بن عامر کا بیان ہے کہ حجفہ اور ابواء کے درمیان میں رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب جا رہا تھا ‘ اچانک ہوا کا طوفان آگیا اور سخت تاریکی ہم پر چھا گئی۔ رسول اللہ ﷺ قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھنے لگے اور فرمایا : عقبہ ! تو بھی یہ دونوں سورتیں پڑھ کر استعاذہ کر ‘ کسی پناہ جو نے ان دونوں کی طرح (کسی دعاء) سے استعاذہ نہیں کیا (تعوذ اور استعاذہ کا معنی ہے پناہ کے لیے دعا کرنا) ابوداؤد ‘ حضرت عبداللہ بن حبیب کا بیان ہے کہ ایک رات بارش اور سخت اندھیری تھی۔ ہم رسول اللہ ﷺ کو تلاش کرنے کے لیے اس رات نکلے (تلاش کے بعد) ہم نے حضور ﷺ کو پا لیا۔ فرمایا : کہو۔ میں نے عرض کیا : کیا کہوں ؟ فرمایا : صبح و شام تین تین بار قل ھو اللہ احد اور معوذتیں پڑھ لیا کرو ‘ ہر (مصیبت والی) چیز سے تمہارا بچاؤ ہوجائے گا۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد والنسائی) حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوئے تو معوذتین پڑھ کر اپنے اوپر دم کرلیا کرتے تھے لیکن جب بیماری سخت ہوگئی تو میں حضور ﷺ پر پڑھ دیتی اور برکت دست حاصل کرنے کے لیے دست مبارک پکڑ کر بدن پر پھیر دیتی تھی۔ (رواہ البغوی) الحمد اللہ سورة الناس ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ فصل : فضائلِ قرآن مجید حضرت عثمان ؓ بن عفان کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور سکھایا۔ (رواہ البخاری و مسلم) بیہقی نے الاسماء میں اتنا زائد بیان کیا ہے تمام کلاموں پر قرآن کی فضیلت ایسی ہے جیسے اللہ کی فضیلت مخلوق پر۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رشک صرف دو شخصوں پر (جائز) ہے ‘ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے قرآن عطا فرمایا اور وہ اوقات و روز و شب میں اسی میں لگا رہتا ہے ‘ دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے مال عنایت کیا اور وہ رات دن اس میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرتا ہے۔ (متفق علیہ) حضرت عبدالرحمن بن عوف کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن عرش کے نیچے تین چیزیں ہونگی : 1) قرآن مجید اس کا ایک ظاہر ہے ایک باطن۔ یہ بندہ کی طرف سے حجت کرے گا۔ 2) امانت ‘ 3) رحم (رشتۂ قرابت) رحم پکار کر کہے گا : سنو جس نے مجھے جوڑے رکھا اللہ اسکو (اپنے رشتہ میں) جوڑے اور جس نے مجھے توڑا اللہ اس سے (اپنا رشتہ) توڑے۔ (رواہ البغوی فی شرح السنۃ) حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قرآن والے سے (قیامت کے دن) کہا جائے گا پڑھ اور چڑھ اور ترتیل کر جس طرح دنیا میں ترتیل کرتا تھا۔ آخری آیت جہاں تو پڑھنا ختم کرے وہی تیرا مرتبہ (قیامگاہ) ہے۔ (رواہ احمد والترمذی و ابوداؤد والنسائی) حضرت ابوسعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ‘ جس کو تلاوت قرآن میرے ذکر سے باز رکھے اور (تلاوت کے بعد) وہ مجھ سے (کچھ) مانگے تو میں جتنا دوسرے سوال کرنے والوں کو دیتا ہوں سب سے بہتر اس کو دیتا ہوں۔ تمام کلاموں پر کلام اللہ کی فضیلت ایسی ہے جیسے مخلوق پر خدا کی فضیلت۔ (رواہ الترمذی والدارمی والبیہقی) حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا ‘ اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوگا۔ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے ہے بلکہ الف ایک حرف ہے اور لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ (رواہ الترمذی والدارمی) ترمذی نے اس حدیث کی اسناد کو حسن صحیح غریب کہا ہے۔ حارث اعور ؓ کا بیان ہے ‘ میرا مسجد کی طرف سے گزر ہوا تو میں نے دیکھا کہ لوگ احادیث میں کچھ موشگافیاں کر رہے ہیں۔ میں حضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ کی اطلاع دی۔ فرمایا : کیا وہ ایسا کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! فرمایا : سنو ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ہوشیار رہو ‘ عنقریب فتنہ ہوگا ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! پھر اس سے خلاصی کی راہ کیا ہوگی ؟ فرمایا : اللہ کی کتاب جس کے اندر تم سے پہلے کی خبریں ہیں اور تم سے بعد کی خبریں ہیں اور تمہارے باہمی فیصلے ہیں۔ قرآن قطعی فیصلہ ہے ‘ مذاق نہیں ہے جو کسی ظالم کی وجہ سے اس کو چھوڑ دے گا ‘ اللہ اس کو توڑ دے گا (تباہ کر دے گا) جو اس کو چھوڑ کر کسی اور سے ہدایت کا طلبگار ہوگا ‘ اللہ اس کو گمراہ کر دے گا۔ یہ اللہ کی مضبوط رسّی ہے ‘ یہی پر حکمت نصیحت ہے ‘ یہی صراط مستقیم ہے۔ یہی وہ کتاب ہے کہ اس کی وجہ سے میلانات میں کجی نہیں آئے گی اور زبانوں میں اشتباہ نہ ہوگا اور علماء اس سے سیر نہیں ہوں گے اور بار بار کثرت سے پڑھنا ‘ اس کو بوسیدہ نہ بنا سکے گا ‘ اس کے عجائبات ختم نہیں ہوں گے۔ یہی وہ کتاب ہے کہ جنات میں (غفلت سے) بیداری اس وقت تک نہ ہوئی جب تک انہوں نے کہہ نہ دیا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا جو راہ راست بتاتا ہے۔ ہم اس پر ایمان لے آئے جو شخص اس سے موافق بات کرے گا ‘ سچا ہوگا اور جو اس پر عمل کرے گا اس کو اجر دیا جائے گا اور جو اس کے مطابق فیصلہ کرے گا انصاف کرے گا اور جو اس کی طرف بلایا گیا اس کو صراط مستقیم بتادی گئی۔ (رواہ الترمذی والدارمی) حضرت معاذ جہنی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے قرآن پڑھا اور جو کچھ اس میں ہے ‘ اس پر عمل بھی کیا ‘ قیامت کے دن اسکے ماں ‘ باپ کو ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بہتر ہوگی ‘ جو تمہارے گھروں میں ہوتی ہے۔ (یہ تو اسکے والدین کی حالت ہوگی) پھر اس شخص کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جس نے خود اس پر عمل کیا۔ (رواہ احمد و ابوداؤد) حضرت عقبہ بن عامر کا قول ہے ‘ میں نے خود سنا کہ حضور ﷺ فرما رہے تھے ‘ اگر قرآن کو کسی کھال میں رکھ دیا جائے پھر آگ میں ڈالا جائے تو قرآن نہیں جلے گا (یا وہ کھال نہیں جلے گی یعنی جس کے سینہ میں قرآن ہوگا اور اس کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو وہ نہیں جلے گا ‘ واللہ اعلم) ۔ (رواہ الدارمی) حضرت علی ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے قرآن پڑھا اور اس کو اپنا پشت پناہ بنایا اور اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام قرار دیا ‘ اللہ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے گھر والوں میں سے ایسے دس آدمیوں کے حق میں اس کی شفاعت قبول فرمائے گا ‘ جن کے لیے دوزخ لازمی ہوچکی ہوگی۔ (رواہ الترمذی و احمد و ابن ماجہ و الدارمی) حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قرآن نماز کے اندر پڑھنا بیرون صلوٰۃ قرآن پڑھنے سے افضل ہے اور بیرون نماز قرآن پڑھنا تسبیح و تکبیر (سبحان اللہ واللہ اکبر) پڑھنے سے افضل ہے اور روزہ دوزخ سے بچنے کی سپر ہے۔ حضرت اوس ثقفی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلا دیکھے قرآن پڑھنے کے ہزار مرتبے ہیں اور قرآن میں دیکھ کر پڑھنے کے مراتب دوگنے ہیں ‘ یعنی دو ہزار۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان دلوں پر زنگ آجاتا ہے جیسے لوہے پر پانی لگنے کے بعد زنگ آجاتا ہے۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺ ! پھر اس کی صفائی کیسے ہو ؟ فرمایا : اس کی جلاء کثرت ذکر موت اور تلاوت قرآن ہے۔ مذکورۂ بالا تینوں احادیث بیہقی نے شعب الایمان میں بیان کی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ (کسی کلام کو) اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے نبی کی خوش آوازی کے ساتھ قرآن خوانی کو سنتا ہے۔ (متفق علیہ) حضرت ابوہریرہ ؓ کی دوسری روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اس قدر کان نہیں لگاتا کسی چیز کی طرف یعنی خوش آہنگی اور بلند آواز سے قرآن پڑھنے کی طرف جس قدر نبی کی خوش آہنگی کے ساتھ تلاوت قرآن کرنے کی طرف کان لگاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں جو اچھی لَے سے قرآن نہ پڑھتا ہو۔ (بخاری) حضرت جابر ؓ کا بیان ہے کہ ہم قرآن پڑھ رہے تھے۔ ایک عجمی دیہاتی بھی ہم میں موجود تھا ‘ اچانک رسول اللہ ﷺ برآمد ہوگئے اور فرمایا : پڑھو ہر ایک (کا پڑھنا) اچھا ہے۔ عنقریب کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو قرآن (کی قراءت ) کو سیدھا کرینگے جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے ‘ پڑھنے میں جلدی کرینگے۔ یعنی پڑھنے کا عوض دنیا میں لیں گے ‘ آخرت کے ثواب کے لیے نہیں پڑھیں گے۔ (ابوداؤد والبیہقی) حضرت حذیفہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قرآن کو عربی لَے اور عربی آہنگ سے پڑھو۔ عشاق اور اہل کتاب کے دونوں گروہوں کی لے سے اجتناب رکھو۔ آئندہ میرے بعد کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو نغمہ اور نوحہ کی طرح قرآن کو گٹکری سے پڑھیں گے قرآن (پڑھتے وقت) ان کے حلقوم سے آگے نہیں بڑھے گا ‘ ان کے دل فتنہ زدہ ہوں گے اور ان لوگوں کے دل بھی مبتلاء فتنہ ہوں گے جو ان کی (اس) کیفیت کو پسند کرتے ہوں گے۔ (بیہقی و ابن رزین) حضرت عبیدہ ملی کی صحابی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے قرآن والو ! قرآن کو تکیہ نہ بناؤ اوقات روز و شب میں اس کی تلاوت کرو اور حق تلاوت پورا کرو ‘ اس کو پھیلاؤ ‘ اس کو لَے سے پڑھو ‘ اس کے اندر جو کچھ ہے اس پر غور کرو تاکہ تم کو فلاح حاصل ہو۔ اس کا معاوضہ طلب کرنے میں جلدی نہ کرو (یعنی دنیا میں اس کا عوض نہ طلب کرو) کیونکہ اس کا عظیم الشان عوض (آخرت میں) ہے۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان) حضرت علی ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : بہترین علاج قرآن ہے۔ (رواہ ابن ماجہ) ۔ (دوسرے الفاظ میں ہے : قرآن ہی علاج ہے) ۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ (بیماری کیلئے) دو شفاء کی چیزیں اختیار کرو : شہد اور قرآن۔ حضرت وائلہ بن اسقع کی روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے حلق کے درد کی شکایت کی ‘ فرمایا : قرآن پڑھا کرو۔ (بیہقی فی شعب الایمان) حضرت ابوسعید خدری کی روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میرے سینہ میں دکھ ہے۔ فرمایا : قرآن پڑھو۔ اللہ (قرآن کے متعلق) فرماتا ہے : شفاء لما فی الصدور۔ حضرت طلحہ ؓ بن مطرف کا بیان ہے کہ جب کسی بیمار کے پاس قرآن پڑھا جائے تو اس کی بیماری میں خفت محسوس ہوتی ہے۔ یہ بات (رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں) کہی جاتی تھی۔ (رواہ ابو عبیدۃ) ‘ واللہ اعلم والحمد اللہ رب العٰلمین و صلی اللہ تعالیٰ علٰی خیر خلقہ محمد و اٰلہ و اصحابہ اجمعین