114. Surah An-Naas
الناسMankind · 6 ayahsمفہوم القرآن
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ Open ayah 114:1 in the Quran reader
کہو کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں
مَلِكِ النَّاسِۙ Open ayah 114:2 in the Quran reader
لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی
اِلٰهِ النَّاسِۙ Open ayah 114:3 in the Quran reader
لوگوں کے معبود برحق کی
مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ Open ayah 114:4 in the Quran reader
شیطان و سو سے ڈالنے والے کی برائی سے جو اللہ کا نام سن کر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ Open ayah 114:5 in the Quran reader
جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔
مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ Open ayah 114:6 in the Quran reader
خواہ وہ جنات سے ہوں یا انسانوں میں سے
شیطان جن و انس سے اللہ کی پناہ
تشریح : یہاں اس پناہ اور حفاظت کا ذکر کیا جا رہا ہے جس کی ضرورت انسان کو اس وقت محسوس ہوتی ہے جب وہ سخت مشکل یا پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ تو ایسے میں اللہ کی پناہ سے بڑھ کر کون سی پناہ گاہ ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اللہ ہی وہ عظیم الشان ' مضبوط بلندو برتر ہستی ہے کہ خلقت کا رب ہے پالنے والا ہے۔ ذرا غور کریں چرند پرند ' انسان و حیوان اپنے انتہائی ابتدائی مراحل سے کس قدرت ' مہارت اور بہترین نظام کے تحت خوراک حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً وہی پوشیدہ ہاتھ جو اپنی قدرت سے مادہ کے رحم میں بچے کی پرورش کرتے ہیں۔ اور جب دنیا میں وارد ہوتا ہے تو کس قدرت اور حکمت سے ماں کے دودھ سے اس کی پرورش ہوتی ہے۔ یہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ چھوٹے سے چھوٹے کیڑے مکوڑے سے لے کر بڑے سے بڑے جانور ' چرند پرند کی خوراک کا بندوبست اس کی حفاظت کا بندوبست اس کی ضروریات کے عین مطابق کردیا گیا ہے۔ اور یہ تمام انتظامات پالنے پوسنے کے کون کر رہا ہے ؟ رب العلمین ہی کر رہا ہے کیونکہ یہ سب اسی کی ملکیت اسی کی ذمہ داری اور اسکی نگہداشت میں پل بڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ وہی پالنہار ہے وہی مالک و آقا ہے اس لیے اسی کی بندگی ہم پر فرض ہے۔
کیا یہ نمک حرامی اور انتہائی نافرمانی ' بد عہدی اور بےوفائی نہیں کہ کھائیں تو الہ العٰلمین کا دیا ہوا اور بندگی کریں کسی اور کی جو خود اللہ کا ہی محتاج اور اللہ کا ہی غلام ہو ؟ جو کسی صورت بھی نہ تو خود کا پالنہار ہو نہ خود کا مالک یعنی نہ اپنی مرضی سے مر سکے نہ اپنی مرضی سے جی سکے اور نہ اس کون و مکان سے باہر اپنا کوئی ٹھکانا بنا سکے۔ تو پھر کیا یہ بےوقوفی اور حد درجہ حماقت نہیں کہ کسی بھی دوسری چیز کی فرمانبرداری کی جائے اور اس کو معبود برحق کے مقابلہ میں رکھ کر پوجا جائے ؟ اس قسم کے غلط خیالات ' اعتقادات اور منصوبے کچھ تو خود ہماری اپنی کمزوری یعنی خود پر پورا کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ہمارا عقیدہ ایمان اور نفس اس قدر کمزور ہوتا ہے کہ ہم خود کو کسی مضبوط راستے پر چلانے کے قابل ہی نہیں ہوتے اور جب معاملہ ایسا ہو تو پھر باہر سے ہم پر حملے ہوتے ہیں۔ کچھ تو شیطان فطرت لوگوں کے ذریعے کچھ شیطان فطرت جنوں کے ذریعے اور کچھ بذات خود شیطان کے ذریعے۔ یہ حملے انسان کی ذاتی مضبوطی اور کردار کی کمی بیشی کے لحاظ سے اکثر و بیشتر ہوتے رہتے ہیں۔ کیونکہ جو شخص ذکر و فکر کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کئے ہوئے ہوتا ہے اس پر نہ تو اس کے نفس کی طرف سے حملے ہوتے ہیں اور نہ ہی باہر جن و انس اور شیطان کو ہی اس پر حملے کرنے کی جرات ہوتی ہے۔ اور جو شخص خود اپنے کردار میں جس قدر کمزور ہوتا ہے اس پر وقتاً فوقتاً بار بار حملے ہوتے رہتے ہیں اور یوں پہلے اس کے تصور میں برائی آتی ہے پھر عمل میں آنے لگتی ہے۔ پہلے چھوٹی برائی سرزد ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ برائی کی اہمیت ختم ہونے لگتی ہے اور پھر بالآخر وہ برائی ' برائی لگتی ہی نہیں بلکہ وہ ہی اچھی لگنے لگتی ہے۔ اور یوں انسان گناہ کو خوبصورت سمجھ کر گناہوں کی دلدل میں غرق ہونا شروع کردیتا ہے۔ اسے نہ برائی بری لگتی ہے اور نہ برے دوست برے لگتے ہیں اور نہ ہی حرام و حلال کی تمیز باقی رہتی ہے اور پھر وہ مکمل طور پر برے لوگوں برے جنوں اور شیاطین کی گرفت میں جکڑ لیا جاتا ہے۔
تو ہر انسان کو ہر وقت چوکنا ' مضبوط اور دین اسلام کی طرف رغبت رکھنی چاہیے اور جونہی ان کی طرف سے یعنی غلط لوگ اور شیاطین کی طرف سے حملہ ہونے لگے یعنی دل میں ذرا بھی کوئی غلط اندیشہ آنے لگے تو فوراً اپنے اس رب کی پناہ مانگو۔ جو سب کا رب ہے پالنہار ہے۔ جو ہر مخلوق کا رازق ہے۔ چاہے وہ زمین کے اوپر ہو زمین کے اندر ہو ' پتھر کے اندر ہو ' پانی کے اندر ہو یا فضا میں ہو۔ غرض جہاں بھی ہو اس کا رزق اس کو مل جاتا ہے۔ جو مالک الملک بادشاہوں کا بادشاہ اور سب سے برتر و اعلیٰ معبود حقیقی الہ العٰلمین وحدہ لا شریک ' عظیم بلند وبالا اور قادر مطلق ہے۔ انسان تو ہر وقت ہر صورت کئی گمراہ کن موجودات میں گھرا رہتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ خود کو مضبوط بناؤ اور خود کو مضبوط ترین سہارے کی پناہ میں دئیے رکھو۔ اور وہ پناہ ہمیں اللہ کے پاس ہی مل سکتی ہے۔ جس کے حصول کا طریقہ قرآن پاک میں معوذتین کی صورت میں انسانوں کو دیا گیا ہے۔ یہ ایک مضبوط ترین ڈھال ہے جو ہمیں اندرونی خدشات ' گمراہ کن خیالات اور شیطان فطرت جن و انس اور شیطان کے حملوں سے ہمیشہ بچائے رکھنے کے کام آسکتا ہے۔
قرآن پاک کے فرمان کے مطابق نیکی کی اس قدر اہمیت اور فضیلت ہے کہ اگر دشمن بھی کر رہا ہو تو اس کی تعریف کرو اور اس نیکی کو اپناؤ۔ القرآن۔
'' جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو۔ اور گناہ کے کاموں میں ہرگز کسی سے تعاون مت کرو۔ اللہ سے ڈرتے رہو کچھ شک نہیں کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔۔ (المائدہ : 2)
اصل میں تمام سماجی برائیاں پیدا ہی اس لیے ہوتی ہیں۔ کہ انسان ہر معاملہ کو انسان کی نظر سے دیکھتا ہے بجائے اللہ کی نظر سے دیکھنے کے۔ جو لوگ ہر معاملے کو اللہ کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اپنے عمل و ارادہ میں مضبوط ہوتے ہیں تو وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرتے کرتے اپنے درجات میں دن بدن اضافہ ہوتے دیکھ لیتے ہیں اور یہ راستہ ہے جو ذاتی محنت ' عبادت اور خلوص نیت سے طے کیا جاتا ہے۔ اور بندہ اسی راستے سے کمال کے درجے کو پہنچ سکتا ہے۔ اور مقرب الٰہی بن سکتا ہے۔ اس درجے میں وہ لوگ شامل ہیں جو پیدائشی مسلمان نہیں ہوتے بلکہ علم و عرفان سے اللہ کی ذات کو پہچان کر اس کی راہ اختیار کرتے ہیں اور ایمان و یقین سے ان کے دل منور ہوجاتے ہیں۔ ایک دوسرا درجہ ہے انسانوں کا جو پیدائشی مسلمان ہوتے ہیں۔ ان کے اندر اللہ کی وحدانیت کا تصور تو ضرور ہوتا ہے مگر تلاش و جستجو اور تحقیق و تجسس کی کمی کی وجہ سے وہ ایک متوسط درجہ کے مسلمان ہوتے ہیں۔ اور وہ تقویٰ و عبادت گزاری میں بھی متوسط سا درجہ رکھتے ہیں۔ ان میں سے جو لوگ اللہ و رسول ﷺ کی ہدایت پر توجہ دیتے ہیں اس پر عمل کرنے کی جد و جہد کرتے ہیں۔ معرفتِ الٰہی ' اس کی محبت اور اس کے اخلاص میں ڈوب جاتے ہیں۔ دنیاوآخرت کو اپنی اپنی جگہ پر رکھ کر زندگی گزارتے ہیں۔ تو یہ لوگ اللہ کی بندگی اور اللہ کے خوف سے دلوں کو بھرے رکھتے ہیں۔ زندگی کے ہر موڑ پر اللہ کے ذکر و فکر سے دل و دماغ کو خالی نہیں رکھتے تو ایسے لوگ مومنین صادقین کے درجہ کو حاصل کرلیتے ہیں۔
جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ انبیاء ورسل منتخب کرلیتا ہے وہ معرفت و برکت کے بلند ترین درجات کو حاصل کرلیتے ہیں۔ جو کہ آسان کام نہیں۔ ان کے اندر ایمان توحید ' آخرت ' خوف خدا ' استقامت ' صبر و برداشت ' ذکر و فکر ' بندگی اور اطاعت و محبت الٰہی غرض تمام اخلاقی ' ذہنی ' بدنی اور روحانی صلاحیتیں اور کردار کی پختگی بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے۔ اور ایسے ہی لوگوں کو رب العزت درجات عالی عطاء کرتا ہے اور انہیں اپنے مقدس ترین کام کے لیے منتخب کرلیتا ہے۔ اور اللہ اپنی خاص عنایات سے اپنے خاص فضل و کرم اور مہربانی سے ان کو فہم و فراست اعلی درجہ کی اور یقین و آخرت کی دولت سے مالا مال کردیتا ہے ' اور ایسے لوگوں کو انبیاء ورسل کے مقدس گروہ میں شامل کرلیتا ہے۔
یہاں چار درجات کے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو بنیادی طور پر اللہ کے بنائے ہوئے بندے ہیں۔ مگر اپنی لاپرواہی نافرمانی سے نچلے درجہ پر رہے اور اپنی ریاضت و عبادت سے بلند سے بلند ترین درجات حاصل کرتے چلے گئے۔ تو ان تمام مراحل میں شیطان اپنی اصلی شکل میں کبھی انسان کی شکل میں اور کبھی جن کی شکل میں مسلسل حملہ آور ہوتا رہتا ہے تو اس کے حملوں سے پناہ دینے والا صرف خالق ومالک الہ العٰلمین اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ لہٰذا خود کو وساوس سے ہمیشہ بچانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے کبھی بھی کسی چھوٹے سے چھوٹے گناہ یا لغزش کو چھوٹا سمجھ کر اپنانا نہیں چاہیے۔ کیونکہ یہی بڑے گناہوں کی بنیاد بنتے ہیں۔ اس لیے مدداستغفارصبر اور اللہ کی پناہ ہر وقت اللہ سے مانگتے رہنا چاہیے۔ جیسا کہ قرآن کی ابتداء میں سورة الفاتحہ میں سبق دیا گیا ہے۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ (سورۃ فاتحہ : 5)
اور پھر قرآن کے اختتام پر مدد مانگنے کا بہترین نسخہ معوذتین کی صورت میں بتا دیا۔ سیدنا عباس ؓ کو اسی کی تلقین کرتے ہوئے رسول رحمت ﷺ نے فرمایا '' جب مانگو تو اللہ سے مانگو ' اور جب مدد طلب کرو تو اللہ سے مدد طلب کرو ''۔۔ (ترمذی)
یہ دونوں سورتیں جو معوذتین کہلاتی ہیں اللہ سے پناہ اور دعا مانگنے کے لیے بہترین سورتیں ہیں اس کا ذکر احادیث میں بھی آچکا ہے۔
(دعا)
'' اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! آپ ہی میرے کارساز ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ' مجھے پوری فرمانبرداری کی حالت میں دنیا سے اٹھا لیجئے اور مجھے خاص نیک بندوں میں شامل کردیجئے ''۔ آمین۔ (یوسف : 101)
بفضل رب العٰلمین سورة الناس مکمل ہوگئی۔
الحمد للہ۔ اور یہ سورت قرآن الحکیم کی آخری سورت ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ بَعِزَّتِہٖ وَ جَلَالِہٖ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ
ترجمہ :۔ اللہ کی ذات پاک کا بہت بہت شکر ہے جس کی عزت و عظمت کے ذریعے اچھا کام پورا ہوا ہے۔
خلاصہ قرآن
قرآن پاک میں کل پارے تیس ہیں۔ منازل سات۔ (7) سجدے 15 سورتیں 114' مکی سورتیں 86، مدنی سورتیں 28' رکوع 588 آیات قصص 1000' آیات وعدہ 1000' کاتبان وحی 40' کلام الہ العلمین۔ پیغمبر جن پر نزول قرآن ہوا۔ حضرت محمد ﷺ نبی آخر الزمان ﷺ قرآن الحکیم حکمتوں ' برکتوں ' رحمتوں اور فضل و کرم کا ایک بہترین تحفہ ہے انسانوں کے لیے، تمام دنیا کے انسانوں کیلئے۔ پہلی سورة الفاتحہ ہے جو انسان کی طرف سے رب العٰلمین کے حضور ایک دعا ہے۔ جو اللہ نے قبول کی اور اس کے جواب میں بہترین اصول و ضوابط کا ایک مجموعہ کتاب ہدایت قرآن الحمید کی صورت میں عطا کردیا۔ اور فرما دیا ” اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ '“۔ آج تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیا۔ انسانوں کی روحانی و جسمانی صحت و سلامتی کا بہترین نسخہ
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا
الطاف حسین حالی
مبارک باد کے مستحق ہیں وہ لوگ جو قرآن کو پڑھتے ہیں ' سمجھتے ہیں ' عمل کرتے ہیں اور سب سے مبارک وہ لوگ ہیں جو اس کو دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ مجھے وہ لوگ بےحد پسند ہیں جو اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں تعلیمات قرآن کے ذریعے۔ اسی شوق میں میں بھی نکل کھڑی ہوئی۔ میں بےسروسامان ' کمزور و ناتواں اس طویل سفر میں کیسے کامیاب ہوئی۔ یہ خود مجھے معلوم نہیں۔ بس قران کریم کی محبت اور اس ذات پر توکل تھا جس نے یہ قرآن نازل فرمایا، معبود برحق کی مدد اور دعاؤں کا سہارا۔ یہ سہارا ہر پل ہر لمحہ اور ہر صورت میرے ساتھ رہا۔ اور اب قبولیت دعا پر ہر دم میری زبان پر شکریہ کی یہ دعا رہتی ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ بَعِزَّتِہٖ وَ جَلَالِہٖ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ
ترجمہ :- '' اللہ کی ذات پاک کا بہت بہت شکر ہے جس کی عزت و عظمت کے ذریعے اچھا کام پورا ہوا ''۔
کہاں تک یہ کام ٹھیک یا صحیح ہوا ؟ یہ اللہ جانتا ہے یا پھر آپ قارئین جان سکتے ہیں۔ غلطیوں اور کوتاہیوں کے لیے اللہ بزرگ و برتر سے تہہ دل سے استغفار کرتی ہوں۔ سورة النصر میں ہر صورت تسبیح اور استغفار کی تاکید کی گئی ہے۔ فرمایا '' تو اپنے رب کی تعریف کیساتھ تسبیح کر اور اس سے مغفرت مانگ بیشک وہ معاف کرنے والا ہے ''۔ (سورۃ النصر : 3)
یہ اس لیے کہ کسی بھی کامیابی پر دل و دماغ میں فخر و غرور پیدا نہ ہوجائے۔ اور اس طرح ہم شیطان کے غلبہ سے بچ سکیں۔ بیشک اللہ کی پناہ سب سے بڑی مضبوط اور ناقابل تسخیر پناہ گاہ ہے۔
معزز قارئین سے درخواست ہے کہ جو کوتاہی یا غلطی میری تشریحات میں وہ دیکھیں مجھے ضرور آگاہ کریں آخر میں پھر اللہ سے دعا ہے۔ جو دعا ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) نے بیت اللہ کی تعمیر مکمل ہونے پر پڑھی تھی وہی دعا میں اس تفسیر کے مکمل ہونے پر پڑھتی ہوں۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمِ ۔ (البقرۃ)
اے ہمارے رب ! ہم سے (یہ) قبول فرما بیشک تو سننے والا جاننے والا ہے۔
ہدیہ تشکر
میں شکر گزار ہوں ان تمام حضرات وخواتین کی جنہوں نے اس کا رخیر میں شرکت کی، خاص طور پر سربراہ ادارہ بیت القرآن کی جنہوں نے مفہوم القرآن کی نشرواشاعت کا ذمہ اٹھا یا اور اسے بےلوث جہاد فی سبیل اللہ کی نیت سے نبھایا اور اس مکمل تفسیر کا معمولی سا ہدیہ مقرر کیا جو بالکل نہ ہونے کے برابر ہے تاکہ قرآن کریم کا پیغام ہر خاص وعام تک پہنچ سکے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ ان کی مساعی جمیلہ کو قبول ومنظور فرمائے۔ اور یہ میری دلی دعا ہے کہ اللہ رب العزت انہیں اور ان کے رفقاء اور ان کی ریسرچ ٹیم کو صحت و عافیت اور ایمان کی سلامتی عطا فرمائے اور ان سے اللہ تعالیٰ دین اسلام کی مزید خدمت لے جو اسلام کی سربلندی کا باعث بنے اور ان کے لیے دنیا اور آخرت میں ذریعہ نجات بنے، اور میری طرف سے ان سب کے لیے میری دعائیں قبول فرمائے۔ آمین
(1) ﴿ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَۃً وَّفِي الْاٰخِرَۃِ حَسَـنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ 201﴾البقرۃ
(2) ﴿ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ﴾ابراهيم
(3) ﴿رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَۃً وَّہَيِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا 10 ﴾الكهف
(4) ﴿ رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَيْكَ اَنَبْنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ 4 ﴾الممتحنۃ
(5) ﴿ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا 0ۚ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 8 ﴾التحریم