114. Surah An-Naas
الناسMankind · 6 ayahsمعارف القرآن
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ Open ayah 114:1 in the Quran reader
کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں
مَلِكِ النَّاسِۙ Open ayah 114:2 in the Quran reader
(یعنی) لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی
اِلٰهِ النَّاسِۙ Open ayah 114:3 in the Quran reader
لوگوں کے معبود برحق کی
مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ Open ayah 114:4 in the Quran reader
(شیطان) وسوسہ انداز کی برائی سے جو (خدا کا نام سن کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے
الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ Open ayah 114:5 in the Quran reader
جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے
مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ Open ayah 114:6 in the Quran reader
(خواہ وہ) جنات سے (ہو) یا انسانوں میں سے
تعلیم وتلقین از مہالک باطنیہ وآفات نفسانیہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اعوذ برب الناس ........ الی ........ من الجنۃ والناس “۔
(ربط) گذشتہ سورت یعنی الفلق میں اللہ رب العزت کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا تھا ایسے تمام مہالک اور آفات سے جو حسی اور ظاہری ہیں کہ ہر مخلوق کے شر، ہر تاریکی کے فتنہ سے ہر جادو کی مصیبت سے اور ہر حسد اور کید ومکر سے تو یہ تمام آفات ظاہری اور حسی تھیں اب اس سورة الناس میں ان آفات اور ہلاکتوں کو ذکر کیا جارہا ہے جو باطنی ہیں، اور وہ نفس سے اور نفس کے دواعی وتقاضوں سے پیدا ہوتی ہیں اور قلب پر وارد ہو کر انسان کے دین اور عقیدہ کو ہلاک وبرباد کردینے والی ہیں تو اس سورت میں ان سے پناہ حاصل کرنے کا حکم دیا جارہا ہے۔
ارشاد فرمایا کہدیجئے اے ہمارے پیغمبر ﷺ میں پناہ حاصل کرتا ہوں انسانوں کے رب انسانوں کے بادشاہ انسانوں کے معبود کی ہر وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو پیچھے ہٹ جانے والا ہو وہ جو وسوسہ ڈالتا ہو لوگوں کے دلوں میں دلوں میں جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے ہر ایک کے وسوسہ سے میں پناہ چاہتا ہوں قلبی وساوس کے ذریعہ۔
گمراہ کرنے والے جنوں میں سے بھی ہوتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی جیسے کہ ارشاد ہے (آیت) ” وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیطین الانس والجن یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرور ا “۔ اس لئے دونوں کے وسوسوں سے خدا کی پناہ طلب کرنے کی تلقین فرمائی گئی اور چونکہ وساوس قلبیہ ڈالنے والے شیاطین نظروں کے سامنے کو کہا جاتا ہے جیسے کوئی قزاق اور قاتل داؤ اور گھات میں لگا ہو اور موقعہ پاتے ہی حملہ کرکے پیچھے چھپ جائے تو وسوسہ ڈالنے والا شیطان بھی اسی طرح وسوسہ ڈال کر فورا چھپ جاتا ہے۔
بعض ائمہ مفسرین اس خنوس اور پیچھے ہٹ جانے کو اس مضمون پر محمول کرتے ہیں جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا (آیت) ” واما ینزغنک من الشیطان نزغ فاستعذ باللہ “۔ اور حدیث میں ہے ان الشیطان جاثم علی قلب ابن آدم کلما ذکر اللہ خنس تو شیطان کا انسا کے قلب سے ہٹ جانا استعاذہ اور ذکر اللہ سے اس کا خنوس ہے۔ 12)
ابلیس یا اسکی ذریت میں سے نوع جن قلوب بنی آدم تک رسائی حاصل کرنے کی وجہ سے طرح طرح کے وسوسے اور ناپاک خیالات قلب میں ڈال دیتے ہیں اور جو انسان ابلیس کے تابع ہوجائیں اور ابلیس ہی کا کام انجام دینے کے لئے اس مہم میں لگے رہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دلوں میں مختلف قسم کے شکوک وادہام پیدا کرتے رہیں اور انکی تمام ترکوشش یہی ہوتی ہے کہ دین اسلام، احکام اسلام اور اصول و عقائد میں ایسے ایسے شکوک پیدا کریں کہ مسلمان عقیدہ توحید ایمان الآخرۃ اور اصل ایمان ہی سے محروم ہوجاتے ایسے ہی شیاطین انس کے بارے میں مولانا رروم (رح) فرماگئے۔
اے بسا ابلیس شکل آدم اس
پس بہر دستے نباید داد ست :
ان شیاطین انس کا وجود اور ظہور ہر زمانہ میں ہوتا ہے خصوصا زمانہ اخیر میں ایسے مفسدین اور فتنہ پردازوں کی کثرت احادیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے ان میں ایسے خطرناک فتنہ پرداز ہوں گے جن کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر میں ان کا زمانہ پالوں تو انکو اس طرح ہلاک کروں گا جیسے عاد وثمود کی قومیں ہلاک کی گئیں جب دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ انکی کوئی علامت اور نشانی ہمیں بتا دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ ہم ہی جیسے ہوں گے صورت وشکل میں ہماری جیسی باتیں کرتے ہوں گے ہماری جیسی زبان سے بولتے ہوں گے خیرالبریہ کے اقوال کہتے ہوں گے قرآن اپنی زبان سے پڑھتے ہوں گے۔ لیکن دین سے اس طرح قطعا بےتعلق ہوں گے جس طرح کوئی تیر نشانہ اور شکار سے خطا کرجائے اور بچ کر نکل جائے تو اس تیر پر اس کی پر، کنارہ پر، پھلکے پر، گرہ پر، کہیں بھی شکار کا کوئی اثر اور نشان نہیں ہوتا تو ایسا ہی ان فتنہ پردازوں اور گمراہ کرنے والوں۔ کی زندگی میں یعنی ان کی معاشرت طور و طریق طرز زندگی میں کسی بھی رخ پر اسلام کا اثر نہیں آئے گا تو یہ ان ملحدین کا گروہ ہے جو دین اور اسلام کا نام لے کر اسلام کو مسخ کرنے والے ہیں ،
تو اس میں کوئی شہ نہیں کہ انکے وسوسے شیاطین کے وسوسوں سے زیادہ خطرناک اور مہلک ہیں۔
معوذتین کی تفسیر میں حکماء وعارفین کی تحقیق وتشریح :
معوذتین کے مضمون کا حاصل یہ ہے کہ انسان اگر مہالک حسیہ اور مہالک باطنیہ سے پناہ حاصل کرسکتا ہے تو صرف اسی رب کی پناہ جو خالق کائنات ہے اسی کو حکم تمام کائنات اور حتی کہ انسانوں کے قلوب پر بھی جاری ہے پہلی سورت میں جو آفات اور مہلکات حسی اور ظاہری ہیں ان سے پناہ مانگنے کے لئے یہ عنوان (آیت) ” قل اعوذ برب الفلق “۔ یعنی پناہ چاہتا ہوں میں رب الفلق کی ہر مخلوق کے شر سے اختیار فرمایا گیا۔
جیسا کہ پہلے اشارہ کیا گیا کہ مخلوقات کے شر اور ان کے جملہ اقسام و انواع مادیت اور بہمیت کی ظلمت و تاریکی ہیں اس وجہ سے مناسب ہے پناہ مانگی گئی وہ چار چیزیں ہیں (1) (آیت) ” شرما خلق “۔ ہر مخلوق کے شر سے (2) (آیت) ” شر غاسق اذا وقب “۔ رات کی تاریکی کا شر جس میں جملہ شرور وآفات رونما ہوا کرتے ہیں۔ (3) (آیت) ” شر النفثت “۔ جادوگروں کا (4) (آیت) ” شرحاسد “۔ حاسدوں اور کمینہ خصلت انسانوں کا شر تو ان چار آفتوں سے پناہ حاصل کرنے کے لئے رب کی ایک صفت رب فلق کے ساتھ اس تعوذ کو ذکر فرمایا گیا لیکن دوسری سورت میں ایک ہی شر وساوس سے تحفظ اور تعوذ کے لئے رب کی تین صفات بیان کی گئیں (1) (آیت) ” رب الناس “۔ میں ربوبیت (2) (آیت) ” ملک الناس “ میں بادشاہت۔ (3) ” (آیت) ” الہ الناس “۔ میں معبودیت تو ان صفتوں سے موصوف رب کی پناہ شروسواس الخناس سے ذکر کی گئی۔
دونوں سورتوں کے عنوان سے ظاہر ہوا کہ شیاطین جن اور انس کے وسوسے زیادہ خطرناک اور مہلک ہیں اسی وجہ سے ایک شر سے تحفظ اور بچاؤ کے لئے خداوند عالم کی تین صفتوں کے ذریعہ پناہ مانگی گئی جب کہ پہلی سورت میں جملہ مہلکات حسیہ سے پناہ کے لئے رب کی ایک ہی صفت کے بیان پر اکتفاء فرمایا گیا۔
امام رازی (رح) کی تحقیق منیف :
امام فخر الدین رازی (رح) نے اپنی تفسیر مفاتیح الغیب یعنی تفسیر کبیر میں بعض عارفین سے ان سورتوں کی تشریح میں عجیب حقائق اور بلند وقائق ذکر فراتے سمعت بعض العارفین کے عنوان سے جو تحقیق ذکر فرمائی اسکے اکثر مقدمات ابن سینا کے مقدمات سے کچھ ملتے جلتے ہیں فرمایا۔
بعض عرفاء فرماتے ہیں کہ جب کہ خدا تعالیٰ کی معبودیت کے متعلق جو امور تھے سورة اخلاص میں انکی تمام و کمال شرح کردی گئی تو مناسب ہوا کہ اب خالق سے اتر کر ان دونوں سورتوں میں مخلوقات کے مراتب کی تفصیل کی جاوے اس لئے شروع سورت میں (آیت) ” قل اعوذ برب الفلق “۔ کہہ کر اشارہ کردیا گیا کہ اس سورت میں مخلوق کے مدارج کا ذکر ہوگا کیونکہ فلق لغت میں اس چیز کو کہتے ہیں جس کو شق کرکے کوئی دوسری چیز اس میں سے برآمد ہو اور جیسا کہ رات کی تاریکی میں سے صبح کا نکلنا یا تخم میں سے درخت یا زمین اور پتھروں میں سے چشمہ صلب پدر میں سے نطفہ یا رحم مادر میں سے بچہ برآمد ہوتا ہے اسی طرح تمام مخلوقات ظلمات عدم کی غیر متناہی پردوں کو پھاڑتے ہوئے وجود کے منور سطح پر برآمد ہوتے ہیں تو اس اعتبار سے رب الفلق کے معنی رب جمیع الممکنات ہوئے۔
اب عالم ممکنات دو حصوں پر تقسیم ہوتا ہے ایک ارواح مجردہ کا عالم جس کو عالم الامر کہتے ہیں اور دوسرا مادیات کا عالم جسکو عالم الخلق سے تعبیر کرسکتے ہیں ان میں سے پہلی قسم چونکہ خیر محض ہے جس میں شر کا کوئی شائبہ نہیں اور دوسری قسم میں مادہ کے اقتران نے شرور کی بھی آمیزش پیدا کردی ہے اس لئے جناب باری عزاسمہ نے (آیت) ” من شر ما خلق “ ، کہہ کر عالم مادیات سے تعوذ کی تعلیم فرمائی، لیکن یہ ظاہر ہے کہ کل اجسام دو قسم کی ہیں اجسام اثیریہ (علویہ) اور اجسام عنصریہ (سفلیہ) جس میں سے اجسام اثیریہ تو بطبعہا اختلال وفطور سے بری ہونے کی وجہ سے خیر ہی خیر ہیں جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے (آیت) ” ماتری فی خلق الرحمن من تفوت فارجع البصر ھل تری من فطور “۔ اور اجسام عنصریہ کی تین قسمیں (جن کو موالید ثلاثہ کہتے ہیں) نکلتی ہیں جمادات، نباتات، حیوانات ان ہی تینوں اقسام کا احاطہ کرنے اور ماخلق کی مصداق میں سے بطریق تخصیص بد التعمیم اجسام اثیریہ کو نکالنے کے واسطے یہ تین کلمات ارشاد ہوئے۔
(آیت) ” ومن شر غاسق اذا وقب ومن شر النفثت فی العقد ومن شر حاسداذا حسد “۔ کیونکہ (آیت) ” غاسق اذا وقب “۔ سے مراد اس جگہ شب دیجور ہے جس میں تہ بر تہہ تاریکی چڑھی ہوئی ہے اور ظاہر ہے جمادات شب دیجور کے ساتھ اس وجہ سے بہت پوری مشابہت رکھتے ہیں کہ وہ جمیع قوی نفسانیہ اور انوار کمالات سے بالکل خالی ہونے کی وجہ سے ظلمت خالص اپنے اندر لئے ہوئے ہیں برخلاف نباتات کے کہ ان میں کم از کم قوت غاذیہ نباتیہ تو موجود ہوتی ہے جو ان کو طول، عرض عمق تین جانبوں میں بڑھاتی رہتی ہے جس کو اگر تنفث فی العقد الثلاثہ سے تعبیر کیا جائے تو بالکل چسپاں ہے۔
باقی تیسری قسم حیوانات انکی حالت یہ ہے کہ تمام قوی حیوانیہ (حواس ظاہرہ، حواس باطنہ اور شہوت وغضب وغیرہ) روح انسانی کو انصباب الی عالم الغیب اور امور آخرت میں اشتغال رکھنے سے روکنے میں مصروف رہتے ہیں اور جہاں تک موقع پاتے ہیں روح مقدس کو اوج سے حضیض کی طرف اور بلندی سے پستی کی طرف دھکیلنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے انکی مثال بالکل ایسی دشمن اور حاسد کی ہے کہ جو ہر وقت گھات میں لگا بیٹھا رہے اور جب موقع پائے آدبوچے تو قرآن حکیم نے تمام مخلوقات کے شرور سے استعاذہ کرنے کی تعلیم ایک ذرا سی سورت میں جمع کردی اور اس طور پر ساری سورت کا مطلب یہ نکلا کہ اے ساری مخلوق کے پروردگار ہم تمام جسمانیات یعنی جمادات اور نباتات اور حیوانات کے شرور سے تیری بارگاہ احدیت میں پناہ جوئی کرتے ہیں ،
مگر چونکہ اس سورت میں نفس انسانی مستعیذ تھا اور یہ جملہ مراتب مستعاذ منہ کے اندربتلائے گئے ہیں تو ضرورت تھی کہ کسی دوسری جگہ خود نفس انسانی کے مراتب کی بھی تشریح کی جاتی اس لئے اس سے اگلی سورت میں اس ضرورت کو پورا کیا گیا کیونکہ نفس انسانی کی سب سے پہلی حالت یہ ہے کہ وہ اگرچہ باعتبار اپنی اصل فطرت کے نقوش معرفت کے قبول کرنے کے لئے ہمیشہ سے مستعد لیکن ابتداء پیدائش میں نظریات تو درکنار وہ علوم بدیہیہ کے حصول سے بھی معری ہوتا ہے اور اس حالت میں ان سب کو ایک ایسے رب (مربی) کی ضرورت ہے جو اسکو اولا معارف بدیہیہ کی تلقین کرے۔
بعدہ جب وہ دوسری مرتبہ پہنچے اور بدیہیات کے حصول سے اسکے اندر ملکہ نظریات کی طرف منتقل ہونے کا پیدا ہوجاوے تو اب اسکو ایک ایسے ملک متصرف کی حاجت ہے جو اسکو اس ملکہ سے کام لینا اور اپنی معلومات میں تصرف کرنے کے قواعد سکھائے اور جب وہ ترقی کی دوڑ میں اس سے بھی آگے قدم بڑھانا چاہے تو لازم ہے کہ اس کے علوم کو قوت سے فعل میں لانے اور اسکو کمال تام عطا کرنے کے واسطے کوئی ایسی ہی کامل ذات اسکی سر پرستی کرے جس میں تمام کمالات بالفعل ہوں اور قوت وعدم کا نام ونشان تک نہ ہو۔
چناچہ ان ہی تینوں مراتب نفس انسانی کی ترتیب کے مطابق خدا تعالیٰ نے اپنی تین صفات (1) رب الناس (لوگوں کے پروردگار) (2) ملک الناس (لوگوں کے بادشاہ) (3) الہ الناس (لوگوں کے معبود) کو پے در پے ذکر فرمایا اور نفوس انسانیہ کے ہر ایک مرتبہ کے مناسب اپنے اسماء میں سے ایک اسم کو منتخب کرلیا لیکن یہ بھی چونکہ معلوم تھا کہ نفس انسانی سے مزاحمت سب سے زیادہ کرنیو الی قوت وہمیہ ہوتی ہے جسکو وسواس سے تعبیر کیا گیا ہے تو اس بناء پر نفس انسانی کو خصوصیت سے اسکے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی اور اس وجہ سے کہ قوت وہمیہ بسا اوقات عقل کا ساتھ چھوڑ کر پیچھے کھسک جاتی ہے تو اسکو خناس کالقب دیا گیا الغرض حق تعالیٰ نے ان کلمات اور تعبیرات سے انسان کو خوب متنبہ کردیا کہ سب سے بڑا دشمن یہی وسواس خناس ہے اور اس سے محفوظ رہنے کی تدبیر یہی تعوذ ہے۔
رہی یہ بات کہ سورة فلق میں مستعاذ بہ (یعنی جس کی پناہ حاصل کی جائے) ایک ہے اور مستعاذ منہ (یعنی جن سے پناہ مانگی جارہی ہے) چار ہیں تو ان چاروں کے درمیان تعلق کیا ہے اور (آیت) ” شر ماخلق “ کا عنوان جب کہ مابعد کے تمام اقسام کو جامع ہے تو پھر بعد میں ان تینوں کو کس لئے بیان کیا گیا اور سورة ناس میں مستعاذ منہ صرف ایک ہی چیز ہے لیکن مستعاذبہ تین اوصاف کے ساتھ مذکور ہے رب، ملک، الہ۔ اور یہ تینوں ناس یعنی انسانوں کی طرف مضاف ہیں تو ان امور کی حکمت ذکر کرتے ہوئے امام رازی (رح) اپنی تفسیر کے اخیر میں فرماتے ہیں۔
جاننا چاہئے کہ اس سورة (آیت) ” قل اعوذ برب الناس) میں ایک خاص نکتہ ہے وہ یہ کہ اس سے پہلی (سورۂ فلق) میں تو صرف ایک صفت (رب الفلق) سے بیان کیا گیا ہے اور مستعاذمنہ کی جانب میں تین قسم کی آفتیں (غاسق، نفاثات، حاسد) مذکور ہیں اور اس کے برعکس اس سورة (آیت) ” قل اعوذ برب الناس “۔ ) میں مستعاذبہ کی طرف تین صفتیں (رب الناس، ملک الناس، الہ الناس) بیان ہوتیں اور اور مستعاذمنہ فقط ایک ہی آفت (وسواس) کو قرار دیا گیا تو دونوں سورتوں میں فرق کی وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ثناء ہر مقام میں بقدر مطلوب کی عظمت اور اہمیت کے کی گئی ہے اور معلوم ہے کہ پہلی سورة میں مستعیذ کا مقصود اپنے نفس اور بدن کو بچانا ہے اور دوسرے میں دین کو بچانا ہے اسلیئے خدا تعالیٰ نے اپنے طرز کلام سے متنبہ کردیا کہ دین کی تھوڑی سی بھی مضرۃ دنیا کی بڑی سے بڑی مضرتوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ قابل احتراز اور قابل خیال ہے اور (آیت) ” شر ما خلق “ میں اگرچہ دنیا کی ہر چیز سے استعاذہ ہوگیا تھا لیکن بعد میں غاسق نفاثات اور حاسد کو ذکر کرکے یہ ظاہر فرمادیا گیا کہ انواع شرور میں یہ تین قسمیں سب سے زیادہ مہلک اور شر ہیں۔
حضرت شاہ عبدالعزیز قدس اللہ سرہ ان تین اوصاف کے ذکر کرنے کی وجہ اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ ان تین صفتوں کو ذکر فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ شیطان کے دخل پانے کی آدمی میں تین راہیں ہیں شہوت، غضب اور عقیدہ باطل کہ جس کو اصطلاح میں ” ہوا “ بھی کہتے ہیں ان میں سے شر شہوت کو دفع کرنے کے لئے اسم رب ہے اور شر غضب کے رد کرنے کے لئے اسم ملک ہے اور شرہوا کے مقابلہ میں اسم الہ کو رکھا گیا ہے گویا یوں فرمایا گیا کہ اگر شیطان شہوت کی راہ سے تمہارے سامنے آئے تو تم خدا کی شہنشاہی اور عدل وانتقام کو یاد کرو اور اگر ہوا کی راہ سے اپنا تصرف جمانا چاہے تو تم کو چاہئے کہ مرتبہ الوہیت کی طرف اپنی التجاء لے جاؤ اسکے بعد آگے چل کر شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔
اور بعض مفسرین نے ان تینوں صفتوں (رب الناس، ملک الناس، الہ الناس) کی تفسیر اور انکو اس ترتیب کے ساتھ بیان کرنے کے بارے میں یہ کہا ہے کہ آدمی پر اسکی زندگی کے تین دور آتے ہیں عہد طفولیت میں وہ اپنے پرورش کرنے والے کے سوا کسی کو نہیں پہچانتا اور بھوک اور پیاس کے وقت ایک اسی سے التجا کرتے ہے اور جب کسی چیز سے خوف زدہ ہوتا ہے تو اسی کی طرف بھاگتا ہے اور اسی واسطے ان حالات میں بچہ فقط ماں باپ ہی کو بلاتا ہے اور انہی سے فریاد کرتا ہے بعد جوانی کی عمر میں پہنچ کر جب یہ دیکھتا ہے کہ میرے ماں باپ بھی میری طرح سے بادشاہ وقت یا امیر کے محتاج ہیں اور اسی سے روزی حاصل کرتے ہیں اور بلاؤں اور مصائب کے دفع کرنے میں اسی کی پناہ ڈھونڈتے ہیں تو ناچار اسکے ذہن میں یہ بات راسخ ہوجاتی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے بادشاہ اور امیر ہی ہے اور اسی کا تقرب کارخانہ وجود کے انتظام کا باعث ہے گویا اس حالت میں اس کا تمامی اعتماد اور بھروسہ فقط بادشاہ اور امیر پر ہوا لیکن جب وہ اس حالت سے بھی ترقی کرکے یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ بادشاہ اور امیر بھی بعض اوقات میں درماندہ اور عاجز ہو کر اپنی التجائیں عالم الغیب کی طرف لے جاتے ہیں اور اسی طرف سے مطالب کے حاصل کرنے اور مرادوں کے بر آنے میں مدد مانگتے ہیں تو وہ جان لیتا ہے کہ یہ بادشاہ اور امیر بھی عاجز اور محتاج ہونے میں مجھ سے کچھ کم نہیں اور یہ کہ عالم کا سارا کارخانہ کسی دوسری ہستی کے ساتھ وابستہ ہے جس کو الہ اور معبود کہتے ہیں پس ان تین صفتوں کے لانے میں اس طرف اشارہ ہوا کہ اگر بندہ طفل مزاج ہے اور سوائے تربیت اور پرورش کے کسی دوسری چیز کو نہیں جانتا تو اسکو معلوم کرنا چاہئے کہ یہ صفت میں بھی رکھتا ہوں چاہئے کہ وہ مجھ سے ہی التجا کرے کیونکہ میں رب الناس ہوں اور میری ربوبیت تمام آدمیوں پر حاوی ہے اور اگر بندہ کی عقل حد بلوغ کو پہنچ گئی اور اپنے بادشاہ اور امیر کی تمام امور کا مالک سمجھ گیا تو یہ صفت بھی بوجہ احسن میرے اندر موجود ہے کیونکہ میں تمام دنیا کا بادشاہ ہوں نہ خاص ایک اقلیم یا دواقلیم کا اور اگر بندہ کو تجربہ سے ثابت ہوگیا کہ باشادہ و امیر اور مادر وپدر سب کے سب کسی دوسری ذات کے محتاج ہیں جس کو الہ اور معبود کہتے ہیں اور جس کا نام پاک صبح وشام ورد زبان رہتا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ صفت تو (سرسری نظر میں بھی) کسی دوسرے میں میرے سوا موجود نہیں ہے غرضیکہ بندہ کو ہر حالت میں تمام وسائط واسباب کو نظر انداز کرکے تنہا میری جناب ہی کی طرف رجوع کرنا چاہئے ،
قاسم العلوم والخیرات مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) کا کلام معرفت التیام :
معوذتین کی تفسیر میں علماء وحکماء نے حقائق ومعارف بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کئے ہیں، بالخصوص حافظ ابن قیم امام رازی محقق ابن سینا اور حضرت شاہ عبدالعزیز قدس اللہ اسرارھم نے جو حقائق ولطائف ذکر فرمائے ہیں ان میں سے بطور نمونہ چند اشارات یا اقتباسات ان دونوں سورتوں کی تفصیل میں ذکر کردیئے گئے ہیں لیکن میرے استاذ محترم شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) نے جو قاسم العلوم والخیرات (رح) کی تحقیق ذکر فرمائی ہے وہ اپنی جگہ ایک عظیم شان رکھتی ہے۔
حضرت الاستاذ (رح) نے جس تعبیر اور سیاق وسباق سے اس تحقیق کو اپنے فوائد میں بیان فرمایا ہے یہ ناچیز اس تفسیر کے خاتمہ پر اسکو نقل کرتا ہے تاکہ اس تفسیر کے لئے حس خاتمہ اور مؤلف کیلئے باعث سعادت ہوبطور تمثیل ہر دو سورت کے حقائق ومعارف اس طرح بیان فرماتے ہیں۔
حاشیہ (ناچیز حضرت استاذ کا یہ کلام بعینہ انکی ہی عبارت میں نقل کررہا ہے تاکہ حضرات قارئین اصل مضمون کے علاوہ نفس تعبیر میں جو حقائق ومعارف ہیں ان سے بھی مستفیض ہوں 12)
یہ ایک فطری اور عام دستور ہے کہ باغ میں جب کوئی نیا پودہ زمین کو شق کرتے ہوئے باہر نکلتا ہے تو باغبان اس کے تحفظ میں پوری کوشش اور ہمت صرف کردیتا ہے اور جب تک وہ جملہ آفات ارضی وسماوی سے محفوظ ہو کر اپنے حد کمال کو نہیں پہنچ جاتا اس وقت تک بہت زیادہ تردد اور عرق ریزی کرنا پڑتی ہے۔
اب غور کرنا چاہئے کہ پودے کی زندگی کو فنا کردینے والی یا اسکے ثمرات کے تمتع سے مالک کو محروم بنادینے والی وہ کون کون سی آفات ہیں جن کے شر اور مضرت سے بچا لینے میں باغبان کو اپنی مساعی کے کا میاب بنانے کی ہر وقت دھن لگی رہتی ہے ادنی تامل سے معلوم ہوجائے گا کہ ایسی مساعی کے کامیاب بنانے کی ہر وقت دھن لگی رہتی ہے ادنی تامل سے معلوم ہوجائے گا کہ ایسی آفات اکثر چار طرح سے ظہورپذیر ہوتی ہیں جن کی انسداد کے لئے باغبان کو چارامور کی اشد ضرورت ہوتی ہے (1) اول ایسے چار سبزہ اور گیاہ کا کھانا داخل ہے (2) دوسرے کنوئین یا نہریا بارش کا پانی ہوا اور حرارت آفتاب غرضیکہ تمام اسباب زندگی و ترقی کے پہنچنے کا پورا انتظام (3) تیسرے اوپر سے برف اولہ وغیرہ ” جو اسکی حرارت غریز یہ کے احتقان اور رک جانے کا باعث ہو “۔ اس پر گرنے نہ پائے کیونکہ یہ چیزیں اسکی نشوونما اور ترقی کو روکنے والی ہیں (4) چوتھے مالک باغ کا دشمن یا اور کوئی حاسد اس پودے کی شاخ وبرگ وغیرہ کو نہ کاٹ ڈالے یا اسکو جڑ سے اکھاڑ کر نہ پھینک دے اگر ان چار باتوں کا خاطر خواہ بندوبست باغبان نے کرلیا تو خدا سے امید رکھنا چاہئے کہ وہ پودا بڑا ہوگا پھولے پھلے گا اور مخلوق اسکی پر میوہ شاخوں سے استفادہ کرے گی ٹھیک اسی طرح ہم کو خالق ارض وسماء سے (جو رب الفلق اور فالق الحب والنوی اور چمنستان عالم کا حقیقی مالک ہے) اپنے شجر وجود اور شجر ایمان کے متعلق ان ہی چار قسم کی آفات سے پناہ مانگنی چاہئے جو اوپر مذکور ہوئیں پس معلوم کرنا چاہئے کہ جس طرح اول قسم میں سبزہ خور جانوروں کی ضرر رسانی محض انکی طبیعت کے مقتضیات میں سے تھی اسیطرح ” شر “ کی اضافت ” ماخلق “ کی طرف بھی اسی جانب مشیر ہے کہ یہ شر اس مخلوق میں من حیث ہو مخلوق کے واسطہ سے ثابت ہے اور اسکے صدور میں بجز انکی طبیعت اور پیدائشی دواعی کے اور کسی سبب کو دخل نہیں جیسا کہ سانپ بچھو اور تمام سباع وبہائم وغیرہ میں مشاہدہ کیا جاتا ہے۔
نیش عقرب نہ از پئے کین است
مقتضائے طبیعتش این است :
اس کے بعد دوسرے درجہ میں (آیت ) ” غاسق اذا وقب “۔ سے تعوذ کی تعلیم دی گئی ہے جس سے مفسرین کے نزدیک مراد یا تو تو رات ہے جب خوب اندھیری ہو یا آفتاب ہے جب غروب ہوجائے یا چاند ہے جب اسکو گھن لگ جائے ان میں سے کوئی معنی لو ایک اتنی بات یقینی ہے کہ غاسق میں سے شرکا پیدا ہونا اسکے وقوب (یعنی کسی چیز کے نیچے چھپ جانے پر) مبنی ہے اور ظاہر ہے وقوب (چھپ جانے) میں اس کے سوا کوئی بات نہیں کہ ایک چیز کا علاقہ ہم سے منقطع ہوجائے اور جو فوائد اسکے ظہور کے وقت ہم کو حاصل ہوتے تھے وہ اب ہاتھ نہ آئیں (کیونکہ سبب کا وجود اسباب کے وجود پر موقوف ہوتا ہے) اور ہر چیز کا بقاء اسی پر موقوف ہے کہ وہ مہلکات و حوادث سے محفوظ رہے اور اگر وہ لگایا ہوا پودا اسباب بقاء وزندگی سے محروم ہوجائے تو لامحالہ وہ کملا کر خشک ہوجائے گا (تو آفات میں یہ دوسری قسم ہے آفت کی) اب اس کی بعد تیسرا تعوذ ”(آیت ) ” نفثت فی العقد “۔ سے کیا گیا جو ساحرانہ عمل ہے اور سحر کے اثر سے مسحور کو ایسے امور عارض ہوجاتے ہیں سے اصل طبیعت کے آثاراصلیہ وطبیعہ مغلوب ہو کر دب جاتے ہیں تو سحر کی یہ آفت اس آفت سے بہت مشابہ ہوگئی جو پودے پر برف وغیرہ کے گرنے اور حرارت غریزیہ کے محتقن (بند) ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی تھی جس سے اس کا نشوونمارک جاتا تھا لبید بن الاعصم کے قصہ میں جو الفاظ آتے ہیں فقام (علیہ الصلوۃ والسلام) کانما انشط من عقال ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی چیز نے مستولی ہوکر آپ کے مقتضیات طبیعت کو چھپالیا تھا جو جبریل (علیہ السلام) کے تعوذ سے باذن اللہ دفع ہوگئی اب ان آفات میں سے تحرز (پرہیز کرنا) ضرور قرار دیا گیا صرف ایک آخری درجہ باقی ہے یعنی کوئی مالک باغ کا دشمن بر بناء عداوت وحسد پودے کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے یا اس کی شاخ وبرگ کاٹ ڈالے تو شر کے اس مرتبہ کو (آیت ) ” من شر حاسد اذا حسد “۔ نے بہت ہی وضاحت کے ساتھ ادا کردیا ہاں اس تقریر میں اگر کچھ کمی ہے تو صرف اتنی کہ کبھی کبھی تخم کو ان چاروں آفات میں سے کسی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ روئیدگی سے پہلے ہی یا تو بعض چیونٹیاں اس تخم کے باطن سے وہ خاص جو ہر ہی چوس لیتی ہیں جس سے تخم کی روئید گی اور نشوونما ہوتی ہے اور جس کو ہم ” قلب الحبوب “۔ یا ” سویداء تخم “۔ سے تعبیر کرتے ہیں یا اندر ہی اندر گھن لگ کر کھوکھلا ہوجاتا ہے اور قابل نشوونما نہیں رہتا شاید اسی کمی کی تلافی (یامہلکات کی تکمیل) کے لئے دوسری سورت میں ” الوسواس الخناس “ کے شر سے اشعاذہ کی تعلیم فرمائی گئی کیونکہ وسواس ان ہی فاسد خطرات کا نام ہے جو ظاہر ہو کر نہیں بلکہ اندرونی طور پر ایمان کی قوت میں رخنہ ڈالتے ہیں جن کا علاج عالم الخفیات والسرائر کے علاوہ کسی کے قبضہ میں نہیں لیکن وساوس کا مقابلہ ایمان سے ٹھیرا تو دفع وسواس کے واسطے ان ہی صفات سے تمسک کرنے کی ضرورت ہوئی جو ایمان کے اصل مبادی ومناشی شمار کئے جاتے ہیں اور جن سے ایمان کو مدد پہنچتی ہے اب تجربہ سے معلوم ہوا کہ سب سے اول ایامن (انقیاد و تسلیم) کا نشوونماء حق تعالیٰ کی تربیت ہائے بےپایاں اور انعامات بےغایت ہی کو دیکھ کر حاصل ہوتا ہے پھر جب ہم اس کی ربوبیت مطلقہ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمارا ذہن اس طرف منتقل ہوتا ہے کہ وہ رب العزت مالک الملک اور شاہنشاہ ومطلق پھر ہے کیونکہ تربیت مطلقہ کے معنی ہر قسم کی جسمانی وروحانی ضروریات کو بہم پہنچانے کے ہیں۔
اور یہ کام بجز اس ذات منبع الکمالات کے اور کسی سے بن نہیں پڑسکتا جو ہر قسم کی ضروریات کی مالک ہو اور دنیا کی کوئی ایک چیز بھی اس کے قبضہ اور اقتدار سے خارج نہ ہوسکے ایسی ہی ذات کو ہم مالک الملک اور شاہنشاہ مطلق کہہ سکتے ہیں اور لاریب اسکی یہ شان ہونی چاہئے (آیت ) ” لمن الملک الیوم للہ الواحد القہار “۔ گویا مالکیت وملکیت ایسی قوت کا نام ہے جس کی فعلیت کا مرتبہ ربوبیت سے موسوم ہوت ا ہے کیونکہ ربوبیت کا خلاصہ اعطاء منفعت اور دفع مضرت ہوتا ہے اور ان دونوں چیزوں پر قادر ہونا ملک علی الاطلاق کا منصب ہے پھر ذرا آگے بڑھتے ہیں تو ملک علی الاطلاق کے ہونے ہی سے ہم کو اس کی معبودیت اور الوہیت کا سراغ بھی ملتا ہے کیونکہ معبود اسی کو کہتے ہیں جس کے حکم کے سامنے گردن ڈال دی جائے اور اس کے حکم کے مقابلہ میں کسی دوسرے کے حکم کی اصلا پروانہ کی جائے تو ظاہر ہے کہ یہ انقیاد و بندگی بجز محبت کاملہ اور حکومت مطلقہ کے اور کسی کے سامنے سزاوار نہیں اور دونوں چیزوں کا اصلی مستحق اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا اس لئے معبودیت اور الوہیت کی صفت بھی تنہا اسی وحدہ لاشریک کے لئے ثابت ہوگئی پڑھو ! (آیت ) ” اتعبدون من دون اللہ مالا یملک لکم ضرا ولا نفعا “۔
غرض سب سے اول جو صفت ایمان کا مبداء ہے وہ ربوبیت ہے اور اسکے بعد جو صفت ہے وہ ملکیت ہے اور ان سب کے بعد الوہیت کا مرتبہ ہے پس جو شخص اپنے ایمان کو وساوس شیطانی کی مضرت سے بچانے کے لئے بارگاہ الہی میں جو چارہ جوئی کرئے گا اس کو اسی طرح درجہ بدرجہ نیچے کی عدالت سے واپر کی عدالت میں جانا مناسب ہوگا جس طرح اس نے بالترتیب اپنی صفات رب الناس، ملک الناس الہ الناس کو سورة ” الناس “ میں بیان فرمادیا اور عجیب بات یہ ہے کہ جس طرح مستعاذبہ کی جانب میں یہاں تین صفتیں بغیر واؤ عطف اور بغیر اعادہ باجارہ کے مذکور ہیں اسی طرح مستعاذمنہ کی جانب بھی تین چیزیں نظرآتی ہیں جو صفت در صفت بیان کی گئی ہیں اسکو یوں سمجھ سکتے ہو کہ لفظ وسواس کو الوہیت کے مقابلہ میں رکھو کیونکہ جس طرح مستعاذ بہ حقیقی الہ الناس ہے اور ملک ورب اسی تک رسائی حاصل کرانے کے عنوان قرار دیئے گئے ہیں اس طرح مستعاذمنہ کی حقیقت یہ ہی وسواس ہے جس کی صفت آگے خناس بیان فرمائی ہے خناس سے مراد یہ ہے کہ شیطان بحالت غفلت آدمی کے دل میں وسواس ڈالتا رہتا ہے اور جب کوئی بیدار ہوجائے تو چوروں کی طرح پیچھے کو کھسک آتا ہے ایسے چوروں اور بدمعاشوں کا بندوبست اور انکے دست تعدی سے رعایا کو مصؤن اور مامون بنانا بادشاہاں وقت کا خاص فریضہ ہوتا ہے اس لئے مناسب ہوگا کہ اس صفت کے مقابل ملک الناس کو رکھا جائے اور (آیت ) ” الذی یوسوس فی صدور الناس “۔ جو خناس کی فعلیت کا درجہ ہے اور جس کو ہم چور کے نقب لگانے سے تشبیہ دے سکتے ہیں اسکو رب الناس کے مقابلہ میں (جو حسب تحریر سابق مالک الناس کی فعلیت کا مرتبہ ہے) شمار کیا جائے پھر دیکھئے کہ مستعاذمنہ اور مستعاذبہ میں کس قدر تام اور کامل نقابل ظاہر ہوتا ہے (انتہی کلامہ ) ۔
حاشہ۔ (اس ناچیز کا حضرت الاستاذ شیخ الاسلام (رح) کی یہ تحقیق اختتام تفسیر پر بعینہ ان ہی کی تعبیر اور کلمات میں نقل کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ خود شیخ الاسلام (رح) نے سورة والنجم کی آیات کی تفسیر اپنے استاد خاتم المحدثین حضرت شاہ سید محمد انور قدس اللہ سرہ انکی عبارت اور کلمات میں نقل فرمائی جس کا استاد محترم (رح) نے فتح الملہم میں بڑے اہتمام و عظمت کے ساتھ ذکر فرمایا۔ 12)
غرض حق تعالیٰ شانہ نے ان دونوں سورتوں میں ہر قسم کی آفات اور ہلاکتوں سے بچنے کیلئے استعاذہ اور پناہ حاصل کرنے کی تعلیم وتلقین فرمائی۔ پہلی سورت میں رب فلق کی پناہ جن مہالک سے بیان کی انکی مناسبت سے سورة الناس میں حق تعالیٰ کی تین عظیم صفات رب الناس، ملک الناس، الہ الناس کی پوری پوری مناسبت ظاہر ہوگئی اور یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ فتنوں اور ہلاکتوں میں ایک حسی اور ظاہری فتنے ہیں اور ایسے جرائم وخبائث ہیں جو مادی اور حسی طور پر نہایت ہی ہیبت ناک ہیں جو شیطان اسود (کالے شیطان) کا اغواء واضلال ہے یہ اغواء واضلال اگرچہ نہایت ہی قبیح وہیبت ناک ہے جس میں قتل و غارت گری بدکاری جیسے موذی افعال ہیں لیکن ان سے بڑھ کر خطرناک فتنہ اور گمراہی شیطان ابیض (گورے شیطان) کی ہے جو عقائد ونظریات اور افکار وخیالات کی گمراہی سے دنیا کو ہلاک اور تباہ کرتا ہے اس وجہ سے اس سے پناہ مانگتے ہوئے خدا کی تین صفتیں بیان فرمائی گئیں کہ اس ہلاکت سے بچاؤ اسکی ربوبیت مالکیت اور الوہیت ہی کی صفت اور شان سے ہوسکتا ہے اس قسم کی تباہی اور ہلاکت وہ ہے جس کا ذکر حدیث میں حضور اکرم ﷺ نے اس طرح فرمایا یصبح الرجل مومن اویمسی کافرا یمسی مومن اویصبح کافرا کہ صبح کو اٹھے گا تو مومن ہوگا لیکن جب شام کا وقت آئے گا تو کافر ہوگا یا شام کو مومن ہے تو صبح کافر اٹھے گا تو اس قدر جلد تبدیلی ایمان وکفر کی یہ ایسے وساوس سے ہی ہوتی ہے جو شیطان ابیض کی طرف سے گمراہی اور ہلاکت کا ذریعہ ہوتی ہے کہ عقیدہ اور نظریہ کا بگاڑیہ اسکی حرکت ہے ورنہ انسان میں عملی گمراہی اس قدر جلد نہیں آتی اور کبھی ایسا تصور نہیں کیا جاسکتا کہ صبح کو ایک شخص عفیف وپاکدامن ہو اور شام کو چور، زانی، بدکار، اور شرابی نظر آئے اس وجہ سے اس ہلاکت کو اہم سمجھتے ہوئے اس سے تحفظ اور بچاؤ حق تعالیٰ شانہ کی تین عظیم صفتوں کے ساتھ استعاذہ میں فرمایا دیا گیا، اللہم احفظنا من الفتن ماظھر منھا وما بطن ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب “۔
کلمات دعاء :
یہ ناچیز گناہگار اپنی تقصیرات کا اعتراف کرتے ہوئے اس رب کریم کا شکر ادا کرتا ہے جس کی محض توفیق وتیسیر سے معارف القرآن کی تکمیل کی سعادت سے بہرہ ور ہورہا ہے اے اللہ تیرا شکر ہے کہ آج تیرے کلام پاک کی تفسیر تیرے ہی فضل وکرم سے اختتام پذیر ہورہی ہے تیرے بارگاہ قدس میں دست بدعا ہوں کہ اسکو قبول فرما لے درگذر کرتے ہوئے قبول فرما لے۔
اے میرے پروردگار میں معترف ہوں کہ نہ میں اخلاص کا حق ادا کرسکا اور نہ ہی اس عظیم خدمت کی عظمت و برتری کے شایان شان کچھ ہوسکا بس یہی ہے جھد المقل دموعہ، ناتواں کی کوشش اس کے چند آنسو ہیں اے میرے پروردگار میں اپنی تمام تقصیرات وعیوب پر نادم وشرمندہ ہوں نہ میرے دامن میں علم ہے نہ ہی تقوی اور عمل صالح کا ذخیرہ ہے۔
اے اللہ میں اپنے قصور علم وفہم کی وجہ سے تیرے کلام پاک کے معارف وحقائق کے سمندر میں سے ایک قطرہ بھی نکال کر پیش نہ کرسکا میری یہ کاوش لبس ایک بےقیمت اور کھوٹی پونجی ہے جو میں تیری بارگاہ میں پیش کرتے ہوتے وہی التجاء کرتا ہوں جو تیرے پیغمبر یوسف علیہ اسلام کے بھائیوں نے کی تھی (آیت ) ” وجئنا ببضاعۃ مزجاۃ فاوف لنا الکیل وتصدق علینا “۔ کہ ہم ایک کھوٹی پونچی لے کر آئے ہیں لیکن اے تو یوسف (علیہ السلام) تو ہمارا پیمانہ بھر دیدے اور مزید انعام بھی فرما تو یوسف کریم ابن الکریم (علیہ السلام) کے رب کریم تیری بارگاہ میں یہی عرض ہے کہ یہ کھوٹی پونجی ہے مگر اس پر اجر وثوب کے پیمانے بھر بھر کر عطا فرمادینا تو تو رب کریم ہے اور میں ندامت و شرمندگی کے ساتھ بارگاہ میں طالب عفو ہوں کہ میری تقصیرات معاف فرمادے میری توبہ قبول فرماتے ہوئے جس طرح اے رب العالمین توتائبین کے سیئات کو حسنات سے بدل دیتا ہے اسی طرح جو میری برائیاں اور سیئات ہیں تو اپنے فضل وکرم سے انکو حسنات سے بدل دے۔ (آیت ) ” رب تقبل منی انک انت السمیع العلیم وتب علی انک انت التواب الرحیم، رب ھب لی من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب، ربنا اغفرلنا ولا خواننا الذین سبقونا بالایمان ولا تجعل فی قلوبنا غلاللذین امنوا ربنا انک الرؤف الرحیم، رب اغفرلی ولوالدی ولمن دخل بیتی مومنا ولل مومنین ول مومنات ،
اے اللہ تو میرے والد محترم مولانا محمد ادریس کاندھلوی (قدس اللہ سرۂ ) وسلام علیہ یوم ولد ویوم یموت (اے تو فی حکایۃ لحال الماضی) ویوم یعث حیا جن کی تفسیر کا یہ تکملہ میں آج پورا کررہا ہوں انکو اپنی بےپایاں عنایات سے اور رحمتوں سے سرفراز فرما جنت الفردوس میں انکے درجات بلند فرما انکے علوم وفیوض سے مسلمانوں کو متمتع فرما آمین یا رب العالمین، آمین یا رب العلمین، آمین یا رب العلمین ‘۔
وللہ الحمد اولا ا آخرا، ربنا لا تؤاخذنا ان نسینا اواخطانا، ربا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم سبحان ربک رب العزۃ عمایصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین “۔
دعآء ختم القرآن
اللھم انس وحشتی فی قبری اللہم ارحمنی بالقران العظیم واجعلہ لی اماما ونوراوھدی ورحمۃ اللہم ذکرنی منہ ما نسیت وعلمنی منہ ماجھلت وارذقنی تلاوتہ انآء الیل وانآء النہار واجعلہ لی حجۃ یا رب العلمین۔
ناچیز عاصی وخاطی
محمد مالک کاندھلوی غفر اللہ ذنوبہ وستر عیوبہ یوم الاثنین بعد صولۃ العصر 5 1 صفر المظفر 1407 ھ۔ 20 اکتوبر 1986 ء