114. Surah An-Naas

الناسMankind · 6 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 114:1–6

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ Open ayah 114:1 in the Quran reader

کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں

مَلِكِ النَّاسِۙ Open ayah 114:2 in the Quran reader

(یعنی) لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی

اِلٰهِ النَّاسِۙ Open ayah 114:3 in the Quran reader

لوگوں کے معبود برحق کی

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ Open ayah 114:4 in the Quran reader

(شیطان) وسوسہ انداز کی برائی سے جو (خدا کا نام سن کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے

الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ Open ayah 114:5 in the Quran reader

جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے

مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ Open ayah 114:6 in the Quran reader

(خواہ وہ) جنات سے (ہو) یا انسانوں میں سے

یہ سورة مبارکہ لوگوں کے رب ان کے مالک اور ان کے معبود کے پاس شیطان سے پناہ ہے جو تمام برائیوں کی جڑ اور ان کا مادہ ہے جس کا فتنہ اور شری ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے ان کے سامنے شر کی تحسین کرتا ہے۔ بڑائی کو انتہائی خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور برائی کے ارتکاب کے لیے ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے وہ انہیں بھلائی سے باز رکھتا ہے اور اس کو کسی اور ہی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہتا ہے اور وسوسہ ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے یعنی جب بندہ مومن اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کو دفع کرنے کے لیے اپنے رب کی مدد چاہتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے بندے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اللہ کی ربوبیت کے ذریعے سے جو تمام لوگوں کے لیے عام ہے مدد طلب کرے، اس کی پناہ مانگے اور اسی کی پناہ میں آ کر اپنا بچاؤ کرے۔ تمام مخلوق اس کی ربوبیت اور بادشاہی کے تحت ہے وہ ہر جان دار کی پیشانی کو پکڑے ہوئے ہے۔ نیز وہ اس کی الوہیت کی پناہ حاصل کرے جس کی بنا پر اس نے ان سب کو تخلیق کیا اور ان کے لیے یہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک ان کے دشمن کا شر فع نہ کیا جائے جو انہیں اس کے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے وہ اس کے اور ان کے درمیان حائل ہونا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ ان کو اپنے گروہ میں شامل کرلے تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔ وسوسہ جس طرح جنات کی طرف سے ہوتا ہے اسی طرح انسانوں کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے اس لیے فرمایا (مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ) وسوسہ ڈالنے والا خواہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔ والحمدللہ رب العالمین اولا آخرا ظاھرا و باطنا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنی نعمتوں کا اتمام کرے ہمارے گناہوں کو بخش دے جو ہمارے اس کی بہت سی برکات کے درمیان حائل ہیں وہ ہماری خطاوں اور شہوات کو معاف کردے جنہوں نے ہماری عقلوں کو اس کی آیات میں تدبر و تفکر سے عاری کردیا ہے ہم امید کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ ہمارے دمن میں جو برائیاں ہیں ان کے بدلے میں وہ ہمیں اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرے گا پس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس اور ان کی رحمت سے صرف گمراہ ہی ناامید ہوتے ہیں۔ و صلی اللہ تعالیٰ علی رسولہ محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔ کتاب اللہ کی تفسیر اس کی مدد اور توفیق سے اس کے مرتب اور کاتب عبدالرحمن بن ناصر بن عبداللہ المعروف بہ ابن سعدی کے ہاتھوں مکمل ہوئی۔ اللہ اس کی اس کے والدین کی اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے اور اس کی ترتیب یکم ربیع الاول 1344 ھ میں اور اس کی نقل شعبان 1345 ھ میں مکمل ہوئی۔ ربنا تقبل منا واعف عنا انک انت الغفور الرحیم۔ اس کے ساتھ ہی تفسیر سعدی (تیسرالکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان) کا اردو ترجمہ مکمل ہوا۔ الحمدللہ الذی ھدانا لھذا وماکنا لنتھتدی لو لا ان ھدانا اللہ۔ و صلی اللہ علی رسولہ محمد الکریم والہ و اصحابہ اجمعین۔