114. Surah An-Naas
الناسMankind · 6 ayahsتفسیر انوار البیان
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ Open ayah 114:1 in the Quran reader
آپ یوں کہہ دیجئے کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ لیتا ہوں
مَلِكِ النَّاسِۙ Open ayah 114:2 in the Quran reader
جو لوگوں کا بادشاہ ہے
اِلٰهِ النَّاسِۙ Open ayah 114:3 in the Quran reader
لوگوں کا معبود ہے
مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ Open ayah 114:4 in the Quran reader
وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو پیچھے ہٹ جانے والا ہے
﴿ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ 1ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ004﴾ میں وسوسہ ڈالنے والے شیطان کی ایک صفت الخناس بیان فرمائی کہ وہ وسوسے ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان اپنی سونڈ کو انسان کے دل پر جمائے ہوئے ہے اگر وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اگر وہ اللہ کے ذکر سے غافل ہوجاتا ہے تو اس کے دل کا لقمہ بنا لیتا ہے اس کو الوسواس الخناس بتایا ہے۔ (حصن حصین)
الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ Open ayah 114:5 in the Quran reader
جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے،
مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ Open ayah 114:6 in the Quran reader
جنات میں سے اور انسانوں میں سے
آخر میں ﴿ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ (رح) 006﴾ فرمایا اور یہ بتادیا کہ یہ وسوسہ ڈالنے والے صرف جنات ہی نہیں ہوتے انسان بھی ہوتے ہیں انسانوں کا وسوسے ڈالنا اندر داخل ہو کر تو نہیں ہوتا البتہ باہر ہی سے زبانی طور پر اقوال کے ذریعہ اور جسمانی حرکات اور اعمال کے ذریعہ وسوسے ڈالتے ہیں یعنی انسان کو راہ حق سے ہٹانے اور کفر و شرک اور معاصی میں فوائد بتانے اور دنیوی منافع سمجھانے اور بتانے کی کو شس کرتے ہیں آج کل تو انسانی وسوسوں اور گمراہی کے آلات کی کثرت ہوگئی ہے زبانی باتیں لیڈروں کی تقریریں، بےشرمی پھیلانے والے اخبار و رسالے ٹیلی ویژن اور اس کے پروگرام، وی سی آر، انٹرنیٹ جیسی چیزیں انسان میں برائی کے جذبات داخل کرتی ہیں جن کے جراثیم و اثرات سے انسان برے اعمال اور بری حرکات میں مبتلا ہوجاتا ہے وسوسہ ڈالنے والے انسان کی شرارتیں اور حرکات بعض مرتبہ جنات کے وسوسوں سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے کہ انسان انسان کا ہم جنس ہے اور آپس میں میل جول بھی زیادہ رہتا ہے اور انسان، انسان کو اپنا ہمدرد بھی سمجھتا ہے، شریر انسانوں کے مشورے اور وسوسے انسان کو زیادہ متاثر کردیتے ہیں اور اس اعتبار سے کہ شیطان وسوسے ڈالنے والا نظر نہیں آتا، وسوسہ ڈال کر چپکے سے اپنا کام کرجاتا ہے۔ شیاطین کے وسوسے زیادہ شدید ہوجاتے ہیں۔ سورة الاعراف میں ا رشاد فرمایا : ﴿يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا 1ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ 1ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَآءَ لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 0027﴾ (اے بنی آدم ! تمہیں ہرگز شیطان فتنہ میں نہ ڈال دے جیسے کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا جو ان سے ان کے لباس کو علیحدہ کر رہا تھا تاکہ انہیں ان کی شرم کی جگہ دکھا دے، بیشک وہ تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتا ہے جہاں سے تم اسے نہیں دیکھتے بیشک ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے) ۔
یہ بات طے شدہ ہے کہ جنات میں بھی شیاطین ہیں اور انسانوں میں بھی۔ اور یہ دونوں انسانوں کی بدخواہی میں لگے رہتے ہیں۔ سورة الانعام میں فرمایا ﴿وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا﴾ (اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بہت سے شیطان پیدا کیے تھے کچھ آدمی اور کچھ جن جن میں سے بعض دوسرے بعضوں کو چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے تھے تاکہ ان کو دھوکہ میں ڈال دیں) ۔
اللہ تعالیٰ شانہ ہر طرح کے شیاطین سے محفوظ فرمائے۔
فائدہ : رسول اللہ ﷺ پر جو جادو کا اثر ہوا بعض لوگ اس کا انکار کرتے ہیں جس سے صحیحین کی روایات کی تکذیب لازم آتی ہے۔ یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جادو سے متاثر ہونا شان نبوت کے خلاف ہے۔ ان کا یہ خیال غلط ہے بات یہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) بشر تھے اور بشریت کے اثرات ان پر بھی طاری ہوجاتے تھے اور ان کے اجسام تکالیف سے متاثر ہوتے تھے۔
بہت سے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو تو ان کی قوموں نے قتل کردیا اور رسول اللہ ﷺ کو تیز بخار آجاتا تھا۔ آپ ایک مرتبہ سواری سے گرگئے تو آپ کی ایک جانب چھل گئی، اس زمانہ میں آپ نے بیٹھ کر نمازیں پڑھائیں، صاحبزادے کی وفات پر آپ کے آنسو جاری ہوگئے۔ بچھو نے بھی آپ کو ڈس لیا آپ نے اس کا علاج کیا آپ کو بھوک بھی لگتی تھی اور پیاس بھی۔ یہ امور طبعیہ ہیں جن سے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) مستثنیٰ نہیں تھے اور جادو کا اثر بھی اس قسم کے اثرات میں سے ہے اس سے متاثر ہوجانا شان نبوت کے خلاف نہیں ہے۔
استعاذہ کی ضرورت :
دنیا میں ایسی چیزیں بھی بیشمار ہیں جو انسانوں کے حق میں نافع اور مفید ہیں اور بہت ساری چیزیں ایسی بھی ہیں جو انسان کے لیے ضرر رساں ہیں اور تکلیف دینے والی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے بہت سی چیزوں سے پناہ مانگنا ثابت ہے حضرت امام نسائی (رح) نے اپنی کتاب سنن کے ختم کرنے سے چند صفحات پہلے کتاب الاستعاذہ کا عنوان قائم کیا ہے اور اچھی خاصی تعداد میں ضرر دینے والی چیزوں سے پناہ مانگنے کا ذکر کیا ہے مثلاً بخل، بزدلی، سینہ کا فتنہ (کفر اور شرك) قبر کا عذاب سمع وبصر، لسان وقلب، بہت زیادہ بڑھاپا، عاجزی، مرض، سستی، غم زندگی اور موت کا فتنہ، دجال، تنگ دستی، ذلت، کفر، عذاب النار، خیانت بھوک، شقاق، نفاق، سوء الاخلاق، لغزش کھانا، گمراہ ہونا، ظالم ہونا، دشمن کا غالب ہونا، دشمنوں کا خوش ہونا، بدبختی کا پالینا، برے امراض مثلاً جنون، جذام اور برص کا لاحق ہونا، مظلوم کی بد دعا شیاطین الجن والانس، احیاء اور اموات کا فتنہ، زمین میں دھنس جانا، اوپر سے گرپڑنا، کسی چیز کے نیچے دب جانا، غرق ہونا، جل جانا، موت کے وقت شیطان کا پچھاڑنا، جہاد میں پشت پھیر کر بھاگتے ہوئے مرجانا، کسی زہریلے جانور کے ڈسنے سے مرنا، علم کا نفع نہ دینا، دل میں خشوع نہ ہونا، نفس کا پیٹ نہ بھرنا، دعا کا مقبول نہ ہونا وغیرہ وغیرہ۔
جن احادیث میں ان چیزوں سے پناہ مانگنا مذکور ہے ان میں سے انتخاب کر کے استعاذہ کی دعائیں بعض علماء نے علیحدہ بھی لکھ دی ہیں (مناجات مقبول میں بھی مذکور ہے) حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جنات اور انسان کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ جب معوذتین یعنی سورة ٴ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ 001 اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ 001 نازل ہوئیں تو آپ نے ان دونوں کو پکڑ لیا اور ان کے سوا (استعاذہ کی) باقی دعاؤں کو چھوڑ دیا۔
بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص سورة ٴ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ 001 پڑھتا ہے تو ہر اس چیز کے شر سے اللہ کی پناہ لیتا ہے جو اللہ نے پیدا کی ہے اور رات کے شر سے بھی پناہ لیتا ہے اور گرہوں میں دم کرنے والی عورتوں کے شر سے بھی پناہ لیتا ہے جو جادو کرتی ہیں اور حسد کرنے والے کے شر سے بھی پناہ لیتا ہے اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ 001 پڑھنے والا سینوں میں وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے پناہ لیتا ہے اتنی چیزوں کے شر سے بچنے کے لیے دعا کی جاتی ہے اسی لیے ان دونوں سورتوں کا پڑھنا ہر طرح کے شر اور بلا مصیبت اور جادو ٹونہ ٹوٹ کہ سے محفوظ رہنے کے لیے مفید اور مجرب ہیں ان کو سورة ٴ اخلاص کو صبح شام تین تین بار پڑھے اور دیگر اوقات میں بھی ورد رکھے کسی بچے کو تکلیف ہو، نظر لگ جائے تو ان دونوں کو پڑھ کر دم کرے بچوں کو یاد کرا دیں۔ دکھ تکلیف میں ان سے بھی پڑھوائیں۔
پریشانی کے وقت :
حضرت عقبہ بن عامر ؓ فرماتے ہیں کہ میں سرور عالم ﷺ کے ہمراہ سفر میں تھا کہ اچانک آندھی آئی اور سخت اندھیرا ہوگیا۔ حضور اقدس ﷺ سورة قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ 001 اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ 001 کے ذریعہ اس مصیبت سے اللہ کی پناہ مانگنے لگے یعنی ان کو پڑھنے لگے اور فرمایا کہ عقبہ ان سورتوں کے ذریعہ اللہ کی پناہ حاصل کرو کیونکہ ان جیسی اور کوئی چیز نہیں ہے جس کے ذریعہ کوئی پناہ لینے والا پناہ حاصل کرے۔ (رواہ ابو داؤد)
حضرت عبداللہ بن خبیب ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم ایسی رات میں جس میں بارش ہو رہی تھی اور سخت اندھیری بھی تھی حضور اقدس ﷺ کو تلاش کرنے کے لیے نکلے چناچہ ہم نے آپ کو پا لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہو میں نے عرض کیا، کیا کہوں، فرمایا جب صبح ہو اور شام ہو سورة ٴ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ001 اور سورة ٴ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ 001 اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ 001 تین بار پڑھ لو۔ یہ عمل کرلو گے تو ہر ایسی چیز سے تمہاری حفاظت ہوجائے گی جس سے پناہ لی جاتی ہے (یعنی ہر موذی سے اور ہر بلا سے محفوظ ہو جاو گے) ۔ (ترمذی)
فرض نمازوں کے بعد : حضرت عقبہ بن عامر ؓ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ سفر میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے عقبہ، کیا میں تمہیں ایسی دو سورتیں نہ بتادوں جو پناہ مانگنے کے لیے سب سے بہتر سورتیں ہیں، پھر آپ نے مجھے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ 001 اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ 001 دونوں سورتیں سکھائیں، آپ کو اندازہ ہوا کہ مجھے زیادہ خوشی نہیں ہوئی جب فجر کی نماز کے لیے اترے تو آپ نے ان دونوں سورتوں کی نماز میں تلاوت فرمائی اور نماز سے فارع ہو کر فرمایا بولو اے عقبہ، تم نے کیسا دیکھا ؟ (یہ فرما کر آپ نے ان دونوں کی فضیلت جتائی) اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں کی تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا اے عقبہ کیسا دیکھا ؟ ان دونوں کو پڑھا کرو جب سونے لگو اور سو کر اٹھو۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
رات کو سوتے وقت کرنے کا ایک عمل :
ام المومنین عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ روزانہ رات کو جب حضور اقدس ﷺ بستر پر تشریف لاتے تو سورة ٴ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدۚو 001 اور سورة قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ 001 اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ 001 پڑھ کر ہاتھ کی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر ان میں اس طرح پھونک مارتے تھے کہ کچھ تھوک بھی پھونک کے ساتھ نکل جاتا تھا۔ پھر دونوں ہتھیلیوں کو پورے بدن پر جہاں تک ممکن ہوتا پھیر لیتے تھے یہ ہاتھ پھیرنا سر اور چہرے سے اور سامنے کے حصہ سے شروع فرماتے تھے اور یہ عمل تین بار فرماتے تھے۔ (بخاری صفحہ 750 ج 2)
بیماری کا ایک عمل :
نیز حضرت عائشہ ؓ یہ بھی فرماتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کو جب کوئی تکلیف ہوتی تھی تو اپنے جسم پر سورة ٴ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ 001 اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ 001 پڑھ کر دم کیا کرتے تھے (جس کا طریقہ ابھی اوپر گزرا ہے) پھر جس مرض میں آپ کی وفات ہوئی اس میں میں یہ کرتی تھی کہ دونوں سورتیں پڑھ کر آپ ﷺ کے ہاتھ پر دم کردیتی تھی پھر آپ کے ہاتھ کو آپ کے جسم پر پھیر دیتی تھی۔ (بخاری صفحہ 750: ج 2)
دم صرف پھونکنے کو نہیں کہتے دم یہ ہے کہ پھونک کے ساتھ تھوک بھی کچھ نکل جائے۔
الحال المرتحل :
حضرت امام ترمذی (رح) نے (قبیل ابواب تفسیر القرآن) حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ کو سب سے زیادہ محبوب عمل کون سا ہے ؟ فرمایا : (الحال المرتحل) یعنی اس شخص کا عمل جو منزل پر نازل ہو کر پھر سفر شروع کر دے، اس کے بعد امام ترمذی ؓ نے دوسری سند سے حدیث نقل کی ہے اس میں حضرت ابن عباس ؓ کا نام نہیں ہے (اور روایت کرنے والا زرارہ بن اوفی (تابعی کو بتایا ہے) اس اعتبار سے حدیث مرسل ہوئی۔ امام ترمذی ؓ فرماتے ہیں : (وھذا عندی اصح) یعنی یہ حدیث مرسل میرے نزدیک حدیث متصل کے مقابلہ میں زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی ؓ کے علاوہ امام بیہقی (رح) نے بھی شعب الایمان صفحہ 348: ج 1 میں ذکر کیا ہے اس میں یوں ہے کہ زرارہ بن اوفی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ سب اعمال میں کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا تم حال اور مرتحل والے شخص کا عمل اختیار کرو، صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! حال اور مرتحل کا کیا مطلب ہے ؟ فرمایا اس سے صاحب قرآن مراد ہے وہ قرآن کو پڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ جب آخر تک پہنچ جاتا ہے تو پھر اول پر پہنچ جاتا ہے جب کبھی بھی ٹھہرتا ہے پھر سفر شروع کردیتا ہے۔ امام ابن الجزری (رح) نے النشر میں اس مضمون کی حدیث طبرانی سے بھی نقل کی ہے۔ اور عموماً یہ روایات حضرت ابن عباس ؓ سے ہی مروی ہیں اور النشر میں ایک روایت حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی نقل کی ہے۔
ان روایات کے جمع کرنے سے الحال المرتحل کا مطلب واضح ہوگیا یعنی یہ کہ قرآن پڑھتے پڑھاتے جب ختم کرے تو دوبارہ اول سے پھر شروع کر دے (الحال) نازل ہونے والا یعنی سفر پورا کر کے ٹھہر جانے والا اور (المرتحل) سفر شروع کرنے والا۔
ان روایات کی وجہ سے حضرات قراء کرام کا اور خاص کر قاری ابن کثیر مکی (احد القراء سبعہ) کی قرات پڑھنے والوں اور روایت کرنے والوں کا یہ معمول رہا ہے قرآن کریم آخیر تک ختم کر کے سورة الفاتحہ پڑھتے ہیں۔ پھر ﴿ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ﴾ پڑھ کر سورة البقرہ شروع کرتے ہیں اور ﴿ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 005﴾ تک پڑھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرآن مجید ختم کرتے ہی دوبارہ شروع کردیا ایسا کرنے سے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کردہ حدیث مذکورہ بالا پر عمل ہوجاتا ہے۔ ایسا کرنا مستحب ہے کوئی فرض واجب نہیں ہے بہرحال قراء کا معمول ہے۔ حافظ ابن الجزری (رح) میں لکھتے ہیں کہ یہاں مضاف محذوف ہے، سائل نے جب سوال کیا : (ای الاعمال افضل) گویا آپ نے فرما دیا : (عمل الحال المرتحل ) ۔
ضروری تنبیہ : بعض علماء تفسیر نے لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ معوذتین کو قرآن مجید کی سورتوں میں شمار نہیں کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ یہ دونوں پناہ مانگنے کے لیے تعلیم دی گئی ہیں۔ بعض علماء نے ان کے قول کی تاویل بھی کی ہے لیکن تاویل ایسی نہیں ہے جس سے اطمینان حاصل ہوجائے۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس بارے میں جتنی بھی روایات ہیں (گو صحیح السند ہیں) اخبار آحاد ہیں اور اخبارا احاد ظنی ہوتی ہیں تو اتر کے مقابلہ میں ان کا اعتبار نہیں کیا جاتا اسی لیے تحقیق نے ان روایات کو تسلیم نہیں کیا۔ حافظ ابن حزم المحلی میں لکھتے ہیں :
وکل ماروی عن ابن مسعود من ان المعوذتین وام القرآن لم تکن فی مصحفہ فکذب موضوع لا یصح وانما صحت عنہ قراء ة عاصم عن زربن حبیش عن ابن مسعود فیھا ام القرآن والمعوذتان۔ (المحلی صفحہ 16 ج 1)
اور امام نووی ؓ نے شرح مہذب میں فرمایا ہے : اجمع المسلون علی ان المعوذتین والفاتحة من القرآن وان من جحد منھا شیئا کفر وما نقل عن ابن مسعود باطل لیس بصحیح۔
اور مفسر ابن کثیر ؓ لکھتے ہیں : فلعلہ لم یسمعھا من النبی ﷺ ولم یتواتر عندہ ثم قد رجع عن قولہ ذلک الی قول الجماعة فان الصحابة ؓ عنھم اثبتوھما فی المصاحف الائمة ونفذوھا الی سائر الافاق کذلک فللہ الحمد والمنة۔
حضرت امام عاصم ؓ کی قرات جو حضرت ابن مسعود ؓ سے منقول ہے اور حضرت زربن حبیش ؓ کے واسطے سے ماثور ہے۔ اس میں معوذتین تواتر کے ساتھ محفوظ اور مروی ہیں یہ اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ سے جو یہ مروی ہے کہ معوذتین قرآن کریم کی سورتیں نہیں ہیں یہ نقل صحیح نہیں اور یہ روایت ہی غلط ہے اور اگر انہوں نے ایسا کہا تھا تو فوراً رجوع فرما لیا تھا۔ چونکہ قراء سبعہ کی قرات متواتر ہیں اس لیے قرآن مجید کی کسی بھی سورة یا کسی بھی آیت کا انکار کرنا کفر ہے۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : وانت تعلم انہ قد وقع الاجماع علی قرآنیتھما وقالو ان انکار ذلک الیوم کفر ولعل ابن مسعود رجع عن ذلك۔
چونکہ حضرت امام عاصم کی قرات متواتر ہے اور معوذتین ان کی قرات میں مروی ہیں اور تمام مصاحف میں مکتوب اور منقول ہیں اور جو مصاحف حضرات صحابہ نے آفاق میں بھیجے تھے ان سب میں یہ دونوں سورتیں بھی تھیں اس لیے ان کا قرآن ہونے کا انکار کرنا کفر ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ نے رجوع فرما لیا تھا تو کوئی سوال باقی نہیں رہتا اور بالفرض رجوع نہ کیا ہو تو جو بات ان سے بطور خبر واحد منقول ہے (جو ظنی ہے) اجماع امت اور تواتر کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ صاحب روح المعانی نے شرح المواقف سے نقل کیا ہے۔
ان اختلاف الصحابة فی بعض سور القرآن مروی بالآحاد المفیدة للظن ومجموع القرآن منقول بالتواتر المفید للیقین الذی یضمحل الظن فی مقابلتہ فتلک الآحاد مما لا یلتف الیہ ثم ان سلمنا اختلافھم فیما ذکر قلنا انھم لم یختلفوا فی نزولہ علی النبی ﷺ ولا فی بلوغہ فی ابلاغہ بل فی مجرد کونہ من القرآن وھو لا یضر فیما نحن بصددہ۔ انتھی۔
آج کل بہت سے ملحد اور زندیق ایسے نکلے ہیں جو بہانے بنا بنا کر قرآن کے بارے میں مسلمانوں کے دلوں میں شک ڈالنے کی کو شس کرتے ہیں اور جن روایات کو ائمہ اسلام نے رد کردیا ہے ان کو اپنے کتابچوں میں درج کر کے مسلمانوں کے دلوں سے ایمان کھرچنا چاہتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کافر کہتے ہو تو ابن مسعود صحابی کو بھی کافر کہو۔ یہ ان لوگوں کی جہالت اور ضلالت ہے۔ مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہم نے یہ سطور حوالہ قرطاس کردی ہیں۔
اعاذنا اللہ تعالیٰ من شر اعداء الاسلام الذین یوسوسون فی صدور المسلمین سواء کانوا من الجنة او من الناس