114. Surah An-Naas

الناسMankind · 6 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 114:1–6

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ Open ayah 114:1 in the Quran reader

اے نبی یوں کہا کرو کہ میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی۔

مَلِكِ النَّاسِۙ Open ayah 114:2 in the Quran reader

لوگوں کے بادشاہ کی

اِلٰهِ النَّاسِۙ Open ayah 114:3 in the Quran reader

لوگوں کے معبود کی۔

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ Open ayah 114:4 in the Quran reader

اس خطرہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کی بدی سے

الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ Open ayah 114:5 in the Quran reader

جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے

مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ Open ayah 114:6 in the Quran reader

وہ جنوں میں سے ہو یا آدمیوں میں سے ہو۔

ترکیب ¦ قل اعوذ قراء الجمھور بالھمزۃ قری بخدفھاد نقل حرکتھا الی اللام برب الناس متعلق باعوذ ملک الناس عطف بیان لرب الناس قرء لجمھور ملک الناس باسقاط الالف فی ملک والملک بکسر اللام السلطان القاھر۔ الہ الناس ایضاً عطف بیان من شر الواسواس متعلق باعوذو ھوالمستعاذمنہ۔ الوسواس بفتح الواؤ عندالفراء اسم بمعنی الموسوس وبکسرھامصدر ای الوسوسۃ کالزلزال بمعنی الزلزلۃ والوسوسۃ حدیث النفس یقال وسوست الیہ نفسہ و وسوسۃ ای حدثتہ حدیثا واصلھا الصوت الخفی ومنہ الوسواس للصوت الجلی۔ الخناس نعت لہ۔ مبالغۃ من الخنس وھو التاخر خنس یخنس اذاتاخرومنہ قولہ تعالیٰ فلا اقسم بالخنس۔ قال مجاھد اذاذکر اللہ خنس ای تاخر الشیطان۔ واذالم یذکر تقدم الذی الخ الجملۃ فی محل الجر علی الصفۃ للخناس اوفی محل الرفع بتقدیر ھواوفی محل النصب علی الذم من الجنۃ والناس بیان للخناس اوالوسواس وقیل متعلق بیوسوس ای یوسوس فی صدورھم من جھۃ الجن والانس وقیل بدل من شربا عادۃ الجاروقیل حال من الضمیر فی یوسوس ای یوسوس وھومن الجن والناس والجنۃ والجن بالکسر بمعنی واحد۔ فی الصراح جن بالکسر پری پری وھوخلاف الانس۔ الواحدمنہ جنی بکسر تین۔ جنۃ بالکسر پریاں۔ قولہ تعالیٰ من الجنۃ والناس۔ ودیوانگی۔ قولہ تعالیٰ ام بہ جنتہ فالاسم والمصدر علی صورۃ واحدۃ۔ انتہٰی ملخصاً ۔ والناس اصلہ عندسیبویہ اناس فحذفت فائوہ عندغیرہ لم یحزف منہ شیء واصلہ نوس اذالتصغیر نویس والواحدمنہ الناسی۔ تفسیر ¦ یہ سورة بھی جمہور کے نزدیک مدینہ میں نازل ہوئی اور بعض کہتے ہیں مکہ میں نازل ہوئی وہی گفتگو ہے جو سورة فلق میں تھی اس کا شان نزول و ربط وہی ہے جو سورة قل اعوذ برب الفلق میں بیان کر آئے ہیں اس میں چھ آیت ہیں۔ خلاصہ اس ربط کا یہ ہے کہ اس سورة میں ان شروں سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے جو خاص انسان کے قلب پر پہنچتے ہیں اور ایمان کے زائل کرنے میں ان کو بڑا دخل ہے۔ خصوصاً عامہ ایمانداروں کے لیے جس کی تفصیل یہ ہے کہ انسان کی تین حالت ہیں۔ اول طفولیت کا زمانہ جس کو عقل ہیولانی کا وقت کہتے ہیں۔ اس وقت تو حضرت کو اعضائِ جسمانی کے کمزور ہونے کے سبب بدیہیات بھی معلوم نہیں ہوتے ‘ ماں باپ کو بھی نہیں پہچان سکتے۔ وہاں تو محض تربیت ہی تربیت ہوتی ہے جس کا متکفل وہ خداوند تعالیٰ ہے۔ اور اپنی شان ربوبیت کا کس کس طرح سے جلوہ دکھاتا ہے۔ ماں کی چھاتیوں میں دودھ پیدا کرتا ہے اور اس نادان محض کی جبلت میں دودھ کا چوسنا القا کرتا ہے ایسے زمانہ کے لحاظ سے قل اعوذ برب الناس ارشاد فرمایا اور پناہ مانگنے میں اپنی اس قدیم ربوبیت کو یاد دلایا جس سے کوئی آدمی بھی محروم نہیں۔ پھر اس کے بعد نشوونما شروع ہوتے ہوتے اس مرتبہ پر پہنچتا ہے کہ بدیہیات کا علم حاصل ہوجاتا ہے اور بدیہیات کو ترتیب دے کر نامعلوم چیزوں کو فکرونظر سے حاصل کرنے لگتا ہے۔ اب ایک تو یہ علمی زور حاصل ہو دوسرے بدن کا زور ‘ اٹھتی جوانی کا نشوونما ‘ لذات و شہوات کی رغبت اس کے اوپر بادشاہی کا رنگ جما دیتی ہے۔ اپنی ترنگ میں کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ شاہانہ مزاج پیدا ہوگیا نہ آخرت کی فکر نہ کوئی مآل اندیشی اس زمانہ کے آفات اور شر بھی ایسے ہیں کہ الٰہی توبہ۔ اس زمانہ کے لحاظ سے پناہ مانگنے میں ملک الناس ارشاد فرمایا کہ تو کیا ہے اور تیرا زور اور علم کیا ہے شہنشاہ مطلق ہم ہیں ہمارے دیے ہوئے قویٰ کے لشکروں پر تو کیا غرور کرتا ہے جب چاہیں اپنے لشکروں کو تجھ سے لے سکتے ہیں اور دوسرے لشکر بھیج کر تجھے پامال کرسکتے ہیں تو اپنے زوروں پر گھمنڈ نہ کر بلکہ تمام انسانوں کے بادشاہ سے جو بڑا زورآور ہے پناہ مانگ۔ پھر اس کے بعد جب جوانی کا خمار ٹوٹتا ہے تو اس کو ادھر ادھر کی بھی سوجھتی ہے جیسا کہ سورة احقاف میں فطرت انسانی کے بعد اس زمانہ کا نقشہ کھینچا ہے کہ جب چالیس برس کو پہنچا تو کہنے لگا کہ اے میرے رب ! مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا جو مجھ پر اور میرے ماں باپ پر مبذول ہوئی ہیں شکر کروں اور وہ وہ عمدہ کام کروں جو تجھے پسند آئیں۔ میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں تیرے فرماں برداروں میں سے ہوں اور معلومات کا بھی ایک بڑا ذخیرہ اس کے سینہ میں جمع ہوا اور جو کمال اس میں ودیعت رکھے گئے تھے اور جن کا تخم اس کی استعداد کی زمین میں ڈالا گیا تھا اب وہ سب باہر آگیا اور اس کو حکماء کے نزدیک عقل بالفعل کا مرتبہ اور کمال کا مرتبہ کہتے ہیں۔ اب اس پر شان الوہیت آشکار ہوئی۔ اس مرتبہ کمال کے لحاظ سے یہ جملہ ارشاد فرمایا الہ الناس کہ لوگوں کے معبود سے جس میں جملہ کمالات اور تمام صفات کاملہ موجود ہیں اور تیرا یہ کمال اس کے آگے کچھ بھی نہیں پناہ مانگ اب اپنے ان تینوں اوصاف کو (جو انسان کی عمر کے تینوں حصوں کے مناسب تھے اور اسی لیے ربوبیت ‘ ملکیت ‘ الوہیت کو الناس کی طرف مضاف کیا ہے) بیان فرما کر یہ بیان فرماتا ہے کہ ہم کس سے پناہ مانگنے کو کہتے ہیں اور وہ کیا ہے جن سے پناہ مانگنی چاہیے وہ کون سا شر ہے ؟ پھر آپ ہی بتلاتا ہے من شرالوسواس کہ وسوسہ ڈالنے والے کی برائی سے وسواس بفتح و کے معنی ہیں وسوسہ اور خطرہ ڈالنے والا اور بکسرہ و اس کے معنی ہیں خطرہ اور وسوسہ بہرحال خطرہ اور وسوسہ ہو یا وسوسہ اور خطرہ ڈالنے والا ہو اس کے شر سے پناہ مانگنی چاہیے اور دل سے کہنا چاہیے کہ الٰہی تو جو رب الناس ہے سب کی پرورش اور تربیت تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور تو جو ملک الناس لوگوں کا بادشاہ ہے سب تیری رعیت ہیں سب پر تیرا زور چلتا ہے۔ (پرورش کرنے والا کبھی بادشاہ نہیں بھی ہوتا جیسا کہ ماں باپ اور آقا یا عزیز و اقارب پرورش کرتے ہیں مگر بادشاہ نہیں سب پر زور نہیں، مخالف کے زور اور اس کے شر کو نہیں روک سکتے) مگر تو پرورش کرنے والا بھی ہے اور بادشاہ بھی تجھ کو یہ فوقیت ہے اور بادشاہ بھی کیسا بادشاہ الہ الناس تو لوگوں کا خدا بھی ہے۔ بادشاہ کو اختیارات شاہی حاصل ہوتے ہیں نہ کہ اختیارات خدائی وہاں وہ بھی اوروں کی طرح مجبور ہوتا ہے۔ موت اور بلائے آسمانی اور قضاء و قدر کے احکام میں اس کی کچھ بھی نہیں چلتی مگر تو تو خدا بھی ہے تیرے زور اور تیری قدرت کے کرشموں کو کسی انسان کی عقل احاطہ نہیں کرسکتی۔ تجھ میں بےانتہا طاقتیں ہیں تو جیسا کہ تو نے سورة قل ہو اللہ میں آپ بتلایا ازلی ہے ابدی ہے، یکتا ہے، صمد ہے یعنی بےنیاز ہے کسی کا کسی کام میں محتاج نہیں۔ سب تیرے ہی محتاج ہیں۔ مجھ کو وسواس یعنی وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے محفوظ رکھ میں تیری پناہ میں آتا ہوں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں تو پناہ دے تیرا پرورش کردہ ہوں تیری رعیت و محکوم ہوں تیرا بندہ ہوں ابتدائے آفرنیش سے اب تک اور آیندہ تیری ہی عنایات کا خوگر ہوں میرے کئی رابطے تجھ سے ہیں تو ہمیشہ کا کرم گستر ہے میں موروثی خانہ زاد اور رعیت ہوں۔ پھر وہ وسوسہ ڈالنے والا کون ہے جس کے شر سے پناہ مانگی جاتی ہے اور پناہ مانگنے کا آپ ہی اپنی رحمت سے حکم دیتا ہے جس پر قبولیت کا اشارہ ہے ؟ اس کو آپ ہی بیان فرماتا ہے الخناس وہ وسوسہ ڈال کر ہٹ جانے والا چور اور داؤ گھات والا قزاق ہے۔ خنوس پیچھے ہٹنا ‘ کام کر کے سٹک جانا جیسا کہ چوروں بدمعاشوں کی عادت ہوتی ہے۔ خرمن ایمان میں چنگاری ڈال دی اور چل دیے پھر اور بھی توضیح کرتا ہے کہ وہ وسواس کیا کیا کرتا ہے ؟ الذی یوسوس فی صدور الناس کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اور بدخطرہ اور ناپاک خیال ڈالا کرتا ہے۔ انسانی خناس کے وسواس کی توضیح : پھر فرماتا ہے کہ آخر وہ ہے کون ؟ من الجنۃ والناس وہ جن ہے ابلیس اور اس کی ذریت جن کو قلوب بنی آدم تک رسائی ہے اور طرح طرح کے وسوسے ڈالا کرتے ہیں اور انہیں پر موقوف نہیں آدمی بھی ایسے ہیں جو ایمان میں یا نیک کام میں یا کارخیر میں وسوسہ اور شبہ ڈال کر چلتی گاڑی میں روڑا لگا دیا کرتے ہیں۔ کہیں ملمع کار تقریر سے ‘ کہیں پر افسوں تحریر سے ‘ کہیں ناصح مشفق بن کر ‘ کبھی پیرومرشد بن کر ‘ فقیری کا لباس پہن کر الغرض ہزاروں بہروپ بدل کر انسانی شیطان ایسے کام کرتے ہیں جن کی نسبت مولانا روم مثنوی میں فرماتے ہیں ؎ اے بسا ابلیس شکل آدم ست پس بہردستے نباید داد دست ان انسانی شیطانوں کا ہر وقت اور ہر زمانہ میں ظہور ہوا ہے خصوصاً اس اخیر زمانہ میں کہ جس کی خبر نبی کریم ﷺ نے پہلے سے دی تھی بہت کچھ زور ہے۔ ایمان کا تھامنا آج کل ایسا مشکل ہے کہ جیسا ہاتھ میں انگارے کا تھامنا۔ ایک طرف کو غیرمذاہب کے واعظ اس آزادی کے زمانہ میں ایسے نکل پڑے کہ جیسے برسات میں حشرات الارض۔ کہیں پادری اور ان کے کاسہ لیس ہیں جو طرح طرح سے دام تزویر پھیلاتے ہیں وعظ اور خطرات ڈالنے والی کتابوں کی تصنیف اور اخبارات و رسائل کی شہرت پر بس نہ کر کے مدارس بھی قائم کردیے۔ عورتوں کے دلوں پر اپنے زہریلے تخم بونے کی کوشش میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھتے۔ سادہ لوح ان کی چپڑی چکنی باتوں میں آ کر اپنی مستورات کو بھی تختہ مشق بنانے کے لیے ان کے حوالے کردیتے ہیں۔ کہیں یتیم خانے بنا کر مصیبت زدوں کے بچوں کو شکار کرتے ہیں اور روٹی کھلا کر ان کا ایمان چھین لیتے ہیں، کہیں شفاخانے بنا رکھے ہیں خیراتی اور رفاہ کے کاموں کی آڑ میں ایمان سے برگشتہ کرتے ہیں۔ پھر مدارس میں بھی الحاد کی تعلیم دی جاتی ہے اور اس کو نیوسائنس بتایا جاتا ہے اور کس کس پیرایہ سے ایمان اسلام اور اس کے ارکان و شعائر کی توہین کی جاتی ہے ‘ قہق ہے اڑائے جاتے ہیں پھر ان کے خوشامدی اور کاسہ لیس جو نئے فلسفے کے شیدائی ہیں بلباس اسلام لوگوں کو ملحد و دہریہ بنا رہے ہیں۔ کہیں معراج کا انکار ‘ کہیں خرق عادات کا انکار ‘ معجزات انبیاء (علیہم السلام) پر تمسخر ‘ ان کے برکات نفوس مقدسہ پر مضح کے پھر عام بدکاری کے اسباب ایسے پیدا ہوگئے کہ جن سے بچنا مشکل۔ شراب کا دریا رواں ‘ فاحشہ عورتوں اور برہنہ تصاویر اور لہو ولعب اور طرح طرح کے باجے اور تھیٹر اور تماشے ایسے نکل پڑے کہ جن میں سے کوئی شہر اور کوئی محلہ خالی نہ ہوگا دوائوں میں شراب ‘ کھانوں میں شراب، پھر قانون نے شریعت کو درہم برہم کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ لوگوں سے شریعت چھیڑا کر رسم و رواج کی پابندی پر پروانہ دے دیا۔ پھر سود اور اس کے معاملات کی ایسی وبا پھیلائی کہ جس سے کوئی تجارت اور کوئی معاملہ نہ بچ سکے۔ پھر ان کے خوشامدی ان باتوں کے جواز میں اپنی ملمع کار تقریروں، لیکچروں میں کیا کیا کاریگریاں 1 ؎ کرتے ہیں کہ اس کو دیکھ کر بیچارہ شیطان بھی ششدر رہ جاتا ہو تو تعجب نہیں۔ شاگرد رشید استاد سے بھی سبقت لے گئے۔ لغۃ اللہ علیہم اجمعین۔ پھر ان کے دیکھا دیکھی وہ مذاہب بھی اٹھ کھڑے ہوئے کہ جن کی بدبو سے دنیا سڑ گئی تھی اور اب تک سڑ رہی ہے۔ پھر وہ سیاہ باطن نئی روشنی کی خوشبوئیں مل مل کر اس ناپاکی کو کیسا عطر بنا کر دکھا رہے ہیں اور اسلام اور اس کے ہادی کے پرنور چہرہ پر کیسے کیسے بدنما دھبے لگانے کی کوشش کرتے ہیں اور اسلام کی فرضی تصویر دکھا کر اس کا چہرہ بگاڑ کردکھاتے ہیں کہ دیکھنے والے کو گھن آجائے۔ ان کے خطرات و وسواس کی شرح کروں تو ایک دفتر تیار ہوجائے۔ پھر خود اسلامیوں میں جو زمانہ کے اثربد سے لوگوں نے کجیاں پیدا کر کے ان کا نام اسلام اور سنت رکھا ہے اور پھر ان کے مولویوں، درویشوں نے جو جو وسواس پیدا کر کے عامہ مسلمانوں کو راہ راست محمدی میں ٹھوکریں کھلائی ہیں اور کھلا رہے، خدا تعالیٰ ان سے بھی محفوظ رکھے۔ یہ ہے انسانی خناسوں کے وسواس کی تفسیر جن کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم ہوا ہے۔ اب میں کسی قدر شرالجنۃ کی بھی تفسیر کرتا ہوں۔ انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے اندر خون کی طرح شیطان پھرتا ہے۔ (متفق علیہ) ۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ انسان سے شیطان پوچھتا ہے کہ یہ چیز کس نے بنائی اور یہ کس نے یہاں تک کہ کہتا ہے کہ اللہ کو کس نے پیدا کیا پھر جب یہ نوبت پہنچے تو کہہ دینا چاہیے کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہوں۔ (متفق علیہ) ۔ مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان کا بھی ابن آدم کے دل پر گزر ہوتا ہے اور فرشتہ کا بھی۔ شیطان کے گزرنے سے شر پر آمادگی اور حق کی تکذیب پر تحریک ہوتی ہے اور فرشتے کے گزرنے سے نیک کام کرنے اور حق کی تصدیق کرنے کی تحریک ہوتی ہے پھر جس کو یہ بات نصیب ہو تو اللہ کا شکر کرے اور جس کو پہلی بات پیدا ہو تو شیطان مردود سے پناہ مانگے۔ (رواہ الترمذی) ۔ 1 ؎ سود کے جواز کے لیے کبھی تو یہ تقریر ہے کہ سودعرب کے مفلس لوگوں کی دادو ستد تک محدود تھا کیونکہ غریب آدمیوں کی ضرورت پر قرض دے کر ان سے سوا یا ڈیوڑھالینا انسانی مروت کے خلاف تھا مگر شاہی بنکوں سے منافع لینے میں یہ بات نہیں۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ سود کا مسئلہ شارع نے ناتمام چھوڑ دیا ہے۔ یہ قیود جو لگائی ہیں تو فقہاء نے فرصت میں بیٹھ کر لگائی ہیں ‘ اسلام کے وسیع دائرہ معاش کو تنگ کردیا ہے۔ کبھی یوں کہا جاتا ہے کہ ہندوستان دارالحرب ہے۔ یہاں سود لینا درست ہے۔ مگر دارالحرب کے معنی پوچھے جاتے ہیں تو حکام وقت کے ڈر سے چپ ہوجاتے ہیں کس لیے کہ دارالحرب کے پھر اور احکام بھی تو ہیں۔ کبھی یوں کہا جاتا ہے کہ سود جو ربوٰا کا ترجمہ ہے خاص قرض لینے دینے میں ہے باقی تجارت اور ہنڈی ‘ بٹے اور نوٹوں کے منافع سے کچھ تعلق نہیں۔ اور یہ ممکن ہے کس لیے کہ فرشتے اور اسی طرح شیطان جسم لطیف رکھتا ہے۔ سو ان کا انسان کے مجازی دم میں مداخلت کرنا کچھ بھی مشکل نہیں اور اسی لیے دل پر دریا کی طرح موجیں اٹھا کرتی ہیں۔ کبھی نیکی کی طرف اور کبھی بدی کی طرف دل میں ازخود خواہش پیدا ہوتی ہے تو اس کا محرک نیک کاموں میں فرشتہ کا الہام ہوتا ہے اور بدکاموں میں خطرہ شیطانی ہوتا ہے پھر جو اس خطرہ شیطانی پر جم گیا برباد ہوا۔ اور اصل مادہ میں اس شیطانی اور ملکی گزر کا انسان کے قوائے بہیمیہ اور قوائے ملکیہ کا ہیجان ہے اور اسی لیے بعض نے غلط فہمی سے صرف مادہ کو شیطان اور فرشتہ سمجھ کر شیطان اور فرشتہ کے وجود مستقل کا انکار کردیا یہ بھی ایک شیطانی خطرہ ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان کے اندر قوت وہمیہ بھی ایک بڑا شیطان ہے۔ وہ اس کو کچھ کا کچھ دکھا دیتی ہے اور اس کے علوم و معارف حقہ میں فرق ڈال دیتی ہے۔ جس قدر گمراہ فریق ہیں اسی قوت وہیمیہ کے مارے ہوئے ہیں۔ اس لیے اس سے پناہ مانگنے کا ارشاد فرمایا جس سے ارشاد ہے کہ اپنے علوم و معارف حقہ پر جو تم کو مشکوٰۃِ نبوت سے پہنچے ہیں مستقیم اور ثابت قدم رہو خیالات کے گھوڑے دوڑا کر ہلاکت کی گھاٹی اور خسران کے گڑھے میں نہ گرو۔ فائدہ 1: سورة قل اعوذ برب الفلق میں رب الفلق کی ایک صفت ذکر کر کے تین چیزوں سے پناہ مانگنے کا ذکر تھا اور اس سورة میں تین صفات ذکر کر کے ایک چیز سے پناہ مانگنا فرمایا وہ کیا ؟ شروسواس خناس۔ اس میں کیا مصلحت ہے ؟ (1) تو یہ کہ اس میں جسمانی شروں سے پناہ مانگی گئی تھی جس کے لیے ایک صفت رب الفلق کافی تھی اور اس سورة میں روحانی اور دینی شر سے پناہ مانگی گئی ہے اس لیے اس کے لیے تین صفات رب کا ذکر کرنا مناسب ہوا تاکہ معلوم ہو کہ دینی شر بڑا شر ہے اس لیے اس سے پناہ مانگنے میں خدا پاک کے تین اوصاف رب الناس ‘ ملک الناس ‘ الہ الناس کا ذکر کرنا مناسب ہوا۔ (2) یہ کہ اس سورة میں ان تین شروں سے پناہ مانگنے کا حکم ہے جو اعلیٰ اور اوسط کو لاحق ہوتے ہیں اور اس میں اس شر سے بچنے کا حکم ہے جو عوام کو زیادہ لاحق ہوتا ہے جو نہایت کمزور ہوتے ہیں اس لیے ان کو خدا تعالیٰ کے یہ تین وصف محافظ عطا کئے گئے کہ ان صفات عالیہ کے ذریعہ سے شر شیطانی سے پناہ مانگو۔ فائدہ 2: بعض مفسرین نے من الجنۃ و الناس کا بیان قرار دیا ہے جو یوسوس فی صدورالناس میں مذکور تھا تب یہ معنی ہوں گے کہ وہ خناس جو جنوں اور آدمیوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کرتا ہے اس کے شر سے پناہ مانگو۔ یہ بات تو ٹھیک ہے کس لیے کہ جس طرح نیک و بدخطرات انسانوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں اسی طرح جنوں کے دلوں میں بھی اور وہ بھی انسان کی طرح مکلف اور مامور ہیں ان میں بھی نیک اور بد ہیں ان کے دلوں تک بھی جس طرح فرشتہ ملہم خیر کا گزر ہوتا ہے اسی طرح خناس ملہم شر کا گزر ہوتا ہے ان میں بھی مومن اور کافر ہیں چونکہ آنحضرت ﷺ اس قوم کے لیے بھی نبی ہیں اس لیے اس قوم کے ایمانداروں کو بھی پناہ مانگنا سکھایا ہے۔ مگر یہ کلام باقی رہے گا کہ ناس کا اطلاق کیا جن پر بھی ہوتا ہے جس کے بیان میں من الجنۃ واقع ہوا ہے۔ اکثر کہتے ہیں کہ ناس کا اطلاق انسان ہی پر ہوتا ہے نہ جن پر۔ بعض فرماتے ہیں ہوتا ہے جیسا کہ رجال کا اطلاق سورة جن میں جنوں پر بھی ہوا ہے یعوذون برجال من الجن۔ فائدہ 3: اس سورة میں خدا پاک کے تین اوصاف مذکور ہوئے۔ اگرچہ وہ بندے کی تو تینوں حالتوں کے مناسب ہیں جیسا کہ اوپر بیان ہوا مگر وسواس خناس سے ان تینوں صفات کو کیا اثر پہنچتا ہے ؟ ضرور پہنچتا ہے کس لیے کہ جس کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے وہ وسواس خناس ہے چونکہ اس میں لطافت بھی ہے جو دلوں تک پہنچتا ہے اور بدن انسان میں خون کی طرح دورہ کرتا ہے اور پھر کام کر کے چل دیتا ہے۔ وہ قزاق ہر ایک کے قابو میں نہیں آتا اور جو پکڑا جائے اس کو سزا بھی ہر ایک نہیں دے سکتا۔ اس لیے اس کے شر سے پناہ مانگنے میں باری تعالیٰ کے صفات میں سے وہ تین صفات اختیار کئے گئے جو اس کے لیے کافی ہیں۔ رب الناس میں لطافتِ رب کی طرف اشارہ ہے اور پاسبانی کی طرف بھی۔ کس لیے کہ رب وہ ذات ہے جس میں جمیع صفات کمال ہیں اور منجملہ ان کے لطافت علم و خبر بھی ہے جس بغیر ظاہری و باطنی تربیت ممکن نہیں وہ خناس جب کبھی دل میں آئے گا اس کو فوراً معلوم ہوجائے گا اور تربیت کا مقتضٰی ہے کہ باطن کو بھی شر سے محفوظ رکھے۔ اس لیے اس کے پہرے دار بھی خاصان خدا کے اردگرد رہا کرتے ہیں۔ یحفظونہ من امر اللہ اور اس قزاق کی گرفتاری کے لیے ملک الناس کی صفت مذکور ہوئی۔ کس لیے کہ شاہان عالیشان بڑے بڑے چوروں قزاقوں کو بس میں کرلیا کرتے ہیں اور پھر قابو میں کرنے کے بعد سزا دینے کے لیے الہ الناس کی صفت کا اظہار فرمایا۔ کس لیے کہ خدائی سے بڑھ کر پھر اور کوئی مرتبہ ہی نہیں۔ سب کو اعمال کی جزا اور سزا دینا اسی کی شہنشاہی اور خدائی مقتضٰی ہے۔ فائدہ 4: سورة قل اعوذ برب الفلق میں پناہ گمراہی اور حجابات حاجزہ سے مانگی تھی جس کے غالباً تین سبب ہوا کرتے ہیں۔ کبھی قوت وہمیہ اور ہبیت کا غلبہ اور کبھی لذات و شہوات کی رغبت جس کی طرف ومن شر النفٰشٰت فی العقد میں اشارہ تھا اور کبھی قوائے ملکوتیہ کا دب جانا اور عوارض ہیولانیہ و اسباب ظلمانیہ کا غلبہ پانا جس کی طرف ومن شرحاسد اذاحسد میں اشارہ تھا۔ اس لیے استعاذہ میں خدا تعالیٰ صفت رب الفلق کا ذکر کیا جو تنویر کی طرف اشارہ کرتی ہے اور اس سورة میں شیطانی وسواس سے پناہ مانگنے کا حکم ہے اور شیطان کا استیلاء انسانیت پر پورا پورا ہوجاتا ہے جو طرح طرح سے تخلیات باطلہ اور اشکال مختلفہ میں ظہور کرتا ہے…… اس لیے اس سے استعاذہ کرنے میں تین صفات جبروت ذکر ہوئے۔ ربوبیت، ملکیت، الوہیت کہ جن کے استیلائِ شیطانی استیلاء کو جگہ نہیں ملتی۔ فائدہ 5: ابتداء قرآن کی وصف ربوبیت سے تھی الحمدللہ رب العالمین فرمایا تھا اور اختتام وصف الوہیت پر ہوا۔ الہ الناس فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ربوبیت کی حق شناسی یہی ہے کہ اس کی الوہیت میں کسی کو شریک نہ کیا جائے اور اسی کی شکرگزاری کے ساتھ عبادات و اطاعت میں عمرگزاری جائے۔ ولہ الحمد ظاھراً و باطناً ۔ (اللہ اکبر)