113. Surah Al-Falaq

الفلقThe Dawn · 5 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 113:1–5

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader

) اے نبی ! یوں) دعا مانگا کرو کہ میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader

تمام مخلوق کے شر سے

وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader

اور اندھیرے کے شر سے کہ جب پھیل پڑے

وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader

اور گرہوں پر پھونکنے والیوں کے شر سے

وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader

اور حاسد کے شر سے جبکہ وہ حسد کرے۔

ترکیب ¦ برب الفلق الجار متعلق باعوذ الفلق بالتحریک الصبح واصلہ الشق یقال فلقت الشیء فلقاً شفققۃ والتغلیق مثلہ یقال فلقۃ فانفلق وھو عام تینا ول فلق الصبح من ظلام الیل والحبوب والنباتات من الارض والماء من الجبال قال اللہ تعالیٰ فالق الاصباح وقال فالق الحب والنویٰ وقال فانفلق فکان کل فرق کالطودالعظیم۔ من شرما خلق متعلق باعوذ۔ ما بمعنی الذی والعائد محذوف ویجوزان تکون مصدریۃ ویکون الخلق بمعنی المخلوق و قریٔ الجمھور باضافۃ شرالی ماوقری ابوحنیفہ (رح) بتنوین شروماعلی ھذا مع الفعل بتاویل المصدر فی موضع الجربدل من شر ای شرٍ خلقہ۔ وقال بعضھم ما نافیۃ والمعنی من شرلم یخلقہ وھذافاسد لان النافیۃ لایتقدم علیھا مافی حیزھا۔ ھذاعام ومابعدہ من الشرور الثلاثۃ تخصیص بعدالتعمیم۔ الغاسق اللیل والغسق الظلمۃ وھذا قول الفراء وابی عبیدۃ وقال الزجاج الغاسق البارد وانما سمی الیل بہ لاتہ ابرد من النھار۔ وقب من الوقو وھو دخول و ظلامہ یقال وقبت الشمس اذا غابت۔ النفاثات ھذا قراءۃ الجمھور وھی جمع نفاثۃ علی المبالغۃ وقریٔ النافثات جمع نافتۃٍ والنفث النفح والعقد جمع عقدۃٍ (گرہ) ۔ تفسیر ¦ حسن بصری و عکرمہ وعطاء و جابر کہتے ہیں کہ یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی اور ابن عباس ؓ وغیرہ جمہوریہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں نازل ہوئی اور یہی قول قوی تر ہے اور اس میں پانچ آیت ہیں۔ عبداللہ بن مسعود ؓ کا ایک اختلاف مشہور ہے وہ یہ کہ ان کے نزدیک یہ دونوں اخیر کی سورتیں کلام الٰہی اور آنحضرت ﷺ پر منزل تو ہیں مگر قرآن مجید کا جز نہیں بلکہ قرآن مجید قل ھواللہ پر تمام ہوگیا اور یہ دونوں سورتیں بطور تعویذ و حفاظت کے نازل ہوئی ہیں اور اسی لیے وہ ان کو اپنے قرآن میں نہیں لکھتے تھے۔ یہ ہرگز نہیں کہ وہ ان کو کلام الٰہی اور منزل من اللہ نہیں جانتے تھے اور جس نے ان کی نسبت یہ خیال کیا ہے یہ اس کی سخت غلط فہمی ہے۔ مگر جمہور صحابہ ؓ ان کے مخالف ہیں۔ سب نے عبداللہ بن مسعود ؓ کے اس قول کو غلط ٹھہرا دیا تھا اور جمہور کے دلائل بہت سے ہیں۔ ازانجملہ وہ حدیث ہے کہ جس کو بخاری و احمد و نسائی وغیرہ معتبر محدثین نے بسند صحیح نقل کیا ہے کہ زربن جیش کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب ؓ سے ان دونوں سورتوں کی بابت سوال کیا۔ ابی بن کعب ؓ نے فرمایا کہ میں نے بھی رسول خدا ﷺ سے دریافت کیا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مجھے جیسا جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا ویسا ہی میں نے کہا یعنی ان کو بھی جبرئیل لائے اور یہ بھی قرآن کا جز ہیں۔ ابی کہتے ہیں کہ ہم بھی وہی کہتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اور دوسری حدیث صحیح اور ہے کہ جس کو مسلم و ترمذی و نسائی وغیرہ محدثین نے بسند صحیح نقل کیا ہے۔ عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ آج کی رات مجھ پر ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ جن کی مثل اب تک میں نے نہیں دیکھی تھیں۔ قل اعوذ برب الفلق و قل اعوذ برب الناس۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ بھی جز قرآن سمجھتے تھے مگر الحمد کی طرح ان کو بھی اکثر پڑھا کرتے تھے اس لیے ان کے لکھنے کی ضرورت نہ سمجھی تھی اس نہ لکھنے کی وجہ سے لوگوں نے خیال کرلیا کہ وہ ان کو جز قرآن نہیں سمجھتے تھے۔ اور بات بھی اصل یہی معلوم ہوتی ہے مگر اس بحث سے قرآن مجید میں تحریف کا شبہ پیش کرنا اور اپنے اوپر سے الزام تحریف اٹھانے کے لیے اس بحث کو دکھانا محض بےفہمی ہے اور کیونکر تحریف کا الزام قائم کیسے ہوسکتا ہے جبکہ یہ سورتیں مصحف میں لکھی ہوئی ہیں اور سب صحابہ ان کو یاد رکھتے تھے، نماز میں پڑھتے تھے۔ اگر کسی وجہ خاص سے اپنی کتاب میں کسی نے نہیں لکھا تو کیا قرآن مجید سے خارج سمجھی جائے گی یا تردد سمجھا جائیگا ؟ ہرگز نہیں۔ ربط ¦ ربط اس سورة کا سورة قل ھو اللہ سے یہ ہے کہ انسان کی نجات کا مدار اعتقاد کی درستی پر ہے اور مرنے کے بعد یہی نور روح کے ساتھ باقی رہ جاتا ہے جو اس عالم میں اس کے لیے سرور ابدی کا باعث ہوتا ہے اور وہ اعتقاد کامل سورة قل ھواللہ میں تمام و کمال بیان کردیا گیا ہے۔ مگر یہ اعتقاد مراتب رکھتا ہے اصحاب الیمین کا اعتقاد راسخ ہے جو حق الیقین کے مرتبہ کو پہنچ گیا ہے وہ کسی کے شبہ اور دنیاوی کشمکش اور اس کی مزخرفات سے زائل نہیں ہوتا مگر اوسط اور نیچے کے طبقے کے بھی لوگ ہیں جن کو یہ اعتقاد تقلید سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ لفظ قل اس پر دلالت کرتا ہے۔ عقیدہ میں خلل انداز یہ چند چیزیں ہیں۔ اول وہ امور جو ان کی بہیمیت کی تاریکی سے پیدا ہوتے ہیں اور ان کے نور عقل کو ڈھانک لیتے ہیں پھر اس موقع پر وہی رب الفلق جو ظلمات کو دور کر کے صبح کی روشنی پھیلاتا ہے اگر دستگیری نہ کرے تو توہمات کے گرداب سے بچ نہیں سکتا اس لیے ان امور سے پناہ مانگنے کا من شرما خلق و من شرغاسق اذاوقب میں ذکر فرمایا۔ (2) دنیا کے تجملات اور اس کے شہوات ہیں جو انسان کے مدارک و مشاعر کی گرہوں میں ایسا منتر پھونکتے ہیں کہ اس کو دیوانہ اور احمق ہی کر ڈالتے ہیں اس کے علاوہ خیالات اور صحیح اعتقاد میں تغیر پیدا کردیے ہیں ان سے پناہ مانگنے کا ذکر اس جملہ میں ہے و من شرالنفاثات فی العقد۔ (3) مصائب اور دنیا کے مکروہات اور اعدا کا جبر اور ایذارسانی ہے اس سے پناہ مانگنے کا ذکر ومن شرحاسد اذاحسد میں کیا۔ اب رہے اوسط سے نیچے درجہ کے لوگ ان کے ایمان و یقین میں جو چیزیں خلل انداز ہیں ان کا اور ان سے پناہ مانگنے کا ذکر سورة قل اعوذ برب الناس میں ہے جن کا ذکر ہم اس کی تفسیر میں کریں گے۔ فائدہ : اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب بندہ دل سے اس کی پناہ چاہتا ہے تو غیب سے اس کی حمایت ہوتی ہے اور نیز اس میں اشارہ ہے کہ اپنے کسی کمال پر نازاں نہ ہونا چاہیے دل کی حالت بدلتے کوئی دیر نہیں لگتی اسی لیے اہل کمال ہر وقت لرزاں ہی رہا کرتے اور اس سے پناہ مانگتے تھے اور نیز پناہ مانگنا بھی ایک عجز اور عمدہ عبادت ہے جو بندہ کے دل پر نورانی کیفیت طاری کردینے میں عجب اثر رکھتی ہے۔ اب ہم آیات کی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ قل کہہ دو اے محمد ﷺ ! اس لفظ کے شروع میں لانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ جس طرح وہ عقائدِ صحیحہ جو سورة قل ھو اللہ میں بیان ہوئے میری طرف سے نہ تھے بلکہ منجانب اللہ جو آپ اس نے اپنے اوصاف بیان فرمائے کسی دلیل وبرہان منطقی اور کسی کے انکشاف سے ثابت نہ تھے جن میں غلطی کا احتمال باقی رہتا اسی طرح ان اشیاء کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنا بھی اسی کا حکم ہے جو اس نے اپنے بندوں کی اندرونہ حالت پر نظر کر کے ارشاد فرمایا ہے اور خلق کے جملہ حالات اور ان کے تغیرات خصوصاً جزرومد انسانی کو جس قدر خالق جانتا ہے اور کوئی نہیں جان سکتا۔ اعوذبرب الفلق کہ میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے پروردگار کی جو رات کی ظلمت دور کرتا ہے اور روشنی پھیلاتا ہے۔ فائدہ : فلق کے لغوی معنی پہاڑ چیر کر نکالنے کے ہیں۔ زمین سے دانہ نکالنے میں بھی حق سبحانہ ٗ کو فالق الحب و النوٰی کہا گیا ہے اور رات میں سے صبح کی روشنی نکالنے پر بھی یہ لفظ اس کی نسبت بولا گیا ہے۔ فالق الاصباح اس میں اس کی قدرت و جبروت کا اظہار ہے اور ایسا ہی شخص پناہ دینے کے قابل بھی ہے اور اسی کا مرتبہ پناہ دینا اور شر سے بچانا ہے۔ یہ تھے لغوی معنی۔ پھر مفسرین کے اس میں متعدد اقوال ہیں۔ جمہور کا قول یہ ہے کہ اس جگہ فلق سے مراد صبح ہے۔ ہرچند وہ سب چیزوں کا رب ہے مگر صبح کے ذکر کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ ہر قسم کی تاریکی کو دور کر کے وہی نور نکالنے والا ہے۔ تاریکی کے اقسام : تاریکی کے چند اقسام ہیں : اول عدم کی تاریکی جو بڑی تاریکی ہے جس میں کچھ کسی کا نیک و بد نہیں معلوم ہوتا تھا۔ تمام عالم اس تاریکی کی رات میں تھا اسی نے ہستی کی صبح پیدا کی اور مخلوق کو وجود کی روشنی میں لایا جس سے یہ بتایا جاتا ہے کہ وہی نیست سے ہست میں لانے والا ہے۔ دوسری جہل اور بہیمیت کی سیاہی اور جب شہوات و لذات کی رات اس میں سے صبح نکالنا فطرت اور ملکیت اور روحانیت کی روشنی پیدا کردینا ہے۔ اس رات میں سے وہی نور کی صبح پیدا کرتا ہے جس میں انسان نیک و بد اور غلط و صحیح میں امتیاز کرتا ہے اور حقائقِ صحیحہ پر قائم رہتا ہے۔ تیسری ظاہری رات کی سیاہی جس میں خبائث و شیاطین ‘ چورو قزاق ‘ موذی جانور نکلتے اور اپنا شر پھیلاتے ہیں۔ وہی دامن شب سے صبح کا نکالنے والا اور ان کو دفع کرنے والا ہے۔ کا ہے سے پناہ مانگنی چاہیے ؟ اس کا آپ ہی بیان فرماتا ہے من شرماخلق اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے شر سے۔ خدا تعالیٰ نے جو ہستی کا باغ لگایا تو اس نے اس باغ میں سب قسم کے بوٹے لگائے ہیں۔ میٹھے بھی، کڑوے بھی، خاردار بھی، ثمردار بھی۔ پھر ایک مخلوق ہے دوسری کو اپنے کام میں بھی لاتی ہے۔ مثلاً شیربھیڑ بکری کو کھاتا ہے۔ یہ شیر کے لیے خیر ہے اور بکری بھیڑ کے لیے شر۔ علی ہذا القیاس یہ ہے وہ مخلوق کا شر ‘ پھر شر عام ہے روحانی ہو یا جسمانی۔ روحانی شر عقائد کا فساد بری باتوں کی طرف میلان ‘ جسمانی شر خسارت مال و امرض ‘ غلبہ اعداء غیر ذلک۔ شر کے صدہا اقسام ہیں، سماوی ‘ ارضی ‘ اختیاری، بلا اختیاری، دنیا کا شر، آخرت کا شر، قبر کا عذاب، جہنم کا عذاب۔ ان سب شروں سے اسی سے پناہ مانگنی چاہیے۔ شربندہ کی مضرت ما خلق جو اس نے بنایا یعنی اس کی مخلوق انسان پر دنیا میں یا مرنے کے بعد جو کچھ مضرت پہنچتی ہے وہ سب اشیاء کے ذریعہ سے پہنچتی ہے جو اس کی مخلوق ہے۔ سانپ نے ڈس لیا، آگ نے جلایا، غذا نے فساد پیدا کیا یہ سب شر ہیں بندہ کے حق میں مگر بالخصوص ان تین شروں سے تو ضرور ہی پناہ مانگنی چاہیے جو بڑے شر ہیں۔ (1) و من شرغاسق اذاوقب اندھیری کے شر سے جبکہ پھیل جائے۔ اول تو رات کی اندھیری ہے جو محسوس ہے اور اسی لیے اکثر مفسرین نے غاسق سے مراد اندھیری رات لی ہے۔ اندھیری رات میں موذی اور درندے جانور نکلتے ہیں ان سے اذیت پہنچتی ہے اور چور و قزاق بھی نکلتے ہیں۔ لوگوں کو شر پہنچاتے ہیں۔ جن و خبائث نکلتے ہیں کس لیے کہ نور سے ان کو نفرت ہے کیونکہ ان کا مادہ ظلمانی ہے۔ ان سے بھی بنی آدم کو اذیت پہنچتی ہے۔ دوسری بہیمیت اور قوائے شیطانیہ کی اندھیری ہے معاذاللہ جب یہ آ کر گھیر لیتی ہے تو پھر شر ہی شر ہے اس میں غصہ ہے تو وہ ہے جو نہیں کرنا تھا وہ کرا دیتا ہے۔ طمع ہے تو وہ ہے جو دام میں پھنسا کر دارین کے قیدخانہ میں قیدی کرا دیتی ہے اور شہوت وہ بلا ہے کہ الٰہی توبہ۔ پھر ادراک و شعور میں بھی فرق آجاتا ہے اچھے کام برے اور برے کام اچھے معلوم ہونے لگتے ہیں وہ نور عقل و ایمان زائل ہوجاتا ہے۔ تیسری حجابات روحانیہ کی اندھیری ہے جو واصلان محبوب پر طاری ہوجاتی ہے اور ان کو مشاہدہ سے محروم کردیتی ہے۔ پھر اس سے بڑھ کر ان کے لیے کیا شر ہے جو شر محض ہے ان سب شروں سے اسی سے پناہ مانگنی چاہیے جو ان سب اندھیریوں کو دور کر کے روشنی نکالتا ہے اور خدا کے صفات میں سے بالخصوص رب الفلق کو ان شروں سے پناہ مانگنے میں ذکر کرنے کی یہی وجہ ہے۔ (2) ومن شرالنفاثات فی العقد گرہوں میں پھونکنے والیوں کی شر سے بھی پناہ مانگنا چاہیے۔ نفث لغت میں پھونکنے اور دم کرنے کو کہتے ہیں۔ نفاثات نفاثہ کی جمع ہے اور بعض قراء نے نافثات بھی پڑھا ہے۔ وہ نافثہ کی جمع ہے نفاثہ وہ عورت جو بہت پڑھ پڑھ کر پھونکتی ہو اور تاگے میں گرہیں لگاتی ہو جس کو جادوگرنی کہتے ہیں۔ سحر کے اثر پر بحث ¦ مفسرین کا ایک گروہ ظاہری معنی پر محمول کرتا ہے کہ جادوگرنیاں جو جادو کرتے وقت پھونک پھونک کر تاگے میں گرہیں لگاتی ہیں ان کے شر سے پناہ مانگنی چاہیے۔ اکثر علماء فرماتے ہیں کہ سحر میں اثر ہے جیسا کہ نظر میں ہے اور اس کا صدہا بار لوگوں نے مشاہدہ کیا ہے۔ خدا پاک سے پناہ مانگنی چاہیے کہ ان کے جادو کا اثر نہ چلے ورنہ آدمی کو دیوانہ کردیتی ہیں۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ سحر کا فی نفسہ تو کوئی اثر نہیں نہ عقل سلیم اس کو تسلیم کرسکتی ہے۔ البتہ قوت وہمیہ میں ایک اثر ضرور پیدا ہوتا ہے جب جادوگر پھونک پھونک کر تاگوں میں لگاتے ہیں تو قوت متوہمہ اس سے منفعل ہوتی ہے اور یہ وہم قوی ہوتا جاتا ہے کہ جادوگر کا اثر مجھ پر ہوا پھر آیندہ جو کچھ افعال طبعیہ یا صحت میں تغیر پیدا ہوتا ہے وہ اس وہم کے سبب سے ہوتا ہے اور وہم کی مضرت کی صدہا مثالیں اور بہت سی سچی حکایتیں ہیں۔ نقل کیا ہے کہ ایک عورت نے اپنے سوتیلے بیٹے کے بیمار کرنے کے لیے یہ کہہ دیا کہ تم نے جو آبخورے سے سوتے سے اٹھ کر پانی پیا اس میں سانپ کا چھوٹا سا بچہ تھا میں نے دیکھا تھا۔ میں اور کام میں مصروف ہوگئی اس کو مار نہ سکی افسوس تم پی گئے اب وہ پیٹ میں بڑا ہو کر کیا کرے گا ؟ الغرض ایسا خیال پکوایا کہ اب جو پیٹ میں ریاح سے قراقر ہوتا ہے تو وہ یہی سمجھتا ہے کہ سانپ کا بچہ پھرتا ہے نوبت یہاں تک پہنچی کہ نحیف و ضعیف ہوتا گیا ہلاکت تک پہنچ گیا۔ ہرچند علاج کئے جاتے تھے کچھ بھی اثر نہیں ہوتا تھا۔ اس راز سے ایک اور عورت بھی واقف تھی۔ اس نے لڑکے کے والد سے کہا کہ اس کا علاج میرے ہاتھ میں ہے اور فوراً تندرست ہوجائے گا۔ اس نے بیمار سے کہا کہ میں اپنے منتر کے زور سے اس کو تیرے پیٹ سے نکال دوں گی۔ ہر روز آ کر کچھ بڑبڑاتی اور اس پر دم کر جاتی ایک روز ایک سانپ کا بچہ بھی مخفی طور پر ساتھ لے آئی مریض سو رہا تھا کہ اس کو اس کے پائجامہ میں آہستہ سے چھوڑ دیا۔ اس کے کاٹنے کا اندیشہ نہ تھا دانت توڑ دیے تھے، زہر کی نلی نکال دی تھی اور فوراً لڑکے کو بیدار کیا کہ دیکھ کیا ہے اس نے کوئی چیز پائجامہ میں پھرتی دیکھی گھبرا کا پائجامہ اتار پھینکا تو اس میں سانپ تھا۔ اس عورت نے کہا دیکھ یہی تو تیرے پیٹ میں تھا جو نکل گیا بیمار کو یقین آگیا وہ خیال جاتا رہا۔ یوماً فیوماً تندرست ہوتا گیا۔ اس قسم کے بہت سے شعبدے دیکھنے میں آئے ہیں اور عمل مسمریزم کی تو اسی پر بنیاد ہے اور قوت وہمیہ ہر ایک شخص میں ہے، خواہ نیک ہو یا بد مگر زیادہ مادہ کم علموں میں ہوتا ہے خصوصاً لڑکوں اور عورتوں میں۔ اس لیے ان پر وہم کی زیادہ فسوں گری چل جاتی ہے اور اسی طرح جاہل اور ناشائستہ اقوام کا حال ہے اور انہیں لوگوں میں سحر جھ اور اڑے منتر کا زیادہ چرچا بھی ہوتا ہے۔ پھر گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے پناہ مانگنے کے یہ معنی ہیں کہ ان کی فسونگری کو عقل سلیم دفع کردیا کرے۔ وہم و خیال فاسد اپنا سکہ نہ جمانے پائے۔ وہم کی ظلمت طاری نہ ہونے پائے اور اسی لیے رب الفلق سے پناہ مانگی جاتی ہے کہ اے رب ! تو روشنی کی صبح وہم کی رات سے نکالتا ہے مجھے وہم کے اندھیریوں سے محفوظ رکھیو۔ فائدہ : جادوگر تو مرد بھی ہوتے ہیں نفاثات جمع مونث کے صیغہ لانے کی کیا وجہ ؟ جمہور کے قول پر تو یہ وجہ ہے کہ بیشتر یہ جادوگری بسبب کم عقلی اور دنائتِ طبع کے انہیں میں ہوئی ہے اور جو کوئی مرد ہو کر بھی یہ کام کرتا ہے تو وہ بھی نامرد عورت ہے اور عورتوں کی جماعت میں داخل ہے۔ (2) بعض فرماتے ہیں کہ نفاثات سے مراد نفوس ہیں سو وہ عرب کی زبان میں مؤنث ہیں تب یہ معنی ہوئے کہ نفوس انسانیہ کے اثر بد سے جو لوگوں کے دلوں میں پھونکتے ہیں پناہ مانگو۔ (3) بعض کہتے ہیں جماعتیں مراد ہیں۔ اور جماعت کو صیغہ مونث سے تعبیر کیا کرتے ہیں۔ (4) نفاثات سے عورتیں مراد نہیں بلکہ اس قسم کے اور الفاظ قرآن مجید میں مستعمل ہوئے ہیں جیسا کہ ذاریات و ناشطات جس سے مراد خبائث ہیں جو انسان کے دل و دماغ و جگر وغیرہ اعضاء میں جن کو اصل اور استحکام کے لحاظ سے عقد کے ساتھ استعارہ کے طور پر تعبیر کیا ہے اپنا اثر بد پھونکتے اور سکہ جماتے ہیں۔ ابومسلم نفاثات فی العقد کے یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ مراد عورتیں ہیں مگر ان کی جادوگری اور گرہوں میں پھونکنے سے ظاہری تاگوں میں پھونکنا مراد نہیں بلکہ مردوں کے ارادوں اور ان کی مستحکم رائوں میں (جن کو بطور استعارہ کے گرہوں سے تعبیر کیا جاتا ہے کسی بات پر قوی ارادہ کرنے کو کہتے ہیں گرہ باندھ لی) تغیر پیدا کردیتی ہیں اور نفث استعارہ ہے ڈھیلا کردینے سے کس لیے کہ جب گرہ کو کھولنا ہوتا ہے تو اس میں ذرا تھوک لگاتے ہیں کہ نرم ہو کر کھل جائے۔ پس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ عورتوں کے شر سے پناہ مانگنی چاہیے جو مردوں کی ہمتوں اور مستحکم ارادوں کو مکر کی پھونک مار کر ڈھیلا کردیتی ہیں اور حقیقت میں عورت کی طرف مرد کو ایک طبعی کشش ہے۔ پھر یہ مردوں پر وہ فسونگری کرتی ہیں کہ ایک قصد کو توڑا کر دوسری طرف لگا دیتی ہے۔ عورت کے جادو سے خدا کی پناہ ! اس کے بنائے سینکڑوں عاقل و فرزانہ دیوانہ بن گئے۔ عقائدِ حسنہ اور اعمال صالحہ ترک کردیے۔ اس جادو کی تاثیر کے تو معتزلہ اور حکمائِ فرنگ بھی قائل ہیں۔ یہ شر بھی بڑا شر ہے اور اسی لیے قرآن مجید میں ایک جگہ یوں آیا ہے زین للناس حب الشہوات من النساء الخ اور پھر یہ بھی فرما دیا ہے ان من ازواجکم واولادکم عدواً لکم فاحذروھم کہ تمہارے زن و فرزندوں میں سے ایسے بھی ہیں جو تمہارے دشمن ہیں ان سے بچتے رہا کرو۔ الحاصل یہ دوسرا شر کہ جس سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے حب الشہوات و لذات کا شر ہے جس کا جادو انسان کے دل و دماغ اور باطن قوتوں پر چلتا ہے اور یہ گرہیں ہیں ان میں وہ ایسا منتر پڑھ پڑھ کر پھونکتی ہیں کہ سب ڈھیلے ہوجاتے ہیں مگر وہ رب الفلق کہ جو سیاہی میں سے روشنی نکالتا ہے اگر اپنی پناہ میں لے لے اور تائید کرے اور قوائے بہیمیہ کی تاریکی میں سے صبح نور فطرت پیدا کر دے تو کچھ بھی غم نہیں ؎ گر ہزاراں دام باشد ہر قدم گر تو با مائی نباشد ہیچ غم آنحضرت ﷺ پر سحر ہوا تھا یا نہیں ! ¦ اس آیت میں یا اور کسی آیت میں اس بات کا ذکر تک بھی نہیں کہ نبی ﷺ پر بھی کسی نے سحر کیا تھا یا نہیں اور کیا تھا تو کس نے اور کب کیا تھا اور اس کا کیا اثر ہوا تھا ؟ یہ ساری بحث ایک بالائی بات ہے جس میں علماء کا اختلاف ہے۔ اکثر اہل روایت کہتے ہیں کہ مدینہ میں لبید بن اعصم یہودی نے اپنی بیٹیوں سے حضرت پر جادو کرایا تھا اور انہوں نے آنحضرت ﷺ کے بال مبارک پر کچھ پڑھ کر اور ایک تاگے میں گرہیں لگا کر ایک کنوئیں میں جو خشک تھا جس کو ذردان کہتے تھے رکھوا دیا تھا۔ اس نفاثات فی العقد میں اس کی لڑکیوں کی طرف اشارہ بتاتے ہیں اس سے آنحضرت ﷺ علیل ہوگئے تھے۔ دو روز یہ حالت رہی تھی پھر جبرئیل (علیہ السلام) نے مطلع کیا تو حضرت علیٰ و طلحہ ؓ گئے اور اس کنوئیں میں سے وہ تاگا اور بال نکال لائے جوں جوں اس کی گرہیں کھلتی جاتی تھیں آنحضرت ﷺ کو آرام ہوتا جاتا تھا۔ مگر معتزلہ اور بالخصوص قاضی وغیرہ ان روایت کا صاف انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ غلط اور بےاصل روایات ہیں اور یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ کفار نبی کریم ﷺ کو طعن کی راہ سے مسحور کہتے تھے یعنی جادو کیا گیا۔ اگر یہ واقعہ صحیح مان لیا جائے تو پھر ان کا یہ طعن صحیح ہوجاتا ہے اور آنحضرت ﷺ کی شان ارفع تھی کہ کسی کی کوئی مضرت پہنچے۔ کس لیے کہ اللہ کا وعدہ تھا واللہ یعصمک من الناس کہ اللہ تجھے لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔ پھر اس حفاظت میں کون خلل انداز ہوسکتا ہے ؟ فریق سابق کہتا ہے کہ وہ مسحور بمعنی مجنوں کہتے تھے یعنی جادو سے کسی نے ان کو دیوانہ کردیا ہے جو ایسی باتیں کہتا ہے اور اس قسم کے سحر سے کہ جس سے عقل و ہوش میں کچھ فرق نہ آئے ان کو کوئی نفع نہیں پہنچتا تھا اور یہ سحر اس قسم کا نہ تھا اور لوگوں سے محفوظ رکھنے کے یہ معنی ہیں کہ تجھے کوئی قتل نہ کرسکے گا جیسا کہ کفار ارادہ کرتے تھے یہ نہیں کہ کوئی بیماری یا جسمانی مضرت یا اور کوئی ایذا بھی نہ پہنچے گی۔ کس لیے کہ احد کی لڑائی میں دندان مبارک شہید ہوئے، خیبر میں یہودیہ نے بکری میں ملا کر زہر دیا جس کی مضرت ہر شروع گرمی پر نمایاں ہوتی تھی پھر جب یہ امور اس حفاظت کے مخالف نہیں تو یہودیہ کے جادو کرنے سے بیماری پیدا ہوجانا اور وہ بھی چند روزہ کیونکر مخالف ہوسکتی ہے ؟ اور سحر کا اثر نمایاں ہوجانا منافی شان نبوت نہیں۔ کس لیے کہ یہ بحیثیت بشریت اثر نمودار ہوتا تھا اور کھانے پینے، سونے وغیرہ خواص بشریہ میں آپ بھی شریک بشر ہیں اور مصلحت اس میں یہ تھی کہ کفار جو آپ کو جادوگر کہتے تھے ان کا گمان غلط کرنا تھا۔ کس لیے کہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جادوگر پر کسی کا جادو نہیں چلتا۔ تعویذ باندھنے اور دم کرانے کا کیا حکم ہے ؟ ¦ تعویذ لکھ کر باندھنا یا کوئی کلام پڑھ کر دم کرنا دفع مرض کے لیے شرعاً کیسا ہے ؟ علماء کے اس میں دو قول ہیں۔ (1) بعض کہتے ہیں نہیں کرنا چاہیے کس لیے کہ مشرکین اور یہود کا دستور ہے جس کی مذمت اس آیت سے ثابت ہے اور نیز احادیث صحیحہ میں آیا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے میری امت میں سے ستر ہزار شخص بلاحساب جنت میں جائیں گے ھم الذین لایسترقون ولایتطیرون وعلی ربہم یتوکلون۔ متفق علیہ کہ جو وہ نہ جھاڑ پھونک کراتے ہیں نہ فال و شگن لیتے ہیں اور اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں۔ ابودائود نے روایت کی ہے کہ زینب جو عبداللہ بن مسعود کی بیوی تھیں کہتی ہیں عبداللہ بن مسعود ؓ نے میرے گلے میں تاگا پڑا ہوا دیکھا تو پوچھا کیا ہے یہ ؟ وہ کہتی ہیں میں نے کہا یہ تاگا پڑا ہوا ہے (گنڈا) تب ابن مسعود ؓ نے اس کو پکڑ کر توڑ ڈالا اور کہا تم میرے گھر والے شرک سے بےنیاز ہو۔ میں نے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جھاڑ اور تعویذ اور ٹوٹکا شرک ہے۔ جابر ؓ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت رسول کریم ﷺ سے حاضرات 1 ؎ کی بابت پوچھا آپ نے فرمایا شیطانی کام ہے (رواہ ابودائود) مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے داغ دلوایا 2 ؎ جھڑوایا وہ توکل سے دور ہوگیا۔ (رواہ احمد والترمذی و ابن ماجہ) عیسیٰ بن حمزہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن حکیم ؓ کے پاس گیا اور ان کو حمرہ 3 ؎ تھی میں نے کہا آپ تعویذ کیوں نہیں ڈال لیتے۔ انہوں نے کہا اللہ کی پناہ اس سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جو کوئی کچھ تعویذ گنڈا لٹکائے گا تو اسی کے حوالے 4 ؎ کیا جائے گا خدا تعالیٰ ہی کا توکل بس ہے۔ (2) اکثر اہل علم کا قول ہے کہ تعویذ یا جھاڑنے میں بشرطیکہ کلمات شرک نہ ہوں اور اس میں بھی دوا کی طرح خدا کی عطا کی ہوئی تاثیر سمجھتا ہو کچھ مضائقہ نہیں۔ یہ جو احادیث مذکورہ بالا میں ممانعت مذکور ہے یا تو ان تعویذ اور گنڈوں اور منتروں کی بابت ہے کہ جن کو جاہلیت میں مشرکین عمل میں لاتے تھے اور ان میں غیر اللہ سے استمداد و استعانت تھی اور یا ان خاص لوگوں کے لیے حکم تھا کہ جن کی توکل میں شان بلند تھی اور عوام کے لیے ممنوع نہیں اور حق سبحانہ ٗ نے جس طرح دوا میں عطا کی ہے اسی طرح اسما میں بھی دی ہے انکار کرنا مکابرہ ہے اور اسی لیے آنحضرت ﷺ قل اعوذ برب الفلق و قل اعوذ برب الناس وغیرہ ادعیہ پڑھ کر دم کرتے تھے اور صحابہ نے بھی ایسا کیا ہے اور کلمات مبارکہ بھی لکھ کر تعویذ کے طور پر باندھے ہیں۔ اس امر کے ثبوت کے لیے بہت سی احادیث ہیں جن کے نقل کرنے کی حاجت نہیں اور جو کوئی توکل کرے تو اولیٰ ہے۔ اب تیسری شر سے پناہ مانگنے کا ذکر فرماتا ہے جو وہ بھی بڑا ہی شر ہے فقال ومن شر حاسدٍ اذاحسد۔ اور کہہ کہ میں حاسد کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جبکہ وہ حسد کرے۔ حسد کا بیان ¦ حسد دوسرے کی نعمت کو دیکھ کر جلنا اور اس کے برباد کرنے کی کوشش کرنا اور طرح طرح کے حیلے اور تدابیر عمل میں لانا۔ اور غبطہ دوسرے کی نعمت کو دیکھ کر اپنے لیے بھی اس کی آرزو کرنا بغیر اس کے کہ اس کا برباد کرنا چاہتا ہو اس لیے حسد حرام ہے اور غبطہ جائز ہے۔ دنیا میں جس قدر شر ہیں دو ہی قسم کے ہیں۔ اول وہ جو بغیر ارادہ اور کسی خاص کاوش کے پیش آتے ہیں جیسا کہ اتفاقاً آگ میں جل جانا، پانی میں غرق ہوجانا۔ دوم وہ کہ ارادہ و اختیار سے سرزد ہوں جیسا کہ قتل، لوٹ، چوری وغیرہ اور یہ شر جو بالارادہ سرزد ہوتا ہے حتٰی المقدور بچنے کی راہ بھی باقی نہیں چھوڑتا اور بالارادہ جس قدر شر ہیں ان کی بنیاد حسد پر ہے۔ حاسد کے اندر جب حسد کی آگ بھڑکتی ہے تو وہ دوسرے کی بربادی کے لیے اپنی خرابی اور بربادی کی بھی پروا نہیں کرتا اس لیے یہ شر بڑا شر ہے۔ اس لیے حکماء نے فرمایا ہے کہ یہ وہ مرض جہاں سوز ہے کہ جس کی آگ میں پہلے حاسد جلتا ہے۔ پہلا گناہ جو عالم میں پیدا ہوا وہ ابلیس کا حسد حضرت آدم (علیہ السلام) سے تھا آپ بھی برباد ہوا مگر حضرت کو بھی مبتلائے مصیبت کر ہی چھوڑا اور زمین پر جو پہلا گناہ ہوا وہ قابیل کا حسد اپنے بھائی ہابیل سے تھا کہ اپنی عقبٰی بھی برباد کی اور اس مظلوم کو بھی قتل کیا۔ اس کے شر سے خدا محفوظ رکھے۔ یہ بدنصیب انسان کے خیالات بھی بدل ڈالتا ہے اس لیے اس سے پناہ مانگنی چاہیے تاکہ وہ قادر مطلق اس کی مضرت کے اسباب سے محفوظ رکھے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ خدا حسد کی صفت بد سے بھی محفوظ رکھے۔ یہ دل میں پیدا نہ ہونے پائے ورنہ پھر وہ سعادت جو پہلے تعلیم ہوئی تھی برباد ہوجاتی ہے۔ یہود باوجودیکہ آنحضرت ﷺ کو نبی برحق سمجھتے تھے مگر حسد کی آگ میں جل مرے ‘ سعادت سے محروم رہ گئے۔ حاسد کو کوئی سعادت نصیب نہیں ہوتی اس کا دل ملعون ہوجاتا ہے۔ 1 ؎ اکثر عامل جنوں کو حاضر کرنے کے لیے کیا کرتے ہیں۔ 12 2 ؎ عرب میں مرض کا علاج داغ بھی تھا اس سے منع فرمایا کہ ناحق شکل بگاڑنا ہے اور کیا کوئی دوا نہیں۔ 12 3 ؎ حمرہ حائے مہملہ سے سرخ رنگ کے دانے نمودار ہوجانا ایک مرض چیچک کے اقسام سے ہے جس کو سرخ بادا کہتے ہیں۔ 2 ز 4 ؎ یعنی اللہ تعالیٰ کی حمایت دور ہو کر اب وہ تعویذ گنڈا ہی اس کا کارساز رہ گیا جو بغیر حکم الٰہی کچھ نہیں کرسکتا۔ 12 منہ فائدہ : بعض عارفین اس سورة اس طرح سے تفسیر کرتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ نے سورة اخلاص میں الوہیت کی شان بیان فرما دی تو اب مخلوقات کے مراتب کی شرح کرتا ہے اس لیے کہ ظلمات عدم طاری تھے اور اس کے شر میں سب غرق تھے اس لیے اس نے ان عدم کی اندھیریوں کو پھاڑ کر نور وجود نکالا اس لیے فرمایا کہ قل اعوذ برب الفلق کہہ مجھے اس کی پناہ ہے جو اندھیریوں کو پھاڑ کر ہستی کے نور میں لایا اور ممکنات پیدا کئے۔ پھر ممکنات کی دو قسم 1 ؎ ہیں۔ ایک عالم بالا جس کو عالم امر کہتے ہیں۔ ارواح و ملائکہ۔ وہاں خیر ہی خیر ہے شر نہیں۔ دوسرا عالم خلق یعنی عالم محسوس جس میں شر بھی اور خیر بھی اس لیے اس کے بعد فرمایا من شرما خلق کہ عالم خلق کے شر سے محفوظ رہنے کی دعا کرو اس سے پناہ مانگو۔ پھر عالم خلق یا علویات ہیں یا سفلیات ہیں۔ علویات میں بھی چنداں شر نہیں لیکن سفلیات میں جمادات، نباتات، حیوانات تین ایسی قسم ہیں کہ جن میں شر ہے کہ کس لیے کہ جمادات میں تو کوئی قوت نفسانیہ نہیں وہ تو شر ہی شر ہے کس لیے کہ عدم ظلمت ہے۔ اس لیے سب سے اول اس کے شر سے پناہ مانگنے کا ذکر کرتا ہے فقال من شرغاسق اذاوقب اور نباتات میں ایک قوت غاذیہ ایسی ہے جو اس کو طول و عرض و عمق میں بڑھاتی ہے اور یہی اس کی گرہ ہیں جن میں وہ قوت بناتیہ پھونکتی ہے پھر نباتات کے شر ظاہر ہوتے ہیں اس لیے اس کے بعد ان کے شر سے پناہ مانگنے کا ذکر فرمایا۔ ومن شرالنفاثات فی العقد پھر حیوان میں قوائے حیوانیہ ہیں حو اس ظاہرہ اور حواس باطنیہ اور بالخصوص شہوت اور غصہ اور طمع اور یہ سب کے سب روح کو عالم غیب کی طرف متوجہ ہونے اور جلال الٰہی میں مشغول ہونے سے حاسد بن کر روکتے ہیں اس لیے ان سے پناہ مانگنے کا ذکر اس جملہ میں آیا ومن شرحاسدٍ اذاحسد۔ اب عالم سفلی میں انسان ہی باقی رہا اس لیے اس کے مراتب کا ذکر سورة قل اعوذبرب الناس میں کیا کبیر۔ فائدہ : واضح ہو کہ اس سورة میں رسول کریم ﷺ کو اول تو اجمالاً جملہ شروں سے پناہ مانگنے کی تعلیم کی اور پناہ بھی کس سے مانگے رب الفلق سے جو اندھیریوں میں سے روشنی نکالنے کا رب ہے اس کے بعد تین شر کو بالخصوص ذکر کیا تعمیم کے بعد تخصیص کے طور پر اور وہ تین شر یہ ہیں۔ (1) اندھیرے کا شر جبکہ پھیل پڑے خواہ رات کا اندھیرا ہو جس میں موذی چیزیں نکلتی ہیں خواہ قوت بہیمیہ کا اندھیرا جبکہ نورعقل پر چھا جائے اور انسان کو اندھا کر دے۔ (2) گرہوں پر پھونک مارنے والیوں کا شرعام ہے کہ تاگے کی گرہوں پر جادو منتر پڑھ کر پھونک مارنا ہو جیسا کہ ڈائنی اور جادوگرنیاں کیا کرتی ہیں یا انسانی مدارک و مشاعر دل و دماغ کو اپنے حسن و جمال کے منتر سے بیکار کرنے والی عورتیں ہوں یا عورتوں کے سوا وہ شہوات و لذات ہوں جو انسان کے دل و دماغ کی گرہوں کو اپنے منتر سے ڈھیلا کردیتی اور مخبوط بنا دیتی ہیں۔ (3) حاسد کا شر خواہ کوئی انسان ہو یا اسی کے اندر کا نفس امارہ ہو جبکہ روح پر حسد کر کے اس کی ترقی کو مٹانا چاہیے۔ الغرض یہ تینوں شر ایسے ہیں کہ جن میں ظلمت ہے اول شر میں تو ظلمت ظاہر ہے دوسرے میں بھی ظلمت ہے۔ جادوگرنیوں کے جادو سے بھی نور عقل پر قوت متوہمہ کی ظلمت طاری ہوجاتی ہے اور اسی طرح حسین عورتوں کے ناز و کرشمہ بھی بہیمیت کی ظلمت پھیلا دیتے ہیں اور شہوات کی ظلمت تو اندھا ہی کردیتی ہے۔ تیسرے شر میں بھی ظلمت ہے کس لیے کہ نفس امارہ کا حسد جب روح کے مقابلہ میں زور کرتا ہے تو ظلمات کا تلاطم ہونے لگتا ہے اور اسی طرح کوئی انسانی حاسد بھی کھڑا ہوجاتا ہے تو معاذاللہ اندھیر ہی مچا دیتا ہے۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کر دکھاتا ہے اور خود اس کے اندر تو ظلمات کے دھوئیں اٹھتے ہیں پھر ان تینوں شروں سے جو ظلمات تھے پناہ مانگنے میں خدا تعالیٰ کی صفت رب الفلق ہی مناسب تھی یعنی رب النور۔ 1 ؎ قرآن مجید کی اس آیت الا لہ الخلق والامر میں انہیں دونوں عالموں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ 12 منہ پس ان ظلمات پر اس رب النور ہی کی مدد اور پناہ کافی ہے اس سے پناہ مانگنی چاہیے تاکہ وہ اپنے نور کی تجلی ڈالے اور وہ اندھیرا دور ہوجائے یہ کمال بلاغت ہے۔ فائدہ : یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شر کی بنیاد ظلمت پر ہے اور خیر کی نور پر۔ اس لیے رب الفلق کا اس صفت کے ساتھ یاد کرنا اور اس سے پناہ مانگنا نور پیدا کردیتا ہے اور اس خاصیت کا جو چاہے تجربہ کر دیکھے۔ اعوذ برب الفلق من شرما خلق