114. Surah An-Naas

الناسMankind · 6 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 114:1–3

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ Open ayah 114:1 in the Quran reader

آپ کہیے کہ میں انسانوں کے پروردگار کی ،

مَلِكِ النَّاسِۙ Open ayah 114:2 in the Quran reader

انسانوں کی بادشاہ کی ،

اِلٰهِ النَّاسِۙ Open ayah 114:3 in the Quran reader

انسانوں کے معبود کی پناہ لیتا ہوں،1۔

1۔ (کہ ان تینوں صفات کا مصداق وہی خدائے واحد ہے) (آیت) ” برب الناس “۔ ربوبیت مطلق صرف اسی لئے ثابت ہے۔ اس سے صفت ربوبیت میں ہر قسم کے شریک کی نفی آگئی۔ (آیت) ” ملک الناس “۔ حاکمیت ومالکیت مطلقہ بھی صرف اسی کے لئے ثابت ہے۔ اس سے صفت حاکمیت ومالکیت میں ہر قسم کے شریک کی نفی ہوگئی، (آیت) ” الہ الناس “۔ معبودیت صرف اسی کے لئے ثابت ہے۔ اس سے صفت معبودیت میں ہر قسم کے شریک کی نفی ہوگئی۔ مشرک جاہلی قوموں نے عموما حق تعالیٰ کی انہیں تین صفات، ربوبیت، مالکیت ومعبودیت میں دوسروں کو شریک ٹھہرایا ہے، قرآن مجید نے یہاں تین صفات، ربوبیت، مالکیت ومعبودیت میں دوسروں کو شریک ٹھہرایا ہے، قرآن مجید نے یہاں تینوں صفات کو یکجا کرکے جامع تعلیم توحید کی دے دی ہے سورة الفلق جس طرح دنیوی مضرتوں سے استعاذہ کی جامع تھی، یہ سورت دینی مضرتوں سے استعاذہ کی جامع ہے، اور اسی پر قرآن مجید کا خاتمہ نہایت ہی مناسب تھا۔
Ayah 114:4

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ Open ayah 114:4 in the Quran reader

پیچھے ہٹ جانے والے وسوسے ڈالنے والے (شیطان) کے شر سے،2۔

2۔ (کہ ان کا ڈالا ہوا وسوسہ کہیں باعث معصیت نہ ہوجائے) ہر شر، ہر معصیت کی ابتداء کسی نہ کسی وسوسہ ہی سے ہوتی ہے۔ وسوسہ دل میں اگر آکر نکل گیا، تو انسان محفوظ رہ گیا، لیکن وہی وسوسہ اگر جم گیا، تو انسان کو کسی نہ کسی درجہ کی مضرت دینی میں پھنسا کر یقیناً رہتا ہے، وسوسہ سے پناہ مانگنے کی تعلیم اسی لئے عین حکمت پر مبنی ہے۔ (آیت) ” الخناس “ شیطان کا ایک صفاتی نام ہے۔ یعنی وہ حق تعالیٰ کا ذکر سن کر سکڑنے لگتا ہے۔ اے الشیطان الذی یخنس اے ینقبض اذا ذکر اللہ تعالیٰ (راغب)
Ayahs 114:5–6

الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ Open ayah 114:5 in the Quran reader

(وہی) جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے ،

مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ Open ayah 114:6 in the Quran reader

خواہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے،3۔

3۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطانی وسوسہ اندازی کا کام جنت بھی کرتے ہیں، اور انسان بھی (آیت) ” من الجنۃ “ من تبعیض کے لیے ہے، یعنی ان وسوسہ اندازوں میں کوئی جن ہوتا ہے اور کوئی کوئی انسان، قرآن مجید میں دوسری جگہ شیاطین الانس والجن اسی معنی میں ہے۔ ومن للتبعیض اے کائنا من الجنۃ والناس فھی فی موضع الحال اے ذلک الموسوس ھو بعض الجنۃ وبعض الناس (بحر) بیان للذی یوسوس علی انہ ضربان جنی وانسی (روح) اللھم انس وحشتی فی قبری اللھم ارحمنی بالقران العظیم واجعلہ لی اماما ونورا وھدی ورحمۃ اللہم ذکرنی منہ مانسیت وعلمنی منہ ماجھلت ورزقنی تلاوتہ انآء الیل وانآء النھار واجعلہ لی حجۃ یارب العلمین۔ بحمد اللہ آج یوم دو شنبہ 20 جولائی 1944 ؁ء مطابق 18 رجب 1363 ؁ھ قرآن مجید کی اس مختصر تفسیر کا مسودۂ اول ختم ہوا، اور اس میں دوسرے مشاغل کے ساتھ ساتھ تقریبا سواتین سال لگے، مسودہ کی نظرثانی وتکمیل میں بھی کم از کم دو سال کی مدت ابھی اور لگے گی ،۔ اس نامہ سیاہ کا سن اس وقت بحساب شمسی 51 سال سے کچھ اوپر ہے۔ آج یوم دوشنبہ 22 مارچ 1948 ؁ء (مطابق 10 جمادی الاول 1367 ؁ھ بعد ظہر الحمد للہ کہ قرآن مجید کی اس مختصر تفسیر کی نظر ثانی سے فراغت پائی، آج زندگی کا شاید خوش نصیب ترین دن ہے۔ نظر ثانی میں وقت اندازہ سے بہت زیادہ لگ گیا، دوسرے کام بھی ساتھ ساتھ جاری رہے تھے۔ حق تعالیٰ کا شکر احسان کس زبان سے ادا ہو کہ ایک بےعلم و بےعمل کو کلام پاک کی خدمت کا یہ حوصلہ دے دیا، لغزشوں اور کوتاہیوں سے تو شرح کے یہ ہزار ہاصفحات لبریز ہی ہوں گے، لیکن کوئی ایک آدھ مقام بھی اگر حق تعالیٰ قبول ہوجائے، تو واللہ کہ اس نامہ سیاہ کے نامہ سیاہ کی ساری سیا ہوں کو دھودینے کے لئے کافی ہے۔ ناکاروں کا اصلی اور بڑا سہارا خود اسی کا کرم بےحساب ولطف بےنہایت ہے۔ اے بدرماندگی پناہ ہمہ کرم تست عذر خواہ ہمہ قطرۂ زاب رحمت تو بس است شستن نامہ سیاہ ہمہ خسرواز تو پناہ می جوید اے الہ من والہ ہمہ۔