114. Surah An-Naas
الناسMankind · 6 ayahsتفسیر درِ منثور
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ Open ayah 114:1 in the Quran reader
آپ یوں کہیے کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ لیتا ہوں
مَلِكِ النَّاسِۙ Open ayah 114:2 in the Quran reader
جو لوگوں کا بادشاہ ہے
اِلٰهِ النَّاسِۙ Open ayah 114:3 in the Quran reader
لوگوں کا معبود ہے
مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ Open ayah 114:4 in the Quran reader
وسو ڈالنے والے کے شر سے جو پیچھے ہٹ جانے والا ہے
الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ Open ayah 114:5 in the Quran reader
جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے
مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ Open ayah 114:6 in the Quran reader
جنات میں اور انسانوں میں سے
1۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت قل اعوذ برب الناس مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردیہ نے حکم بن عمیر الثمالی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اے لوگو ! بچو اور بچو تم وسوسہ ڈالنے والے اور چھپ جانے والے سے۔ بیشک وہ تم کو آزماتے ہیں کون تم میں سے اچھے عمل کرتا ہے۔
3۔ ابن ابی شیبہ نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا سب سے پہلے وضو سے وسوسہ شروع ہوا۔
4۔ ابن بی شیبہ نے عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت کیا کہ نہانے کی جگہ پیشاب کرنا اس سے وسواس پکڑ لیتا ہے۔ (یعنی وسواس کی بیماری پید اہوتی ہے)
5۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن مرہ (رح) سے روایت کیا کہ کوئی وسوسہ نہیں ہے زیادہ بھڑکانے والا اس شخص کے وسوسے جو یہ خیال کرتا ہے کہ وسوسہ اس میں موثر ہے۔
6۔ ابوبکر بن ابی داوٗ دنے کتاب ذم الوسوسہ میں معاویہ بن ابی طلحہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کی دعا میں سے یہ بھی ہے اللہم اعمر قلبی من وسوس ذکرک واطرد عن وسوس الشیطان اے اللہ آباد رکھ میرے دل کو اپنے ذکر کے الہام سے اور دور بھگادے مجھ سے شیطان کے وساوس کو۔ 7۔ ابن ابی داوٗد نے کتاب ذم الوسوسہ میں معاویہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت الوسواس الخناس الذی یوسوس فی صدور الناس۔ وسوسہ پیدا کرنے والا اور چپکے سے پیچھے ہٹ جانے والا یعنی شیطان کی مثال لومڑی کی طرح ہے کہ وہ اپنے منہ کو دل کے منہ پر رکھتی ہے اور اس میں وساوس ڈالتی ہے جب بندہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ جب وہ خاموش ہوجاتا ہے تو اس کی لوٹ آتی ہے۔ اور یہی ” الوسواس، الخناس۔ ہے۔
8۔ ابن ابی الدنیا نے مکاید الشیطان میں واب یعلی وابن شاہین نے الترغیب الذکر میں و بیہقی نے شعب الایمان میں انس ؓ سے ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ شیطان اپنی ناک کے اگلے حصے کو ابن آدم کے دل پر رکھتا ہے۔ اگر وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ اور اگر وہ ذکر کو بھول جائے تو اس کے دل کو لقمہ بنالیا ہے۔ اور وہ ہے الوسواس، الخناس۔
9۔ ابن شاہین نے انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وسوسہ ڈالنے کے لیے شیطان کی ایک چونچ ہوتی ہے جیسے پرندوں کی چونچ جب ابن آدم غافل ہوتا ہے تو وہ چونچ دل کے کان میں رکھ کر وسوسے ڈالتا ہے۔ اگر ابن آدم اللہ کو یاد کرتا ہے تو رک جاتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ اسی کو الوسواس۔ الخناس، کہا گیا۔
10۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے الوسواس، الخانس، کے بارے میں روایت کیا کہ شیطان جما ہوا ہے ابن آدم کے دل پر جب وہ اللہ کو بھول جاتا ہے اور غافل ہوجاتا ہے تو وسوسے ڈالتا ہے۔ اور جب وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
11۔ ابن ابی الدنیا وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی والضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا مگر اس کے دل پر وسوسہ ڈالنے والا یعنی شیطان ہوتا ہے۔ جب وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب وہ غافل ہوتا ہے تو وسوسے ڈالتا ہے۔ اسی کو فرمایا الوسواس، الخناس۔
12۔ ابن جریر نے ابن ید (رح) سے روایت کیا کہ الخناس وہ ہے جو ایک مرتبہ وسوسہ ڈالتا ہے اور ایک مرتبہ پیچھے ہٹ جاتا ہے جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔ اور کہا جاتا ہے کہ شیطان الانس لوگوں پر زیادہ سخت ہے یطان الجن سے۔ شیطان الجن وسوسے ڈالتا ہے اور تو اسکو نہیں دیکھا۔ اور یہ تجھے بالکل ظاہر دیکھ رہا ہوتا ہے۔
13۔ ابن ابی الدنیا نے یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ ابن آدم کے سینے میں شیطان کے لیے ایک دروازہ ہے۔ جس سے وہ وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔
غافل آدمی کے دل پر شیطان مسلط ہوتاہے
14۔ سعید بن منصور وابن ابی الدنی وابن المنذر نے عروہ بن رویم (رح) سے روایت کیا کہ عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) نے اپنے رب سے دعا فرمائی کہ وہ آپ کو شیطان کی جگہ دکھائی جو ابن آدم یعنی انسان کے اندر ہے پس اللہ تعالیٰ نے وہ جگہ آپ کو ظاہر فرمادی تو آپ نے دیکھا کہ اس کا سر سانپ کی طرح ہے اور وہ اپنے سر کو دل کے منہ پر رکھے ہوئے ہے جب آدمی اللہ کا ذکر کرتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب وہ اس کو یاد نہی کرتا تو وہ دل کے منہ پر اپنے سر کو رکھ دیتا ہے۔ اور اس میں باتیں یعنی وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔
15۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ شیطان کی جگہ انسانوں کے دل پر ہے۔ اور اس کی آنکھوں میں ہے اور اس کے ذکر یعنی شرمگاہ میں ہے اور عورت میں اس کی جگہ آنکھوں میں اور اس کی شرم گاہ میں جب وہ سامنے سے آئے اور اس کی دبر میں ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر چلے۔ یہی شیطان کے بیٹھنے کی جگہیں ہیں۔
16۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) آیت من الجنۃ والناس کے بارے میں روایت کیا یہ دونوں وسوسہ ڈالنے والے ہیں۔ پس جنات میں وسو ڈالنے والا جن ہے۔ اور انسان کے وسوسہ ڈالنے کو ” والناس “ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
17۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت من الجنۃ والناس کے بارے میں روایت کیا کہ بیشک لوگوں میں سے شیاطین ہیں اور ہم اللہ سے پناہ مانگتے ہیں شیاطین کے شر سے چاہے وہ انسانوں میں سے ہوں یا جنات میں سے۔
سورۃ الخلع اور سورة الحفد سے متعلق روایات کا ذکر
ابن الضریس (رح) نے اپنے فضائل میں کہا کہ ہم کو موسیٰ بن اسمعیل (رح) نے خبردی اور ہم کو حماد نے بتایا اور انہوں نے کہا کہ ہم نے مصحف ابی بن کعب ؓ میں پڑھا
اللہم انا نستعینک ونستغرفک ونومن بک ونتوکل علیک ونثنی علیک الخیر ونکفرک ونخلع ونترک من یفجرک۔ اللہم ایک نعبد ولک نصلی ونسجد والیک نسعی ونحفد ونروا رحمتک ونخشی عذابک ان عذابک بالکفار ملحق۔
حماد نے کہا یہ اب ایک سورة ہے اور میں بھی اس کے بارے میں اسی طرح خیال کرتا ہوں۔
اللہم ایک نعبد ولک نصلی ونسجد والیک نسعی ونحفد ونروا رحمتک ونخشی عذابک ان عذابک بالکفار ملحق۔
اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تیرے لیے نماز پڑھتے ہیں اور تیرے لیے سجدہ کرتے ہیں اور تیری ہی طرف دوڑتے ہیں۔ اور خدمت کرتے ہیں اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں اور ہم تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ بلاشبہ تیرا عذاب کفار کو ملنے والا ہے۔
1۔ ابن الضریس نے عبداللہ بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کے پیچھے نماز پڑھی جب آپ دوسری سورة سے فارغ ہوئے تو یہ دعا پڑھی
اللہم انا نستعینک ونستغرفک ونثنی علیک الخیر کلہ ونکفرک ونخلع ونترک من یفجرک۔ اللہم ایک نعبد ولک نصلی ونسجد والیک نسعی ونحفد ونروا رحمتک ونخشی عذابک ان عذابک بالکفار ملحق۔ اور ابن عباس کے مصحف میں ابی اور ابو موسیٰ ؓ کی قراءت میں اس طرح۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہم انا نستعینک ونستغرفک ونثنی علیک الخیر ولانکفرک ونخلع ونترک من یفجرک۔ اور حجر مصحف میں یوں ہے اللہم انا نستعینک۔ اور ابن عباس ؓ کے مصحف میں ابی اور ابو موسیٰ ؓ کی قراءت یوں ہے۔ اللہم ایک نعبد ولک نصلی ونسجد والیک نسعی ونحفد ونخشی عذابک ونرجوا رحمتک ان عذابک بالکفار ملحق۔
2۔ ابوالحسن القطان نے الموفات میں ابان بن ابی عیاش (رح) سے روایت کیا کہ میں میں نے انس بن مالک ؓ سے قنوت کے بارے میں کلا کے بارے میں پوچھا فرمایا یہ ہے اللہم انا نستعینک ونستغرفک ونثنی علیک الخیر کہ ونکفرک ونخلع ونترک من یفجرک۔ اللہم ایک نعبد ولک نصلی ونسجد والیک نسعی ونحفد ونرجوا رحمتک ونخشی عذابک ان عذابک بالکفار ملحق۔ انس ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ! یہ دونوں نہیں نازل ہوئی مگر آسمان سے۔
3۔ محمد بن نصر والطحاوی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ان دوسورتوں کے ساتھ قنوت پڑھتے تھے یعنی اللہم ایاک نعبد واللہم انا نستعینک۔
4۔ محمد بن نصر نے عبدالرحمن بن ابزری (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے ان دوسورتوں کے ساتھ قنوت پڑھی۔
5۔ محمد بن نصر نے عبدالرحمن بن ابی لیلی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے ان دونوں سورتوں کے ساتھ قنوت پڑھی۔
بد دعا کرنے سے ممانعت۔
6۔ البیہقی نے خالد بن ابی عمران (رح) سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ مضر قبیلہ پر بددعا کر رہے تھے۔ اچانک جبریل (علیہ السلام) آپ کے پاس تشریف لائے اور آپ کی طرف اشارہ فرمایا کہا آپ خاموش ہوجائیں تو آپ خاموش ہوگئے۔ ، اور فرمایا کہ اے محمد ﷺ بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو گالی گلوچ دینے اور لعنت کرنے کے لیے نہیں بھیجا۔ اور بیشک آپ کو سارے جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور آپ کو عذاب دینے کے لیے نہیں بھیجا۔ ان امور میں سے آپ کے ذمہ کوئی چیز نہیں ان کی توبہ قبول کرے یا ان کو عاب۔ بیشک وہ ظلم کرنے والے ہیں۔ پھر انہوں نے آپ کو یہ دعائے قنوت سکھائی۔ اللہم انا نستعینک ونستغرفک ونومن بک ونخضع لک ونخلع ونترک من یفجرک۔ اللہم ایک نعبد ولک نصلی ونسجد والیک نسعی ونحفد ونرجوا رحمتک ونخشی عذابک ان عذابک بالکفار ملحق۔
7۔ ابن ابی شیبہ فی المصنف ومحمد بن نصر اور بیہقی نے اپنی سنن میں عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی اور یہ الفاظ کہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہم انا نستعینک ونستغرفک ونثنی علیک الخیر ولانکفرک ونخلع ونترک من یفجرک۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہم ایک نعبد ولک نصلی ونسجد ولک نسعی ونحفد ونرجوا رحمتک ونخشی عذابک ان عذابک بالکفار ملحق۔ اور عبید نے گمان کیا کہ ان تک یہ خبر پہنچی ہے کہ وہ دونوں سورتیں قرآن میں سے ہیں ابن مسعود ؓ کے مصحف میں۔
دعائے قنوت دعا ہے یا سورت
8۔ ابن ابی شیبہ نے عبدالمالک بن سوید الکاہلی رحمہ سے روایت کیا کہ علی ؓ نے فجر میں ان سورتوں کے ساتھ قنوت پڑھی اللہم انا نستعینک ونستغرفک ونثنی علیک الخیر ولانکفرک ونخلع ونترک من یفجرک۔ اللہم ایک نعبد ولک نصلی ونسجد ولک نسعی ونحفد ونرجوا رحمتک ونخشی عذابک ان عذابک بالکفار ملحق۔
9۔ ابن ابی شیبہ ومحمد بن نصر نے میمن بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب ؓ کی قراءت میں یوں ہے اللہم انا نستعینک ونستغرفک ونثنی علیک ولانکفرک ونخلع ونترک من یفجرک۔ اللہم ایک نعبد ولک نصلی ونسجد ولک نسعی ونحفد ونرجوا رحمتک ونخشی عذابک ان عذابک بالکفار ملحق۔
10۔ محمد بن نصر نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابی بن کعب ؓ کے مصحف میں کتاب الاول العتیق کے بارے میں پڑھا بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قل ہو اللہ احد، اس کے آخر تک۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم قل اعوذ برب الفلق۔ اس کے آخر تک۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم قل اعوذ برب الناس اس کے آخر تک۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہم انا نستعینک ونستغرفک ونثنی علیک ولانکفرک ونخلع ونترک من یفجرک۔ بسم اللہ الرحمن اللہم ایک نعبد ولک نصلی ونسجد ولک نسعی ونحفد ونرجوا رحمتک ونخشی عذابک ان عذابک بالکفار ملحق۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہ لا تنزع ما تعطی ولا ینفع ذا لجد منک الجد سبحانک وغفرانک وحنانیک الہ الحق۔
11۔ محمد بن نصر نے یزید بن ابی حبیب (رح) سے روایت کیا کہ عبدالعزیز بن مروان (رح) نے عبداللہ بن رزین الفافقی (رح) کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے کہا اللہ کی قسم ! میں تجھ کو بدسلوکی کرنے والا گمان کرتا ہوں۔ میں تجھ کو قرآن پڑھتا ہوا نہیں دیکھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ اللہ کی قسم بیشک میں قرآن پڑھتا ہوں۔ اور میں س میں سے وہ بھی پڑھتا ہو جو آپ نے نہیں پڑھتے تو عبدالعزیز (رح) نے ان سے فرمایا وہ کیا ہے جو میں قرآن میں سے نہیں پڑھتا ہوں۔ تو انہوں نے کہا قنوت۔ مجھ سے علی بن ابی طالب ؓ نے بیان فرمایا کہ وہ قرآن میں سے ہے۔
12۔ محمد بن نصر نے عطا بن السائب (رح) سے روایت کیا کہ ابو عبدالرحمن (رح) ہم کو یہ پڑھاتے تھے۔ اللہم انا نستعینک ونستغرفک ونثنی علیک الخیر ولانکفرک ونخلع ونترک من یفجرک۔ اللہم ایک نعبد ولک نصلی ونسجد والیک نسعی ونحفد ونرجوا رحمتک ونخشی عذابک ان عذابک بالکفار ملحق۔ اور ابو عبدالرحمن (رح) نے یہ گمان کیا کہ ابن مسعود ؓ ان کو یہ پڑھاتے تھے اور وہ گمان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ان کو یہ پڑھاتے تھے۔
13۔ محمد بن نصر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے پڑھا یا اس نے مجھ کو بیان کیا جس نے ابی بن کعب ؓ کے بعض مصاحف میں ان سورتوں کو پڑھا اللہم انا نستعینک اور دوسری ان دونوں کے درمیان۔ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے۔ ان دونوں سے پہلے دوسرتیں مفصل میں سے ہیں اور ان کے بعد بھی کچھ سورتیں مفصل میں سے ہیں۔
14۔ محمد بن نصر نے سفیان ؓ سے روایت کیا کہ لوگ وتر کے قنوت میں ان دونوں سورتوں کو پڑھنا مستحب قرار دیتے ہیں۔ اللہم انا انستعینک واللہم ایاک نعبد
15۔ محمد بن نصر نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ وتر میں یہ سورتیں پڑھتے ہیں آیت اللہم ایک نعبد اور اللہم انا نستعینک ونستغرک
16۔ محمد بن نصر نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عطاء بن ابی رباح (رح) سے پوچھا کہ میں قنوت میں کونسی چیز پڑھا کروں انہوں نے کہا یہ دونوں سورتیں جو ابی ؓ کی قرائت میں ہیں۔ آیت اللہم ایاک نعبد اور اللہم انا نستعینک۔
17۔ محمد بن نصر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ہم قنوت میں ان سورتوں کے ساتھ شروع کرتے تھے پھر ہم کفار کے خلاف دعا کرتے تھے پھر ہم مومنوں اور مومنات کے لیے دعا کرتے تھے۔
18۔ بخاری نے اپنی تاریخ میں حارث بن معاقب (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے نمازوں میں سے کسی نماز میں اس طرح کہا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
غفار غفر اللہ لما واسلم سالمہا اللہ وشیء من جہینۃ وشیء ن مزینۃ عصیۃ عصیت اللہ ورسولہ وزعل وذکوان ما انا قلتہ اللہ وقالہ۔
حارث (رح) نے کہا کہ لوگوں نے جھگڑا کیا اسلم اور غفار قبیلہ میں بنی اسلم کے لوگوں نے کہا اسلم کا ذکر پہلے ہو اور بنی غفار کے لوگوں نے کہا غفار کا ذکر پہلے ہوا۔ حارث نے کہا میں نے ابوہریرہ ؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے پہلے غفار کا ذکر فرمایا۔
19۔ ابن ابی شیبہ ومسلم نے خفاف بن ایماء بن رحضۃ الغفاری (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی جب دوسری رکعت سے سر مبارک اٹھایا تو فرمایا اللہ لعنت کرے لحیان پر رعل پر اور ذکوان پر اور عصیہ پر جو انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی بنی اسلم کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور بنی غفار کی اللہ تعالٰ مغفرت فرمائے۔ پھر آپ نے سجدہ فرمایا جب آپ نے نماز کو پورا کرلیا۔ پھر لوگوں پر اپنے چہرہ مبارک کے ساتھ متوجہ ہوئے اور فرمایا اے لوگو ! میں نے یہ نہیں کہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو فرمایا ہے۔
الحمدللہ سورة الناس مکمل ہوئی
ختم قرآن کی دعا کا ذکر
1۔ ابن مردویہ نے ابو ہرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ جب قرآن کا ختم فرماتے تھے تو کھڑے ہو کر دعا کرتے تھے۔
2۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے قرآن پڑھا اور رب کی حمد بیان کی اور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا اور اپنے رب سے استغفار کیا تو یقینی طور پر اس نے تمام خیر کو طلب کرلیا۔
3۔ بیہقی نے شعب الایمان میں ابو جعفر (رح) سے روایت کیا کہ علی بن حسین ؓ نبی اکرم ﷺ سے ذکر فرماتے ہیں کہ جب آپ ﷺ قرآن کا ختم فرماتے تھے تو آپ کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان فرماتے اس کی محامد کے ساتھ پھر یہ فرماتے (جس کا ترجمہ یہ ہے) ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔ اندھیروں اور نور کو پیدا فرمایا۔ پھر وہ لوگ جو کافر ہیں۔ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر کا فرجہ دیتے ہیں۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ کے ساتھ برابر قرار دینے والوں نے جھوٹ بولا اور دور کی گمراہی میں جا پڑے اللہ کے سوا کوئی معبود نہی۔ عرب، مجود، یہود و نصاری اور صابیوں میں سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں نے جھوٹ بولا اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹا یا بیوی یا مدمقابل یا شبیہ یا مثیل یا ہمسر یا اس کے برابر ہونے کا دعویٰ کیا۔ ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہی جس نے نہ کسی کو بیوی بنایا اور نہ ہی بیٹا اور اس کی بادشاہی میں کوئی شریک نہیں۔ اور اس کے تابعداروں میں سے کوئی اس کا ولی نہیں۔ تو اس کی عظمت اور کبریائی بیان کر۔ اللہ۔ اللہ۔ اللہ اکبر کبیرا۔ اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔
والحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ واصیلا والحمدللہ الذی انزل علی عبدہ اکتاب۔ تاقولہ :
الا کذبا الحمد للہ الذی لہ مافی السموت وما فی الارض تا دو آیات
الحمد للہ فاطر السموات والارض دو آیتیں
الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی اٰ للہ خیر اما یشرکون۔ بل اللہ خیر وابقی واحکم واکرم و اعظم مما یشرکون۔ فالحد للہ بل اکثرہم ولا یعلومن صدق اللہ۔ وبلغت رسلہ وان اعلی ذلک من الشاہدین۔ اللہم صلی علی جمع لاملائکۃ والمرسلین وارحم لمبارک المومنین من اہل السموات وا ارض واختم لنا بخیر وافتح لنا بخیر وبارک لنا فی القراٰن العظیم وانفعنا بالایات والذکر الحکیم ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔
4۔ ابن الضریس نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے قرآن کا ختم کیا اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔
5۔ ابن مردویہ نے عطا خراسانی سے روایت کیا کہ اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قرآن کی ساری سورتیں ایک سو تیرہ ہیں مکی سورتیں پچاسی ہیں اور مدنی سورتیں اٹھائیس ہیں اور قرآن کی ساری آیتیں چھ ہزار دو سو سولہ آیات ہیں۔ اور سارے قرآن کے حوف تین لاکھ، تئیس ہزار چھ سو اکہتر ہیں۔
6۔ ابن مردویہ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن مجید کے دس لاکھ اور ستائیس ہزار حروف ہیں۔ جس شخص نے ٹھہر ٹھہر کر اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے پڑھا تو اس کے لیے ہر حرف کے بدلے میں حور عین میں ایک بیوی ہوگی۔ بعض علماء نے کہا یہ عدد اس اعتبار سے ہے کہ کچھ حروف پہلے قرآن میں تھے اور پھر ان کا لکھنا منسوخ کردیا گیا۔ ان کو شامل کرنے سے تعداد پوری ہوتی ہے۔ اور نہ اب موجودہ حروف اس تعداد کو نہیں پہنچتے۔ حافظ ابن حجر (رح) نے اپنی کتاب کی ابتداء میں اسباب نزول ذکر کیے ہیں۔ اور اس و نام دیا ہے ” العجاب فی بیان الاسباب “ جنہوں نے التفسیر المسند جمع کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ ائمہ کے طبقے میں سے ابو جعفر محمد بن جریر الطبری۔ اور ان کے ساتھ ملنے والوں میں سے۔ ابوبکر محمد بن ابراہیم ابن المنذر النیشاپور اور ابو محمد عبدالرحمن بن ابی حاتم بن ادریس الرازی ہیں اور ان کے شیوخ کے بطقہ میں سے عبد بن حمید بن نصر الکشی اور یہ چار تفاسیر ہیں اور کم ہی کوئی شے ہوگی جو مرفوع، موقوف علی الصحابہ اور مقطع عن البتعین تفسیر میں سے ان میں ذکر نہ ہو۔ اور تحقیق طبری (رح) نے تو بہ سی ایسی اشیاء کو اپنی تفاسیر میں ذکر ہے جن میں دوسرے ان کے ساتھ شریک نہیں۔ مثلاً تمام قراءتوں کا ذکر۔ اعراب، یعنی ترکیب اور آخر آیات پر گفتگو معانی اور بعض اقوال کو بعض پر ترجیح دینے کے لیے چیلنج کے اندار میں ہے۔ ان کے بعد جس کسی نے بھی تفسیر لکھی ہے اتنی اشیاء کو کسی نے جع نہیں کیا کیونکہ آپ ان تمام امور میں قریب ترین مراتب میں تھے۔ جبکہ کسی اور پر کوئی دوسرا فن غالب ہوتا ہے اور وہ اس میں ممتاز ہوجاتا ہے اور اس کے سوا دوسرے دن میں کمزورہوتا ہے۔ اور تابعین میں سے تفسیر کے بارے کلام کرنے میں جو مشہور ہوئے وہی حضرت ابن عباس کے اصحاب ہیں۔ ان میں سے کچھ ثقہ ہیں اور کچھ ضعیف ہیں۔ ثقات میں حضرت مجاہد اور ابن جریر ہیں اور آپ سے ابن ابی نجیح مجاہد کی تفسیر روایت کی جاتی ہے۔ اور ابن ابی نجیح تک سند قوی ہے ان میں سے عکرمہ ؓ ہیں ان میں حسن بن واقد عن یزید عن النحوی کی سند سے تفسیر روایت کی جاتی ہے۔ ایک سند یہ ہے۔ اور محمد بن اسحاق عن محمد بن ابی محمد مولی زید بن ثابت بن عکرمہ یا سعید بن جبیر اس سند کے اس مقام پر شک ہے لیکن ضرر رساں نہیں۔ کیونکہ یہ روایت ثقہ سے ہے۔ اور معاویہ بن صالح عن علی بن ابی طلحہ عن ابی عباس ؓ کی سند سے بھی تفسیر مروی ہے۔ اس سند میں علی صدوق راوی ہیں۔ ان کی ملاقات ابن عباس ؓ سے نہیں ہوئی لیکن انہوں نے آپ کے ثقہ اصحاب سے روایات جمع کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امام بخاری اور ابو حاتم وغیرہما اس نسخہ پر اعتماد کرتے ہیں۔ اور ایک سن اس طر ہے ابن جریج عن عطا ابن ابی رباح عن ابن عباس ؓ لیکن ان روایت میں جو سورة البقرہ اور آل عمرن سے تعلق رکھتی ہیں اور جو ان کے سوا ہیں وہ عطا خراسانی ہوں گے۔ اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے سماع نہیں کیا۔ لہٰذا وہ منقطع ہے سوائے اس سند کے جس میں ابن جریج یہ تصریح کردیں کہ اس میں عطا بن ابی رباح مراد ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کرنے ضعیف راویں کی روایت میں سے وہ تفسیر ہے جو ابو نصر محمد بن سائب کلبی کی طرف منسوب ہو کیونکہ وہ ابو صالح سے روایت کرتے ہیں اور وہ ام ہانی کے آزاد کردہ غلام ہیں اور وہ حضرت ابن عباس ؓ سے کلبی کو علماء جرح وتعدیل نے کذب سے متہم کیا ہے۔ وہ بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنی حالت مرض میں اپنے اصحاب کو بتایا جو کچھ بھی میں تم کو ابو صالح سے بیان کیا ہے وہ سب جھوٹ ہے اور کلبی کے ضعف کے سبب جو تفسیر ان سے مروی ہوگی وہ بھی اسی طرح ضعیف ہوگی اور ان سے بڑی کر ضعیف راوی محمد بن مروان سدی الصغیر ہے اس نے اپنی مثل محمد بن مروان سے روایت کی ہے اور ایک انتہائی راوی صالح بن محمد ترمذی ہے اور راویوں میں سے جنہوں نے کلبی سے تفسیر روایت کی ہے ان میں سے حضرت سفیان ثوری اور محمد بن فضیل بن غزوان ہیں اور سوء حفظ سے پہلے کے ضعیف راویوں میں سے حضرت حاب نہیں۔ اور یہی ابن ابی العزی ہیں اور ان میں سے ایک جویبر بن سعید ہیں یہ کمزور راوی ہیں اس نے ضحاک بن مزاحم سے تفسیر بیان کی ہے اور ضحاک (رح) صدوق ہیں اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے اور انہوں نے آپ سے کچھ نہیں سنا اور جنہوں نے ضحاک (رح) سے تفسیر بیان کی ہے ان میں علی بن الحکم ہیں یہ ثقہ راوی ہیں عی بن سلیمان ہیں۔ یہ صدوق راوی ہیں اور اب وروق عطیہ بن الحرث ہیں ان پر کوئی اعتراض نہیں اور ان میں سے عثمان بن عطاء خراسانی ہیں۔ یہ اپنے باپ کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں اور ان کے باپ نے ابن عباس ؓ سے سماع نہیں ان میں سے ایک اسماعیل بن عبدالرحمن السعی ہی یہ کوفہ کے رہنے والے صدوق روی ہیں۔ لیکن انہوں نے کئی طرق سے تفسیر جمع کی ہے مثلاً عن ابی سالح عن ابن عباس ؓ عن مرۃ بن شراحیل عن ابن مسعود ؓ اور کئی دیگر لوگوں کے واسطہ سے مختلف صحابہ کرام ؓ سے اور دیگر افراد سے بھی۔ اور انہوں نے تمام روایات کو خلط مطل کردیا۔ لہٰذا ثقہ راویوں کی روایات ضعیف راویں کی روایات سے ممتاز نہیں کی گئیں۔ اور نہ ہی سدی نے انس بن مالک ؓ کے سوا کسی صحابی سے ملاقات کی ہے اور بسا اوقات ان کا سدی صغیر سے التباس بھی لازم آجاتا ہے۔ ان میں سے ایک ابراہیم بن حکیم بن ابان العدنی ہیں اور یہ ضعیف ہے۔ یہ اپنے باپ کے واسطے سے عکرمہ (رح) سے تفسیر بیان کرتا ہے اور علماء نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ کیو کہ حضرت عباس ؓ کے ذکر کے ساتھ بہت سی احادیث کو اس نے متصل کردیا ہے اور اس راوی سے آپ کی تفسیر عبد بن حمید نے روایت کی ہے ان میں سے ایک اسماعیل بن ابی زیادشامی ہے یہ بھی ضعیف راوی ہے۔ اس نے بہت سی تفاسیر جمع کی ہیں ان میں صحیح بھی ہیں اور کمزور بھی ہیں۔ یہ تبع تابعین کے دور میں تھے ان میں سے ایک عطابن دینار ہیں یہ لین اور نرم راوی ہیں۔ یہ سعید بن جبیر کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے تفسیر روایت کرتے ہیں اور ان سے آگے ابن لہیعہ نے تفسیر روایت کی ہے اور یہ ضعیف روایت ہے۔
تابعین کی تفاسیر میں جو قتادہ (رح) سے روایت کیا جاتی ہے۔ اس کے بھی کئی طرق ہیں ان میں ایک روایت عبدالرزاق عن معمر عن قتادہ ہے اور آدم بن ابی ایاس وغیرہ میں شیبان عن قتادہ کی روایت ہے۔ اور ایک یزید بن زریع عن سعید بن ابی عروبہ کی روایت ہے۔ اور ان کی تفاسیر میں سے تفسیر الربیع بن انس عن ابی العالیہ ابو العالیہ کا نام رفیع الریامی ہے اور بعض نے ربیع کے اوپر کسی کا نام ذکر نہیں کیا۔ اور ان سے کئی طرق سے روایت کی جاتی ہے۔ ان میں سے ایک ابو عبیداللہ بن ابی جعفر الرازی عن ابیہ ربیع بن انس کی روایت ہے ان کی تفاسیر ایک مقاتل بن حیان کی تفسیر ہے ان کی سند یہ ہے محمد بن مزاحم بن بکیر بن معروف عن مقاتل بن حیان۔ یہ مقاتل صدوق راوی ہے۔ اور ایک ان کے سوا مقاتل بن سلیمان ہے جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ ضعافاء تابعین اور ان کے بعد آنے والوں کی تفاسیر میں سے زید بن اسلم کی تفسیر ہے کہ ان کے بیٹے عبدالرحمن ان سے روایت کرتے ہیں اور یہ بہت بڑا نسخہ ہے جس کو ابن وہب اور کئی دوسروں نے عبدالرحمن سے اور انہوں نے اپنے باپ اور دوسروں سے روایت کیا ہے۔ اور اس میں بہت سی ایسی اشیاء ہیں کہ کوئی بھی انہیں کسی کی طرف منسوب نہیں کرتا۔ عبدالرحمن ضعیف روایوں میں سے ہیں اور ان کا باپ ثقہ راویوں میں سے اور ان میں مقاتل بن سلیمان کی تفسیر بھی ہے۔ علماء نے ان کی طرف کذب کی نسبت کی ہے۔
حضرت امام شافعی (رح) نے کہا ہے مقاتل اللہ تعالیٰ اسے قتل کرے۔ اور امام شافعی (رح) نے اس کے لیے یہ قول اس لیے کہا کیونکہ وہ بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے مشہور تھا۔ اور اس مقاتل کی تفسیر ابو عصمہ نوح بن ابی مریم الجامع سے مروی ہے علماء نے اسے بھی کذب کی طرف منسوب کیا ہے اور مقاتل سے حکم بن ہذیل نے بھی روایت کیا ہے اور یہ ضعیف راوی ہے۔ لیکن اس کی حالت ابو عصمہ سے بہتر ہے۔ اور ان میں سے یحییٰ بن سلام مغربی کی تفسیر ہے۔ یہ بہت بڑی تفسیر ہے۔ تقریبا چھ اجزاء میں ہے اس کی اکثر روایات تابعین اور دوسروں سے منقول ہیں۔ یہ لیکن الحدیث راوی ہے۔ اور بہت منکر روایات بھی ہیں۔ اور اس کے شیوخ میں سعید بن ابی عروبہ، مالک اور ثوری رحمہم اللہ جیسے افراد ہیں اور اس کے قریب ہی سنید کی تفسیر ہے۔ اس کا نام حسین بن داوٗد ہے اور ائمہ ستہ کے شیوخ کے طبقہ میں سے ہے۔ یہ اکثر حجاج بن محمد مصیصی اور ان جیسے افراد سے روایت کرتے ہیں اور ان میں کچھ نرمی پائی جاتی ہے۔ ان کی تفسیر یحییٰ بن سلام کی تفسیر کی طرح ہے اور ان سے زیاہد روایات ابن جریج نے لی ہیں۔ راویوں کی کمزوں کی سبب کمزور تفاسیر میں سے وہ ہے جسے موسیٰ بن عبدالرحمن ثقفی صنعانی نے جمع کیا ہے یہ دو جلدوں کی مقدار ہے اور اسے ابن جریج عن عطا عن ابن عباس ؓ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ابن حبان نے موسیٰ کی نسبت وضع الحدیث کی طرف کی ہے۔ اور اس نے موسیٰ عبدالغنی بن سعید ثقفی سے اسے روایت کیا ہے۔ اور وہ ضعیف ہے سباب نزول میں سے بہت سی چیزیں کتب مغازی میں پائی جاتی ہیں۔ کچھ معتمر بن سلیمان عن ابیہ کی روایت سے ہیں یا اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ عن عمہ موسیٰ بن عقبہ کی روایت سے ہیں۔ اور وہ اقعدی کی روایات کے برابر ہیں۔ انتہیٰ ۔
مؤلف (رح) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کام کو قبول فرمائے اور اس کی تبییض سے عید الفطر کے دن آٹھ سو اٹھانوے (898 ھ) ہجر میں فارغ ہوا اور سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اکیلا ہے اور اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل فرمائے ہمارے سردار حضرت محمد ﷺ پر اور آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ ؓ پر اور کثر سے سلام بھیجے قیامت کے دن تک۔ اور ہم کو اللہ تعالیٰ کافی ہے اور بہترین کارساز ہے۔ اور اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی میں نیکی کرنے کی طاقت ہے اور نہ برائی سے بچنے کی قوت ہے۔
تمت بالخیر
اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور اس کی مدد سے آج مورخہ 25 ربیع الاول 1432 ھ کو یہ ترجمہ اختتام پذیر ہوا یہ سب اللہ تعالیٰ تبارک وتعالیٰ کی توفیق سے ہوا۔ ورنہ میں اس قابل نہ تھا کہ میں اتنی بڑی کتاب کا ترجمہ کرسکوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری اس محنت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو علماء میں اور عوام میں قبولیت عامہ نصیب فرمائے اور مجھ سیاہ کار اور میرے والدین اور میرے اساتذہ کی مغفرت کا سبب بنائے اور آخرت میں ذریعہ نجات بنائے۔
و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سید ومولانا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین برحمتک یا راحم الراحمین۔