113. Surah Al-Falaq

الفلقThe Dawn · 5 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 113:1–2

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader

آپ یوں کہیے کہ میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader

ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا فرمائی

1۔ احمد والبزار والطبرانی وابن مردویہ نے صحیح طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابن مسعد ؓ معوذتین کو مصحف میں سے مٹادیتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ قرآن کو خلط ملط نہ کرو اس چیز سے جو اس میں نہ ہو۔ یہ دونوں سورتیں کتاب للہ میں سے نہیں ہیں۔ بیشک نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے ذریع پناہ مانگنے کا حکم فرمایا ہے اور ابن مسعود ؓ ان دونوں کی قراءت نہی کرتے تھے بزار (رح) سے نے فرمایا : صحابہ ؓ میں سے کسی ایک نے بھی ان کی تابعداری نہیں اور نبی اکرم ﷺ سے صحیح قول یہ ہے کہ آپ نے ان دونوں کو نماز میں پڑھا اور ان دونوں کو مصحف میں ثابت رکھا گیا۔ 2۔ الطبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ سے ان دونوں سورتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے بھی پوچھا گیا تو میں نے کہا تم لوگ بھی اسی طرح کہو۔ جیسے میں نے کہا۔ 3۔ احمد والبخاری والنسائی وابن الضریس وابن الانبار وابن حبان وابن مردویہ نے زر بن حبیش (رح) سے روایت کیا کہ میں مدینہ آیا میری ملاقات ابی بن کعب ؓ سے ہوئی میں نے کہ اے ابومنذر یہ ابی بن کعب ؓ کی کنیت ہے۔ میں نے ابن مسعود ؓ کو دیکھا کہ وہ معوذتین اپنے مصحف میں نہیں لکھتے تو انہوں نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان دونوں کے بارے میں سوال کیا تھا اور کسی نے مجھ سے ان دونوں کے بارے میں سوال نہیں۔ تیرے علاوہ جب سے میں نے ان کے بارے میں سوال کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ سے کہا گیا کہو تو میں نے کہا پس تم بھی کہو چناچہ ہم اسی طرح کہتے ہیں جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ 4۔ ابن مردویہ نے حنظلہ السدوسی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عکرمہ (رح) سے کہا میں ایک قوم کو نماز پڑھاتا ہوں اور میں قل اعوذ برب القلف اور قل اعوذ برب الناس پڑھتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا ان دونوں پڑھو کیونکہ یہ دونوں سورتیں قرآن کریم میں سے ہیں۔ 5۔ احمد وابن الضریس صحیح سند کے ساتھ ابو العلاء بن یزید بن عبداللہ بن شخیر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور لوگ پیچھے آرہے تھے اور سواریوں کی قلت تھی پس رسول اللہ ﷺ کی اور میری اترنے کی جگہ آئی چناچہ آپ میرے ساتھ مل گئے اور میرے کندھے کو مارتے ہوئے فرمایا آیت قل اعوذ برب الفلق۔ میں نے کہا اعوذ برب الفلق۔ تو رسول الہ ﷺ نے یہ سورت پڑھی اور میں نے بھی ان کے ساتھ اس کو پڑھا۔ پھر فرمایا آیت قل اعوذ برب الناس۔ پس رسول اللہ ﷺ نے یہ سورة پڑھی اور آپ کے ساتھ میں نے اس کو پڑھا۔ پھر آپ نے فرمایا جب تو نماز پڑھے تو ان دونوں کو پڑھا کر۔ 6۔ طبرانی نے اوسط میں حسن سند کے ساتھ ابن مسعود رضی للہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا مجھ ایسی آیات نازل ہوئی کہ مجھ پر ان جیسی آیات نازل نہیں ہوئی۔ اور وہ المعوذتین ہیں۔ 7۔ مسلم والترمذی والنسائی وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف وابن مردویہ نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر آج کی رات کو ایسی آیت نازل ہوئی ہی کہ میں نے جیسی کبھی نہیں دیکھی آیت قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس۔ 8۔ ابن الضریس وابن الانبار والحاکم وصححۃ وابن مردویہ اور بیہقی نے الشعب میں عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ درمیان کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہے تھے۔ جحفہ اور ابوار کے درمیان اچانک ہم کو ڈھانک لیا شدید ہوا اور سخت اندھیرے نے تو رسول اللہ ﷺ نے آیت قل اعوذ بربک الفلق اور آیت قل اعوذ برب الناس کے ذریعہ پناہ لینی شروع کی اور فرمایا اے عقبہ ! ان دونوں کے ذریعہ پناہ طلب کر کیونکہ ان دونوں کی مثل کے ساتھ پناہ طلب کرنے والا کوئی نہیں راوی کا بیان ہے کہ میں آپ کو نماز میں ان دونوں کے ساتھ امامت کراتے ہوئے سنا ہے۔ سورة ناس وفلق کی فضیلت۔ 9۔ ابن سعد والنسائی والبغوی والبیہقی نے ابو حابس جہنی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا اے ابو حابس ! کیا میں تجھ کو خبر نہ دو اس افضل چیز کے ساتھ کہ جس سے پناہ مانگے والے پناہ طلب کرتے ہیں۔ عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا آیت قل اعوذ برب الفلق اور آیت قل اعوذ برب الناس۔ یہ معوذتین ہیں۔ 10۔ الترمذی وحسنہ ولنسائی وابن مردویہ والبیہقی نے ابو سعید خدری رضٰ اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جنات اور انسان کی بد نظر سے پناہ مانگا کرتے تھے جب معوذتین نازل ہوئیں تو آپ نے ان کو لے لیا اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیا۔ 11۔ ابو داوٗ والنسائی والحاکم وصححۃ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ دس خصلتوں کو ناپسندیدہ فرماتے مگر ان کو حرام نہیں کیا۔ الخلوق کو (یعنی زعفران سے ملی زرد رنگ کی خوشبو کا استعمال) اور بڑھاپے کے چھپانے کو، چادر، کو زمین پر گھسیٹنے کو، سونے کی انگوٹھی پہننے کو تعویذ باندھنے کو اور معوذات کے سوا دم کرنے کو اور چوسری کے پانسے پھینکنے کو۔ اور خواند کے علاوہ دوسرے کے لیے زینت کو ظاہر کرنے کو اور ایسے مقام پر پانی ڈالنے کو جو حلال نہ ہو (اس سے مراد زنا ہے) اور بچے کے خراب کرنے کو ( وہ اس طرح کہ شیر خوارگی کی حالت میں اس کی مان سے جماع کرنا جس کو غیلہ بھی کہتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے کبھی عوت کو حمل رہ جاتا ہے اور بچہ اس کا دودھ پی کر ناتواں ہوجاتا ہے۔ 12۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ دم کرنے کو ناپسند فرماتے تھے مگر معوذات کے ساتھ۔ 13۔ ابن مردویہ نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا معوذات کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرو۔ 14۔ ابن ابی شیبہ وابن مردویہ نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ سول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان دونوں یعنی معوذتین کی مثل کے ساتھ نہ کسی سائل نے سوال کی اور نہ کسی پناہ مانگنے والے نے پناہ مانگی۔ 15۔ ابن مردویہ نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عقبہ تو آیت قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ بیشک تو ہرگز نہیں پڑھے گا ان دونوں سے زیادہ بلیغ سورتیں۔ 26۔ ابن مردویہ نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب سورتیں آیت قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ہیں۔ 17۔ ابن مردویہ نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا آپ نے صبح کی نماز پڑھائی اور ان میں معوذتین پڑھیں۔ پھر فرمایا اے معاذ ! کیا تو نے سنا ہے ؟ میں عرض کیا ہاں ! پھر آپ نے فرمایا ان کی مثل لوگوں نے نہیں پڑھیں۔ 18۔ النسائی وابن الضریس وابن الانباری وابن مردویہ جابر عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ میرے کندھے کو پکڑ کر فرمایا تو پڑھ ؟ میں نے عرض کیا میں کیا پڑھوں۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ نے فرمایا آیت قل اعوذ برب الفلق۔ پھر فرمایا پڑھ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں کیا پڑھوں آپ نے فرمایا آیت قل اعوذ برب الناس پڑھ۔ تو ان دونوں جیسی سورتیں ہرگز نہیں پڑھے گا۔ 19۔ ابن سعد نے یوسف بن محمد بن ثابت بن قیس رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ ثابت بن قیس بیمار ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے آئے۔ اور یہ مریض تھے آپ نے دم کیا معوذات کے ساتھ۔ اور ان پر پھونک ماری اور فرمایا اللہم رب الناس اکشف البأس۔ اے اللہ لوگوں کے رب۔ بیماری کو ختم فرمادے۔ ثابت بن قیس بن شماس سے۔ پھر آپ نے ان کی وادی سے مٹی اٹھائی یعنی بطحاب سے۔ پھر اس کو پانی میں ڈالا اور ان کو پلادیا۔ 20۔ ابن ابی شیبہ وابن الجریس نے عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا جب فجر طلوع ہوئی۔ اذان دی گئی ار اقامت کہی گئی۔ پھر آپ نے مجھے اپنی داہنی طرف ٹھہرایا پھر آپ نے معوذتین کو پڑھا جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا تو نے کیسے دیکھا۔ میں عرض کیا میں دیکھ لیا ہے یا رسل اللہ ! پھر فرمایا ان دونوں کو پڑھ جب تو سوئے اور جب تو اٹھے۔ 21۔ ابن الانباری نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عقبہ بن عامر ؓ سے فرمایا کہ تو آیت قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھا کر۔ کیونکہ یہ دونوں سوتیں قرآن میں اللہ کے نزدیک سب سے زیاہ محبوب ہیں۔ 22۔ الحاکم نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کی سواری کی لگام پکڑے چل رہا تھا آپ نے فرمایا اے عقبہ میں تجھ کو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں میں نے عرض کیا کیوں نہیں ؟ آپ نے فرمایا آیت قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس۔ پھر آپ سواری سے نیچے اترے اور ان دونوں سورتوں کو صبح کی نماز میں پڑھا پھر آپ نے فرمایا اے عقبہ ! تو کیسے دیکھتا ہے۔ 23۔ ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت یا کہ نبی اکرم ﷺ ایک خچر پر سوار ہوئے تو وہ بدکنے لگا تو آپ نے اس کو روک دیا اور ایک آدی سے فرمایا کہ اس پر آیت قل اعوذبرب الفلق، من شر ماخل قپڑھ دے تو وہ خچر سکون میں آگیا اور چل پڑا۔ 24۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نجاشی بادشاہ نے ایک شہباء خچر ہدیہ کے طور پر بھیجا اس میں بڑی مشقت اور مشکل پیش آئی۔ آپ نے زبیر ؓ سے فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ اور اس کو مطیع بناؤ تو حضرت زبیر ؓ اس سے زیادہ ڈرنے لگے تو آپ نے اس سے فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ اور قرآن پڑھو۔ پوچھا میں کیا پڑھوں۔ فرمایا آیت قل اعوذبرب الفلق پڑھ۔ اس ذات کیسم ! جس کے قبضۃ میں میری جان ہے۔ تو نے اس جیسی سورت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہوگی۔ 25۔ ابن الانبای نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی تکلیف ہوی تو آپ اپنے آپ معوذتین پڑھتے پھر تھوکتے یا پھونک دیتے۔ 26۔ ابن الانباری نے ابن عمر رضی للہ عنہما سے روایت کیا کہ جب تو آیت قل اعوذ برب الفلق پر ہے تو یوں کہہ اعوذ برب الفلق اور جب تو قل اعوذ برب الناس پڑھے تو یوں کہہ آیت اعوذ برب الناس۔ 67۔ محمد بن نصر نے ابو ضمرہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دوسری رکعت میں جس کے ذڑیعہ وتر بناتے تھے آیت قل ہو اللہ احد اور معوذتین پڑھتے تھے۔ بیمار پر معوذتین پڑھیں۔ 28۔ الطبرانی نے ابن مسعود رضٰ اللہ سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنے گھروالوں میں سے ایک عورت کے گلے میں تسمہ دیکھا جس میں تعویذ تھا۔ تو آپ نے اس کو کاٹ دیا۔ اور فرمایا کہ عبداللہ کے گھر والے شرک سے بری ہیں۔ پھر فرمایا کہ مصیب ت، تعویذ اور منتر شرک ہیں۔ تو اس عورت نے کہا بیشک ہم میں سے کوئی اپنے سر میں تکلیف کی شکایت کرتی ہے تو وہ تعویذ کا مطالب کرتی ہے۔ اور جب وہ تعویذ کا مطالبہ کرتی ہے تو وہ گمان کرتی ہے کہ یقیناً اس نے نفع دیا۔ عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور وہ اس کے سر میں آکر کیل چبھودیتا ہے اور جب وہ دم کرتی ہے تو وہ رک جاتا ہے اور جب وہ دم نہ کرائے تو اسے مضبوط اور پختہ کردیتا ہے۔ پس اگر تم میں سے کسی کو تلیف ہو تو وہ پانی لے کر اپنے اپنے سر اور منہ پر چھڑکے پھر یہ کہ کہے آیت بسم اللہ الرحمن الرحم قل ہو اللہ احد۔ قل اعوذ برب الفلق، قل اعوذ برب الناس۔ یہ اس کو نفع دے۔ انشاء اللہ۔ 29۔ عبد بن حمید نے اپنی مسندر میں زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ یہود میں سے ایک آدمی نے نبی ﷺ پر جادو کردیا۔ آپ ﷺ کو تکلیف ہوگئی۔ تو جبریل (علیہ السلام) آپ کے پاس تشریف لائے اور آپ پر معوذتین نازل ہوئیں۔ اور فرمایا کہ ہود میں سے ایک آڈمی نے آپ پر جادو کردیا ہے اور جادو فلاں کنویں میں ۃ ے۔ تو آپ نے علی ؓ کو بھیجا وہ نکال کرلے آئے اور آپ نے گرہوں کو کھولنے کا حکم فرمایا۔ اور آیت بھی پڑھی۔ وہ پڑھتے جاتے تھے اور کھولتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ نبی ﷺ کھڑے ہوگئے گویا کہ آپ بندھی ہوئی رسی سے آزاد ہوگئے۔ 30۔ ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک یہودی لڑکا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آتا تھا اور آپ کی خدمت کرتا تھا اس کو لبید بن اصم کہا جاتا تھا۔ وہ یہودی اس کے ساتھ مسلسل رہا یہاں تک کہ اس نے نبی اکرم ﷺ پر جادو کردیا اور نبی ﷺ گھلے جار ہے تھے اور وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ درد کیوں ہے۔ ایک رات نبی ﷺ سو رہے تھے کہ اچانک آپ کے پاس دو فرشتے آئے ان میں ایک آپ کے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا آپ کے پاؤں کے پاس۔ وہ فرشتہ جو آپ کے سر کی جانب تھا اس نے اس سے کہا جو پاؤں کے پاس تھا۔ ان کو کیا درد ہے ؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے۔ اس نے پوچھا ان پر کس نے جادو کیا ہے اس نے کہا لبید بن اعصم نے۔ پھر پوچھا کس چیز کے ذریعہ اس نے جادو کیا ہے اس نے کا ہ کنگھی کے بالوں اور تر کھجور کے خشک گابھے کے ساتھ اور وہ ذی اروان میں ہے اور وہ کنویں کے اس پتھر کے نیچے ہے جس پر کھڑے ہو کر پانی نکالا جاتا ہے۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کنویں کی طرف روانہ ہوئے اور آپ صحابہ ؓ کے ساتھ تھے۔ تو ایک آدمی نیچے اور پتھر کے نیچے سے گابھے کو نکال لایا۔ تو دیکھا اس میں رسول اللہ ﷺ کی کنھی اور سر کے بال تھے اور رسول اللہ ﷺ کا مومم سے بنایا ہو ایک مجسمہ تھا۔ اور اس میں سوائیں گاڑی ہوئی تھیں اور ایک تانت تھی جس میں گارہ گرہیں تھیں جبریل (علیہ السلام) معوذتیں لے کر آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے محمد ﷺ آیت قل اعوذ برب الفلق۔ اور گرہ کھل گئی۔ آیت من شر ماخلق۔ اور دوسری گرہ کھل گئی۔ یہاں تک کہ آپ سورت سے فارغ ہوگئے اور ساری گرہیں کھل گئیں اور سوئی کے نکالتے وقت تو آپ نے اس کا در محسوس کیا پھر اس کے بعد آپ راحت کو پانے لگے۔ کہا گیا یارسول اللہ ! اگر یہودیوں کو قتل کردیتے تو اچھا تھا۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت دے دی ہے اور اس کے پیچھے یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب ہے چناچہ آپ نے اسے نکال دیا۔
Ayahs 113:3–4

وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader

اور اندھیری کے شر سے جب وہ آجائے

وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader

اور گرہوں پر پھونکنے والیوں کے شر سے

رسول اللہ ﷺ پر جادو کا اثر۔ 31۔ ابن مردویہ نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لبید بن عاصم یہودی نے نبی ﷺ پر جادو کردیا اور اس میں ایک مجسمہ بنادیا جس میں گیارہ گرہیں تھی اس سے آپ شدید بیمار ہگئے۔ جبریل اور میکائیل (علیہا السلام) نے آپ کی عیادت کی۔ میکائیل نے کہا اے جبریل بیشک آپ کے ساتھی تو تکلیف میں ہیں جبریل ( علیہ السلام) نے کہا ہاں۔ پھر کہا کہ لبید بن الاعصم یہودی نے آپ کو تکلیف پہنچائی ہے اور میمون کنوئیں میں پانی کے پتھر کے نیچے سخت زمین میں ہے پھر پوچھا اس کا علاج کیا ہے ؟ کہا کہ کنوئیں کا پانی نکالا جائے۔ اور پتھر کو الٹ دیا جائے اور وہاں سے غلاف کو اٹھالیں اس میں ایک تصویر ہے جس میں گیارہ گرہیں ہیں سو اس کو جلادیا جائے تو بیشک وہ اللہ کے حکم سے شفایاب ہوجائیں گے۔ پاس آپ نے ایک جماعت کو اس کی طرف بھیجا۔ ان میں عمار بن یاسر ؓ بھی تھے۔ پانی کو نکال دیا گیا۔ تو انہوں نے اس کو اسی طرح پایا گویا کہ وہ مہندی کا پانی ہے۔ پھر پتھر کو الٹ دیا گیا تو اس کے نیچے وہ غلاف تھا جس میں ایک مجسمہ تھا اور اس میں گیارہ گرہیں تھیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی اور فرمایا محمد ! آیت قل اعوذ برب الفلق۔ اس میں خلق سے مراد یک صبح ہے تو ایک گرہ کھل گئی۔ آیت من شر ماخلق۔ مخلوق کے شر سے۔ یعنی جنات اور انسانوں کے شر سے۔ تو دوسری گرہ کھل گئی۔ آیت ومن شر غاسق اذا وقب اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے اور رات کی تاریکی کے شر سے جس کے ساتھ رات آتی ہے۔ آیت ومن شر النفثت فی العقد۔ اور گرہوں میں پھونکنے والون کے شر سے۔ یعنی جادو کرنے والیوں اور تکلیف دینے والیوں کے شر سے پس گرہیں گھل گئیں۔ ومن شر حسد اذا حسد۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ ۔ 32۔ ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ یہود نے نبی ﷺ کے ساھ کچھ عمل کیا سے آپ کو شدید درد ہونے لگا۔ آپ کے آپ کے صحابہ ؓ حاضر ہوئے اور پھر آپ کے پاس سے باہر چلے گئے اور وہ یہ گمان کرنے لگے کہ آپ کو درد ہے۔ جبریل علیہ السلم معوذتین لے کر آئے تو آپ ان دونوں سورتوں کے ساتھ آپ کو تعویذ کیا پھر کہا بسم اللہ ارقیک من کل شیء یوذیک ون کل عین ونفس حاسد الیہ یشفیک باسم اللہ ارقیک۔ اللہ کے نام کے ساتھ میں دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو تجھ کو تکلیف دے اور ہر نظر بد سے اور حسد کرنے والے سے اللہ تجھ کو شفا دے گا۔ اللہ کے نام کے ساتھ میں تجھ کو دم کرتا ہوں۔ 33۔ ابن مردویہ نے عمرو بن عبسہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی۔ اور آیت قل اعوذ برب الفلق پڑھا پھر آپ نے فرمایا اے ابن عبسہ ! کیا تو جانتا ہے فلق کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا ایک کنواں ہے جن ہم میں جب جہنم بھڑکتی ہے تو اسی کے سبب بھڑکتی ہے۔ اور جہنم اس سے اس طرح تکلیف پاتی ہے جیسے آدم کے بیٹے جہنم سے تکلیف پائیں گے۔ 34۔ ابن مردویہ نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آیت قل اعوذ برب الفلق پڑھ کیا تو جانتا ہے کہ الفلق کیا ہے۔ ؟ پھر خود ہی فرمایا یہ جہنم کا ایک دروازہ ہے، جب کھولا جائے گا تو جہنم بھڑک اٹھے گی۔ 35۔ ابن مردویہ اور دیلمی نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت قل اعوذ برب الفلق کے بارے میں سوال کیا آپ ﷺ نے فرمایا وہ جہنم میں ایک قید خانہ ہے جس میں جبار اور متکبر لوگ قید کیے جائیں گے اور جہنم اس سے پناہ مانگتی ہے۔ 36۔ ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ فلق جہنم میں ایک کنواں ہے جو ڈھانکا ہوا ہے۔ 37۔ ابن ابی حاتم نے زید بن علی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ الفق جہنم کی تہہ میں ایک کنواں ہے اس کے اوپر سے ڈھکا ہے۔ جب اس سے کھولا جائے گا تو اس میں سے آگ نکلے گی۔ اس کی گرمی کی شدت سے جہنم چلانے لگے گی جو اس گھڑے سے خارج ہوگی۔ 38۔ ابن جریر نے ابن عباس رضی الہ انہما سے روایت کیا الفلق سے مراد ہے صبح۔ 39۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت یا کہ نافع ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت قل اعوذ برب الفلق کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں اس صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں جب وہ رات کی تاریکی سے پھوٹتی ہے پھر پوچھا کی عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں۔ کیا تو نے زہیر بن ابی سلمیٰ کو کہتے ہوئے نہیں سنا وہ کہتا ہے الفارج اللہم مسد ولا عساکرہ کما یفر غم الظلمہ الفلق۔ ترجمہ : غم کا دور کرنے والا ان کے جمع ہونے کو پھاڑنے والا۔ جیسے کہ ظلمت کے غم کو کھول دیتا ہے پیدا کرنے والا۔ 40۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الفلق سے مراد ہے پیدا کرنا۔ 41۔ احمد والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن الشیخ فی العظمہ والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن چانکد کی طرف دیکھا جب وہ طلوع ہوا تو فرمایا اے عائشہ ! اس کے شر سے اللہ سے پناہ مانگ کیونیہ یہی غاسق اذا وقب ہے۔ 42۔ ابن جریر وابو الشیخ وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ومن شر غاسق اذا وقب اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھاجائے کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے تاریک ہونے ستارے کے شر سے پناہ مانگنا ہے۔ اور وہ ستارہ ثریا ہے۔ 43۔ ابن جریر وابو الشیخ نے ابن زید (رح) سے آیت ومن شر غاسق اذا وقب کے بارے میں روایت کیا کہ عرب کے لوگ ثریا کے گرنے کو غاسق کہتے تھے کہ اس کے گرنے کے وقت بیماریوں اور طاعو کی کثرت ہوجاتی ہے۔ اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی ہیں۔ 44۔ ابو الشیخ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب ستارے بلند ہوجاتے ہیں تو ہر شہر سے آفات اٹھا دی جاتی ہے۔ 45۔ ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ ” غاسق “ سے مراد ہے ثریا کا گرجانا۔ اور آیت غاسق اذا وقب سے مراد ہے سورج جب غروب ہوجائے۔ 47۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت ومن شر غاسق اذا وقب کے بارے میں روایت کیا یعنی رات کے شر سے جب وہ آنے لگے۔ 48۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ومن شر غاسق اذا وقب کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ غاسق سے مراد ظلمت اور تاریکی۔ اور وقب سے مراد ہے اس کی انتہائی تاریکی جب کہ وہ ہر چیز میں داخل ہوجائے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے زہیر کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا۔ ظلت تجوب یداہا وہی لاہیۃ حتی اذا جنح الاظل والغسق اور وقب کے بارے میں کہا وقب العذاب عیہم فکانہم لحقتہم نارا السماء فاخمدوا۔ ترجمہ : ان پر عذاب چھا گیا گویا کہ آسمان کی آگ ان میں داخل ہوگئی اور وہ ٹھنڈے کردئیے گئے۔ 49۔ ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد ؓ سے روایت کیا کہ آیت غاسق اذا وقب سے مراد ہے رات جب داخل ہوجائے۔ 50۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن شر النفثت اور پھونکنے والیوں کے شر سے۔ یعنی جادو کرنے والیں۔ 51۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت النفثت فی العقد سے مراد ہے جادو کو جھاڑ پھونک سے ملانے والیاں۔ 52۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ النفثت سے مراد ہے جادو کرنے والے۔ 53۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ النفثت فی العقد سے مراد ہے دھاگے کی گرہ میں پھونک مارنے والیاں۔ 54۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے گرہ باندھی پھر اس میں پھونکا تو یقینی طور پر اس نے جادو کیا۔ اور جس نے جادو کیا تو یقینی طور پر اس نے شرک کیا۔
Ayah 113:5

وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader

اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے

55۔ الحاکم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ اور فرمایا کیا میں تجھ کو وہ دم نہ کردوں جو دم مجھے جبریل (علیہ السلام) نے کیا تھا میں نے کہا کیوں نہیں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں تو آپ نے اس طرح دم فرمایا آیت بسم اللہ ارقیک واللہ یشفیک من کل داء منک اللہ کے نام کے ساتھ میں تجھ پر دم کرتا ہوں اور اللہ تجھ کو شفا دیں گے ہر اس بیماری سے جو یرے اندر ہے۔ آیت ومن شر النفثت فی العقد۔ ومن شر حاسد اذا حسد اور اس کے ساتھ آپ نے تین مرتبہ دم فرمایا۔ 56۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے سر مبارک میں درد کو پایا۔ آپ نے صحابہ کرم ؓ کے پاس آنے میں دیر لگائی۔ پھر آپ ان کے پاس تشریف لائے تو عمر ؓ نے آپ سے عرض کیا کونسی چیز جس نے آپ کو ہمارے پاس آنے سے دیر کروا دیا۔ آپ نے فرمایا۔ اپنے سر میں، میں نے درد کو پایا تو مجھ پر جبریل (علیہ السلام) نیچے اترے اور اپنے ہاتھ کو میرے سر پر رکھا اور یہ دعا پڑھی بسم اللہ ارقیک من کل شیء یوذیک او یصیبک ومن شر کل ذی شر فعلن اور مسیر۔ اللہ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دے یا آپ کو تکلیف پہنچ جائے اور ہر تکلیف دینے والی چیز کے شر سے اعلان کرنے والے یا چھپانے والے سے۔ اور جنات اور انسانوں کے شر سے۔ آیت ومن شر النفثت فی العقد ومن شر حاسد اذا حسد۔ آپ نے فرمایا پھر میں صحت یاب ہوگیا۔ 57۔ ابن عدی فی الکام اور بیہقی نے شعب الایمان میں حسن (رح) سے آیت ومن شر حاسد اذا حسد کے بارے میں روایت کیا کہ حسد وہ پہلا گناہ ہے جو آسمان میں ہوا تھا۔ 58۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے آیت ومن شر حاسد اذا حسد کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد یہودی ہیں کہ وہ لوگ اسلام سے حسد کرنے والے ہیں۔ 59۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت ومن شر حاسد اذا حس کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے ابن آدم کا نفس اور اس کی نظر مراد ہے کہ میں ابن آدم کی ذات اور اس کی نظر کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ 60۔ ابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن شر حاسد اذا حسد سے مراد ہے کہ حاسد کی نظر اور اس کی ذات کے شر سے۔ 61۔ ابن مردویہ نے عبادۃ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جبریل (علیہ السلام) ان کے پاس تشریف لائے اور آپ تکلیف میں تھے تو انہوں نے یہ عا پڑھ کر دم کیا بسم اللہ ارقیک من کل شیء یوذیک من حسد حاسد وکل عین اسم اللہ یشفیک۔ 62۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے یا ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ بیمار ہوگئے تو آپ کے پاس جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے اور یہ دعا پڑھ کر دم کیا۔ بسم اللہ ارقیک من کل شیء یوذیک من کل کاہن وحساد واللہ یشفیک۔ 63۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے لکڑی کو آگ کھاجاتی ہے۔ 64۔ ابن مردویہ نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اونچے درجات لعنت کرنے والے اور احسان جتانے والے اور بخل کرنے والے اور بغاوت کرنے والے اور حسد کرنے والوں کو نہیں ملیں گے۔ دل میں کسی مسلمان کے لیے حسد نہ رکھیں 65۔ بیہقی نے شعب میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے۔ آپ نے فرمایا اس راستہ سے ایک آدمی ابھی تمہارے پاس آئے گا جنت والوں میں سے تو انصار میں سے ایک آدمی نمودار ہوا۔ وضو کا پانی اس کی داڑھی سے ٹپک رہا تھا۔ اپنی جوتیوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں اٹھائے ہوئے گا۔ اور اس نے آکر سلام کیا۔ جب دوسرا دن ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے اسی طرح فرمایا تو پہلی بار کی طرح ایک آدمی نمودار ہو جب تیسرا دن ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے پھر اسی طرح فرمایا تو وہی آدمی پہلی حالت میں نمودار ہوا جب نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے تو عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ اس کے پیچھے لگ گئے اور کہا کہ میرا اپنے باپ کے ساتھ جھگڑاہو گیا ہے اور میں نے قسم کھائی ہے کہ میں اس پر تین دن تک داخل نہ ہوں گا۔ اگر آپ مناسب خیال فرمائیں تو آپ مجھے اپنے پاس پناہ عطا فرمائیں یہاں تک کہ تین دن گزر جائیں جن کی میں نے قسم کھائی ہے۔ اس نے کہا ہاں میں ٹھکانہ دے دوں گا۔ انس ؓ نے بیان کیا کہ عبداللہ ؓ بیان کرتے تھے کہ انہوں نے اس کے ستاھ تین راتیں گذاریں میں نے اسے دیکھا کہ وہ فجر کی نماز کے لیے اٹھتا ہے اور جب وہ اپنے بستر پر کروٹ بدلتا ہے تو اللہ کا ذکر کرتا ہے اور اس کی بڑائی بیان کرتا ہے اور خیر کے علاوہ کوئی بات نہ کہت اجب تین رتیں گذر گئیں اور قریب تھا کہ میں اس کے عمل کو حقیر سمجھتا میں نے کہا اے اللہ کے بندے میرے اور میرے والد کے درمیان نہ کوئی ناراضگی ہے اور نہ کوئی اختلاف ہے لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ابھی تم پر اہل جنت میں سے ایک آدمی آئے گا اور پھر تم ہی تین مرتبہ آئے تو میں نے ارادہ کیا کہ میں تیرے پاس رہوں اور دیکھوں تیرا کیا عمل ہے۔ میں نے تجھ کو نہیں دیکھا کہ تو زیادہ عمل کرتا ہوں جب میں نے پیٹھ پھیری تو اس نے مجھے بلایا اور کہا عمل نہیں ہے مگر وہی جو تم نے دیکھ لیا ہے مگر میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کوئی کھوٹ یعنی کینہ کو نہیں پا اور نہ میں حسد کرتا ہوں کسی عزت اور بھلائی پر جو اللہ تعالیٰ اس کو عطا فرمائی۔ عبدللہ ؓ نے فرمایا یہی وہ صفت ہے جس نے مجھے اس مقام پر پہنچادیا۔ یہی وہ عمل ہے جس کی طاقت نہیں رکھی جاتی۔ 66۔ بیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز نور ہے اور وزہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہوں کو اس طرح ختم کردیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ اور حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھاجاتی ہے۔ 67۔ ابن ابی شیبہ والبیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قریب ہے کہ فقر کفر ہوجائے اور قریب ہے کہ حسد تقدیر پر غالب آجائے۔ 68۔ بیہقی نے الشعب میں اصمعی (رح) سے روایت کیا مجھ کو یہ بات پہنچ ہے کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ حاسد میری نعت کا دشمن ہے۔ وہی میرے فیصلے کو ناپسند کرنے والا ہے میری تقسیم پر راض نہیں ہے۔ جو میں نے اپنے بندوں کے درمیان تقسیم کی ہے۔ 69۔ ابن ابی شیبہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔