114. Surah An-Naas
الناسMankind · 6 ayahsانوار البیان
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ Open ayah 114:1 in the Quran reader
کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں
(114:1) قل اعوذ برب الناس : قل فعل امر واحد مذکر حاضر قول (باب نصر) مصدر سے ۔ تو کہہ۔ تم (یہاں کہا کرو۔ تم (یوں ) دعا کیا کرو۔ خطاب گو نبی کریم صلی اللہ علیہ ولسم سے ہے مگر آپ کے بعد ہر مومن اس کا مخاطب ہے۔
اعوذ مضارع کا صیغہ واحد متکلم عوذ (باب نصر) مصدر سے ۔ جس کے معنی دوسرے سے التجا کرنے اور اس سے متعلق ہونے اور پناہ مانگنے کے ہیں۔ میں پناہ چاہتا ہوں۔
برب الناس۔ ب جار متعلق باعوذ ہے۔ رب الناس مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور (میں پناہ مانگتا ہوں) لوگوں کے رب (پروردگار) کی۔
مَلِكِ النَّاسِۙ Open ayah 114:2 in the Quran reader
(یعنی) لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی
اِلٰهِ النَّاسِۙ Open ayah 114:3 in the Quran reader
لوگوں کے معبود برحق کی
(114:2) ملک الناس۔ عطف بیان ہے رب الناس کا (وہ اسم جو صفت نہ ہو اور اپنے متبوع کی وضاحت کرے) یعنی وہ لوگوں کا رب کون ہے ؟ لوگوں کا بادشاہ۔ (یعنی میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی) سب انسانوں کے بادشاہ کی۔
مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ Open ayah 114:4 in the Quran reader
(شیطان) وسوسہ انداز کی برائی سے جو (خدا کا نام سن کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے
(114:4) من شر الوسواس الخناس ۔ متعلق باعوذ ہے اور المستعاذ منہ ہے یعنی وہ جس سے پناہ لینے کی دعا کی جارہی ہے
شر۔ برائی (خیر کی ضد) مضاف الوسوا : مضاف الیہ۔ یہ موصوف بھی ہے اور الخناس اس کی صفت ہے۔
الوسواس : بروزن زلزال اسم ہے وسوسہ کا ہم معنی ہے۔ وسوسہ اس خفیف آواز کو کہتے ہیں جس کا مفہوم تو دل تک پہنچ جائے اور تلفظ سنائی نہ دے۔ یعنی ذہنی آواز۔ یہاں وسواس سے مراد شیطان ہے یعنی وسوسہ پیدا کرنے وال۔ یا تو اس وجہ سے کہ مبالغہ مصدر کو بجائے اسم فاعل استعمال کرلیا جاتا ہے یا مضاف محذوف ہے۔ یعنی وسوسہ ڈالنے والا۔
الخناس : یہ الوسواس کی صفت ہے۔ خنس وخنوس کا معنی ہے چپکے سے پیچھے ہٹنا۔
شیطان کا طریقہ اور معمول یہ ہے کہ اللہ کی یاد کے وقت پیچھے ہٹ جاتا ہے اس لئے اس کو خناس فرمایا۔
الوسواس الخناس کی وضاحت فرماتے ہوئے صاحب ضیاء القرآن رقمطراز ہیں :۔
جب کوئی شخص کسی کو اس کی افتاد طبع کے خلاف کسی کام پر اکساتا ہے تو اس کا پہلا رد عمل شدید ہوتا ہے اور وہ بڑی حقارت سے اس خیال کو جھٹک دیتا ہے۔ ہر وسوسہ انداز اصرار نہیں کرتا بلکہ پیچھے کھسک جاتا ہے بظاہر پسپائی اختیار کرتا ہے۔ پھر موقعہ ملنے پر وہی بات کانوں میں ڈالتا ہے اگر پھر بھی وہ تیوری چڑھائے تو وہ دبک جاتا ہے یہ تسلسل جاری رہتا ہے آہستہ آہستہ اس کا رد عمل کمزور ہونے لگتا ہے یہاں تک کہ وہ دن آجاتا ہے کہ یہ شخص جس بات پر پہلی بار برا فروختہ ہوگیا تھا وہ خود لپک کر اس کی طرف بڑھتا ہے۔
شیطان کا یہی طریقہ ہے کہ وہ انسان کو گمراہ کرتے تھکتا نہیں بلکہ لگاتار اپنی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ کبھی حملہ کرتا ہے کبھی پسپائی اختیار کرتا ہے یہاں تک کہ وہ بڑے سے بڑے زیرک انسان کو بھی اگر اسے اپنے رب کی پناہ حاصل نہ ہو تو چاروں شانے چت گرا دیتا ہے اس کی ان دونوں چالوں کو وسواس اور خناس کے الفاظ استعمال کرکے بیان کردیا۔
من شر الوسواس الخناس کا ترجمہ ہوگا :۔ بار بار وسوسہ ڈالنے والے بار بار پسپا ہونے والے کے شر سے۔
الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ Open ayah 114:5 in the Quran reader
جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے
(114:5) الذی یوسوس فی صدور الناس۔ جو لوگوں کے سینوں کے اندر وسوسہ پیدا کرتا ہے۔ یعنی جب اللہ کا ذکر نہ کریں۔
الذی سے الوسواس کی دوسری صفت بیان کی گئی ہے اس لئے (محلا) مجرور ہے یا (محلا) منصوب علی الذم ہے۔ یا محذوف مبتداء کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔
یوسوس مضارع معروف واحد مذکر غائب وسوسۃ (رباعی مجرد) مصدر۔ وہ وسوسہ پیدا کرتا ہے۔
صدور الناس مضاف مضاف الیہ۔ لوگوں کے سینے۔ صدور صدر کی جمع ہے ۔ بمعنی سینے۔
مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ Open ayah 114:6 in the Quran reader
(خواہ وہ) جنات سے (ہو) یا انسانوں میں سے
(114:6) من الجنۃ والناس : اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔
(1) یہ جملہ وسواس کا بیان ہے یا الذی کا۔ (مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہوگا) یعنی وسوسہ پیدا کرنا جنات کا فعل بھی ہے اور انسانوں کا بھی۔ اور جگہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔
وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیطین الانس والجن (6:112) اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن (بہت سے) شیطان، انسان اور جنات (دونوں) میں سے پیدا کر دئیے تھے۔ خلاصہ یہ کہ اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ جن و انس کے سر سے پناہ مانگو۔
(2) یا من الجنۃ والناس کا تعلق یوسوس سے ہے۔ یعنی لوگوں کے سینوں کے اندر جنات اور انسانوں کے معاملات کے متعلق وسوسہ پیدا کرتا ہے۔
(3) کلبی نے کہا ہے کہ صدور الناس میں جو الناس ہے (جملہ) من الجنۃ والناس اس کا بیان ہے۔ گویا انسان کا لفظ دونوں کو شامل ہے۔ جن کو بھی اور انسان کو بھی۔
جن پر انسان کا اطلاق اسی طرح کیا گیا جس طرح کہ آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن (72:6) اور انسانوں میں سے بہت سے لوگ ایسے ہوئے ہیں کہ وہ جنات میں سے بعض لوگوں کی پناہ لیا کرتے تھے۔ میں رجال کا اطلاق جن پر کیا گیا ہے۔
(4) یہ بھی جائز ہے کہ من الجنۃ بیان ہو الوسواس کا۔ اور الناس ہر عطف ہو۔ اس صورت میں مطلب ہوگا :۔
میں پناہ مانگتا ہوں وسوہ ڈالنے والے جن شیطان کے سر سے اور انسانوں کے شر سے۔
اللّٰہ اکبر
الحمدللّٰہ بعونہ ومنہ تعالیٰ آج قرآن مجید کی
لغوی وضاحت میری استطاعت کے مطابق مکمل ہوئی
یا الہ العالمین اس بندہ ناچیز کی یہ حقیر سی محنت قبول فرما۔ (امین)