114. Surah An-Naas
الناسMankind · 6 ayahsتفسیر ابن عباس
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ Open ayah 114:1 in the Quran reader
کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں
یہ پوری سورت مکی ہے اس میں چھ آیات اور بیس کلمات ہیں
مَلِكِ النَّاسِۙ Open ayah 114:2 in the Quran reader
(یعنی) لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی
اِلٰهِ النَّاسِۙ Open ayah 114:3 in the Quran reader
لوگوں کے معبود برحق کی
مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ Open ayah 114:4 in the Quran reader
(شیطان) وسوسہ انداز کی برائی سے جو (خدا کا نام سن کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے
الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ Open ayah 114:5 in the Quran reader
جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے
مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ Open ayah 114:6 in the Quran reader
(خواہ وہ) جنات سے (ہو) یا انسانوں میں سے
(1۔ 6)۔ محمد ﷺ آپ فرمائیے کہ میں جن و انس کے رب جن و انس کے مالک اور جن و انس کے خالق کی پناہ لیتا ہوں۔ شیطان کے شر سے جو کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے تو وہ اس کے دل پر غلبہ کر کے اسے چھپا دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتا تو وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ انسانوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالے یا جنات کے دلوں میں۔ یہ دونوں سورتیں لبید بن اعصم یہودی کے متعلق نازل ہوئی ہیں جس نے رسول اکرم ﷺ پر جادو کردیا تھا آپ نے جادو پر ان سورتوں کو پڑھا تو وہ اس طرح زائل ہوگیا جیسا کہ رسی کی گرہ کھل جاتی ہے۔
شان نزول : معذتین
امام بیہقی نے دلائل النبوة میں بواسطہ کلبی، ابو صالح، حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ سخت بیمار ہوئے تو آپ کے پاس دو فرشتے آئے ایک آپ کے سر مبارک کے پاس بیٹھا اور دوسرا پیروں کی طرف۔ تو جو پیروں کی طرف بیٹھا ہوا تھا اس نے اس فرشتہ سے جو کہ سر کے پاس تھا کہا آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے اس نے کہا کہ تکلیف ہے وہ کہنے لگا کیا تکلیف ہے تو اس نے کہا جادو ہے اس فرشتہ نے کہا کہ کس نے جادو کیا ہے اس فرشتہ نے کہا لبید بن اعصم یہودی نے کیا ہے وہ فرشتہ کہنے لگا کہ کس جگہ ہے اس فرشتہ نے کہا وہ فلاں خاندان کے کنوئیں میں پتھر کے نیچے ایک بالوں کے جوڑے میں ہے چناچہ وہاں جاؤ اور اس کا پانی نکالو اور پتھر کو اٹھا کر اس جادو کو جلا دو چناچہ جب صبح ہوئی تو حضور ﷺ نے حضرت عمار بن یاسر ؓ کو ایک جماعت کے ساتھ اس کنوئیں کے پاس بھیجا تو اس کا پانی مہندی کی طرح سرخ ہورہا تھا چناچہ انہوں نے پانی نکالا اور پتھر کو اٹھا کر اس جادو کو نکال لیا اور اس کو جلا دیا اور اس میں ایک دھاگہ کا ٹکڑا بھی تھا جس میں گیارہ گرہیں تھیں اور آپ پر یہ دونوں سورتیں یعنی قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس نازل ہوئی چناچہ جب اس پر ان سورتوں میں سے ایک ایک آیت پڑھنی شروع کی تو ایک ایک گرہ کھل گئی۔
اس کی اصلیت کے لیے بغیر سبب نزول کے ذکر کیے ہوئے صحیح میں شاہد موجود ہے اور نیز ان سورتوں کے نزول کے تذکرہ کے ساتھ شاہد موجود ہے۔
اور ابو نعیم نے دلائل میں ابوجعفر رازی، ربیع بن انس، حضرت انس ؓ کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں نے رسول اکرم ﷺ کو تکلیف پہنچانے کے لیے کچھ حرکت کی جس سے آپ سخت بیمار ہوگئے صحابہ کرام آپ کے پاس حاضر ہوئے تو سمجھے کہ آپ بیمار ہیں چناچہ جبریل امین معوذتین لے کر آپ کے پاس آئے اور آپ نے یہ سورتیں پڑھ کر دم کیا جس سے آپ صحیح و تندرست ہو کر اپنے صحابہ کے پاس تشریف لے گئے۔