114. Surah An-Naas

الناسMankind · 6 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 114:1–2

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ Open ayah 114:1 in the Quran reader

کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں

مَلِكِ النَّاسِۙ Open ayah 114:2 in the Quran reader

(یعنی) لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی

رب الناس کی پناہ مانگنے کی تعلیم وتلقین کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو میں پناہ مانگتا ہوں اس کی جو رب ہے سب لوگوں کا جو کہ سب کا خالق ومالک بھی ہے اور قاہر و قادر بھی سبحانہ وتعالی اور وہی ہر کسی کے خیر وشر کو پوری طرح جانتا ہے اور ہر شر سے بچانے کی پوری قدرت بھی رکھتا ہے پس وہی پناہ دینے کے لائق ہے سبحانہ وتعالی اس لیے ہمیشہ اسی سے اس کی پناہ مانگنی چاہیے یہاں اللہ کی تین صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے رب الناس یعنی سب لوگوں کا رب ملک الناس یعنی سب لوگوں کا بادشاہ اور الہ الناس یعنی سب لوگوں کا معبود کیونکہ یہ تینوں صفات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ وہی ہے پناہ دینے والا اور وہی پناہ دیے سکتا ہے اور اسی کی شان ہے پناہ دینا پھر ان تینوں میں سے سب سے پہلے صفت ربوبیت کا ذکر فرمایا گیا ہے کیونکہ یہ اللہ کی نعمتوں میں سے وہ سب سے پہیل نعمت ہے جس سے اس کے بندوں کو سرفرازی نصیب ہوتی ہے، اس کے بعد اس کی مالکیت اور بادشاہی کی صفت کو بیان فرمایا گیا ہے کیونکہ اس کا علم وادراک بندے کو اس وقت ہوتا ہے جبکہ وہ عقل وفکر والا ہوجاتا ہے اس کے بعد اس کی الوہیت اور معبودیت کی صفت کا ذکر فرمایا گیا کیونکہ جب انسان عقل و شعور کے اعتبار سے کامل ہوجاتا ہے تو وہ اس حقیقت کو پالیتا ہے کہ معبود برحق وہی اور صرف وہی وحدہ لا شریک ہے اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی اور صرف اسی کا حق ہے سبحانہ وتعالی فایاہ نعبد وبہ نستعین
Ayahs 114:3–5

اِلٰهِ النَّاسِۙ Open ayah 114:3 in the Quran reader

لوگوں کے معبود برحق کی

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ Open ayah 114:4 in the Quran reader

(شیطان) وسوسہ انداز کی برائی سے جو (خدا کا نام سن کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے

الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ Open ayah 114:5 in the Quran reader

جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے

معبود برحق کی پناہ مانگنے کی تعلیم وتلقین۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پناہ مانگو اس کی جو کہ معبود برحق ہے سب لوگوں کا کہ وہی سب کا کارساز و حاجت روا اور مشکل کشا ہے سب کے دل اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہیں۔ اور معبود حقیقی وہی اور صرف وہی ہے سبحانہ وتعالی عبادت کی ہر شکل و صورت اور اس کی ہر قسم اسی کا حق ہے جب لوگوں کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لاشریک ہے سب کا رب بھی وہی ہے اور سب کا معبود برحق بھی وہی تو مخلوق اور ہر طرح کی مخلوق اور خاص کر وسو اس الخناس۔ جیسی پوشیدہ شریر اور سب سے بڑی خطر ناک اور دشمن مخلوق سے پناہ دینا بھی اسی کی شان اور اسی کا کام ہے اور ہوسکتا ہے لہذا اسی کی پناہ طلب کی جائے اور اسی کو پکارا جائے پس بڑے بھولے اور بھٹکے ہوئے اور گمراہ ہیں وہ لوگ جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اوروں کو حاجت روا ومشکل کشا سمجھتے اور ان کو پوجتے پکارتے ہیں اور اس کے لیے وہ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں مردوں اور قبروں میں دفن ہو چکنے والے لوگوں کو پوجتے پکارتے ہیں اور ان کے آگے جھکتے اور سجدہ ریز ہوتے ہیں ان کے نام کی نذریں ماننے نیازیں دیتے، چڑھاوے چڑھاتے طواف کرتے، چکر لگاتے اور طرح طرح کے شرکیہ نعرہ لگاتے اور راگ لاپتے حالانکہ جس قرآن پر ایمان کا دعوی ایسے لوگ کرتے اور اس کو چومتے چاٹتے ہیں وہ کہتا اور صاف وصریح طور پر کہتا اور تاکید و تکرار کے ساتھ کہتا اور تعلیم وتلقین کرتا ہے پناہ ہمیشہ اللہ کی ہی ڈھونڈو جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے اور وہی وحدہ لاشریک سب لوگوں کا رب بھی ہے سب کا بادشاہ بھی اور معبود برحق بھی مگر اس سب کے باوجود اس کے در کو چھوڑ کر اوروں کے آگے جھکنا اور ان کے آگے دست دراز کرنا کتنا بڑا ظلم اور کس قدر بےانصافی ہے مگر یہ ظلم ہمیشہ ہوتا رہا اور کل کی طرح آج بھی ہو رہا ہے اور جگہ جگہ اور طرح طرح سے ہوا ہے اہل شرک اہل حق کو سننے ماننے کے لیے تیار ہی نہیں بلکہ وہ اپنے اسی کاروبار کفر و شرک کو پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں اور اس کی تبلیغ و ترویج کے لیے وہ نت نئے ہتھکنڈے اپناتے اور اختیار کرتے ہیں، فالی اللہ المشتکی وعلیہ التکلان فی کل حین وان۔
Ayah 114:6

مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ Open ayah 114:6 in the Quran reader

(خواہ وہ) جنات سے (ہو) یا انسانوں میں سے

بعض اہل علم کے نزدیک ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ وسوسہ ڈالنے والا دو قسم کے لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، ایک جن، دوسرے انسان۔ اس بات کو اگر تسلیم کیا جائے تو لفظ ناس کا اطلاق جن اور انسان دونوں پر ہوگا۔ وہ کہتے ہیں ایسا ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن میں جب رجال (مردوں) کا لفظ جنوں کے لیے استعمال ہوا ہے، جیسا کہ سورة جن آیت 6 میں ہم دیکھتے ہیں، اور جب نَفَر کا استعمال جنوں کے گروہ پر ہوسکتا ہے جیسا کہ سورة احقاف آیت 29 میں ہوا ہے، تو مجازا ناس کے لفظ میں بھی انسان اور جن دونوں شامل ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ رائے اس لیے غلط ہے کہ ناس اور انس اور انسان کے الفاظ لغت ہی کے اعتبار سے لفظ جن کی ضد ہیں۔ جن کے اصل معنی پوشیدہ مخلوق کے ہیں اور جن کو جن اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ وہ انسانی آنکھ سے مخفی ہے۔ اس کے برعکس ناس اور انس کے الفاظ انسان کے لیے بولے ہی اس بنا پر جاتے ہیں کہ وہ ظاہر اور مرئی اور محسوس ہے۔ سورة قصس آیت 29 میں ہے اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ ۔ یہاں آنَسَ کے معنی رَاَی ہیں، یعنی حضرت موسیٰ نے " کوہ طور کے کنارے آگ دیکھی "۔ سورة نساء آیت 6 میں ہے فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا۔ " اگر تم محسوس کرو کہ یتیم بچے اب ہوشمند ہوگئے ہیں "۔ یہاں انستم کے معنی احسستم یا رایتم ہیں۔ پس ناس کا اطلاق لغر عرب کی رو سے جنوں پر نہیں ہوسکتا، اور آیت کے صحیح معنی یہ ہیں کہ " اس وسوسہ انداز کے شر سے جو انسانوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا خود انسانوں میں سے "۔ یعنی دوسرے الفاظ میں وسوسہ اندازی کا کام شیاطین جن بھی کرتے ہیں اور شیاطین انس بھی، اور دونوں کے شر سے پناہ مانگنے کی اس سورة میں تلقین کی گئی ہے۔ اس معنی کی تائید قرآن سے بھی ہوتی ہے اور حدیث سے بھی۔ یہ بیان ہے وسوسے ڈالنے والے شیطان کا کہ وہ جنوں میں سے بھی ہوتا ہے اور انسانوں میں سے بھی جیسا شیاطین جن انسانوں کو وسوسے میں ڈالتے ہیں ایسے ہی شیاطین انس بھی ناصح بن کر آدمی کے دل میں وسوسے ڈالتے ہیں پھر اگر آدمی ان وسوسوں کو مانتا ہے تو اس کا سلسلہ بڑھ جاتا ہے اور خوب گمراہ کرتے ہیں اگر اس سے متنفر ہوتا ہے تو ہٹ جاتے ہیں اور دبک رہتے ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ شیاطین جن کے شر سے بھی پناہ مانگے اور شیاطین انس کے شر سے بھی۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ سید عالم ﷺ شب کو جب بستر مبارک پر تشریف لاتے تو اپنے دونوں دست مبارک جمع فرماکر ان میں دم کرتے اور سورة اخلاص ’ فلق ’ الناس پڑھ کر اپنے مبارک ہاتھوں کو سر مبارک سے لے کر تمام جسم اقدس پر پھیرتے جہاں تک دست مبارک پہنچ سکتے یہ عمل تین مرتبہ فرماتے۔