Ayah 114:1اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں تمام انسانوں کے رب سے پناہ طلب کرتا ہوں
1 سارے نبیوں اور رسولوں نے باوجود اس کے کہ اپنی اپنی قوم کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ ایک اللہ کی پرستش کو چھوڑ کر مختلف معبودوں کی پرستش میں لگے ہوئے ہیں لیکن جب ان کو مخاطب کیا تو ان کو کسی دوسرے رب کی طرف نسبت دے کر مخاطب نہیں کیا یہاں تک کہ اگر کسی نے اپنی ربوبیت کا دعویٰ کیا ہے تو بھی اس کو مخاطب کرتے وقت اس کی ربوبیت سے مخاطب نہیں کیا بلکہ جو حقیقت تھی اس کو صاف صاف بیان کیا لیکن مخاطب کو چڑ چڑھانے کی کوشش نہیں کی بلکہ تفہیم کرانے کی کوشش کی ہے۔ زیر نظر آیت ہی سے اندازہ لگا لو کہ لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کا معبود الگ سمجھتے تھے لیکن آپ ﷺ نے اپنے معبود کو صرف اپنا معبود نہیں کہا بلکہ کہا تو اس کو یہی کہا کہ اور آپ ﷺ سے کہلوایا گیا تو یہی کہلوایا گیا آپ ﷺ کہہ دیں کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ طلب کرتا ہوں ، یہ نہیں فرمایا کہ میں اپنے پروردگار کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ اس میں اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ لوگ اپنے اپنے الگ الگ رب بناتے رہیں اور کہتے ہیں لیکن حقیقت اپنی جگہ قائم ہے ، کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے۔ اس سے حقیقت پر کچھ بھی اثر نہیں پڑتا۔ آپ نے موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کی گفتگو سنی کہ فرعون جو اپنے آپ کو رب اور اِلٰہ بنا کر بیٹھا تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو مخاطب کیا تو فرمایا کہ : ( انا رسول رب العٰلمین) کہ ہم دونوں بھائی تمام جہانوں کے رب کی طرف سے منتخب ہو کر آئے ہیں۔ فرعون نے جب ( رب العٰلمین) کا نام سنا تو مستعجب ہوا کیونکہ وہ تو خود رب اور اِلٰہ کہلواتا تھا لیکن اس ( رب العٰلمین) میں تو وہ بھی آتا تھا۔ اس لیے اس نے تعجب سے پوچھا کہ : ماربّ العٰلمین کہ وہ تمام جہانوں کا رب کون ہے ؟ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑی دلیری سے جواب دیا کہ : ( رب السمٰوت والارض) وہی جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور فرعون ابھی بولنے ہی والا تھا کہ مزید ارشاد فرمایا کہ : (ربکم و رب اباء کم) وہ جو تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے آبائو اجداد کا بھی رب ہے اور اسی طرح اس کی ربوبیت اور الوہیت سے صاف نفی بھی کردی کہ اس کو محسوس بھی نہیں ہونے دیا اور اس طرح کا جواب جتنا شاق گزرتا ہے وہ اسی سے پوچھنا چاہئے جس کو شاق گزر رہا ہو کہ ایسی بات سن کر اس کے اندر کی حالت کیا ہوجاتی ہے کہ وہ کچھ کہنا بھی چاہے تو کچھ نہیں کہہ سکتا اور اندر ہی اندر دم بخود ہو کر رہ جاتا ہے۔ زیر نظر آیت میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنی پناہ میں لینے کی تسلی دلاناچاہتے ہیں کہ اے میرے رسول ﷺ یہ بد اندیش جو کچھ سوچتے ہیں ان کی سارش بد اندیشیوں کا زوال ان ہی لوگوں پر پڑے گا آپ ﷺ بالکل مطمئن رہیں کہ وہ آپ ﷺ کا بال بھی بیکا نہیں کر پائیں گے اور یہ لوگ جتنی اسکیمیں بھی آپ ﷺ کے خلاف پاس کریں گے ہم ان کی ایک ایک سکیم کو فیل کرکے رکھ دیں گے۔ بس آپ ﷺ اپنا کام اپنے منہ دھیان کرتے جائیں اور ان کی باتوں اور اسکیموں کی طرف بالکل دھیان نہ دیں۔ ہاں ! اپنے فارغ اوقات میں جب ہم سے دعا والتجا کریں تو اس طرح کریں کہ میں تمام انسانوں کے رب ّ کی پناہ طلب کرتاں ہو۔ اس طرح آپ ﷺ کے ذریعہ سے یہی سبق آپ ﷺ کی امت کو دیا جارہا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص بھی اگر کسی جگہ اکیلا ہے تو اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھے بلکہ تمام لوگوں کے پروردگار کی پناہ میں آکر وہ سارے مخالفین پر قابو پاجائے اور مخالفین کا اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے۔
Ayah 114:2وہ رب جو تمام انسانوں کا بادشاہ بھی ہے۔
2 دوسروں کے مظالم کو برداشت کرتے ہوئے اپنا کام باقاعدگی کے ساتھ کیے جانا اور جو مخالفت کی آندھیاں چل رہی ہوں انکی پرواہ نہ کرنا یہ کوئی معمولی بات نہیں ، کہنا اگرچہ آسان ہو لیکن کرکے دکھانا بہت دل گردے کا کام ہے۔ سارے انسان یہ کام کرسکتے ہوتے تو پھر انبیاء و رسول (علیہم السلام) کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ یہ انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہم السلام) ہی کام تھا کہ ساری مخالفتوں کے باوجود اپنا کام نہایت دلیری کے ساتھ وہ جاری وساری رکھتے تھے اور اس معاملہ میں ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ اور بھی ان عظمتوں کا ایک بہت بڑا پہاڑ تھے۔ آپ ﷺ پر چونکہ نبوت و رسالت ختم کردی جانے والی تھی اس لیے آپ ﷺ کو جو دعا سکھائی گئی اس میں ایسے الفاظ سکھائے گئے کہ دوسرے لوگ ان الفاظ کو سن کر وہ اطمینان حاصل کرلیں جو جماعتوں کو حاصل ہوتا ہے اور انفرادی زندگی میں عام انسانوں کے لیے وہ بہت دشوار ہوتا ہے کیونکہ انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ انصاف کی بالادستی قائم ہو اور جو کام میں کر رہا ہوں اس کے جلد نتائج سامنے آئیں اور مخالف طاقتوں کو جلد از جلد کچلا جائے اور جو ظالم بننے کی کوشش کرتے ہیں ان کو چشم زدن میں سزا ملنی چاہئے تاکہ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ان کی ساری وجاہتوں ، ساری طاقتوں اور قوتوں کو پاش پاش کردیاجائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ ظاہر ہے کہ یہ کام تو وہی کرسکتا ہے جو بادشاہ ہو اور اس کے سامنے کسی کی طاقت و قوت نہ چل سکے اور وہ اکیلا سب پر حاوی ہو اور وہ جب اس بات کا ارادہ کرے تو اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ موجود نہ ہو پھر انسان کو اطمینان ہوتا ہے کہ یہ کام میرا نہیں ہے ، طاقت میری نہیں ہے بلکہ میرے ساتھ حکومت ہے اور حکومت کے طاقت کے سامنے کسی کی بھی نہیں چل سکتی اس لیے رب اللہ رب العزت اور رب الناس کا تعارف کراتے ہوئے آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کو باور کرایا گیا کہ وہ جو تمام لوگوں کا رب ہے فقط رب ہی نہیں بلکہ وہ لوگوں کا بادشاہ بھی ہے اور اس کی فرمانروائی سے کوئی بھی باہر نہیں ہے اس لیے جونہی وہ ارادہ کرے گا کہ ان کو پکڑے تو وہ صرف ربوبیت کی صفت ہی سے ان پر ہاتھ نہیں ڈالے گا بلکہ وہ ان لوگوں کا بادشاہ بھی ہے اس لیے ان کی پکڑ سے پھر کوئی نہیں ہوگا جو ان کو بچالے اس لیے تم اپنا کام اپنے منہ دھیان کرتے جائو اور لوگوں کی تعداد اور ان کے وسائل دیکھ کر مت گھبرائو کہ رب الناس وہی ہے جو لوگوں کا رب بھی ہے اور جب وہ ان کو پکڑے گا تو اس کی پکڑ سے چھڑانے کی کسی میں جرأت و ہمت نہیں ہوگی۔ اس میں طاقت و قوّت کے مظاہرہ سے یہ بات سمجھا دی کہ اگر وہ کسی کو پکڑلے تو اس کی پکڑ سے کوئی بھی کسی کو چھڑانے والا نہیں ہے اور ان گانوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے جو لوگ مختلف ادوار میں گاتے آئے ہیں اور گار ہے ہیں کہ…؎
پکڑے خدا تو چھڑائے محمد ﷺ ٗ محمد ﷺ کے پکڑے چھڑا کوئی نہیں سکدا
بعینہٖ اس طرح کی بڑیں یہود ونصاریٰ بھی اپنے اپنے دور میں مارتے رہے اور اب بھی لوگ مار رہے ہیں لیکن ان کی دراصل کوئی حقیقت نہیں ہے۔
Ayah 114:3اور وہ تمام انسانوں کا معبود بھی ہے۔
3 جب لوگوں کو یہ بات باور کرا دی گئی کہ جو محمد رسول اللہ ﷺ کا رب ہے وہ دراصل سارے انسانوں کا رب ہے اور کوئی انسان بھی اس کی ربوبیت کے دائرہ سے باہر نہیں ہے تو اس کی ربوبیت کے ساتھ اس کی بادشاہی اور شہنشاہی کی یقین دہانی کرائی گئی تاکہ کمزور اور ناتواں لوگ جلد دلبرداشتہ نہ ہوجائیں اس طرح اس کی شہنشاہی کا ذکر فرما کر اس کی طاقت ، قوت اور شان کا اظہار بھی فرما دیا تاکہ ان کو حوصلہ رہے اور دلبرداشتہ نہ ہوجائیں۔ پھر زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ وہ جو تمام لوگوں کا رب ہے اور بادشاہ ہے وہی دراصل تمام مخلوق کا اِلٰہ اور معبود بھی ہے کہ ان کو عبادت کرنا ہے تو صرف اور صرف اسی کی ، ان کے سجدوں کے قابل اور لائق ہے تو صرف اور صرف وہی ہے اور وہ اپنی دعائیں ، التجائیں اور آرزوئیں پیش کرسکتے ہیں تو صرف اور صرف اسی کے سامنے پیش کرسکتے ہیں تو صرف اور صرف اسی کے سامنے پیش کرسکتے ہیں کیونکہ یہ ساری باتیں معبود اور اِلٰہ ہی کے متعلق ہیں۔ ایک موحد آدمی کے لیے لازم و ضروری ہے کہ وہ ان تین باتوں میں سے کسی کا دھوکہ نہ کھائے اس نے ان باتوں میں دھوکا نہ کھایا تو بس وہ بحمد اللہ کامل مسلمان ہوگیا۔ ربوبیت میں انسان اکثر دھوکا کھا جاتا ہے کیونکہ جب اس کے سامنے پرورش کی باتیں آتی ہیں تو وہ اکثر خوف کھاجاتا ہے کہا گر ایسا کیا تو شاید میری معیشت میں کسی طرح کا فرق نہ آجائے اور وہ دنیا کے وڈیروں کو دیکھ کر کہ اس طرح کے سارے وسائل تو ان کے قبضہ ہی میں تو اللہ تعالیٰ کو رب ماننے میں دھوکا کھا جاتے ہیں اور ان وڈیروں کی پناہ میں جانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس پہلی سیڑھی میں ہی پھسل جاتے ہیں اور جس نے اس سیڑھی پر قدم رکھنے کے بعد دوسری سیڑھی پر قدم رکھ لیے ہیں ان کے لیے بحمد اللہ مزید اوپر چڑھنا آسان ہوجاتا ہے۔ گویا جس نے پہلی منزل طے کرلی دوسری اس کے لیے آسان ہوگی اور اب تیسری منزل اللہ تعالیٰ کی ذات کی الوہیت و معبودیت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے مزید آسانی فرما دیتا ہے اگرچہ شیطان کے پھندے اس کے لیے بہت ہیں لیکن پچھلی دونوں منزلیں اس کے لیے ممد ومعاون ہوتی ہیں اور وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی الوہیت پر بھروسہ کرلیتا ہے اور اس کو ان تینوں صفات کمالیہ سے پہچان لیتا ہے پھر اس سے جب وہ اپنی دعائیں ، التجائیں اور تمنائیں پیش کرتا ہے کہ اے میرے پروردگار ! اے مالک ملکوت السموات والارض اور اے میری جان و دل کے معبود واِلٰہ ! مجھے سارے شیطانوں کی چیرہ دستیوں سے بچا اور ان کی وسوسہ اندازیوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت عطا فرما اور میرا بازو تھام کر میری منزل پر مجھے پہنچا دے تو پھر اس کے راستے کی کوئی رکاوٹ اس کے راستہ کا روڑا نہیں بن سکتی اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے شیطان و مردود کے سامنے سینہ تان کر چل سکتا ہے اور کبھی نظر اٹھا کر بھی اس کی طرف نہیں دیکھتا اور اگر دیکھتا بھی ہے تو شرمندہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ تو اس لعین کا حال ہے رہا اس اللہ کے بندے کا حال تو وہ بھی سن لیں کہ جب وہ اپنے رب ! اپنے بادشاہ حقیقی اور معبود و اِلٰہ کو پکارتا ہے تو اس کی صدا فوراً سن لی جاتی ہے۔
Ayah 114:4میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں وسوسہ ڈالنے اور شرارت کرنے والوں کے شر سے
4 (الوسواس) کا اصل مادہ وس وس ہے۔ گویا یہ رباعی ہے۔ اس مادہ کے جو لفظ قرآن کریم میں آئے ہیں وہ یہ ہیں ( وسوس) (7 : 20) ، (توسوس) (50 : 16) (یوسوس) (114 : 5) اور (الوسواس) زیر نظر آیت میں ہے جس کی وضاحت کی جارہی ہے۔ وسوسہ حدیث نفس کو کہتے کہیں۔ گویا قوت وہمہ کا سارا فعل ہے وسواس جو دل میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں بعض اوقات خود بخود ہی آتے رہتے ہیں اور بعض اوقات کسی کے ڈالنے سے بھی یہ صورت حال پیدا ہوجاتی ہے اور خیال کرتے کرتے اور سوچتے سوچتے آدمی کہیں کا کہیں پہنچ جاتا ہے اور عجیب عجیب طرح کے خیالات پیدا ہوتے رہتے ہیں اور یہ سلسلہ سوتے جاگتے میں چلتا ہی رہتا ہے۔ ان میں اچھے خیالات بھی ہوتے ہیں اور برے بھی اور ایسے بھی جو نہ اچھے ہوں اور نہ برے اور اس کا انحصار انسان کے کردار کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ اچھے کردار و اخلاق کا انسان ہو تو اس کے وسواس بھی زیادہ تر اچھے ہوتے ہیں اور برے کردار کے انسان کے وسواس و خیالات بھی برے ہی ہوں گے لیکن یہ فتویٰ اکثریت کے لیے دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کا عکس بھی ہوجاتا ہے اگرچہ وہ شاذ ہی ہو۔ لیکن یہ ساری کارستانی اس قوت وہمہ کی ہے جو ہر انسان کے اندر موجود ہے اور اس کو بعض اوقات قوت بہیمیہ اور قوت ملکوتیہ سے بھی موسوم کیا جاتا ہے اور انسان کے اندر اس میں کمی بیشی بھی ہوتی رہتی ہے۔ اگر وساوس برے ہوں تو ان کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور اگر اچھے ہوں تو اللہ رب کریم کی طرف سے بھی شمار کرلیے جاتے ہیں۔ ( الخناس) کا اصل مادہ خ ن س ہے اور خنس کے معنی چھپ جانے ، پیچھے ہٹنے اور رُک جانے کے ہیں اور یہ مبالغہ کا صیغہ ہے اور شیطان کا لقب بھی ہے۔ اس مادہ کے صرف دو ہی الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں ایک ( الخنس) ( التکویر : 15) میں اور ایک اس جگہ ( الخناس) جب کوئی شخص کسی کو اس کی افتاد طبع کے خلاف کسی کام پر اکساتا ہے تو اس کا پہلا ردعمل بڑا شدید ہوتا ہے اور وہ بڑی حقارت سے اس خیال کو جھٹک دیتا ہے لیکن ہر وسوسہ انداز اصرار نہیں کرتا بلکہ وسوسہ ڈال کر خود پیچھے کھسک جاتا ہے بظاہر وہ پسپائی اختیار کرتا ہے پھر موقع ملنے پر وہی بات دوبارہ اس کے کان میں ڈالتا ہے اور پھر یہ کام وہ مسلسل شروع کردیتا ہے کہ ذرا بات کی اور فوراً پیچھے ہٹ گیا اور آہستہ آہستہ اس کا رد عمل کمزور ہونے لگتا ہے یہاں تک کہ وہ دن آجاتا ہے کہ یہ شخص جس بات پر پہلی بار برافروختہ ہوگیا تھا وہ خود لپک کر اس کی طرف بڑھتا ہے اور چونکہ شیطان کا بھی یہی طریقہ ہے کہ وہ انسان کو گمراہ کرنے کی کوششوں سے تھکتا نہیں بلکہ لگا تار اپنی کوشش جاری وساری رکھتا ہے۔ کبھی حملہ کرتا ہے اور کبھی دفاعی پسپائی اختیار کرلیتا ہے یہاں تک کہ وہ بڑے علامہ و فہامہ اور حضرت العلام اور بڑے بڑے مذہبی اور دینی راہنمائوں کو تین حملوں ہی میں چت کردیتا ہے۔ پس آسان مطلب سمجھنے کے لیے آپ اس طرح سمجھ لیں کہ اس ملک عزیز کے جتنے مذہبی راہنما اور سیاسی لیڈر ہیں تقریباً سب اس زمرہ میں آتے ہیں ، وہ جتنے بڑے لیڈر ہیں اتنے بڑے اس ملک عزیز کے (الخناس) ہیں کہ خود تماشا دیکھتے ہیں اور مذہبی جنونیوں کو ، اور سیاسی چمچوں کو آپس میں لڑا رہے ہیں اور خود بڑے آرام سے پیچھے ہٹ کر تماشا دیکھ رہے ہیں اور یہی تشریح خود قرآن کریم نے آنے والی آیت میں نہایت وضاحت سے پیش فرمائی ہے۔ اس پر ذرا مزید غور کرلیں۔
Ayah 114:5اور جو انسانوں کے دلوں میں شبہات پیدا کردیتا ہے
5 اس آیت میں جو بات ارشاد فرمائی وہ بہت ہی نازک ترین بات ہے جو انسان کو ایک بار چونکا دیتی ہے۔ فرمایا اس کی وسوسہ اندازی کا مقام بہت ہی نازک ہے کیونکہ یہ وہی مقام ہے جو خزینہ وحی ہے گویا اگر کسی نبی و رسول کو وحی آتی ہے تو اس کے لیے جو مقام ہے وہ بھی دل ہے اور اس طرح کے شریروں کی وسوسہ اندازی بھی اسی مقام پر ہوتی ہے جس سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ جو مقام کسی حق بات کے قبول کرنے کا ہے وہی مقام اس باطل کے قبول کرنے کا ہے اس لیے جس دل میں حق موجود نہیں ہوتا وہاں یہ بہت جلدی جم جاتا ہے اور اس کی عیاری و مکاری کا یہ عالم ہے کہ جہاں حق موجود ہوتا ہے وہاں بھی حق پر چھانے کی پوری کوشش کرتا رہے اور اگر اس سے نہیں ہوسکتا تو وہ صرف اور صرف یہ ہے کہ یہ حق کو دبا نہیں سکتا کیونکہ حق کے اندر ایک صفت مخفی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی اس کو دبانے کی کسی نے کوشش کی تو وہ ابھری ہے دبی نہیں۔ یہ پکی شرط ہے اور چھا جانے اور دبا دینے میں جو فرق ہے وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں۔ اگر آپ ذرا غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ شبہات کا پیدا ہونا بھی قوت وہمہ ہی کا فعل ہے اور خصوصاً جس کی قوت وہمہ جتنی کمزور اور کم (WEAK AND LESS) ہوگی اتنے ہی وسواس و شبہات اس کے اندر زیادہ پیدا ہوں گے اور جتنی قوت و ہمہ ایک انسان کی مضبوط ہوگی اس کا حوصلہ بلند ہوگا اور اس کی برداشت زیادہ ہوگی۔ اس طرح اگر مزید غور کریں گے تو آپ کو یقین کرنا پڑے گا کہ اس وقت جتنی قوت وہمہ مذہبی پیشوائوں اور راہنمائوں کی کمزور ہے شاید ہی کسی اور کی اتنی کمزورہو اور یہی وجہ ہے کہ ان کے شکوک و شبہات کا دور کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ایساکیوں ہے ؟ اس لیے کہ ان کا سارا کاروبار وہی مفروضوں پر ہے اور حقائق سے یہ اس طرح دور بھاگتے ہیں جس طرح کوّا غلیل سے اور عقل و فکر سے ان کو ایسی ہی نفرت ہے جیسی ملیریا بخار کو کونین سے نفرت ہے اور کفر کو ایمان سے نفرت ہے۔
Ayah 114:6خواہ وہ جنات سے ہو یا عام انسانوں سے
6 وسوسہ اندازی کرنے والوں کی مزید وضاحت کردی ہے۔ فرمایا ان کی ایک پہچان ہم نے تم کو پہلے کرادی ہے وہ یہ کہ یہ ظاہر ہوتے ہیں ایسے وقت میں کہ کوئی دیکھ نہ رہا ہو۔ بس چوری چھپے ظاہر ہوتے ہیں اور ایک بات کسی کمزور دل میں ڈال دیتے ہیں وہ خیال کرنے لگ جاتا ہے اور سوچنے لگتا ہے اور نہایت گہرائی میں جا کر سوچتا ہے اور جونہی اس کی نظر واپس پھرتی ہے کہ وہ اس کے چہرہ کو ایک بار دیکھ لے کہ وہ کون ہے جس نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا ہے تو وہاں کچھ بھی موجود نہیں ہوتا۔ وہ کبھی کا بھاگ چکا ہوتا ہے۔ فرمایا یہ پارٹ (Part) ادا کرنے والوں کی مزید وضاحت سن لو اور اچھی طرح یاد رکھو کہ وہ بعض اوقات جنّوں سے ہوتا ہے اور بعض اوقات انسانوں سے اور ظاہر ہے کہ یہ جّن وہی جنّ ہے جو مکلف ہے اور انسان کی نسل سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس میں آگ کا عنصر زیادہ ہوتا ہے اور مٹی کا کم یہی وجہ ہے کہ اس کا بھڑک جانا عام ہے اور اس چیز نے اس کو جنّوں میں داخل کردیا ہے اور اسی کو ہم نے قرآن کریم کی آیت کے مطابق مکلف قرار دیا ہے۔ باقی ساری اقسام جنوں کی غیر مکلف ہیں اور ان کی اقسام اتنی ہیں کہ ان کا شمار بہت مشکل ہے اور شیاطین الانس والجن کی مزید وضاحت دیکھنا ہو تو عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الانعام کی آیت 112 کی تفسیر دیکھ لیں اور اس جگہ اس بات کو اچھی طرح ذہن میں جگہ دیں کہ ایک بندے کو جب اللہ تعالیٰ کی پناہ نہ ملے اس کی متاع جان و ایمان کا محفوظ رہنا نہایت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ اس لیے اپنے رب کی پناہ میں آنے کے لیے ان دونوں سورتوں کو ورد زبان بنائیں ، ان کے مفہوم کو سمجھ کر دل میں بٹھائیں اور خوب جمائیں ، اس میں دین و دنیا و آخرت کی ساری بھلائیاں مخفی ہیں۔ اسی پر ہم اس سورة الناس کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم : الحمد للہ رب العٰلمین 2 الرحمن الرحیم 3 ملک یوم الدین 4 ایاک نعبد وایاک نستعین اھدنا الصراط المستقیم 6 صراط الدین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین آمین ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی وعلیٰ والدی و ان اعمل صالحا ترضاہ واصلح لی فی ذریتی انی تبت الیک وانی من المسلمین۔
حرفِ آخر
الحمد للہ بندہ ناچیز نے توکل علی اللہ تفسیر القرآن بنام عروۃ الوثقی کا کام رجب المرجب 1414ء بمطابق دسمبر 1993ء بعض دوستوں کے تقاضا پر شروع کیا تھا جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے 3/ ربیع الاول 1419ء ھ بمطابق 27/ جولائی 1998ء میں تقریباً چار سال 7 ماہ شمسی الحمد کی بسم اللہ سے والناس تک 9 جلدوں میں مکمل ہوا۔
میں جامع مسجد اہل حدیث جناح اسٹریٹ گجرات کے جمعۃ المبارک کے نمازیوں اور انجمن اہل حدیث جناح اسٹریٹ گجرات کے اراکین کا بیحد ممنون ہوں جنہوں نے اس دور میں اس تفسیر کی طباعت و اشاعت کے لیے زرِ کثیر خرچ کیا اور بندہ ناچیز نے جو ذاتی طور پر اس سلسلہ میں وقت دیا اور میرے جن بچوں نے اس معاملہ میں میرا ہاتھ بٹایا ، طباعت و اشاعت کے کام کیے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس تالیف کی خدمت کو شریف قبولیت بخشے اور طباعت و اشاعت کرنے والے تمام حضرات کو اجر جزیل عطا فرمائے۔ ہم سب پر اور پوری امت مسلمہ پر رحمت کی بارش نازل فرمائے۔ قارئین سے درخواست ہے کہ وہ اس پر آمین کہہ دیں۔
عبدالکریم اثری 27 جولائی 1998ء بعد از نماز عصر بمقام ٹھٹھہ عالی