113. Surah Al-Falaq
الفلقThe Dawn · 5 ayahsاحکام القرآن
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader
کہو کہ میں صبح کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں
مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader
ہر چیز کی بدی سے جو اس نے بنائی
وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader
اور شب تاریک کی برائی سے جب اسکا اندھیرا چھا جائے
معوذتین کی فضیلت
ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں عبداللہ بن محمد التفیلی نے، انہیں محمد بن سلمہ نے محمد بن اسحاق سے، انہوں نے سعید بن ابی سعید المقبری سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے کہ میں حضور ﷺ کے ساتھ حجفہ اور ابواء کے درمیان سفر کررہا تھا کہ اچانک تیز آندھی چلی اور اندھیرا چھا گیا۔ حضور ﷺ نے اعوذ برب الفلق اور اعوب برب الناس کی سورتیں پڑھنی شروع کردیں اور فرمایا عقبہ ! ان دونوں سورتوں کے ذریعے تعوذ کیا کرو ، کیونکہ ان دونوں سورتوں کے ذریعے پناہ مانگنے والے کی طرح کوئی پناہ مانگنے والا نہیں ہوتا۔ “
حضرت عقبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو نماز پڑھانے کے دوران بھی ان سورتوں کی قرات کرتے سنا ہے۔ جعفر بن محمد سے مروی ہے ، انہوں نے کہا کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) حضور ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو معوذتین پڑھ کر پھونک ماری۔
حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا ” مجھے حضور ﷺ نے نظر بد سے بچنے کے لئے جھاڑ پھونک کرنے کا حکم دیا تھا۔ شعبی نے حضرت بریدہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا رقبۃ الامن عین اوحمی صرف نظر بد اور بخار کے اندر جھاڑ پھونک کی جاتی ہے) حضرت انس ؓ نے بھی حضور ﷺ سے اسی قسم کی روایت کی ہے۔
جھاڑ پھونک ، تعویذ اور جادو سب شرک ہیں
ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں دائود نے، انہیں محمد بن العلاء نے، انہیں ابو معاویہ نے، انہیں اعمش نے عمرو بن مرہ سے ، انہوں نے یحییٰ الجزار سے ، انہوں نے عبداللہ کی بیوی زینب کے بھتیجے سے، انہوں نے زینب سے ، انہوں نے اپنے شوہر عبداللہ سے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ (ان الرقی ولتمائم والتولۃ شرک بیشک جھاڑ پھونک، تعویذ اور جادو سب شرک ہیں)
بیوی نے یہ سن کر کہا۔ آپ یہ کیوں کہتے ہیں، خدا کی قسم ! میری آنکھوں میں تکلیف ہوجاتی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس جاتی اور وہ پھونک مارتا تو میری آنکھ کو سکون ہوجاتا۔ “ حضرت عبداللہ نے یہ سن کر کہا۔ یہ شیطان کی کارستانی تھی، شیطان اپنا ہاتھ آنکھ میں لگا دیتا۔ جب یہودی پھونک مارتا تو شیطان اپنا ہاتھ روک لیتا۔ “
تمہارے لئے یہی کہنا کافی ہے جو حضور ﷺ کہا کرتے تھے (اذھب الباس، رب الناس اشف اتت الشافی لا شفاء الا شفاء ک شفاء لا یغا دروسقما) اے لوگوں کے رب ! تکلیف دور کردے، شفا عطا فرما تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں۔ ایسی شفا دے جس سے کوئی بیماری باقی نہ رہے) ۔
وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader
اور گنڈوں پر (پڑھ پڑھ کر) پھونکنے والیوں کی برائی سے
جادوگروں کے کمالات سے مرعوب نہ ہوں
قول باری ہے (ومن شرالنفثت فی العقد اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے سر سے) ابو صالح کا قول ہے کہ اس سے مراد جادوگرنیاں ہیں۔ معمر نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا۔ ” تم لوگ اس جادو سے بچو جو جھاڑ پھونک کے ساتھ مل جاتا ہے۔ “
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ گرہوں میں پھونک مارنے والیاں جادوگرنیاں ہیں جو بیمار پر پھونک مارتی ہیں اور ایسے منتر پڑھتی ہیں جس میں کفر اور شرک کی آمیزش ہوتی ہے اور ستاروں کی عظمت کا بیان ہوتا ہے۔ وہ بیمار کو نقصان وہ اور جان لیوا مسموم دوائیاں کھلاتی ہیں۔ ان چیزوں کو وسیلہ بنا کر دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کے جھاڑ پھونک کا کرشمہ ہے، جس شخص کو وہ نقصان پہنچانا اور اس کی جان لینا چاہتی ہیں اس شخص کے ساتھ وہ یہ طریقہ کار اختیار کرتی ہیں۔
لیکن جس شخص کے متعلق ان کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ اسے نفع پہنچانا چاہتی ہیں اسے جھاڑ پھونک کرتی ہیں اور یہ وہم دلاتی ہیں کہ وہ اسے اس جھاڑ پھونک کے ذریعے فائد پہنچا رہی ہیں۔ بعض دفعہ وہ مفید قسم کی دوائیاں کھلاتی ہیں جس کے نتیجے میں مریض تکلیف میں کمی محسوس کرتا ہے۔
جس جھاڑ پھونک کی ممانعت ہے یہ وہ جھاڑ پھونک ہے جو زمانہ جاہلیت کے طریقے پر ہوتا تھا جس میں کفر وشرک کی آمیزش ہوتی تھی۔ اس کے برعکس قرآنی آیات اور اللہ کے نام سے جھاڑ پھونک اور تعویذ کرنا جائز ہے۔ حضور ﷺ نے نہ صرف اس کا حکم دیا ہے بلکہ اس کی ترغیب بھی دی ہے۔ اللہ کے ذکر کے ذریعے جھاڑ پھونک سے برکت حاصل کرنے کے متعلق ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے۔
اللہ تعالیٰ نے گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے پناہ مانگنے کا اس لئے حکم دیا ہے کہ جو شخص اس بات کی تصدیق کرے گا کہ یہ جھاڑ پھونک کرنے والی عورتیں جھاڑ پھونک کے ذریعے فائدہ پہنچاتی ہیں اسے دینی لحاظ سے نقصان پہنچے گاکیون کہ وہ اس جھاڑ پھونک کے نافع اور ضرر رساں ہونے کے اعتقاد کرلے گا جو بجائے خودشرک ہے۔ ایک اور جہت سے دیکھیے ، ان عورتوں کا شر اس پہلو سے بھی ہے کہ یہ نقصان دہ اور ادویات اور زہریلی چیزیں پلانے کے لئے مختلف حیلے استعمال کرتی ہیں۔
وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader
اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب حسد کرنے لگے
حاسد کی نظر بد اور شر سے خدا کی پناہ مانگنا
قول باری ہے (ومن شر حاسد اذا حسد اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے ، انہوں نے قتادہ سے اس قول باری کی تفسیر میں بیان کیا کہ ” انسان کہے کہ حاسد کی نظر بد اور اس کی ذات کے شر سے۔ “
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں نظر بد سے بچنے کے لئے جھاڑ پھونک کا حکم دیا تھا ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (العین حق نظر بد برحق ہے) نظر بد کے بارے میں حضور ﷺ سے مروی روایات ایک دوسری کی تائید کرتی ہیں۔
ہمیں ابن قانع نے روایت بیان کی، انہیں القاسم بن زکریا نے، انہیں سوید بن سعید نے، انہیں ابوابراہیم السقاء نے لیث سے، انہوں نے طائوس سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (العین حق فلوکان شیء یسبق القدر لبسقتہ العین فاذا استغسلتم فاغسلوا۔ نظر بد برحق ہے۔ اگر کوئی چیز قضا وقدر سے سبقت لے جاسکتی تو نظر بد ضرور سبقت لے جاتی۔ جب تم غسل کرنے لگو تو آنکھوں کو دھولیا کرو)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ نظر بد کا نقصان اس جہت سے ہوتا ہے کہ کوئی چیز نظر لگانے والے سے جدا ہوکر نظرزدہ کو لگ جاتی ہے لیکن یہ بات جہالت اور شرارت پر مبنی ہے۔ نظر تو اس چیز میں لگتی ہے جو نظر لگانے والے کے نزدیک پسندیدہ اور مستحسن ہوتی ہے اور اکثر اوقات یہ اتفاق ہوتا ہے کہ نظر زدہ انسان کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت ایسا کرتا ہے جب انسان کوئی چیز دیکھ کر اس کا گرویدہ ہوجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے مواقع پر اسے نصیحت کی جاتی ہے تاکہ وہ دنیا کی طرف مائل نہ ہو اور دنیا کی کسی چیز کا گرویدہ نہ بن جائے۔ جس طرح حضور ﷺ کی اونٹنی عضباء کے متعلق مروی ہے کہ کوئی اونٹنی اس سے آگے نہیں نکل سکتی تھی، پھر ایک بدوی اپنا ایک جوان اونٹ لے کر آیا اور عضباء کے ساتھ دوڑا۔ وہ اونٹ عضباء سے آگے نکل گیا۔
یہ باتحضور ﷺ کے صحابہ کو بہت گراں گزری۔ اس موقعہ پر آپ نے فرمایا (حق علی اللہ ان لا یرفع شیئا من الدنیا الا وضعہ، اللہ کے ذمہ یہ بات ہے کہ وہ دنیا کی جس چیز کو بلندی عطا کرے اسے پست بھی کردے)
ہمارے نزدیک نظر لگانے والے شخص کا معاملہ بھی اسی طرح ہے اگر اسے کوئی چیز اچھی لگے تو وہ فوراً اللہ کو یاد کرے اور اس کی قدرت کا ذکر کرے پھر اس کی طرف رجوع کرکے اس پر توکل کرے۔ ارشاد باری ہے (ولولا اذدخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ۔ ) اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہورہا تھا تو اس تیری زبان سے کیوں نہ نکلا کہ ماشآء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔
اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ جب اس شخص کو اپنے باغ کے سلسلے میں غرور اور تکبر پیدا ہوا تو اس کا باغ تباہ کردیا گیا چناچہ ارشاد ہوا (ودخل جنتہ وھو ظالم لنفسہ قال ما اظن ان تبید ھذہ ابدا۔ پھر وہ اپنی جنت میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا : ” میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہوجائے گی) تاقول باری (ولولا اذدجلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ) تاکہ تجھ پر تیری وفات تک اللہ کی نعمتیں باقی رہتیں۔
ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی، انہیں اسماعیل بن الفضل نے، انہیں عباس بن ابی طالب نے، انہیں حجاج نے، انہیں ابوبکر الہندلی نے ثمامہ سے، انہوں نے حضرت انس ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من رای شیئا اعجبہ فقال اللہ اللہ ما شاء اللہ لا قوۃ الا باللہ لم یضرہ شیء جو شخص کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے بھلی لگے اور وہ اللہ اللہ ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ کہے تو کوئی چیز اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گی) واللہ الموفق