112. Surah Al-Ikhlaas
الإخلاصSincerity · 4 ayahsجواھر القرآن
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader
تو کہہ2 وہ اللہ ایک ہے
2:۔ ” قل ھواللہ “ ھو ضمیر شان ہے۔ ” اللہ احد “ اللہ ایک ہے وہی سب کا حاجت روا اور کارساز ہے۔ معنی اللہ گفت آن سیبویہ۔ یولہون فی الحوائج ہم لدیہ۔ یعنی اللہ اس ذات پاک کا نام ہے جس کی طرف لوگ حاجات میں دوڑیں اور جس کی پناہ ڈھونڈیں۔
اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader
اللہ3 بےنیاز ہے
3:۔ ” اللہ الصمد “ شاہ عبدالقادر (رح) اس کا ترجمہ کرتے ہیں اللہ نرا دھار ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں، الصمد وہ ہے جس کا لوگ حاجات و مصائب میں قصد کریں اور مافوق الاسباب غائبانہ اسے پکاریں۔ عن ابن عباس قال الذی یصمد الیہ فی الحاجات (بخاری، قرطبی) ۔ الصمد وہ بےنیاز ذات جس کو کسی کی حاجت نہ ہو مگر ساری کائنات اس کی محتاج ہو۔
لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader
نہ کسی کو جنا4 نہ کسی سے جنا
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader
اور نہیں اس کے جوڑ کا کوئی
4:۔ ” لم یلد “ اس سے کوئی پیدا نہیں ہوا، اس کا کوئی ولد اور نائب نہیں یعنی اس نے اختیارات کسی کے حوالے نہیں کر رکھے۔ ” ولم یولد “ وہ حادث نہیں کہ کسی سے پیدا ہوا ہو وہ ازلی ہے۔ ” ولم یکن لہ کفوا احد “ پہلے سب پر اللہ کی برتری اور عظمت کا ذکر تھا اب یہاں ہمسر کی نفی کی گئی ہے کہ اس سے کسی کا برتر ہونا تو درکنار ساری کائنات میں اس کے برابر بھی کوئی نہیں۔ اس ساری کائنات میں اس کے سوا کوئی الٰہ، کارساز، حاجت روا اور دعا و پکار کے لائق نہیں۔