112. Surah Al-Ikhlaas
الإخلاصSincerity · 4 ayahsتفسیر درِ منثور
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader
آپ کہہ دیجیے کہ وہ یعنی اللہ ایک ہے
اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader
اللہ بےنیاز ہے
لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader
اس کی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader
اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے
1۔ احمد و بخاری فی تاریخہ والترمذی وابن جریر وابن خزیمہ وابن خاتم فی السنۃ والبغوی فی معجمہ وابن المنذر نے العظمہ والحاکم وصححہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین نے نبی اکرم ﷺ سے کہا یا محمد ! ہمارے لیے اپنے رب کا نسب بیان کیجیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی آیت قل ہو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد کہہ دو وہ اللہ ایک ہے اللہ بےنیاز ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اس لیے کہ کوئی چیز پیدا نہیں کی جائے گی مگر وہ عنقریب مرجائے گی اور کوئی چیز نہیں مرے گی مگر عنقریب اس کا وارث بنایا جائے گا۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ کو نہ موت آئے گی اور نہ اس کا وارث بنایا جائے گا آیت ولم یکن لہ کفوا احد اور اس کے برابر کوئی نہیں ہے۔ یعنی اس کا شبیہ نہیں اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہے اور کوئی چیز اس کے مثل نہیں ہے۔ (یعنی اس طرح کی کوئی چیز نہیں)
2۔ ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین نے کہا یارسول اللہ ! ہم کو اپنے رب کے بارے میں بتائیے اور ہمارے لیے اپنے رب کی صفتیں بیان کیجیے کہ وہ کیسا ہے ؟ اور وہ کس چیز سے بنا ہوا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی آیت قل ہوا اللہ احد اللہ الصمد۔ لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد۔
3۔ ابن الضریس وابن جریر وابن المنذر والطبرانی فی الاوسط وابو نعیم فی الحلیہ اور بیہقی نے حسن سند کے ساتھ جابر ؓ سے روایت کیا کہ ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا ہمارے لیے اپنے رب کا نسب بیان کیجیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی آیت قل ہوا اللہ احد اللہ الصمد۔ لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد۔
4۔ ابویعلی وابن جریر وابن المنذر والطبرانی فی الاوسط و ابونعیم فی الحلیہ اور بیہقی نے حسن سند کے ساتھ جابر ؓ سے روایت کیا کہ ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا ہمارے لیے اپنے رب کا نسب بیان کیجیے تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی آیت قل ہوا اللہ احد اللہ الصمد۔ لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد۔
5 الطبرانی وابوالشیخ نے العظمہ میں ابن مسعودر ضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ قریش نے کہا یارسول اللہ ! ہم سے اپنے رب کا نسب بیان کیجیے تو اللہ تعالیٰ نے سورة قل ہوا اللہ احد نازل فرمائی۔
سورة اخلاص کی فضیلت
6۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں، ابوبکر سمرقندی نے آیت قل ہو اللہ احد کے فضائل میں روایت کیا کہ انس ؓ نے فرمایا خبیر کے یہہودی، نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے ابو القاسم (یہ رسول اللہ ﷺ کی کنیت ہے) اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نورحجاب سے پیدا کیا اور آدم (علیہ السلام) کو سڑی ہوئی مٹی سے اور ابلیس کو آگ کے شعلے سے اور آسمان کو دھوئیں سے اور زمین کو پانی کی جھاگ سیپیدا فرمایا۔ سو ہم کو اپنے رب کے بارے میں بتائیے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ان کو کوئی جواب نہ دیا ؛ پھ حضرت جبریل (علیہ السلام) یہ سورة لے کر آئے فرمایا آیت قل ہو اللہ احد۔ اس کی رگیں نہیں ہیں کہ وہ بھرجائیں۔ اللہ الصمد۔ یعنی وہ پیٹ والی نہیں نہ وہ کھاتا ہے اور نہ وہ پیتا ہے۔ آیت لم یلم ولم یولد۔ یعنی نہ اس کا باپ ہے اور نہ اس کا بیٹا ہے کہ جس کی طرف اس کی نسبت کی جاتی ہو آیت ولم یکن لہ کفوا احد۔ اور اس کی مخلوق میں سے کوئی چیز جو اس کے مکان کی برابری کرسکے اور آسمانوں کو تھام لے اگر وہ گرپڑیں۔ اس سورة میں نہ جنت کا ذکر ہے اور نہ دوزخ کا۔ نہ دنیا کا نہ آخرت کا نہ حلال کا اور حرام کا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف جو نسبت کی ہے وہ ان کے لیے خاص ہے۔ جس نے اس سورة کو تین مرتبہ پڑھا تو وحی کی ساری قراءت کے برابر ہے اور جس نے اس کو تیس مربہ پڑھا تو اس دن دنیا والوں میں سے کوئی اس سے افضل نہ ہوگا۔ مگر جس نے اس سے زیادہ پڑھا اور جس نے اس کو دو سو مرتبہ پڑھا تو اس نے جنت الفردوس میں ایسا عالی شان مسکن بنالیا کہ وہ اس سے راضی اور خوش ہوجائے گا۔ اور جس نے اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت تین مرتبہ پڑھا تو یہ اس سے فقر و افلاس دور کردے گا۔ اور پڑوسی کے لیے بھی نفع بخش ہوگی۔ اور ایک آدمی اسے ہر نماز میں پڑھتا تھا۔ تو لوگوں نے اس کی وجہ سے اس سے مذاق کیا اور اس پر عیب لگایا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات کہی آپ نے اس سے پوچھا کس بات نے تجھے اس پر آمادہ کیا ؟ اس نے کہا یارسول اللہ ! بیشک میں اس سے محبت کرتا ہوں آپ نے فرمایا اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کردے گی۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو پڑھتے ہوئے رات گذاری اور اس کو بار بار دہراتے تھے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔
7۔ ابن ابی حاتم والطبرانی وابو نعیم فی الحلیۃ من طریق محمد بن حمزہ بن یوسف بن عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن سلام ؓ نے یہود کے علماء سے کہا بیشک میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی مسجد کے بارے میں تجدید عہد کروں۔ تو وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف چلے اور آپ مکہ میں تھے۔ یہ ان کے پاس منی میں پہنچے اور آپ کے ارد گرد لوگ تھے یہ لوگوں کے ساتھ کھڑے رہے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا تو فرمایا تو عبداللہ بن سلام ہے۔ عرض کیا ہاں ! فرمایا قریب ہوجا۔ تو وہ آپ سے قریب ہوگئے۔ آپ نے فرمایا میں تجھ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ کیا تو تورات میں میرے رسول اللہ ﷺ ہونے کا ذکر نہیں پاتا۔ ، انہوں نے عرض کیا آپ ہمارے لیے اپنے رب کی صفات بیان کیجیے۔ جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے۔ اور یہ سورت قل ہوا اللہ احد آخر تک پہنچا دی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو پڑھا ابن سلام ؓ نے فرمایا اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد انک رسول اللہ پھر وہ مدینہ منورہ کی طرف چلے گئے اور اپنے اسلام کو چھپایا۔
8۔ ابن ابی حاتم وابن عدی والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہودی، نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے۔ ان میں کعب بن اشرف، اور حی بن اخطب تھے۔ انہوں نے کہا اے محمد ﷺ اپنے رب کی ہم سے صفات کو بیان کیجیے جس نے آپ کو بھیجا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت قل ہوا اللہ احد اللہ الصمد۔ لم یلد یعنی اس نے کسی کو نہیں جنا کہ اس سے کوئی بچہ نکلے آیت ولم یولد اور نہ جنا گیا کہ وہ کسی چیز سے نکلے۔
9۔ طبرانی نے السنہ میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں نے کہا اے محمد ﷺ ہمارے لیے اپنے رب کی صفات بیان کیجیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی آیت قل ہوا اللہ احد اللہ الصمد تو کہنے لگے ” احد “ کو تو ہم نے پہچان لیا اور ” صمد “ کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا وہی ذات جس کا پیٹ نہ ہو۔
10۔ ابن جریر وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی ﷺ کے پاس آئی اور انہوں نے کہا اے محمد ! یہ تو اللہ ہے کہ جس نے مخلوق کو پیدا فرمایا پس ان کو کس نے پیدا فرمایا یہ سن کر نبی ﷺ غصہ ہوئے یہاں تک کہ آپ کا رنگ بدل گیا پھر آپ نے غصہ کی حالت میں ان پر حملہ کردیا اپنے رب کے لیے جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے اور آپ کو سکون دلایا اور فرمایا اپنے پر بچھادیجیے یعنی نرمی اختیار کیجیے۔ اور آپ کے پاس اللہ کی طرف سے جواب آگیا ہے۔ جو انہوں نے آپ سے سوال کیا یعنی آیت قل ہوا اللہ احد اللہ الصمد۔ لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد۔ آپ نے جب ان پر اس کو تلاوت فرمایا تو انہوں نے کہا ہم کو اپنے رب کا وصف بیان کیجیے اس کی خلقت اور شکل وصوت کیسی ہے اور اس کے بازو کیسے ہیں اس کے ہاتھ کیسے ہیں ؟ نبی ﷺ انتہائی شدید غصے ہوئے۔ اور آپ ان پر غصہ کی حالت میں حملہ آور ہوگئے۔ جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے اور آپ سے پہلے کی طرح گفتگو فرمائی اور وہ آپ کے پاس جواب لے کر آئے، جو انہوں نے اس بارے میں سوال کیا تھا یعنی آیت وما قدرواللہ حق قدرہ والارض جمیعا قبضتہ یوم القیمۃ والسموت مطویات بیمینہ، سبحنہ و تعلی عما یشرکون۔ اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے اور یہ زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے اس سے جو وہ شریک ٹھہرات ہیں۔
11۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا ہم کو اپنے رب کا نسب بیان کیجیے اور ایک روایت میں ہے کہ اپنے رب کی ہم سے صفت بیان کیجیے اور آپ نہیں جانتے کہ ان کو کیا جواب دیں تو یہ آیت قل ہوا اللہ احد اللہ الصمد۔ لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد۔ پوری سورت نازل ہوئی۔
12۔ ابو عبید واحمد فضائلہ والنسائی فی الیوم واللیلۃ وابن منیع ومحمد بن نصر وابن مردویہ اور ضیاء نے المختارہ میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے قل ہوا اللہ احد پڑھی تو گویا اس نے ایک تہائی قرآن کی تلاوت کی۔
13۔ ابن الضریس والبزار وسمویہ فی فوائدہ و بیہقی نے شعب الایمان میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے دو سو مرتبہ قل ہو اللہ احد اللہ الصمد پڑھی تو اس کے دو سال کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
14۔ احمد والترمذی وابن الضریس اور بیہقی نے اپنی سنن میں انس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میں اس سورة قل ہوا اللہ احد سے محبت کرتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیری محبت اس کے ساتھ تجھ کو جنت میں داخل کردے گی۔
15۔ ابن الضریس وابو یعلی اور ابن الانباری نے المصاحف میں انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ کیا تم میں سے کوئی رات کو تین مرتبہ قل ہوا اللہ احد پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ بیشک یہ سورة تہائی قرآن کے برابر ہے۔
16۔ ابو یعلی ومحمد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے قل ہوا اللہ احد کو پچاس مرتبہ پڑھا تو اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔
17۔ الترمذی وابو یعلی ومحمد بن نصر وابن عدی والبیہقی فی الشعب واللفظہ لہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ہر دن دو سو مرتبہ قل ہوا اللہ احد پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ڈیڑھ ہزار نیکیاں لکھ دے گا۔ اور اس کے پچاس سال کے گناہ مٹا دے گا۔ مگر یہ کہ اس پر کوئی قرضہ وہ گا۔ تو وہ معاف نہ ہوگی۔
18۔ الترمذی وابن عدی اور بیہقی نے الشعب میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص رات کو اپنے بستر پر سونے کا ارادہ کرے تو اپنی داہنی کروٹ پر سو جائے اور سو مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑے جب قیامت کا دن ہوگا تو رب تعالیٰ اس سے فرمائیں گے اے میرے بندے ! اپنی داہنی طرف سے جنت میں داخل ہوجا۔
19۔ ابن سعد وابن الضریس وابو یعلی اور بیہقی نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ شام میں تھے۔ جبریل (علیہ السلام) آپ پر اترے اور کہا یا محمد ! معاویہ بن معایہ الزمنی ؓ فوت ہوگئے ہیں کیا آپ ان پر نماز پڑھنا پسند کریں گے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں تو انہوں نے اپنے پر کو زمین پر مارا تو آپ کے لیے ہر چیز گرگئی اور زمین سے چمٹ گئی یعنی تمام زمین ہموار ہوگئی۔ اور اس کی چارپائی کو آپ کے لیے اوپر اٹھادیا گیا پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی نبی ﷺ نے پوچھا کس چیز کی وجہ سے معاویہ ؓ کو یہ فضیلت دی گئی۔ فرشتوں کی دو صفوں نے ان پر نماز پڑھی۔ ہر صف میں چھ لاکھ فرشتے تھے۔ تو انہوں نے کہا کہ قل ہوا اللہ احد پڑھنے کی وجہ سے وہ اس کو کھڑے ہوئے، بیٹھے ہوئے، جاتے ہوئے اور آتے ہوئے اور سوتے ہوئے پڑھتے رہتے تھے۔
20۔ ابن سعد بن الضریس والبیہقی نے الدلائل اور الشعب میں دوسری سند سے انس ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تبوک میں تھے کہ ایک دن سورج روشنی، شعاعوں اور چمک کے ساتھ طلوع ہوا۔ اس سے پہلے ہم نے اس کو اس حال میں نہ دیکھا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی روشنی اور اس کے نور سے تعجب فرمایا۔ اچانک آپ کے پاس جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے۔ آپ نے جبریل (علیہ السلام) سے پوچھا سورج کو کیا ہوا کہ یہ ایسے نور، روشنی اور شعاعوں کے ساتھ طلوع ہوا میں نے گذشتہ دنوں اسے اس طرح طلوع ہوتے نہیں دیکھا۔ تو جبریل (علیہ السلام) نے فرمایا معاویہ بن معایہ اللیثی ؓ کا آج مدینہ منورہ میں انتقال ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف ستر ہزار فرشتوں کو بھیجا ہے جو ان پر نماز پڑھیں گے۔ آپ ﷺ نے پوچھا ایسا کس سبب سے ہوا ؟ اے جبریل ! انہوں نے کہا کہ وہ قل ہوا اللہ احد کثرت سے پڑھتے تھے۔ کھڑے ہوئے، بیٹھے ہوئے، چلتے ہوئے، رات اور دن کے اوقات میں اس کی کثرت کرتے تھے۔ آپ بھی اسے کثرت سے پڑھیے۔ کیونکہ اس میں آپ کے رب کا نسب ہے۔ اور جس شخص اس کو پچاس مرتبہ پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے پچاس ہزار درجے بلند فرمائیں گے۔ اور پچاس ہزار برائیاں مٹادیں گے۔ اور اس کے لیے پچاس ہزار نیکیاں لکھ دیں گے۔ اور جس شخص نے اس میں اضافہ کیا تو اللہ تعالیٰ بھی اس میں اضافہ فرما دے گا۔ جبریل نے فرمایا کیا آپ کی خواہش ہے کہ میں زمین کو سمیٹ دوں اور آپ اس پر نماز پڑھیں ؟ فرمایا ہاں پھر آپ ﷺ نے اس پر نماز پڑھی۔
21۔ ابن عدی اور بیہقی نے الشیب میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص قل ہو اللہ احد دو سو مرتبہ پڑھے گا تو اس کے پچاس سال کے گناہ معاف ہوں گے بشرطیکہ وہ چار کاموں سے بچے ناحق خون، ناحق مال، حرام کاری اور شراب پینا۔
22۔ ابن عدی والبیہقی نے الشعب میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس نے آیت قل ہوا اللہ احد وضو کی حالت میں سو مرتبہ پڑھا نماز کے وضو کی طرح فاتحۃ الکتاب کے ساتھ شروع کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں لکھ دی۔ اور اس سے دس برائیاں مٹا دیں گے۔ اور اس کے لیے دس درجے بلند کردیں گے۔ اور اس کے لیے سو محل جنت میں بنادیں گے اور یہ ایسا ہے گویا اس نے قرآن تینتیس مرتبہ پڑھا اور یہ شرک سے برائت ہے اور فرشتوں کو حاضر کرنے والی اور شیطان کو بھگانے والی ہے۔ اور اس کی گونج عر ش کے ارد گرد ہوتی ہے اور اپنے پڑھنے والے کا ذکر کرتی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر فرماتے ہیں اور جب اس کی طرف نظر فرماتے ہیں تو پھر اس کو کبھی عذاب نہیں دیتے۔
23۔ ابو یعلی نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین اعمال ہیں جس آدمی نے بھی ان کو ایمان کی حالت میں کیا تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گا داخل ہوگا۔ اور حور عین سے شادی کرے گا جس سے چاہے گا۔ وہ آدمی جس نے اپنے قاتل کو معاف کیا اور جس نے مخفی قرض ادا کیا اور جس نے ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ قل ہوا اللہ احد پڑھی ابوبکر نے یہا یارسول اللہ ! کیا ان میں سے ایک عمل بھی جس نے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ان میں سے ایک عمل کا اجر بھی یہی ہے۔
24۔ الطبرانی نے الاوسط میں اس سند کے ساتھ جس میں مجہول ہے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے قل ہو اللہ احد ہر دن پچاس مرتبہ پڑھا تو قیامت کے دن اس کو قبر سے سا طرح بلایا جائے گا اے اللہ کی تعریف کرنے والے اٹھ جا اور جنت میں داخل ہوجا۔
25۔ ابو نعیم نے الحلیہ میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے قل ہوا اللہ احد پڑھی تو اس کے گھر والوں اور پڑوسیوں سے فقر و افلاس کو دور کردے گی۔
27۔ البزار والطبرانی والصغیر نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے آیت۔ قل ہوا اللہ احد پڑھی گویا اس نے ایک تہائی قرآن پڑھا اور جس نے آیت قل یا ایہالفرون پڑھی گویا اس نے ایک چوتھائی قرآن پڑھا۔
28۔ الطبرانی فی الاوسط اور ابو نعیم نے الحلیہ میں ضعف سند کے ساتھ عبداللہ بن شخیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنی بیماری میں قل ہوا اللہ احد پڑھی جس میں وہ مرگیا تو وہ اپنی قبر میں آزمائش میں نہیں ڈالا جاتا۔ اور قبر کے فتنے سے امن میں ہوجاتا ہے اور قیامت کے دن فرشتے اس کو اپنی ہتھیلیوں میں اٹھائیں گے۔ یہاں تک کہ اس کو پل صراط سے گذار کر جنت کی طرف لے جائیں گے۔
سورۂ اخلاص تہائی قرآن ہے۔
29۔ ابو عبید نے اپنے فضائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ آیت قل ہوا اللہ احد ایک تہائی قرآن ہے۔
30۔ ابن الضریس والطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے ایک دن سفر میں نماز پڑھائی پہلی رکعت میں قل ہوا اللہ احد اور دوسری رکعت میں قل یا ایہا الکفرون پڑھی۔ جب سلام پھیرا تو فرمایا میں نے تم پر ایک تہائی قرآن اور ایک چوتھائی قرآن پڑھا۔
31۔ الطبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جبریل تشریف لائے اور آپ تبوک میں تھے اور فرمایا اے محمد ! معاویہ بن معاویہ المزنی ؓ کے جنازہ میں حاضر ہوجائیے تو رسول اللہ ﷺ نکلے اور جبریل ستر ہزار فرشتوں میں نازل ہوئے۔ انہوں نے اپنے دائیں پر کو پہاڑوں پر رھا۔ تو وہ ہموار ہوگئے جھک گئے۔ اور بائیں پر کو زمین پر رکھا یہاں تک کہ آپ مکہ اور مدینہ کی طرف دیکھنے لگے تو رسول اللہ ﷺ جبریل اور فرشتوں نے ان پر نماز پڑھی۔ جب فارغ ہوئے تو پوچھا اے جبریل ! اس مقام پر معاویہ بن معاویہ المزنی کیسے پہنچا ؟ انہوں نے کہا آیت قل ہو اللہ احد پڑھنے کی وجہ سے۔ کہ وہ کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے، سوار ہوتے اور پیدل چلتے ہوئے یہ سورة پڑھتے رہتے تھے۔
32۔ ابن الضریس نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی تھا جس کو معاویہ بن معاویہ کہا جاتا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ تبوک کی جنگ میں تشریف لے گئے تو وہ شدید بیمار تھے۔ رسول اللہ ﷺ دس دن تک سفر کرچکے جبرئیل (علیہ السلام) تبوک کی جنگ میں تشریف لے گئے تو وہ شدید بیمار تھے۔ رسول اللہ ﷺ دس دن تک سفر کرچکے جبرئیل (علیہ السلام) نے ان سے ملاقات کی اور کہا کہ معاویہ بن معاویہ فوت ہوگئے ہیں تو رسول اللہ ﷺ رنجیدہ ہوئے اور جبریل (علیہ السلام) نے فرمایا کیا آپ اس سے خوش ہوں گے کہ میں آپ کو اس کی قبر دکھاؤں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! انہوں نے اپنے پر کو زمین پر مارا کوئی پہاڑ باقی نہیں رہا مگر وہ جھک گیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قبر ظاہر فرمادی۔ رسول اللہ ﷺ نے اللہ اکبر کہا یعنی نماز کی نیت بادنھی۔ اور جبریل آپ کے دائیں تھے اور فرشتوں کی صفیں ستر ہزار تھیں۔ یہاں تک کہ جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا اے جبریل ( علیہ السلام) معاویہ بن معاویہ کو اللہ کی طرف سے یہ مقام کیسے ملا ؟ تو انہوں نے کہا کہ قل ہوا اللہ احد کے بدلے میں کہ وہ اس کو پڑھا کرتے تھے کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے، چلتے ہوئے اور سوتے ہوئے۔ اور میں آپ کی امت پر خوف کرتا تھا یہاں تک کہ سورت نازل ہوئی۔
33۔ الطبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص آیۃ الکرسی اور قل ہوا اللہ احد ہر فرض نماز کے بعد پڑھے تو اسے موت کے سوا کوئی چیز جنت کے داخلے سے نہیں روک سکتی۔
34۔ ابن النجار نے تاریخ بغداد میں مجاشع بن عمرو احد الکذابین سے یزید الرقاشی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبرئیل (علیہ السلام) حسین سورت میں ہنستے ہوئے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تشریف لائے اور کہا اے محمد ﷺ العلی الاعلی (یعنی اللہ تعالیٰ ) آپ کو سلام فرماتے ہیں۔ اور فرما رہے ہیں بیشک ہر چیز کے لیے ایک نسب ہے اور میرا نسب قل ہوا اللہ احد ہے۔ جو شخص میرے پاس آپ کی امت میں سے قل ہوا اللہ احدہزار مرتبہ پڑھتا ہوا آئے گا اپنی زندگی میں، میں اس کو لازم کردوں گا اپنا گھر اور اپنے عرش کی اقامت اور ستر آدمیوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کروں گا۔ ان لوگوں میں سے جن کی سزا واجب ہوچکی ہوگی۔ اور بیشک میں نے خود اپنی ذات پر یہ قسم نہ کھائی ہوتی کہ ہر ایک جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے تو میں اس کی روح قبض نہ کرتا۔
35۔ ابن النجار نے اپنی تاریخ میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی سفر کا اردہ کرے اور اپنے گھر کے کو اڑوں کو پکڑ کر اکیس مرتبہ قل ہوا اللہ احد پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کا محافظ اور نگران ہوگا یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ آئے۔
36۔ ابن النجار نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مغرب کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھے کسی سے بات کرنے سے پہلے اور پہلی رکعت میں الحمد کے ساتھ قل یا ایہا الکفرون اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد قل ہو اللہ احد پڑھے تو اپنے گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے سانپ اپنی کینچلی سے نکل جاتا ہے۔
37۔ ابن السنی نے عمل الیوم واللیہ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص جمعہ کی نماز کے بعد قل ہوا اللہ احد اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس سات مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کو دوسرے جمعہ تک ہر تکلیف اور مصیبت سے پناہ عطا فرمائیں گے۔
38۔ الحافظ ابو محمد الحسن بن احمد السمرقندی (رح) نے آیت قل ہوا للہ احد کے فضائل میں اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے قل ہوا اللہ احد پڑھا گویا اس نے ایک تہائی قرآن پڑھا اور جس نے اس کو دس مرتبہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک محل جنت میں بنادیں گے یہ سن کر ابوبکر ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ تب تو ہم اس کی کثرت کریں گے آپ نے فرمایا اللہ اکثر واطیب یعنی اللہ کثرت والے ہیں اور بہت پاکیزہ ہیں۔ ان الفاظ کو آپ ﷺ نے دو مرتبہ دہرایا۔
39۔ اور انہوں نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے قل ہوا اللہ احد پڑھی گویا اس نے ایک تہائی قرآن پڑھا۔ اور جس نے قل ہوا اللہ احد دو مرتبہ پڑھا تو گویا اس نے دوتہائی قرآن پڑھا۔ اور جس نے قل ہوا للہ احد تین مرتبہ پڑھا گویا اس نے سارا قرآن پڑھ لیا جو اللہ تعالیٰ نے اتارا۔
40۔ اور انہوں نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے قل ہوا اللہ احد ایک مرتبہ پڑھی اس پر برکت کی جائے گی اور جس نے اس کو دو مرتبہ پڑھا اس پر اور اس کے گھر والوں پر برکت کی جائے گی اور جس نے اس کو تین مرتبہ پڑھا اس پر اس کے گھروالوں پر اور اس کے پڑوسیوں پر برکت کی جائے گی۔ اور جس نے اس کو بارہ مرتبہ پڑھا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں بارہ محل بنادیں گے۔ اور جس نے اس کو بیس مرتبہ پڑھا تو وہ نبیوں کے ساتھ اس طرح ہوگا اور آپ نے اپنی درمیانی انگلی اور جو انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کو آپس میں ملا دیا۔ اور جس نے اس کو سو مرتبہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے پچیس سال کے گناہ معاف کردیں گے سوائے قرضہ اور قتل کے اور جس نے اس کو دو سو مرتبہ پڑھا اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔ اور جس نے اس کو چار سو مرتبہ پڑھا اس کے لیے چار سو ایسے شہیدوں کا ثواب ہوگا جن میں ہر ایک کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی گئیں اور اسے شہید کردیا گیا اور جس نے ہزار مرتبہ یہ سورة پڑھی تو وہ نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنا ٹھکانہ جنت میں دیکھے گا یا اس کو دکھادیا جائے گا۔
41۔ اور انہوں نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے قل ہوا اللہ احد ایک مرتبہ پڑھا گویا اس نے ایک تہائی قرآن پڑھا اور جس نے اس کو دو مرتبہ پڑھا گویا اس نے دو تہائی قرآن پڑھا۔ اور جس نے تین بار پڑھا تو گویا اس نے ٹھہرٹھہر کر پورا قرآن پڑھا۔
42۔ اور انہوں نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے قل ہوا للہ احد ایک ہزار مرتبہ پڑھا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسے ہزار جانوروں سے زیادہ پسندیدہ ہے جن کو اللہ کے راستے میں لگام دی گئی اور زین پہنائی گئی۔
43۔ اور انہوں نے کعب احبار ؓ سے روایت کیا تین قسم کے لوگ جنت میں جہاں چاہیں گے اتریں گے شہید اور وہ آدمی جس نے ہر دن میں دو سو مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھی۔
44۔ اور انہوں نے کعب احبار ؓ سے روایت کیا کہ جس نے قل ہو اللہ احد اور آیۃ الکرسی دس مرتبہ رات یا دن میں پڑھنے کی پابندی کی تو اس نے اللہ کی رضامندی واجب کرلی اور وہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ہوگیا اور شیطان سے محفوظ ہوگیا۔
45۔ اور انہوں نے دینار کے طریق سے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے قل ہو اللہ احد ایک ہزار مرتبہ پڑھی تو اس نے اپنی جان کو اللہ سے خرید لیا اور وہ اللہ کے خاص لوگوں میں سے ہوگا۔
46۔ اور انہوں نے نعیم کے طریق سے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے قل ہو اللہ احد تیس مرتبہ پڑھا۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ آگ سے چھٹکارا اور عذاب سے امان لکھ دیں گے۔ اور فزع اکبر یعنی قیامت کے دن سے بھی امان لکھ دیں گے۔
47۔ اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جو اپنے گھر میں داخل ہو۔ اور اس نے الحمدللہ یعنی سورة فاتحہ اور قل ہوا اللہ احد پڑھی تو اس سے اللہ تعالیٰ فقر و افلاس کو دور کردیں گے۔ اور اس کے گھر کی خیر و برکت میں اضافہ کردے گا۔ یہاں تک کہ وہ اس کے پڑوسی کو بھی پہنچے گی۔
48۔ الطبرانی نے بھی ابوبکر البردعی (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ ابو زرعہ اور ابو حاتم نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ ہم کو ثقہ راوی عیسیٰ بن ابی فاطمہ نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب صور میں پھونکا جائے گا۔ تو رحمن کا غصہ سخت ہوجائے گا۔ پھر فرشتے نازل ہوں گے۔ اور زمین کے کناروں کو پکڑ لیں گے۔ اور وہ برابر قل ہو اللہ احد پڑھتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا غصہ ٹھہر جائیں گا۔
49۔ ابراہیم بن محمد الخیارجی نے اپنے فوائد میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے قل ہو اللہ احد ہزار مرتبہ پڑھا۔ تو اس نے اپنی جان کو اللہ تعالیٰ سے خرید لیا۔
50۔ ابن المنذر نے اپنی تاریخ میں کعب بن عجرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے رات یا دن میں تین مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھا تو اس کی مقدار قرآن کے برابر ہوگی۔
51۔ ابو الشیخ نے ابن عمرر ضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے قل ہوا اللہ احد گیارہ مرتبہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک محل جنت میں بنادیں گے۔ عمر ؓ نے عرض کیا۔ اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! تب تو ہم کثیر محل بنالیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہی امن دینے والا اور فضیلت والا ہے۔ یا فرمایا وہی امن والا اور بہت وسعت والا ہے۔
جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا اللہ اس سے محبت کرتا ہے۔
52۔ والبخاری ومسلم والنسائی اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو جنگ پر بھیجا۔ تو وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے وقت آیت قل ہو اللہ احد پڑھتا تھا۔ جب یہ لوگ واپس لوٹے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بات بتائی۔ تو آپ نے فرمایا اس سے پوچھا کس چیز کے سبب یہ کرتا ہے ؟ انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا یہ رحمن کی صفت ہے اور میں پسند کرتا ہوں کہ میں اس کو پڑھوں وہ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور ان کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا اس کو بتادو کہ اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔
53۔ ابن الضریس نے ربیع بن خیثم (رح) سے روایت کیا کہ ایک سورة ہے اللہ کی کتاب میں سے لوگ اس کو جھوٹا گمان کرتے ہیں اور میں اس کو عظیم اور لمبی دیکھتا ہوں اللہ تعالیٰ محبت فرماتے ہیں اس سے محبت کرنے والے کو، اور اس میں توحید کے ساتھ اور کسی چیز کی ملاوٹ نہیں تم میں سے جو اس کو پڑھے گا۔ تو وہ اس کو قلیل سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ کسی اور چیز کو جمع نہ کرے کیونکہ اس کو یہ سورت بدلہ دے گی۔
54۔ ابن الضریس نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے کہا میرا ایک بھائی ہے اس کی طرف قل ہوا للہ احد کا پڑھنا محبوب ہے۔ آپ نے فرمایا اپنے بھائی کو جنت کی خوشخبری دے دو ۔
55۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وابن ماجہ اور ابن الضریس نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا اور میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا۔ اچانک ایک آدمی نماز پڑھتے ہوئے کہہ رہا تھا آیت انی اسئلک بانک انت اللہ لا الہ الا انت الواحد الاحد الصمد الذی۔ بیشک آپ سے سوال کرتا ہوں کہ بلاشبہ آپ اللہ ہیں آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ آپ ہیں اکیلے ہیں بےنیاز ہیں نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور اس کے برابر کا کوئی نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یقینی طور پر اس نے اللہ تعالیٰ سے اس کے ایسے اسم اعظم کے ساتھ دعامانگی کہ جب اس کے وسیلہ سے کوئی سے سوال کیا جائے تو وہ عطا فرماتا ہے اور جب اس کے ذریعہ دعا مانگی جائے تو وہ قبول کرتا ہے۔
56۔ ابن الضریس نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جو شخص دو سو مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھے تو اس کے لیے پانچ سو سال کی عبادت کا اجر ہے۔
57۔ الدارقطنی فی الافراد اور الخطیب نے اپنی تاریخ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کو جب کوئی تکلیف ہوتی تو اپنی ذات پر قل ہوا اللہ احد پڑھ کر پھونکتے تھے۔
58۔ ابن النجار نے اپنی تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے رضا اور مغفرت واجب کردیں گے۔
59۔ ابو نعیم نے الحلیہ میں ابو غالب مولی خالد بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک رات صبح سے پہلے عمر ؓ نے فرمایا اے غالب اٹھو اور نماز پڑھو اگرچہ ایک تہائی قرآن کی ہی قرائت کرو۔ میں نے عرض کیا اب تو صبح قریب، میں کیسے ایک تہائی قرآن پڑھوں عمر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سورة اخلاص قل ہوا اللہ احد ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
60۔ العقیلی نے رجاء الغنوی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص تین مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھی گویا اس نے سارا قرآن پڑھ لیا۔
61۔ ابن عساکر نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے صبح کی نماز پڑھی پھر کسی سے بات نہیں کی یہاں تک کہ دس مرتبہ قل ہوا اللہ پڑھ لی تو وہ اس دن کسی گناہ کو نہیں پائے گا۔ ل اور شیطان سے پناہ ہوگی۔
62۔ الدیلمی نے سند واہ کے ساتھ براء بن عازب ؓ سے مروفا روایت کیا کہ جس نے صبح کی نماز کے بعدسو مرتبہ قل ہوا للہ احد پڑھا کسی سے بات کرنے سپے تو اس دن اسے پچاس صد یقین کے عمل کے برا سے بلند کردیا جائے گا۔
63۔ ابن عساکر نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کی شادی حضرت فاطمہ ؓ سے کی۔ تو پانی منگویا ا اور اس پانی میں تھو ڑا سا منہ لے میں اس میں کلی کردی۔ پھر وہ پانی ان کے گریبان اور کندھوں پر چھڑکا۔ پھر ان کو قل ہوا اللہ احد اور معوذتین کے ساتھ ان کے لیے حفاظت کی دعا کی۔
64۔ بیہقی نے الشعب میں ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا کہ جس نے دو رکعتیں پڑھیں اور ان دو ونوں میں قل ہوا اللہ احد پڑھا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے سو محل جنت میں بنائیں گے اور جس نے اس کو نماز میں پڑھا تو یہ اس سے افضل ہے اور جس نے اس کو اپنے گھروالوں اور اپنے پڑوسیوں کے پاس داخل وقت یہ سورة پڑھی۔ تو اس کے سبب سا کے اہل اور اس کے پڑوسیوں تک خیر و برکت پہنچ گی
65۔ احمد نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ابو ایوب ؓ ایک مجلس میں تھے اور وہ کہنے لگے کیا اس کی کوئی طاقت رکھتا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا بیشک قل ہو اللہ احد تہائی قرآن۔ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ تشریف لائے اور آپ ابو ایوب ؓ کی بات سن رہے تھے تو فرمایا ابو ایوب نے سچ کہا۔ ،
رات کو سورة اخلاص کی تلاوت۔
66۔ ابن الضریس والبزار ومحمد بن نصر والطبرانی صحیح سند کے ساتھ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ ہر ایک تہائی قرآن پڑھ لے صحابہ ؓ نے عرض کیا اس کی کون طاقت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں قل ہوا اللہ احد ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
67۔ احمد ولطبرانی وابن السنی نے ضعیف سند کے ساتھ معاذ بن انس رضہنی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے دس مرتبہ قل ہوا اللہ احد آخرت تک پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک محل جنت میں بنادیں گے عمر ؓ نے آپ سے فرمایا رسول اللہ تب تو ہم کثرت کریں گے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہی اکثر واطیب ہے۔
68۔ سعید بن منصور وابن مردویہ نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ غزوۂ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو ایک منزل پر آپ نے ہم کو فجر کی نماز پڑھائی۔ آپ نے پہلی رکعت میں فاتحۃ الکتاب اور قل ہو اللہ احد پڑھی اور دوسری رکعت میں قل اعوذ بربل الفلق پڑھی جب سلام پھیرا تو فرمایا ان دونوں سورتوں سے بڑھ کر کسی نے فصیح وبلیغ اور افضل سورتیں نہیں پڑھیں۔
69۔ محمد بن نصر والطبرانی جید سند کے ساتھ معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قل ہو اللہ احد ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
70۔ ابو عبید واحمد والبخاری فی التاریخ والترمذی وحسنہ والنسائی وابن الضریس والبیہقی نے الشعب میں ابو ایوب انصاری ؓ سے عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی عاجز ہے کہ رات کو ایک تہائی قرآن پڑھ لے۔ جب آپ نے دیکھا کہ یہ بات ان پر بھاری گذری ہے تو آپ نے فرمایا جو شخص رات کو قل ہوا للہ احد اللہ الصمد پڑھ لے تو گویا اس نے اس رات ایک تہائی قرآن پڑھ لیا۔
71۔ احمد والطبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو قل ہوا اللہ احد پڑھ رہا تھا۔ تو آپ نے فرمایا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔
72۔ ابو عبید واحمد ومسلم وابن الضریس والنسائی نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی عاجز ہے کہ ہر دن ایک تہائی قرآن پڑھ لے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ ہم تو اس سے بہت کمزور اور بہت عاجز ہیں۔ آپ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو تین اجزاء میں تقسیم فرما دیا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا قل ہوا للہ احد ایک تہائی قرآن ہے۔
73۔ مالک واحمد والبخاری وابو داوٗ والنسائی وابن الضریس والبیہقی نے اپنی سنن میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی کو قل ہو اللہ احد پڑھتے ہوئے سنا جو اس کو بار بار لوٹا رہا تھا۔ جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس بات کو ذکر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے بےش یہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
76۔ احمد ولبخاری وابن الضیرس نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : کیا تم میں کوئی عاجز ہے کہ وہ رات کو ایک تہائی قرآن پڑھ لے یہ بات ان پر بھاری ہوئی۔ اور انہوں نے کہا کون اس کی طاقت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ الواحد الصمد یعنی قل ہو اللہ احد ایک تہائی قرآن ہے۔
75۔ احمد نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ قتادہ بن نعمان ؓ نے ساری رات قل ہوا اللہ احد پڑھتے ہوئے گذار دی۔ یہ بات نبی ﷺ کو ذکر کی گئی تو آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے بیشک وہی آدھے قرآن یا تہائی قرآن کے برارب ہے۔
76۔ بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابو سعید خدری ؓ کے طریق سے روایت یا کہ مجھے قتادہ بن نعمان نے بتایا کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے زمانہ میں قیام کیا اور اس نے قل ہو اللہ احد پوری سوت پڑھی اور اس کو بار بار پڑھتا رہا اور اس پر کچھ زیادہ نہیں کیا۔ جب ہم نے صبح کیا تو اس نے رسول اللہ ﷺ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا بیشک یہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
77۔ احمد وابو عبید والنسائی وابن ماہ وابن الضریس نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آیت قل ہو اللہ احد ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
78۔ الطبرانی فی الصغیر و بیہقی نے الشعب میں ضعیف سند کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے قل ہو اللہ احد صبح کی نماز کے بعد بارہ دفعہ پڑھا گویا اس نے چار مرتبہ قرآن پڑھ لیا اور اس دن اس کا یہ عمل تمام اہل زمین سے افضل ہے بشرطیکہ وہ تقویٰ اختیار کرے۔
79۔ احمد وابن الضریس ولنسائی والطبرانی فی الاوسط اور بیہقی نے شعب میں صحیح سند کے ساتھ ام کلثوم بنت عقبی بن ابی معیط ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے قل ہوا اللہ احد کے بارے میں پوچھا گیا آپ ﷺ نے فرمایا یہ ایک تہائی قرآن ہے یا اس کے برابر ہے۔
80۔ سعید بن منصور نے محمد بن المنکدر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو قل ہوا اللہ احد پڑھتے ہوئے سنا اور وہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا سوال کر تو عطا کیا جائے گا۔
081۔ سعید بن منصور وابن الضریس نے حضر علی ؓ سے روایت کیا کہ جس نے قل ہو اللہ احد دس مرتبہ فجر کے بعد پڑھا اور ایک روایت میں صبح کے بعد کے الفاظ ہیں تو اس دن اسے کوئی گناہ لاحق نہ ہوگا اگرچہ شیطا کوشش کرے۔
83۔ سعید بن منصور وابن الضریس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جس نے عشاء کی نماز کے بعد دو رکعت پڑھی اور ہر رکعت میں فاتحۃ الکتاب اور پندرہ مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھا اللہ تعالیٰ اس کے لیے دو محل جنت میں بنادے گا جن کو اہل جنت دیکھیں گے۔
83۔ ابن الضریس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص عشاء کی نماز بعد دو رکعت نماز پڑے۔ اور ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور بیس مرتبہ قل ہوا اللہ احد پڑھے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دو محل جنت میں بنادیں گے جن کو اہل جنت دیکھیں گے۔
84۔ سعید بن منصور وابن الضریس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جس نے قل ہو اللہ احد دو سو مرتبہ چار رکعت میں پڑھا ہر رکعت میں پچاس مرتبہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ اس کے سو سال کے گناہ معا کردے گا پچاس سال آنے والے اور پچاس سال گذرے ہوئے۔
رسول اللہ ﷺ کا عمل مبارک
85۔ ابن ابی شیبہ والبخاری وابو داوٗ والترمذی والنسائی وابن ماجہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا تو نبی اکرم ﷺ ہر رات جب اپنے بستر مبارک پر آرام فرمانے کے لیے تشریف لے جاتے تو اپنی ہتھیلیوں کو جمع کر کے اس میں پھونکتے اور قل ہوا اللہ حد اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ کر اپنے پورے جسم پر پھیرتے جہاں تک ممکن ہوتا۔ آپ اس کو سر سے شروع کرتے پھر چہرہ اور اپنے جسم کے سامنے والے حصہ پر پھیرتے اور آپ یہ عمل تین مرتبہ کرتے۔
86۔ ابن سعد وعبد بن حمید وابو داوٗد الترمذی وصححہ والنسائی وعبد اللہ بن احمد فی زوائد الزہ اور طبرانی نے عبداللہ بن حبیب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ قل ہو اللہ احد اور معوذتین پڑھ۔ جب تو صبح کرے اور جب تو شام کرے تین مرتبہ یہ تجھے ہر چیز کے لیے کافی ہیں۔
87۔ احمد نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا اے عقبہ بن عامر ! کیا میں تجھ کو وہ افضل ترین سورتیں نہ سکھاؤ جو تورات انجیل، زبور اور فرقان عظیم (یعنی قرآن مجید) میں نازل ہوئی۔ میں عرض کیا کیوں نہیں اللہ تعالیٰ مجھے آپ قربان کردے۔ پھر آپ نے مجھ پر یہ تین صورتیں قل ہو اللہ احد اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھیں۔ پھر فرمایا : اے عقبہ ان کو ہر گز نہ بھولنا اور ان کو پڑھے بغیر کوئی رات نہ گذارنا۔
88۔ النسائی وابن مردویہ والبزار نے صحیح سند کے ساتھ عبداللہ بن انیس سلمی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپناہاتھ مبارک رن کے سینے پر رکھا پھر ان سے فرمایا کہو میں نہیں جانتا تھا کہ میں کیا کہوں۔ پھر آپ نے فرمایا آیت قل ہوا اللہ احد کہو پھر مجھے سے فرمایا کہ آیت قل اعوذ برب الفلق۔ من شر ماخلق۔ یہاں تک کہ میں اس سے فارگ ہوگیا۔ پھر مجھ سے فرمایا آیت قل اعوذ برب الناس۔ یہاں تک کہ میں اس سے فارغ ہوگیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسی طرح پناہ مانگاکرو اور پناہ مانگنے والوں نے ان جیسی اور کسی چیز سے کبھی پناہ طلب نہیں کی۔
89۔ ابن مردویہ و بیہقی نے شعب میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ ایک رات نماز پڑھ رہے تھے اپنے ہاتھ کو زمین پر رکھا تو ایک بچھو نے ان کو ڈس لیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے نعلین کے پاس اسے پالیا اور اس کو مارڈالا۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بچھو پر لعنت فرمائے۔ نہ چھوڑتا ہے کسی نماز پڑھنے والے کو اور نہ اس کے علاوہ کو یا فرمایا نہ یہ کسی نبی کو چھوڑتا ہے اور نہ اس کے علاوہ کو آپ نے نمک اور پانی منگوایا اور ان کو ایک برتن میں ڈال۔ پھر آپ نے اپنی انگلی کو اس جگہ پر ڈالنا شروع کیا۔ جہاں بچھو نے آپ کو ڈسا تھا۔ اسے ملنے لگے اور معوذتین بھی پڑھتے رہے اور یک روایت میں ہے کہ آپ نے اس پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا۔ اور یہ سوتیں پڑھتے رہے۔ آیت قل ہو اللہ احد اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس۔
90۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ فی العظمہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” صمد “ وہ سردار ہے جو اپنی سرداری میں مکم ہو اور شریف وہ ہے جو کام ہو اپنے شرف میں۔ اور عظیم وہ ہے جو کام ہو اپنی عظمت۔ اور حلیم وہ جو کام ہو اپنے حلم میں۔ اور غنی وہ جو کامل ہو اپنے غناء میں۔ اور جبارہ وہ ہے جو کام ہو اپنے جبروت میں اور عالم وہ ہے جو کام ہو اپنے علم میں اور حکیم وہ ہے جو کام ہو اپنی حکمت میں اور وہ ذات جو سیادت وشرف کی تمام انوع میں کامل واکمل ہو اور وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہے یہ س کی صفت ہے یہ اس کے سا کسی کو لائق نہیں اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ اور اس کے مثل کوئی چیز نہیں۔
91۔ ابن الضریس وابو الشیخ فی العظمہ وابن جریر نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ بیشک اس سورت کی بنا پر سات آسمانوں اور زمینوں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔ یعنی آیت قل ہوا اللہ احد اللہ الصمد لم یلم ولم یولد ولم یکون لہ کفوا احد۔ بیشک اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی بھی برابری کرنے والا اور کوئی بھی اس کا مددگار نہیں اس کی مخلوق میں سے