Al-Ikhlaas 112:2

Al-Ikhlaas · from ayah 2

112:2

اَللّٰهُ الصَّمَدُ ۟ۚاَللّٰهُ الصَّمَدُ‌

معبود برحق جو بےنیاز ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah, the Eternal Refuge.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 37 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ikhlaas

All translations of 112:2

اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

معبود برحق جو بےنیاز ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ ہی ایسا ہے کہ سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اﷲ سب سے بے نیاز، سب کی پناہ اور سب پر فائق ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ ہی بےنیاز ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ سب سے بےنیاز ہے اور باقی سب (ہر طرح سے اور ہمہ وقت) اس کے محتاج

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ سب کا مرجع ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ بےنیاز ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah, Who is in need of none and of Whom all are in need;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah is Besought of all, needing none.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah is Besought of all, needing none.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Allah As-Samad."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah, the Eternal Refuge.

— Saheeh International

God is Absolute.

— Muhammad Sarwar

Allah is He on Whom all depend.

— Muhammad Habib Shakir

Allah, the Independent,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 112:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

اپنی حکمت و تدبر میں وحدہ لا شریک ٭٭ اس کے نازل ہونے کی وجہ پہلے بیان ہوچکی ہے، حضرت عکرمہ رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے ہم حضرت عزیز کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور نصرانی کہتے تھے ہم حضرت مسیح کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور مجوسی کہتے تھے ہم سورج چاند کی پرستش کرتے ہیں اور مشرک کہتے تھے ہم بت پرست ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری کہ اے نبی تم کہہ دو کہ ہمارا معبود تو اللہ تعالیٰ ہے جو واحد اور احد ہے جس جیسا کوئی نہیں جس کا کوئی وزیر نہیں جس کا کوئی شریک نہیں جس کا کوئی ہمسر نہیں جس کا کوئی ہم جنس نہیں جس کا برابر اور کوئی نہیں جس کے سوا کسی میں الوہیت نہیں۔ اس لفظ کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الاخلاص 4 اصل میں لفظ صَمَد استعمال کیا گیا ہے جس کا مادہ ص، م، د ہے۔ عربی زبان میں اس مادے سے جو الفاظ نکلے ہیں ان پر ایک نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے معانی کی وسعت کس قدر ہے۔ اَلصَّمدُ۔ قصد کرنا، بلند مقام جو بڑی ضخامت رکھتا ہو، سطح مرتفع، وہ آدمی جسے جنگ میں بھوک پیاس نہ لگتی ہو، وہ سردار جس کی طرف حاجات میں رجوع کیا جاتا ہو۔ اَلصَّمَدُ۔ ہر چیز کا بلند حصہ، وہ شخص جس سے بالا تر کوئی دوسرا شخص نہ ہو، وہ سردار جس کی اطاعت کی جاتی ہو اور اس کے بغیر کسی معاملہ کا فیصلہ نہ کیا جاتا ہو، وہ سردار جس کی طرف حاجتمند لوگ رجوع کرتے ہوں، دائم، بلند مرتبہ، ٹھوس جس میں کوئی خول یا جھول نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اللہ الصمد، لفظ صمد کے بہت سے معنی ہو سکتے ہیں اسی لئے حضرات مفسرین کے اوقال اس میں بہت میں امام حدیث طبرانی نے کتاب السنہ میں ان تمام اقوال کو جمع کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ سب صحیح ہیں اور ان میں جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ سب ہمارے رب کی صفات ہیں، لیکن اصل معنی صمد کے یہ ہیں کہ جس کی طرف لوگ اپنی حاجات اور ضروریات میں رجوع کری اور جو بڑائی اور سرداری میں ایسا ہو کہ اس سے کوئی بڑا نہیں، خلاصہ یہ کہ سب اس کے محتاج ہوں وہ کسی کا محتاج نہ ہو (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’صمد‘ کا مفہوم: لفظ ’صَمَدُ‘ اصل میں اس بڑی چٹان کے لیے آتا ہے جس کی دشمن کے حملہ کے وقت پناہ پکڑتے ہیں، یہیں سے قوم کے سردار کو جو قوم کا پشت پناہ اور سب کا مرجع ہو ’صَمَدُ‘ کہنے لگے۔ زبور اور دوسرے آسمانی صحیفوں میں اللہ تعالیٰ کو بکثرت چٹان اور مدد کی چٹان کہا گیا ہے۔ جس طرح ’غَنِیُّ‘ کے بعد قرآن میں ’حَمِیْدٌ‘ کی صفت اللہ تعالیٰ کے لیے بطور بدرقہ آئی ہے اسی طرح یہاں ’اَحَدٌ‘ کے بعد ’صَمَدٌ‘ کی صفت بطور بدرقہ ہے۔ ’غَنِیُّ‘ اور ’حَمِیْدٌ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے ہم بیان کر چکے ہیں کہ لفظ ’غَنِیُّ‘ سے خدا کی بے نیازی کا جو تصور ذہن میں آتا ہے اس سے بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: یہ قرآن کریم کے لفظ ”اَلصَّمَدُ“ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس لفظ کا مفہوم بھی اردو کے کسی ایک لفظ سے ادا نہیں ہوسکتا۔ عربی میں ”صمد“ اس کو کہتے ہیں جس سے سب لوگ اپنی مشکلات میں مدد لینے کے لیے رجوع کرتے ہوں، اور سب اس کے محتاج ہوں، اور وہ خود کسی کا محتاج نہ ہو۔ عام طور سے اختصار کے پیش نظر اس لفظ کا ترجمہ ”بےنیاز“ کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ اس کے صرف ایک پہلو کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ لیکن یہ پہلو اس میں نہیں آتا کہ سب اس کے محتاج ہیں۔ اس لیے یہاں ایک لفظ سے ترجمہ کرنے کے بجائے اس کا پورا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

قل ................ احد (1:112) ” کہو ، وہ اللہ ہے یکتا “۔ احد کا لفظ واحد سے زیادہ گہرا ہے کیونکہ احمد ، واحد کے مفہوم پر مزید اضافہ کرتا ہے ، کہ اس کے ساتھ اور کوئی چیز حقیقتاً موجود نہیں ہے اور اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے یعنی وہ یکتا ہے۔ ” احد “ میں وجوء کی احدیت کا اظہار ہے ، یعنی اس کی حقیقت کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس کے سوا اور کوئی حقیقی وجود نہیں ہے۔ اللہ کے سوا جس قدر موجودات ہیں وہ اپنا وجوء اللہ سے اخذ کرتی ہیں اور وہ اپنی حقیقت اللہ کی حقیقت سے لیتی ہیں۔ وہ فاعلیت میں بھی یکتا ہے لہٰذا اللہ کے سوا اس پوری کائنات میں کوئی اور موثر اور کوئی اور فاعل نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ایک نظریہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 " صمد " کی تفسیر کئی طرح کی گئی ہے۔ طبرانیان سب کو نقل کر کے فرماتے ہیں۔ " و کل ھذا صحیحۃ وھی صفات ربنا عزوجل ھو الذی یصمد الیہ فی الحوائج وھو الذی قد انتھی سؤددہ، وھو الصمد الذی لا جوف لہ، ولا یا کل ولا یشرب وھو الباقی بعد خلقہ " (ابن کثیر) (یہ سب معافی صحیح ہیں اور یہ سب ہمارے رب کی صفات ہیں۔ وہ ہی ہے جس کی طرف تمام حاجات میں رجوع کیا جاتا ہے۔ یعنی سب اس کے محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اور وہ ہی ہے جس کی بزرگی اور فوقیت تمام کمالات اور خوبیوں میں انتہاء کو پہنچ چکی ہے۔ اور وہ ہی ہے جو کھانے پینے کی خواہشات سے پاک ہے۔ اور وہ ہی ہے جو خلقت کے فنا ہونے کے بعد بھی باقی رہنے والا ہے) اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 { اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ } ”اللہ سب کا مرجع ہے۔“ صَمَد کے لغوی معنی ایسی مضبوط چٹان کے ہیں جس کو سہارا بنا کر کوئی جنگجو اپنے دشمن کے خلاف لڑتا ہے تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کرسکے۔ بعد میں یہ لفظ اسی مفہوم میں ایسے بڑے بڑے سرداروں کے لیے بھی استعمال ہونے لگا جو لوگوں کو پناہ دیتے تھے اور جن سے لوگ اپنے مسائل کے لیے رجوع کرتے تھے۔ اس طرح اس لفظ میں مضبوط سہارے اور مرجع جس کی طرف رجوع کیا جائے کے معنی مستقل طور پر آگئے۔ چناچہ اَللّٰہُ الصَّمَدُ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوقات کا مرجع اور مضبوط سہارا ہے۔ وہ خود بخود قائم ہے ‘ اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔ باقی تمام مخلوقات کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 صمد کا مفہوم اور صمد اور غنی میں فرق :۔ صَمَدٌ میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں (1) کسی چیز کا ٹھوس اور مضبوط ہونا (2) لوگ ہر طرف سے اس کی طرف قصد کریں۔ اور الصَّمَدُ ایسی ذات ہے جو خود تو مستقل اور قائم بالذات ہو۔ وہ خود کسی کی محتاج نہ ہو مگر دوسری سب مخلوق اس کی محتاج ہو۔ بےنیاز کے لیے عربی زبان میں غنی کا لفظ بھی آتا ہے اور اس کی ضد فقیر ہے۔ اور غنی وہ ہے جسے کسی دوسرے کی احتیاج نہ ہو مگر یہ لفظ صرف مال و دولت کے معاملہ میں بےنیاز ہونے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور غنی دولت مند کو کہتے ہیں۔ یعنی کم از کم اتنا مالدار ضرور ہو کہ اسے معاش کے سلسلے میں دوسروں کی احتیاج نہ ہو جبکہ صمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ (اور مقصودیت اسی کے لئے خاص ہے) (آیت) ” الصمد “۔ صمد وہ ہے کہ سب اس کے محتاج اور وہ کسی کا بھی محتاج نہیں ! اس اسم صفت کے لانے سے خود اس طرف اشارہ ہوگیا کہ معبود تو بس وہی ہے، نہ کہ تمہارے دیوی دیوتا جو خود وسروں کے محتاج ہیں، الصمد السید الذی یصمد الیہ فی الامر والقصد بقولہ اللہ الصمد تنیبھا انہ بخلاف من اثبتوا لہ الالھیۃ (راغب) اور یہی معنی حدیث میں بھی آئے ہیں۔ قال (علیہ السلام) ھو السید الذی یصمد الیہ فی الحوائج (کبیر) عن ابن عباس ؓ عن ابی ہریرہ ؓ ھو المستغنی عن کل احد المحتاج الیہ کل احد (روح) اس میں تردید آگئی آریہ سماجی شرک، اور بعض دوسرے جاہلی فرقوں کے اس عقیدہ کی، کہ ” صانع عالم “…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–2

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، نبی ﷺ سے ان کے رب کے کے بارے میں سوال کیا گیا تو قل ھو اللہ احد نازل ہوئی، کہو وہ اللہ یکتا ہے، اللہ، ھو کی خبر ہے اور احد اس سے بدل ہے یا (مبتداء) کی خبر ثانی ہے، اللہ بےنیاز ہے یہ مبتدا خبر ہیں یعنی وہ حاجتوں میں ہمیشہ مقصود ہے، نہ اس کی کوئی اولاد مجانست کے منتقی ہونے کی وجہ سے نہ وہ کسی کی اولاد اس سے حدوث کے منتفی ہونے کی وجہ سے اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے یعنی ہمسر اور مماثل نہیں، لہ کفواً سے متعلق ہے، لہ کو کفواً پر مقدم کردیا گیا ہے، اس لئے کہ وہی (ماثل سے) مقصود بالنفی ہے اور احد کو جو کہ یکن کا اسم ہے اس کی خبر سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اللہ الصمد . حضرت ابن عباس ‘ حسن بصری اور سعید بن جبیر نے کہا : صمد کا معنی ہے نڈر ‘ یعنی جس کو کوئی خوف نہ ہو۔ ابن جریر ؓ نے حضرت بریدہ کا بھی یہی قول نقل کیا ہے اور میرے خیال میں یہ قول مرفوعاً بیان کیا ہے ‘ ممکن ہے کہ مجازاً ایسی ذات مراد لی جائے جو عقل و فہم کی رسائی اور وہم کے ادراک سے بالا ہو۔ شعبی نے کہا : صمد وہ ہے جو کھائے نہ پئے۔ بعض علماء نے کہا : اس لفظ کی تشریح آئندہ کلام ہے۔ ابو العالیہ نے حضرت ابی بن کعب کا یہی قول بیان کیا ہے۔ ابو الوائل شقیق بن سلمہ نے کہا : صمد وہ سردار ہے جس کی سیادت چوٹی پر پہنچ گئی ہو ‘ یعنی جس کی عیادت بہمہ وجوہ کامل ہو۔ ابو طلحہ کی روایت سے حضرت ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) قریش نے رسول اکرم ﷺ سے کہا کہ اپنے اللہ کے بارے میں کچھ بیان کرو کہ وہ سونے کا ہے یا چاندی کا اس پر یہ سورت نازل ہوئی کہ قریش سے فرما دیجیے اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے۔ اور وہ ایسا سردار ہے کہ سب اس کے محتاج ہیں یا یہ کہ وہ کھانے پینے سے بےنیاز ہے یا یہ کہ اس کا پیٹ نہیں، یا یہ مطلب ہے کہ اس کی ذات ہر قسم کے عیبوں سے پاک ہے یا یہ کہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور سب کو کافی ہے اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے کہ وراثت میں ملک ملا ہو اور نہ کوئی بادشاہت میں، یا یہ کہ صفات میں اس کے برابر ہے۔ شان نزول : سورة اخلاص ترمذی، حاکم اور ابن خزیمہ نے ابوالعالیہ کے طریق سے محمد…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) اللہ الصمد :”الصمد“ کی تفسیر میں سلف کے کئی اقوال ہیں، ان کا خلاصہ تین اقوال میں آجاتا ہے : (1) ”الصمد“ وہ سردار ہے جس کی طرف لوگ قصد کر کے جائیں، جس سے بڑا کوئی سردار نہ ہو۔ یہ ”صمد“ (ف، ن) (قصد کرنا) سے مشتق ہے۔ گویا ”الصمد“ بمعنی ”مصمود“ ہے۔ اکثر سلف نے یہی معنی کیا ہے۔ (2) جو کھاتا پیتا نہ ہو۔ (3) جس کا پیٹ نہ ہو جو کھوکھلا نہ ہو، جس سے کچھ نکلتا نہ ہو۔ اللہ پر تینوں معانی صادق آتے ہیں۔ (2) عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جب خبر پر الف لام آجائے تو کلام میں حصر پیدا ہوجاتا ہے۔ اگر ”اللہ صمد“ ہوتا تو معنی یہ تھا کہ اللہ صمد ہے۔ اب ”اللہ الصمد“ فرمایا، تو معنی یہ ہے کہ اللہ ہی ”صمد“ ہے، کوئی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ (اردو میں اس کا ترجمہ بےنیاز کیا جاتا ہے یعنی جو محتاج نہیں) روح المعانی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ھو المستغنی عن کل احد المتحاج الیہ کل احد نقل کیا ہے لفظ بےنیاز اس کا آدھا ترجمہ ہے اس کے ساتھ یہ بھی کہنا چاہیے کہ جس کے سب محتاج ہیں، لفظ الصمد میں بہت بڑی معنویت ہے۔ صاحب روح المعانی نے ابن الانباری سے نقل کیا ہے کہ اہل لغت کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ الصمد کا معنی یہ ہے : انہ السید الذی لیس فوقہ احد الذی یصمد الیہ الناس فی حوائجھم وامورھم (یعنی صمد وہ سردار ہے جس سے برتر وبالا کوئی نہیں جس کی طرف لوگ اپنی حاجتوں اور تمام کاموں میں متوجہ ہوتے ہیں) ۔ اس کے بعد حضرت ابن عباس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1۔ احمد و بخاری فی تاریخہ والترمذی وابن جریر وابن خزیمہ وابن خاتم فی السنۃ والبغوی فی معجمہ وابن المنذر نے العظمہ والحاکم وصححہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین نے نبی اکرم ﷺ سے کہا یا محمد ! ہمارے لیے اپنے رب کا نسب بیان کیجیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی آیت قل ہو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد کہہ دو وہ اللہ ایک ہے اللہ بےنیاز ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اس لیے کہ کوئی چیز پیدا نہیں کی جائے گی مگر وہ عنقریب مرجائے گی اور کوئی چیز نہیں مرے گی مگر عنقریب اس کا وارث بنایا جائے گا۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ کو نہ موت آئے گی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اللّٰهُ الصَّمَدُ : اللہ ہی قطعی بےنیاز ہے ] ص م د [ صَمْدًا : (ن۔ ض) حاجت روائی کے لیے کسی کا قصد کرنا۔ رجوع کرنا۔] [ صَمَدٌ ایسی ہستی جس کی طرف حاجت روائی کے لیے رجوع کیا جائے اور جس کو کسی سے بھی رجوع کرنے کی ضرورت نہ ہو، بےنیاز۔ اللّٰہُ لصَّمَد (اللہ قطعی بےنیاز ہے) ۔ 112:2 ۔] (آیت۔ 2) اَللّٰہُ مبتد اور اَلصَّمَدُ اس کی خبر معرفہ ہے۔ اس پر جو الف لام ہے اس کو اگر لام تعریف مانیں تو بین السطور مطلب یہ ہوگا کہ متعدد ہستیاں صمد ہیں اور یہاں کسی مخصوص صمد کی بات ہو رہی ہے یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس پر لام جنس ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ002﴾ (اردو میں اس کا ترجمہ بےنیاز کیا جاتا ہے یعنی جو محتاج نہیں) روح المعانی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ھو المستغنی عن کل احد المتحاج الیہ کل احد نقل کیا ہے لفظ بےنیاز اس کا آدھا ترجمہ ہے اس کے ساتھ یہ بھی کہنا چاہیے کہ جس کے سب محتاج ہیں، لفظ الصمد میں بہت بڑی معنویت ہے۔ صاحب روح المعانی نے ابن الانباری سے نقل کیا ہے کہ اہل لغت کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ الصمد کا معنی یہ ہے : انہ السید الذی لیس فوقہ احد الذی یصمد الیہ الناس فی حوائجھم وامورھم (یعنی صمد وہ سردار ہے جس سے برتر وبالا کوئی نہیں جس کی طرف لوگ اپنی حاجتوں اور تمام کاموں میں متوجہ ہوتے ہیں) ۔ اس کے بعد حضرت ابن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

اعلان توحید خداوندی و تقدیس وتنزیہ از مماثلت ومشابہت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل ھو اللہ احد ......... الی .......... کفوا احد “۔ حق تعالیٰ شانہ کی معرفت اسکی شان ربوبیت ہی سے حاصل ہوسکتی ہے جو انسان کی فطرت میں ابتداء آفرینش اور روز اول سے ودیعت رکھ دی گئی، اور عہد الست میں اولاد آدم کو اسی عنوان سے مخاطب فرمایا گیا تھا (آیت) ” الست بربکم “۔ سب نے جواب دیا تھا ” بلی “ تو رب کی معرفت انسان کے خمیر اور اسکی فطرت میں ودیعت رکھی ہوئی تھی، اس لئے قرآنی مضامین کی ابتداء اسی وصف کیساتھ حمد وثناء سے فرمائی گئی (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “۔ اور ظاہر ہے کہ مقصد اس معرفت کا تقاضا یا اس کا نتیجہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ ” اللہ الصمد “ شاہ عبدالقادر (رح) اس کا ترجمہ کرتے ہیں اللہ نرا دھار ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں، الصمد وہ ہے جس کا لوگ حاجات و مصائب میں قصد کریں اور مافوق الاسباب غائبانہ اسے پکاریں۔ عن ابن عباس قال الذی یصمد الیہ فی الحاجات (بخاری، قرطبی) ۔ الصمد وہ بےنیاز ذات جس کو کسی کی حاجت نہ ہو مگر ساری کائنات اس کی محتاج ہو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الاخلاص ہے ، اخلصا کا مطلب دل کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے لئے خاص کرنا ہے گویا یہ انسانوں کے قلوب کو اللہ کی توحید کے لئے مختص کرنے والی سورة ہے اس میں خدا کی توحید کا ذکر ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چار آیات ، پندرہ الفاظ اور اڑتالیس حروف ہیں۔ یہ چھوٹی سورة ہے۔ خلاصہ قرآن سورۃ والتین کے بعد والی چھوٹی چھوٹی سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کا خلاصہ بیان فرما دیا ہے۔ لمبی سورتوں میں جو باتیں بڑی تفصیل اور دلائل اور مثالوں کے ساتھ واضح کی گئی ہیں وہی باتیں ان چھوٹی چھوٹی سورتوں میں بالکل مختصر طریقے سے دو ، دوچار چار جملوں میں بیان کی گئی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَللہُ الصَّمَدُ۝ 2 ۚ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب ¦ ھو الضمیر للشان اللہ مبتدء احد خبرہ والجملۃ للضمیر وھومرجعہ۔ ویمن ان یرجع الضمیر الی المذکور وھو الرب وعلی ھذا التقدیر ھو مبتدء اللہ احد الجملۃ خبرہ ویمکن ان یکون اللہ خبراول احد خبرثان و یجوز ان یکون اللہ بدلا من ھوا ویجوزان یکون احد خبرمبتدء محذوف۔ والفرق بین احدو واحد مشہور۔ اللہ مبتدء الصمد خبرہ لم یلد ھذہ الجملۃ وکذاما بعدھا تفسیر للصمد۔ ولم یکن اسمہ احد وفی الخبر وجہاں احد ہما کفوا ولہ امامتعلق بکان اوحال من کفوا والثانی الخبر لہ وکفوا حال من احد ای ولم یکن لہ احد کفوا فلما قدم النکرۃ نصبھا علی الحال۔ تفسیر ¦ یہ سورة جمہور کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی ہے اور عطا و عکرمہ و جابر و…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

قُلْ کا مفہوم سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ کہہ دیجیے یعنی اعلان کردیجیے اور جو سوالات آپ سے کیے جارہے ہیں ان کے جواب میں یہ سورة ان کو پڑھ کر سنا دیجیے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد قریش میں سب سے زیادہ جس موضوع پر بحث ہوتی تھی وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کی وحدانیت تھی۔ کیونکہ حضور ﷺ اپنی دعوت میں سب سے زیادہ زور اسی مرکزی مضمون پر دیتے تھے۔ اگرچہ رسالت اور معاد بھی ہر مجلس کا موضوع تھے، لیکن ان کی حیثیت ضمنی مباحث کی تھی، توحید کا مسئلہ سب سے اہم تھا۔ دنیا کا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی بات پر گرما گرمی ہوتی اور وہ ہر مجلس کا موضوع بن جاتی اور بات بحث…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

” اَللّٰہُ الصَّمَدُ “ اللہ بےنیاز ہے اللہ تعالیٰ کی ” اَحَدْ “ کی صفت میں توحید کی تینوں اقسام پائی جاتی ہیں۔ تاہم تفصیل کے لیے الصّمد اور دوسری صفات کا ذکر کیا گیا ہے بالفاظ دیگر یہ صفات صفت ” اَحَدْ “ کی تفصیل ہیں۔ اہل زبان نے الصّمد کے بہت سے معانی ذکر کیے ہیں، تمام معانی کا خلاصہ یہ ہے۔ 1۔ الصّمد ایسی چٹان یا ذات جس کی مشکل کے وقت پناہ لی جائے۔ 2۔ الصّمد وہ ذات جس میں کسی قسم کا خلا اور ضعف نہ ہو۔ 3۔ الصّمد ایسی ذات جس کے وجود سے نہ کوئی چیز نکلتی ہو اور نہ کوئی چیز داخل ہوتی ہو۔ 4۔ الصّمد سے مراد ایسا سردار جو ہر اعتبار سے کامل اور اکمل ہو اور مشکل کے وقت اس کا سہارا لیا جائے۔ 5۔ الصّمد…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : اَللّٰہُ الصَّمَدُ (اللہ بےنیاز ہے) صَمَد کا وزن فَعَلٌ بمعنی مفعول ہے۔ یہ صمد الیہ سے بنا ہے جبکہ اس کا قصد کریں الصمد ایسا آقا جو حوائج میں مقصود الیہ ہو۔ معنی یہ ہوا۔ وہ اللہ جس کو تم پہچانتے ہو۔ اور اس کا اقرار کرتے ہو کہ وہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ اور تمہارا خالق ہے۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہی ذات ہے کہ ہر مخلوق جس کا قصد کرتی ہے اور اس سے کوئی مستغنی نہیں وہ خود ان سب سے غنی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

صمد کی تفسیر 2 ۔” اللہ الصمد “ ابن عباس ؓ ، مجاہد، حسن اور سعید بن جبیر رحمہم اللہ فرماتے ہیں الصمدجس کا پیٹ نہ ہو۔ شعبی (رح) فرماتے ہیں جو نہ کھائے نہ پئے اور کہا گیا ہے اس کی تفسیر اس کے بعد والا جملہ ہے۔ ابوالعالیہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا الصمد وہ ذات جس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ وہ خود کسی کی اولاد ہے۔ اس لئے کہ جو پیدا ہو وہ عنقریب مرجائے گا اور جو وارث بنے گا، عنقریب اس سے وارث بنایا جائے گا۔ ابو وائل، شقیق بن سلمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ سردار جس کی سرداری انتہائی کو پہنچ چکی ہو۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا وہ سردار جو سرداری کی تمام اقسام میں کامل ہو اور سعید بن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ مسند امام احمد ترمذی تاریخ بخاری ابن خزیمہ مستدرک حاکم مسند ابو یعلیٰ میں ابی بن کعب اور جابر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ سے اللہ تعالیٰ کی صفت پوچھی تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی۔ اس شان نزول کی روایتوں میں بعضی روایتوں کی سند معتبر ہے اور باقی روایتوں کی تقویت ان معتبر اسناد کی روایتوں سے ہوجاتی ہے یہود حضرت عزیز کو اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا اور عرب کے مشرک لوگ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اس لئے ان سب کو جھٹلایا اور فرمایا کیا اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ کھانے پینے ‘ بی بی بچے کسی چیز کا وہ حاجت مند نہیں ہے وہ سب چیز کا پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 2–3

(اَللّٰهُ الصَّمَدُ ) اللہ بےنیاز ہے۔ یعنی تمام حوائج میں مقصود وہی ہے عالم بالا اور عالم سفلی کے رہنے والے سب اس کے انتہائی محتاج ہیں اسی سے اپنی حاجتوں کا سوال کرتے ہیں اپنے اہم امور میں اسی کی طرف راغب ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اوصاف میں کامل ہے وہ علیم ہے جو اپنے علم میں کامل ہے حلیم ہے جو اپنے حلم میں کامل اور رحیم ہے جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ اس طرح وہ اپنے تمام اوصاف میں کامل ہے یہ اس کا کمال ہے کہ (لَمْ يَلِدْ ڏ وَلَمْ يُوْلَدْ ) اس نے کسی کو جنم دیا ہے نہ اسے کسی نے جنم دیا ہے کیونکہ وہ کامل طور پر غنی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

3 ۔ صمد کا معنی و مطلب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ " صمد " ہے، یعنی اللہ سب سے بےنیاز اور باقی سب اس کے محتاج ہیں سو یہ پوری عبارت لفظ " الصمد " کا ترجمہ اور اس کا مفہوم ہے، کیونکہ " صمد " جیسا کہ کتب تفسیر و لغت میں تصریح ہے اصل میں اس بڑے سردار کو کہا جاتا ہے جس کے اوپر کوئی اور سردار نہ ہو، اور سب لوگ اپنی حوائج و ضروریات میں اسی کی طرف رجوع کرتے ہوں ( روح، جامع البیان، قرطبی، ابن کثیر وغیرہ) سو اس اعتبار سے اس لفظ (یعنی الصمد) کا اصل حقیقی اور کامل مصداق ایک اور صرف ایک ہے، یعنی " حق جل جلالہ وعم نوالہ " کہ وہی ذات وحدہ لاشریک ایسی ہے جو ہر کسی سے ہر اعتبار سے اور ہر وقت غنی و بےنیاز…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

اللہ وحدہ لا شریک لہ تشریح :۔ اصل میں یہ چھوٹی سی سورت اس رب ذوالجلال ' مالک کون و مکان حي القیوم، رب العلیٰ کی تعریف بیان کر رہی ہے۔ جو ہم انسانوں کی عقل سے باہر ہے۔ انسانی عقل اس کا احاطہ کرنے سے بالکل قاصر ہے۔ مگر رسول اللہ ﷺ سے اہل مکہ یہی سوال کرتے تھے کہ '' اچھا بتاؤ تو تمہارا اللہ ہے کیسا ' جس کی تم عبادت کرتے ہو ''؟ تو اللہ نے اس کے جواب میں سورة الاخلاص نازل فرمائی۔ اور قصہ ہی تمام کردیا کہ بیٹھے سوچتے رہو۔ بتا دیا کہ بس وہ اپنی ذات ' اوصاف ' شکل ' کمالات اور مرتبہ میں ایسا بلند وبالا اور بےمثال ہے کہ کسی چیز کی مشابہت سے تم اس کو پہچان نہیں سکتے کیونکہ وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–4

سورة الاخلاص۔ آیات 1 تا 3۔ اسرار ومعارف۔ کہہ دیجئے کہ اللہ وہ ذات ہے جو تمام کمالات کا جامع اور تمام نقائص سے پاک ہے اس جیسا کوئی دوسرا نہیں جس کی سب مخلوق محتاج ہے مگر وہ کسی کا محتاج نہیں اسے مخلوق پر قیاس تک نہیں کیا جاسکتا کہ نہ وہ کسی کی اولاد ہے نہ کوئی اس کی وہ ایسا نہیں جو نسب سے وجو دمیں آئے نہ کوئی اس کا مثل ہے نہ اس سے مشابہہ ہے اس کے ساتھ کسی طرح بھی ذات یا صفات میں کسی کو شریک نہیں کیا جاسکتا۔

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 10 اس سے نصاریٰ کا رد ہوا جو حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا بناتے ہیں اور مشرکین عرب کا بھی رد ہوا جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں رکھا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(112:2) اللہ الصمد۔ اللّٰہ مبتدائ۔ الصمد خبر۔ صمد کے لغت میں دو معنی ہیں :۔ اول :۔ قصدو ارادہ کرنے کے۔ اس تقدیر پر صمد بمعنی مصمود ہوگا۔ اس لئے کہ فعل بمعنی مفعول زبان عرب میں بکثرت مستعمل ہے۔ اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ ہر ایک کا مقصود ہے۔ ہر کوئی اس کی طرف قصد کرتا ہے۔ دوم :۔ صمد کے معنی ہیں ٹھوس کے کہ اس پر کوئی تغیر نہیں آتا۔ وہ قوی اور مستقل ہے اس تقدیر پر یہ لفظ واجب الوجود کے معنی میں ہے۔ یہ تو لغوی معنی کی تحقیق تھی۔ مگر عرف عرب میں یہ لفظ بہت سے معانی میں مستعمل ہے اس لئے مفسرین میں سے ہر ایک نے ایک ایک معنی اختیار کئے ہیں۔ (1) یہ وہ جمیع اشیاء کا جاننے والا ہے کس لئے کہ بغیر اس کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–4

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4 احد : ایک ، الصمد : بےنیاز۔ کسی کا محتاج نہیں ، لم یلد : اس نے کسی کو نہیں جنا ، لم یولد : نہ کسی نے اس کو جنا، کفوا : برابر ، احد : کوئی ایک تشریح : آیت نمبر 1 تا 4 سورة زخرف ، سورة عنکبوت، مومنون ، سورة یونس ، سورة بنی اسرائیل اور قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور کفار سے یہ سوال کیا ہے کہ بتائو زمین وآسمان کا مالک کون ہے ؟ چاند اور سورج کس کے حکم سے چل رہے ہیں ؟ وہ کون ہے جو بلندیوں سے پانی برسا کر مردہ زمین میں ایک نئی زندگی پیدا کردیتا ہے ؟ عرش عظیم کا مالک و مختار کون ہے ؟ کائنات میں ہر چیز کس کے حکم سے چل رہی ہے ؟ وہ کون سی ذات ہے جس کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–3

(ف 1) اس سورت کی بہت سی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں اس کو تہائی قران کے برابر فرمایا گیا ہے یعنی تین مرتبہ اس کو پڑھاجائے تو پورے قرآن کی تلاوت کا ثواب ملے۔ ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے اس سورت سے بہت محبت ہے فرمایا اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کرے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–4

ف 1: احد کا اطلاق جب اس طریق سے ہو تو اس کے معنی بجزذات صمدیت کے اور کچھ نہیں ہوتے ۔ غرض یہ ہے کہ اس کی ذات ہر نوع کے تکثروتعدد سے پاک ہے ۔ حل لغات :۔ الصمد ۔ ایسی بےنیاز اور بلند ذات جس کی بےنیازی بربنائے ممدوحیت ہو کفوا ۔ برابر ۔ ہم جنس ۔ مانند ۔ ہمتا

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں اور سب اس کے محتاج ہیں - اس میں ان سب لوگوں کا رد ہے جو غیر اللہ کو کسی درجہ میں مستقل مانتے ہیں جیسے ہنود کے بعض فرقے جو روح اور مادے کی قدامت کے قائل ہیں ان کا رد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عالم کے بنانے میں روح اور مادے کا محتاج ہے اور روح اور مادہ اپنے استقلال میں اللہ تعالیٰ کے محتاج نہیں ہیں جیسا کہ اس فرقے کا دعویٰ ہے اس آیت میں ان کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں عالم کے لئے ایک خالق کافی نہیں ہے بلکہ کئی صانع ہونے چاہیں اور عالم کے بنانے کے لئے کئی خالق ہونے کی ضرورت ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 3۔ کمال ذات یہ کہ واجب الوجود ہے اور کمال صفات یہ کہ علم وقدرت وغیرہ اس کے قدیم اور محیط ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 2–3

نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے 3 جب سے انسان نے اس دنیا میں قدم رکھ اس وقت سے لیکر آج تک یہ چیز مشترک چلی آرہی ہے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی جلالت ، قہارت اور کسی چیز کا محتاج نہ ہونا اور ہر طرح سے بےنیاز ہونا مانا گیا اور تسلیم کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ایسی ایسی خرافات باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی گئی ہیں اور اس وقت بھی منسوب کی جاتی ہیں کہ سن کر انسان دنگ رہ جاتا ہے شاید ہی دنیا میں کوئی ایسی قوم گزری ہو جس نے اللہ رب ذو الجلال والاکرام کی طرف اس طرح کی باتیں تسلیم نہ کی ہوں کسی نے اللہ کی طرف اولاد منسوب کی ہے اور کسی نے کسی کا بیٹا قرار دیا ہے اور کسی نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse [ 112:2] اللَّـهُ الصَّمَدُ (Allah is Besought of all, needing none) The word samad bears several literal senses. Therefore, the Qur'anic exegetical scholars have assigned different meanings to this verse. Tabarani, the leading authority on Prophetic Traditions, in his kitab-us-Sunnah, has collected all the interpretations of the Divine attribute As-samad and concluded that they are all authentic, and comprehend all the attributes of our Lord that have been assigned to Him, but originally it refers to 'the chief who has no superior and to whom the people turn for the fulfillment of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 The word used in the original is samad of which the root is smd. A look at the derivatives in Arabic from this root will show how comprehensive and vast this word is in meaning. (Lexical discussion of the meanings of the derivatives is omitted) . On the basis of these lexical meanings the explanations of the word asSamad in the verse Allah-us-Samad, which have been reported from the Companions, their immediate successors and the later scholars are given below: Hadrat 'AIi. 'Ikrimah and Ka'b Ahbar: "Samad is he who has no superior. " Hadrat 'Abdullah bin Mas`ud, Hadrat `Abdullah bin `Abbas…

Read the full tafseer →