Al-Ikhlaas 112:1

112. Al-Ikhlaasالإخلاص

Sincerity · Meccan · 4 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

112:1

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ۟ۚقُلۡ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ‌

کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) الله (ہے) ایک ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "He is Allah, [who is] One,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 37 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ikhlaas

All translations of 112:1

کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) الله (ہے) ایک ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو : بات یہ ہے کہ اللہ ہر لحاظ سے ایک ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے نبئ مکرّم!) آپ فرما دیجئے: وہ اﷲ ہے جو یکتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے وہ اللہ ایک ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ کہہ دیجیے کہ : اللہ ایک ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو ، وہ اللہ سب سے الگ ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو (ان سے اے پیغمبر !) کہ وہ اللہ ہے یکتا

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ ایک ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہہ دیجیے وہ اللہ یکتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو کہہ وہ اللہ ایک ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: “He is Allah, the One and Unique;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :The truth is that Allah is One.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :The truth is that Allah is One.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "He is Allah, One."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say, "He is Allah, [who is] One,

— Saheeh International

(Muhammad), say, "He is the only God.

— Muhammad Sarwar

Say: He, Allah, is One.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: He is Allah, the One!

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 112:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

اپنی حکمت و تدبر میں وحدہ لا شریک ٭٭ اس کے نازل ہونے کی وجہ پہلے بیان ہوچکی ہے، حضرت عکرمہ رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے ہم حضرت عزیز کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور نصرانی کہتے تھے ہم حضرت مسیح کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور مجوسی کہتے تھے ہم سورج چاند کی پرستش کرتے ہیں اور مشرک کہتے تھے ہم بت پرست ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری کہ اے نبی تم کہہ دو کہ ہمارا معبود تو اللہ تعالیٰ ہے جو واحد اور احد ہے جس جیسا کوئی نہیں جس کا کوئی وزیر نہیں جس کا کوئی شریک نہیں جس کا کوئی ہمسر نہیں جس کا کوئی ہم جنس نہیں جس کا برابر اور کوئی نہیں جس کے سوا کسی میں الوہیت نہیں۔ اس لفظ کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الاخلاص 1 اس حکم کے اولین مخاطب تو رسول اللہ ﷺ ہیں، کیونکہ آپ ہی سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ آپ کا رب کون اور کیسا ہے، اور آپ ہی کو حکم دیا گیا کہ اس سوال کے جواب میں آپ یہ کہیں۔ لیکن حضور کے بعد ہر مومن اس کا مخاطب ہے۔ اسے بھی وہی بات کہنی چاہیے جس کے کہنے کا حکم حضور کو دیا گیا تھا۔ سورة الاخلاص 2 یعنی میرے جس رب سے تم تعارف حاصل کرنا چاہتے ہو وہ کوئی اور نہیں بلکہ اللہ ہے۔ یہ ان سوال کرنے والوں کی بات کا پہلا جواب ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ میں کوئی نیا رب لے کر نہیں آگیا ہوں جس کی عبادت دوسرے سب معبودوں کو چھوڑ کر میں تم سے کروانا چاہتا ہوں، بلکہ وہ وہی ہستی ہے جس کو تم اللہ کے نام سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (اس کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک مرتبہ مشرکین نے آپ سے کہا کہ اپنے رب کی صفات اور نسب بیان کیجئے اس پر یہ سورت نازل ہوئی، کذافی الدور المنثور باسانید متعددہ) (آپ ان لوگوں سے) کہہ دیجئے کہ وہ یعنی اللہ (اپنے کمال ذات وصفات میں) ایک ہے (کمال ذات یہ ہے کہ واجب الوجود ہے، یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور کمال صفات یہ کہ علم قدرت وغیرہ اس کے قدیم اور محیط ہیں اور) اللہ بےنیاز ہے (یعنی وہ کسی کا محتاج نہیں اور اس کے سبب محتاج ہیں) اس کے اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے۔ معارف و مسائل شان نزول۔ ترمذی حاکم وغیرہ کی روایت میں ہے کہ مشرکین مکہ نے رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’قُلْ‘ منادی کرنے کے مفہوم میں: یہ ’قُلْ‘ اسی مفہوم میں ہے جس میں ’قُلْ یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ‘ (الکٰفرون ۱۰۹: ۱) میں ہے یعنی اعلان کر دو، برملا کہہ دو اور اس طرح منادی کر دو کہ ہر شخص سن اور جان لے، نہ کسی کو کوئی اشتباہ باقی رہے، نہ کسی مزید سوال و جواب کی گنجائش رہ جائے۔ اعلان کا موقع و محل: اس طرح کے اعلان کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب بحث و مناظرہ کا پورا دور گزر چکتا ہے اور یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سمجھانے کا حق ادا ہو چکا ہے، اب جو لوگ مزید بحثیں اٹھا ر ہے ہیں وہ سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ بات کو الجھانے اور طول دینے کے لیے اٹھا رہے ہیں۔ اس طرح کے موقع پر یہ مناسب ہوتا ہے کہ بات دوٹوک…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

1: بعض کافروں نے حضور اقدس ﷺ سے پوچھا تھا کہ آپ جس خدا کی عبادت کرتے ہیں، وہ کیسا ہے ؟ اس کا حسب نسب بیان کر کے اس کا تعارف تو کرائیے۔ اس کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی (روح المعانی بحوالہ بیہقی و طبرانی وغیرہ) 2: یہ قرآن کریم کے لفظ ”احد“ کا ترجمہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ صرف ”ایک“ کا لفظ اس کے پورے معنی ظاہر نہیں کرتا۔ ”ہر لحاظ سے ایک“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ذات اس طرح ایک ہے کہ اس کے نہ اجزاء ہیں، نہ حصے ہیں، اور نہ اس کی صفات کسی اور میں پائی جاتی ہیں۔ وہ اپنی ذات میں بھی ایک ہے، اور اپنی صفات میں بھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

قل ................ احد (1:112) ” کہو ، وہ اللہ ہے یکتا “۔ احد کا لفظ واحد سے زیادہ گہرا ہے کیونکہ احمد ، واحد کے مفہوم پر مزید اضافہ کرتا ہے ، کہ اس کے ساتھ اور کوئی چیز حقیقتاً موجود نہیں ہے اور اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے یعنی وہ یکتا ہے۔ ” احد “ میں وجوء کی احدیت کا اظہار ہے ، یعنی اس کی حقیقت کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس کے سوا اور کوئی حقیقی وجود نہیں ہے۔ اللہ کے سوا جس قدر موجودات ہیں وہ اپنا وجوء اللہ سے اخذ کرتی ہیں اور وہ اپنی حقیقت اللہ کی حقیقت سے لیتی ہیں۔ وہ فاعلیت میں بھی یکتا ہے لہٰذا اللہ کے سوا اس پوری کائنات میں کوئی اور موثر اور کوئی اور فاعل نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ایک نظریہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی جو لوگ اللہ کی نسبت پوچھتے ہیں کہ وہ کیسا ہے، ان سے کہہ دیجئے کہ وہ ایک ہے جس کی ذات میں کسی قسم کے تعدد و تکثر اور دوئی کی گنجائش نہیں۔ نہ اس کا کوئی مقابل، نہ مشابہ، اس میں مجوس کے عقیدہ کا رد ہوگیا جو کہتے ہیں کہ خالق دو ہیں۔ خیر کا خالق " یزداں " اور شر کا " اہر من " نیز ہنود کی تردید ہوئی جو تینتیس کروڑ دیوتاؤں کو خدائی میں حصہ دار ٹھہراتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1{ قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔ } ”کہہ دیجیے وہ اللہ یکتا ہے۔“ اَحَد : وہ اکیلا اور یکتا جس کی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہیں۔ وہی اکیلا ربّ ہے ‘ کسی دوسرے کا ربوبیت اور الوہیت میں کوئی حصہ نہیں۔ وہی تنہا کائنات کا خالق ‘ مالک الملک اور نظام عالم کا مدبر و منتظم ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 اللہ کے اکیلے اور وحدہ لاشریک ہونے پر کفار کا تعجب اور سوالات :۔ آیت کے انداز سے ہی معلوم ہو رہا ہے کہ یہ کسی سوال کا جواب دیا جارہا ہے۔ آپ ﷺ اکیلے اللہ کی دعوت دے رہے تھے جبکہ دور نبوی کی ساری دنیا طرح طرح کے شرک میں مبتلا تھی۔ لہذا اللہ کی ذات کے متعلق آپ سے کئی بار سوال ہوا اور کئی قسم کے فرقوں کی طرف سے ہوا۔ سب سے پہلے یہ سوال مشرکین مکہ نے اٹھایا تھا۔ جو ہر خوبصورت پتھر کو معبود بنالیتے تھے اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اس سوال کی نوعیت درج ذیل حدیث سے واضح ہوتی ہے۔ سیدنا ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے آپ ﷺ سے کہا کہ اپنے رب کا ہم سے نسب بیان کرو۔ تو اللہ نے یہ سورت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1۔ ذات، صفات، سب کے لحاظ سے واحد ویکتا۔ نہ عدد میں دو (2) نہ اس کا کوئی اقنوم، نہ اس کا کوئی مظہر یا اوتار، نہ اس کا کوئی مثل ونمونہ، یعنی ھو الواحد الا حد الا حدیالذی لا نظیر لہ ولا وزیرولا ندید ولا شبیہ ولا عدیل (ابن کثیر) (آیت) ” احد “۔ لفظ احد کا استعمال عربی میں مختلف موقعوں پر ہوتا رہتا ہے۔ جب صیغہ اثبات میں اور صفت مطلق کی طرح پر آتا ہے تو اس کا اطلاق بجز حق تعالیٰ کے اور کسی پر جائز نہیں کہ صرف وہی اپنی ذات وصفات میں بےنظیر وبے ہمتا ہے۔ والثالث ان یستعمل مطلقا وصفا ولیس ذلک الا فی وصف اللہ تعالیٰ (راغب) ولا یطلق ھذا الفظ علی احد فی الاثبات الا علی اللہ عزوجل لانہ الکامل فی جمیع صفاتہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–2

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، نبی ﷺ سے ان کے رب کے کے بارے میں سوال کیا گیا تو قل ھو اللہ احد نازل ہوئی، کہو وہ اللہ یکتا ہے، اللہ، ھو کی خبر ہے اور احد اس سے بدل ہے یا (مبتداء) کی خبر ثانی ہے، اللہ بےنیاز ہے یہ مبتدا خبر ہیں یعنی وہ حاجتوں میں ہمیشہ مقصود ہے، نہ اس کی کوئی اولاد مجانست کے منتقی ہونے کی وجہ سے نہ وہ کسی کی اولاد اس سے حدوث کے منتفی ہونے کی وجہ سے اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے یعنی ہمسر اور مماثل نہیں، لہ کفواً سے متعلق ہے، لہ کو کفواً پر مقدم کردیا گیا ہے، اس لئے کہ وہی (ماثل سے) مقصود بالنفی ہے اور احد کو جو کہ یکن کا اسم ہے اس کی خبر سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ھو اللہ احد . ھو ضمیر شان مبتدا ہے اور آئندہ جملہ اس کی خبر ہے۔ اس صورت میں مرجع کی ضرورت نہیں یا ھو ضمیر ہے اور اس رب کی طرف راجع جس کے اوصاف سوال کرنے والوں نے پوچھے تھے۔ یعنی اے محمد ! ﷺ کہہدو کہ میرے رب کے اوصاف جو تم پوچھتے ہو تو وہ اللہ ایک ہے۔ احدٌ اللہ سے بدل ہے یا ھو کی دوسری خبر ہے۔ احد اصل میں وحد تھا۔ وحد اور واحد دونوں ہم معنی ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی قراءت میں ھو اللہ احد تک لَوَاحِدٌ آیا ہے۔ حضرت عمر ؓ کی قراءت بھی یہی ہے۔ اگر ھُو کو ضمیر شان اور اللہ کو مبتداء اور احد کو خبر کہا جائے تو کلام کی صحت ظاہری معنی پر مبنی نہیں ہے کیونکہ اللہ جزئی حقیقی کا نام ہے اور جزئی حقیقی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) قریش نے رسول اکرم ﷺ سے کہا کہ اپنے اللہ کے بارے میں کچھ بیان کرو کہ وہ سونے کا ہے یا چاندی کا اس پر یہ سورت نازل ہوئی کہ قریش سے فرما دیجیے اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے۔ اور وہ ایسا سردار ہے کہ سب اس کے محتاج ہیں یا یہ کہ وہ کھانے پینے سے بےنیاز ہے یا یہ کہ اس کا پیٹ نہیں، یا یہ مطلب ہے کہ اس کی ذات ہر قسم کے عیبوں سے پاک ہے یا یہ کہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور سب کو کافی ہے اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے کہ وراثت میں ملک ملا ہو اور نہ کوئی بادشاہت میں، یا یہ کہ صفات میں اس کے برابر ہے۔ شان نزول : سورة اخلاص ترمذی، حاکم اور ابن خزیمہ نے ابوالعالیہ کے طریق سے محمد…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) قل ھو اللہ احد : اس کی ترکیب کئی طرح سے کی گئی ہے ، زیادہ واضح دو ہیں :(1)”ھو“ مبتدا ہے، لفظ ”اللہ“ پہلی خبر اور ”احد“ دوسری خبر۔ معنی یہ ہوگا :”(ہمارے جس رب کا نسب پوچھ رہے ہو) وہ اللہ ہے (وہ) ایک ہے۔“ (2) ”ھو“ مبدل منہ اور لفظ ”اللہ“ بدل، دونوں مل کر مبتدا اور ”احد“ خبر ہے۔ معنی یہ ہوگا :”وہ اللہ (جس کے متعلق تم پوچھ رہے ہو) ایک ہے۔“ (2) کائنات کے خلاق اور پروردگار کے بیشمار ناموں میں سے لفظ ”اللہ“ بطور علم یعنی اصل نام کے طور پر استعمال ہوتا ہے، باقی نام اس کی کسی نہ کسی صفت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس کی اصل ”الا لہ“ ہے،”الہ“ کا معنی معبود ہے۔ تو لفظ ”اللہ“ کا معنی یہ ٹھہرا کہ وہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

شان نزول :۔ ترمذی حاکم وغیرہ کی روایتغ میں ہے کہ مشرکین مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کا نسب پوچھا تھا ان کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔ دوسری بعض روایات میں یہ سوال یہود مدینہ کی طرفم نسوب کیا ہے اسی لئے اس سورت کے مکی یا مدنی ہونے میں اختلاف ہے حضرت عبداللہ بن مسعود، حسنب صری، عطار، عکرمہ، جابر ؓ نے اس کو مکی کہا ہے اور قتادہ، ضحاک وغیرہ نے مدنی، حضرت ابن عباس کے دو قول منقول ہیں (قرطبی) بعض روایات میں ہے کہ مشرکین کے سوال میں یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کس چیز کا بنا ہوا ہغے سونا چاندی یا اور کچھ، ان کے جاب میں یہ سورت نازل ہوئی۔ فضائل سورت :۔ امام احمد نے حضرت انس سے روایت کیا ہے غ کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1۔ احمد و بخاری فی تاریخہ والترمذی وابن جریر وابن خزیمہ وابن خاتم فی السنۃ والبغوی فی معجمہ وابن المنذر نے العظمہ والحاکم وصححہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین نے نبی اکرم ﷺ سے کہا یا محمد ! ہمارے لیے اپنے رب کا نسب بیان کیجیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی آیت قل ہو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد کہہ دو وہ اللہ ایک ہے اللہ بےنیاز ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اس لیے کہ کوئی چیز پیدا نہیں کی جائے گی مگر وہ عنقریب مرجائے گی اور کوئی چیز نہیں مرے گی مگر عنقریب اس کا وارث بنایا جائے گا۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ کو نہ موت آئے گی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ][ هُوَ : حقیقت بس یہ ہے کہ ][ اللّٰهُ اَحَدٌ: اللہ یکتا ہے ] ترکیب : (آیت۔ 1) اس کی مختلف ترکیبیں کی گئی ہیں۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ ھُوَ ضمیر الشان ہے۔ اَللّٰہُ مبتدا اور اَحَدٌ اس کی خبر ہے۔ نوٹ 1: قرآن مجید کی دوسری سورتوں میں بالعموم کسی ایسے لفظ کو ان کا نام قرار دیا گیا ہے جو ان میں وارد ہوا ہو۔ لیکن اس سورة میں لفظ اخلاص کہیں وارد نہیں ہوا۔ اس کو یہ نام اس کے معنی کے لحاظ سے دیا گیا ہے جو شخص بھی اس کو سمجھ کر اس کی تعلیم پر ایمان لے آئے گا وہ شرک سے خلاصی پا جائے گا۔ جب رسول اللہ ﷺ توحید کی دعوت لے کر اٹھے تھے اس وقت دنیا کے مذہبی تصورات کیا تھے۔ (اس کا ایک ہلکا سا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس سورت میں اللہ جل شانہ کی ذات اور صفات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ الفاظ اگرچہ مختصر ہیں لیکن واضح طور پر یہ بتادیا کہ اللہ تعالیٰ بالکل تنہا ہے اس کا کوئی بھی شریک نہیں ہے نہ ذات میں نہ صفات میں اور کوئی بھی ذرا بھی کسی طرح اس کا برابر نہیں، حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ آپ اپنے رب کا نسب بیان کر دیجئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی، اور حضرت ابن عباس ؓ سے یوں مروی ہے کہ عامر بن طفیل اور اربد بن ربیعہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عامر نے کہا اے محمد ﷺ آپ کس کی طرف ہمیں دعوت دیتے ہیں آپ نے فرمایا میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں عامر نے کہا کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

اعلان توحید خداوندی و تقدیس وتنزیہ از مماثلت ومشابہت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل ھو اللہ احد ......... الی .......... کفوا احد “۔ حق تعالیٰ شانہ کی معرفت اسکی شان ربوبیت ہی سے حاصل ہوسکتی ہے جو انسان کی فطرت میں ابتداء آفرینش اور روز اول سے ودیعت رکھ دی گئی، اور عہد الست میں اولاد آدم کو اسی عنوان سے مخاطب فرمایا گیا تھا (آیت) ” الست بربکم “۔ سب نے جواب دیا تھا ” بلی “ تو رب کی معرفت انسان کے خمیر اور اسکی فطرت میں ودیعت رکھی ہوئی تھی، اس لئے قرآنی مضامین کی ابتداء اسی وصف کیساتھ حمد وثناء سے فرمائی گئی (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “۔ اور ظاہر ہے کہ مقصد اس معرفت کا تقاضا یا اس کا نتیجہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

2:۔ ” قل ھواللہ “ ھو ضمیر شان ہے۔ ” اللہ احد “ اللہ ایک ہے وہی سب کا حاجت روا اور کارساز ہے۔ معنی اللہ گفت آن سیبویہ۔ یولہون فی الحوائج ہم لدیہ۔ یعنی اللہ اس ذات پاک کا نام ہے جس کی طرف لوگ حاجات میں دوڑیں اور جس کی پناہ ڈھونڈیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الاخلاص ہے ، اخلصا کا مطلب دل کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے لئے خاص کرنا ہے گویا یہ انسانوں کے قلوب کو اللہ کی توحید کے لئے مختص کرنے والی سورة ہے اس میں خدا کی توحید کا ذکر ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چار آیات ، پندرہ الفاظ اور اڑتالیس حروف ہیں۔ یہ چھوٹی سورة ہے۔ خلاصہ قرآن سورۃ والتین کے بعد والی چھوٹی چھوٹی سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کا خلاصہ بیان فرما دیا ہے۔ لمبی سورتوں میں جو باتیں بڑی تفصیل اور دلائل اور مثالوں کے ساتھ واضح کی گئی ہیں وہی باتیں ان چھوٹی چھوٹی سورتوں میں بالکل مختصر طریقے سے دو ، دوچار چار جملوں میں بیان کی گئی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ ہُوَاللہُ اَحَدٌ۝ 1 ۚ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] والقَوْلُ يستعمل علی أوجه : أظهرها أن يكون للمرکّب من الحروف المبرز بالنّطق، مفردا کان أو جملة، فالمفرد کقولک : زيد، وخرج . والمرکّب، زيد منطلق، وهل خرج عمرو، ونحو ذلك، وقد يستعمل الجزء الواحد من الأنواع الثلاثة أعني : الاسم والفعل والأداة قَوْلًا، كما قد تسمّى القصیدة والخطبة ونحوهما قَوْلًا . الثاني : يقال للمتصوّر في النّفس قبل الإبراز باللفظ : قَوْلٌ ، فيقال : في نفسي قول لم أظهره . قال تعالی: وَيَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ [ المجادلة/ 8] . فجعل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب ¦ ھو الضمیر للشان اللہ مبتدء احد خبرہ والجملۃ للضمیر وھومرجعہ۔ ویمن ان یرجع الضمیر الی المذکور وھو الرب وعلی ھذا التقدیر ھو مبتدء اللہ احد الجملۃ خبرہ ویمکن ان یکون اللہ خبراول احد خبرثان و یجوز ان یکون اللہ بدلا من ھوا ویجوزان یکون احد خبرمبتدء محذوف۔ والفرق بین احدو واحد مشہور۔ اللہ مبتدء الصمد خبرہ لم یلد ھذہ الجملۃ وکذاما بعدھا تفسیر للصمد۔ ولم یکن اسمہ احد وفی الخبر وجہاں احد ہما کفوا ولہ امامتعلق بکان اوحال من کفوا والثانی الخبر لہ وکفوا حال من احد ای ولم یکن لہ احد کفوا فلما قدم النکرۃ نصبھا علی الحال۔ تفسیر ¦ یہ سورة جمہور کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی ہے اور عطا و عکرمہ و جابر و…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

قُلْ کا مفہوم سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ کہہ دیجیے یعنی اعلان کردیجیے اور جو سوالات آپ سے کیے جارہے ہیں ان کے جواب میں یہ سورة ان کو پڑھ کر سنا دیجیے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد قریش میں سب سے زیادہ جس موضوع پر بحث ہوتی تھی وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کی وحدانیت تھی۔ کیونکہ حضور ﷺ اپنی دعوت میں سب سے زیادہ زور اسی مرکزی مضمون پر دیتے تھے۔ اگرچہ رسالت اور معاد بھی ہر مجلس کا موضوع تھے، لیکن ان کی حیثیت ضمنی مباحث کی تھی، توحید کا مسئلہ سب سے اہم تھا۔ دنیا کا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی بات پر گرما گرمی ہوتی اور وہ ہر مجلس کا موضوع بن جاتی اور بات بحث…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط سورت : الاخلاص سے پہلے سورت اللّہب ہے جس میں توحید کے مخالفین میں سے ایک بڑے مخالف کی ہلاکت و بربادی کی اطلاع دی گئی ہے۔ اس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ بالآخر دعوت توحید کے مخالف مٹ جائیں گے اور توحید خالص کا پرچار اور غلغلہ ہوگا۔ مفسرین نے اس سورت کے اور بھی نام تحریر فرمائے ہیں لیکن اس کا سب سے مشہور اور معتبر نام ” الاخلاص “ ہے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد اور قرآن کی مرکزی دعوت توحید ہے اسی لیے قرآن مجید کا آغاز فاتحہ سے ہوا جس کی ابتداء توحید سے کی گئی ہے اور قرآن مجید کا اختتام بھی توحید کی سورتوں سے کیا گیا ہے۔ اس سورت کے نزول کا پس منظر بیان کرتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 : قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ (آپ کہہ دیجئے کہ وہ یعنی اللہ ایک ہے) ھُوَ یہ ضمیر شان ہے۔ اللّٰہُ اَحَدٌ اور یہ شان ہے کہ اللہ ایک ہے جیسا کہتے ہیں : ھو زیدٌ منطلق گویا اس طرح کہا گیا۔ الشان ھذا و ھو ان اللہ واحد لاثانی لہ۔ شان یہ ہے کہ وہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی ثانی نہیں۔ نحو : ھو ؔ ابتداء کی وجہ سے محل رفع میں ہے اور جملہ اس کی خبر ہے اس صورت میں راجع کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ یہ حکم مفرد میں ہے۔ جیسا اس قول میں زیدٌ غلامک اس طرح کہ وہ معنًا مبتدأ ہے یہ اس طرح نہیں جیسا یہ جملہ زیدٌ ابوہ منطلق کیونکہ اس میں زیدٌ اور جملہ دونوں مختلف دو معنوں پر دلالت کرتے ہیں۔ پس اس کے درمیان ایسی ضمیر چاہیے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” قل ھواللہ احد “ ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ مشرکین نے کہا رسول اللہ ﷺ کو ہمیں اپنے رب کا نسب بیان کریں تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ عامر بن طفیل اور اربد بن معاویہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو عامر نے کہا اے محمد ! ( ﷺ ) آپ ہمیں کس چیز کی طرف بلاتے ہیں۔ آپ ﷺ کے پاس آئے تو عامر نے کہا اے محمد ! ( ﷺ ) آپ ہمیں کس چیز کی طرف بلاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی طرف تو اس نے کہا ہمارے سامنے اس کی صفت بیان کریں، کیا وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ؟ یا لوہے کا یا لکڑی کا ؟ تو یہ سورت نازل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اربد کو بجلی کی کڑک سے ہلاک کیا اور عامر بن طفیل کو طاعون…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ مسند امام احمد ترمذی تاریخ بخاری ابن خزیمہ مستدرک حاکم مسند ابو یعلیٰ میں ابی بن کعب اور جابر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ سے اللہ تعالیٰ کی صفت پوچھی تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی۔ اس شان نزول کی روایتوں میں بعضی روایتوں کی سند معتبر ہے اور باقی روایتوں کی تقویت ان معتبر اسناد کی روایتوں سے ہوجاتی ہے یہود حضرت عزیز کو اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا اور عرب کے مشرک لوگ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اس لئے ان سب کو جھٹلایا اور فرمایا کیا اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ کھانے پینے ‘ بی بی بچے کسی چیز کا وہ حاجت مند نہیں ہے وہ سب چیز کا پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(قُلْ ) یعنی اس حقیقت پر اعتقاد رکھتے ہوئے اور اس کے معنی کو جانتے ہوئے حتمی طور پر کہہ دیجئے ( هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ) وہ اللہ ایک ہی ہے یعن وحدانیت اس کی ذات میں منحصر ہے وہ ہر قسم کے کمال میں احد اور منفرد ہے جو اسمائے حسنی صفات کاملہ وعالیہ افعال مقدسہ کا مالک ہے جس کی کوئی نظیر ہے نہ مثیل۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

1 ۔ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو وہ معبود برحق اللہ ہے، یعنی جس کے بارے میں تم لوگ مجھ سے پوچھتے ہو کہ وہ کیسا ہے، اور جس کی عبادت و بندگی میں تم کو دیتا ہوں، جس کے حضور میں خود سجدہ ریز ہوتا ہو اور جو معبود برحق ہے، روایات میں ہے کہ مشرکین مکہ کے کچھ لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا صف لنا ربک الذی تدعونا الیہ ( یعنی آپ ہمارے لیے اپنے اس بار کی صفت بیان کریں جس کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں) اور بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ آپ کا رب سونے یا چاندی کا ہے، یا تانبے اور پیتل کا ؟ وغیرہ۔ اور ظاہر ہے کہ پیکر محسوس کے خوگر اس ناقص انسان کی عقلی اور فکری پرواز اس کے سوا اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

اللہ وحدہ لا شریک لہ تشریح :۔ اصل میں یہ چھوٹی سی سورت اس رب ذوالجلال ' مالک کون و مکان حي القیوم، رب العلیٰ کی تعریف بیان کر رہی ہے۔ جو ہم انسانوں کی عقل سے باہر ہے۔ انسانی عقل اس کا احاطہ کرنے سے بالکل قاصر ہے۔ مگر رسول اللہ ﷺ سے اہل مکہ یہی سوال کرتے تھے کہ '' اچھا بتاؤ تو تمہارا اللہ ہے کیسا ' جس کی تم عبادت کرتے ہو ''؟ تو اللہ نے اس کے جواب میں سورة الاخلاص نازل فرمائی۔ اور قصہ ہی تمام کردیا کہ بیٹھے سوچتے رہو۔ بتا دیا کہ بس وہ اپنی ذات ' اوصاف ' شکل ' کمالات اور مرتبہ میں ایسا بلند وبالا اور بےمثال ہے کہ کسی چیز کی مشابہت سے تم اس کو پہچان نہیں سکتے کیونکہ وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–4

سورة الاخلاص۔ آیات 1 تا 3۔ اسرار ومعارف۔ کہہ دیجئے کہ اللہ وہ ذات ہے جو تمام کمالات کا جامع اور تمام نقائص سے پاک ہے اس جیسا کوئی دوسرا نہیں جس کی سب مخلوق محتاج ہے مگر وہ کسی کا محتاج نہیں اسے مخلوق پر قیاس تک نہیں کیا جاسکتا کہ نہ وہ کسی کی اولاد ہے نہ کوئی اس کی وہ ایسا نہیں جو نسب سے وجو دمیں آئے نہ کوئی اس کا مثل ہے نہ اس سے مشابہہ ہے اس کے ساتھ کسی طرح بھی ذات یا صفات میں کسی کو شریک نہیں کیا جاسکتا۔

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 10 اس سے نصاریٰ کا رد ہوا جو حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا بناتے ہیں اور مشرکین عرب کا بھی رد ہوا جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں رکھا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(112:1) قل ھو اللہ احد : قل فعل امر واحد مذکر حاضر، ای قل یا محمد ﷺ اے محمد ﷺ تو کہہ دے (ان کافروں سے) ھو اللہ احد : ھو ضمیر شان مبتداء ہے اور آئندہ جملہ (اللّٰہ احد) اس کی خبر۔ (روح المعانی و تفسیر مظہری) صاحب تفسیر مظہری فرماتے ہیں : ھو ضمیر شان مبتداء ہے اور آئندہ جملہ اس کی خبر ہے اس صورت میں مرجع کی ضرورت نہیں ہے یا ھو ضمیر ہے اور اس رب کی طرف راجع ہے جس کے اوصاف سوال کرنے والوں نے پوچھے تھے۔ یعنی اے محمد ﷺ کہہ دو کہ میرے رب کے اوصاف جو تم پوچھتے ہو تو وہ اللہ ایک ہے۔ احد بدل ہے اللہ سے۔ یا ھو کی دوسری خبر ہے۔ احد اصل میں وحد تھا۔ وحد اور واحد دونوں ہم معنی ہیں۔ اگر ھو کو ضمیر شان اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–4

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4 احد : ایک ، الصمد : بےنیاز۔ کسی کا محتاج نہیں ، لم یلد : اس نے کسی کو نہیں جنا ، لم یولد : نہ کسی نے اس کو جنا، کفوا : برابر ، احد : کوئی ایک تشریح : آیت نمبر 1 تا 4 سورة زخرف ، سورة عنکبوت، مومنون ، سورة یونس ، سورة بنی اسرائیل اور قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور کفار سے یہ سوال کیا ہے کہ بتائو زمین وآسمان کا مالک کون ہے ؟ چاند اور سورج کس کے حکم سے چل رہے ہیں ؟ وہ کون ہے جو بلندیوں سے پانی برسا کر مردہ زمین میں ایک نئی زندگی پیدا کردیتا ہے ؟ عرش عظیم کا مالک و مختار کون ہے ؟ کائنات میں ہر چیز کس کے حکم سے چل رہی ہے ؟ وہ کون سی ذات ہے جس کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–3

(ف 1) اس سورت کی بہت سی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں اس کو تہائی قران کے برابر فرمایا گیا ہے یعنی تین مرتبہ اس کو پڑھاجائے تو پورے قرآن کی تلاوت کا ثواب ملے۔ ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے اس سورت سے بہت محبت ہے فرمایا اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کرے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[1] ایک مرتبہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اپنے رب کی صفات اور نسب بیان کیجئے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [2] یعنی اپنی ذات وصفات میں یکتا ہے۔ کمال ذات یہ ہے کہ وہ واجب الوجود ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یہاں '' واحد '' کی بجائے '' احد '' استعمال کیا گیا ہے اگرچہ ترجمہ تو دونوں کا '' ایک '' ہی کیا جاتا ہے مگر مفہوم کے اعتبار سے '' احد '' کے معنی میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ کسی ایک یا متعدد مادوں سے نہیں بنا اور نہ اس میں کثرت کا کوئی امکان ہے اور نہ وہ کسی کے مشابہ ہے۔ اس لئے عربی زبان میں '' احد '' صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–4

ف 1: احد کا اطلاق جب اس طریق سے ہو تو اس کے معنی بجزذات صمدیت کے اور کچھ نہیں ہوتے ۔ غرض یہ ہے کہ اس کی ذات ہر نوع کے تکثروتعدد سے پاک ہے ۔ حل لغات :۔ الصمد ۔ ایسی بےنیاز اور بلند ذات جس کی بےنیازی بربنائے ممدوحیت ہو کفوا ۔ برابر ۔ ہم جنس ۔ مانند ۔ ہمتا

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے وہ اللہ ایک ہے اس میں دہریوں کا مجوسیوں کا ابطال ہوگیا جو کہتے ہیں خدا کا وجود ہی نہیں اور مجوس کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں دو خدا ہیں ایک خیر کا اور دوسرا شرکا اور عام بت پرستوں کا بھی رد ہے جو معبودان باطلہ کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 3۔ کمال ذات یہ کہ واجب الوجود ہے اور کمال صفات یہ کہ علم وقدرت وغیرہ اس کے قدیم اور محیط ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں اکیلا ہے 1 (قل) کہہ دیجئے اے پیغمبر اسلام ! جب نبی اعظم و آخر ﷺ نے نبوت و رسالت کا اعلان کیا تو اس میں سرفہرست جو بات تھی وہ اللہ تعالیٰ کی توحید خالص کا مسئلہ تھا۔ قریش مکہ اور دوسرے سارے ہی لوگ اللہ کے منکر نہیں تھے بلکہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی ذات کو مانتے تھے لنکا اللہ تعالیٰ کی صفات میں اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق میں سے جن کو وہ نیک اور بہتر تصور کرتے تھے ان کو اللہ تعالیٰ کی صفات کے طور پر مانتے اور پہچانتے تھے اور ان کے مرنے کے بعد ان کی یادگار کے طور پر ان کے بُت بنالیے گئے تھے اور ان بتوں کو وہ ان شخصیتوں کو قائم مقام سمجھ کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Cause of Revelation Tirmidhi, Hakim and others have recorded that the pagans of Makkah asked the Messenger of Allah ﷺ : "0 Muhammad! Tell us about the ancestry of your Lord." So Allah revealed this Surah. Some narratives ascribe this inquiry to the Jews of Madinah. In view of these conflicting reports, there is a divergence of opinion as to whether this is a Makki Surah or Madani Surah. According to Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud, Hasan Basri, ` Ata', ` Ikrimah and Jabir ؓ ، the Surah is Makki and, according to Qatadah, Dahhak رحمۃ اللہ علیہما and others, it is Madani. According to one…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 The first addressee of this Command is the Holy Prophet (upon whom be peace) himself for it was he who was asked: "Who is your Lord and what is He like? Again it was he who was commanded to answer the question in the following words. But after him every believer is its addressee. He too should say what the Holy Prophet had been commanded to say. 2 That is, "My Lord to Whom you want to be introduced is none but Allah." This is the first answer to the questions, and it means: "I have not introduced a new lord who I want you to worship beside all other gods, but it is the same Being you know…

Read the full tafseer →