Al-Masad 111:5

Al-Masad · from ayah 5

111:5

فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ ۟۠فِىۡ جِيۡدِهَا حَبۡلٌ مِّنۡ مَّسَدٍ

اس کے گلے میں مونج کی رسّی ہو گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Around her neck is a rope of [twisted] fiber.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 36 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Masad

All translations of 111:5

اُس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس کے گلے میں مونج کی رسّی ہو گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی رسی ہوگی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اپنی گردن میں مونجھ کی رسی لیے ہوئے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس کے گلے میں کھجور کی چھال کا رسّا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس کی گردن میں کھجور کی چھال کا (وہی) رسّہ ہوگا (جس سے کانٹوں کا گٹھا باندھتی ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کی گردن میں مضبوط بٹی ہوئی رسی ہوگی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس کی گردن میں مضبوط بٹی ہوئی رسی ہوگی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس کی گردن میں بٹی ہوئی رسی ہوگی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس کے گلے میں ایک مضبوط رسی پڑی ہوگی مونجھ کی

— مولانا اسحاق مدنی

اس کی گردن میں ایک رسی (پڑی) ہوگی خوب بٹی ہوئی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس کے گلے میں بٹی ہوئی رسّی ہوگی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس کے گلے میں مونج کی رسی ہوگی

— محترمہ رفعت اعجاز

upon her neck shall be a rope of palm-fibre.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Around her neck, there is (a collar of iron, like) a well-twisted rope.

— Muhammad Taqi Usmani

Around her neck, there is (a collar of iron, like) a well-twisted rope.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

In her neck is a twisted rope of Masad.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Will have upon her neck a halter of palm-fibre.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Around her neck is a rope of [twisted] fiber.

— Saheeh International

and so too will his wife who (threw thorns and firewood in the Prophet's way). Around her neck will be a rope of palm fibre.

— Muhammad Sarwar

Upon her neck a halter of strongly twisted rope.

— Muhammad Habib Shakir

On her neck shall be a cord of twisted fibre.

— Abdul Majid Daryabadi

A twisted rope of palm-leaf fibre round her (own) neck!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 111:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

تفسیر سورة تبت بدترین اور بدنصیب میاں بیوی :٭٭ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ بطحا میں جا کر ایک پہاڑی پر چڑھ گئے اور اونچی آواز سے یاصباحاہ یاصباحاہ کہنے لگے قریش سب جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا اگر میں تم سے کہوں کہ صبح یا شام دشمن تم پر چھاپہ مارنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمھو گے ؟ سب نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا سنو میں تمہیں اللہ کے سخت عذاب کے آنے کی خبر دے رہا ہوں تو ابو لہب کہنے لگا تجھے ہلاکت ہو، کیا اسی لئے تو نے ہمیں جمع کیا تھا ؟ اس پر یہ سورت اتری (بخاری) دوسری روایت میں ہے کہ یہ ہاتھ جھاڑتا ہوا یوں کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ تبت بددعا ہے اور تب خبر ہے، یہ ابو لہب آنحضرت ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اللھب 5 اس کی گردن کے لیے جید کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو عربی زبان میں ایسی گردن کے لیے بولا جاتا ہے جس میں زیور پہنا گیا ہو۔ سعید بن المسیب، حسن بصری اور قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ وہ ایک بہت قیمتی ہار گردن میں پہنتی تھی، اور کہا کرتی تھی کہ لات اور عزی کی قسم میں اپنا یہ ہار بیچ کر اس کی قمت محمد ﷺ کی عداوت میں خرچ کردوں گی۔ اسی بنا پر جید کا لفظ یہاں بطور طنز استعمال کیا گیا ہے کہ اس مزین گلے میں جس کے ہار پر وہ فخر کرتی ہے، دوزخ میں رسی پڑی ہوگی۔ یہ اسی طرح کا طنزیہ انداز کلام ہے جیسے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر فرمایا گیا ہے فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ " ان کو درد ناک عذاب کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

فی جید ھا حبل من مسد، مسد بسکون السین مصدر ہے جس کے معنی رسی یا ڈور بٹنے یا اس کے تار پر تار چڑھا کر مضبوط کرنے کے ہیں اور مسد بفتح میم و سی اس رسی یا ڈور کو کہا جاتا ہے جو مضبوط بنائی گئی ہو خواہ وہ کسی چیز کی ہو، کھجور یا ناریل وغیرہ سے یا آہنی تاروں سے ہر طرح کی مضبوط رسی اس میں داخل ہے (کذا فے القامسو) بعض حضرات نے جو خاص کھجور کی رسی اس کا ترجمہ کیا ہے۔ وہ عرب کی عام عادت کے مطابق کیا گیا ہے اصل مفہوم عام ہے۔ اسی مفہوم عام کے اعتبار سے حضرت ابن عباس عروہ بن زبیر وغیرہ نے فرمایا کہ یہاں حبل من مسد سے مراد لوہے کے تاروں سے بٹا ہوا رسا ہے اور یہ اس کا حال جہنم میں ہوگا کہ آہنی تاروں سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ابولہب کی بیوی کے گلے کا ہار قیامت کے دن: یہ اسی تصویر کی تکمیل جو اس سے پہلے والی آیت میں کھینچی گئی ہے۔ یعنی اس کی گردن میں اس طرح کی موٹی رسی پڑی ہو گی جس طرح کی رسی ایندھن ڈھونے والی لونڈیوں کی گردن میں ہوتی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ اس آیت میں جو حالت اس کی بیان ہوئی ہے اس کو مفسرین آخرت کے متعلق مانتے ہیں، پھر تعجب ہے کہ اس سے پہلے والے ٹکڑے کو انھوں نے آخرت سے متعلق کیوں نہیں مانا جب کہ عربیت کے قاعدے سے ان دونوں کے درمیان ایسا اتصال ہے کہ ان کو کسی طرح الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔ لفظ ’مَسَدٌ‘ کھجور کے اس ریشے یا پتے یا چھلکے کے لیے بولا جاتا ہے جس سے مضبوط رسیاں بٹی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

جید گردن۔ مسد، مضبوط بٹی ہوئی رسی۔ وہ مونج کی یا کھجور کی پوست کی ہو یا آہنی تاروں کی۔ جیسا کہ مختلف لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ وہ دنیا میں ڈالے رکھتی تھی جسے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہنم میں اس کے گلے میں جو طوق ہوگا، وہ آہنی تاروں سے بٹا ہوا ہوگا۔ مسد سے تشبیہ اس کی شدت اور مضبوطی کو واضح کرنے کے لیے دی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

5: پہلی تفسیر کے مطابق جب یہ عورت لکڑیاں ڈھو کر لاتی تو ان کو مونجھ کی رسی سے باندھ کر رسی کو اپنے گلے میں لپیٹ لیتی تھی۔ اور دوسری تفسیر کے مطابق یہ بھی دوزخ میں داخلے کی کیفیت بیان ہو رہی ہے کہ اس کے گلے میں مونجھ کی رسی کی طرح طوق پڑا ہوا ہوگا۔ واللہ سبحانہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

یہ سورت اللہ کی طرف سے اس لئے نازل ہوئی کہ ابولہب اور اسکی بیوی کی طرف سے برپا کی ہوئی جنگ میں حضور ﷺ کی حمایت کی جائے۔ گویا یہ معرکہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ تبت یدا ........................ وتب (1:111) ” ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہوگیا وہ “۔ تبت تباب سے مشتق ہے جس کے معنی ہلاکت ، تباہی انقطاع کے ہیں۔ یہاں تبت کے معنی ہیں بددعا کے اور دوسرے تب کے معنی ہیں کہ وہ ہلاک ہوگیا تباہ ہوگیا اور اس کا سلسلہ کٹ گیا۔ یہ خبر ہے وقوع بددعا کی۔ سورت کے آغاز ہی میں اس مختصر آیت میں بددعا اور اس کی تکمیل کا مکمل منظر ہے ۔ گویا معرکہ ختم ہوجاتا ہے اور پردہ گر جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والی دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی بہت مضبوط بٹی ہوئی چھبنے والی۔ اس سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک دوزخ کے طوق سلاسل ہیں اور تشبیہ " حمالۃ الحطب " کی مناسبت سے دی گئی ہے۔ کیونکہ لکڑیوں کا بوجھ اٹھانے میں رسی کی ضرورت پڑتی ہے۔ لکھتے ہیں کہ اس عورت کے گلے میں ایک ہار بہت قیمتی تھا۔ کہا کرتی تھی کہ لات و عزیٰ کی قسم۔ اس کو محمد ﷺ کی عداوت پر خرچ کر ڈالوں گی۔ ضرور تھا کہ دوزخ میں بھی اس کی گردن ہار سے خالی نہ رہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ اس بدبخت کی موت بھی اسی طرح واقع ہوئی، لکڑیوں کے گٹھے کی رسی گلے میں آپڑی جس سے گلا گھٹ کر دم نکل گیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5{ فِیْ جِیْدِہَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۔ } ”اس کے گلے میں بٹی ہوئی رسّی ہوگی۔“ آج یہ عورت اپنے گلے میں جو خوبصورت ہار پہنے پھرتی ہے کل آخرت میں یہی ہار اس کے گلے میں ایک مضبوط بٹی ہوئی رسّی کی صورت اختیار کرلے گاجیسی رسی ایندھن ڈھونڈنے والی لونڈیوں کے گلے میں پڑی ہوتی ہے۔ اس رسّی میں یہ اپنے اعمالِ بد کا ایندھن باندھ کر جہنم میں لے جائے گی اور اپنی اور اپنے شوہر کی آگ کو مزید بھڑکائے گی۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رح نے لکھا ہے کہ ”شاید وہاں زقوم اور ضریع کی جو جہنم کے خاردار درخت ہیں لکڑیاں اٹھائے پھرے اور ان کے ذریعے سے اپنے شوہر پر عذاب الٰہی کی آگ کو تیز کرتی رہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 ابو لہب کی بیوی کی موت :۔ جِیْد بمعنی لمبی اور خوبصورت گردن، ہرن کی طرح پتلی اور لمبی گردن۔ اس گردن میں وہ ایک سونے کا ہار پہنا کرتی تھی اور کہتی تھی کہ میں یہ ہار بیچ کر محمد ﷺ کی مخالفت کے کاموں میں لگاؤں گی۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ جس مونج کی چبھنے والی موٹی رسی سے وہ جھاڑ جھنکار باندھا کرتی وہی اس کی گردن میں اٹک گئی اور ایسی پھنسی کہ بالآخر اس کی موت کا سبب بن گئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ یہ بیان تو واقعات آخرت کا ہورہا ہے کہ وہاں ان دشمنان حق میاں بیوی کا یہ انجام ہوگا۔ لیکن اہل سیر لکھتے ہیں کہ دنیا میں بھی اس عورت کا یہی انجام ہوا، اور وہ گلے میں رسی کا پھندا پڑجانے سے مری۔ (آیت) ” الحطب “۔ یعنی جنگل کی خاردار لکڑیاں۔ (آیت) ” حمالۃ الحطب “۔ ام جمیل شدت بغض وعداوت سے جنگل کی خاردار لکڑیاں چن کر رات کے وقت ان راستوں میں ڈال دیتی، جن سے رسول اللہ ﷺ گزرنے والے ہوتے۔ کانت تحمل حزمۃ من الشرک والحسک والسعدان فتنشرھا بالیل فی طریق رسول اللہ ﷺ (کشاف) (آیت) ” حمالۃ الحطب “۔ محاورۂ عرب میں مفسد اور ادھر سے ادھر لگائی بجھائی کرنے والے کو کہتے ہیں۔ جیسے فارسی میں ہیزم کش، یقال للمشاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–5

وامراتہ حمالۃ الحطب جس طرح ابولہب کو آپ ﷺ سے سخت غیظ و غضب اور دشمنی تھی اس کی بیوی بھی اس شمع میں اس کی مدد کرتی تھی، اس کا نام ارویٰ تھا اور ام جمیل اس کی کنیت تھی، یہ ابوسفیان بن حرب کی بہن تھی، حضرت ابوبکر ؓ کی صاحبزادی حضرت اسماء ؓ کا بیان ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی اور ام جمیل نے اس کو سنا تو غصہ میں بھری ہوئی رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلی، اس کے ہاتھ میں پتھر تھے اور وہ حضور ﷺ کی ہجو میں اپنے ہی کچھ اشعار پڑھتی جا رہی تھی، جب حرم میں پہنچی تو وہاں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ حضور تشریف فرما تھے حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ آرہی ہے اور مجیھ اندیشہ ہے کہ آپ ﷺ کو دیکھ کر کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فی جیدھا حبل من مسد . جید ‘ گلا۔ مَسَد سے مراد ہے ‘ لوہے کے تاروں سے مضبوط بٹی ہوئی وہ زنجیر جو ستّر ہاتھ لمبی ہوگی اور منہ میں ڈال کر سرینوں سے کھینچی جائے گی اور جو حصہ باقی رہ جائے گا وہ اس کی گردن میں لپیٹ دیا جائے گا۔ مَسَد ‘ مضبوط بنی ہوئی رسّی کو کہتے ہیں ‘ خواہ کسی چیز کی ہو۔ یہ قول حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عروہ ؓ بن زبیر کا ہے۔ اعمش نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ مسد لوہے کی ہی ہوتی ہے۔ شعبی اور مقاتل نے کہا : اس سے مراد رسّی ہے جو کھجور کے ریشوں سے بٹی ہوئی تھی اور امّ جمیل اس میں لکڑیاں باندھتی تھی۔ ایک روز لکڑیوں کا گٹھا اٹھا کر لا رہی تھی کہ تھک کر ایک پتھر پر آرام لینے بیٹھ گئی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–5

(2۔ 5) یہ دنیاوی مال و اولاد آخرت میں اس کے کچھ کام نہیں آیا اور وہ آخرت میں دہکتی ہوئی آگ میں ڈالا جائے گا اور اس کی بیوی ام جمیلہ بنت حارث بھی جو مسلمانوں اور کافروں میں چغلیاں لگایا کرتی تھیں یا یہ کہ جو خار دار لکڑیاں لا کر حضور کے اور مسلمانوں کے راستہ میں ڈال دیا کرتی تھی۔ دوزخ میں پہنچ کر اس کی گردن میں لوہے کی زنجیریں ہوں گی یا یہ کہ اس کی گردن میں ایک بل دی ہوئی رسی تھی جس سے گلا گھٹ کر وہ مرگئی۔ شان نزول : سورة اللہب امام بخاری نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر آواز دی چناچہ آپ کے پاس قریش جمع ہوگئے آپ نے فرمایا کہ اگر میں تم سے یہ کہوں کہ دشمن صبح…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(فی جیدھا حبل من مسجد :”جید“ گردن۔ ”مسد“ کھجور کی چھال کی رسی یا گوگل کے درخت کی چھال کی رسی یا کسی بھی چیز کی بنی ہوئی رسی یا خوب مضبوط بٹی ہوئی رسی۔ لوہے کی رسی کو بھی ”مسد“ کہتے ہیں، یعنی جہنم میں اس حال میں داخل ہوگی کہ اس کی گردن میں مضبوط بٹی ہوئی رسی ہوگی۔ صحیح بخاری میں مجاہد سے منقول ہے کہ اس سے مراد وہ زنجیر ہے جو آگ میں ہوگی، جس میں مجرم پروئے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا :(ثم فی سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعاً فاسلکوہ) (الجآقۃ : 32)”پھر ایک زنجیر میں جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے، اسے داخل کردو۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فی جیدھا حبل من مسد۔ اس کے گلے میں مونچ کی رسی ہوگی۔ جید سے مراد گرن ہے امراء القیس نے کہا : وجید کجید الریم لیس بفاحش۔۔۔ اذا ھی نصتہ ولا بمعطل کتنی ہی گردنیں ہیں جو ہرن کی گرند کی طرح ہیں وہ بدصورت نہیں جب وہ گردن کو اٹھائے جبکہ اس کی گردن میں کوئی زیور نہیں۔ اس بات میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ مبثوث کا معنی متفرق ہے ایک اور جگہ فرمایا : کا نھم جراد منتشر۔ (القمر) گویا وہ منتشر مکڑیاں ہیں۔ پہلے ان کی حالت کو فراش سے تشبیہ دی جن کی کوئی سمت نہیں ہوتی جو ہر سمت سرگرداں ہوتے ہیں پھر ٹڈی دل کی طرح ہوجاتے ہیں، کیونکہ ان کی کوئی سمت ہوتی ہے جس کا وہ قصد کر رہا ہوتا ہے۔ مبثوث کا معنی متفرق اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–5

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت تبت یدا ابی لہب مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ نے دونوں سے اسی طرح روایت کیا۔ سورۃ اللہب کی شان نزول 3۔ ابو نعیم نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو لہب کفار قریش میں سے تھا۔ یہاں تک کہ وہ اس قوت شعب ابی طالب سے نکل آیا جب قریش نے آپس میں ایک دوسرے کی مدد کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے ہم کو گھاٹی میں محصور کردیا۔ اور اس نے ان کی مدد کی۔ جب ابولہب گھاٹی سے نکلا اور ان کی مدد کی۔ جب وہی اپنی قوم سے علیحدہ ہوا تو وہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ سے ملا۔ کہنے لگا اے عتبہ کی بیٹی ! کیا لات اور عزی نے تیری مدد کی ؟ کہنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فِيْ جِيْدِهَا : اس کی گردن میں ][ حَبْلٌ: ایک ایسی رسی ہے جو ][ مِّنْ مَّسَدٍ : کھجور کے ریشے سے (بٹی) ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿فِيْ جِيْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ (رح) 005﴾ (اس کی گردن میں رسی ہے کھجور کی چھال کی) بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ پہلی بات سے متعلق ہے یعنی لکڑیاں لانے اور اٹھانے کے لیے اپنے گلے میں رسی باندھ لیتی تھی (یہ بات دل کو نہیں لگتی کیونکہ گٹھری اٹھانے کے لیے گلے میں رسی نہیں ڈالی جاتی) ۔ حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا ہے کہ اس کے گلے میں ایک قیمتی ہار تھا وہ کہتی تھی کہ میں اس ہار کی قیمت کو محمد ﷺ کی دشمنی میں خرچ کر دوں گی اس کے عوض دوزخ کی ایک رسی اس کے گلے میں ڈال دی جائے گی جو آگ کی رسی ہوگی جس طرح کھجور کی چھال سے رسی بناتے ہیں اسی طرح وہ رسی آگ سے بنائی ہوئی ہوگی۔ لفظ مَسَدٍ کا ایک ترجمہ وہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

خسران و بربادی در دنیا وعقبی ازدشمنی رسول خدا ﷺ : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” تبت یدآ ابی لھب ........ الی ........ حبل من مسد “۔ (ربط) گزشتہ سورة نصر میں یہ بتایا گیا تھا کہ حق اور ہدایت ہی کو غلبہ و کامیابی حاصل ہوتی ہے اور دنیا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور اپنے دین کو غالب وکامیاب فرمایا ہے، تاریخ عالم میں اس نے اپنی قدرت عظیمہ کا مشاہدہ کرا دیا کہ وہ پیغمبر اور ان کے ساتھی جو مکہ سے مجبور ومظلوم ہو کر ہجرت کرکے مدینہ آئے چند ہی سال گذرنے پر وہی اللہ کا رسول دس ہزار قدسیوں کے ساتھ اسی سرزمین میں فاتح وکامیاب داخل ہورہا ہے، تو اس کے بالمقابل اس سورت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ ” فی جیدھا “ مسند، بٹی ہوئی رسی خواہ کسی چیز کی ہو۔ جید، ابو لہب کی بیوی ام جمیل باہر سے لکڑیاں چن کر لاتی تھی اور لکڑ ہاروں کی طرح گلے میں رسی ڈالے رکھتی تھی یہ اس کی خساست و دناءت کی طرف اشارہ ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ جہنم میں اس کے گلے میں پھندا ڈالا جائے گا۔ والمقصود بیان خساستہا تشبیہا لھا بالحطابات ایذاء لہا ولزوجہا (وثانیہا) ان یکون المعنی ان حالہا یکون فی نار جہنم علی الصورۃ التی کانت علیہا حین کانت تحمل الحزمۃ من الشوک (کبیر)

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة اللھب ہے۔ اس کی پہلی اور تیسری آیت میں لہب کا لفظ مذکور ہے۔ اور اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے۔ اسے سورة تبت یدا بھی کہتے ہیں۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی اس کی پانچ آیتیں تئیس الفاظ اور اکہتر حروف ہیں۔ اقرباء سے خطاب مفسرین کرام فرماتے ہیں 1 ؎ کہ حضور ﷺ پر پہلی وحی کے نزول کے بعد تین سال تک وحی کا سلسلہ منقطع رہا۔ اس عرصہ میں آپ خاموشی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے اور اندرونی طور پر آہستہ آہستہ ساتھی تیار کرتے رہے۔ پھر جب سورة شعراء کی آیت وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی یعنی آپ اپنے عزیز و اقارب کو خدا کے عذاب سے ڈرائیں۔ تو آپ نے خطاب فرمایا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فِيْ جِيْدِہَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۝ 5 ۧ ( جيد) ، اسم جامد لمعنی العنق، وزنه فعل بکسر فسکون . حبل الحَبْلُ معروف، قال عزّ وجلّ : فِي جِيدِها حَبْلٌ مِنْ مَسَدٍ [ المسد/ 5] ، وشبّه به من حيث الهيئة حبل الورید وحبل العاتق، والحبل : المستطیل من الرّمل، واستعیر للوصل، ولكلّ ما يتوصّل به إلى شيء . قال عزّ وجلّ : وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً [ آل عمران/ 103] ، فحبله هو الذي معه التوصل به إليه من القرآن والعقل، وغیر ذلک ممّا إذا اعتصمت به أدّاك إلى جواره، ويقال للعهد حبل، وقوله تعالی: ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ ما ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–5

1 ؎ حمالۃ الحطب میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس کے گناہوں کا گٹھا اس کی پشت پر تھا اور خواہش دنیا کی رسی گلے میں پڑی ہوئی تھی۔ اور حمالۃ الحطب میں اس کے خاوند کی نالائقی کی طرف بھی اشارہ ہے کیونکہ عورت بوقت مخصوص خاوند کو اوپر لادتی ہے اس کا خاوند ایک لکڑیوں کا پشتارہ ہے جو جلانے کے قابل ہے اور فی جیدہا الخ میں خاص اس کی طرف اشارہ ہے کہ اپنے نفس بد کی یا اس نالائق خاوند کی بڑی مطیع ہے گویا اطاعت کی گلے میں رسی پڑی ہوئی ہے اور رسی بھی بڑی مضبوط کھجور کے پٹھوں کی۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فِیْ جِیْدِھَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ ۔ (اللہب : 5) (اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی۔ ) ابولہب کی بیوی کا انجام جِیْدِ عربی زبان میں ایسی گردن کو کہتے ہیں جس میں زیور پہنا گیا ہو۔ اور اس خاتون کے بارے میں روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک بہت قیمتی ہار گردن میں پہنتی تھی اور کہا کرتی تھی کہ لات اور عزیٰ کی قسم میں یہ ہار بیچ کر اس کی قیمت محمد ﷺ کی عداوت پر خرچ کروں گی۔ یہی ہار اس کا قیامت کے دن مونجھ کی رسی میں تبدیل ہوجائے گا۔ مَسَدٍ بسکون السین مصدر ہے جس کے معنی رسی یا ڈور بٹنے یا اس کے تار پر تار چڑھا کر مضبوط کرنے کے ہیں۔ اور مَسَدٍبفتح المیم والسین اس رسی یا ڈور کو کہا جاتا ہے جو مضبوط…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : نبی ﷺ کو سورة النّصر میں ہر قسم کی کامیابی اور دین کے غالب ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے اور سورة اللّہب میں بتلایا ہے کہ عنقریب دین اور آپ کا دشمن ہلاک ہوجائے گا۔ مفسّرِ قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ” وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ “ اے نبی ! اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرائیں تو نبی ﷺ صفا پہاڑی پر جلوہ افروز ہوئے اور آپ نے قریش کے قبائل کا نام لے لے کر بلایا لوگ دوڑتے ہوئے صفا پہاڑی کی طرف پہنچے، جس قبیلے کا سربراہ خود نہ پہنچ سکا اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا کہ جاؤ پتہ کرو کہ محمد بن عبداللہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تحقیر و مذمت کی تصویر : 5 : فِیْ جِیْدِ ھَا حَبْلٌمِّنْ مَّسَدٍ (اس کے گلے میں ایک رسی ہوگی خوب بٹی ہوئی) یہ حال ہے یا دوسری خبر ہے۔ المسدؔ چھلکے یا کھال یا دیگر کسی چیز کی مضبوط بٹی ہوئی رسی معنی یہ ہے۔ اس کی گردن میں رسی ہوگی۔ اس چیز میں سے جس سے رسیاں بٹی جاتی ہیں اور وہ کانٹوں کا وہی گٹھا اٹھانے والی ہوگی۔ اور اس کو اپنی گردن میں باندھے گی۔ جیسا کہ لکڑیاں کاٹ کر لانے والے کرتے ہیں۔ یہ بات اس کی تحقیر و مذمت کیلئے فرمائی۔ اور کسی ایک لکڑیاں اٹھانے والی عورت سے اس کی تصویرکھینچ دی۔ تاکہ وہ اس سے جزع فزع کا اظہار کرے اور اس کا خاوند بھی چڑے۔ کیونکہ وہ بڑے گھرانے کے عزت والے اور دولت مند اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” فی جیدھا “ اس کی گردن میں اور اس کی جمع اجیاد ہے۔ ” حبل من مسد “ اور اس میں اختلاف کیا ہے۔ ابن عباس ؓ اور عروہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں لوہے کی زنجیر اس کی لمبائی ستر گز اس کے منہ میں داخل ہوگی اور دبر سے نکلے گی اور وہ ساری اس کی گردن میں ہوگی اور اس کی اصل المسد سے ہے اور ہو بٹنا ہے اور المسد جو بٹا گیا ہو اور مضبوط کیا گیا ہو جس چیز سے بھی ہو۔ یعنی زنجیر جو اس کی گردن میں ہوگی۔ تو وہ لوہے سے بٹی گئی ہوگی مضبوط بٹنا۔ اعمش نے مجاہد (رح) سے نقل کیا ہے ” من مسد “ یعنی لوہے سے اور مسدوہ لوہا جو وزنی سامان اتارنے چڑھانے کی چرخی میں ہوتا ہے اس کو محور کہا جاتا ہے اور شعبی اور مقاتل رحمہما اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ صحیح 2 ؎ بخاری مسلم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا 2 حاصل یہ ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ نے مکہ کے صفا پہاڑ پر چڑھ کر قریش کو آواز دی جس سے بہت سے لوگ قریش کے جمع ہوگئے۔ اس کے بعد ان لوگوں کو آپ ﷺ نے طرح طرح کی نصیحت کی اور شرک سے ڈرایا۔ ان لوگوں میں ابو لہب بھی تھا۔ اس نے آنحضرت ﷺ کی نصیحت سن کر بڑی نخوت سے گھڑی گھڑی اپنے دونوں ہاتھ جھٹکے اور کہا کہ اے محمد ﷺ تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں کیا تو نے اسی واسطے آواز دے کر اور ہاتھوں کے اشارہ سے بلا کر ہم سب لوگوں کو جمع کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی۔ یہ ابو لہب آنحضرت ﷺ کے چچاؤں میں سے تھا اس کا نام عبد العزیٰ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–5

( وَّامْرَاَتُهٗ ۭ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ) اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھانے والی ہے اس کی بیوی بھی اللہ کے رسول کو سخت اذیت پہنچاتی تھی میاں بیوی دونوں گناہ اور ظلم پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے تھے وہ تکلیف پہنچاتی تھی اور رسول اللہ کو اذیت پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی تھی۔ اس کی پیٹھ پر بوجھ لاد دیا جائے گا اس شخص کی مانند جو ایندھن اکٹھا کرتا ہے اس کی گردن میں ڈالنے کے لیے رسی تیار کی گئی ہے۔ (من مسد) مونج کی۔ یعنی کھجور کے پتوں کے ریشے سے بٹی ہوئی۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ جہنم میں وہ ایندھن اٹھا اٹھا کر اپنے شوہر پر ڈالے گی اور اس کے گلے میں کھجور کے پتوں کے ریشوں سے بٹی ہوئی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 3–5

ابولہب اور اس کی بیوی کفر پر مریں گے یہ پیش گوئی بھی دلیل نبوت ہے قول باری ہے (سیصلی نارا ذات لھب ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا۔ ) یہ حضور ﷺ کی نبوت کی صحت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ کیونکہ اس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ ابولہب اور اس کی بیوی کفر پر ہی مریں گے اور مسلمان ہونا انہیں نصیب نہیں ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا جس کی خبر دی گی تھی۔ ابولہب اور اس کی بیوی نے یہ سورت سن لی تھی اور اس کی بیوی نے کہا تھا کہ ” محمد (ﷺ) نے ہماری ہجو کی ہے۔ “ اگر یہ دونوں کہتے کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں اور اس کا اظہار کرتے اگرچہ انہیں اس کا اعتقاد نہ ہوتا تو بھی اس صورت میں وہ اس قول باری کی تردید کرسکتے تھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

5 ۔ قیامت کے روز اس کے گلے کے ہار کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اس کے گلے میں ایک مضبوط رسی ہوگی مونجھ کی، جید کا لفظ اصل میں اس گردن کے لیے بولا جاتا ہے جس کو زیور پہنا کر آراستہ پیراستہ کیا گیا ہو، اس ملعونہ کو اپنی سجی سجائی گردن پر بڑا ناز تھا، اور اس نے اس میں ایک قیمتی ہار بھی پہن رکھا تھا۔ جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ لات و عزی کی قسم میں اپنا یہ ہار بیچ کر اس کی قیمت محمد ﷺ کی دشمنی میں اور اس کے دین کے خلاف صرف کروں گی۔ (روح، قرطبی، ابن کثیر، مراغی، محاسن اور مدارک وغیرہ) تو اس لیے بطور طنز وتشنیع فرمایا گیا کہ اس روز اس کے اسی گلے میں جس پر اسا کو بڑا فخر و ناز اور گھمنڈ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

ابو لہب اور اس کی بیوی کے لیے عذاب کی خبر تشریح : ابو لہب لقب ہے کیونکہ وہ بڑا ہی خوبصورت انسان تھا اس کا چہرہ آگ کی طرح دمکتا تھا اسی لیے لہب یعنی آگ کی لپٹ یا شعلہ اس کا لقب پڑگیا۔ وہ بڑا مالدار خوشحال انسان تھا یہاں ہاتھ ٹوٹ گئے محاورتاً کہا گیا ہے۔ یعنی یہ تباہ و برباد ہوجائے گا۔ اس کا فخر ' غرور ' دشمنی ' آل اولاد اور مال و دولت سب کچھ غارت ہوجائے گا اور ان میں کچھ بھی اس کو دوزخ کی اس آگ سے ہرگز بچا نہ سکیں گے جو کہ خاص اس کے لیے تیار کی جا چکی ہے۔ اور وہ آگ لپٹیں مارتی ہوئی تیز آگ ہوگی۔ پھر اس کی بیوی کے لیے بھی سخت ترین سزا کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ کہ یہی جو ایندھن اٹھا کر لاتی ہے وہی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–5

سورة اللھب۔ آیات 1 تا 5۔ اسرار معارف۔ ہاتھ ٹوٹ جائیں ابولہب کے اور تباہ ہوجائے اس کا نام عبدالعزی تھا حضرت عبدالمطلب کی اولاد میں سے تھا اور سرخ رنگ ہونے کے باعث کنیت ابولہب مشہور تھی ، اس نے آپ کی شدت سے مخالفت کی کہ اللہ کریم نے نام لے کردوزخی ہونے کا اعلان فرمایا۔ اسے اس کا مال وزر کام نہ آئے کہ ایک پھوڑا نکلا جو بہت بدبودار تھا لاعلاج ہو کر اور تنہائی میں مرگیا اس قدر بدبو تھی کہ لاش دفن نہ ہوسکتی تھی وہی مکان اس پر گرادیا گیا چناچہ اس کا مال وزر کام نہ آیا اور اس کی بیوی بھی اس کے ساتھ بھڑکتے ہوئے دزوخ میں داخل ہوگی جو آپ کی راہ میں کانٹے بچھاتی تھی ، دوزخ میں اس کے گلے میں طوق ہوگا جو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 اسی رسی میں وہ کانٹے باندھ کر لایا کرتی تھی۔ ضحاک کہتے ہیں کہ ” ایک روز وہ رسی اس کے گلے میں اٹک گئی اور وہ دم گھٹ کر مرگئی۔ (فتح القدیر) بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ قیامت کے دن اس کے گلے میں آگ کی رسی ہوگی جو ہمیشہ اس کے گلے میں پڑے رہے گ۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(111:5) فی جیدھا حبل من مسد : یہ جملہ حمالۃ کی ضمیر واحد مؤنث سے حال ہے۔ درآں حالیکہ منج کی رسی اس کی گردن میں ہے جیدھا مضاف مضاف الیہ۔ جید بمعنی گردن۔ جیود واجیاد جمع ہے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب امراتہ کی طرف راجع ہے۔ اس کی گردن۔ حبل موصوف من مسد اس کی صفت۔ موصوف و صفت مل کر مبتداء مؤخر۔ فی جیدھا خبر مقدم۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ امراتہ مبتداء ۔ حمالۃ الحطب اس کی خبر۔ فی جیدھا حمالۃ کی ضمیر سے حال ہے۔ حبل۔ رسی۔ عہد ، پیمان، اس کے اصل معنی تو رسی کے ہیں لیکن مجازا عہد و پیمان کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مسد اسم ۔ درخت کھجور کی شاخوں سے نکالے ہوئے ریشے۔ مونج۔ مسد (باب نصر) رسی بٹنا۔ ابو لہب اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن۔ تبت۔ تباہ ہوگئی۔ (ہوگئے) ۔ یدا۔ دونوں ہاتھ۔ تب۔ تباہ ہوا۔ ما اغنی۔ کام نہ آیا۔ کسب۔ کمایا۔ سیصلی۔ بہت جلد جا پڑے گا۔ امرائہ ۔ عورت ۔ جید۔ گردن۔ حبل من مسد۔ مضبوط پٹی ہوئی رسی۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے نبی کرم ﷺ کو خطاب کرتے فرمایا ……… یعنی اے کپڑا اوڑھ کر لیٹنے والے آپ اتھئے۔ اللہ کے خوف سے لوگوں کو ڈرائیے اور اپنے رب کی بڑائی قائم کیجئے۔ اس کے بعد جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی ……… یعنی آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کے خوف سے ڈرائیے تو آپ نے مکہ مکرمہ کے کوہ صفا پر چرھ کر مکہ والوں کو ”…“ (اے صبح کی آفت) کہہ کر آواز دی۔ جس کا عام طور پر یہ مطلب ہوتا تھا کہ رات کو کسی دشمن نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

ابولہب اور اس کی بیوی کی اسلام دشمنی اور ان کی ہلاکت۔ (ف 1) شان نزول : صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے کوہ صفا پر عرب کے لوگوں کو دعوت دی ہر طرف سے لوگ آئے اور حضور ﷺ نے ان سے اپنے صداقت وامانت کی شہادتیں لینے کے بعد فرمایا، انی لکم نذیر بین یدی عذاب شدید۔ اس پر ابولہب نے حضور سے کہا تھا کہ تم تباہ ہوجاؤ، کیا تم نے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا، اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب اکرم کی طرف سے جواب دیا، ابولہب نبی ﷺ کا بڑا مخالف تھا جہاں نبی ﷺ لوگوں کو وعظ ونصیحت کرتے تھے تو یہ آپ کو جھٹلانے کی تقریر ضرور کیا کرتا تھا، ابولہب کی بی بی کا نام…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–5

[2] اصل الفاظ ہیں حمالتہ الحطب جن کے لفظی معنی ہیں لکڑیاں ڈھونے والی۔ عرب کے محاورے میں چغل خوری کرنے والے کو حمالتہ الحطب کہا جاتا ہے۔ جیسے کوئی لکڑیاں جمع کر کے آگ لگانے کا سامان کرتا ہے، چغل خور کا عمل بھی ایسا ہی ہے کہ وہ اپنی چغل خوری کے ذریعے لوگوں کو بھڑکاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

سورة اللھب ابولہب کنیت ہے ۔ اصلی نام عبدالعزیٰ تھا ۔ لعب کے معنی آگ اور شعلے کے ہیں ۔ وجہ مناسبت یہ ہے کہ اس کے رخسارے آگ کی طرح روشن تھے ۔ یہ اور اس کی بیوی ام جمیل بنت حرب حضور ﷺ کے سخت معاندین میں سے تھے ۔ جہاں حضور ﷺ جاتے ۔ وہاں ابولہب ان کو بدنام کرنے کے لئے پہنچ جاتا اور ہر شرارت میں پیش پیش رہتا ۔ اور ام جمیل جنگل سے خود کانٹے کاٹ کر لاتی اور حضور ﷺ کے راستے میں بچھادیتی ۔ اس پر ان آیتوں کا نزول ہوا کہ ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں ۔ نہ دنیا اس کی سنورے اور نہ عاقبت ۔ یہ ہلاک ہو اور اس کا مال اور اس کی اولاد اس کو اللہ کے عذاب سے نہ بچاسکیں ۔ شعلہ زن آگ میں جائے اور اس کی بیوی ام جمیل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) اس کی گردن میں خوب بٹی ہوئی رسی ہوگی۔ کہتے ہیں یہ کھجور کے پتوں سے بٹی ہوئی رسی تھی بعض نے کہا یمن کے علاقے میں کوئی درخت ہوتا ہے جس کو مسدکہتے ہیں اس کو بٹ کر عرب کے لوگ رسی بنایا کرتے تھے غرض وہی رسی دوزخ میں طوق وسلاسل بن جائے گی کما قال عبداللہ بن عباس بعض حضرات نے فرمایا اس کی گردن میں بڑا بیش قیمت ہار تھا وہ بڑے فخر سے پیغمبر (علیہ السلام) کی عداوت میں کہا کرتی تھی میں اس ہار کو محمد ﷺ کی تباہی اور بربادی پر خرچ کردوں گی۔ شاید اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ہار دوزخ کا طوق ہوگا اور آگ کی زنجیر اس کے گلے میں پڑی ہوئی ہوگی۔ بعض کا قول ہے کہ بخل وخست کی وجہ سے یہ جلانے کی لکڑیاں خود ہی جنگل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–5

ف 1۔ ابولہب کی بیوی خاردار لکڑیاں جمع کر کے لاتی اور ازراہ غایت عناد آنحضرت ﷺ کی راہ میں بچھاتی۔ کذا فی الدر المنثور عن البیہقی وغیرہ اور بعض نے کہا ہے کہ حمالة الحطب سے مراد چغل خور ہے۔ وہ عورت چغل خور بھی تھی، کذا فی الدر، چناچہ فارسی میں بھی ہیزم کش اسی معنی میں مستعمل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس کی گردن میں کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسّی ہوگی 5 ( جیدھا) اس کی گردن ۔ جید کے معنی گردن کے ہیں۔ جیود اور اجیاد جمع ہے اور ھا ضمیر واحد مونث غائب ، مضاف الیہ۔ اس مادہ کا لفظ فقط اس جگہ ایک ہی بار قرآن کریم میں آیا ہے علاوہ ازیں اس کا استعمال نہیں ہوا۔ ( حبل) رسّی مسد اسم ہے درخت کھجور کی شاخوں کی چھال سے نکالے ہوئے ریشے وغیرہ کی رسّی بٹنا۔ تکلیف میں ڈالنا امرأۃ مسودۃ رسّی کے بلوں کی طرح اینٹھی ہوئی عورت۔ (راغب) ہر وقت غصے میں رہنے والی۔ منہ سے نقلیں اتارنے والی۔ یہ دراصل اس پیش گوئی کا ایک حصہ ہے جو ابو لہب کے متعلق آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قبل از وقت ارشاد فرمادی کہ ابولہب کا ہلاک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse [ 111:5] فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ (In her neck there is a rope of twisted palm-fibre.) The masd with the letter-s-bearing sukun [ quiescence or rest ] is an infinitive which means 'to twist rope or cord, or to twist it strongly and tightly'. If the word is read as masad with the letters m-s bearing fatha [= a-a ], the word refers to fibres. It is also a rope made of 'twisted fibres of palm tree' or 'tightly braided fibres of coconut tree' or 'cord that has been woven strongly' or 'coil or cable formed by winding iron strands together'. [ al-Qamus ]. Some scholars have preferred…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 The word used for her neck is jid, which in Arabic means a neck decorated with an ornament. Sa`id bin al-Musayyab, Hasan Basri and Qatadah say that she wore a valuable necklace and used to say: "By Lat and `Uzza, I will sell away this necklace and expend the price to satisfy my enmity against Muhammad (Allah's peace and blessings be upon him) ." That is why the word jid has been used here ironically, thereby implying that in Hell she would have a rope of palm-fibre round her neck instead of that necklace upon which she prides herself so arrogantly. Another example of this ironical style is…

Read the full tafseer →