111. Surah Al-Masad
المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsمظہر القرآن
تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader
ابولہب1، کے دونوں ہاتھ تباہ ہوجائیں اور وہ ہلاک ہوجائے
مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader
نہ اس کا مال اس کے کچھ کام آیا اور نہ اس کے اعمال
سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader
عنقریب شعلہ مارتی آگ میں داخل ہوگا
وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader
اور اس کی بیوی بھی جو لکڑیوں کا گٹھا سرپراٹھانے والی
فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader
اس کے گلے میں کھجور کے چھال کی رسی ہے
ابولہب اور اس کی بیوی کی اسلام دشمنی اور ان کی ہلاکت۔
(ف 1) شان نزول : صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے کوہ صفا پر عرب کے لوگوں کو دعوت دی ہر طرف سے لوگ آئے اور حضور ﷺ نے ان سے اپنے صداقت وامانت کی شہادتیں لینے کے بعد فرمایا، انی لکم نذیر بین یدی عذاب شدید۔ اس پر ابولہب نے حضور سے کہا تھا کہ تم تباہ ہوجاؤ، کیا تم نے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا، اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب اکرم کی طرف سے جواب دیا، ابولہب نبی ﷺ کا بڑا مخالف تھا جہاں نبی ﷺ لوگوں کو وعظ ونصیحت کرتے تھے تو یہ آپ کو جھٹلانے کی تقریر ضرور کیا کرتا تھا، ابولہب کی بی بی کا نام اروکا تھ اور اکنیت ام جمیل تھی ، یہ ابوسفیان کی بہن اور حضرت معاویہ ؓ کی پھوپھو ہے۔ یہ بھی نبی ﷺ سے بڑی عداوت رکھتی تھی ، نبی ﷺ کے راستہ میں اکثر کانٹے بچا دیتی تھی کہ صبح کو اندھیرے میں آپ نماز کو جائیں تو آپ کو کانٹوں سے کچھ ایذا پہنچے۔ تبت یدابی الہب وتب کا مطلب یہ ہیے کہ ابولہب ہلاک ہوجائے، عرب کا محاورہ ہے کہ آدمی کے دونوں ہاتھوں سے آدمی کی ذات مراد لیا کرتے تھے ملطب یہ کہ ابولہب نسب کا شریف اور مال دار تھا مگر اس نے خدا اور رسول کے ساتھ اپنا معاملہ درست نہیں کیا تو اس کی دین ودنیاخراب ہوگئیں دنیاتویوں ہی کہ اس کے دونوں بیٹے عتبہ عتیبہ جو گویا اس کے دونوں ہاتھ تھے وہ یوں ٹوٹ گئے کہ عتبہ تو مسلمان ہوگئے اور عتیبہ کو شیر نے پھاڑ ڈالا، خود اس کا یہ حال ہوا کہ وہ خود تو بدر کی لڑائی میں نہیں جاسکا، ایک شخص کو خرچ دے کر اپنی طرف سے قریش کے ساتھ اس نے بھیج دیا، قریش پر بدر کی لڑائی میں وہ آفت گزری کہ ستر آدمی ان کے مارے گئے اور ستر قید ہوئے اور بدیل نامی جس شخص کو اس نے اس لڑائی میں بھیجا تھا اس سے اور لوگوں سے قریش کی مصیبت کا سب تفصیلی حال اس نے سنا تو اس غم میں طاعون مرض سے بدر کی لڑائی کے سات روز بعد مر گیا۔ عرب لوگ اس مرض میں جو شخص مرجائے اس کی لاش سے بہت پرہیز کرتے تھے ، اس لیے تین دن تک اس کی لاش بغیر دفن کے پڑی رہی جب لاش بالکل سڑ گئی تو اس لاش کے دفن کی نوبت آئی تفسیر ضحاک میں ہے کہ ابولہب کی بی بی ام جمیل ایک روز کانٹوں کا گٹھا لارہی تھی کہ تھک کر آرام لینے کے لیے ایک پتھر پر بیٹھ گئی، ایک فرشتہ بحکم الٰہی اس کے پیچھے سے اس گٹھے کو کھینچا وہ گر اور رسی اس کے گلے میں پھنس گئی اور وہ مرگئی قیامت کے دن وہ رسی ایک آگ کی رسی بن جائے گی اور دوزخ میں ہمیشہ رہے گی غرض اللہ کے رسول کی مخالفت اور اللہ تعالیٰ کی خفگی سے ابولہب اور اس کی بی بی دونوں کا خاتمہ کفر پر ہوا، ایسے لوگوں کا عقبی میں جو کچھ انجام ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔