111. Surah Al-Masad

المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 111:1

تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader

ابولہب کے ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہوجائے،

محمد رسول اللہ ﷺ کے والد کے دس بھائی تھے جو عبدالمطلب کے بیٹے تھے، ان میں ایک شخص ابو لہب بھی تھا اس کا نام عبدالعزیٰ تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نبوت کا اظہار فرمایا تو قریش مکہ میں سے جن لوگوں نے بہت زیادہ آپ کی دشمنی پر کمر باندھی ان میں ابو لہب بھی تھا۔ یہ بہت زیادہ مخالفت کرتا تھا اور اس کی بیوی بھی آپ کی مخالفت میں بہت آگے بڑھی ہوئی تھی، جب سورة الشعراء کی آیت کریمہ ﴿وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَۙ00214﴾ نازل ہوئی تو نبی (کریم ﷺ صفا پہاڑ پر تشریف لے گئے اور قریش کے قبیلوں کو نام لے لے کر پکارتے رہے اے بنی عدی ادھر آؤ اور اے بنی فہر ادھر آؤ، آپ کے بلانے پر قریش جمع ہوگئے اور انہوں نے اتنا اہتمام کیا کہ جو شخص خود نہیں آسکتا تھا اس نے اپنی جگہ کسی دوسرے شخص کو بھیج دیا جو وہاں حاضر ہو کر بات سن لے، حاضر ہونے والوں میں ابو لہب بھی تھا آپ نے فرمایا کہ تم لوگ یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ یہاں قریب ہی وادی میں گھوڑ سوار دشمن ٹھہرے ہوئے ہیں جو تم پر غارت گری والے حملہ کا ارادہ کر رہے ہیں کیا تم میری تصدیق کرو گے ؟ سب نے کہا کہ ہاں ہم تصدیق کریں گے ہم نے آپ کے بارے میں یہی تجربہ کیا ہے کہ آپ ہمیشہ سچ ہی بولتے ہیں۔ آپ نے نام لے لے کر سب کو موت کے بعد کے لیے فکر مند ہونے کی دعوت دی اور فرمایا کہ اپنی جانوں کو خرید لو یعنی ایسے اعمال اختیار کرو جن کی وجہ سے دوزخ کے عذاب سے بچ جاؤ، میں تمہیں اللہ کے عذاب سے چھڑانے کے بارے میں کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتا، اے بنی عبد مناف میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں چھڑا سکتا۔ اے عباس عبدالمطلب کے بیٹے میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں چھڑا سکتا۔ اے صفیہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں چھڑا سکتا اور آپ نے تمام حاضرین کو خطاب کرتے ہوئے یوں بھی فرمایا ان ھو الا نذیر لکم بین یدی عذاب شدید (میں تمہیں پہلے سے عذاب شدید سے ڈرا رہا ہوں اگر تم نے میری بات نہ مانی تو سخت عذاب میں مبتلا ہو گے) ۔ یہ سن کر ابو لہب بول پڑا اور اس نے کہا : تبالک ساعر الیوم الھذا جمعتنا (ہمیشہ کے لیے تیرے لیے ہلاکت کیا تو نے اس بات کے لیے ہمیں جمع کیا ہے) اس پر ﴿ تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ001 مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ002﴾ نازل ہوئی۔ (صحیح بخاری صفحہ 702: ج 2) صحیح مسلم میں بھی یہ واقعہ مذکور ہے ہے اس میں یہ لفظ ہے کہ فعم وخص کہ آپ نے عمومی خطاب بھی فرمایا اور الگ الگ نام لے کر بھی بات کی، بنی کعب بن لوی اور بنی مرہ بن کعب بن عبد شمس اور بنی عبد مناف اور بنی ہاشم سے فرمایا کہ اپنی جانوں کو دوزخ سے بچا لو، میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا، اس پر ابو لہب بول پڑا اس نے وہی بات کہی جو اوپر مذکور ہے اور تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ001 نازل ہوئی۔ (مسلم صفحہ 14: ج 1) جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ ابو لہب کا نام عبدالعزیٰ تھا۔ اس کا چہرہ سرخ تھا اس لیے ابو لہب کے لقب سے معروف تھا (لہب آگ کی لپٹ کو کہتے ہیں) خوبصورتی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہی اس کا یہ لقب مشہور تھا جب اس نے آپ کے خطاب کے جواب میں گستاخی والے الفاظ زبان سے نکالے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی دنیا و آخرت والی رسوائی اور تکلیف اور عذاب کی خبر دی تو لہب یعنی آگ کی لپٹ کی مناسبت سے ( جس میں اس کے جلنے کی پیشگی خبر دی ہے) لفظ ابو لہب استعمال فرمایا جو آگ میں جلنے پر دلالت کرتا ہے پر انا لفظ جو اس کے لیے خوشی کا لقب تھا اب اس کی مذمت اور قباحت اور دنیا و آخرت کی رسوائی اور عذاب شدید میں مبتلا ہونے کی خبر پر دلالت کرنے والا بن گیا۔ تَبَّ ۔ ماضی مذکر غائب کا صیغہ ہے اس کا فاعل ضمیر ہے جو ابو لہب کی طرف راجع ہے اور تبت واحد مونث غائب کا صیغہ ہے اور ﴿ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ ﴾ اس کا فاعل ہے (اضافت کی وجہ سے نون تثنیہ گرگیا ) یہ لفظ تباب سے ماخوذ ہے تباب ہلاکت کو کہا جاتا ہے کما فی سورة المومن ﴿وَ مَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِيْ تَبَابٍ (رح) 0037﴾ یہ جو فرمایا کہ ابو لہب کے ہاتھ ہلاک ہوں اور وہ خود بھی ہلاک ہو اس میں ہاتھوں کا ذکر کیوں لایا گیا ؟ اس کے بارے میں علامہ قسطلانی نے شرح بخاری میں لکھا ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی طرف اپنے ہاتھوں سے پتھر پھینکا تھا جس سے آپ کی پاؤں مبارک کی ایڑی خون آلودہ ہوگئی تھی لہٰذا اس کے ہاتھوں کی ہلاکت کا خصوصی طور پر تذکرہ فرمایا۔ ترجمہ میں جو یہ لکھا گیا ہے کہ ابو لہب کے ہاتھ ٹوتیں، یہ اردو کے محاورے میں ہے اردو میں کہا جاتا ہے کہ فلاں کے ہاتھ ٹوٹیں یعنی پوری طرح ہلاک اور برباد ہو۔ ابو لہب کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو پیشگی خبر دی کہ وہ ہلاک ہوا اور یہ کہ جلنے والی آگ میں داخل ہوگا اس میں پہلی بات کا مظاہرہ دنیا ہی میں ہوگیا اور وہ اس طرح سے کہ اس کے جسم میں بہت خطرناک قسم کی چیچک نکل آئی جس کی وجہ سے لوگ اس سے گھن کرنے لگے اور اپنے عقیدہ کی وجہ سے اس کے پاس جانے سے ڈرنے لگے کہ کہیں یہ مرض ہمیں نہ لگ جائے لہٰذا اپنے اور پرائے اس سے دور ہوگئے، ایک گھر میں علیحدہ ڈال دیا گیا اور وہ بےبسی اور بےکسی کی حالت میں مرگیا تین روز تک اس کی نعش یوں ہی پری رہی جب سڑنے لگی تو لوگوں نے اس کے بیٹوں کو عار دلائی کہ دیکھو تمہارا باپ کس حال میں پڑا ہے اس پر انہوں نے ایک شخص کی مدد سے ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بٹھا دیا اور اس کے بعد اس کو برابر پتھر مارتے رہے یہاں تک کہ وہ ان میں دب گیا۔ (البدایہ صفحہ 309: ج 3) اور الروض الانف میں ہے کہ اس کو ایک لکری کے گڑھے میں ڈال دیا پھر اس پر پتھر برسا دیئے گئے۔ مکہ معظمہ میں ایک پہاڑ ہے اس کے بارے میں مشہور ہے کہ ا بو لہب کو اسی پر ڈال دیا گیا تھا اور یہ پہاڑ جبل ابو لہب کے نام سے معروف ہے۔
Ayah 111:2

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader

نہ اس کے مال نے اسے فائدہ دیا اور نہ اس کی کمائی نے

﴿مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ002﴾ (ابو لہب کو اس کے مال نے اور جو کچھ اس نے کمایا اس نے کچھ فائدہ نہ دیا) ۔ ابو لہب کثیر المال تھا تجارت کے منافع سے مالا مال تھا اور اولاد بھی اس کی خاصی تعداد میں تھی۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے ﴿مَا كَسَبَ﴾ سے اولاد مراد ہے کیونکہ حدیث شریف میں وارد ہے۔ ان اولادکم من کسبکم یعنی انسان کی اولاد اس کے کسب میں سے ہے (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 242) ۔ لہٰذا آیت کریمہ کا مطلب یہ ہوا کہ ابو لہب کو اس کے مال نے اور اس کی اولاد نے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچایا دنیا میں بھی بدحالی کے ساتھ مرا اور آخرت میں تو دوزخ میں جانا ہی ہے۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قریش کو ایمان کی دعوت دی اور یہ فرمایا کہ اپنی جانوں کو دوزخ سے چھڑا لو۔ اس پر ابو لہب نے کہا کہ اگر وہ بات صحیح ہے جو میرا بھتیجا بتارہا ہے (کہ ایمان نہ لائے تو عذاب میں مبتلا ہوں گے) تو میں اپنی جان کے بدلہ میں اپنا مال اور اولاد دے کر چھوٹ جاؤں گا اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے آیت کریمہ ﴿ مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبؕا 002﴾ نازل فرمائی۔
Ayah 111:3

سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader

یہ عنقریب شعلہ مارتی ہوئی بڑی آگ میں داخل ہوگا

﴿سَيَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ003﴾ (عنقریب یعنی قیامت کے دن لپٹ مارنے والے آگ میں داخل ہوگا) ۔ وَّ امْرَاَتُهٗ 1ؕ (اور اس کی بیوی بھی) اس کی بیوی کا نام ارویٰ اور کنیت ام جمیل تھی جو ابو سفیان بن حرب کی بہن تھی اپنے شوہر کی طرح یہ بھی رسول اللہ ﷺ کی بہت سخت دشمن تھی میاں بیوی دونوں کو لپٹیں مارنے والی آگ میں داخل ہونے کی خبر دنیا ہی میں دے دی گئی۔ یوں تو سبھی کافر دوزخ میں داخل ہوں گے لیکن ان دونوں کا خصوصی نام لے کر نار کی خبر دے دی جو مزید مذمت اور قباحت کا باعث بن گئی۔ رہتی دنیا تک یہ سورت پڑھی جاتی رہے گی اور قارئین کی زبان سے نکلتا رہے گا کہ یہ دونوں دوزخ میں داخل ہوں گے۔
Ayah 111:4

وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader

اور اس کی بیوی بھی، بری عورت جو لکڑیاں لادنے والی ہے

﴿ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ004 ﴾ (بالنصب فی قراٴۃ عاصم) اس کا عامل محذوف ہے جو اَذُمُّ ہے یعنی اس کی مذمت بیان کرتا ہوں، وہ لکڑیاں اٹھائی پھرتی تھی، اس کی دوسری مذموم حرکتیں تو تھیں ہی ان میں سے یہ حرکت بھی تھی کہ کانٹے دار لکڑیاں جمع کر کے اٹھائے پھرتی تھی اور رسول اللہ ﷺ کے راستے میں ڈال دیتی تھی آپ تو اس پر آسانی سے گزر جاتے تھے لیکن اس عورت کی شقاوت اور بدبختی کا مظاہرہ ہوتا رہتا تھا، بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ﴿ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ﴾ میں اس کی کنجوسی بیان کی گئی ہے اس نے رسول اللہ ﷺ کو تنگ دستی کا طعنہ دیا اس کے مقابلہ میں اس عورت کی کنجوسی ظاہر کی گئی کہ پیسے والی ہوتے ہوئے اپنی کمر پر لکڑی کی گٹھڑیاں اٹھا کر لاتی ہے۔ حضرت مجاہد تابعی نے حمالۃ الحطب کا یہ مطلب بتایا ہے کہ وہ چغلی کھاتی تھی چغلی کھانے والا چونکہ لوگوں کے درمیان آگ جلاتا ہے اس لیے چغلی کھانے کو ہیزم کش لکڑیاں جلانے والا کہا جاتا ہے اس کی تفسیر میں چوتھا قول یہ ہے کہ اس سے گناہوں کا بوجھ لاد کرلے جانا مراد ہے۔ اور پانچویں تفسیر یوں کی گئی ہے کہ وہ جس طرح دنیا میں رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں اپنے شوہر کی مدد کرتی تھی اسی طرح دوزخ میں وہ اپنے شوہر پر لکڑیاں ڈالتی رہے گی تاکہ اس کو اور زیادہ عذاب ہو۔ (ذكرہ ابن کثیر)
Ayah 111:5

فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader

اس کے گلے میں رسی ہے کھجور کی چھال کی۔

﴿فِيْ جِيْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ (رح) 005﴾ (اس کی گردن میں رسی ہے کھجور کی چھال کی) بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ پہلی بات سے متعلق ہے یعنی لکڑیاں لانے اور اٹھانے کے لیے اپنے گلے میں رسی باندھ لیتی تھی (یہ بات دل کو نہیں لگتی کیونکہ گٹھری اٹھانے کے لیے گلے میں رسی نہیں ڈالی جاتی) ۔ حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا ہے کہ اس کے گلے میں ایک قیمتی ہار تھا وہ کہتی تھی کہ میں اس ہار کی قیمت کو محمد ﷺ کی دشمنی میں خرچ کر دوں گی اس کے عوض دوزخ کی ایک رسی اس کے گلے میں ڈال دی جائے گی جو آگ کی رسی ہوگی جس طرح کھجور کی چھال سے رسی بناتے ہیں اسی طرح وہ رسی آگ سے بنائی ہوئی ہوگی۔ لفظ مَسَدٍ کا ایک ترجمہ وہی ہے جو اوپر لکھا گیا ہے یعنی کھجور کی چھال اور بعض حضرات نے اس کو بٹنے کے معنی میں لیا ہے یعنی اس کی گردن میں رسی ہوگی جو خوب بٹی ہوئی ہوگی۔ بیان القرآن میں اسی کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے۔ فائدہ : رسول اللہ ﷺ کی چار صاحبزادیاں تھیں سب سے بڑی حضرت زینب ؓ تھیں اور سب سے چھوٹی فاطمہ ؓ تھیں اور ان دونوں کے درمیان حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ ؓ تھیں۔ چونکہ حضرت رسول اکرم ﷺ کو نبوت سے سرفراز ہونے سے پہلے ہی تینوں بڑی لڑکیوں کی شادی کی ضرورت کا احساس ہوگیا تھا اس لیے آپ نے حضرت زینب کا نکاح ابو العاص بن ربیع سے اور حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ کا ابو لہب کے بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے کردیا تھا، ابھی صرف نکاح ہی ہوا تھا رخصتی نہ ہونے پائی تھی کہ سورة ٴ ﴿ تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ001﴾ نازل ہوئی لہٰذا ابو لہب نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم دونوں محمد ﷺ کی بیٹیوں کو طلاق دے دو ورنہ میرا تمہارا کوئی تعلق نہیں، اس پر وہ دونوں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ ایک نے تو صرف طلاق دے دی اور دوسرے نے گستاخی کے الفاظ بھی زبان سے نکال دیئے، آپ نے اس کو بد دعا دے دی : اللھم سلط علیہ کلبا من کلابک (کہ اے اللہ اس پر اپنے پھاڑنے والے جانوروں میں سے ایک جانور مسلط فرما دے) ۔ اس وقت آپ کے چچا ابو طالب بھی موجود تھے وہ خود مسلمان نہ ہونے کے باوجود یہ بد دعا سن کر سہم گئے اور اس لڑکے سے کہا کہ اس بد دعا سے تجھے خلاصی نہیں ہوسکتی، ابو لہب کو آنحضرت ﷺ سے بڑی دشمنی تھی مگر وہ بھی یہ سمجھتا تھا کہ میرے لڑکے کو آپ کی بد دعا ضرور لگ کر رہے گی جب ایک مرتبہ شام کے سفر کے لیے مکہ والوں کا قافلہ روانہ ہوا تو ابو لہب نے اپنے اس لڑکے کو بھی ساتھ لے لیا، ابو لہب نے قافلہ والوں سے کہا کہ مجھے محمد ﷺ کی بد دعا کی فکر ہے۔ سب لوگ ہماری خبر رکھیں۔ چلتے چلتے ایک منزل پر پہنچے، وہاں درندے بہت تھے۔ لہٰذا حفاظتی تدبیر کے طور پر یہ انتظام کیا کہ تمام قافلہ کا سامان ایک جگہ جمع کر کے ایک ٹیلہ سا بنا دیا اور پھر اس کے اوپر اس لڑکے کو سلا دیا اور باقی تمام آدمی اس کے چاروں طرف سو گئے۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کو کون بدل سکتا ہے ؟ تدبیر ناکام ہوئی اور رات کو ایک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھے اور سب کو چھوڑتا چلا گیا۔ پھر اس زور سے زقند لگائی کہ سامان کے ٹیلہ پر جہاں وہ لڑکا سو رہا تھا وہیں پہنچ گیا اور پہنچتے ہی اس کا سر تن سے جدا کردیا۔ اس نے ایک آواز بھی دی مگر ساتھ ہی ختم ہوچکا تھا نہ کوئی مدد کرسکا نہ مدد کا فائدہ ہوسکتا تھا۔ ولم تکن لہ فئة ینصرونہ من دون اللہ وما کان منتصرا جمع الفوائد میں اس (شیر والے واقعہ) کو عتیبہ کے متعلق لکھا ہے اور اسی کو سیّدہ ام کلثوم ؓ کا شوہر بتایا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ شام کو جاتے ہوئے جب اس قافلہ نے مقام رزقاء میں منزل کی تو ایک شیر آ کر ان کے گرد پھرنے لگا، اس کو دیکھ کر عتیبہ نے کہا کہ ہائے ہائے یہ تو مجھے کھائے بغیر نہ چھوڑے گا جیسا کہ محمد ﷺ نے بد دعا دی تھی ” محمد ﷺ نے بیٹھے بیٹھے مجھے یہاں قتل کردیا “ اس کے بعد وہ شیر چلا گیا اور جب مسافر سو گئے تو دوبارہ آ کر اس کو قتل کردیا۔ دلائل النبوت میں بھی اس واقعہ کو درج کیا ہے مگر مقتول کا نام عتبہ بتایا ہے۔ سلسلہ بیان میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب وہ قافلہ شام میں داخل ہوگیا تو ایک شیر زور سے بولا۔ اس کی آواز سن کر اس کے لڑکے کا جسم تھرتھرانے لگا۔ لوگوں نے کہا کہ تو کیوں کانپتا ہے جو ہمارا حال وہی تیرا حال۔ اس قدر ڈرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ محمد ﷺ نے مجھے بد دعا تھی۔ خدا کی قسم ! آسمان کے نیچے محمد ﷺ سے سچا کوئی نہیں اس کے بعد رات کا کھانا کھانے کے لیے بیٹھے تو ڈر کی وجہ سے اس لڑکے کا ہاتھ کھانے تک نہ گیا پھر سونے کا وقت آیا تو سب قافلہ والے اس کو گھیر کر اپنے درمیان میں لے کر سو گئے شیر بہت معمولی آواز سے بھنبھناتا ہوا آیا اور ایک ایک کو سونگھتا رہا حتیٰ کہ اس لڑکے تک پہنچ گیا اور اس پر حملہ کردیا، آخری سانس لیتے ہوئے اس نے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ محمد ﷺ سب سے زیادہ سچے ہیں۔ یہ کہہ کر مرگیا۔ ابو لہب نے بھی کہا کہ میں پہلے سمجھ چکا تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا سے اس لڑکے کو چھٹکارہ نہیں۔ (دلائل النبوت صفحہ 163 مطبوعہ دائرۃ المعارف حیدر آباد) لیکن صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ عتیبہ کے ساتھ پیش آیا۔ کیونکہ عتبہ کے متعلق الاصابہ، اور الاستیعاب اور اسد الغابہ میں لکھا ہے کہ وہ مسلمان ہوگئے تھے۔ حافظ ابن حجر ؓ الاصابہ میں لکھتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ فتح کے موقع پر مکہ معظمہ تشریف لائے تو آپ نے اپنے چچا حضرت عباس ؓ سے فرمایا کہ تمہارے بھائی (ابو لہب) کے بیٹے عتبہ معتب کہاں ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ دونوں مکہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا ان کو لے آؤ۔ چناچہ حضرت عباس ؓ ان کو عرفات سے جا کرلے آئے۔ وہ دونوں عجلت کے ساتھ آگئے اور اسلام قبول کرلیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے چچا کے ان دونوں لڑکوں کو اپنے رب سے مانگ لیا ہے اس کے بعد لکھا ہے کہ عتبہ مکہ ہی میں رہے اور وہیں وفات پائی۔ غزوہٴ حنین کے موقعہ پر یہ دونوں بھائی آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے۔ کتنی بڑی شقاوت اور بد بختی ہے کہ ابو لہب اور خود اس کا لڑکا جان رہے ہیں اور دل سے مان رہے ہیں کہ محمد ﷺ سے بڑھ کر کوئی سچا نہیں اور ان کی بد دعا ضرور لگے گی اور خداوند عالم کی طرف سے ضرور عذاب دیا جائے گا۔ مگر پھر بھی دین حق قبول کرنے اور کلمہ اسلام پڑھنے کو تیار نہ ہوئے۔ جب دل میں ہٹ اور ضد بیٹھ جاتی ہے تو اچھا خاصا سمجھدار انسان باطل پر جم جاتا ہے اور عقل کی رہنمائی کو قبول کرنے کی بجائے نفس کا شکار بن کر اللہ رب العزت کی ناراضگی کی طرف چلا جاتا ہے۔ اعاذنا اللہ من ذلك فائدہ : رسول اللہ ﷺ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب ؓ کا نکاح حضرت ابو العاص بن ربیع ؓ سے ہوا تھا وہ بھی ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئی تھیں۔ 8 ہجری میں وفات پائی اور رسول اللہ ﷺ دفن کرنے کے لیے خود ان کی قبر میں اترے اور جب عتبہ اور عتیبہ نے اپنی اپنی منکوحہ کو طلاق دے دی تو رسول اللہ ﷺ نے سیّدہ رقیہ ؓ کا حضرت عثمان بن عفان ؓ سے نکاح کردیا۔ دونوں میاں بیوی نے دو مرتبہ حبشہ کو اور تیسری مرتبہ مدینہ منورہ کو ہجرت فرمائی۔ سیّدہ رقیہ ؓ نے مدینہ منورہ میں 2 ہجری میں وفات پائی۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت غزوہٴ بدر کے لیے تشریف لے گئے تھے آپ کے پیچھے ہی ان کی وفات ہوگئی۔ ؓ وارضاھا۔ جب سیّدہ رقیہ ؓ کی وفات ہوگئی تو آنحضرت سرور عالم ﷺ نے سیّدہ ام کلثوم ؓ کا نکاح بھی حضرت عثمان ؓ سے کردیا چونکہ ان کے نکاح میں یکے بعد دیگرے رسول اللہ ﷺ کی دو صاحبزادیاں رہیں اس لیے وہ ذوالنورین کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ (یعنی دو نور والے) 9 ہجری میں سیّدہ ام کلثوم ؓ کی بھی وفات ہوگئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میری تیسری بیٹی (بےبیاہی) ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی عثمان سے کردیتا۔ رسول اللہ ﷺ کی چوتھی صاحبزادی سیدہ فاطمہ ؓ تھیں جن سے حضرت علی ؓ کا نکاح ہوا اور اولاد بھی ہوئی اور انہیں سے رسول اللہ ﷺ کی نسل چلی، آپ کی وفات کے چھ ماہ بعد سیّدہ فاطمہ ؓ نے وفات پائی۔ (تفصیلات کے لیے الاصابہ، اسد الغابہ کا مطالعہ کیجئے) ۔