111. Surah Al-Masad
المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsانوار البیان
تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader
ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہو
(111:1) تبت یدا ابی لھب وتب ۔ یہ دونوں جملے تبت یدا ابی لہب اور وتب۔ بددعا کے لئے ہیں۔
تبت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ تب وتباب (باب ضرب) مصدر بمعنی ٹوٹنا۔ یا ٹوٹے میں رہنا۔
یدا اصل میں یدان تھا۔ اضافت کی وجہ سے ن گرا دیا گیا۔ مضاف دونوں ہاتھ۔ ابی لھب مضاف الیہ۔ ابی لہب کے (دونوں ہاتھ) ۔ تبت یدا ابی لہب۔ ابی لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں۔
لغت عرب میں ید کے مختلف معانی ہیں :۔
آیت بل یداہ مبسوطتن ینفق کیف یشاء (5:64) میں بمعنی جود و کرم مستعمل ہے۔ بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں۔ یعنی وہ بڑا صاحب جودوسخا ہے وہ جس طرح اور جتنا چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔
اور آیت ونسی ما قدمت یداہ (18:57) میں بمعنی ذات، شخص ہے۔ اور بھول گیا جو اعمال وہ آگے کرچکا ۔ وغیرہ
وتب واؤ عاطفہ، جملہ ہذا کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور وہ ہلاک ہوا۔ وہ ٹوٹ گیا۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تباب مصدر سے ۔ بمعنی ہلاک ہونا۔ ٹوٹے میں رہنا۔
تب کی ضمیر فاعل ابو لہب کی طرف راجع ہے۔ آیندہ ابو لہب یقینی طور پر ہلاک ہونے والا تھا اس لئے بجائے مستقبل کے ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ۔
مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader
نہ تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا
(111:2) ما اغنی عنہ مالہ وما کسب : ما نافیہ۔ اغنی فعل ۔ عنہ متعلق بہ فعل۔ مالہ اس کا فاعل (معطوف علیہ)
واؤ عاطفہ ما موصولہ کسب اس کا صلہ۔ موصول و صلہ مل کر (معطوف) اغنی عنہ کذا۔ کسی چیز کا کافی ہونا۔ فائدہ بخشنا۔
ما اغنی عنہ مالہ نہ تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا۔
اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ما اغنی عنی مالیہ (69:28) میرا مال میرے کچھ بھی کام نہ آیا۔
کہتے ہیں :۔ ھذا ما یغنی عنک شیئا۔ یہ تجھے کوئی فائدہ نہ دیگا۔ اغنی ماضی کا صیغہ ماضی واحد مذکر غائب۔ اغناء (افعال) مصدر سے وہ کام آیا۔ اس نے غنی بنادیا۔ اس نے دولت دی۔ غنی مالدار اغنیاء جمع مالدار لوگ۔
کسب ماضی واحد مذکر غائب۔ کسب (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی مال کمانا۔ کمائی کرنا۔
یہاں آیت ہذا میں وما کسب (اور جو اس نے کمایا) سے مراد اولاد ہے یعنی نہ ہی اس کی اولاد اس کے کام آئی۔
سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader
وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا
(111:3) سیصلی نارا ذات لھب : س مستقبل قریب کے لئے ہے یعنی عنقریب۔
یصلی مضارع واحد مذکر غائب صلی (باب سمع) مصدر سے وہ داخل ہوگا۔ ضمیر فاعل ابو لہب کی طرف راجع ہے۔
نارا مفعول بہٖ ۔ موصوف۔ ذات لہب : مضاف مضاف الیہ۔ مل کر صفت۔ وہ عنقریب داخل ہوگا آگ شعلہ زن میں۔
ذات لہب : ذات (والی۔ صاحبہ) ذو کا مؤنث مضاف۔ لہب شعلہ۔ مضاف الیہ۔ شعلوں والی آگ۔ لہب (باب سمع) مصدر۔ بمعنی آگ کا مشتعل ہونا۔
وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader
اور اس کی جورو بھی ایندھن سر پر اٹھائے پھرتی ہے
(111:4) وامرأتہ حمالۃ الحطب : واؤ عاطفہ، امرأۃ معطوف جس کا عطف ہ ضمیر متصل پر ہے۔ اور اس کی جورو بھی (دہکتی ہوئی آگ میں عنقریب داخل ہوگی)
حمالۃ الحطب۔ یہ جملہ امراۃ سے حال ہے۔ (جو اس حال میں پھرتی ہے کہ) لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے ہے۔
حمالۃ خوب اٹھانے والی۔ حمل سے بروزن فعالۃ مبالغہ کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔
ایندھن سر پر لئے پھرنے والی۔ ابولہب کی بیوی کی صفت ہے اس کا نام ارویٰ بنت حرب ہے۔ کنیت ام جمیل اور لقب عوراء (کافی) ہے اپنے بدبخت شوہر کی طرح اس شقیہ کو بھی آنحضرت ﷺ سے سخت ترین عداوت تھی۔
ایندھن سر پر لئے پھرنے کو بعض نے حقیقت پر محمول کیا ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ خست کے مارے ایندھن جنگل میں سے خود جن کر لاتی تھی اور کانٹے حضور ﷺ کی راہ میں ڈال دیتی تھی تاکہ آتے جاتے چبھیں۔
اور بعض نے کہا ہے کہ سخن چینی سے استعارہ ہے چونکہ چغل خوری کے سبب قبیلہ میں لڑائی کی آگ بھڑکاتی تھی اس لئے قرآن مجید نے اس کو حمالۃ الحطب کہا ہے۔
الحطب۔ لکڑی۔ ایندھن۔ ہیزم۔
فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader
اس کے گلے میں مونج کی رسی ہوگی
(111:5) فی جیدھا حبل من مسد : یہ جملہ حمالۃ کی ضمیر واحد مؤنث سے حال ہے۔ درآں حالیکہ منج کی رسی اس کی گردن میں ہے
جیدھا مضاف مضاف الیہ۔ جید بمعنی گردن۔ جیود واجیاد جمع ہے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب امراتہ کی طرف راجع ہے۔ اس کی گردن۔
حبل موصوف من مسد اس کی صفت۔ موصوف و صفت مل کر مبتداء مؤخر۔ فی جیدھا خبر مقدم۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ امراتہ مبتداء ۔ حمالۃ الحطب اس کی خبر۔ فی جیدھا حمالۃ کی ضمیر سے حال ہے۔
حبل۔ رسی۔ عہد ، پیمان، اس کے اصل معنی تو رسی کے ہیں لیکن مجازا عہد و پیمان کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔
مسد اسم ۔ درخت کھجور کی شاخوں سے نکالے ہوئے ریشے۔ مونج۔ مسد (باب نصر) رسی بٹنا۔
ابو لہب اور اس کی بیوی کا نسب نامہ مختصرا۔
امیہ
عبد المطلب حرب
عبد اللہ عبد العزی ابو سفیان ام جمیل
محمد (ابو لہب) (ابو لہب کی بیوی)
ﷺ