111. Surah Al-Masad

المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 111:1

تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader

ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہو گیا وہ

[تَبَّتْ : تباہ ہوں ][ يَدَآ اَبِيْ لَهَبٍ : ابولہب کے دونوں ہاتھ ][ وَّتَبَّ : اور وہ (بھی) تباہ ہو ] ترکیب : (آیت۔ 1) تَبَّتْ واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ اسی کا فاعل یَدَانِ ہے۔ مضاف ہونے کی وجہ سے نون تثنیہ گرا ہوا ہے۔ تَبَّ واحد مذکر غائب ہے۔ اس کا فاعل اس میں شامل ھُوَ کی ضمیر ہے۔ افعال ماضی میں خبر دینے کا مفہوم بھی ہوتا ہے اور دعا مانگنے کا بھی۔ (دیکھیں آیت۔ 2: 72، نوٹ۔ 2) اس آیت کے خبریہ اور دعائیہ، دونوں ترجمے درست مانے جائیں گے۔ ہم دعائیہ کو ترجیح دیں گے۔ نوٹ 1: قرآن مجید میں یہ ایک ہی مقام ہے جہاں دشمنانِ اسلام میں سے کسی شخص کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی ہے حالانکہ مکہ میں بھی اور مدینہ میں بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو اسلام اور محمد ﷺ کی عداوت میں ابولہب سے کسی طرح کم نہ تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس شخص کی وہ کیا خصوصیت تھی جس کی بنا پر اس کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی۔ وجہ یہ ہے کہ عربی معاشرے کی اخلاقی قدروں میں صلۂ رحمی کو بڑی اہمیت حاصل تھی اور قطع رحمی کو بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ عرب کی انہی روایات کا یہ اثر تھا کہ قریش کے دوسرے خاندانوں اور ان کے سرداروں نے تو حضور ﷺ کی شدید مخالفت کی مگر بنوہاشم نے نہ صرف آپ ﷺ کی مخالفت نہیں کی بلکہ وہ آپ ﷺ کی حمایت کرتے رہے، حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے تھے۔ قریش کے دوسرے خاندان اس حمایت کو عرب کی روایات کے عین مطابق سمجھتے تھے۔ اس لیے انھوں نے کبھی بنوہاشم کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ تم اپنے آبائی دین سے منحرف ہوگئے ہو۔ اس اخلاقی اصول کو صرف ایک شخص نے توڑ ڈالا۔ اور وہ تھا ابولہب جو آپ ﷺ کا سگا چچا تھا۔ یہاں تک کہ نبوت کے ساتویں سال جب قریش نے بنوہاشم کا معاشرتی اور معاشی مقاطعہ کیا اور بنو ہاشم کے تمام خاندانوں نے رسول اللہ ﷺ کی حمایت پر ثابت قدم رہتے ہوئے شعب ابی طالب میں محصور ہوگئے تو تنہا یہی ابولہب تھا جس نے اپنے خاندان کا ساتھ دینے کے بجائے قریش کا ساتھ دیا۔ (تفہیم القرآن۔ ج 6 ۔ ص 520 تا 523 سے ماخوذ۔ اس کے باقی جرائم کی تفصیل ان ہی صفحات میں دیکھی جاسکتی ہے) نوٹ 2: جب رسول اللہ ﷺ پر آیت وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر قبیلہ قریش کے لوگوں کو آواز دی تو لوگ جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن صبح شام میں تم پر ٹوٹ پڑنے والا ہے تو کیا تم لوگ میری تصدیق کرو گے۔ سب نے یک زبان ہو کر کہا ہاں ضرور تصدیق کریں گے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں ایک عذاب شدید ہے۔ یہ سن کر ابولہب نے کہا تَبًّالَکَ اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا۔ اس آیت۔ 1 ۔ میں پہلا جملہ تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ بطور بددعا کے ہے یعنی ابولہب ہلاک ہوجائے۔ اور دوسرا جملہ وَتَبَّ خبر یہ ہے۔ گویا بددعا کے ساتھ اس کا اثر بھی بتادیا کہ وہ ہلاک ہوگیا۔ بددعا کا جملہ مسلمانوں کے شفاء غیظ کے لیے ارشاد فرمایا گیا کیونکہ جب ابولہب نے آپ ﷺ کی شان میں تَبًّا کہا تو مسلمانوں کے دل کی خواہش تھی کہ وہ اس کے لیے بددعا کریں۔ حق تعالیٰ نے گویا ان کے دل کی بات خود فرما دی۔ (معارف القرآن) یہاں کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں ہے کہ ایک فعل کو دعائیہ اور دوسرے کو خبریہ مانا جائے۔ اس لیے منطقی تقاضا یہ ہے کہ تَبَّتْ ، تَبَّ اور مَا اَغْنٰی تینوں افعال کو یا تو دعائیہ مانا جائے یا خبریہ۔ ہم نے دعائیہ کو ترجیح دی ہے کیونکہ یہ اس وقت کے اہل ایمان کے دل کی آواز تھی۔ اور جہاں تک دعا کے پورا ہونے کا مسئلہ ہے تو اس وقت بھی آج بھی ہر اہل ایمان کا ایمان ہے کہ اللہ کا فرمان اٹل ہے۔ اس لیے خبر دینے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ (مرتب)
Ayah 111:2

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader

اُس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اُس کے کسی کام نہ آیا

[مَآ اَغْنٰى عَنْهُ : کام نہ آئے اس کے ][ مَالُهٗ : اس کا مال ][ وَمَا : اور وہ جو ][ كَسَبَ : اس نے کمایا ] (آیت۔ 2) مَا اَغْنٰی مَا کو نافیہ بھی مانا جاسکتا ہے اور استفہائیہ بھی، دونوں ترجمے درست ہوں گے۔ ہم نافیہ کو ترجیح دیں گے۔ مَاکَسَبَ میں مَا موصولہ ہے نوٹ 3: کَسَبَ کے معنی ہیں کمانا۔ یعنی وقت، محنت اور اپنے وسائل خرچ کر کے کوئی چیز حاصل کرنا۔ ظاہر ہے اس میں وہ مال بھی آتا ہے جو انسان کماتا ہے، معاشرے میں وہ مقام و مرتبہ بھی جو وہ کوشش کر کے اپنے لیے بناتا ہے، وہ انصار واعوان بھی جو وہ اپنے تعلقات کے ذریعہ بناتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق آدمی کا بیٹا بھی اس کا کسب ہے۔ یہاں آیت۔ 2 ۔ میں مال کا ذکر پہلے آچکا ہے اس لیے وَمَا کَسَبَ میں مال کے علاوہ باقی دوسری کمائیاں مراد ہیں جس میں بیٹے بھی شامل ہیں۔ ابولہب کے انجام سے یہ سب معانی مناسبت رکھتے ہیں۔ کیونکہ بدر کی شکست کے سات روز بعد اس کو طاعون کی گلٹی نکلی جس کو عرب میں عَدَسَہ کہتے ہیں اور جو چھوت کی بیماری ہے۔ اس لیے سب گھر والوں نے اس کو الگ ڈال دیا اور اسی بےکسی کی حالت میں وہ مرگیا۔ تین روز تک لاش پڑی رہی۔ جب سڑنے لگا تو بیٹوں نے مزدوروں سے اٹھوا کر مٹی میں دبوا دیا۔ اس وقت مال، اولاد، تعلقات، کچھ بھی اس کے کام نہ آیا۔ مورخہ 20 ۔ ربیع الاول 1432 ھ
Ayah 111:3

سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader

ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا

[سَيَصْلٰى نَارًا : وہ گرے گا ایک ایسی آگ میں جو ][ ذَاتَ لَهَبٍ : شعلے والی ہے ] (آیت۔ 3) سَیَصْلٰی کا فاعل اس میں شامل ھُوَ کی ضمیر ہے۔ (آیت۔ 4) وَامْرَاَتُہٗ کی رفع بتارہی ہے کہ یہ سَیَصْلٰی کا فاعل ثانی ہے۔ اس کا حال ہونے کی وجہ سے حَمَّالَۃَ حالت نصب میں ہے۔
Ayah 111:4

وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader

اور (اُس کے ساتھ) اُس کی جورو بھی، لگائی بجھائی کرنے والی

[وَّامْرَاَتُهٗ ۭ : اور اس کی عورت (بھی)][حَمَالَةَ الْحَطَبِ : بہت ہی اٹھانے (لیے پھرنے) والی ہوتے ہوئے لگائی بجھائی کو ]
Ayah 111:5

فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader

اُس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی

[فِيْ جِيْدِهَا : اس کی گردن میں ][ حَبْلٌ: ایک ایسی رسی ہے جو ][ مِّنْ مَّسَدٍ : کھجور کے ریشے سے (بٹی) ہے ]