111. Surah Al-Masad
المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsتفسیر القرطبی
تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader
ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہو
تبت یدا ابی لھب و تب
ٹوٹ جائیں ابو لہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ و برباد ہوگیا۔
اس میں تین مسائل ہیں :
شان نزول :
مسئلہ نمبر 1: تبت یدا ابی لھب و تب۔ بیشک وہ (آگ) ان پر بند کردی جائے گی (اس کے شعلے) لمبے لمبے ستونوں کی صورت میں ہوں گی۔
موصدۃ کا معنی ہے مطبقہ، یعنی تہہ در تہہ ہوگی۔ یہ حضرت حسن بصری اور ضحاک کا نقطہ نظر ہے سورة بلد میں اس کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ قریش کی لغت کے مطابق اس کا معنی مغلقہ ہے یعنی بند کردی جائے گی وہ کہتے ہیں : آصدت الماب جب تو دروزے کو بند کردے ؛ یہ مجاہد کا قول ہے ؛ اس معنی میں عبید اللہ بن قیس رقیات کا قول ہے :
ان فی القصر لو دخلنا غزلا۔۔۔ مصفقا موصدا علیہ الحجاب
کاش ! ہم داخل ہوتے بیشک محل میں ایک ہرن ہے جس پر حجاب ڈال دیا گیا ہے۔
میں فی باء کے معنی میں ہے یعنی اسے لمبے لمبے ستونوں کے ساتھ جکڑ دیا گیا ہے، یہ حضرت ابن مسعود کا قول ہے۔ آپ کی قرات میں بعمد ممدۃ ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں نبی کریم سے مروی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر فرشتے بھیجے گا جن کے ساتھ آگ کے کواڑ، آگ کے کیل اور آگ کے ہی ستون ہوں گے وہ ان پر ان کو اڑوں کو بند کردیں گے، ان پر کیل لگا دیں گے اور ان ستونوں کے ساتھ انہیں باندھ دیا جائے گا کوئی سوراخ باقی نہیں رہے گا جس میں سے راحت داخل ہوسکے اور غم خارج ہوسکے اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر انہیں بھول جائے گا جنتی نعمتوں سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے جہنمی اس کے بعد کبھی بھی مدد طلب نہ کرسکیں گے، گفتگو ختم ہوجائے گی ان کی گفتگو چیخ و پکار ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کا یہی مفہوم ہے۔ قتادہ نے کہا : عمد کے ساتھ انہیں عذاب دی جائے گا ؛ طبری نے اسے اختیار کیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : عمد ممددۃ سے مراد ان کے گردنوں میں طوق ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : ان کے پاؤں میں بیڑیاں ہیں۔ یہ ابو صالح نے کہا۔ قشیری نے کہا کہ عمد سے مراد کو اڑوں کے کیل ہیں جو جہنمیوں پر بند کردیئے جائیں گے اور ان پر کیل لگا دیئے جائیں گے یہاں تک کہ ان کا غم اور گرمی جہنمیوں پر ہی لوٹے گی۔ تو ان پر کسی قسم کی راحت داخل نہیں ہوگی۔
ایک قول یہ کیا گیا : جہنم کے دروازے ان پر بند کردیئے جائیں گے جبکہ وہ بیڑیوں اور لمبے طوقوں میں جکڑے ہوں گے یہ چھوٹوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اس کے عذاب اور آلام میں انہیں اس کے ساتھ مارا جائے گا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے لمبا زمانہ جو ختم نہ ہو۔ فراء نے کہا : عمد اور عمد دونوں عمود کی جمع ہیں جس طرح ادیم کی جمع آدم اور ادم اور افیق کی جمع افق ہے اور فق آتی ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : عمد عماد کی جمع ہے، جس طرح اھاب کی جمع اھب اور اھب ہے۔ ابو عبیدہ نے عمد کو پسند کیا ہے اسی طرح ابو حاتم کی رائے ہے وہ اس آیت کریمہ سے استدلال کرتے ہیں رفع السموات بغیر عمد ترونھا۔ (الرعد) اس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ستونوں کے جن کو تم دیکھو۔
اس آیت میں علماء نے عمد پر اتفاق کیا ہے۔ جوہری نے کہا : العمود سے مراد گھر کے ستون ہوتے ہیں اس کی جمع قلت اعمدہ ہے جمع کثرت عمد اور عمد ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان، میں اس لفظ عمد کو دونوں طرح پڑھا گیا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : عمود ہر ایسی چیز کو کہتے ہیں جو لمبی ہو خواہ وہ لکڑی کی ہو یا لوہے کی ہو یہ تعمیر کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے جس طرح عماد کی حیثت ہوتی ہے جس طرح جملہ بولتے ہیں : عمدت الشی فانعمد میں نے اسے عماد کے ذریعے سیدھا کیا جس پر اس کا انحصار تھا۔ اعمدتہ یعنی میں نے اس کے نیچے ستون (سہارا والی چیز) بنائی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے : لوگ اپنے اعمال کے اعتبار سے مختلف ہوں گے اہل ایمان علیحدہ ہوں گے اور ہر دین کے پیروکار علیحدہ ہوں گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ لوٹنا دو بار اٹھنے کے وقت ہوگا وہ قبروں سے گروہ در گروہ لوٹیں گے اور انہیں حساب کے میدان کی طرف لے جایا جائے گا تاکہ وہ اپنے اعمال اپنی کتابوں میں دیکھ سکیں یا اپنے اعمال کی جزا دیکھ سکیں، گویا وہ قبروں پر وارد ہوئے ان میں انہیں دفن کیا گیا پھر وہ ان سے لوٹے۔ وارد کا معنی آنے والا اور صادر کا معنی لوٹنے والا ہے۔ وہ زمین کے مختلف اطراف سے اٹھائے جائیں گے، پہلے قول کے مطابق اس میں تقدیم و تاخیر ہے، اس کی صورت یہ ہوگی، وہ اپنی خبریں بیان کرے گی کہ اس کے رب نے اس کی طرف الہام کیا تاکہ وہ اپنے اعمال دیکھیں درمیان میں یہ جملہ : یومئذ یصدر الناس اشتاتا معترضہ ہے۔ یعنی وہ حساب کے میدان سے جدا جدا لوٹیں گے، عام قرات لیروا ہے معنی ہوگا اللہ تعالیٰ ان کے اعمال دکھائے، حسن بصری، زیرہ، قتادہ، اعرج، نصر بن عاصم اور طلحہ نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ نبی کریم سے مروی ہے۔
اہل لغت میں سے بعض علماء نے یہ کہا ہے : ذریہ ہے آدمی اپنا ہاتھ زمین پر مارے تو اس کے ساتھ جو مٹی لگ جائے اسے ذر کہتے ہیں ؛ حضرت ابن عباس نے یہی کہا ہے : جب تو اپنا ہاتھ زمین پر رکھے اور اسے اٹھائے تو مٹی میں سے جو اس کے ساتھ لگ جاتی ہے وہ ذرہ ہے۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا : کافروں میں سے جو آدمی ذرہ برابر نیکی کرتا ہے وہ اس کا ثواب دنیا میں دیکھ لیتا ہے۔ (1) یعنی اپنی ذات میں، اپنے اہل میں اور اپنی اولاد میں یہاں تک کہ وہ دنیا سے نکلتا ہے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی خیر نہیں ہوتی۔ مومنوں میں سے جو کوئی برا عمل کرتا ہے وہ دنیا میں اس کی سزا دیکھ لیتا ہے اپنی ذات میں، اپنے مال میں، اپنی اولاد میں اور اپنے اہل میں یہاں تک کہ وہ دنیا سے نکلتا ہے جبکہ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی برائی نہیں ہوتی اس کی دلیل وہ حدیث ہے جو ثقہ علماء نے حضرت انس سے نقل کی ہے۔ یہ آیت نبی کریم پر نازل ہوئی جبکہ حضرت ابوبکر کھانا کھا رہے تھے۔ (2) تو انہوں نے کھانا چھوڑ دیا عرض کی : یا رسول اللہ، ہم اچھا یا برا جو عمل کرتے ہیں وہ ہمیں دکھایا جائے گا ؟ فرمایا : ما رایت مما تکرہ فھو مثاقیل ذر الشر و یدخر لکم مثاقیل ذر الخیر حتی تعطوہ یوم القیامۃ۔ جو تو ناپسندیدہ چیزیں دیکھتا ہے یہ وہی ذرہ برابر برائیاں ہیں اور ذرہ برابر اچھائیاں تمہارے حق میں ذخیرہ کرلی جائیں گی، یہاں تک کہ قیامت کے روز وہ تمہیں دے دی جائیں گے۔
عام قرات یرہ ہے، جحدری، سلمی، عیسیٰ بن عمر اور ابان نے اسے یرہ پڑھا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اسے دکھائے گا، پہلا پسندیدہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یوم تجد کل نفس ما عملت من خیر محضرا۔ (آل عمران) اس روز ہر نفس اسے حاضر پائے گا جو اس نے اچھا عمل کیا ہوگا۔ ہشام نے دونوں مواقع پر ھاء کو ساکن پڑھا ہے۔ کسائی نے اسے ابوبکر، ابو حیوہ اور مغیرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ یعقوب، زہری، جحدری اور شیبہ نے اس میں اختلاس کیا ہے۔ باقی قرار نے اسے اشباع کی صورت میں پڑھا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ اس کی جزا دی کے گا۔ کیونکہ اس کا عمل گزر چکا اور معدوم ہوچکا تو وہ دکھائی نہیں دے گا۔ علماء نے اس بارے میں اشعار ذکر کیے :
معمر نے زید بن اسلم سے روایت نقل کی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : مجھے وہ کچھ سکھایئے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے۔ حضور نے اسے ایک آدمی کے پاس بھیجا جو اسے تعلیم دے تو اس نے اسے سورة اذا زلزلت کی تعلیم دی یہاں تک کہ وہ اس آیت تک پہنچا تو اس نے کہا : میرے لیے کافی ہے تو نبی کریم کو خبر دی گئی تو نبی کریم نے فرمایا : دعوہ فانہ قد فقہ اسے چھوڑ دو وہ فقیہ ہوچکا ہے۔ یہ حکایت بیان کی جاتی ہے کہ خیرا یرہ کو موخر کیا تو اسے کہا گیا تو نے تقدیم و تاخیر کردی ہے، تو اس نے کہا :
علقتھا قبل انضباح لونی میں نے اسے اپنا رنگ بدلنے سے پہلے ہی چاٹ لیا۔ یہ حیوانات آواز نکالتے ہیں جب ان کا حال گھبراہٹ، تھکاوٹ اور لالچ کی وجہ سے بدل جاتا ہے۔ ضبحا مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے : والعادیات تضبح ضبحا۔ الضبح کا معنی راکھ بھی ہے۔ بصریوں نے کہا : ضبحا حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مصدر ہے جو حال کی جگہ واقع ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : الضبح اور الضبع دونوں ایک جیسے ہیں جس کا معنی دوڑنا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : الضبح والضبع کا معنی دوڑنا اور چلنا ہے۔ مبرد نے اسی طرح کہا ہے ضبح سے مراد دوڑنے میں بازوں کو لمبا کرنا ہے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ نے بنی کنانہ کے لوگوں کی طرف ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تو اس کے خبر آنے میں دیر ہوگئی رسول اللہ نے ان پر حضرت منذر بن عمرو انصاری کو عامل بنایا تھا وہ ایک نقیب تھے منافقوں نے کہا : وہ شہید ہوگئے ہیں یہ سورت اس لیے نازل ہوئی تاکہ نبی کریم کو ان کی سلامتی کی خبر دی جائے اور یہ بشارت دی جائے کہ انہوں نے اس قوم پر حملہ کیا تھا جس کی طرف انہیں بھیجا گیا تھا۔
ایک دوسرا قول ہے کہ العدیت سے مراد اونٹ ہیں۔ مسلم نے کہا : میں نے عکرمہ سے اس بارے میں جھگڑا کیا، عکرمہ نے کہا حضرت ابن عباس نے کہا اس سے مراد گھوڑے ہیں۔ میں نے کہا : حضرت علی شیر خدا نے کہا اس سے مراد حج میں دوڑنے والے اونٹ ہیں۔ میرے آقا تیرے آقا سے زیادہ جانتا ہے۔ امام شعبی نے کہا : حضرت علی شیر خدا اور حضرت ابن عباس نے العدیت کی تعبیر میں جھگڑا کیا۔ حضرت علی شیر خدا نے کہا : اس سے مراد وہ اونٹ ہیں جو حج کے موقع پر دوڑتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اس سے مراد گھوڑے ہیں کیا آپ نہیں دیکھتے ان کی یہ صفت ذکر کی گئی ہے۔ فاثر بہ نقعا، اپنے کھروں کے ساتھ غبار اڑاتے ہیں۔ کیا اونٹ آواز نکالتے ہیں۔ حضرت علی شیر خدا نے فرمایا : بات اس طرح نہیں جس طرح تو نے کہی تو نے غزوہ بدر کے موقع پر ہمیں دیکھا ہمارے پاس کوئی گھوڑا نہ تھا مگر مقداد کا گھوڑا تھا جسے ابلق کہتے اور مرثد بن ابی مرثد کا گھوڑا تھا، پھر حضرت علی شیر خدا نے حضرت ابن عباس سے کہا : کیا تو لوگوں کو ایسی بات کا فتوی دیتا ہے جس کا تجھے علم ہی نہیں، اللہ کی قسم ! یہ اسلام کا پہلا غزوہ تھا اور ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک گھوڑا حضرت مقداد کا تھا اور ایک گھوڑا حضرت زبیر کا تھا تو جمع کا صیغہ والعدیت ضبحا۔ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس سے مراد اونٹ ہیں جو عرفہ سے مزدلفہ اور مزدلفہ سے عرفہ آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا میں نے حضرت علی کے قول کی طرف رجوع کرلیا، یہی قول حضرت ابن مسعود، عبید بن عمیر، محمد بن کعب اور سدی کا ہے۔ اس معنی میں حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب کا قول ہے :
مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader
نہ تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا
ما اغنی عنہ مالہ و ما کسب۔
کوئی فائدہ نہ پہنچایا اسے اس کے مال نے اور جو اس نے کمایا۔
حضرت ابو امامہ باہلی نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : الکنود ھو الذی یا کل وحدہ و یمنع رفدہ و یضرب عبدہ، کنود اسے کہتے ہیں جو تنہا کھانا کھاتا ہے، عطیہ نہیں دیتا اور اپنے غلام کو مارتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : الا انبئکم بشرارکم ؟ قالوا بلی یا رسول اللہ، قال من نزل وحدہ ومنع رفدہ وجلد عبدہ، کیا میں تمہیں سب سے برے آدمی کے بارے میں آگاہ نہ کروں ؟ صحابہ نے عرض کی : کیوں نہیں یار سول اللہ، فرمایا : جو تنہا پڑاؤ ڈالے، عطیہ نہ دے اور اپنے غلام کو مارے، دونوں روایات حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں نقل کی ہیں۔
حضرت ابن عباس سے مروی ہے : کنود کا لفظ کندہ اور حضرموت کی زبان میں نافرمانی کو کہتے ہیں، ربیعہ اور مضر کی زبان میں ناشکرے کو کہتے ہیں، کنانہ کی زبان میں بخیل بری خصلت والے کو کہتے ہیں، یہ مقاتل کا نقطہ نظر ہے۔ شاعر نے کہا :
کنود لنعماء الرجال ومن یکن۔۔۔ کنودا لنعماء الرجل یبعد
وہ لوگوں کے احسانات کی ناشکری کرنے والا ہے اور جو لوگوں کے احسانات کی ناشکری کرنے والا ہو اسے دور کردیا جاتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ جو تھوڑے احسان پر ناشکری کرے اور زیادہ پر ناشکری نہ کرے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو حق کا انکار کرے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : کندہ کو کندہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس نے اپنے باپ کا انکار کیا تھا، ابراہیم بن ہر مہ شاعر نے کہا :
دع البخلاء ان شمخوا وصدوا۔۔۔ وذکری بخل غانیۃ کنود
بخیلوں کو چھوڑو اگر وہ بخل کریں اور مال روک لیں اور شادی شدہ ناشکری عورت کے بخل کے ذکر کو چھوڑ دو ۔
سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader
وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا
سیصلی نارا ذات لھب۔
عنقریب وہ جھونکا جائے گا شعلوں والی آگ میں۔
حضرت ابن عباس نے کہا : یہاں انسان سے مراد کافر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ بہت زیادہ کفر کرنے والا ہے، اس معنی میں ارض کنود ہے ایسی زمین کو کہتے ہیں جو کوئی شے نہ اگائے، ضحاک نے کہا : یہ ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی۔ مبرد نے کہا : کنودا سے کہتے ہیں جو حق دینے سے انکار کرے اور سابقہ شعر ہی ذکر کیا۔
ابو بکر واسطی نے کہا : کنودا اسے کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اس کا نافرمانیوں میں خرچ کرے۔ ابوبکر وراق نے کہا : کنود اسے کہتے ہیں جو نعمت کو اپنی جانب سے اور اپنے دوستوں کی جانب سے خیال کرتا ہے۔ ترمذی نے کہا : جو نعمت کو دیکھتا ہے منعم کو نہیں دیکھتا۔ ذوالنون مصری نے کہا : ھلوع او کنود اسے کہتے ہیں جب اسے تکلیف پہنچے تو بہت زیادہ جزع و فزع کرتا ہے جب بھلائی پہنچے تو احسان نہیں کرتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بہت زیادہ کینہ رکھنے والا اور حسد کرنے والا، ایک قول یہ کیا گیا : جو اس کی قدرومنزلت سے ناواقف ہو، حکمت کی باتوں میں سے یہ ہے جو اس کی قدرو منزلت سے ناواقف ہے وہ اس کے پردے کو چاک کردیتا ہے۔
میں نے کہا : یہ تمام اقوال ناشکری اور انکار کی طرف لوٹتے ہیں نبی کریم نے کنود کے معنی کی وضاحت مذموم خصائل اور ناپسندیدہ احوال سے کی ہے، اگر یہ درست ہے تو اس بارے میں جتنے بھی اقوال کیے گئے ہیں ان سب سے یہ اعلی ہے اور کسی کے لیے بھی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں۔
وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader
اور اس کی جورو بھی ایندھن سر پر اٹھائے پھرتی ہے
وامراتہ حما لۃ الحطب۔
اور اس کی جورو بھی بدبخت ایندھن اٹھانے والی۔
وامرتہ سے مراد ام جمیل ہے۔ ابن عربی نے کہا : وہ کانی ام قبیح ہے وہ کانی تھی۔ حمالۃ الحطب۔ حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور سدی نے کہا : وہ لوگوں کے درمیان چغل خوری کیا کرتی تھی۔
یہ جملہ بولا جاتا ہے اعتامہ واعتماہ یعنی اسے پسند کرلیا، چن لیا۔ فاحش کا معنی بخیل ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ویامرکم بالفحشاء (البقرہ) وہ تمہیں بخل کا حکم دیتا ہے۔ ابن زید نے کہا : اللہ تعلای نے مال کو خیر کہا ہے ممکن ہے وہ شر اور حرام ہو لیکن لوگ اسے خیر کہتے ہیں اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے خیر کہا ہے اور جہاد کو سوء قرار دیا ہے، فرمایا : فانقلبوا بنعمۃ من اللہ وفضل لم یمسسھم سوء (آل عمران) وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل سے پلٹے، انہیں جہاد کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ جہاد کو سوء کہنا یہ عام لوگوں کے نام رکھنے کے اعتبار سے ہے۔ فراء نے کہا : نظم آیت کا تقاضا تھا کہ یوں کلام ہوتی وانہ لشدید الحب للخیر جب حب کا ذکر پہلے ہوچکا تو فرمایا : شدید آخر سے حب کا ذکر حذف کردیا کیونکہ اس کا ذکر پہلے ہوچکا تھا اور آیات کے سروں کی رعایت کی وجہ سے بھی ایسا کیا، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فی یوم عاصف۔ (ابراہیم)
کیا انسان نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ ہے اسے الٹ دیا جائے گا اور ان میں جو کچھ ہے اسے نکال لیا جائے گا۔ ابو عبیدہ نے کہا : بعثرت المتاع یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب تو سامان کے نیچے والے حصے کو اوپر کردے۔ محمد بن کعب سے مروی ہے، کہا : یہ اس وقت ہوگا جب انہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ فراء نے کہا : میں نے بنی اسد کے بعض بدوؤں کو پڑھتے ہوئے سنا، بحثر یعنی عین کی جگہ حاء کو پڑھا۔ ماوردی نے حضرت ابن مسعود سے یہی روایت کیا ہے۔ دونوں کا معنی ایک ہے۔
سینوں میں جو کچھ بھلائی اور شر میں سے ہوگا اسے الگ الگ کردیا جائے گا۔ مفسرین نے یہی کہا ہے، حضرت ابن عباس نے کہا : حصل کا معنی ہے ظاہر کردیا جائے گا۔ عبید بن عمیر، سعید بن جبیر، یحی بن یعمر اور نصر بن عاصم نے وحصل پڑھا ہے، جس کا معنی ظاہر ہونا ہے۔
ان کا رب ان کے بارے میں اس روز خوب باخبر ہوگا اس پر کوئی چیز مخفی نہ ہوگی۔ وہ ان کے بارے میں اس روز اور اس کے علاوہ بھی جاننے والا ہے، بلکہ اس کا معنی ہے وہ اس دن ان کو جزا دے گا۔ اذا میں عامل بعثر ہے اس میں یعلم عامل نہیں کیونکہ انسان سے اس وقت علم کا ارادہ نہیں کیا گیا بیشک دنیا میں اس سے علم کا ارادہ کیا گیا ہے اس میں خبیر عامل نہیں کیونکہ ان کا مابعد ماقبل میں عمل نہیں کرتا، یومئذ میں عامر خبیر ہے اگرچہ درمیان میں لام فاصلہ ہے کیونکہ لام کا محل ابتدا ہے یہاں لام کو خبر پر داخل کیا گیا ہے کیونکہ مبتدا پر ان داخل ہے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ حجاج اس سورت کو منبر پر پڑھتا تاکہ لوگوں کو جہاد پر ابھارے تو اس کی زبان پر غلطی سے ان آگیا تو اس نے اس کا ازالہ خبیر پڑح کر کیا، اگر لام نہ ہوتا تو یہ مفتوح ہوتا۔ کیونکہ یہ علم کا فعل اس پر واقع ہورہا ہے یعنی یہ اس کا مفعول بن رہا ہے۔ ابو اسحاق نے اسے ان اور خبیر پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader
اس کے گلے میں مونج کی رسی ہوگی
فی جیدھا حبل من مسد۔
اس کے گلے میں مونچ کی رسی ہوگی۔
جید سے مراد گرن ہے امراء القیس نے کہا :
وجید کجید الریم لیس بفاحش۔۔۔ اذا ھی نصتہ ولا بمعطل
کتنی ہی گردنیں ہیں جو ہرن کی گرند کی طرح ہیں وہ بدصورت نہیں جب وہ گردن کو اٹھائے جبکہ اس کی گردن میں کوئی زیور نہیں۔
اس بات میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ مبثوث کا معنی متفرق ہے ایک اور جگہ فرمایا : کا نھم جراد منتشر۔ (القمر) گویا وہ منتشر مکڑیاں ہیں۔ پہلے ان کی حالت کو فراش سے تشبیہ دی جن کی کوئی سمت نہیں ہوتی جو ہر سمت سرگرداں ہوتے ہیں پھر ٹڈی دل کی طرح ہوجاتے ہیں، کیونکہ ان کی کوئی سمت ہوتی ہے جس کا وہ قصد کر رہا ہوتا ہے۔ مبثوث کا معنی متفرق اور منتشر ہے، یہاں لفظ کا اعتبار کرتے ہوئے لمبثوث مذکر کا صیغہ ذکر کیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اعجاز نخل منقعر۔ (القمر) اگر المبثوثہ کا لفظ ہوتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہوتا : اعجاز نخل خاویہ۔ (الحاقہ)
میزان کے بارے میں گفتگو سورة اعراف، کہف اور انبیاء میں گزر چکی ہے اس کا پلڑا اور لسان ہوگی جس میں ان صحیفوں کا وزن کیا جائے گا جس میں نیکیاں اور برائیاں لکھی ہوں گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ایک ترازو ہے جو حضرت جبریل کے ہاتھ میں ہوگا وہ انسانوں کے اعمال کا وزن کریں گے۔ اس ایک ترازو کو جمع کے صیغہ کے ساتھ تعبیر کیا اور موازین کہا جس طرح یہ کہا : لکل حادثہ لھا میزان ہر حادثہ کے لیے ایک ترازو ہے، ہم اس سے قبل بحث میں اس کا ذکر کرچکے ہیں ہم نے اس کا ذکر کتاب تذکرہ میں کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : موزین سے مراد حجج اور دلائل ہیں ؛ یہ قول عبدالعزیز بن یحییٰ کا ہے اس نے شاعر کے قول سے استدلال کیا ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا ؛ نارکم ھذہ یقوم ابن آدم جزء من سبعین جزا من حر جھنم، تمہاری یہ آگ جسے انسان جلاتا ہے یہ جہنم کی آگ کا سترھواں حصہ ہے۔ صحابہ نے عرض کی : یا رسرول اللہ یہ تو کافی ہے۔ فرمایا ؛ جہنم کی آگ کو اس دنیا کی آگ پر بہتر گنا فضیلت دی گئی ہے ہر ایک اس کی مثل گرم ہوگی۔ حضرت ابوبکر سے مروی ہے فرمایا : بیشک پلڑا بھاری ہوگا جس کا پلڑا بھاری ہوگا کیونکہ اس میں حق رکھا گیا ہے جس پلڑے میں حق ہو اس کے لیے موزوں ہے کہ وہ بھاری ہو۔ بیشک پلڑا ہلکا ہوگا جس کا پلڑا ہلکا ہوگا کیونکہ اس میں باطل رکھا گیا ہے اور جس پلڑے میں باطل ہو اس کے لیے موزوں ہے کہ وہ ہلکا ہو۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اتینۃ رحمۃ من عندنا اس آیت میں رحمت سے مراد نبوت ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد نعمت ہے۔ و علمنہ من لدنا علما۔ یعنی ہم نے اسے اپنی جناب سے علم غیب سکھایا۔ ابن عطیہ نے کہا : حضرت خضرعلیہ السلام کا علم، علم معرفت تھا جو ان کی طرف وحی کیا گیا تھا، ان کے افعال کو احکام کے ظواہر کا رنگ نہیں دیا جاتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا علم، علم احکام اور علم فتویٰ لوگوں کے ظاہر اقوال اور افعال کے متعلق تھا (3) ۔