111. Surah Al-Masad

المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 111:1–5

تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader

ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہو

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader

نہ تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا

سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader

وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا

وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader

اور اس کی جورو بھی ایندھن سر پر اٹھائے پھرتی ہے

فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader

اس کے گلے میں مونج کی رسی ہوگی

خسران و بربادی در دنیا وعقبی ازدشمنی رسول خدا ﷺ : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” تبت یدآ ابی لھب ........ الی ........ حبل من مسد “۔ (ربط) گزشتہ سورة نصر میں یہ بتایا گیا تھا کہ حق اور ہدایت ہی کو غلبہ و کامیابی حاصل ہوتی ہے اور دنیا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور اپنے دین کو غالب وکامیاب فرمایا ہے، تاریخ عالم میں اس نے اپنی قدرت عظیمہ کا مشاہدہ کرا دیا کہ وہ پیغمبر اور ان کے ساتھی جو مکہ سے مجبور ومظلوم ہو کر ہجرت کرکے مدینہ آئے چند ہی سال گذرنے پر وہی اللہ کا رسول دس ہزار قدسیوں کے ساتھ اسی سرزمین میں فاتح وکامیاب داخل ہورہا ہے، تو اس کے بالمقابل اس سورت میں یہ بتایا جارہا ہے کہ دین خداوندی اور اللہ کے رسول کی دشمنی کا انجام کس طرح تباہی اور بربادی کی صورت میں رونما ہوتا ہے چناچہ وہ سردار ان مکہ جن کے مال و دولت اور عزت و حشمت کی کوئی کمی نہ تھی (جن میں ایک ابو لہب بھی تھا ) ۔ 1 حاشیہ۔ 1 (ابولہب آپ ﷺ کے جد عبدالمطلب کا حقیقی بیٹا یعنی آپ ﷺ کا چچا تھا، اس کا نام عبدالعزی تھا، نہایت سرخ رنگ اور خوبصورت آدمی تھا چہرے کی چمک دمک ایسی تھی کہ گویا چہرے سے شعلے نکل رہے ہوں، اس وجہ سے ابولہب کنیت تھی۔ 12) کیسے ذلیل اور تباہ وبرباد ہوئے۔ چناچہ ارشاد فرمایا ٹوٹ جائیں دونوں ہاتھ ابولہب کے اور ٹوٹ گیا، اور خود ہی بس تباہ وبرباد ہوگیا، قدرت الہیہ کے اس فیصلہ سے جو اس کی اس بیہودیگی وبدتمیزی پر جاری ہوگیا جو اس نے کی اس وقت جب کہ کوہ صفا پر چڑھ کر حضور اکرم ﷺ نے قائل قریش کو ایمان کی دعوت دی تھی تو اس بیہودہ نے کہا۔ تبالک الھذا اجمعتنا “۔ اس بیہودہ نے اپنے مال و دولت کے غرور اور نشہ میں اس بیہودگی کا ارتکاب کیا اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ بس یہ ٹوٹ گیا، تباہ وبرباد ہوگیا، اور اس قطعی فیصلہ کو دنیا کی کوئی طاقت ٹلا نہیں سکتی چناچہ یوں ہی ہوا کہ نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ ہی وہ سب کچھ جو اس نے کمایا تھا، اس کی عزت وسرداری اور قبائل عرب میں اس کی مقبولیت و محبوبیت دنیا کی زندگی میں خدا کا یہ فیصلہ نافذ ہو کر رہا، اور سب نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا کہ کس طرح تباہ ہو اور ذلیل و خوار ہو کر بڑی ہی گندی موت سے مرا کہ کوئی اس کے قریب بھی آنے کو تیار نہ تھا جو بلاشبہ ایک عذاب تھا، اور رسول خدا کی دشمنی اور توہین کی سزا تھی جو اس کو دنیا میں بھگتنی پڑی، اب اس کے بعد مزید آخرت کا عذاب بھی سامنے ہے کہ وہ عنقریب داخل ہوگا ایک ایسی دھکتی ہوئی آگ میں جو بڑی شعلے برسانے والی ہوگی اور ” ذات لہب “ آگ ابولہب کے لئے تیار کردی گئی ہے اور جو بدبخت وبدنصیب کفر ونافرمانی کی بھڑکتی ہوئی غیظ وغضب کی آگ میں اللہ کے رسول کی دشمنی کرتا رہا اس کو ایسی ہی ” ذات لہب “۔ اور دھکتی ہوئی آگ میں یقیناً جانا پڑے گا اور اس کی بیوی بھی اس دنیوی ہلاکت اور عذاب اخروی میں مبتلا ہوگی جو لکڑیاں لاد کر لانے والی ہے جس کی گردن میں مونج کی مضبوط رسی پڑی ہوئی ہے تو وہ بدبخت بھی ہلاک ہوگا اور اس کی بدنصیب یہ بیوی بھی تباہ وبرباد ہوگی جن کے حق میں خدا کا یہ فیصلہ ہوگیا۔ حضرات مفسرین بیان کرتے ہیں کہ ابولہب کی بیوی جو عرب کے سرداروں میں سے تھی جس کا نام اروی بنت حرب تھا اپنے حسن و جمال میں بڑی معروف تھی اور اسی وجہ سے اس کو ام جمیل کہا جاتا تھا۔ اس کی ذلت میں خاص طور سے یہ وصف یعنی (آیت) ” حمالۃ الحطب “۔ اس وجہ سے بیان کیا گیا کہ یہ بھی ابولہب کی طرح حضور ﷺ کی دشمنی اور غیظ وغضب میں بھڑکتی ہوئی آگ کی طرح شعلے برساتی پھرتی تھی اور شدت عداوت کے باعث لکڑیاں جن میں کانٹے ہوتے حضور ﷺ کے راستے میں ڈال دیتی، تاکہ آپ کے پاؤں میں کانٹے چبھیں، بعض کا خیال ہے کہ اس قدر بخل تھا کہ مال و دولت کے باوجود لکڑیاں سر پر اٹھا کر لاتی تھی۔ مجاہد (رح) بیان کرتے ہیں (آیت) ” فی جیدھا حبل من مسد “۔ وہ نار جہنم کا طوق ہے جو اس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔ سعید بن المسیب (رح)۔ (تفسیر ابن کثیر (رح) ج 4) سے منقول ہے کہ ابولہب کی بیوی کی گردن میں ایک نہایت قیمتی ہار پڑا رہتا تھا جس پر یہ فخر کرتی تھی اور کہتی تھی کہ میں اس ہار کو محمد ﷺ کی عداوت میں خرچ کردوں گا۔ علامہ آلوسیرحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر روح المعانی میں بروایت مجمع بن الطارق ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک بار دیکھا کہ سوق ذی المجاز میں آپ ﷺ لوگوں کو اسلام اور خدائے وحدہ کی عبادت کی دعوت دیتے جارہے ہیں، پیچھے پیچھے ابولہب بدبخت آپ پر پتھر برساتا ہوا آرہا ہے جس سے آپ کی پنڈلیاں اور قدم لہولہان ہوچکے ہیں اور یہ بدبخت دونوں ہاتھ اٹھا کر مار رہا ہے اور آپ ﷺ پر ہنسی مذاق کرتا جارہا ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ اس کے ایک خبیث بیٹے نے حضور ﷺ کے روئے مبارک پر تھوکا تھا، تو ان تمام شقاوتوں اور بدبختیوں کا انجام دنیا میں بھی دیکھ لیا، چند روز کے بعد افلاس وغربت کا دور شروع ہوگیا اور اس بدبخت بیٹے پر جس نے یہ بیہودگی کی تھی اور آپ ﷺ کی زبان مبارک سے اس کے حق میں یہ بددعا نکلی تھی کہ اے اللہ تو اس پر اپنا کتا مسلط فرما دے تو اسی طرح ہوا ایک روز جنگل میں جارہا تھا کہ ایک شیر نے چپا کر چورا چورا کردیا۔ اور خود ابولہب ایک بیماری میں مبتلا ہوا جس کو اہل عرب عدسہ کہتے ہیں یعنی طاعون کا پھوڑا، یہ ایسا مرض متعدی سمجھا جاتا ہے کہ کوئی اس مریض کے قریب بھی نہیں آتا، تکلیف کی حد نہ رہی، کتوں جیسی آواز نکلنے لگی، چہرہ بگڑ گیا جو چہرہ حسن و جمال سے چمکتا تھا وہ قابل نفرت بن گیا کہ دیکھنے سے ہی لوگ کترانے لگے یہاں تک کہ گھروالوں نے اس کو دو رجگہ ڈالوا دیا مبادا کہیں انکو بھی یہ مرض نہ لگ جائے، اسی حالت میں مرگیا اور تین دن تک لاش ایس طرح پڑی رہی، کیونکہ کسی میں ہمت نہ تھی کہ ایسی گندی اور بدبودار لاش کے قریب بھی آسکے اس صورت حال میں کچھ حبشی مزدوروں کو بلوایا گیا جنہوں نے لکڑیوں کے ذریعے اس لاش کو دھکیل کر ایک گڑھے میں ڈال یدا، اس کی یہ بیوی جس کو قرآن نے مکی زندگی میں ہی حمالۃ الحطب کہہ دیا تھا اور گویا اس وقت یہ ابولہب کی کفر وسرکشی کی دہکتی ہوئی آگ کو اور زائد کرنے اور باقی رکھنے کے لئے لکڑیوں کی گانٹھیں اٹھا اٹھا کر لانے والی اور دھکتی ہوئی آگ کو اور بھڑکانے والی حمالہ تھی یہ واقعۃ اور صورۃ بھی حمالۃ الحطب بن گئی، اور قدرت خداوندی نے جب انتقام وقہر کے سلسلہ کا آغاز ان کی فقروتنگدستی سے کیا تو پہلے یہ ام جمیل جو ناز نخروں سے گردن میں ہار ڈالے پھرتی تھی، ابولہب کی بیماری سے غمزدہ ہوگئی پھر فقر و تنگدستی نے یہاں تک نوبت پہنچائی کہ لکڑیاں لاد کر لانے کی نوبت آگئی اور جو رسی لکڑیاں باندھنے کی گلے میں پڑی ہوئی تھی، ایک روز ٹھوکر کھا کر جب گری اور لکڑیوں کی گانٹھ گرگئی، تو وہ رسی پھندے کی طرح گلے میں پھنس گئی اور ایسا گلا گھٹا کہ تڑپ تڑپ کر مرگئی، اور اس وقت اس کے گلے یہ پھندا اس قیمتی ہار اور زریں گلوبند کی جگہ تھا جو یہ اپنے گلے میں ڈالے پھر کرتی تھی اور اس۔ حاشیہ (ان الفاظ سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ اس مقام پر خداوند عالم نے (آیت) ” حمالۃ الحطب “۔ اور (آیت) ” فی جیدھا حبل من مسد “۔ کا عذاب کس طرح ظاہری اور معنوی طور پر مکمل فرما دیا اور اس ضمن میں ان کلمات کی بلاغت و حکمت اور ان کلمات سے اعجاز قرانی بھی واضح ہورہا ہے، اور اس کی گردن میں مونج کی رسی دنیا کا عذاب تھی، لیکن اس کو اللہ نے نمونہ بنادیا۔ (آیت) ” اذ الاغلال فی اعناقھم والسلا سل یسحبون “ کا۔ ) اس ہار کو محمد ﷺ کی دشمنی میں بیچنے کا ارادہ کرتی تھی ، سبحان اللہ کس طرح خداوند عالم کی قدرت نے ابولہب اور اس کی بیوی کو ہلاک وبرباد کیا اور جو جو باتیں ظاہری شان و شوکت کی تھیں انہی کو عذاب کی صورت میں منتقل کردیا۔ یہ سورت جب نازل ہوئی اس وقت ابولہب کی شعلہ فشانیاں خوب جو لانیت پر تھیں اور اس کی بیوی ام جمیل کا جمال وطمطراق بھی بڑے عروج پر تھا، اس وقت خداوند عالم نے یہ خبر دی تھی، ظاہر ہے کہ ایسی خبر دینا وحی الہی کا کام ہوسکتا تھا، پھر اس کی صداقت دنیا کے سامنے روز روشن بن کر آگئی اور اس تاریخ کو دنیا نے دیکھ لیا، یہ تو دنیا کی رسوائی اور بربادی تھی، اس سے بڑھ کر آخرت کا عذاب ہے (آیت) ” ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی “۔ ابولہب کی ہلاکت غزوہ بدر سے سات روز بعد پیش آئی تو اس تاریخی حقیقت کو دنیا تسلیم کرنے پر مجبور ہے جو قرآن کریم کے کلام الہی ہونے کی عظیم الشان دلیل ہے جس پر عقل والے انسان کا ایمان لانا ضروری ہے۔ تم بحمد اللہ تفسیر سورة اللہب :