111. Surah Al-Masad
المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsاحکام القرآن
تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader
ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہو
مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader
نہ تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا
باپ کو بیٹے کے قصاص میں قتل نہ کیا جائے
قول باری ہے (مااغنی عنہ مالہ وما کسب اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ (ماکسب) سے اس کی اولاد مراد ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی اولاد کو کسب خبیث کا نام دیا تھا۔
حضور ﷺ سے مروی ہے ۔ کہ آپ نے فرمایا (ان افضل مااکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ۔ انسان جو کچھ کھاتا ہے اس میں افضل ترین کھانا وہ ہے جسے وہ اپنے ہاتھوں کی کمائی سے حاصل کرے، انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے) ۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس ارشاد کی مثال آپ کا یہ ارشاد ہے (انت ومالک لا بیک تو تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے) یہ بات کسی شخص کے اپنے بیٹے کی لونڈی کی ام ولد بنالینے کی صحت پر دلالت کرتی ہے۔ اس بارے میں باپ کے قول کی تصدیق کی جائے گی اور وہ لونڈی اس کی ام ولد بن جائے گی۔
آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ باپ کو بیٹے کے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیٹے کو اس کی کمائی قرار دیا ہے جس طرح آقا سے غلام کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔ کیونکہ غلام اس کی کمائی ہے۔
سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader
وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا
وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader
اور اس کی جورو بھی ایندھن سر پر اٹھائے پھرتی ہے
فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader
اس کے گلے میں مونج کی رسی ہوگی
ابولہب اور اس کی بیوی کفر پر مریں گے یہ پیش گوئی بھی دلیل نبوت ہے
قول باری ہے (سیصلی نارا ذات لھب ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا۔ ) یہ حضور ﷺ کی نبوت کی صحت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ کیونکہ اس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ ابولہب اور اس کی بیوی کفر پر ہی مریں گے اور مسلمان ہونا انہیں نصیب نہیں ہوگا۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا جس کی خبر دی گی تھی۔ ابولہب اور اس کی بیوی نے یہ سورت سن لی تھی اور اس کی بیوی نے کہا تھا کہ ” محمد (ﷺ) نے ہماری ہجو کی ہے۔ “ اگر یہ دونوں کہتے کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں اور اس کا اظہار کرتے اگرچہ انہیں اس کا اعتقاد نہ ہوتا تو بھی اس صورت میں وہ اس قول باری کی تردید کرسکتے تھے اور پھر مشرکین اس قول کی گرفت کرلیتے۔
لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ یہ دونوں مسلمان نہیں ہوں گے نہ نو اسلام کے اظہار کے ذریعے اور نہ ہی اسلام کے اعتقاد کے ذریعے اس لئے اس نے اس بات کی خبر دے دی اور جس طرح خبر دی گئی تھی حقیقت کے لحاظ سے بھی وہی کچھ ہوا۔
اس کی نظیرحضور ﷺ کا یہ قول ہے جو آپ ﷺ دو شخصوں سے کہتے ” آج تم دونوں باتیں نہیں کرسکو گے۔ “ پھر وہ دونوں باتیں نہ کرسکتے جبکہ رکاوٹ بھی کوئی نہ ہوتی اور آلہ تکلم یعنی زبان بھی صحیح سالم ہوتی تو یہ چیز آپ کی نبوت کی صحت کی نشانی بن جاتی۔
اللہ تعالیٰ نے ابولہب کا ذکر اس کی کنیت کے ساتھ کیا جب کہ حضور ﷺ کا ذکر نیز زید کا ذکر ناموں کے ساتھ کیا۔ کنیتوں کے ساتھ نہیں کیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ابولہب کا نام عبدالعزیٰ تھا اور اس نام کے ساتھ اس کا ذکر مناسب نہیں تھا اس لئے نام کی بجائے کنیت کے ساتھ اس کا ذکر ہوا۔