111. Surah Al-Masad
المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsتفسیرِ سعدی
تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader
ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہو
ابولہب، نبی اکرم کا چچا تھا، آپ سے شدید عدوات رکھتا تھا اور آپ کو سخت اذیت دیتا تھا اس میں کوئی دین کی رمق تھی نہ قرابت کی حمیت۔ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ذم عظیم کے ذریعے سے اس کی مذمت بیان فرمائی جو قیامت کے دن تک اس کے لیے رسوائی ہے۔ (تَبَّتْ يَدَآ اَبِيْ لَهَبٍ وَّتَبَّ ) یعنی اس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ بدبختی میں پڑگیا۔ اور اس نے نفع حاصل نہیں کیا۔
مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader
نہ تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا
(مَآ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ ) وہ مال اس کے کسی کام نہ آیا جو اس کے پاس تھا اور اس مال نے اسے سرکش بنادیا تھا اور جو مال اس نے کمایا تھا جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اس عذاب کو کچھ بھی دور نہ کرسکا۔
سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader
وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا
(سَيَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ) وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔ یعنی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی۔
وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader
اور اس کی جورو بھی ایندھن سر پر اٹھائے پھرتی ہے
فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader
اس کے گلے میں مونج کی رسی ہوگی
( وَّامْرَاَتُهٗ ۭ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ) اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھانے والی ہے اس کی بیوی بھی اللہ کے رسول کو سخت اذیت پہنچاتی تھی میاں بیوی دونوں گناہ اور ظلم پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے تھے وہ تکلیف پہنچاتی تھی اور رسول اللہ کو اذیت پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی تھی۔ اس کی پیٹھ پر بوجھ لاد دیا جائے گا اس شخص کی مانند جو ایندھن اکٹھا کرتا ہے اس کی گردن میں ڈالنے کے لیے رسی تیار کی گئی ہے۔ (من مسد) مونج کی۔ یعنی کھجور کے پتوں کے ریشے سے بٹی ہوئی۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ جہنم میں وہ ایندھن اٹھا اٹھا کر اپنے شوہر پر ڈالے گی اور اس کے گلے میں کھجور کے پتوں کے ریشوں سے بٹی ہوئی رسی سے بندھی ہوگی دونوں معنوں کے مطابق اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے کیونکہ یہ سورة کریمہ اس وقت نازل ہوئی جب ابولہب اور اس کی بیوی ابھی ہلاک نہیں ہوئے تھے اللہ نے خبر دی کہ عنقریب انہیں جہنم میں عذاب دیا جائے گا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ یہ دونوں ایمان نہیں لائیں گے پس یہ اس طرح واقع ہوا جس طرح عالم الغیب والشہادۃ نے خبر دی تھی۔