111. Surah Al-Masad

المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 111:1–3

تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader

ٹوٹ جائیں ابی لہب کے دونوں ہاتھ اور وہ ٹوٹ بھی گیا۔

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader

نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اولاد

سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader

اور وہ اب دہکتی آگ میں گرتا ہے اور اس کی جورو بھی۔

ترکیب ¦ تبت فعل یدا اصلھا یدان سقطت النون بالاضافۃ ابی لہب مضاف الیہ والمضاف مع ماا ضیف الیہ فاعل تبت والید مونث عندالعرب وابولہب کنیۃ عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب بن ہاشم والعزی اسم صنم وھوعم رسول اللہ ﷺ وکان مشہورا بالکنیۃ وانما اشتھر بھذا لانہ کان جمیلا وان وجہ کان یتلھب لمزید حسنہ کما یتلھب بالنار۔ وتب فعل والضمیر فاعلہ یرجع الی ابی لہب عطف الجملۃ علی والتباب الخسران والحرمان من کل خیروقیل الھلاک والتردی۔ والجملتان دعاء علیہ وقیل الاولی دعاء والثانیۃ اخبار۔ ما نافیۃ اغنی فعل عنہ متعلق بہ ما لہ فاعلہ معطوف علیہ وماموصولۃ کسب صلۃ والعائد محذوف والکل معطوف وقیل مامصدریۃ فما کسب بتاویل المصدر فاعل اغنٰی والجملۃ بیان لتبابہ سیصلٰی فعل والضمیر الراجع الی ابی لہب فاعلہ نارامفعول۔ بہ موصوف ذات لہب صفۃ وامراتہ معطوف علی الضمیر المتصل وجازذلک للفصل حمالۃ الحطب قراء الجمھور حمالۃٌ بالرفع علی الخبریۃ اوالنعتیۃ وقرء عاصم بالنصب علی الذم اوعلیٰ انہ حال من امراتہ حبل موصوف من مسد صفۃ مبتداٌ مؤخر فی جیدھا خبرمقدم والجملۃ فی محل النصب علی انھا حال من الضمیر فی حمالۃ وقیل فی محل الرفع علی انھا خبرآخر لقولہ وامراتہ۔ الجید العنق۔ والمسد ایضا الذی تفتل منہ الحبال قیل المسدبسکون السین مصدر بمعنی الفتل وبفتحہا المحور من حدید اوحبل من لیف اوکل حبل محکم الفتل والجمع مسادواما وکذافی القاموس لردقیل امراتہ مبتداء حمالۃ الحطب خبرہ فی جیدہ الخ حال من الضمیر فی حمالۃ۔ کذاقال ابن الصائغ۔ تفسیر ¦ یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن الزبیر و ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ اور اس میں کسی کا بھی خلاف نہیں اس کی پانچ آیت ہیں۔ اس کا ربط سورة نصر سے یہ ہے کہ اس سورة میں بتلایا گیا ہے کہ آخرت تو آخرت دنیا میں بھی آسمانی حکم قبول کرنے والوں کے لیے فتح و نصرت ہے دین اور دنیا کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اسی طرح اس آسمانی حکم سے سرتابی کرنے والوں اور مقابلہ اور عداوت سے پیش آنے والوں کے لیے بھی دنیا و آخرت کا خسارہ اور بربادی اور ہلاکی ہے۔ اس پہلی بشارت کا اول مستحق رسول کریم ﷺ کو بنا کر مژدہ سنایا تھا۔ اذاجاء نصر اللہ والفتح کہ لو آئی مدد اور فتح اللہ کی گویا آ ہی گئی۔ اس سورة میں اس خسران و بربادی کا طوق ابی لہب حضرت ﷺ کے حقیقی چچا کے گلے میں ڈال کر جملہ مخالفوں کو دکھایا جاتا ہے کہ مخالفت و عداوت کا یہ نتیجہ بد ہے جس کی طرف سورة کوثر میں اشارہ تھا کہ آپ کو اے محمد ﷺ ! کوثر عطا کیا اور آپ کے دشمن کو ابتر کیا۔ اسی لیے اس سورة لہب میں اس بدبختی کا بھی حال بیان فرمانا ضرور تھا جو دین الٰہی کے مقابلہ اور عداوت میں ظاہر ہوتی ہے۔ شان نزول ¦ اس سورة کا بخاری و مسلم وغیرہ محدثین نے یوں نقل کیا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ پر یہ آیت اتری۔ وانذرعشیرتک الاقربین تو آپ کوہ صفا پر چڑھے اور چڑھ کر اول سے لے کر اخیر تک کے قبائلِ قریش کے نام لے کر پکارا۔ اے بنی فلاں، آخر اے بنی ہاشم، اے بنی عبدالمطلب سب جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ بھلا اگر میں تم کو خبر دوں کہ دشمن کا لشکر تمہارے لیے تیار ہے شب خوں مارے گا تم مجھے سچا جانو گے۔ سب نے کہا بےشک۔ لو اب میں تمہیں کہتا ہوں کہ عذاب الٰہی تم پر آنے والا ہے نجات کا رستہ اختیار کرلو اور اپنے بچنے کی تدبیر نکالو۔ میں کھلم کھلا خبردار کرنے والا ہوں۔ پھر خاص اپنے خاندان کی طرف جو بہت قریب تھے خطاب کیا کہ اے عباس و اے فلاں اور اے صفیہ میری پھوپھی اور اے فاطمہ میری بیٹی اس پر بھروسہ نہ کرو کہ ہم پیغمبر کے رشتہ دار ہیں میں خدا کے ملزم کو نہیں بچا سکتا۔ یہ گفتگو اور وعظ سن کر ابولہب نے جو آپ کا چچا تھا خفا ہو کر یہ کہا کہ تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں تبالک (کیا تو نے اسی بات کے لیے ہمیں بلایا تھا) اور یہ کہہ کر ایک پتھر آنحضرت ﷺ پر پھینکا اور بہت کچھ گالی گلوچ بکیں جس پر یہ سورة نازل ہوئی۔ یہ واقعہ اس کے نزول کا محرک ہوا جس میں مخالفین دین کا دنیاوی اور دینی انجامِ بد بیان فرمایا جاتا ہے۔ ابولہب عبدالمطلب کا بیٹا حضرت کا حقیقی چچا تھا اور اس کا نام عبدالعزیٰ تھا۔ سرخ رنگ خوبصورت آدمی تھا اور اس کے چہرے کی چمک دمک کی وجہ سے اس کی کنیت ابولہب ہوگئی تھی۔ کیونکہ لہب آگ کے شعلے کو کہتے ہیں اور کسی وصف کے بتانے کے لیے عرب میں ابو اور ابن اور اخ کے ساتھ منسوب کرنا ایک عام محاورہ ہے۔ مسافر کو ابن السبیل، چاند کو ابن اللیل، عربی کو اخا العرب مٹی لگے ہوئے کو ابوتراب کہتے ہیں۔ یہ بات نہیں کہ لہب اس کا کوئی بیٹا تھا یا اس کا باپ تھا۔ اور اس کی بیوی کا نام ام جمیل تھا۔ حرب کی بیٹی اور ابوسفیان کی بہن معاویہ ؓ کی پھوپھی یزید بدبخت کی رشتہ کی دادی۔ ان دونوں کو رسول خدا ﷺ سے ازحدعداوت تھی۔ ابولہب کے دو بیٹے عتبہ اور عتیبہ جن سے آنحضرت ﷺ کی دو صاحبزادیاں منسوب تھیں وہ بھی سخت دشمن تھے۔ اُم جمیل رات کو آنحضرت ﷺ کے رستہ میں کانٹے ڈال دیا کرتی تھی کہ اندھیرے میں چبھیں اور آپ کو تکلیف ہو۔ پھر اس سورة کے نزول ہونے کے بعد تو قوم میں ابولہب اور اس کی جورو کا خاکہ اوڑ گیا اور بھی عداوت بڑھ گئی اور اپنے بیٹوں کو مجبور کیا کہ محمد ﷺ کی بیٹیوں کو طلاق دے دو اور منہ پر جا کر سخت کلمات کہہ کر چھوڑ دو ۔ چناچہ عتبہ ناہنجار نے آ کر حضرت کے روئے مبارک پر تھوکا اور برے الفاظ سے طلاق دی۔ فرماتا ہے تبت یدا ابی لہب و تب کہ ابی لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ خود بھی ٹوٹ گیا۔ یہ لفظی ترجمہ ہے۔ مگر یہ اور اس قسم کے کلمات عرب کے محاورہ میں بددعا کے لیے مستعمل ہوتے ہیں۔ حق سبحانہ ٗ کسی کو دعا نہیں کرتا ہے بلکہ اس محاورہ میں اس پر بربادی آنے کی خبر دیتا ہے جو دنیا و آخرت میں اس پر آنے والی تھی۔ تب محاورہ کے موافق یہ ترجمہ ہوگا کہ ابی لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ خود بھی خراب ہوجائے یا یہ کہ ہوگیا محاورہ ہے بددعا کے بعد ایسا کلمہ مستعمل ہوتا ہے جو قبولیت پر دلالت کرے جیسا کہ اس شعر میں ہے ؎ جزیٰ ربہ عنی عدی ابن حاتم جزاء الکلاب العادیات وقد فعل ہمارے محاورے میں کہتے ہیں خدا اس کو غارت کرے اور کردیا۔ فائدہ 1: دونوں ہاتھ ٹوٹنے سے کیا مراد ہے ؟ ظاہری دونوں ہاتھوں کا ٹوٹنا مراد نہیں بلکہ ہاتھ یا گردن یا سر سے انسان کو تعبیر کیا کرتے ہیں۔ مراد یہ کہ وہ خراب ہوجائے۔ انسان کے اندر خدا پاک نے دو قوت رکھی ہیں۔ ایک قوت نظریہ جس کے سبب چیزوں کا علم آتا ہے۔ ہر ایک چیز کو جانتا ہے، امور غیب کی تصدیق کرتا ہے، برے بھلے کاموں کا انجام سوچتا ہے، نفع و نقصان کو جانتا ہے۔ دوسری قوت عملیہ کہ جس کے سبب نیک و بدکام کرتا ہے۔ یہی دونوں قوتیں انسان کے حسنات اور سعادت دارین حاصل کرنے کے دو ہاتھ ہیں۔ پھر جس نے ان دونوں کو برباد کردیا اور برے برے علم حاصل کئے، عقائدِ فاسدہ کو دل میں جگہ دی کہ مرنے کے بعد حساب و کتاب سزاء و جزا کچھ نہیں۔ خدا تعالیٰ کے کاروبار قدرت وصفات میں اور بھی شریک ہیں جو نفع و نقصان دے سکتے ہیں۔ نبی کوئی شخص نہیں نہ نبوت کی ضرورت ہے وغیرہ۔ اور اسی طرح قوت عملیہ کو برے کاموں میں صرف کیا، مخلوق کے ساتھ بھلائی اور رحم دلی کی جگہ ظلم کیا، عفت کی جگہ بدکاری کی۔ جن کی اطاعت کرنی چاہیے ان سے سرکشی کی، مقابلہ کیا۔ عبادتِ الٰہی کی جگہ شہوت پرستی اور تن پروری کی خیرات کی جگہ بخیلی اور کنجوسی کی وغیرہ اس نے اپنی کمائی کے دونوں ہاتھ توڑ دیے۔ یہ بات ابولہب کو حاصل تھی اس لیے اس کے حال کی اس مغرور و بیخبر کو خبر دی جاتی اور مطلع فرمایا جاتا ہے اور اس رمز کے لیے اس کی ذات کے برباد ہونے کو دونوں ہاتھوں کے ٹوٹ جانے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (2) یہ کہ انسان کی دو حالت ہوتی ہیں ایک موجودہ دوسری آیندہ۔ چونکہ ابولہب کی دونوں حالتیں خراب تھیں اور پیغمبر خدا ﷺ کی عداوت سے خراب ہو چکنے کو تھیں اسی لیے بطور پیشین گوئی کے دونوں ہاتھوں کے ٹوٹ جانے سے تعبیر کر کے بتا دیا کہ تجھ پر دنیا میں بھی آفت آنے والی ہے اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں چند روز کے بعد اس پر افلاس شدید آیا۔ وہ بیٹا کہ جس پر ناز تھا اور جس نے آنحضرت ﷺ کے روئے مبارک پر تھوکا تھا اور گالیاں دے کر صاحبزادی کو چھوڑا تھا اور جس کے لیے آپ نے بددعا کی تھی کہ الٰہی اس پر تو اپنا کتا مسلط کر اور وہ اس بددعا سے اندیشہ بھی کرتا تھا، شام کے ملک میں جا رہا تھا وہاں سے آرہا تھا اور درندوں سے اپنی حفاظت بھی کرتا تھا۔ رات کو شیر آیا اور آ کر اس نے چبا کر چورا چورا کردیا اور پھر اس بیماری کہ جس کو عرب عدسہ کہتے ہیں خود ابولہب مبتلا ہوا وہ مرض متعدی ہے۔ اسی لیے کوئی پاس نہیں جاتا تھا بڑی تکلیف دیکھ کر مرا چہرہ بگڑ گیا تھا دیکھنے والوں کو ہیبت آتی تھی، کتوں جیسی آوازیں نکالا کرتا تھا۔ اور پھر اس کی جورو بھی مصیبت دیکھ کر مری، افلاس یہاں تک غالب آیا تھا کہ لکڑیوں کا گٹھا باہر سے خود لاتی۔ ایک گٹھا سر سے گر پڑا کس لیے کہ غمزدہ ہوچکی تھی۔ مصائب نے کمر توڑ دی تھی اور رسی کا پھندا جو گلے میں پڑا ہوا تھا وہ کھنچا گلا ایسا گھٹا کہ تڑپ تڑپ کر مرگئی۔ غرض ستیاناس ہوگیا مگر اللہ رحمت للعالمین کا دل ان کی اس مصیبت پر بھی رنج کھاتا تھا اور رحم آتا تھا مگر کیا ہوتا ہے قضا کا تیر چھٹ چکا تھا۔ خدا پاک کو اپنی بےنیازی کی شان دکھانی تھی کہ بھتیجے کو کوثر عطا کرے اور اسی گھر میں چچا ابتر بنے جس کا کوئی نام لیوا بھی نہ رہا۔ فائدہ 2: آیت میں اس کا نام عبدالعزیٰ نہیں لیا کنیت سے یاد کیا۔ اس کی کئی وجہ ہیں۔ (1) یہ کہ عزیٰ بت کا نام تھا جس کا یہ بندہ بنا تھا ایسے مکروہ اور ناپسند نام کہ جن میں شرک کی بدبو آتی ہو عالم بالا کے نزدیک ذکر کرنے کے بھی قابل نہیں۔ (2) ابی لہب کا لفظ جس میں لہب یعنی شعلہ آتش پڑا ہوا تھا گویا ابتدا ہی سے اس کے جہنمی ہونے کی خبر دے رہا تھا اس لیے اس منحوس لقب کے ساتھ یاد کیا گیا اور اس میں اہل بلاغت کے نزدیک ایک عجیب لطیفہ ہے۔ (3) وہ ابی لہب سے مشہور تھا۔ اگر نام عبدالعزیٰ لیا جاتا تو جلد نہ سمجھا جاتا اس لیے یہ نام لیا گیا اب اس کی خرابی کی تشریخ فرماتا ہے۔ وما اغنی عنہ مالہ وما کسب کہ نہ اس کا مال کام آئے گا نہ کمائی، عزت و شہرت جو قوم میں حاصل کی تھی۔ عائشہ صدیقہ ؓ و ابن عباس ؓ و مجاہد فرماتے ہیں کمائی سے مراد اولاد ہے عرب کے محاورے میں۔ اور اسی کے مطابق ہوا بھی۔ کس لیے کہ جب انتقامِ الٰہی کا وقت آیا تو دنیا میں مال کام آیا نہ اولاد ‘ کوئی بھی اس آفت کو نہ ٹال سکا اور اسی طرح مرنے کے بعد جو عذاب دردناک پیش آیا اور قیامت میں آئے گا وہاں بھی نہ مال کام آئے گا نہ اولاد نہ دنیاوی عزت و وجاہت ‘ حسب ونسب پھر جب یہ ایسی بےبنیاد چیزیں ہیں تو اتنا ان پر فریفتہ ہونا اور آخرت کو بھول جانا اگر تباب و خسران ازلی نہیں تو اور کیا ہے ؟ اب آخرت کا حال بیان فرماتا ہے سیصلٰی ناراً ذات لہب کہ عنقریب وہ ایک ایسی آگ میں پڑے گا جو شعلہ مارتی ہوگی۔ یہ وہی آتش عداوت وعناد ہے جو دنیا میں شعلہ زن تھی اور صرف اسی پر بس نہیں بلکہ وامراتہ اس کی جورو بھی اس آگ میں گرے گی کس لیے کہ اس کے دل میں بھی آتش عداوت شعلہ زن تھی۔ شعلہ مارنے والی آگ میں مرنے کے بعد تو وہ دونوں گرے ہی ہیں مگر پیغمبر خدا ﷺ کی روز افزوں ترقی اور اپنا تنزل دیکھنا بھی آگ میں گرنا تھا اور پیشین گوئی کے مطابق وہ بہت جلد اس میں گرے جو رات دن جلا کرتے تھے۔ اب اس کی جورو کا حال بیان فرماتا ہے حمالۃ الحطب 1 ؎ جو لکڑیوں کا گٹھا اٹھانے والی ہے۔ (2) فی جیدھا حبل من مسد اس کی گردن میں مونج کی مضبوط رسی پڑی ہوئی ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ اس کی بیوی کے وہ اوصاف ہیں جو دنیا میں اس کو حاصل تھے۔ پھر اس تقدیر پر یا تو حقیقی معنی مراد ہیں کہ خسیس و ذلیل تھی، آپ لکڑیاں لایا کرتی تھی اور جس طرح لکڑہاروں کے گلے میں رسی بندھی ہوتی ہے جبکہ وہ لکڑیوں کو جاتے ہیں اسی طرح اس کے بندھی رہتی تھی پھر ایسی خسیس دونی الطبع کا خیرات و صدقات میں صرف کرنا کیسا ؟ یا اس کے مجازی معنی مراد ہیں۔ حمالۃ الحطب عرب کے محاورہ میں اس عورت کو کہتے ہیں جو لگائی بجھائی کرے اور چغل خوری کر کے لڑائی کرائے۔ چغل خور کو عرب کہتے ہیں فلان یحطب علیٰ فلان یہ استعارہ ہے اور فارسی میں بھی سخن چین کو ہیزم کش کہتے ہیں۔ اس بدنصیب کی یہ بھی عادت تھی کہ لوگوں کو لڑامارتی تھی اور عورتوں میں یہ عیب زیادہ ہوتا ہے۔ ادھر کی بات ادھر اور ادھر کی بات ادھر لے جایا کرتی ہیں۔ یہ قتادہ و مجاہد و سدی کا قول ہے اور حقیقی معنی مراد لینے کا ابن زید و ضحاک و ربیع بن انس و مرہ ہمدانی کا قول تھا۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ اس کی آخرت کی حالت ہے کہ جس طرح دنیا میں حضرت کے راستے میں ڈالنے کو کانٹے باندھ کر لاتی تھی اور اپنے گلے کے گلوبند پر جو بڑا قیمتی تھا ناز کرتی تھی اور کہتی تھی کہ محمد ﷺ کے ہلاک کرنے میں اس کو صرف کردوں گی اسی طرح جہنم میں اس کے سر پر لکڑیوں کا گٹھا ہوگا اور وہ گلوبند ایک مستحکم رسہ بن کر گلے میں پڑا ہوگا جس سے فرشتے اس کو گھسیٹیں گے۔ گلے میں مضبوط رسی سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ بہیمیت و شیطانیت کی مضبوط رسی اس کے گلے میں پڑی ہوئی تھی جس کو پکڑ کر اس کا نفس خبیث راہ حق سے کھینچتا تھا۔ ہر کافر و مشرک کے گلے میں اس قسم کی رسی پڑی ہوئی ہے۔ بدکاروں کے گلے میں شہوات کی رسی پڑی ہوئی ہے۔ محبان خدا کے گلے میں محبت کی رسی ہے ؎ رشتہ ٔ درگردنم افگندہ دوست میبرد ہر جا کہ خاطر خواہ اوست
Ayahs 111:4–5

وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader

جو لکڑیوں کا پشتارہ اٹھائے

فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader

گلے میں مونج کی رسی ڈالے پھرتی ہے۔

1 ؎ حمالۃ الحطب میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس کے گناہوں کا گٹھا اس کی پشت پر تھا اور خواہش دنیا کی رسی گلے میں پڑی ہوئی تھی۔ اور حمالۃ الحطب میں اس کے خاوند کی نالائقی کی طرف بھی اشارہ ہے کیونکہ عورت بوقت مخصوص خاوند کو اوپر لادتی ہے اس کا خاوند ایک لکڑیوں کا پشتارہ ہے جو جلانے کے قابل ہے اور فی جیدہا الخ میں خاص اس کی طرف اشارہ ہے کہ اپنے نفس بد کی یا اس نالائق خاوند کی بڑی مطیع ہے گویا اطاعت کی گلے میں رسی پڑی ہوئی ہے اور رسی بھی بڑی مضبوط کھجور کے پٹھوں کی۔ 12 منہ