110. Surah An-Nasr
النصرDivine Support · 3 ayahsتفسیرِ حقانی
اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader
جبکہ اللہ کی مدد اور فتح آچکی
وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader
اور آپ نے لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق جوق داخل ہوتے دیکھ لیا
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader
تو اپنے رب کی تسبیح کرو ستائش کے ساتھ اور اس سے معافی مانگو بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔
ترکیب ¦ اذا منصوبۃ بجاء وقیل یسبح نصر اللہ مصدرمضاف الی الفاعل والمفعول محذوف ای نصرہ ایاک اوالمؤمنین وھذا فاعل جاء ومعناہ حصل وانما عبربہ بالمجیٔ تجوزاً للاشعار بان نصرہ یقینی وقد قرب حصولہ والفتح عطف علی نصر اللہ ورایت عطف علی جاء ورایت ان کان بمعنی العلم فمفعولہ الاول الناس والثانی یدخلون وان کان بمعنی ابصرت فیدخلون حال۔ وعلی التقدیرین افواجا حال فاعل یدخلون ای فوجا بعد فوج فسبح الخ جواب الشرط بحمد ربک فی محل النصب علی الحال ای سبح اللہ حامدالہ او متلبساء بحمدہ ای قل سبحان اللہ بحمدہ واستغفرہ عطف علیٰ سبح انہ کان الخ تعلیل لقولہ استغفرہ ای لان من شانہ قبول التوبۃ۔
تفسیر ¦ یہ سورة جمہور کے نزدیک مدینہ میں نازل ہوئی مگر ابویعلٰی وبزار و بیہقی نے ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ یہ سورة ایام التشریق میں بمقام منٰی حجۃ الوداع میں نازل ہوئی جس کے بعد آنحضرت ﷺ نے جان لیا کہ یہ میرے لیے ادھر کا پیغام ہے یعنی آپ جس کام کے لیے بھیجے گئے تھے اب وہ پورا ہوچکا یا ہو چکنے کو ہے۔ دنیائے دنی آپ کے ٹھہرنے کی جگہ نہیں۔ اب ہماری طرف توجہ کیجئے، تسبیح کہئے اور حمد بیان کریں اور امت کے لیے استغفار کیجئے۔ ابن عباس ؓ کو عمر ؓ بدری لوگوں کے ساتھ بلایا کرتے تھے۔ بعض صحابہ کو برا معلوم ہوا کہ یہ بچہ ہے ہمارے ساتھ اس کو کیوں بلایا کرتے ہیں۔ عمر ؓ نے فرمایا اس لیے کہ اس کی فضیلت تمہیں معلوم نہیں پھر ایک بار مجلس میں بلایا اور لوگ بھی موجود تھے۔ ان سے سوال کیا کہ اس آیت کے تم کیا معنی بیان کرتے ہو۔ اذاجاء نصر اللہ والفتح لوگوں نے کہا یہ کہ جب ہم کو فتح و نصرت نصیب ہو تو اس کی تسبیح کریں اور معافی مانگیں۔ عمر ؓ نے ابن عباس ؓ سے کہا کہ تم کیا کہتے ہو۔ ابن عباس ؓ نے کہا یہ مطلب نہیں بلکہ علامت ہے آنحضرت ﷺ کی اجل کی جو آپ کو بتلائی گئی۔ عمر ؓ نے فرمایا میں بھی یہی سمجھتا ہوں (رواہ البخاری) ۔ اس پر اہل علم کا اتفاق ہے یہ کہ سورة آنحضرت ﷺ کی وفات سے کئی مہینے پہلے نازل ہوئی ہے اس میں تین آیت ہیں۔
اس سورة کو قل یا ایہا الکافرون سے یہ ربط ہے کہ سورة کافرون میں بےدغدغہ اعلان تھا کہ میں تمہارے معبودوں سے بیزار ہوں اور تم بت پرست کافر ہو۔ اور اس سے پہلے سورة کوثر میں یہ مژدہ عطا ہوچکا تھا کہ آپ کو کوثر عطا ہوا ہے۔ آپ کی ذریت اور اتباع کی کثرت ہوگی۔ اب اس سورة میں تسلی دی جاتی ہے کہ آپ اس اعلان کے بعد کفار کے غلبہ سے خوف نہ کریں گو ہر طرف وہی محیط ہیں قریش مکہ اور جمیع قبائلِ عرب سے یہودونصاریٰ و مجوس تک سب آپ کے بدخواہ ہیں مگر آپ کچھ بھی پروا نہ کریں آپ کے لیے اللہ کی مدد اور فتح تیار ہے۔ ایک دن آنے والا ہے گویا آ ہی چکا ہے کہ آپ کا دین غالب آجائے گا، کفر کو شکست ہوجائے گی، بت پرستی منہ موڑ کر بھاگے گی اور اس کفروبت پرستی کے حمایتی مغلوب ہوجائیں گے اور گروہ کے گروہ لوگ آپ کے دین میں داخل ہوں گے اور وہ آپ کے کام کا اخیر ہوگا تب ہماری طرف آنے کی تیاری کیجئے۔ تسبیح وتحمید اور امت کے لیے استغفار کی کثرت کیجئے۔ چناچہ اس بشارت کے موافق واقع ہوا جیسا کہ ہم ابھی بیان کریں گے۔ اس مناسبت یہ سورة قل یا ایہا الکافرون کے بعد رکھی گئی۔
فقال اذاجاء نصر اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا کہ جب اللہ کی مدد اور فتح آچکی اور تم نے اے نبی علیک السلام لوگوں کو خدا کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیا کہ آج ایک جماعت اسلام لائی، کل دوسری قوم اسلام لائی۔ آیت میں چار باتیں بیان فرمائیں۔ اول۔ اللہ کی نصر کا آنا۔ دوم، فتح کا حاصل ہونا۔ سوم، لوگوں کا دین الٰہی میں داخل ہونا۔ چہارم، ایک ایک دو دو کا نہیں بلکہ جماعتوں کا اور قوموں کا دین میں داخل ہونا۔
نصرو فتح ¦ اب ہم ان چاروں باتوں کی تشریح کرتے ہیں تاکہ کلام الٰہی کے معنی خوب طرح ذہن نشین ہوجائیں۔ نصر : تحصیل مطلوب میں اعانت (فتح) تحصیل مطلوب یعنی مقصود کا حاصل کردینا اور نصر فتح کا سبب ہوتا ہے اس لیے نصر کے بعد فتح کا ذکر عطف کے طور پر کیا گیا۔ پھر اعانت عام ہے، کبھی اسباب ظاہری کے پیدا کردینے سے ہوتی ہے جیسا کہ مخالفوں پر فتح پانے میں لشکر واعوان و انصار کا موجود کردینا یا جو لشکر کو کارآمد چیزیں ہوتی ہیں ان کا موجود کردینا، ہتھیار اور خوراک وغیرہ یا مخالفوں کی مدافعت کے اسباب پیدا کردینا، ان میں بزدلی اور ہیبت اور سوئِ تدبیری پیدا کردینا اسی لحاظ سے بدر کے معاملہ میں فرمایا ہے۔ وما النصر الامن عنداللہ العزیز الحکیم۔ اور یہی حال ہے انسانی خدمات کے مقابلہ میں۔ انسان جب تہذیب نفس حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس ملک کے فتح کرنے کے لیے قوائے بہیمیہ و سبعیہ و شیطانیہ کے لشکروں سے لڑنا پڑتا ہے۔ اس موقع پر جو تائید غیبی ہے وہ اللہ کی طرف کی نصرت ہے اور اس کے بعد مقصود کا حاصل ہونا فتح ہے اسی طرح بدراہ قوموں کی اصلاح اور ان کے نفوس کی تہذیب حضرات انبیاء (علیہم السلام) کا بڑا مقصد ہوتا ہے اور یہ حاصل ہونا کچھ آسان بات نہیں اس میں مدد غیبی درکار ہے۔ وہ کیا ؟ لوگوں کے دلوں میں اس شخص کے قبولیت اور اس کی بات کا اثر پیدا کردینا یہ نصر اللہ ہے جس کے بعد فتح ہی فتح ہے یعنی پھر جوق در جوق اور گروہ کے گروہ دین اللہ میں ایک کشش باطنی سے خودبخود داخل ہونے لگتے ہیں اور اسی کو فتح مبین بھی کہتے ہیں۔ سو یہ اسی کوثر کے عطا ہونے کا ظہور ہے۔ اور اخیر عمر میں جبکہ آنحضرت ﷺ مدینہ میں آرہے تھے۔ یہ بات حاصل ہونے لگی تھی اور یوماً فیوماً ترقی پر تھی خصوصاً فتح مکہ کے بعد سے روزمرہ قبائل کے قبائل اور کبھی ان کے ایلچی آتے اور تلقین پا کر جاتے اور سب مسلمان ہوجاتے تھے۔ آپ نے خود جماعتوں کی جماعتوں کو دین الٰہی میں داخل ہوتے دیکھ لیا اور خدائے پاک نے اپنا وعدہ پورا کردیا اور پھر آپ کے بعد بھی سلسلہ جاری رہا۔
فتح مکہ ¦ مفسرین نے لفظ نصر اور فتح کے وسیع معنوں کو ایک ایک بات میں محدود کیا ہے حالانکہ وہ سب کو شامل ہیں اور سب ہی مراد ہیں پس جس طرح نصرت الٰہی کے متعدد طریقے معلوم ہوئے اسی طرح فتح کے بھی ہیں۔ اول فتح مکہ اس کی مختصر کیفیت یہ ہے کہ عرب کے اکثر قبائل آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تھے مگر مکہ کے لوگ ابھی تک اسی بت پرستی اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلے پر تلے ہوئے تھے اور کئی بار لڑائیاں میدان میں آ کر لڑ چکے تھے۔ یہ شہر مقدس کفار کا مرکز ہو رہا تھا۔ ہجرت کے آٹھویں 1 ؎ سال جیسا کہ بخاری میں معمر سے روایت ہے دس ہزار لشکر کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے مکہ کا قصد کیا جس کی بابت کتاب یسعیاہ (علیہ السلام) کے 42 باب میں پیشین گوئی ہے جس کے جملے یہ ہیں : ” دیکھو میرا بندہ جسے میں سنبھالتا ہوں میرا برگزیدہ جس سے میرا جی راضی ہے میں نے اپنی روح اس پر رکھی وہ قوموں کے درمیان عدالت جاری کرائے گا “ الخ۔ اس کا زوال نہ ہوگا اور مسلا نہ جائے گا، جب تک راستی کو زمین پر قائم نہ کرے۔ الخ اس میں اذا جاء نصر اللہ والفتح الخ کے مضمون کی پوری تائید ہے۔ خداوند ایک بہادر کی مانند نکلے گا وہ جنگی مرد کی مانند اپنی عزت کو اسکائیگا وہ چلائے گا ہاں وہ جنگ کے لیے بلائے گا وہ اپنے دشمنوں پر بہادری کرے گا “۔ آنحضرت ﷺ نے عرب کی قوموں کو بلایا اور قبائل جمع ہوئے۔ دس ہزار لشکر ساتھ ہوا مکہ کے لوگ امان کے طالب ہوئے، آپ نے امان دی اور سب نے ایک لخت اسلام اختیار کرلیا، کفر کا جھنڈا اکھڑ گیا۔ اب عرب میں کوئی مذہبی مخالف باقی نہیں رہا۔
(2) بعض کہتے ہیں فتح سے مراد خیبر کی فتح ہے جو سال حدیبیہ کے بعد جبکہ مسلمانوں کو رنج و ملال تھا واقع ہوئی اور جس کے بعد مسلمانوں کو فراغدستی میسر آئی۔ (3) جمیع فتوحات مراد ہیں جو غزوات میں پے در پے نصیب ہوئیں اور اسلامی شوکت زور پکڑتی گئی۔ فتح مکہ، خیبر، طائف، حنین وغیرہ۔ (4) فتوحات غیبیہ علوم و اسرار ملکوتیہ جو رفتہ رفتہ آپ پر منکشف ہوتے تھے اور آخر اس کا حضرت احدیۃ کا دروازہ کھل جانا اور کشف ذاتی ہے کہ پھر یہ کثرت وحدت کے ملاحظہ کے لیے کسی طرح بھی حاجب نہ ہوتی تھی اور عرفاء و کملاء ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ ان پر عالم غیب کے دروازے کھل جاتے ہیں تب وہاں کی چیزیں عیاں نظر آنے لگتی ہیں اور اسی عالم کے لوگوں سے موانست زیادہ ہونے لگتی ہے۔ اس عالم سے بےاعتنائی ہوجاتی ہے۔ پھر جس طرح اس عالم کے لوگوں کا شغل خدا پاک کی تسبیح و تقدیس ہے اور یہی باعث راحت اور سرور روح ہے ان لوگوں کا بھی ہوجاتا ہے اس لیے فرمایا ہے فسبح کہ خدا پاک کی تسبیح کیا کرو اور تسبیح بھی کیسی بحمدربک جملہ سے ملا کر سبحان اللہ وبحمدہ۔
1 ؎ صحیح یہ ہے کہ ساتواں سال تھا 12 معہ
تسبیح کی حقیقت ¦ واضح ہو کہ حق سبحانہ ٗ کی صفات مذمومہ سے مبرا سمجھنا عین عبودیت ہے کہ وہ فانی نہیں حادث نہیں کسی کام میں کسی کا محتاج نہیں۔ الواث بشریہ و کدورات امکانیہ سے پاک ہے۔ نہ وہ سوتا ہے، نہ بیمار ہوتا ہے وغیر ذلک۔ پس اس قسم کے اوصافِ بد سے مبرا سمجھنا تسبیح ہے اور اس کے لیے شرع میں الفاظ مقرر ہیں سبحان اللہ وغیرہ کہنا۔
پھر یہ زبان سے بھی ہوتی ہے اور دل سے بھی اور کبھی انسان یا ممکنات کی حالت سے بھی کہ خودبخود اس کی بناوٹ کہہ رہی ہے کہ خالق جمیع عیوب اور نقصانوں سے پاک ہے اور اس آیت میں اسی طرح اشارہ ہے وان من شیئٍ الایسبح بحمدہ ولکن لاتفقہون تسجیہم کہ ہر چیز اس کی تسبیح کرتی ہے مگر تم نہیں سمجھتے ؎
بذکرش ہرچہ بینی درخروش ست
نہ بلبل بر گلشن تسبیح خوانے ست
ولے داند دریں معنٰی کہ گوش است
کہ ہر خارے بہ تسبیحش زبانے ست
پھر اس تسبیح کے مراتب متفاوت ہیں۔ ادنیٰ مرتبہ زبان سے کہنا اور اعلیٰ یہ کہ زبان اور قلب دونوں سے تسبیح کرنا اور جن جن نقصانوں سے اس کی پاکی بیان کی جاتی ہے ان کے برخلاف اوصاف کمال کا اس کی ذات میں مشاہدہ کرنا اور اس مشاہدہ سے انوار کا اس کی ذات پر انعکاس پڑنا اور اس کا بھی ان نقائص سے پاکیزہ ہوجانا گو حدوث کے خصائصِ سے چھٹکارا مشکل ہے مگر تسبیح سے اس پر ایک ایسی تجلی پڑتی ہے کہ جس سے روح کو نورانیت حاصل ہوتی ہے اور آخرکار اس کے خصائص بشریہ مٹتے مٹتے یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ یہ مجردات و ملائکہ میں مل جاتا ہے اور پھر ان سے بھی بڑھ کر بارگاہ قدس میں جگہ پاتا ہے جیسا کہ فرمایا فی مقعد صدق عندملیکٍ مقتدر۔
تسبیح عارف کی حالت ابتدائی ہے کس لیے کہ پہلے آئینے یا کسی لوح کی جس پر کوئی نیا رنگ جمانا ہوتا ہے تو صفائی کرلی جاتی ہے پھر رنگ یا نقش قائم کرتے ہیں اور یہ اس لیے کہ بندہ حادث ہے، حدوث و جسمانیت کے ہزاروں خصائص میں آلودہ ہے بہیمیت کی تاریکی اس پر محیط ہے مجردات اور عالم ملکوت سے یوں بعید ہے حتٰی کہ اس کے ادر اکات میں بھی صفائی نہیں قوت وہمیہ اپنا دخل دیے بغیر نہیں چھوڑتی جب کوئی معانی مجردہ اس کے لوح قلب پر ڈالے جاتے ہیں تو قوت وہمیہ ضرور ان کو بھی کسی نہ کسی جسمانی قالب میں ڈھال ہی لیتی ہے اسی لیے حق سبحانہ ٗ اور ملائکہ جو جسمانیت سے پاک ہیں جب ان کا تصور کرتے ہیں تو کسی خوبصورت آدمی کی شکل میں یا اور کسی جسمانی چیز میں اور اسی لیے خواب میں جب روح دوسرے عالم کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور وہاں کے علوم اس پر فائض ہوتے ہیں تو قوت وہمانیہ ان کو بھی ان کے مناسب صور میں ڈھال لیتی ہے جن سے جدا کر کے بتانا تعبیر دینا ہے اور اسی لیے اگلی قوموں میں چونکہ بہیمیت غالب تھی وہ حق سبحانہ ٗ کی عبادت بغیر کسی مجسم صورت پر دھیان دھرے کر ہی نہیں سکتے تھے اور اب بھی جن کی بہیمیت غالب ہے ان پر جو کبھی تجلی ہوتی ہے تو کسی محبوب اور دلکش صورت میں۔ اور اسی لیے ان لوگوں نے بت آگے رکھ کر عبادت کا طریقہ نکالا تھا جیسا کہ خام کار اور لڑکے خاکا آگے رکھے بغیر کوئی کام ہی نہیں کرسکتے۔ مگر آنحضرت ﷺ کے عہدمبارک میں نورانیت و ملکیت کا غلبہ ہوا اور یہ ابتدائی مشق اٹھوا کے بغیر شائبہ حدوث و امکان بلاکیف اس خالق قادر کی عبادت قائم کی گئی اور عبادت میں بھی یہی اول تسبیح قائم ہوئی کہ ان کدورات و الواث بشریہ سے اس کی ذات مقدس کو پاک اور مبرا سمجھا جائے۔
اس کے بعد صفات حمیدہ سے موصوف سمجھانا یعنی جو جو اس کے صفات کاملہ ہیں ان کا اس کی ذات پاک میں ثابت کرنا جیسا کہ وہ حی ہے، کریم ہے، باقی ہے، ازلی ہے، ابدی ہے، ظاہر ہے، باطن ہے، سمیع ہے، بصیر ہے، عادل ہے، رحیم ہے۔ وغیرذلک اس کو تحمید کہتے ہیں یعنی اس کے اوصاف حمیدہ کے ساتھ اس کو یاد کرنا عام ہے کہ ان نعماء کا ہی ذکر ہو کہ جو اس نے بندے کو عطا فرمائیں یا نہیں۔ یہ دوسرا مرتبہ ہے رنگ یا نقش جمانے کا۔ ہر ایک صفت باری تعالیٰ کا جب باربار مراقبہ کیا جاتا ہے اور تصور صحیح جمایا جاتا ہے تو ضرور روح پر اس کا پر توا پڑتا ہے اور پھر مشق کرتے کرتے نوبت دور تک پہنچ جاتی ہے لیکن روح کی استعداد و قابلیت میں فرق بھی ضرور ہے۔ بعض قابل اور مستعد ارواح کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ تسبیح سے فنا طاری ہوجاتی ہے اور تحمید سے بقا کا پر تواپڑ جاتا ہے پھر اس میں بھی مراتب متفاوت ہیں۔ اس رمز کے لیے قرآن مجید میں اور بالخصوص اس سورة میں تسبیح کے ساتھ تحمید کا حکم دیا اور اسی لیے آنحضرت ﷺ سبحان اللہ بحمدہ سبحان اللہ العلی العظیم اکثر کہا کرتے تھے اور لوگوں کو ترغیب بھی دلاتے تھے۔
اور بندہ گو ہزار کوشش اس کی عبادت میں کرے مگر جیسا حق ہے ویسا ادا ہونا مشکل ہے۔ اسی لیے اعتراف قصور بھی ایک شان عبودیت ہے اور نیز بارگاہ اعلیٰ میں بندے کی عاجزی بہت پسند ہے۔ اسی لیے اس کے بعد یہ بھی جملہ ارشاد فرمایا واستغفرہ کہ اپنے رب سے بخشش اور معافی مانگ باوجود اس تسبیح وتحمید کے پھر بندہ کا عجزوانکسار کرنا اور اپنے آپ کو خطاوار سمجھ کر معافی مانگنا نہایت عبادت ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میں دن بھر میں ستر بار اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور یہ بھی ہے کہ یہ استغفار امت کے لیے ہے۔ کس لیے کہ یہ آپ کا اخیر وقت ہے اور آپ کی تکمیل انتہا کو پہنچ گئی ہے اور آپ نے اقوام کو دین الٰہی کی طرف بلایا ہے اب اس وقت ان کے لیے آپ کا شفیع بن کر استغفار کرنا اکسیر کا حکم رکھتا ہے اس لیے آپ امت کے لیے استغفار کیا کرتے تھے اور یہ امت کی بڑی خوش نصیبی ہے کہ جن کا رسول ان سے خوش ہوجائے اور استغفار کرے۔
اس سورة کے نازل ہونے کے وقت اکثر رموز شناس صحابہ ؓ سمجھ گئے تھے کہ عنقریب آنحضرت ﷺ ہم میں سے اٹھ جانے والے اور ہم کو داغ مفارقت دینے والے ہیں چناچہ صدیق اکبر ؓ اس سورة کو سن کر زار زار رونے لگے۔ لوگوں نے کہا یہ تو خوشی کا مقام ہے کہ اللہ نے نصرت و فتح کا مژدہ دیا اور قوموں کے جوق جوق اسلام میں آنے کی خوشخبری سنائی پھر یہ بوڑھا کیوں روتا ہے۔ بعض نے کہا یہ حضرت ﷺ کا قدیم رازدار ہے کوئی تو رمز ہے جو یہ سمجھ گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بھی ابوبکر ؓ کے آنسوئوں کا سلسلہ ڈاڑھی پر بہتے دیکھا اور سمجھ گئے کہ یہ اس رمز کو سمجھ گئے۔ آپ نے فرمایا سب لوگوں سے مجھ پر خدمت گزاری میں اور مالی مدد میں ابوبکر ؓ کا بڑا احسان ہے اور اگر میں خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو مگر خلت اسلامی کافی ہے اور یہ بھی فرمایا کہ مسجد میں جو آنے کے لیے کھڑکیاں ہیں سب بند کردی جائیں مگر ابوبکر کی کھڑکی کھلی رہے۔ یہ اس لیے کہ اس کو نہایت عشق ہے اور رازدار ہیں تاکہ ہر وقت صحبت اٹھانے کا موقع ملے۔ پھر جو اور لوگوں کو بھی یہ راز معلوم ہوا اور لوگوں نے اپنا اظہارِ غم و رنج کیا تو آپ نے فرمایا کیوں غم کرتے ہو خوش نصیب ہے وہ امت جس کا رسول ان سے خوش ہوجائے اور جا کر ان کے لیے تیاری کرے اور بدنصیب ہے وہ قوم کہ جن کا رسول ان میں زندہ رہے اور وہ قہرالٰہی سے ہلاک ہوں چناچہ اس سورة کے نزول کے کئی مہینے بعد رسول کریم ﷺ نے دنیا سے رحلت فرمائی۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔
بخاری میں ہے کہ اس سورة کے نازل ہونے کے بعد ہر نماز کے رکوع و سجود میں نبی کریم ﷺ یہ کہا کرتے تھے۔ سبحانک اللھم ربنا وبحمدک اللھم اغفرلی کہ اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ستائش کرتا ہوں اے رب بخش دے۔
اس سورة پر عمل کرتے تھے اور بخشش اس سے اس لیے مانگ کیونکہ انہ کان توابا وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اس کو بندے کے رجوع ہونے سے بڑی خوشی ہوتی ہے۔ توبہ کرتا ہے تو وہ درگزر کرتا ہے بڑا ہی حلیم ہے اس کے آگے سر رکھ دینا چاہیے پھر اس کی مہربانی اور عنایت کی کیا کمی ہے۔ اللھم اتوب الیک اغفرلی ولوالدی ولجمیع المسلمین۔
(اللہ اکبر)