111. Surah Al-Masad

المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 111:1

تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader

ٹوٹ گئے ہاتھ ابی لہب کے اور ٹوٹ گیا وہ آپ1

1 " ابو لہب " (جس کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب ہے) آنحضرت ﷺ کا حقیقی چچا تھا، لیکن اپنے کفر و شقاوت کی وجہ سے حضور ﷺ کا شدید ترین دشمن تھا۔ جب آپ ﷺ کسی مجمع میں پیغام حق سناتے یہ بدبخت پتھر پھینکتا۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ کے پائے مبارک لہولہان ہوجاتے اور زبان سے کہتا کہ لوگو ! اس کی بات مت سنو، یہ شخص (معاذاللہ) جھوٹا بےدین ہے۔ کبھی کہتا کہ محمد ﷺ ہم سے ان چیزوں کا وعدہ کرتے ہیں جو مرنے کے بعد ملیں گی۔ ہم کو تو وہ چیزیں ہوتی نظر نہیں آتیں۔ پھر دونوں ہاتھوں سے خطاب کر کے کہتا۔ " تبالکما ما اریٰ فیکما شیأ اً مما یقول محمد " ﷺ (تم دونوں ٹوٹ جاؤ کہ میں تمہارے اندر اس میں سے کوئی چیز نہیں دیکھتا جو محمد ﷺ بیان کرتا ہے) ایک مرتبہ حضور ﷺ نے کوہ " صفا " پر چڑھ کر سب کو پکارا۔ آپ ﷺ کی آواز پر تمام لوگ جمع ہوگئے۔ آپ ﷺ نے نہایت موثر پیرایہ میں اسلام کی دعوت دی۔ ابو لہب بھی موجود تھا (بعض روایات میں ہے کہ ہاتھ جھٹک کر) کہنے لگا۔ " تبالک سائر الیوم الھذا جمعتنا۔ " (یعنی تو برباد ہوجائے کیا ہم کو اسی بات کے لئے جمع کیا تھا) اور روح المعانی میں بعض سے نقل کیا ہے کہ اس نے ہاتھوں میں پتھر اٹھایا کہ آپ ﷺ کی طرف پھینکے۔ غرض اس کی شقاوت اور حق سے عداوت انتہاء کو پہنچ چکی تھی۔ اس پر جب اللہ کے عذاب سے ڈرایا جاتا تو کہتا کہ سچ مچ یہ بات ہونے والی ہے تو میرے پاس مال و اولاد بہت ہے۔ ان سب کو فدیہ میں دے کر عذاب سے چھوٹ جاؤں گا۔ اس کی بیوی الم جمیل کو بھی پیغمبر (علیہ السلام) سے بہت ضد تھی۔ جو دشمنی کی آگ ابو لہب بھڑکاتا تھا، یہ عورت گویا لکڑیاں ڈال کر اس کو اور زیادہ تیز کرتی تھی۔ سورة ہٰذا میں دونوں کا انجام بتلا کر متنبہ کیا ہے کہ مردہ یا عورت، اپنا ہو یا بیگانہ بڑا ہو یا چھوٹا، جو حق کی عداوت پر کمر باندھے گا وہ آخرکار ذلیل اور تباہ و برباد ہو کر رہیگا۔ پیغمبر کی قرابت قریبہ بھی اس کو تباہی سے نہ بچا سکے گی۔ یہ ابو لہب کیا ہاتھ جھٹک باتیں بناتا اور اپنی قوت بازو پر مغرور ہو کر خدا کے مقدس و معصوم رسول کی طرف دست درازی کرتا ہے، سمجھ لے کہ اب اس کے ہاتھ ٹوٹ چکے۔ اس کی سب کوششیں حق کے دبانے کی برباد ہو چکیں اس کی سرداری ہمیشہ کے لئے مٹ گئی۔ اس کے اعمال اکارت ہوئے اس کا زور ٹوٹ گیا، اور وہ خود تباہی کے گڑھے میں پہنچ چکا، یہ سورت مکی ہے۔ کہتے ہیں کہ غزوہ " بدر " سے سات روز بعد اس کے زہریلی قسم کا ایک دانہ نکلا۔ اور مرض لگ جانے کے خوف سے سب گھر والوں نے الگ ڈال دیا، وہیں مرگیا اور تین روز تک لاش یوں ہی پڑی رہی۔ کسی نے نہ اٹھائی، جب سڑنے لگی، اس وقت حبشی مزدوروں سے اٹھوا کر دبوائی۔ انہوں نے ایک گڑھا کھود کر اس کو ایک لکڑی سے اندر ڈھلکا دیا اوپر سے پتھر بھر دیے۔ یہ تو دنیا کی رسوائی اور بربادی تھی۔ (وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ ) 68 ۔ القمر :33)
Ayah 111:2

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader

کام نہ آیا اس کو مال اس کا اور نہ جو اس نے کمایا2

2 یعنی مال، اور اولاد، عزت، وجاہت کوئی چیز اس کو ہلاکت سے نہ بچا سکی۔
Ayah 111:3

سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader

اب پڑے گا ڈیگ مارتی آگ میں3

3 یعنی مرنے کے بعد سخت شعلہ زن آگ میں پہنچنے والا ہے۔ شاید اسی مناسبت سے قرآن نے اس کی کنیت " ابولہب " قائم رکھی۔ دنیا تو اس کو " ابولہب " اس لئے کہتی تھی کہ اس کے رخسار آگ کے شعلے کی طرح چمکتے تھے۔ مگر قرآن نے بتلا دیا کہ وہ اپنے آخری انجام کے اعتبار سے بھی " ابولہب " کہلانے کا مستحق ہے۔
Ayah 111:4

وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader

اور اس کی جورو جو سر پر لیے پھرتی ہے ایندھن4

4 ابولہب کی عورت ام جمیل باوجود مالدار ہونے کے سخت بخل اور خست کی بناء پر خود جنگل سے لکڑیاں چن کر لاتی، اور کانٹے حضرت کی راہ میں ڈال دیتی تاکہ حضور ﷺ کو اور آنے والوں کو تکلیف پہنچے۔ فرماتے ہیں کہ وہ جس طرح یہاں حق کی دشمنی اور پیغمبر خدا کی ایذاء رسانی میں اپنے شوہر کی مددگار ہے۔ دوزخ میں بھی اسی ہئیت سے اس کے ہمراہ رہے گی۔ شاید وہاں زقوم اور صریع کی (جو جہنم کے خاردار درخت ہیں) لکڑیاں اٹھائے پھرے۔ اور ان کے ذریعہ سے اپنے شوہر پر عذاب الہٰی کی آگ کو تیز کرتی رہے۔ کما قال ابن اثیر۔ (تنبیہ) بعض نے " حمالۃ الحطب " کے معنی چغل خور کے لئے ہیں۔ اور محاورات عرب میں یہ لفظ اس معنی میں مستعمل ہوتا ہے جیسے فارسی میں بھی ایسے شخص کو " ہیزم کش " کہتے ہیں۔
Ayah 111:5

فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader

اس کی گردن میں رسی ہے مونجھ کی5

5 یعنی بہت مضبوط بٹی ہوئی چھبنے والی۔ اس سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک دوزخ کے طوق سلاسل ہیں اور تشبیہ " حمالۃ الحطب " کی مناسبت سے دی گئی ہے۔ کیونکہ لکڑیوں کا بوجھ اٹھانے میں رسی کی ضرورت پڑتی ہے۔ لکھتے ہیں کہ اس عورت کے گلے میں ایک ہار بہت قیمتی تھا۔ کہا کرتی تھی کہ لات و عزیٰ کی قسم۔ اس کو محمد ﷺ کی عداوت پر خرچ کر ڈالوں گی۔ ضرور تھا کہ دوزخ میں بھی اس کی گردن ہار سے خالی نہ رہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ اس بدبخت کی موت بھی اسی طرح واقع ہوئی، لکڑیوں کے گٹھے کی رسی گلے میں آپڑی جس سے گلا گھٹ کر دم نکل گیا۔