111. Surah Al-Masad

المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : قرآن کریم اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسوہ حسنہ سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ ایمان اور حسن عمل کے ساتھ ساتھ اور اس کے رسول کی محبت اور اطاعت وہ سچی بنیاد ہے جس پر دنیا اور آخرت کی نجات کا دارومدار ہے۔ کوئی اپنا ہو یا بیگانہ، چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت جو بھی حق و صداقت اور اطاعت و محبت کے راستے کو اپنائے گا وہی کامیاب ہوگا۔ اطاعت اور محبت ان دونوں کو چولی دامن کا ساتھ ہے۔ محض اطاعت اور اس میں محبت نہ ہو تو اس کو منافقت کہتے ہیں۔ اور محض محبت ہو اور اطاعت نہ ہو تو اس کو بدعت کہتے ہیں۔ قرآن و سنت کے مطابق منافقت اور بدعت دونوں انسانوں کو جہنم کی طرف دھکیل دیتے ہیں اور کسی حال میں قبول نہیں ہیں۔ چناچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حقیقی چچا ابو لہب اور اس کی بیوی ام جمیل دونوں اپنے بھتیجے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس قدر والہانہ محبت کرتے تھے کہ ان کو ایک پل کے لئے بھی اپنی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیتے تھے۔ محبت کا یہ حال تھا کہ جب ایک لونڈی (ثوبیہ) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیدائش کی خوش خبری سنائی تو وہ خوشی سے جھوم اٹھا اور اس نے خوش خبری لانے والی لونڈی کو آزاد کردیا۔ لیکن جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوہ صفا پر قریش اور ان کے سرداروں کو آواز دے کربلایا اور یہ کہا کہ بہت جلد شیطان کا لشکر تم پر حملہ کرنے والا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اللہ کی اطاعت و بندگی کرنے اور لکڑی ، پتھر اور مٹی سے بنائے گئے بتوں اور ان کی رسموں کو چھوڑنے کے لئے کہا تو اس آواز کی شدت سے مخالفت کرنے والا ابو لہب تھا جس نے کہا تھا ”…………“ (نعوذ باللہ) تمہارے ہاتھ ٹوٹ جائیں کیا تم نے یہی سب کچھ سنانے کیلئے ہمیں جمع کیا تھا ؟ اس نے ہاتھوں میں پتھر اٹھا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مارنے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد ابو لہب کا یہ حال ہوگیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہاں بھی تشریف لے جاتے یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے پیچھے جاتا اور لگوں سے کہتا کہ اس کی بات نہ سنو یا باپ دادا کے دین سے پھر گیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورة لہب نازل کرکے بتا دیا کہ تباہی اور بربادی تو ابو لہب اور اس کی بیوی کے لئے ہے۔ مکہ کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ ابو لہب بےانتہا مال و دولت اور اولاد رکھنے کے باوجود تباہ و برباد ہو کر رہا۔ ابو لہب کی بیوی ام جمیل بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت میں سب سے آگے تھے۔ اس کے گلے میں ایک قیمتی ہار تھا وہ کہتی تھی کہ میں اس ہار کو فروخت کرکے اس کی رقم سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بدنام کرنے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کروں گی۔ قیامت میں اللہ تعالیٰ جب ابو لہب کو جہنم کے بھڑکتے شعلوں میں جھونک دیں گے تو ام جمیل لکڑیاں جمع کرکے اس آگ کو بھڑکانے کا کام کرے گی۔ اور وہی قیمتی ہار جس پر اسے بڑا ناز تھا اس ہار کے جہنم کی آگ پر تپا کر ام جمیل کو اس سے داغا جائے گا۔ اطاعت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے انکار کرنے والے ابو لہب اور اس کی بیوی کو یہ وہ بھیانک انجام ہے جس کو دنیا ہی میں بتا دیا گیا کہ محض رسول سے محبت ہی کافی نہیں ہے بلکہ محبت کے ساتھ اطاعت بھی ضروری اور لازمی ہے۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والے اور آپ کی محبت و اطاعت اختیار کرنے والوں میں سب سے اول ہیں وہ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بےانتہا محبت کرتے تھے اور آپ کے ہر حکم پر عمل کرنے کے لئے بےتاب رہا کرتے تھے۔ وہ درحقیقت اطاعت و محبت کا پیکر تھے اور ان کی زندگیاں ایسی مثالی ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے بھی ان کو دین کا بنیادی ستون اور آسمان نبوت کے ستارے قرار دیا ہے۔ وہ صحابہ کرام (رض) جنہوں نے اپنے ایمان اور حسن عمل سے ساری دنیا میں ایک انقلاب برپا کردیا اور بہت تھوڑے عرصے میں قیصر و کسریٰ اور کفر کی سلطنوں کو الٹ کر پھینک دیا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیا۔ صحابہ کرام (رض) وہ عظیم ہستیاں ہیں جن پر کائنات کا ذرہ ذرہ نازل کرتا ہے اور ان کی طرف نسبت کرنے میں ہر شخص ایک خاص فخر محسوس کرتا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق (رض) اس دنیا سے رخصت ہوئے تو مدینہ منورہ اور اسلامی سلطنت کے درودیوار رو رہے تھے۔ ہر شخص کی آنکھ آنسوؤں سے تر تھی اور نہایت عزت و احترام سے آپ (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو دفنایا گیا۔ لیکن ابو لہب کا انتہائی بدترین انجام ہوا۔ اس کو ایک ایسی گلٹی نکلی جس کو عرب ” عدسہ “ کی بیماری کہتے تھے۔ یہ ایک ایسی بیماری تھی کہ اس سے اس کا سارا بدن گل سڑک گیا، بدبو اور تعفن کا یہ حال تھا کہ کوئی اس کے قریب تک نہ جاتا تھا حتیٰ کہ ابو لہب کی بیوی ام جمیل اور اس کے بیٹے بھی اس کمرے میں نہیں جاتے تھے جہاں وہ شدید کرب اور اذیت کی تکلیف میں مبتلا تھا۔ جب ابو لہب اسی تنہائی میں مرگیا اور کئی دن گزرنے کے بعد اس کی لاش سے اٹھنے والی بدبو نے سب کو بےحال کردیا تو حبشی بدؤں کو بلا کر ان سے ابو لہب کی لاش کو اٹھویا گیا اور کسی دور دراز کی جگہ پھنکوا دیا گیا کہ جہاں اس کے وجود کا بھی پتہ نہ تھا۔ اس طرح قرآن کریم یہ یہ پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی کہ ابو لہب تباہ و برباد ہوگیا اس کا مال اور اس کی اولاد بھی اس کے کسی کام نہ آئی۔ یہ تو دنیا میں اس کا حشر ہوا لیکن آخرت میں تو اس کو ایسی بھڑکتی آگ میں جھونک دیا جائے گا کہ جب اس کی آگ کی شدت کم ہوگی تو ابو لہب کی بیوی لکڑیاں چن چن کر اس آگ میں ڈال کر اس کو بھڑکاتی رہے گا۔ اسی بات کو سورة ابی لہب کی اس مختصر سی سورت میں بیان کرکے اس اصول کو بتادیا گیا کہ اسلام میں اصل رشتہ ایمان کا رشتہ ہے۔ دنیاوی رشتوں کا فائدہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ایمان اور عمل صالح کو اختیار کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان پر ثابت قدمی اور حسن عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Ayahs 111:1–5

تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader

ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک و برباد ہوگیا

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader

اس کو اس کا مال اور اس کی کمائی کام نہ آئی

سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader

وہ بہت جلد شعلہ مارتی ہوئی آگ میں داخل کیا جائے گا

وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader

اور اس کی بیوی بھی جو سر پر ایندھن اٹھا کر لاتی ہے (لگائی بجھائی کرتی ہے)

فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader

اس کی گردن میں خوب بٹ ہوئی رسی ہوگی۔

لغات القرآن۔ تبت۔ تباہ ہوگئی۔ (ہوگئے) ۔ یدا۔ دونوں ہاتھ۔ تب۔ تباہ ہوا۔ ما اغنی۔ کام نہ آیا۔ کسب۔ کمایا۔ سیصلی۔ بہت جلد جا پڑے گا۔ امرائہ ۔ عورت ۔ جید۔ گردن۔ حبل من مسد۔ مضبوط پٹی ہوئی رسی۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے نبی کرم ﷺ کو خطاب کرتے فرمایا ……… یعنی اے کپڑا اوڑھ کر لیٹنے والے آپ اتھئے۔ اللہ کے خوف سے لوگوں کو ڈرائیے اور اپنے رب کی بڑائی قائم کیجئے۔ اس کے بعد جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی ……… یعنی آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کے خوف سے ڈرائیے تو آپ نے مکہ مکرمہ کے کوہ صفا پر چرھ کر مکہ والوں کو ”…“ (اے صبح کی آفت) کہہ کر آواز دی۔ جس کا عام طور پر یہ مطلب ہوتا تھا کہ رات کو کسی دشمن نے اچانک حملہ کرنے کے لئے اپنا لشکر جمع کرلیا ہے۔ لوگ اس جملے کا مطلب جانتے تھے اور نبی کریم ﷺ کی آواز بھی پہچانتے تھے۔ قریشی سردار اور آپ ﷺ کے خاندان والے کوہ صفا کی طرف دوڑ پڑے جو خود آسکتا تھا وہ خود آگیا اور جو نہیں آسکتا تھا اس نے اپنی طرف سے کسی کو بھیج دیا۔ جب سارے لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے ایک ذرا اونچے پتھر پر کھڑے ہو کر قریش کے تمام خاندانوں کا نام لے کر خطاب فرمایا۔ آپ ﷺ نے کہا اگر میں تمہیں یہ بتاؤں کہ اس پہاڑ کے پیچھے دشمن کا ایک بہت بڑا لشکر چھپا ہے، جو عنقریب تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری بات کا یقین کرو گے ؟ سب نے ایک زبان ہو کر کہا کہ ہمیں آپ پر پورا بھروسہ ہے کیونکہ آپ ہم میں سب سے زیادہ سچ بولنے والے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس پہاڑ کے پیچھے تو کوئی لشکر نہیں ہے لیکن شیطان کا لشکر تم پر حملہ آور ہے۔ میں تمہیں (اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو) یہ بتا رہا ہوں کہ آگے بہت بڑا عذاب آنے والا ہے اور پھر آپ ﷺ نے اس کی تفصیل ارشاد فرمائی کہ ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ یہ سن کر سب ہی لوگوں پر عجیب سی کیفیت طاری ہوگئی۔ اچانک آپ ﷺ کو سب سے زیادہ چاہنے اولا آپ ﷺ کا حقیقی چچا ابو لہب کھڑا ہوگیا اور اس نے کہا ” تبا لک الھذا جمعتنا “ تو برباد ہوجائے کیا تو نے یہی سب کچھ سنانے کے لئے ہمیں جمع کیا تھا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ اس نے ایک پتھر اٹھایا تاکہ وہ رسول اللہ ﷺ پر کھینچ مارے (مسند احمد، بخاری، مسلم، ترمذی) اور اس کے بعد تو ایسا لگتا تھا جیسے وہ آپ کا جانی دشمن ہے۔ ہر جگہ آپ کی شدید مخالفت کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ابولہب کے اس جملے پر تبالہ پر جواب عنایت فرمایا کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تو برباد نہ ہوں گے لیکن ابولہب تباہ و برباد ہو کر رہے گا۔ اس کی دولت اور اولاد اس کے کچھ بھی کام نہ آئے ۔ اس کو بہت جلد جہنم کی بھڑکتی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔ چونکہ اس کی بیوی ام جمیل بھی آپ ﷺ کی سخت دشمن ہوچکی تھی تو اس کے متعلق فرمایا کہ آپ کے راستے میں کانٹے دار بچھانے والی کی گردن میں ایک رسی ہوگی اور اس سے اس کو جہنم میں کھینچا جائے گا۔ ابولہب کو شعلوں کا باپ کہا جاتا تھا چونکہ وہ نہایتسرخ وسفید، وجیہہ اور خوبصورت آدمی تھا اس لئے ابولہب کہا جانے لگا۔ اس کا اصل نام ” عبدالعزی “ تھا۔ اس کی بیوی کا نام ” اروی “ تھا مگر اس کی کنیت ام جمیل تھی۔ یہ دونوں میاں بیوی بہت مال دار تھے لیکن اس حد کنجوس تھے کہ ان کی کنجوسی سے سب لوگ تنگ تھے۔ جب ابولہب کا نام لے کر قرآن کریم کی ایک سورت نازل کی گئی جو ابولہب کی سخت توہین تھی تو ام جمیل غصے سے بےقابو ہوگئی اور حضور اکرم ﷺ کو تلاش کرنے کے لئے نکل پڑی تاکہ وہ بھی آپ ﷺ کو توہین کرسکے۔ اس کے ہاتھ میں پتھر تھے اور وہ آپ کی شان میں ایسے گستاخانہ شعر پڑھ رہی تھی جس سے اس کا بغض اس کے منہ سے ظاہر ہو رہا تھا۔ حضور اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق خرم میں ایک جگہ موجود تھے کہ واں ام جمیل آگئی۔ حضرت ابوبکر صدیق گھبرا گئے کہ کہیں یہ عورت آپ ﷺ کی توہین نہ کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے ابوبکر تم پریشان نہ ہو وہ مجھے نہ دیکھ سکے گی۔ چنانچہ وہ حضرت ابوبکر کے پاس پہنچی اور اس نے کہا کہ سنا ہے تمہارے صاحب نے میری سخت توہین کی ہے۔ حضرت ابوبکر نے انتہائی ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا ” رب کعبہ کی قسم انہوں نے تمہاری کوئی توہین اور ہجو نہیں کی “۔ اس پر وہ واپس چلی گئی۔ حضرت ابوبکر صدیق کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہاری توہین نہیں کی ہے بلکہ اللہ نے کی ہے۔ ان دونوں میاں بیوی کا یہ حال تھا کہ وہ ہر وقت رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں لگے رہتے تھے۔ ام جمیل کے گلے میں ایک قیمتی ہار تھا وہ قسم کھا کر کہتی تھی کہ میں اس بار کو بیچ کر محمد ﷺ کی عداوت اور دشمنی پر خرچ کروں گی۔ اللہ نے اسی کے متعلق فرمایا کہ آج جس ہار پر وہ ناز کر رہی ہے کل قیامت کے دن یہی ہار اس کے گلے میں ایک مضبوط بٹی ہوئی رسی کی طرح ہوگا جس کو اس کی گردن میں ڈالا جائے گا یعنی اس کے ذریعہ اس کو جہنم میں گھسیٹ کر پھینکا جائے گا۔ ابولہب ایک سرمایہ پرست کنجوس آدمی تھا۔ قریش کے چار بڑے مال دار لوگوں میں اس کا شمار ہوتا تھا۔ جب غزوہ بدر ہوا تو وہ خود اس میں شریک نہیں ہوا بلکہ اس نے عاص ابن ہشام کو اپنی طرف سے لڑنے کے لئے بھیج دیا۔ اصل میں عاص ابن ہشام پر ابولہب کے چار ہزار درہم قرض تھے اور عاص دیوالیہ ہوچکا تھا۔ ابولہب نے کہا کہ اگر تم میری رف سے جا کر لڑو تو میں چار ہزار درہم معاف کر دوں گا۔ چناچہ عاص ابن ہشام ابولہب کی طرف سے لڑنے کے لئے گیا۔ غزوہ بدر میں جب کفار کے بڑے بڑے سردار مارے گئے تو ابولہب اس صدمے کو برداشت نہ کرسکا۔ غزوہ بدر کے سات دن بعد ہی وہ نہایت ذلت کے ساتھ مر گیا۔ اس کی موت بڑی عبرت ناک تھی۔ اس کو ایک ایسی بیماری لگ گئی جو انسان کے تمام اعضا کو سڑا دیتی ہے۔ اس و عربوں میں ” عدسہ “ کی بیماری کہتے تھے۔ اس کے عدسہ کی گلٹی نکلی۔ اس کے بدن سے ایسی بدبو اور سڑیند آتی تھی کہ اس کے بیٹے یہاں تک کہ اس کی بیوی بھی اس کے قریب کھڑے نہ ہو سکتے تھے۔ اس کو اس کے گھر والوں نے علیحدہ ایک کمرے میں ڈال دیا۔ تین دن تک کوئی اس کے پاس نہیں گیا۔ اس عرصے میں وہ مر گیا جب تین دن کے بعد اس کی لاش سے زبردست بدبو پیدا ہوئی تو حبشی بدوؤں کو بلا کر اس کی لاش کو اٹھویا گیا اور کسی نامعلوم صحرا میں پھینکوا دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بات کو سورة لہب میں فرمایا کہ اس کا مال، اس کی دولت اور اولاد بھی اس کے کسی کام نہ آسکی اور قیامت میں اس کو شدید عذاب دیا جائے گا۔ ابولہب اور نبی کریم ﷺ کے مکانات برابر برابر تھے۔ ابولہب اور اس کی بیوی آپ ﷺ کو اذیتیں پہنچانے کے لئے طرح طرح سے ستاتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کی دو بیٹیوں حضرت رقیہ کا نکاح عتبہ سے اور دوسرے بیٹے عتیبہ کا نکاح حضرت ام کلثوم سے ہوا تھا۔ ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ جب اس نے نبی کریم ﷺ کی شدید مخالفت کی تو آپ کو ذہنی اذیت پہنچانے کے لئے ابوجہل نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا کہ میرے لئے تم سے ملنا حرام ہے جب تک تم محمد ﷺ کی دونوں بیٹیوں کو طلاق نہ دے دو ۔ یہ سن کر عتبیہ اٹھا اور نیب کریم ﷺ کے پاس پہنچ کر نہ صرف حضرت ام کلثوم کو طلاق دی بلکہ بےانتہا غلیظ اور گندی باتیں بھی کہیں۔ اس واقعہ سے آپ ﷺ کو شدید صدمہ پہنچا اور آپ کے منہ سے نکل گیا الٰہی (اس نے آپ کے نبی کی توہین کی ہے) اس پر اپنے کتوں میں کسی کتے کو مسلط فرما دیجیے۔ چناچہ ایک مرتبہ عتیبہ شام کے سفر پر تھا کہ ایک کہ ایک بھڑیئے نے اس کو پھاڑ کھایا۔ اس کے برخلاف عتبہ نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کرلیا۔ اس طرح حضور اکرم ﷺ کی دونوں بیٹیوں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم کا یکے بعد دیگرے حضرت عثمان غنی سے نکاح ہوا اور اللہ نے آپ کو ذوالنورین کے لقب کی سعادت عطا فرمائی۔ واخرد عوانا ان الحمد للہ رب العالمین