111. Surah Al-Masad

المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 111:1

تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader

ابولہب کے دونوں ہاتھ شل ہوگئے اور وہ تباہ و برباد ہو کر رہ گیا

ابو لھب کے دونوں ہاتھ شل ہوگئے اور وہ تباہ وبرباد ہو کر رہ گیا 1 (تبت) کا اصل مادہ ت ب ت ہے اور اس کے معنوں میں گھاٹا اور تباہی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس مادہ کے چار الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں دو تو اسی سورت میں ( تب) اور ( تبت) اور ایک بار ( تباب) کا لفظ آیا ہے۔ (40 : 31) اور ایک بار لفظ (تتبیب) کا لفظ آیا ہے۔ (11 : 101) اور علاوہ ازیں اس مادہ کا لفظ قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا۔ (تبت یدا) ( دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے) اور یہ محاورہ ہے ہلاکت میں پڑنے سے۔ ( تب) وہ ہلاک ہوا۔ وہ ہمیشہ ٹوٹے یعنی گھاٹے میں رہا۔ وہ ٹوٹ پھوٹ گیا ۔ وہ تباہ و برباد ہوا۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ( لھب) مصدر ہے اس کا مادہ ل ھ ب ہے۔ (لھب) کا لفظ قرآن کریم میں تیار بار استعمال ہوا ہی ایک بار سورة المرسلات : 31 میں اور دو بار اسی سورة اللھب میں۔ اس کے معنی آگ بھڑکنے کے ہیں اور دھوئیں اور غبار کو بھی لھب کہتے ہیں۔ (راغب) اس جگہ مراد اس سے عبد العزی بن عبدالمطلب ہے۔ یہ شخص نبی اعظم و آخر ﷺ کا حقیقی چچا تھا۔ عبدالمطلب کا بیٹا تھا اور خوبصورتی میں وہ ضرب المثل تھا۔ یعنی آگ کے شعلے کی طرح اس کا چہرہ چمکتا دمکتا تھا اور اسی وجہ سے اس کی کنیت ابو لہب ہوگئی تھی۔ ( منتہیٰ الارب) امام راغب کہتے ہیں کہ اس جگہ ( ابی لھب) کہنے سے کنیت مراد نہیں ہے بلکہ اس کا دوزخی ہونا مراد ہے جس طرح جنگجو آدمی کو ہمیشہ لڑائیوں میں رہتا ہو اخوالحرب یا ابوالحرب کہتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عبدالعزیٰ کو ابولہب فرما کر اس کے دوزخی ہونے کو ظاہر کیا ہے۔ محلّی نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ شروع میں اس کے چہرہ کی چمک دمک سے اس کی کنیت ابو لہب ہوگئی تھی اور آخر میں دوزخی ہونے کی وجہ سے یہی کنیت اس کی پکی ہوگئی اور اس طرح گویا وہ اسم با مسمیّٰ ہوگیا۔ لھبت النار آگ بھڑک گئی اور بغیردھوئیں کے صاف شعلے اٹھنے لگے۔ اور اس کی خوب بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کیا جائے گا کیونکہ اس نے خوب محمد رسول اللہ ﷺ کو آگ میں جلائے رکھنے کی عملی کوشش جاری رکھی۔ آپ ﷺ جس طرف کو بھی جاتے تو یہ آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے رہتا۔ آپ ﷺ توحید کی بات بولتے تو ساتھ یہ شخص بول اٹھتا کہ : ھذا رجل مجنون۔ خیال رہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی مخالفت میں بہت سے لوگ سرگرم عمل رہے لیکن آپ ﷺ کے خاندان کے افراد میں سے جس شخص نے سب سے زیادہ مخالفت کی وہ یہی شخص تھا۔ اس کی ساری حقیقت اس سے کھولی جارہی ہے کہ جب نبی اعظم و آخر ﷺ سے اہل قریش نے بائیکاٹ کیا تو اس وقت بنی ہاشم میں سے کوئی شخص بھی باہر نہ رہا سب کے سب شعب ابی طالب میں نظر بند کیے گئے یا ہوگئے لیکن یہ شخص ابو طالب کا بھائی ہونے کے باوجود اس وقت بھی الگ رہا اور بنی ہاشم کا ساتھ اس نے نہ دیا۔ علاوہ ازیں بھی اس کی مخاصمت اور مخالفت کی بہت سی کہانیاں معروف ہیں۔ تسلیم کہ اس نے بہت مخالفت کی لیکن آپ ﷺ کے مخالفین میں سے کسی کا نام قرآن کریم میں نہیں آیا اور نہ ہی مخصوص کسی شخص کی مخالفت کو اس طرح وضاحت سے بیان کیا گیا ہے جب کہ اس سورة کے علاوہ کسی جگہ اس کی کسی بات کی طرف اشارہ بھی نہیں کیا گیا۔ ہمارے خیال میں اس کی اصل وجہ جو دل میں جمتی اور بیٹھتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس وقت بھی اور آج بھی حسب و نسب کا بہت خیال رکھتے ہیں اور سارے عیوب ہونے کے باوجود جب دیکھتے ہیں کہ اس شخص کا تعلق فلاں خاندان سے ہے اور ان خاندانوں سے جن کی سیادت و قیادت کی باتیں معروف ہوتی ہیں تو لوگ اس کو کافی حد تک برداشت کرجاتے ہیں اور ان کی بد عملیوں کی طرف خیال تک نہیں کرتے بلکہ ان کے حسب و نسب کا خیال کرکے ان کے دل کسی نہ کسی صورت پسیج جاتے ہیں اور یہ اتنا برا بُت ہے کہ اس کی پوجا تقریباً ہر دور میں رہی ہے اور آج بھی بدستور ہورہی ہے۔ جتنے گدیوں والے سجادہ نشین ہیں سب کا معاملہ اسی طرح سے چل رہا ہے اور ان کے عیب و صواب سب اسی میں پوشیدہ ہیں بہرحال اس نے مخالفت جو کی وہ تو کی لیکن بعد میں آنے والوں کا یہ بھرم کہ وہ آخر رسول اللہ ﷺ کا چچا تھا نام لے کر اس کا ذکر کرنے سے اس بُت کو پاش پاش کرنا تھا لیکن لوگوں کے عقائد کی یہ حد ہے کہ وہ قرآن کریم میں اس طرح کا ذکر پڑھ کر اور پھر اس کی حقیقت کو جان کر ، سمجھ کر پھر اس زعم باطل کے گرویدہ ہیں کہ بس حسب و نسب میں بہت کچھ رکھا ہے۔ بہر حال جہاں لوگوں کا یہ وطیرہ چلتا آرہا ہے وہاں اس کی تردید بھی ان حقائق سے ہوتی چلی آرہی ہے۔ گزشتہ نبیوں کے تذکار میں کسی نبی و رسول کے بیٹے ، کسی کے باپ اور کسی کی بیوی کا ذکرمخصوص طور پر کردیا جس کا مقصد اصل بھی یہی تھا اور آپ ﷺ کے خاندان میں سے آپ ﷺ کے ایک حقیقی چچا کا ذکر بھی اس انداز میں کردیا تاکہ اس کی مخالفت کی داستان بھی دکھائی جائے اور اس کا انجام بھی کسی سے پوشیدہ نہ رہے تاکہ بات واضح ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جس طرح گزشتہ انبیا کرام (علیہم السلام) کے حسب و نسب کا کوئی لحاظ ملحوظ خاطر نہ تھا ، محمد رسول اللہ ﷺ کے حسب و نسب کا بھی کوئی لحاظ ملحوظ خاطر نہیں ہے لیکن اس ساری تلقین کے باوجود لوگوں پر اس کا ذرا بھی اثرنہ رہا اور مفسرین قرآن کریم میں سے کسی نے اس طرف توجہ نہ دلائی۔ اس کی وجہ کیا تھی ؟ یہی کہ لوگ بپھر جائیں گے اور اس سے طرح طرح کے سوال اٹھیں گے اس لیے نہ ان باتوں کا نام لو اور نہ اس استروں کی مالا کو گلے کا ہار بنائو۔ جب ہمارے ملک میں سارا زور ہی حسب و نسب پر چل رہا ہے تو اس بحث کو زیر بحث لا کر خواہ مخواہ کی مخالفت کو اپنے سر لینے سے کیا فائدہ ؟ فرمایا ابو لھب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگیا۔ دونوں ہاتھوں کے ٹوٹنے کا استعارہ اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے ہے کہ اس نے مخالفت میں تو کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی لیکن وہ محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا کیونکہ انسان کے دو ہاتھ ہوتے ہیں اگر ایک ہاتھ ٹوٹ جاتا ہے تو وہ دوسرا استعمال کرلیتا ہے لیکن اگر وہ دونوں ٹوٹ جائیں تو اس کے پاس اب نقصان پہنچانے کا کوئی ذریعہ نہ رہا۔ لہٰذا ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جانے سے یہ مراد ہوا کہ وہ آپ ﷺ کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ وہ چاہے جتنا بھی زور لگائے لگاتا رہے لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کا بال بھی بیکا نہ کرسکے گا۔ اس طرح گویا یہ ایک پیش گوئی تھی جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو بتائی اور اس کا اعلان کردیا تاکہ وہ جتنا زور چاہتا ہے اس میں کوئی کوئی کسر اٹھا نہ رکھے اور کل کو اسے کوئی حسرت باقی نہ رہے کہ میں یہ اور یہ کام نہ کرسکا ورنہ اس کی کیا مجال تھی کہ وہ اس طرح زندہ رہتا۔ اس کے دل میں کوئی بھرم باقی نہ رہے اور پھر اس کو خوب چڑ چڑھا دی کہ وہ اس چڑ میں آکر جو کرنا چاہتا ہے کرلے۔ زمانہ جانتا ہے کہ یہ سورت ابو لھب کی موجودگی میں نبی کریم ﷺ پر اتری۔ اس وقت اس کی مخالفت پورے زوروں پر تھی اور ایک مدت تک وہ اس کے بعد زندہ رہا۔ مختصر یہ کہ سورة کا نزول زیادہ سے زیادہ نبوت کا چوتھا سال کہا جاسکتا ہے اور وہ آپ ﷺ کی ہجرت کے عرصہ بعد تک زندہ رہا اگرچہ فتح مکہ سے پہلے ہی وہ مرچکا تھا۔ بہرحال اس کی اور اس کی بیوی دونوں کی موت بھی بہت عبرتناک ہوئی جس کا ذکر آگے آئے گا۔
Ayah 111:2

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader

اس کے مال نے اس کو کچھ فائدہ نہ دیا اور نہ اس کی کمائی اس کے کام آئی

اس کے مال نے بھی اس کو کچھ فائدہ نہ دیا اور اس کی کمائی کچھ بھی کام نہ آئی 2 عبدالعزیٰ ابنِ عبدالمطلب قریش کے خاندان میں سب سے زیادہ مالدار تھا اور سودی کاروبار اس کا وطیرہ تھا۔ دولت کو خوب جمع کرنے اور گن گن کر رکھنے کا شوق جاگزیں تھا۔ اس نے ساری زندگی مال اکٹھا کرنے میں خرچ کی۔ بیت اللہ کے بیت المال کا انتظام و انصرام بھی اسی کے ہاتھ میں تھا۔ اس پر خرد برد کے الزامات بھی لگتے رہے لیکن اس نے سب کچھ برداشت کرتے ہوئے اس انتظام کو کسی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں جانے دیا اور یہ بات آج سے نہیں شروع سے چلتی آرہی ہے کہ ” جس کے ہاتھ میں ڈوئی اس کا سب کوئی “ اسی اصول کے تحت آج بھی جتنے و ڈیرے ہیں سب کی سیاست اس سکول کی ہے جیسے کیسے اپنے علاقہ میں کوئی نہ کوئی کام ہمارے ذمہ ایسا ضرور ہوناچاہئے جس سے ہمارے ہاتھ رنگے رہیں اور دوسرے ہمارے محتاج رہیں۔ اگر اس کی مثالیں آج کے ماحول میں دیکھناچاہتے ہو تو عشرو زکوٰۃ کموٹیوں سے شروع ہوجائو اور بی ٹی کے کونسل کے نظام سے لیکر ضلع کونسل تک اور پھر ضلعی نظام تک سب جگہ یہی چل رہا ہے۔ ان خاندانوں کا شروع سے یہ وطیرہ چلتا آرہا ہے کہ گھر کے جتنے افراد ہیں سب کے سب اسی طرح حلال و حرام کو اکٹھا کرنے کی دھن میں لگے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کی مخالفت بھی کریں گے تاکہ بظاہر معلوم ہو کہ اس خاندان میں بڑی لے دے چل رہی ہے اور اس میں کوئی بھی لے دے نہیں صرف ایک حالات کا پردہ ہے جو ان لوگوں نے دوسروں کی آنکھوں پر ڈال رکھا ہے اور کھانے پینے کو یہ سارے بہادر ہیں۔ یہ سب کے سب ابو لہب ہی کی سنت پر عمل کرتے چلے آرہے ہیں کیونکہ یہ بھی اسی سادات خاندانوں کا ایک وڈیرا تھا۔ وہ قریش مکہ کے ان چار مالداروں میں سے ایک تھا جن کے مال کی داستانیں زبان زد خاص و عام ہیں اور وڈیروں والی ساری خصوصیات بھی اس میں پائی جاتی تھیں۔ مال کھا جانے کے الزامات اس پر لگائے گئے لیکن وہ اکثر ڈکار مار جاتا تھا اور جب کبھی مال اس کو نہ بچ سکا تو اس نے کسی دوسرے غریب کے ذمہ لگا کر وہ مال واپس کردیا جیسا کہ آج کے وڈیروں کی خصلت میں یہ بات ہے۔ وہ ایک قتطار سونے کا مالک تھا۔ بدر میں قریش کے سب سردار حاضر ہوئے تھے لیکن وہ نہیں گیا بلکہ اپنی جگہ عاص بن ہشام کو بھیجا جس نے اس کا چار ہزار درہم قرض دینا تھا اور اس قرض کے عوض اس نے اس کو روانہ کیا۔ اس طرح اس نے اپنا قرض وصول کرنے کی ایک ترکیب نکال لی کیونکہ عاص اس وقت دیوالیہ ہوچکا تھا لیکن مشیت ایزدی میں جو کچھ اس کے لیے طے تھا اسے مل کر رہا اور مال و دولت اس کو اس ذلت و رسوالی سے بچا نہ سکی اور یہی حال آج بھی ان کنجوس مکھی چوس لوگوں کا ہوتا ہے۔ قدرت کی نیرنگیاں اپنا ہاتھ دکھائے بغیر کسی کو نہیں چھوڑتیں۔ روایات میں آتا ہے کہ اس کی موت بھی بہت عبرتناک ہوئی کہ چار دن اس کی نعش گلتی سڑتی رہی لیکن وہ وارثوں سے دفن نہ ہوسکا اور آخر کار معقول مال دے کر اس کے ورثا نے اس کی نعش اٹھوائی اور بستی سے دور گڑھے میں ڈال کر اوپر مٹی ڈال دی گئی کہ وہ عدسہ کے مرض میں مبتلا ہو کر مرا جس کو متعدی بیماری خیال کیا جاتا تھا اور اچھوت کی وجہ سے اس کی میت کے قریب جانا ورثا کے لیے مشکل ہوگیا اور اس طرح قرآن کریم یہ پیش گوئی بھی اس پر صادق آئی کہ اتنا مالدار ہونے کے باوجود مال اس کے کچھ بھی کام نہ آیا۔ ( ما کسب) سے بعض مفسرین نے اس کی اولاد ہی مراد لی ہے کیونکہ اولاد بھی انسان کے کسب ہی میں سے ہے اور اس سے مطلب یہی لیا گیا ہے کہ اس کو مرنا تھا مر گیا لیکن مرتے وقت نہ تو اس کی اولاد اس کے کچھ کام آئی کیونکہ وہ کسی اعزازو عزت کے ساتھ اس کو دفن بھی نہ کرسکی اور اس کے مال نے بھی اس سے کچھ کفایت نہ کی اور اس طرح جو پیش گوئی اللہ کے رسول ﷺ نے فرمائی تھی وہ من و عن پوری ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ مال و اولاد دو چیزیں دنیا کی عزت و تکریم کا کام دیتی ہیں۔ آخرت میں تو یہ دونوں پہلے بھی کام آنے والی چیزیں نہیں لیکن ابو لہب کا مال دنیا میں بھی اس کے کام کچھ نہ آیا اور اولاد بھی کچھ کام نہ آئی اور یہ دونوں چیزیں اکثر و بیشتر انسان کی قبر تک اس کے ساتھ جاتی ہیں لیکن بعض ایسے بد بخت بھی ہوتے ہیں جن کے کام یہ دونوں چیزیں بھی نہیں آتیں یہی حال اس کا ہوا نہ اس کا مال اس کے کچھ کام آسکا اور نہ اولاد اس کو کسی اعزاز کے ساتھ قبر تک پہنچا سکتی اور اس طرح دونوں چیزیں یعنی دولت اور اولاد دنیا میں بھی اس کے کچھ کام نہ آئیں حالانکہ اکثر یہ دونوں چیزیں انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہیں اور اس دنیا سے وہ اعزاز کے ساتھ رخصت ہوتا ہے لیکن وہ بدبخت ان لوگوں میں سے ایک ہے جن کا مال اور جن کی اولاد دنیا میں بھی ان کے کچھ کام نہیں آتے اور وہ باوجود صاحب مال اور صاحب اولاد ہونے کے ذلت کی موت مرتے ہیں۔ انہیں میں سے ایک شخصیت ابو لہب کی بھی ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا کہ وہ صاحب مال اور صاحب اولاد تو تھا لیکن یہ دونوں چیزیں دنیا میں بھی اس کے کچھ کام نہ آئیں جبکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہ چیزیں قبر کی مٹی تک انسان کو فائدہ پہنچاتی رہتی ہیں اور آخرت میں پہلے ہی اعمال کا معاملہ ہے اس دنیا کی عزت و تکریم اور مال و دولت کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
Ayah 111:3

سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader

وہ عنقریب اسی آگ میں داخل ہوگا جو شعلے مارنے والی ہو گی

وہ عنقریب اس آگ میں داخل ہوگا جو شعلہ مارنے والی ہوگی 3 یہ اس پیش گوئی کا ایک حصہ ہے جو ابو لہب کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی زندگی ہی میں بیان کردی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ سے ابو لہب کی زندگی ہی میں اس کے بارے میں اعلان کروا دیا تھا اور وہی کچھ ہوا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق بیان کرنے کا حکم دیا کہ دنیا میں بھی اس کی اولاد اس کے کام نہ آئی اور اس کے مال نے بھی اس سے کفایت نہ کیا اور وہ انسانوں کی موت نہیں بلکہ ایک کتے کی موت مرا کہ کسی اعزازو اکرام کے ساتھ نہیں بلکہ نہایت بری حالت میں ایک گڑھا کھود کر کرائے کے چند حبشی غلاموں نے اسے لکڑیوں سے ٹھوکریں دے کر گڑھے میں پھینکا اور اوپر مٹی ڈال دی اور اس طرح اس کی موت اتنی عبرتناک ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا ہی میں ذلیل و خوار کردیا اور آخر میں جو اس کو سزا ملنے والی ہے وہ تو ابدی سزا ہے۔ اس طرح اس میں ہماری زندگی کے لیے ایک بہت بڑا سبق بیان کردیا گیا کہ اگر اس کو یاد رکھاجائے تو دین و دنیا میں بہتوں کا فائدہ ہو اور وہ سبق یہ ہے کہ انسان کو آخرت میں کسی سے تعلق خواہ وہ قرابت داری کا ہو یا دنیاوی یا ری دوستی کا کسی مکتب فکر اور پارٹی کا انسان کو نقصان تو پہنچا سکتا ہے لیکن نفع نہیں دے سکتا۔ نقصان کیسے پہنچا سکتا ہے ؟ اس طرح دنیا کی زندگی میں انسان اس تعلق کی بنا پر اکڑتا اور اترتا رہے اور آخرت کے لیے کوئی تیاری نہ کرے جیسا کہ آج کل کے سید و سادات خاندان کے لوگ کر رہے ہیں کہ وہ اس تکبر اور نخوت میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ ہم اس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ اس خاندان کات علق بد عملوں کو نقصان تو دے سکتا ہے لیکن فائدہ نہیں دے سکتا۔ یہی بات زیر نظر آیت میں خاص کر بتائی گئی ہے کہ ابو لہب عبدالمطلب کا حقیقی بیٹا اور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کا حقیقی چچا تھا لیکن اس کے لیے جس طرح اس کا مال و دولت ، اولاد اور خاندان نے اس کو کچھ فائدہ نہ دیا اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ سے اتنی گہری رشتہ داری بھی کچھ کام نہ آئی اس لیے کہ آخرت میں یہ چیزیں کچھ کام آنے والی ہی نہیں جب کہ اپنے اعمال صالح نہ ہوں۔ لیکن ابو لہب کی بد قسمتی کا یہ عالم ہے کہ اس کا مال و دولت اور اولاد خاندان سب کے سب اس کو دنیا میں چھوڑ گئے سب نے دیکھ لیا اور یہ اتنی بڑی عبرت ہے کہ اگر انسان یاد رکھے تو اس کی زندگی کیلئے یہ اتنابڑا وعظ ہے کہ اس کو کسی دوسرے وعظ کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس کا عبرتناک انجام ہی اس کے لیے کافی ہے جو سارے وعظوں سے بڑا وعظ ہے۔ یہ بات کس قدر واضح ہوجاتی ہے کہ جو شخص کسی بھی نبی و رسول کی مخالفت کرے خواہ وہ تعلق کی بنا پر کتناہی قریبی کیوں نہ ہو لیکن عند اللہ کسی کا حسب و نسب کے لحاظ سے قریب ہونا کسی کے کام نہیں آسکتا خواہ وہ کون ہو ، کہاں ہو اور کیسا ہو ؟
Ayah 111:4

وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader

اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھا کر لاتی ہے (آگ میں پڑے گی)

اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھا کر لائی ہے آگ میں پڑے گی 4 ابولہب جب نبی اعظم و آخر ﷺ کا حقیقی چچا تھا تو اس کی بیوی کا تعلق بھی آپ ﷺ سے دوہرا تھا ایک چچی ہونے کا جو دنیا کے لحاظ سے بہت بڑا تعلق ہے اور دوسراتعلق قریش خاندان کا تھا کہ وہ ابو سفیان کی حقیقی بہن تھی اور ابو سفیان قریش کے سرداروں میں سے ایک سردار ہے اور پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کا سسر بھی ہے جو دنیا کے لحاظ سے ایک بہت بڑا تعلق سمجھا جاتا ہے۔ ابو لہب کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی ساس ہوتی ہے ۔ اس کا نام ” ارویٰ “ اور اس کو ” اروہ “ بھی تحریر کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کی کنیت اُمِ جمیل تھی۔ تعجب ہے کہ اس کے دل میں بھی نبی اعظم و آخر ﷺ کی عداوت و دشمنی کوٹ کوٹ کر بھری گئی تھی۔ گویا اس حالت میں وہ اپنے خاوند سے یا اس کا خاوند اس سے پیچھے نہ تھے بلکہ دونوں ایک دوسرے پر اس معاملہ میں سبقت رکھتے تھے۔ وہ ایسی کمبخت تھی کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی حقیقی چچی ہونے کے علاوہ آپ ﷺ کی ہمسائی بھی تھی اور آپ ﷺ کی نقل و حرکت سے وہ اچھی طرح واقف تھی۔ جس راستہ سے آپ ﷺ منہ اندھیر نکلنے کے عادی تھی اس راستے میں وہ کانٹے بکھیرتی رہتی تھی۔ گویا آپ ﷺ کو تکلیف دینے کا یہ ایک خاص مشغلہ اس نے سنبھال رکھا تھا اور وہ اس سے باز نہیں آتی تھی کیونکہ آپ ﷺ کی عادت مبارکہ میں یہ بات داخل تھی کہ رات کے اندھیرے میں تن تنہا نکل کر حرم کو جاتے تھے اور وہاں جا کر نماز میں مشغول ہوتے تھے۔ جب یہ سورة نازل ہوئی اس پر کیا گزری ہوگی اور اس نے آپ ﷺ کو دکھ دینے میں کتنا اضافہ کردیا ہوگا اس کا تصور کرنے سے آج بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس کے لیے ( حمالۃ الحطب) کا خاص خطاب دیا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ مفسرین نے اس کی مختلف وجہیں نقل کی ہیں ان میں سے دو کا مختصر ذکر کردینا ہم مناسب خیال کرتے ہیں : (1) حطب ایندھن کو کہتے ہیں یعنی جلانے کی لکڑیوں کو اور ( حمالۃ) کے معنی ہیں اٹھانے والی۔ ان الفاظ سے اس کا یہ معمول بیان کیا گیا ہے جس پر وہ عمل پیرا تھی کہ اتنے مالدار گھرانے کی عورت ہو کر جنگل سے ایندھن کا گٹھا باندھ کر خود لاتی تھی تاکہ ایندھن کی رقم بھی بچے اور ایندھن اٹھا کر لانے کی مزدوری بھی۔ (2) یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص لوگوں کے درمیان چغل خوری کرے اس کے بارے میں کہتے ہیں : فلاں یحطب علی فلاں اذا وزش علیہ جب کوئی شخص لوگوں کے درمیان چغلیاں کھائے اور مخالفت کی آگ کو بھڑکائے اس کے لیے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور ایسے شخص کی حدیث میں بہت مذمت کی گئی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : ( لا یدخل الجنۃ نمام) کوئی چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ لغت میں ہے کہ ( حمالۃ) خوب اٹھانے والی حمل سے بروزن فعالۃ مبالغہ کا صیغہ ( حمالۃ الحطب) ایندھن سر پر لیے پھرنے والی یہ ابو لہب کی بیوی کی صفت ہے جس کا نام ارویٰ بنت حرب تھا۔ کنیت اس کی اُمِ جمیل تھی اور لقب اس کا عوراء تھا کیونکہ وہ بھینگی تھی۔ اپنے شوہر ابو لہب کی طرح رسول اللہ ﷺ سے اس کو بھی بہت بیر تھا اور اس کے اندر عداوت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ حاکم نے بسند ثقات حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ جب نبی کریم ﷺ پر چند روز تک وحی نازل نہ ہوئی تو وہ کہنے لگی کہ اے محمد ﷺ کیا تیرا شیطان تجھے چھوڑ گا اور اسی وقت سورة والضحیٰ نازل ہوئی۔ ( فتح الباری ج 2 ص 7 طبع مصر) ایندھن سر پر لیے پھرنے کو بعض نے حقیقت پر محمول کیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ سخت چینی سے استعارہ ہے چونکہ وہ چغل خوری کے سبب قبیلہ میں لڑائی کی آگ بھڑکاتی تھی اس لیے قرآن کریم میں اس کو (حمالۃ الحطب) کہا گیا ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے۔
Ayah 111:5

فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader

اور اس کی گردن میں کھجور کی بٹی ہوئی سخت رسّی ہو گی

اس کی گردن میں کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسّی ہوگی 5 ( جیدھا) اس کی گردن ۔ جید کے معنی گردن کے ہیں۔ جیود اور اجیاد جمع ہے اور ھا ضمیر واحد مونث غائب ، مضاف الیہ۔ اس مادہ کا لفظ فقط اس جگہ ایک ہی بار قرآن کریم میں آیا ہے علاوہ ازیں اس کا استعمال نہیں ہوا۔ ( حبل) رسّی مسد اسم ہے درخت کھجور کی شاخوں کی چھال سے نکالے ہوئے ریشے وغیرہ کی رسّی بٹنا۔ تکلیف میں ڈالنا امرأۃ مسودۃ رسّی کے بلوں کی طرح اینٹھی ہوئی عورت۔ (راغب) ہر وقت غصے میں رہنے والی۔ منہ سے نقلیں اتارنے والی۔ یہ دراصل اس پیش گوئی کا ایک حصہ ہے جو ابو لہب کے متعلق آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قبل از وقت ارشاد فرمادی کہ ابولہب کا ہلاک ہونا ضروری ہے اور اس ہلاکت سے اس کو اس کا مال بھی کفایت نہیں کرے گا اور ابو لہب کی بیوی اُمِ جمیل بنت حرب کی اکڑی ہوئی گردن جو زیوروں سے لدی رہتی ہے اس کی جگہ اس کے گلے میں مونج کی بٹی ہوئی رسّی پڑے گی اور وہی اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوگی اور اس کا طریقہ بھی واضح کردیا اور پھر جو کچھ قرآن کریم میں کہا گیا ہے وہ من و عن پورا ہوا کوئی مائی کا لال اس کو روک نہ سکا۔ یہ اور اسی طرح کی دوسری سورتیں جو ایک مومن نماز میں پڑھتا ہے یا ایک امام جب مقتدیوں کو پڑھ کر سناتا ہے اور امام و مقتدی ان کے معانی و مفہوم کو نہ سمجھتے ہوں تو کیا ساری زندگی ان کو اس طرح پڑھتے رہیں اور کبھی بھی امام اور مقتدی غور نہ کریں کہ ان کے پڑھنے کا مطلب کیا ہے ؟ سو یاد رکھناچاہئے کہ امام ان چھوٹی چھوٹی سورتوں کا معمول بنائے اور مقتدی بھی ان سورتوں کو اپنی نمازوں میں پڑھیں جن کے معنی اور مفہوم کو سمجھ چکے ہوں اور ایک ایک دو دو آیت کا مفہوم و معنی سمجھنے کی ضرور کوشش کریں تاکہ وہ ایک دو ماہ میں اس قابل ہوجائیں کہ وہ چند سورتوں کو اپنی اپنی انفرادی نمازوں میں انتخاب کرکے پڑھ سکیں یا امام پڑھے تو ان کو معلوم ہو کہ امام کیا کہہ رہا ہے۔ زیر نظر سورت ہی کو لے لیجئے کہ نہ تو اس میں کوئی آیت دعا کی ہے اور نہ مغفرت کی پھر اس میں وہ کیا بات ہے جس کے پیش نظر ہمیں اس کے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وہ یہ خیال کرنا ہے کہ اس سورت میں ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے ایک حقیقی چچا کا ذکر کیا گیا ہے جس نے باوجود محمد رسول اللہ ﷺ کا حقیقی چچا ہونے کے مخالفت کی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرنے والے ایک حقیقی چچا کو بھی معاف نہ کیا۔ لہٰذا : (1) اگر ہم رسول اللہ ﷺ کے احکام کو نہیں مانیں گے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے احکامات کی عملی مخالفت کریں گے اور پھر ساری زندگی ایسا ہی کرتے رہیں گے تو کیا ہماری مغفرت کی کوئی صورت بنے گی ؟ (2) یہ کہ حسب و نسب کے لحاظ سے انسان خواہ کتنے ہی اعلیٰ سے اعلیٰ نسب سے تعلق رکھنے والا ہو اگر اس کے اپنے اعمال اچھے نہ ہوئے تو محض حسب و نسب کے لحاظ سے اس کی کوئی رو رعایت نہیں ہوگی بلکہ وہ دوہرے عذاب کا مستحق قرار پائے گا۔ (3) ابو لہب ایک کردار ہے اور جو شخص بھی اس کردار کا ہوگا وہ اس سزا کا مستحق ہوگا اس لیے ہم کو اپنا تجزیہ کرتے رہناچاہئے کہ کوئی خصلت ہم میں تو ایسی نہیں پائی جاتی اور اس طرح اپنے ماحول کے ابو لہبوں کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ ان سے اس طرح کی نفرت رکھی جاسکے جس طرح کی نفرت ابو لہب سے ہم کو ہے۔ (4) اسی طرح یہ خیال بھی ہم کو کرنا چاہئے کہ قرآن کریم جو مردوں کے لیے پڑھا اور پڑھوایا جاتا ہے اس میں اس طرح کی سورتیں اور سورتوں کے مضامین آخر مردوں کو کیا فائدہ دیں گے جب کہ ان میں بیان کیا گیا مضمون محض زندوں سے متعلق ہے کہ وہ ایسے مضامین کو سن کر اپنی اصلاح کرسکیں اور اپنے کردار کو درست کرسکیں۔ (5) اگر کوئی شخص ہم میں سے اس کردار کا ہو جس کردار کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے اور وہ خود قرآن کریم کو پڑھتا رہے اور اس کردار پر قائم رہے تو اس کو قرآن کریم کی اس طرح تلاوت سے اجرو ثواب ہوگا اس کو اس کے عوض عذاب دیا جانا ضروری ہے کیونکہ اس نے جانتے بوجھتے ہوئے اس کردار کو ترک کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ وہ اس پر قائم ودائم ہے۔ اسی طرح ان ساری باتوں کا خیال کرنا قرآن کریم کے ایک قاری کے لیے اشد ضروری ہے اور اسی پر ہم اس سورة کی تفسیر ختم کر رہے ہیں۔ استغفر اللہ ، استغفر اللہ ، استغفر اللہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔