Explained with ayahs 1–5
تفسیر سورة تبت
بدترین اور بدنصیب میاں بیوی :٭٭ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ بطحا میں جا کر ایک پہاڑی پر چڑھ گئے اور اونچی آواز سے یاصباحاہ یاصباحاہ کہنے لگے قریش سب جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا اگر میں تم سے کہوں کہ صبح یا شام دشمن تم پر چھاپہ مارنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمھو گے ؟ سب نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا سنو میں تمہیں اللہ کے سخت عذاب کے آنے کی خبر دے رہا ہوں تو ابو لہب کہنے لگا تجھے ہلاکت ہو، کیا اسی لئے تو نے ہمیں جمع کیا تھا ؟ اس پر یہ سورت اتری (بخاری) دوسری روایت میں ہے کہ یہ ہاتھ جھاڑتا ہوا یوں کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ تبت بددعا ہے اور تب خبر ہے، یہ ابو لہب آنحضرت ﷺ…
Read the full tafseer →سورة اللھب 3
اس عورت کا نام ارویٰ تھا اور ام جمیل اس کی کنیت تھی۔ یہ ابو سفیان کی بہن تھی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عداوت میں اپنے شوہر ابولہب سے کسی طرح کم نہ تھی۔ حضرت ابوبکر کی صاحبزادی حضرت اسماء کا بیان ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی اور ام جمیل نے اس کو سنا تو وہ بپھری ہوئی رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلی۔ اس کے ہاتھ میں مٹھی بھر پتھر تھے اور وہ حضور کی ہجو میں اپنے ہی کچھ اشعار پڑھتی جاتی تھی۔ حرم میں پہنچی تو وہاں حضرت ابوبکر کے ساتھ حضور تشریف فرما تھے۔ حضرت ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ، یہ آرہی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو دیکھ کر یہ کوئی بیہودگی کرے گی۔ حضور نے فرمایا یہ مجھ کو نہیں…
Read the full tafseer →امر اتہ حما لة الحطب، جس طرح ابولہب کو رسول ﷺ سے سخت غیظ اور دشمنی تھی اس کی بیوی بھی اس دشمنی اور رسول اللہ ﷺ کی ایذارسانی میں اس کی مدد کرتی تھی۔ قرآن کریم کی اس آیت نے بتلایا کہ یہ بدبخت بھی اپنے شوہر کے ساتھ جہنم کی آگ میں جائے گی اس کے ساتھ اس کا ایک حال یہ بتلایا کہ وہ حمالة الحطب ہے۔ جس کے لفظی معنے ہیں سوختہ کی لکڑیاں لادنے والی۔ یعنی آگ لگانیوالی، عرب کے محاورات میں چغل خوری کرنے والے کو حمال الحطب کہا جاتا تھا کہ جیسے کوئی سوختہ کی لکڑیاں جمع کر کے آگ لگانے کا سامان کرتا ہے چغل خوری کا عمل بھی ایسا ہی ہے کہ وہ اپنی چغل خوری کے ذریعہ افراد اور خاندانوں میں آگ بھڑکا دیتا ہے یہ عورت…
Read the full tafseer →فرمایا کہ اس کی بیوی بھی ایندھن ڈھوتی ہوئی اس کے ساتھ جہنم میں پڑے گی۔ عذاب میں اس کی بیوی کی یہ شرکت اسی صورت میں مطابق عدل ہے جب وہ بھی اس کے ان جرائم میں شریک رہی ہو جو اس کو جہنم میں لے جانے والے بنے۔ آدمی کے بیوی بچے بسا اوقات اس کے لیے ایسے جرائم کا سبب بن جاتے ہیں جو اس کی تباہی کا بھی سبب بنتے ہیں اور بیوی بچوں کی بھی۔ اسی بنا پر قرآن میں اہل ایمان کو خبردار کیا گیا ہے کہ
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَّکُمْ فَاحْذَرُوْھُمْ.(التغابن ۶۴: ۱۴)
(اے ایمان والو، تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں بعض تمہارے دشمن بھی ہیں تو ان سے بچ کے…
Read the full tafseer →4۔ 1 یعنی جہنم میں یہ اپنے خاوند کی آگ پر لکڑیاں لا لا کر ڈالے گی، تاکہ مزید آگ بھڑکے۔ یہ اللہ کی طرف سے ہوگا۔ یعنی جس طرح یہ دنیا میں اپنے خاوند کی، اس کے کفر وعناد میں مددگار تھی آخرت میں بھی عذاب میں اس کی مددگار ہوگی۔ (ابن کثیر) بعض کہتے ہیں کہ وہ کانٹے دار جھاڑیاں ڈھو ڈھو کر لاتی اور نبی کریم کے راستے میں لا کر بچھا دیتی تھی۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اس کی چغل خوری کی عادت کی طرف اشارہ ہے۔ چغل خوری کے لیے یہ عربی محاورہ ہے۔ یہ کفار قریش کے پاس جا کر نبی ﷺ کی غیبت کرتی اور انہیں آپ ﷺ کی عداوت پر اکساتی تھی۔ (فتح الباری)
Read the full tafseer →3: ابو لہب کی بیوی ام جمیل کہلاتی تھی، اور وہ بھی حضور اقدس ﷺ کی دشمنی میں اپنے شوہر کے ساتھ برابر کی شریک تھی، بعض روایتوں میں ہے کہ وہ رات کے وقت آپ ﷺ کے راستے میں کانٹے دار لکڑیاں بچھا دیا کرتی تھیں، اور آپ کو طرح طرح ستایا کرتی تھی۔
4: اس کا مطلب بعض مفسرین نے تو یہ بتایا ہے کہ وہ اگرچہ ایک باعزت گھرانے کی عورت تھی، لیکن اپنی کنجوسی کی وجہ سے ایندھن کی لکڑیاں خود ڈھو کر لاتی تھی، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کے راستے میں جو کانٹے دار لکڑیاں بچھاتی تھی، اس کی طرف اشارہ ہے۔ ان دونوں صورتوں میں لکڑیاں ڈھونے کی یہ صفت دنیا ہی سے متعلق ہے۔ اور بعض مفسرین نے یہ فرمایا ہے کہ یہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہ سورت اللہ کی طرف سے اس لئے نازل ہوئی کہ ابولہب اور اسکی بیوی کی طرف سے برپا کی ہوئی جنگ میں حضور ﷺ کی حمایت کی جائے۔ گویا یہ معرکہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
تبت یدا ........................ وتب (1:111) ” ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہوگیا وہ “۔ تبت تباب سے مشتق ہے جس کے معنی ہلاکت ، تباہی انقطاع کے ہیں۔ یہاں تبت کے معنی ہیں بددعا کے اور دوسرے تب کے معنی ہیں کہ وہ ہلاک ہوگیا تباہ ہوگیا اور اس کا سلسلہ کٹ گیا۔ یہ خبر ہے وقوع بددعا کی۔ سورت کے آغاز ہی میں اس مختصر آیت میں بددعا اور اس کی تکمیل کا مکمل منظر ہے ۔ گویا معرکہ ختم ہوجاتا ہے اور پردہ گر جاتا ہے۔
اس کے بعد آنے والی دوسری…
Read the full tafseer →4 ابولہب کی عورت ام جمیل باوجود مالدار ہونے کے سخت بخل اور خست کی بناء پر خود جنگل سے لکڑیاں چن کر لاتی، اور کانٹے حضرت کی راہ میں ڈال دیتی تاکہ حضور ﷺ کو اور آنے والوں کو تکلیف پہنچے۔ فرماتے ہیں کہ وہ جس طرح یہاں حق کی دشمنی اور پیغمبر خدا کی ایذاء رسانی میں اپنے شوہر کی مددگار ہے۔ دوزخ میں بھی اسی ہئیت سے اس کے ہمراہ رہے گی۔ شاید وہاں زقوم اور صریع کی (جو جہنم کے خاردار درخت ہیں) لکڑیاں اٹھائے پھرے۔ اور ان کے ذریعہ سے اپنے شوہر پر عذاب الہٰی کی آگ کو تیز کرتی رہے۔ کما قال ابن اثیر۔ (تنبیہ) بعض نے " حمالۃ الحطب " کے معنی چغل خور کے لئے ہیں۔ اور محاورات عرب میں یہ لفظ اس معنی میں مستعمل ہوتا…
Read the full tafseer →آیت 4{ وَّامْرَاَتُہٗ } ”اور اس کی بیوی کو بھی۔“
اس کی بیوی بھی حضور ﷺ کی دشمنی میں ہمیشہ پیش پیش رہتی تھی۔ اس کا نام اَروَہ اور کنیت اُمّ جمیل تھی اور اس کے دل میں حضور ﷺ کی عداوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ حضور ﷺ کی دشمنی کے اعتبار سے ان دونوں کے بارے میں جو تفصیلات ملتی ہیں ان سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ میاں بیوی میں سے کون حضور ﷺ کا بڑا دشمن تھا۔
قبل ازیں سورة التحریم کے آخری رکوع میں ہم خواتین کے کردار کی تین مثالوں کا مطالعہ کرچکے ہیں۔ پہلی مثال میں حضرت لوط اور حضرت نوح - کی کافر بیویوں کا ذکر ہے۔ یہ بہترین شوہروں کے گھروں میں بدترین بیویوں کی مثال ہے۔ پھر فرعون کی بیوی آسیہ…
Read the full tafseer →4 ابو لہب کی بیوی کا تعارف :۔ ابو لہب کی بیوی کا نام آرویٰ اور کنیت ام جمیل تھی۔ ابو سفیان بن حرب بن امیہ کی بہن تھی۔ جو ابو جہل کی موت کے بعد رئیس قریش اور سپہ سالار افواج بنا تھا۔ رسول دشمنی میں یہ عورت بھی اپنے خاوند سے کسی صورت کم نہ تھی۔ جنگل سے خار دار جھاڑ جھنکار اٹھا لاتی اور رات کے اندھیرے میں آپ ﷺ کے گھر کے آگے ڈال دیتی تاکہ جب آپ صبح بیت اللہ کو جائیں تو آپ ﷺ کے پاؤں میں کانٹے چبھ جائیں۔ نیز آپ کے بال بچے بھی زخمی ہوں۔ خاصی بدزبان اور مفسدہ پرداز عورت تھی۔ جب سورة لہب نازل ہوئی تو یہ مٹھی بھر کنکریاں لے کر بیت اللہ کو چل کھڑی ہوئی۔ تاکہ آپ ﷺ کو ہجو کی صورت میں سورة لہب کا جواب دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ یعنی ام جمیل بنت حرب ہمیشرۂ ابوسفیان۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے مشن سے مخالفت اس کی بھی حد غلو تک پہنچی ہوئی تھی، اس وعید کے لئے ہے۔ یعنی یہ انجام ہونا بالکل یقینی ہے، والسین للوعید اے ھو کائن لامحالۃ وان تراخی وقتہ (کشاف) والسین للوعید (روح) (آیت) ” نارا “۔ صیغہ نکرہ کا آنا آگ کی بڑائی اور سختی کے اظہار کے لئے ہے۔ والتنوین للتعظیم اے نارا عظیمۃ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وامراتہ حمالۃ الحطب جس طرح ابولہب کو آپ ﷺ سے سخت غیظ و غضب اور دشمنی تھی اس کی بیوی بھی اس شمع میں اس کی مدد کرتی تھی، اس کا نام ارویٰ تھا اور ام جمیل اس کی کنیت تھی، یہ ابوسفیان بن حرب کی بہن تھی، حضرت ابوبکر ؓ کی صاحبزادی حضرت اسماء ؓ کا بیان ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی اور ام جمیل نے اس کو سنا تو غصہ میں بھری ہوئی رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلی، اس کے ہاتھ میں پتھر تھے اور وہ حضور ﷺ کی ہجو میں اپنے ہی کچھ اشعار پڑھتی جا رہی تھی، جب حرم میں پہنچی تو وہاں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ حضور تشریف فرما تھے حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ آرہی ہے اور مجیھ اندیشہ ہے کہ آپ ﷺ کو دیکھ کر کوئی…
Read the full tafseer →وامراتہ . اور اسکی بھی۔ سیصلٰی کی ضمیر فاعل پر اس کا عطف ہے اور فصل کلام کی وجہ سے ایسا ہونا جائز ہے ‘ یا
مبتداء ہے اور آئندہ کلام یعنی فی جیدھا ...... اس کی خبر ہے۔ ابولہب کی بیوی امّ جمیل بنت حرب بن امیّہ یعنی ابوسفیان کی بہن تھی۔
حمالۃ الحطب . اظہار مذمت کی خصوصیت کے لیے حمالۃ الحطب کو نصب کے ساتھ لایا گیا۔ ابن
اسحق نے خاندان ہمدان کے ایک شخص کا قول نقل کیا ہے۔ اس شخص کا نام یزید تھا کہ ابولہب کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے راستہ میں کانٹے اور جھانکڑ ڈال دیتی تھی تاکہ آپ ﷺ زخمی ہوجائیں۔ اسی لیے یہ لفظ نازل ہوا۔ ضحاک کا بھی یہی قول مروی ہے۔ ابن المنذر نے اس قول کو عکرمہ کی طرف بھی منسوب کیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
(2۔ 5) یہ دنیاوی مال و اولاد آخرت میں اس کے کچھ کام نہیں آیا اور وہ آخرت میں دہکتی ہوئی آگ میں ڈالا جائے گا اور اس کی بیوی ام جمیلہ بنت حارث بھی جو مسلمانوں اور کافروں میں چغلیاں لگایا کرتی تھیں یا یہ کہ جو خار دار لکڑیاں لا کر حضور کے اور مسلمانوں کے راستہ میں ڈال دیا کرتی تھی۔
دوزخ میں پہنچ کر اس کی گردن میں لوہے کی زنجیریں ہوں گی یا یہ کہ اس کی گردن میں ایک بل دی ہوئی رسی تھی جس سے گلا گھٹ کر وہ مرگئی۔
شان نزول : سورة اللہب
امام بخاری نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر آواز دی چناچہ آپ کے پاس قریش جمع ہوگئے آپ نے فرمایا کہ اگر میں تم سے یہ کہوں کہ دشمن صبح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(1) سیصلی ناراً ذات لھب …:”امراتہ“ کا عطف ”سیصلی“ ابو لہب کی طرف لوٹنے والی ضمیر پر ہے، یعنی وہ اور اس کی بیوی شعلے مارتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ ابولہب کی بیوی ام جمیل کا نام ارویٰ بنت حرب بن امیہ تھا، یہ قریش میں اونچے نسب والی عورت تھی، ابوسفیان بن حرب ؓ کی بہن اور معاویہ ؓ کی پھوپھی تھی اور اپنے خاوند کی طرح رسول اللہ ﷺ سے سخت عداوت رکھتی تھی۔ (ابن کثیر)
(2) ”حمالۃ الخطب“”امراتہ“ سے حال ہے، یعنی اس کی بیوی ایندھن اٹھائے ہوئے آگ میں داخل ہوگی۔ مفسرین نے اس کے تین معانی بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ وہ گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے جہنم میں داخل ہوگی، جو جہنم کو بھڑکانے کے لئے ایندھن ہے، دوسرا…
Read the full tafseer →وامراتہ حما لۃ الحطب۔
اور اس کی جورو بھی بدبخت ایندھن اٹھانے والی۔
وامرتہ سے مراد ام جمیل ہے۔ ابن عربی نے کہا : وہ کانی ام قبیح ہے وہ کانی تھی۔ حمالۃ الحطب۔ حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور سدی نے کہا : وہ لوگوں کے درمیان چغل خوری کیا کرتی تھی۔
یہ جملہ بولا جاتا ہے اعتامہ واعتماہ یعنی اسے پسند کرلیا، چن لیا۔ فاحش کا معنی بخیل ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ویامرکم بالفحشاء (البقرہ) وہ تمہیں بخل کا حکم دیتا ہے۔ ابن زید نے کہا : اللہ تعلای نے مال کو خیر کہا ہے ممکن ہے وہ شر اور حرام ہو لیکن لوگ اسے خیر کہتے ہیں اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے خیر کہا ہے اور جہاد کو سوء قرار دیا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت تبت یدا ابی لہب مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ نے دونوں سے اسی طرح روایت کیا۔
سورۃ اللہب کی شان نزول
3۔ ابو نعیم نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو لہب کفار قریش میں سے تھا۔ یہاں تک کہ وہ اس قوت شعب ابی طالب سے نکل آیا جب قریش نے آپس میں ایک دوسرے کی مدد کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے ہم کو گھاٹی میں محصور کردیا۔ اور اس نے ان کی مدد کی۔ جب ابولہب گھاٹی سے نکلا اور ان کی مدد کی۔ جب وہی اپنی قوم سے علیحدہ ہوا تو وہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ سے ملا۔ کہنے لگا اے عتبہ کی بیٹی ! کیا لات اور عزی نے تیری مدد کی ؟ کہنے…
Read the full tafseer →[وَّامْرَاَتُهٗ ۭ : اور اس کی عورت (بھی)][حَمَالَةَ الْحَطَبِ : بہت ہی اٹھانے (لیے پھرنے) والی ہوتے ہوئے لگائی بجھائی کو ]
Read the full tafseer →﴿ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ004 ﴾ (بالنصب فی قراٴۃ عاصم) اس کا عامل محذوف ہے جو اَذُمُّ ہے یعنی اس کی مذمت بیان کرتا ہوں، وہ لکڑیاں اٹھائی پھرتی تھی، اس کی دوسری مذموم حرکتیں تو تھیں ہی ان میں سے یہ حرکت بھی تھی کہ کانٹے دار لکڑیاں جمع کر کے اٹھائے پھرتی تھی اور رسول اللہ ﷺ کے راستے میں ڈال دیتی تھی آپ تو اس پر آسانی سے گزر جاتے تھے لیکن اس عورت کی شقاوت اور بدبختی کا مظاہرہ ہوتا رہتا تھا، بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ﴿ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ﴾ میں اس کی کنجوسی بیان کی گئی ہے اس نے رسول اللہ ﷺ کو تنگ دستی کا طعنہ دیا اس کے مقابلہ میں اس عورت کی کنجوسی ظاہر کی گئی کہ پیسے والی ہوتے ہوئے اپنی کمر پر لکڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
خسران و بربادی در دنیا وعقبی ازدشمنی رسول خدا ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” تبت یدآ ابی لھب ........ الی ........ حبل من مسد “۔
(ربط) گزشتہ سورة نصر میں یہ بتایا گیا تھا کہ حق اور ہدایت ہی کو غلبہ و کامیابی حاصل ہوتی ہے اور دنیا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور اپنے دین کو غالب وکامیاب فرمایا ہے، تاریخ عالم میں اس نے اپنی قدرت عظیمہ کا مشاہدہ کرا دیا کہ وہ پیغمبر اور ان کے ساتھی جو مکہ سے مجبور ومظلوم ہو کر ہجرت کرکے مدینہ آئے چند ہی سال گذرنے پر وہی اللہ کا رسول دس ہزار قدسیوں کے ساتھ اسی سرزمین میں فاتح وکامیاب داخل ہورہا ہے، تو اس کے بالمقابل اس سورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
3:۔ ” ما اغنی “ اس کا مالک اور اس کا جاہ و حشم اس کو خدا کے عذاب سے نہ بچا سکا۔ ماکسب، دنیوی عز و جاہ یا اعمال مشرکانہ غیر اللہ کی دعا و پکار وغیرہ۔ سیصلی نارا، یہ تخویف اخری ہے۔ دنیا میں ابو لہب کیلئے ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں اسے بھڑکتی آگ میں داخل کیا جائے گا۔ ” وامراتہ “ یہ ” یصلی “ کی ضمیر مستتر پر معطوف ہے۔ حمالۃ الحطب، منصوب علی الذم ہے، یہ چغلی کھانے اور بدگوئی کرنے سے کنایہ ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ باہر سے خاردار لکڑیاں اٹھا کر لاتی اور آنحضرت ﷺ کے راستے میں بچھا دیتی تھی۔ (من الکبیر والروح والقرطبی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة اللھب ہے۔ اس کی پہلی اور تیسری آیت میں لہب کا لفظ مذکور ہے۔ اور اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے۔ اسے سورة تبت یدا بھی کہتے ہیں۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی اس کی پانچ آیتیں تئیس الفاظ اور اکہتر حروف ہیں۔
اقرباء سے خطاب
مفسرین کرام فرماتے ہیں 1 ؎ کہ حضور ﷺ پر پہلی وحی کے نزول کے بعد تین سال تک وحی کا سلسلہ منقطع رہا۔ اس عرصہ میں آپ خاموشی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے اور اندرونی طور پر آہستہ آہستہ ساتھی تیار کرتے رہے۔ پھر جب سورة شعراء کی آیت وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی یعنی آپ اپنے عزیز و اقارب کو خدا کے عذاب سے ڈرائیں۔ تو آپ نے خطاب فرمایا…
Read the full tafseer →وَّامْرَاَتُہٗ 0 ۭ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ 4 ۚ
حمل
الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل .
وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی:
وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] ،
( ح م ل ) الحمل
( ض ) کے معنی بوجھ اٹھانے یا لادنے کے ہیں اس کا استعمال بہت سی چیزوں کے متعلق ہوتا ہے اس لئے گو صیغہ فعل یکساں رہتا ہے مگر بہت سے استعمالات میں بلحاظ مصاد رکے فرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
1 ؎ حمالۃ الحطب میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس کے گناہوں کا گٹھا اس کی پشت پر تھا اور خواہش دنیا کی رسی گلے میں پڑی ہوئی تھی۔ اور حمالۃ الحطب میں اس کے خاوند کی نالائقی کی طرف بھی اشارہ ہے کیونکہ عورت بوقت مخصوص خاوند کو اوپر لادتی ہے اس کا خاوند ایک لکڑیوں کا پشتارہ ہے جو جلانے کے قابل ہے اور فی جیدہا الخ میں خاص اس کی طرف اشارہ ہے کہ اپنے نفس بد کی یا اس نالائق خاوند کی بڑی مطیع ہے گویا اطاعت کی گلے میں رسی پڑی ہوئی ہے اور رسی بھی بڑی مضبوط کھجور کے پٹھوں کی۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَّاَمْرَاَ تُـہٗ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ ۔ (اللہب : 4)
(اور اس کی بیوی بھی ایندھن اٹھانے والی۔ )
اَمْرَاَ تُـہٗ سے مراد ؟
اس کی بیوی کا نام ارویٰ تھا اور کنیت ام جمیل تھی۔ یہ ابوسفیان کی بہن تھی اور بھینگی تھی۔ اس کے دل میں آنحضرت ﷺ کی عداوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اس لحاظ سے وہ اپنے شوہر سے کم نہ تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا مشغلہ یہ تھا کہ دن کے وقت جنگل میں نکل جاتی، خاردار لکڑیاں چنتی رہتی اور گٹھا باندھ کر اٹھا لاتی اور رات کے وقت اس راستے میں ان کانٹوں کو بچھا دیتی جہاں سے نبی کریم ﷺ کا گزر ہوتا تھا۔ جب یہ سورة نازل ہوئی تو وہ بپھری ہوئی آنحضرت ﷺ کی تلاش میں نکلی اور اپنی مٹھیوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن
ربط سورت : نبی ﷺ کو سورة النّصر میں ہر قسم کی کامیابی اور دین کے غالب ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے اور سورة اللّہب میں بتلایا ہے کہ عنقریب دین اور آپ کا دشمن ہلاک ہوجائے گا۔
مفسّرِ قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ” وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ “ اے نبی ! اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرائیں تو نبی ﷺ صفا پہاڑی پر جلوہ افروز ہوئے اور آپ نے قریش کے قبائل کا نام لے لے کر بلایا لوگ دوڑتے ہوئے صفا پہاڑی کی طرف پہنچے، جس قبیلے کا سربراہ خود نہ پہنچ سکا اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا کہ جاؤ پتہ کرو کہ محمد بن عبداللہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اس…
Read the full tafseer →4 : وَّامْرَاَتُہٗ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ (وہ بھی اور اس کی بیوی جو لکڑیاں لاد کر لاتی ہے) وَّامْرَاَتُہٗ اس کی بیوی ام جمیل بنت حرب جو ابوسفیان کی بہن تھی۔ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ وہ کانٹوں اور جھاڑ کا گٹھہ اٹھا کر لاتی۔ رات وہ رسول اللہ ﷺ کے راستہ میں بکھیردیتی۔ ایک قول یہ ہے : وہ چغل خوری کرتی اور لوگوں کے مابین عداوت کی آگ بھڑکاتی۔
قراءت : حمالۃ الحطب کو عاصم نے منصوب علی الذم قرار دیا۔ اور مجھے یہ قراءت پسند ہے اور اس نیکی کے ساتھ اس نے رسول اللہ ﷺ تک تو سل حاصل کرلیا جو ام جمیل کو سب وشتم پسند کرے (کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں بکتی تھی) اس صورت میں امراتہ پر وقف ہوگا۔ کیونکہ اس صورت میں…
Read the full tafseer →4 ۔” وامراتہ “ ام جمیل بنت حرب بن امیہ سفیان کی بہن۔ ” حمالۃ الحطب “ زید اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہکانٹے اور جھاڑیاں اٹھا کر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے راستہ میں ڈال دیتی تھی تاکہ ان کو زخمی کرے اور یہی عطیہ کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور قتادہ ، مجاہد اور سدی رحمہم اللہ فرماتے ہیں وہ چغلی لگانے کے ساتھ چلتی تھی اور ایک جگہ کی باتیں دوسری جگہ منتقل کرتی تھی اور لوگوں میں دشمنی پیدا کرتی تھی اور لڑائی کی آگ ایسے بھڑکاتی تھی جیسے آگ لکڑیوں کو جلاتی ہے۔ کہا جاتا ہے فلاں یحطب علی فلاں جب وہ اس کو برانگیختہ کرے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے تے ہیں گناہوں کو اٹھانے والی۔ اس کی دلیل اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ صحیح 2 ؎ بخاری مسلم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا 2 حاصل یہ ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ نے مکہ کے صفا پہاڑ پر چڑھ کر قریش کو آواز دی جس سے بہت سے لوگ قریش کے جمع ہوگئے۔ اس کے بعد ان لوگوں کو آپ ﷺ نے طرح طرح کی نصیحت کی اور شرک سے ڈرایا۔ ان لوگوں میں ابو لہب بھی تھا۔ اس نے آنحضرت ﷺ کی نصیحت سن کر بڑی نخوت سے گھڑی گھڑی اپنے دونوں ہاتھ جھٹکے اور کہا کہ اے محمد ﷺ تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں کیا تو نے اسی واسطے آواز دے کر اور ہاتھوں کے اشارہ سے بلا کر ہم سب لوگوں کو جمع کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی۔ یہ ابو لہب آنحضرت ﷺ کے چچاؤں میں سے تھا اس کا نام عبد العزیٰ بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
( وَّامْرَاَتُهٗ ۭ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ) اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھانے والی ہے اس کی بیوی بھی اللہ کے رسول کو سخت اذیت پہنچاتی تھی میاں بیوی دونوں گناہ اور ظلم پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے تھے وہ تکلیف پہنچاتی تھی اور رسول اللہ کو اذیت پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی تھی۔ اس کی پیٹھ پر بوجھ لاد دیا جائے گا اس شخص کی مانند جو ایندھن اکٹھا کرتا ہے اس کی گردن میں ڈالنے کے لیے رسی تیار کی گئی ہے۔ (من مسد) مونج کی۔ یعنی کھجور کے پتوں کے ریشے سے بٹی ہوئی۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ جہنم میں وہ ایندھن اٹھا اٹھا کر اپنے شوہر پر ڈالے گی اور اس کے گلے میں کھجور کے پتوں کے ریشوں سے بٹی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ابولہب اور اس کی بیوی کفر پر مریں گے یہ پیش گوئی بھی دلیل نبوت ہے
قول باری ہے (سیصلی نارا ذات لھب ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا۔ ) یہ حضور ﷺ کی نبوت کی صحت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ کیونکہ اس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ ابولہب اور اس کی بیوی کفر پر ہی مریں گے اور مسلمان ہونا انہیں نصیب نہیں ہوگا۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا جس کی خبر دی گی تھی۔ ابولہب اور اس کی بیوی نے یہ سورت سن لی تھی اور اس کی بیوی نے کہا تھا کہ ” محمد (ﷺ) نے ہماری ہجو کی ہے۔ “ اگر یہ دونوں کہتے کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں اور اس کا اظہار کرتے اگرچہ انہیں اس کا اعتقاد نہ ہوتا تو بھی اس صورت میں وہ اس قول باری کی تردید کرسکتے تھے…
Read the full tafseer →4 ۔ ابو لہب کی بیوی بھی اس کے عذاب میں شریک، والعیاذ باللہ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی بیوی بھی، یعنی وہ بھی اسی انجام سے دوچار ہوگی، کیونکہ وہ بھی کفر و شرک اور حق دشمنی میں اپنے شوہر کی شریککار، اور اس کی ملعون و مددگار تھی، اس بدبخت عورت کا نام اروی تھا اور کنیت ام جمیل اور اسلام اور رسول اسلام کی دشمنی میں یہ اپنے شوہر سے بھی کچھ آگے ہی تھی، اس لیے اس بدبخت عورت کو بھی اپنے کفر شرک اور اسلام دشمنی کے جرم کے نتیجے میں اپنے بدبخت شوہر کے ساتھ ایندھن ڈھوتے ہوئے دوزخ میں داخل ہونا ہوگا، کہ جنس العمل ( یعنی جزا جنس عمل میں سے اور اس کے مطابق ہوتی ہے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ابو لہب اور اس کی بیوی کے لیے عذاب کی خبر
تشریح : ابو لہب لقب ہے کیونکہ وہ بڑا ہی خوبصورت انسان تھا اس کا چہرہ آگ کی طرح دمکتا تھا اسی لیے لہب یعنی آگ کی لپٹ یا شعلہ اس کا لقب پڑگیا۔ وہ بڑا مالدار خوشحال انسان تھا یہاں ہاتھ ٹوٹ گئے محاورتاً کہا گیا ہے۔ یعنی یہ تباہ و برباد ہوجائے گا۔ اس کا فخر ' غرور ' دشمنی ' آل اولاد اور مال و دولت سب کچھ غارت ہوجائے گا اور ان میں کچھ بھی اس کو دوزخ کی اس آگ سے ہرگز بچا نہ سکیں گے جو کہ خاص اس کے لیے تیار کی جا چکی ہے۔ اور وہ آگ لپٹیں مارتی ہوئی تیز آگ ہوگی۔ پھر اس کی بیوی کے لیے بھی سخت ترین سزا کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ کہ یہی جو ایندھن اٹھا کر لاتی ہے وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة اللھب۔
آیات 1 تا 5۔
اسرار معارف۔
ہاتھ ٹوٹ جائیں ابولہب کے اور تباہ ہوجائے اس کا نام عبدالعزی تھا حضرت عبدالمطلب کی اولاد میں سے تھا اور سرخ رنگ ہونے کے باعث کنیت ابولہب مشہور تھی ، اس نے آپ کی شدت سے مخالفت کی کہ اللہ کریم نے نام لے کردوزخی ہونے کا اعلان فرمایا۔
اسے اس کا مال وزر کام نہ آئے کہ ایک پھوڑا نکلا جو بہت بدبودار تھا لاعلاج ہو کر اور تنہائی میں مرگیا اس قدر بدبو تھی کہ لاش دفن نہ ہوسکتی تھی وہی مکان اس پر گرادیا گیا چناچہ اس کا مال وزر کام نہ آیا اور اس کی بیوی بھی اس کے ساتھ بھڑکتے ہوئے دزوخ میں داخل ہوگی جو آپ کی راہ میں کانٹے بچھاتی تھی ، دوزخ میں اس کے گلے میں طوق ہوگا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 7 یہ بدبخت عورت بھی آنحضرت ﷺ کی دشمین پر ادھار کھائے رہتی تھی۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس سے اور کچھ نہ ہوسکتا تو اپنے سر پر کانٹے اٹھا کر لاتی اور جس راستہ سے آنحضرت ﷺ گزرت یا نہیں وہاں بچھا دیتی تاکہ آپ کو تکلیف ہو۔ (فتح القدیر بحوالہ ابن جریر بیہقی)
Read the full tafseer →(111:4) وامرأتہ حمالۃ الحطب : واؤ عاطفہ، امرأۃ معطوف جس کا عطف ہ ضمیر متصل پر ہے۔ اور اس کی جورو بھی (دہکتی ہوئی آگ میں عنقریب داخل ہوگی)
حمالۃ الحطب۔ یہ جملہ امراۃ سے حال ہے۔ (جو اس حال میں پھرتی ہے کہ) لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے ہے۔
حمالۃ خوب اٹھانے والی۔ حمل سے بروزن فعالۃ مبالغہ کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔
ایندھن سر پر لئے پھرنے والی۔ ابولہب کی بیوی کی صفت ہے اس کا نام ارویٰ بنت حرب ہے۔ کنیت ام جمیل اور لقب عوراء (کافی) ہے اپنے بدبخت شوہر کی طرح اس شقیہ کو بھی آنحضرت ﷺ سے سخت ترین عداوت تھی۔
ایندھن سر پر لئے پھرنے کو بعض نے حقیقت پر محمول کیا ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ خست کے مارے ایندھن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔
تبت۔ تباہ ہوگئی۔ (ہوگئے) ۔ یدا۔ دونوں ہاتھ۔ تب۔ تباہ ہوا۔ ما اغنی۔ کام نہ آیا۔ کسب۔ کمایا۔ سیصلی۔ بہت جلد جا پڑے گا۔ امرائہ ۔ عورت ۔ جید۔ گردن۔ حبل من مسد۔ مضبوط پٹی ہوئی رسی۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے نبی کرم ﷺ کو خطاب کرتے فرمایا ……… یعنی اے کپڑا اوڑھ کر لیٹنے والے آپ اتھئے۔ اللہ کے خوف سے لوگوں کو ڈرائیے اور اپنے رب کی بڑائی قائم کیجئے۔
اس کے بعد جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی ……… یعنی آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کے خوف سے ڈرائیے تو آپ نے مکہ مکرمہ کے کوہ صفا پر چرھ کر مکہ والوں کو ”…“ (اے صبح کی آفت) کہہ کر آواز دی۔
جس کا عام طور پر یہ مطلب ہوتا تھا کہ رات کو کسی دشمن نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ابولہب اور اس کی بیوی کی اسلام دشمنی اور ان کی ہلاکت۔
(ف 1) شان نزول : صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے کوہ صفا پر عرب کے لوگوں کو دعوت دی ہر طرف سے لوگ آئے اور حضور ﷺ نے ان سے اپنے صداقت وامانت کی شہادتیں لینے کے بعد فرمایا، انی لکم نذیر بین یدی عذاب شدید۔ اس پر ابولہب نے حضور سے کہا تھا کہ تم تباہ ہوجاؤ، کیا تم نے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا، اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب اکرم کی طرف سے جواب دیا، ابولہب نبی ﷺ کا بڑا مخالف تھا جہاں نبی ﷺ لوگوں کو وعظ ونصیحت کرتے تھے تو یہ آپ کو جھٹلانے کی تقریر ضرور کیا کرتا تھا، ابولہب کی بی بی کا نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
[2] اصل الفاظ ہیں حمالتہ الحطب جن کے لفظی معنی ہیں لکڑیاں ڈھونے والی۔ عرب کے محاورے میں چغل خوری کرنے والے کو حمالتہ الحطب کہا جاتا ہے۔ جیسے کوئی لکڑیاں جمع کر کے آگ لگانے کا سامان کرتا ہے، چغل خور کا عمل بھی ایسا ہی ہے کہ وہ اپنی چغل خوری کے ذریعے لوگوں کو بھڑکاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة اللھب
ابولہب کنیت ہے ۔ اصلی نام عبدالعزیٰ تھا ۔ لعب کے معنی آگ اور شعلے کے ہیں ۔ وجہ مناسبت یہ ہے کہ اس کے رخسارے آگ کی طرح روشن تھے ۔ یہ اور اس کی بیوی ام جمیل بنت حرب حضور ﷺ کے سخت معاندین میں سے تھے ۔ جہاں حضور ﷺ جاتے ۔ وہاں ابولہب ان کو بدنام کرنے کے لئے پہنچ جاتا اور ہر شرارت میں پیش پیش رہتا ۔ اور ام جمیل جنگل سے خود کانٹے کاٹ کر لاتی اور حضور ﷺ کے راستے میں بچھادیتی ۔ اس پر ان آیتوں کا نزول ہوا کہ ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں ۔ نہ دنیا اس کی سنورے اور نہ عاقبت ۔ یہ ہلاک ہو اور اس کا مال اور اس کی اولاد اس کو اللہ کے عذاب سے نہ بچاسکیں ۔ شعلہ زن آگ میں جائے اور اس کی بیوی ام جمیل…
Read the full tafseer →(4) وہ بھی اور اس کی بیوی بھی جو سر پر ایندھن اٹھا کر لاتی ہے۔ اس کا چہرہ چونکہ سرخ وسفید تھا اس لئے شاید لوگوں نے اس کو ابولہب کہنا شروع کردیا مگر قرآن نے بتایا کہ یہ مرنے کے بعد بھی ایسی آگ میں ڈالا جائے گا جو شعلہ فگن اور چنگاریاں اڑاتی ہوئی اسی وقت نہ تو اس کا مال ساتھ ہوگا اور نہ اس کا بیٹا عتیبہ اس کے کچھ کام آئے گا اور اس کی بیوی بھی اسی آگ میں داخل ہوگی جو لکڑیوں کی اٹھانیوالی ہے جس کی بخیلی اور خست کا یہ عالم تھا کہ باوجود دولتمند اور لونڈی غلام رکھنے کے خود خاردار لکڑیاں اٹھا کر لاتی تھی اور پیغمبر کی رہگزر میں بچھاتی تھی۔
جب آپ ﷺ نماز کے لئے مسجد حرام میں تشریف لے جاتے تو نہایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 1۔ ابولہب کی بیوی خاردار لکڑیاں جمع کر کے لاتی اور ازراہ غایت عناد آنحضرت ﷺ کی راہ میں بچھاتی۔ کذا فی الدر المنثور عن البیہقی وغیرہ اور بعض نے کہا ہے کہ حمالة الحطب سے مراد چغل خور ہے۔ وہ عورت چغل خور بھی تھی، کذا فی الدر، چناچہ فارسی میں بھی ہیزم کش اسی معنی میں مستعمل ہے۔
Read the full tafseer →اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھا کر لائی ہے آگ میں پڑے گی
4 ابولہب جب نبی اعظم و آخر ﷺ کا حقیقی چچا تھا تو اس کی بیوی کا تعلق بھی آپ ﷺ سے دوہرا تھا ایک چچی ہونے کا جو دنیا کے لحاظ سے بہت بڑا تعلق ہے اور دوسراتعلق قریش خاندان کا تھا کہ وہ ابو سفیان کی حقیقی بہن تھی اور ابو سفیان قریش کے سرداروں میں سے ایک سردار ہے اور پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کا سسر بھی ہے جو دنیا کے لحاظ سے ایک بہت بڑا تعلق سمجھا جاتا ہے۔ ابو لہب کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی ساس ہوتی ہے ۔ اس کا نام ” ارویٰ “ اور اس کو ” اروہ “ بھی تحریر کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کی کنیت اُمِ جمیل تھی۔ تعجب ہے کہ اس کے دل میں بھی نبی اعظم و…
Read the full tafseer →The Fate of 'Umm Jamil, the Wife of Abu Lahab
Verse [ 111:4] وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ (And his wife as well, the wicked, the carrier of firewood.) As Abu Lahab was a vehement enemy of the Holy Messenger ﷺ ، his wife too was supportive of her husband in his disbelief, rejection, obstinacy, and in persecuting the Holy Prophet ﷺ . She was a sister of Abu Sufyan, and daughter of Harb Ibn 'Umayyah. Her nickname was Umm Jamil. The Qur'an makes plain in this verse that this wretched woman will also roast with her husband in the fire of Hell. She is described as حَمَّالَةَ الْحَطَبِ which…
Read the full tafseer →3 Her name was Arwa' and her nickname (kunyat) Umm Jamil. She was sister of Abu Sufyan and was no less bitter than her husband, Abu Lahab, in her enmity to the Holy Messenger (upon whom be peace) Hadrat Abu Bakr's daughter, Hadrat Asma', has related that when this Surah was revealed, and Umm Jamil heard it, she was filled with rage and went out in search of the Holy Prophet (upon whom be peace) . She carried a handful of stones and she was crying some verses of her own, satirizing the Holy Prophet. She came to the Ka`bah, where the Holy Prophet was sitting with Hadrat Abu Bakr. The latter…
Read the full tafseer →