Al-Masad 111:3

Al-Masad · from ayah 3

111:3

سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ۟ۚۖسَيَصۡلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ

وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

He will [enter to] burn in a Fire of [blazing] flame

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 36 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Masad

All translations of 111:3

ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه عنقریب بھڑکنے والی آگ میں جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ بھڑکتے شعلوں والی آگ میں داخل ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اب دھنستا ہے لپٹ مارتی آگ میں وہ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

عنقریب وہ شعلوں والی آگ میں جا پڑے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

عنقریب وہ شعلے والی آگ میں داخل ہوگا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جلد ہی وہ بھڑکتی آگ میں داخل ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ بھڑکتی آگ میں پڑے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

عنقریب ہی اس کو داخل ہونا ہوگا شعلے مارتی ہوئی ایک نہایت ہی ہولناک آگ میں

— مولانا اسحاق مدنی

ایک شعلہ زن (سخت) آگ میں پڑے گا (خودبھی)

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

عنقریب وہ جھونکا جائے گا بھڑکتی ہوئی آگ میں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely, he will be cast into a Flaming Fire

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He will soon enter a Fire, full of flames,

— Muhammad Taqi Usmani

He will soon enter a Fire, full of flames,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He will enter a Fire full of flames!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He will [enter to] burn in a Fire of [blazing] flame

— Saheeh International

His property and worldly gains will be of no help to him.

— Muhammad Sarwar

He shall soon burn in fire that flames,

— Muhammad Habib Shakir

Anon he shall roast into Fire having flame.

— Abdul Majid Daryabadi

Burnt soon will he be in a Fire of Blazing Flame!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 111:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

تفسیر سورة تبت بدترین اور بدنصیب میاں بیوی :٭٭ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ بطحا میں جا کر ایک پہاڑی پر چڑھ گئے اور اونچی آواز سے یاصباحاہ یاصباحاہ کہنے لگے قریش سب جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا اگر میں تم سے کہوں کہ صبح یا شام دشمن تم پر چھاپہ مارنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمھو گے ؟ سب نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا سنو میں تمہیں اللہ کے سخت عذاب کے آنے کی خبر دے رہا ہوں تو ابو لہب کہنے لگا تجھے ہلاکت ہو، کیا اسی لئے تو نے ہمیں جمع کیا تھا ؟ اس پر یہ سورت اتری (بخاری) دوسری روایت میں ہے کہ یہ ہاتھ جھاڑتا ہوا یوں کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ تبت بددعا ہے اور تب خبر ہے، یہ ابو لہب آنحضرت ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 2–3

سورة اللھب 2 ابو لہب سخت بخیل اور زرپرست آدمی تھا۔ ابن اثیر کا بیان ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ اس پر یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ اس نے کعبہ کے خزانے میں سے سونے کے دو ہرن چرا لیے ہیں۔ اگرچہ بعد میں وہ ہرن ایک اور شخص کے پاس سے برآمد ہوئے، لیکن بجائے خود یہ بات کہ اس پر یہ الزام لگایا گیا، یہ ظاہر کرتی ہے کہ مکہ کے لوگ اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے۔ اس کی مالداری کے متعلق قاضی رشید بن زبیر اپنی کتاب الذخائر والحف میں لکھتے ہیں کہ وہ قریش کے ان چار آدمیوں میں سے ایک تھا جو ایک قنطار سونے کے مالک تھے (قنطار دو سو اوقیہ کا اور ایک اوقیہ سوا تین تولہ کا ہوتا ہے) اس کی زرپرستی کا اندازہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

سیصلے نارا ذات لھب، یعنی قیامت کے بعد یا مرنے کے فوراً بعد قبر ہی میں یہ ایک شعلہ زن آگ میں داخل ہوگا۔ اس کے نام کی مناسبت سے آگ کیساتھ ذات لھب کی صفت میں خاص بلاغت ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آخرت میں جس انجام سے وہ دوچار ہو گا: پچھلی دونوں آیتوں میں اس کا وہ حشر بیان ہوا ہے جو اس دنیا میں اس کے سامنے آیا۔ اب یہ اس کا وہ انجام بیان ہو رہا ہے جس سے وہ آخرت میں دوچار ہو گا۔ فرمایا کہ وہ بھڑکتی آگ میں پڑے گا۔ یہاں آگ کی صفت ’ذَاتَ لَہَبٍ‘ ہو گی۔ ’لَہَبٌ‘ کے معنی شعلہ کے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سرخ و سپید شعلہ رو تھا اس وجہ سے اس نے یا تو خود یہ کنیت اختیار کی یا اس کے خوشامدیوں نے اس سے اس کو پکارا اور یہ اتنی مشہور ہوئی کہ اس کا اصل نام۔۔۔ عبد العزّٰی۔۔۔ غائب ہو گیا۔ قرآن نے یہاں اس کا یہ انجام بیان کر کے یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اس دنیا میں اس کو اپنی جس شعلہ روئی پر ناز رہا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 2–3

2۔ 1 کمائی میں اس کی رئیسانہ حثییت اور جاہ ومنصب اور اس کی اولاد بھی شامل ہے یعنی جب اللہ کی گرفت آئی تو کوئی چیز اس کے کام نہ آئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

2: بھڑکتے شعلے کو عربی میں : لہب : کہتے ہیں، ابو لہب بھی اس کو اس لئے کہتے تھے کہ اس کا چہرہ شعلے کی طرح سرخ تھا، قرآن کریم نے یہاں دوزخ کے شعلوں کے لئے یہی لفظ استعمال کرکے یہ لطیف اشارہ فرمایا ہے کہ اس کے نام میں بھی شعلے کا مفہوم داخل ہے اسی مناسبت سے اس سورت کا نام بھی سورة اللھب ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

یہ سورت اللہ کی طرف سے اس لئے نازل ہوئی کہ ابولہب اور اسکی بیوی کی طرف سے برپا کی ہوئی جنگ میں حضور ﷺ کی حمایت کی جائے۔ گویا یہ معرکہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ تبت یدا ........................ وتب (1:111) ” ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہوگیا وہ “۔ تبت تباب سے مشتق ہے جس کے معنی ہلاکت ، تباہی انقطاع کے ہیں۔ یہاں تبت کے معنی ہیں بددعا کے اور دوسرے تب کے معنی ہیں کہ وہ ہلاک ہوگیا تباہ ہوگیا اور اس کا سلسلہ کٹ گیا۔ یہ خبر ہے وقوع بددعا کی۔ سورت کے آغاز ہی میں اس مختصر آیت میں بددعا اور اس کی تکمیل کا مکمل منظر ہے ۔ گویا معرکہ ختم ہوجاتا ہے اور پردہ گر جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والی دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی مرنے کے بعد سخت شعلہ زن آگ میں پہنچنے والا ہے۔ شاید اسی مناسبت سے قرآن نے اس کی کنیت " ابولہب " قائم رکھی۔ دنیا تو اس کو " ابولہب " اس لئے کہتی تھی کہ اس کے رخسار آگ کے شعلے کی طرح چمکتے تھے۔ مگر قرآن نے بتلا دیا کہ وہ اپنے آخری انجام کے اعتبار سے بھی " ابولہب " کہلانے کا مستحق ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

آیت 3{ سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَہَبٍ۔ } ”عنقریب وہ جھونکا جائے گا بھڑکتی ہوئی آگ میں۔“ لَہَبکے معنی آگ کے شعلے اور انگارے کے ہیں۔ اس شخص کی کنیت ابولہب کے حوالے سے یہاں اس لفظ کا استعمال ”صنعت ِ لفظی“ کی بہترین مثال ہے۔ اس کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا ‘ لیکن اپنی سرخ وسفید رنگت کی وجہ سے ”ابولہب“ شعلہ رو کی کنیت سے مشہور تھا۔ ظاہری اعتبار سے ابولہب بہت وجیہہ اور خوبصورت شخص تھا۔ اس پس منظر میں اس آیت کے الفاظ گویا یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اس شخص کو سرخ وسفید رنگت اور خوبصورت شکل و صورت بھی ہم نے عطا کی ہے اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں بھی اسے ہم ہی جھونکیں گے۔ ] قرآن مجید کا یہ واحد مقام ہے جہاں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 ابو لہب کنیت ہونے کی دنیا میں مناسبت یہ تھی کہ اس کا رنگ سیب کی طرح لال تھا اور آخرت میں مناسبت یہ ہوگی کہ شعلوں والی آگ میں پھینکا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 3–4

3۔ یعنی ام جمیل بنت حرب ہمیشرۂ ابوسفیان۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے مشن سے مخالفت اس کی بھی حد غلو تک پہنچی ہوئی تھی، اس وعید کے لئے ہے۔ یعنی یہ انجام ہونا بالکل یقینی ہے، والسین للوعید اے ھو کائن لامحالۃ وان تراخی وقتہ (کشاف) والسین للوعید (روح) (آیت) ” نارا “۔ صیغہ نکرہ کا آنا آگ کی بڑائی اور سختی کے اظہار کے لئے ہے۔ والتنوین للتعظیم اے نارا عظیمۃ (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

سیصلی نارا ذات لھب . یہ دوزخ کی وعید ہے۔ ذات لھب بھڑکتی ہوئی یعنی عنقریب وہ بھڑکتی آگ میں جلے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–5

(2۔ 5) یہ دنیاوی مال و اولاد آخرت میں اس کے کچھ کام نہیں آیا اور وہ آخرت میں دہکتی ہوئی آگ میں ڈالا جائے گا اور اس کی بیوی ام جمیلہ بنت حارث بھی جو مسلمانوں اور کافروں میں چغلیاں لگایا کرتی تھیں یا یہ کہ جو خار دار لکڑیاں لا کر حضور کے اور مسلمانوں کے راستہ میں ڈال دیا کرتی تھی۔ دوزخ میں پہنچ کر اس کی گردن میں لوہے کی زنجیریں ہوں گی یا یہ کہ اس کی گردن میں ایک بل دی ہوئی رسی تھی جس سے گلا گھٹ کر وہ مرگئی۔ شان نزول : سورة اللہب امام بخاری نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر آواز دی چناچہ آپ کے پاس قریش جمع ہوگئے آپ نے فرمایا کہ اگر میں تم سے یہ کہوں کہ دشمن صبح…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 3–4

(1) سیصلی ناراً ذات لھب …:”امراتہ“ کا عطف ”سیصلی“ ابو لہب کی طرف لوٹنے والی ضمیر پر ہے، یعنی وہ اور اس کی بیوی شعلے مارتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ ابولہب کی بیوی ام جمیل کا نام ارویٰ بنت حرب بن امیہ تھا، یہ قریش میں اونچے نسب والی عورت تھی، ابوسفیان بن حرب ؓ کی بہن اور معاویہ ؓ کی پھوپھی تھی اور اپنے خاوند کی طرح رسول اللہ ﷺ سے سخت عداوت رکھتی تھی۔ (ابن کثیر) (2) ”حمالۃ الخطب“”امراتہ“ سے حال ہے، یعنی اس کی بیوی ایندھن اٹھائے ہوئے آگ میں داخل ہوگی۔ مفسرین نے اس کے تین معانی بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ وہ گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے جہنم میں داخل ہوگی، جو جہنم کو بھڑکانے کے لئے ایندھن ہے، دوسرا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

سیصلی نارا ذات لھب۔ عنقریب وہ جھونکا جائے گا شعلوں والی آگ میں۔ حضرت ابن عباس نے کہا : یہاں انسان سے مراد کافر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ بہت زیادہ کفر کرنے والا ہے، اس معنی میں ارض کنود ہے ایسی زمین کو کہتے ہیں جو کوئی شے نہ اگائے، ضحاک نے کہا : یہ ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی۔ مبرد نے کہا : کنودا سے کہتے ہیں جو حق دینے سے انکار کرے اور سابقہ شعر ہی ذکر کیا۔ ابو بکر واسطی نے کہا : کنودا اسے کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اس کا نافرمانیوں میں خرچ کرے۔ ابوبکر وراق نے کہا : کنود اسے کہتے ہیں جو نعمت کو اپنی جانب سے اور اپنے دوستوں کی جانب سے خیال کرتا ہے۔ ترمذی نے کہا : جو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–5

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت تبت یدا ابی لہب مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ نے دونوں سے اسی طرح روایت کیا۔ سورۃ اللہب کی شان نزول 3۔ ابو نعیم نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو لہب کفار قریش میں سے تھا۔ یہاں تک کہ وہ اس قوت شعب ابی طالب سے نکل آیا جب قریش نے آپس میں ایک دوسرے کی مدد کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے ہم کو گھاٹی میں محصور کردیا۔ اور اس نے ان کی مدد کی۔ جب ابولہب گھاٹی سے نکلا اور ان کی مدد کی۔ جب وہی اپنی قوم سے علیحدہ ہوا تو وہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ سے ملا۔ کہنے لگا اے عتبہ کی بیٹی ! کیا لات اور عزی نے تیری مدد کی ؟ کہنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[سَيَصْلٰى نَارًا : وہ گرے گا ایک ایسی آگ میں جو ][ ذَاتَ لَهَبٍ : شعلے والی ہے ] (آیت۔ 3) سَیَصْلٰی کا فاعل اس میں شامل ھُوَ کی ضمیر ہے۔ (آیت۔ 4) وَامْرَاَتُہٗ کی رفع بتارہی ہے کہ یہ سَیَصْلٰی کا فاعل ثانی ہے۔ اس کا حال ہونے کی وجہ سے حَمَّالَۃَ حالت نصب میں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿سَيَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ003﴾ (عنقریب یعنی قیامت کے دن لپٹ مارنے والے آگ میں داخل ہوگا) ۔ وَّ امْرَاَتُهٗ 1ؕ (اور اس کی بیوی بھی) اس کی بیوی کا نام ارویٰ اور کنیت ام جمیل تھی جو ابو سفیان بن حرب کی بہن تھی اپنے شوہر کی طرح یہ بھی رسول اللہ ﷺ کی بہت سخت دشمن تھی میاں بیوی دونوں کو لپٹیں مارنے والی آگ میں داخل ہونے کی خبر دنیا ہی میں دے دی گئی۔ یوں تو سبھی کافر دوزخ میں داخل ہوں گے لیکن ان دونوں کا خصوصی نام لے کر نار کی خبر دے دی جو مزید مذمت اور قباحت کا باعث بن گئی۔ رہتی دنیا تک یہ سورت پڑھی جاتی رہے گی اور قارئین کی زبان سے نکلتا رہے گا کہ یہ دونوں دوزخ میں داخل ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

خسران و بربادی در دنیا وعقبی ازدشمنی رسول خدا ﷺ : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” تبت یدآ ابی لھب ........ الی ........ حبل من مسد “۔ (ربط) گزشتہ سورة نصر میں یہ بتایا گیا تھا کہ حق اور ہدایت ہی کو غلبہ و کامیابی حاصل ہوتی ہے اور دنیا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور اپنے دین کو غالب وکامیاب فرمایا ہے، تاریخ عالم میں اس نے اپنی قدرت عظیمہ کا مشاہدہ کرا دیا کہ وہ پیغمبر اور ان کے ساتھی جو مکہ سے مجبور ومظلوم ہو کر ہجرت کرکے مدینہ آئے چند ہی سال گذرنے پر وہی اللہ کا رسول دس ہزار قدسیوں کے ساتھ اسی سرزمین میں فاتح وکامیاب داخل ہورہا ہے، تو اس کے بالمقابل اس سورت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 2–4

3:۔ ” ما اغنی “ اس کا مالک اور اس کا جاہ و حشم اس کو خدا کے عذاب سے نہ بچا سکا۔ ماکسب، دنیوی عز و جاہ یا اعمال مشرکانہ غیر اللہ کی دعا و پکار وغیرہ۔ سیصلی نارا، یہ تخویف اخری ہے۔ دنیا میں ابو لہب کیلئے ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں اسے بھڑکتی آگ میں داخل کیا جائے گا۔ ” وامراتہ “ یہ ” یصلی “ کی ضمیر مستتر پر معطوف ہے۔ حمالۃ الحطب، منصوب علی الذم ہے، یہ چغلی کھانے اور بدگوئی کرنے سے کنایہ ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ باہر سے خاردار لکڑیاں اٹھا کر لاتی اور آنحضرت ﷺ کے راستے میں بچھا دیتی تھی۔ (من الکبیر والروح والقرطبی) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة اللھب ہے۔ اس کی پہلی اور تیسری آیت میں لہب کا لفظ مذکور ہے۔ اور اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے۔ اسے سورة تبت یدا بھی کہتے ہیں۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی اس کی پانچ آیتیں تئیس الفاظ اور اکہتر حروف ہیں۔ اقرباء سے خطاب مفسرین کرام فرماتے ہیں 1 ؎ کہ حضور ﷺ پر پہلی وحی کے نزول کے بعد تین سال تک وحی کا سلسلہ منقطع رہا۔ اس عرصہ میں آپ خاموشی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے اور اندرونی طور پر آہستہ آہستہ ساتھی تیار کرتے رہے۔ پھر جب سورة شعراء کی آیت وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی یعنی آپ اپنے عزیز و اقارب کو خدا کے عذاب سے ڈرائیں۔ تو آپ نے خطاب فرمایا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

سَيَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَہَبٍ۝ 3 ۚۖ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب ¦ تبت فعل یدا اصلھا یدان سقطت النون بالاضافۃ ابی لہب مضاف الیہ والمضاف مع ماا ضیف الیہ فاعل تبت والید مونث عندالعرب وابولہب کنیۃ عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب بن ہاشم والعزی اسم صنم وھوعم رسول اللہ ﷺ وکان مشہورا بالکنیۃ وانما اشتھر بھذا لانہ کان جمیلا وان وجہ کان یتلھب لمزید حسنہ کما یتلھب بالنار۔ وتب فعل والضمیر فاعلہ یرجع الی ابی لہب عطف الجملۃ علی والتباب الخسران والحرمان من کل خیروقیل الھلاک والتردی۔ والجملتان دعاء علیہ وقیل الاولی دعاء والثانیۃ اخبار۔ ما نافیۃ اغنی فعل عنہ متعلق بہ ما لہ فاعلہ معطوف علیہ وماموصولۃ کسب صلۃ والعائد محذوف والکل معطوف وقیل مامصدریۃ فما کسب بتاویل المصدر فاعل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَھَبٍ ۔ (اللہب : 3) (ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا۔ ) آخرت میں ابولہب کا انجام دنیا میں عبرتناک موت ہی اس کے اندوہناک انجام کے لیے کافی نہیں بلکہ قیامت کے دن اسے ایک ایسی آگ میں ڈالا جائے گا جو شعلے اگلنے والی ہوگی۔ یوں تو جہنم کی آگ کی تیزی اور اس کی حدت اپنی مثال نہیں رکھتی لیکن یہاں بطورخاص جس آگ کو شعلہ زن قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے شعلوں کی تیزی کا عالم کیا ہوگا۔ اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ چونکہ یہ ابولہب کے نام سے معروف تھا اس لیے اسے جس آگ میں ڈالا جائے گا وہ آگ بھی ذات لہب ہوگی۔ اس طرح سے اس کے نام اور اس کے انجام میں مناسبت پیدا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : نبی ﷺ کو سورة النّصر میں ہر قسم کی کامیابی اور دین کے غالب ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے اور سورة اللّہب میں بتلایا ہے کہ عنقریب دین اور آپ کا دشمن ہلاک ہوجائے گا۔ مفسّرِ قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ” وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ “ اے نبی ! اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرائیں تو نبی ﷺ صفا پہاڑی پر جلوہ افروز ہوئے اور آپ نے قریش کے قبائل کا نام لے لے کر بلایا لوگ دوڑتے ہوئے صفا پہاڑی کی طرف پہنچے، جس قبیلے کا سربراہ خود نہ پہنچ سکا اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا کہ جاؤ پتہ کرو کہ محمد بن عبداللہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

3 : سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَھَبٍ (وہ عنقریب ایک شعلہ زن آگ میں داخل ہوگا) سیصلیؔ کا معنی عنقریب داخل ہوگا۔ قراءت : البرجمی نے ابوبکر سے سَیُصْلٰی پڑھا ہے۔ سین و عید کیلئے ہے یا وہ بہر صورت ہو کر رہے گا اگرچہ اس کا وقت مؤخر ہے۔ ذات لھبؔ جلائی و بھڑکائی ہوئی آگ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

3 ۔” پھر اس کو جہنم کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے ” سیصلیٰ نارا ذات لھب “ یعنی آگ شعلے مارتی ہوگی اس پر۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ صحیح 2 ؎ بخاری مسلم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا 2 حاصل یہ ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ نے مکہ کے صفا پہاڑ پر چڑھ کر قریش کو آواز دی جس سے بہت سے لوگ قریش کے جمع ہوگئے۔ اس کے بعد ان لوگوں کو آپ ﷺ نے طرح طرح کی نصیحت کی اور شرک سے ڈرایا۔ ان لوگوں میں ابو لہب بھی تھا۔ اس نے آنحضرت ﷺ کی نصیحت سن کر بڑی نخوت سے گھڑی گھڑی اپنے دونوں ہاتھ جھٹکے اور کہا کہ اے محمد ﷺ تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں کیا تو نے اسی واسطے آواز دے کر اور ہاتھوں کے اشارہ سے بلا کر ہم سب لوگوں کو جمع کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی۔ یہ ابو لہب آنحضرت ﷺ کے چچاؤں میں سے تھا اس کا نام عبد العزیٰ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(سَيَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ) وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔ یعنی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 3–5

ابولہب اور اس کی بیوی کفر پر مریں گے یہ پیش گوئی بھی دلیل نبوت ہے قول باری ہے (سیصلی نارا ذات لھب ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا۔ ) یہ حضور ﷺ کی نبوت کی صحت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ کیونکہ اس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ ابولہب اور اس کی بیوی کفر پر ہی مریں گے اور مسلمان ہونا انہیں نصیب نہیں ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا جس کی خبر دی گی تھی۔ ابولہب اور اس کی بیوی نے یہ سورت سن لی تھی اور اس کی بیوی نے کہا تھا کہ ” محمد (ﷺ) نے ہماری ہجو کی ہے۔ “ اگر یہ دونوں کہتے کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں اور اس کا اظہار کرتے اگرچہ انہیں اس کا اعتقاد نہ ہوتا تو بھی اس صورت میں وہ اس قول باری کی تردید کرسکتے تھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

3 ۔ ابو لہب کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان : سو اس سے ابو لہب کے لیے شعلہ زن ہولناک آگ میں داخلے کی خبر دی گئی ہے جس میں اس کو بہرحال داخل ہونا ہوگا۔ اور جس کی ہولناکی اور شدت کا تصور بھی اس جہان میں کسی کے لیے ممکن نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور وہ شعلہ زن آگ کفر و شرک، بغاوت و سرکشی، اور عداوت حق کی آگ میں جلنے والے اس شعلہ رو ( ابولہب) کے عین مناسب حال ہوگی، اس کے اس کفر و شرک کی بناء پر جس کا الاؤ اس کے دل و دماغ میں جل رہا تھا، اور اس کی شعلہ روئی کے لیے جس کا اس کو بڑا گھمنڈ اور ناز تھا، سو اس سے یہ درس بھی ملتا ہے کہ محض ظاہری حسن کوئی فخر کی چیز نہیں، بلکہ یہ وباں بھی بن سکتا ہے، اگر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

ابو لہب اور اس کی بیوی کے لیے عذاب کی خبر تشریح : ابو لہب لقب ہے کیونکہ وہ بڑا ہی خوبصورت انسان تھا اس کا چہرہ آگ کی طرح دمکتا تھا اسی لیے لہب یعنی آگ کی لپٹ یا شعلہ اس کا لقب پڑگیا۔ وہ بڑا مالدار خوشحال انسان تھا یہاں ہاتھ ٹوٹ گئے محاورتاً کہا گیا ہے۔ یعنی یہ تباہ و برباد ہوجائے گا۔ اس کا فخر ' غرور ' دشمنی ' آل اولاد اور مال و دولت سب کچھ غارت ہوجائے گا اور ان میں کچھ بھی اس کو دوزخ کی اس آگ سے ہرگز بچا نہ سکیں گے جو کہ خاص اس کے لیے تیار کی جا چکی ہے۔ اور وہ آگ لپٹیں مارتی ہوئی تیز آگ ہوگی۔ پھر اس کی بیوی کے لیے بھی سخت ترین سزا کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ کہ یہی جو ایندھن اٹھا کر لاتی ہے وہی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–5

سورة اللھب۔ آیات 1 تا 5۔ اسرار معارف۔ ہاتھ ٹوٹ جائیں ابولہب کے اور تباہ ہوجائے اس کا نام عبدالعزی تھا حضرت عبدالمطلب کی اولاد میں سے تھا اور سرخ رنگ ہونے کے باعث کنیت ابولہب مشہور تھی ، اس نے آپ کی شدت سے مخالفت کی کہ اللہ کریم نے نام لے کردوزخی ہونے کا اعلان فرمایا۔ اسے اس کا مال وزر کام نہ آئے کہ ایک پھوڑا نکلا جو بہت بدبودار تھا لاعلاج ہو کر اور تنہائی میں مرگیا اس قدر بدبو تھی کہ لاش دفن نہ ہوسکتی تھی وہی مکان اس پر گرادیا گیا چناچہ اس کا مال وزر کام نہ آیا اور اس کی بیوی بھی اس کے ساتھ بھڑکتے ہوئے دزوخ میں داخل ہوگی جو آپ کی راہ میں کانٹے بچھاتی تھی ، دوزخ میں اس کے گلے میں طوق ہوگا جو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 3–4

ف 7 یہ بدبخت عورت بھی آنحضرت ﷺ کی دشمین پر ادھار کھائے رہتی تھی۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس سے اور کچھ نہ ہوسکتا تو اپنے سر پر کانٹے اٹھا کر لاتی اور جس راستہ سے آنحضرت ﷺ گزرت یا نہیں وہاں بچھا دیتی تاکہ آپ کو تکلیف ہو۔ (فتح القدیر بحوالہ ابن جریر بیہقی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(111:3) سیصلی نارا ذات لھب : س مستقبل قریب کے لئے ہے یعنی عنقریب۔ یصلی مضارع واحد مذکر غائب صلی (باب سمع) مصدر سے وہ داخل ہوگا۔ ضمیر فاعل ابو لہب کی طرف راجع ہے۔ نارا مفعول بہٖ ۔ موصوف۔ ذات لہب : مضاف مضاف الیہ۔ مل کر صفت۔ وہ عنقریب داخل ہوگا آگ شعلہ زن میں۔ ذات لہب : ذات (والی۔ صاحبہ) ذو کا مؤنث مضاف۔ لہب شعلہ۔ مضاف الیہ۔ شعلوں والی آگ۔ لہب (باب سمع) مصدر۔ بمعنی آگ کا مشتعل ہونا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن۔ تبت۔ تباہ ہوگئی۔ (ہوگئے) ۔ یدا۔ دونوں ہاتھ۔ تب۔ تباہ ہوا۔ ما اغنی۔ کام نہ آیا۔ کسب۔ کمایا۔ سیصلی۔ بہت جلد جا پڑے گا۔ امرائہ ۔ عورت ۔ جید۔ گردن۔ حبل من مسد۔ مضبوط پٹی ہوئی رسی۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے نبی کرم ﷺ کو خطاب کرتے فرمایا ……… یعنی اے کپڑا اوڑھ کر لیٹنے والے آپ اتھئے۔ اللہ کے خوف سے لوگوں کو ڈرائیے اور اپنے رب کی بڑائی قائم کیجئے۔ اس کے بعد جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی ……… یعنی آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کے خوف سے ڈرائیے تو آپ نے مکہ مکرمہ کے کوہ صفا پر چرھ کر مکہ والوں کو ”…“ (اے صبح کی آفت) کہہ کر آواز دی۔ جس کا عام طور پر یہ مطلب ہوتا تھا کہ رات کو کسی دشمن نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

ابولہب اور اس کی بیوی کی اسلام دشمنی اور ان کی ہلاکت۔ (ف 1) شان نزول : صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے کوہ صفا پر عرب کے لوگوں کو دعوت دی ہر طرف سے لوگ آئے اور حضور ﷺ نے ان سے اپنے صداقت وامانت کی شہادتیں لینے کے بعد فرمایا، انی لکم نذیر بین یدی عذاب شدید۔ اس پر ابولہب نے حضور سے کہا تھا کہ تم تباہ ہوجاؤ، کیا تم نے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا، اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب اکرم کی طرف سے جواب دیا، ابولہب نبی ﷺ کا بڑا مخالف تھا جہاں نبی ﷺ لوگوں کو وعظ ونصیحت کرتے تھے تو یہ آپ کو جھٹلانے کی تقریر ضرور کیا کرتا تھا، ابولہب کی بی بی کا نام…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–3

[1] ابو لہب جس کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا رسول اکرم ﷺ کا حقیقی چچا تھا۔ سرخ رنگ کی وجہ سے اس کی کنیت ابو لہب مشہور تھی۔ قرآن نے اس کا اصل نام اس لئے نہیں لیا کہ وہ مشرکانہ تھا۔ علاوہ ازیں کنیت ابو لہب میں لہب جہنم سے ایک مناسبت بھی تھی۔ یہ شخص رسول اللہ ﷺ کا شدید دشمن اور اسلام کا نہایت سخت مخالف تھا۔ تبت یدآ ابی لہب وتب ایک پیشنگوئی ہے جس میں آئندہ پیش آنے والی بات کو ماضی کے صیغوں میں بیان کیا گیا ہے گویا اس کا ہونا ایسا یقینی ہے جیسے وہ ہوچکی ہو۔ اب فی الواقع وہی کچھ ہوا جو اس سورة میں چند سال پہلے بیان کیا جا چکا تھا۔ ہاتھ ٹوٹنے سے مراد جسمانی ہاتھ ٹوٹنا نہیں ہے بلکہ کسی شخص کا اپنے مقصد…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

سورة اللھب ابولہب کنیت ہے ۔ اصلی نام عبدالعزیٰ تھا ۔ لعب کے معنی آگ اور شعلے کے ہیں ۔ وجہ مناسبت یہ ہے کہ اس کے رخسارے آگ کی طرح روشن تھے ۔ یہ اور اس کی بیوی ام جمیل بنت حرب حضور ﷺ کے سخت معاندین میں سے تھے ۔ جہاں حضور ﷺ جاتے ۔ وہاں ابولہب ان کو بدنام کرنے کے لئے پہنچ جاتا اور ہر شرارت میں پیش پیش رہتا ۔ اور ام جمیل جنگل سے خود کانٹے کاٹ کر لاتی اور حضور ﷺ کے راستے میں بچھادیتی ۔ اس پر ان آیتوں کا نزول ہوا کہ ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں ۔ نہ دنیا اس کی سنورے اور نہ عاقبت ۔ یہ ہلاک ہو اور اس کا مال اور اس کی اولاد اس کو اللہ کے عذاب سے نہ بچاسکیں ۔ شعلہ زن آگ میں جائے اور اس کی بیوی ام جمیل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 10۔ چناچہ غزوہ بدر کے سات روز بعد اس کے طاعون کا دانہ جس کو حدسہ کہتے ہیں نکلا اور مرض کے لگ جانے کے خوف سے گھر والوں نے اس کو الگ ڈالدیا۔ یہاں اسی حالت میں ہلاک ہوگیا، تین روز تک لاش یونہی پڑی رہی، جب سڑنے لگا تو مزدوروں سے اٹھوا کر شہر سے باہر بھیج دیا، انہوں نے جاکر اس کو گڑھے میں پھینک دیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ عنقریب اس آگ میں داخل ہوگا جو شعلہ مارنے والی ہوگی 3 یہ اس پیش گوئی کا ایک حصہ ہے جو ابو لہب کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی زندگی ہی میں بیان کردی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ سے ابو لہب کی زندگی ہی میں اس کے بارے میں اعلان کروا دیا تھا اور وہی کچھ ہوا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق بیان کرنے کا حکم دیا کہ دنیا میں بھی اس کی اولاد اس کے کام نہ آئی اور اس کے مال نے بھی اس سے کفایت نہ کیا اور وہ انسانوں کی موت نہیں بلکہ ایک کتے کی موت مرا کہ کسی اعزازو اکرام کے ساتھ نہیں بلکہ نہایت بری حالت میں ایک گڑھا کھود کر کرائے کے چند حبشی غلاموں نے اسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse [ 111:3] سَيَصْلَىٰ نَارً‌ا ذَاتَ لَهَبٍ (He will enter a fire, full of flames.) That is, either on the Day of Judgment or immediately after his death, while in grave, he will be pushed into the blazing fire. There is a rhetorical relationship between Abu Lahab and dhata lahab [ full of flames ].

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

2 Abu Lahab was a stingy, materialistic man. Ibn Jarir has stated that once in the pre-Islamic days he was accused of having stolen two golden deer from the treasury of the Ka'bah. Though later the deer were recovered from another person, the fact that he was accused of stealing indicates the opinion the people of Makkah held of him. About his riches Qadi Rashid bin Zubair writes in his Adh-Dhakha'ir wat-Tuhaf. He was one of the four richest men of the Quraish, who owned one qintar (about 260 oz) of gold each. His love of wealth can be judged from the fact that when on the occasion of the…

Read the full tafseer →